Skip to content


باب 12

عالمی آب و ہوا اور آب و ہوائی تبدیلی

آب و ہوا سے متعلق معلومات اوراعداد و شمار اکھٹا کرکے، انہیں آسانی سے سمجھنے ، بیان کرنے اور تجزیہ کرنے کے لیے چھوٹی اکائیوں میں منضبط کرکے دنیاکی آب و ہوا کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ آب و ہوا کی درجہ بندی کے لیے تین جامع طریقے اختیار کئے گئے ہیں۔ اور وہ تجربی ، نشائی اور اطلاقی ہیں۔ تجربی درجہ بندی مشاہدہ کردہ اعداد و شمار خاص طور سے درجۂ حرارت اور بارش پر مبنی ہوتی ہے۔ نشائی درجہ بندی آب و ہوا کو ان کے اسباب کے مطابق منظّم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اطلاقی درجہ بندی خصوصی مقصد کے لیے ہوتی ہے۔ 

کوئپن اسکیم کے مطابق آب و ہوا کی درجہ بندی   

(Koeppen's Scheme of Classification of Climate)

سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی آب و ہوائی درجہ بندی تجربی درجہ بندی ہے جسے وی ۔ کوئپن نے وضع کیا تھا۔ کوئپن نے آب و ہوا اور نباتات کی تقسیم کے مابین قریبی تعلق کی شناخت کی ۔ اس نے درجۂ حرارت اور بارندگی کی کچھ قدروں کا انتخاب کیا اور ان کو نباتات کی تقسیم سے جوڑا اور ان قدروں کو آب و ہوا کی درجہ بندی کے لیے استعمال کیا ۔ یہ ایک تجربی تقسیم ہے جس کی بنیاد بارش اور درجۂ حرارت کے اعداد و شمار کے سالانہ اور ماہانہ اوسط پر مبنی ہے۔ کوپن نے آب و ہوائی جماعتوں اور قسموں کی نشاندہی کرنے کے لیے بڑے اور چھوٹے حروف کا استعمال کیا ۔ اگر چہ اس اسکیم کو 1918 میں تیار کیا گیا اور عرصہ دراز تک اس میں ترمیم کی گئی ، کوپن کی اسکیم ابھی بھی مقبول اور استعمال میں ہے۔  

جدول 12.1 کوپن کے مطابق آب و ہوائی گروپ

جماعت خصوصیات
A۔ٹراپیکی(Tropical)
B۔خشک ٓب و ہوا(Dry climates)
C۔گرم معتدلہ (Warm Temperate)
D۔سرد برفانی جنگلات والی ہوا(Cold snow Forest Climates)
E۔سرد آب و ہوا(Cold climates)
H۔بلند سر زمین(High Land)
سب سے مہینے کا اوسط درجہ حرارت 18oCیا اس سے زیادہ استعدادی تبخیر بارندگی سے زیادہ
سال کے سب سے سرد مہینے (وسطی عرض البلد کے)کا اوسط درجۂ حرارت منفی3oCسے زیادہ لیکن18oCسے کم
تمام مہینوں کا اوسط درجۂ حرارت 10oCسے کم بلندی کی وجہ سے


جدول   12.2   :کوپن کے مطابق آب و ہوائی اقسام

جماعت قسم  حرفی کوڈ خصوصیات
A۔ٹراپیکی مرطوب
آب و ہوا
ٹراپیکی مرطوب
ٹراپیکی مانسون
ٹراپیکی مرطوب اور خشک
Af
Am
Aw
کوئی خشک موسم نہیں
مانسونی، مختصر خشک موسم
سردی کا خشک موسم
B۔خشک آب و ہوا نیم ٹراپیکی اسٹپی(Steppe)
نیم ٹراپیکی ریگستان
وسط۔ عرض البلدی اسٹپی
وسط۔عرض البلدی ریگستان
BSh
BWh
BSk
BWk
نچلے۔ عرض البلدی نیم خشک اور خشک
نچلے۔ عرض البلدی خشک
وسط۔ عرض البلدی نیم خشک اور خشک
وسط۔ عرض البلدی خشک
C۔گرم معتدلہ(وسط ۔عرض البلدی)
آب و ہوا
مرطوب نیم ٹراپیکی
بحیرۂ رومی
سمندری مغربی ساحل

Cfa
Cs
Cfb
کوئی خشک موسم نہیں ، گرم موسم گرما 
خشک گرم موسم گرما
کوئی خشک موسم نہیں، گرم اور ٹھنڈا موسم گرما
D۔سرد برفانی جنگلاتی آب و ہوا مرطوب براعظمی
نیم آرکٹک
Df
Dw
کوئی خشک موسم نہیں، شدید موسم سرما
خشک اور کافی شدید موسم سرما
E۔سرد آب و ہوا ٹنڈرا 
قظبی برفانی سرپوش 
ET
EF
حقیقی موسم گرما کا فقدان
سال بھر برف
H۔کوہستان کوہستان H برف سے ڈھکا کوہستان


کوپن نے آب و ہوا کے پانچ بڑے گروپ کا تعین کیا ۔ ان میں سے چار درجۂ حرارت پر مبنی ہیں اور ایک بارش پر مبنی ہے ۔ جدول 12.1 کوپن کے مطابق آب و ہوائی گروپ اور ان کی خصوصیات کی فہرست دی گئی ہے۔ بڑے حروف A.C.D.E مرطوب آب و ہوا کی حد بندی کرتے ہیں اور B خشک آب و ہوا کو بتاتا ہے۔
آب و ہوائی گروپ کی ذیلی قسمیں چھوٹے حروفوں سے ظاہر کی گئی ہیں جو بارندگی کی اور درجہ حرارت کی موسمی صفات پر مبنی ہیں۔ خشکی کے موسموں کو چھوٹے حروف f، m، wاور s سے بتایا گیا ہے جہاں -fغیر خشک موسم ، m۔ مانسونی آب و ہوا Wسرد خشک موسم اور s۔ خشک موسم کو بتاتا ہے ۔چھوٹے حروف a، b، c اور dدرجۂ حرارت کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ Bیعنی خشک آب و ہوا کی ذیلی تقسیم کو بتانے کےلیے بڑے حروف S اسٹپی یا نیم خشک کے لیے اور W ریگستان کےلیے استعمال کیا گیا ہے۔ آب و ہوائی اقسام کی فہرست جدول 12.2 میں دی گئی ہے ۔ آب و ہوائی گروپ جماعتوں کی تقسیم اور ان کی اقسام جدول 12.1 میں دکھائی گئی ہیں۔

گروپ : A ٹراپیکی مرطوب آب و ہوا

(Group-A Tropical Humid Climates)

ٹراپیکی مرطوب آب و ہوا خط سرطان اور خط جدی کے درمیان ہوتی ہے۔ سال بھر سورج کے سر پر چمکنے اور بین ٹراپیکی مرکوزیت والے منطقہ (ITCZ) کے موجود ہونے کی وجہ سے آب و ہوا گرم اور مرطوب رہتی ہے۔ درجۂ حرارت کا سالانہ تفاوت(Annual range of temperature)بہت کم ہوتا ہے اور سالانہ بارش زیادہ ہوتی ہے۔ ٹراپیکی گروپ کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن کے نام ہیں :(1)Af۔ٹراپیکی مرطوب آب و ہوا، (2)Am۔ٹراپیکی مانسونی آب و ہوا اور (3)Aw۔ٹراپیکی مرطوب اور خشک آب و ہوا۔

ٹراپیکی حاری مرطوب آب و ہوا

(Af) (Tropical Wet Climate)

ٹراپیکی مرطوب آب و ہوا خط استوا کے قریب پائی جاتی ہے۔ جنوبی امریکہ کی آمیزن طاس ، مغربی استوائی افریقہ اور ایسٹ انڈیز کے جزیرے اس آب و ہوا کے بڑے علاقے ہیں۔ سال کے ہر مہینے میں دوپہر بعد گھن گرج کے ساتھ کافی بارش ہوتی ہے۔ درجۂ حرارت یکساں طور پر اونچا رہتا ہے اور درجۂ حرارت کا سالانہ تفاوت نہیں کے برابر ہوتا ہے۔ کسی بھی دن کا سب سے زیادہ درجۂ حرارت 30ºC کے آس پاس ہوتا ہے جبکہ کم از کم درجۂ حرارت 20ºC رہتا ہے۔ گنجان سائبان والے ٹراپیکی سدا بہار جنگلات اور سب سے زیادہ حیاتی تنوع(Biodiversity) اسی آب و ہوا میں پایا جاتا ہے۔  

ٹراپیکی مانسونی آب و ہوا  

(Am) (Tropical Monsoon Climate)

ٹراپیکی مانسونی آب و ہوا (Am) بر صغیر ہند ، جنوبی امریکہ کے شمال مشرقی حصے اور شمالی آسٹریلیا میں پائی جاتی ہے۔ زیادہ تر موسم گر ما میں بھاری بارش ہوتی ہے۔ موسم سرما خشک رہتا ہے۔ اس آب و ہوا کی تفصیل آپ کی کتاب ہند و ستان : طبیعی ماحول میں دی گئی ہے۔  

ٹراپیکی مرطوب اور خشک آب و ہوا

(Aw) (Tropical Wet and Dry Climate)

ٹراپیکی مرطوب اور خشک آب و ہوا Af   قسم کے آب و ہوائی خطے کے شمال اور جنوب میں پائی جاتی ہے۔ اس کی سرحد بر اعظموں کے مغربی حصے پر خشک آب و ہوا سے ملتی ہے اورمشرقی حصے پر Cf اور Cw سے ملتی ہے۔ Aw آب و ہوا کی وسعت برازیل میں آمیزن جنگل کے شمال اور جنوب تک اور جنوبی امریکہ میں بولیویا اور پراگوے کے ملحقہ حصوں تک نیز سوڈان اور وسط افریقہ کے جنوب تک ہے۔ اس آب و ہوا میں سالانہ بارش Af اور Am قسم کی آب و ہو ا کی بہ نسبت کافی کم ہوتی ہے اور متغیر بھی۔مرطوب موسم چھوٹا اور خشک موسم کی مدت زیادہ ہوتی ہے جس میں شدید خشک سالی ہوتی ہے۔ درجۂ حرارت پورے سال زیادہ ہوتا ہےاور یومیہ درجۂ حرارت میں تفاوت خشک موسم میں سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس آب و ہوا میں پت جھڑ کے جنگلات اور بکھرے درختوں کے ساتھ گھاس کے میدان پائے جاتے ہیں۔

گروپ B:    خشک آب و ہوا (Dry Climates:B)

خشک آب و ہوا کی خصوصیت بہت ہی کم بارش کا ہونا ہے جو پودوں کی نشو و نما کے لیے کافی نہیں ہوتی ہے۔ اس آب و ہوا کے تحت زمین کا ایک بہت بڑا علاقہ ہے جوخط استوا سے 15º سے   60º شمال و جنوب کے عرض البلد کے درمیان پھیلا ہوا ہے۔ 15º سے 30º تک نچلے عرض البلادوں پر یہ نیم ٹراپیکی اونچے دباؤ کے علاقوں میں ہوتی ہیں۔ جہاں ہواؤں کے نیچے اترنے اور تقلیب حرارت (Inversion of Temperature) کی وجہ سے بارش نہیں ہوتی ۔ بر اعظموں کے مغربی ساحل پر ، یہ خط استوا کی جانب زیادہ پھیلے ہوئے اور ساحلی علاقہ میں یہ آب و ہوا ملتی ہیں۔وسطی عرض البلاد حصے تک محدود ہوتی ہیں جہاں بحری مرطوب ہوائیں نہیں پہنچتی ہیں اور پہاڑوں سے اکثر گھرے ہوئے علاقے بھی اسی آب و ہوا کے تحت ہیں۔
خشک آب و ہوا کو اسٹیپیی یا نیم خشک آب و ہوا (BS) اور ریگستانی آب و ہوا (BW) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان کی مزید ذیلی تقسیم نیم ٹراپیکی اسٹیپی (BSh) اور نیم ٹراپیکی ریگستان (BWh)جو 15º سے35º عرض البلادوں اور وسطی عرض البلادوں کے درمیان پائی جاتی ہیں اور وسطیٰ عرض البلدی اسٹیپی(BSk)اور وسطی عرض البلدی ریگستان (BWk)   جو 35º سے 60O عرض البلادوں کے درمیان پائی جاتی ہیں۔

نیم ٹراپیکی اسٹیپی (BSh) اور نیم ٹراپیکی ریگستانی

(BWh) آ ب و ہوا(Subtropical Steppe(Bsh)

and Subtropical Desert(BWh) Climates)

نیم ٹراپیکی اسٹیپی (BSh) اور نیم ٹراپیکی ریگستانی(BWh)آب و ہوا میں بارش اور درجۂ حرارت کی عمومی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ مرطوب اور خشک آب و ہوا کے درمیان والے عبوری منطقے میں واقع نیم ٹراپیکی اسٹیپی میں ریگستان کی بہ نسبت تھوڑی زیادہ بارش ہوتی ہے جو چھوٹی گھاس کے میدانوں کی نشو ونما کے لیے کافی ہے۔ ان دونوں قسم کی آب و ہوا میں بارش کافی تغیر پذیر ہوتی ہے۔ بارش میں تغیر پذیری کا اثر ریگستان کی بہ نسبت اسپیٹی خطے کی زندگی پر زیادہ پڑتا ہے اور بسا اوقات قحط کا سبب بھی بنتا ہے۔ ریگستانوں میں بارش مختصر لیکن شدید گھن گرج کے ساتھ ہوتی ہے جو مٹی کی نمی کو بر قرار رکھنے میں غیر مؤثر ہوتی ہے۔ ٹھنڈی بحری روؤوں   کے قریب واقع ساحلی ریگستانوں میں کہراعام طور پر پایا جاتا ہے۔ گرمی کے موسم میں بیش ترین درجۂ حرارت (Maximum Temperature) کافی اونچا رہتا ہے۔ 13 ستمبر 1992 میں لیبیا کے العزیزیہ میں سب سے زیادہ درجۂ حرارت   58O    ریکارڈ کیا گیا۔ درجۂ حرارت کا سالانہ اور یومیہ کا تفاوت کافی اونچا رہتا ہے۔

.C گرم معتدل (وسط عرض البلدی ) آب و ہوا   

(Warm Temperate (Mid-Latitude)

Climates-C

گرم معتدل (وسط البلدی) آب و ہوا   30º    سے 50º    عرض البلاد تک،خاص کر بر اعظم کے مغربی اور مشرقی کناروں پر ،پھیلی ہوئی ہے۔ عام طور پر اس آب و ہوا میں موسم گرما گرم اور موسم سرما ہلکی ٹھنڈ والا ہوتا ہے۔ اس گروپ کو چار قسموں میں درجہ بند کیا گیا ہے :(1) مرطوب نیم ٹراپیکی : یعنی موسم سرما میں خشک اور موسم گرما میں گرم (CWa)؛ (2) بحیرۂ رومی آب و ہوا (Cs)؛ (3) مرطوب نیم ٹراپیکی ، یعنی کوئی خشک موسم نہیں اور معتدل موسم سرما (Cfa)؛(4) سمندری مغربی ساحلی آب و ہوا (Cfb)۔

مرطوب نیم ٹراپیکی آب و ہوا

(Cwa) (Humid Subtropical Climate)

مرطوب نیم ٹراپیکی آب و ہوا خط سرطان و خط جدی سےقطبین کی جانب، خاص کر شمالی ہند کے میدانوں اور جنوبی چین کے اندرونی میدانوں میں، پائی جاتی ہے۔ یہ آب و ہوا Aw کی مانند ہوتی ہے لیکن موسم سرما میں درجہ حرارت گرم رہتا ہے۔  

بحیرۂ رومی آب و ہوا  

(Cs) (Mediterranean Climate)

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے بحیرۂ رومی آب و ہوا بحیرۂ روم کے چاروں طرف بر اعظموں کے مغربی ساحل کے ساتھ   30º    سے   40º    نیم ٹراپیکی عرض البلاد میں مثلاً وسطی کیلی فورنیا ، وسطی چلی اور جنوب مشرقی و جنوب مغربی آسٹریلیا کے ساحل کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ یہ علاقے موسم گرما میں نیم ٹراپیکی اورنچے دباؤ اور موسم سرما میں مغربی ہواؤں کے زیر اثر ہوتے ہیں۔ اس لیے اس آب و ہوا کی خصوصیت میں گرم خشک موسم گرما اور کم ٹھنڈک اور بارش والا موسم سرما شامل ہے۔ موسم گرما میں ماہانہ اوسط درجہ حرارت   25ºC      اور موسم سرما میں 10ºC      سے کم ہوتا ہے۔ سالانہ بارندگی 35 سینٹی میٹر سے 90 سینٹی میٹر کے درمیان ہوتی ہے۔

مرطوب نیم ٹراپیکی آب و ہوا

(Humid Subtropical(Cfa)Climate)

مرطوب نیم ٹراپیکی آب و ہوا نیم ٹراپیکی عرض البلاد میں بر اعظموں کے مشرقی حصوں میں ہوتی ہے۔ اس خطے میں ہوائی تودے غیر استوار ہوتے ہیں اور سال بھر بارش کرتے ہیں۔ اس قسم کی آب و ہوا مشرقی ریاست ہائے متحدہ امریکہ ، جنوبی اور مشرقی چین ، جنوبی جاپان ،شمال مشرقی ارجنٹائنا،جنوبی افریقہ کے ساحل اور آسٹریلیا کے مشرقی ساحل میں پائی جاتی ہے۔ بارندگی کا سالانہ اوسط 75 سے 150 سینٹی میٹر تک ہوتا ہے۔ موسم گرما میں رعدی طوفان (Thunderstorms)اور موسم سرما میں محاذی بارش عام ہے۔ موسم گرما کا اوسط درجہ حرارت 27ºC اورموسم سرما میں درجہ حرارت میں 5ºCسے   20ºC   تک درجہ حرارت میں تبدیلی ہوتی ہے۔ درجہ حرارت میں روزانہ کے تفاوت کا اوسط کم ہوتا ہے۔

سمندری مغربی ساحل کی آب و ہوا

(Marine West Coast Climate)(Cfb)

سمندری مغربی ساحل کی آب و ہوا بر اعظموں کے مغربی ساحل پر بحیرۂ رومی آب و ہوا سے قطب شمالی کی جانب واقع ہوتی ہے۔ اس آب و ہوا کے اصل علاقے شمال مغربی یورپ ، شمالی امریکہ کے مغربی ساحل ، کیلی فورنیا کے شمالی علاقے، جنوبی چلی، جنوب مشرقی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ ہیں۔سمندری اثر کی وجہ سے درجۂ حرارت معتدل رہتا ہے اور موسم سرما میں اپنے عرض البلدی وقوع کے مقابلے میں نسبتاً گرم رہتا ہے۔گرمی میں درجۂ حرارت کا اوسط 15ºCسے20ºC کے درمیان اور جاڑے میں4ºC سے10ºC کے درمیان رہتا ہے۔ سالانہ اور یومیہ درجۂ حرارت میں تفاوت کم ہوتا ہے۔ بارندگی سال بھر ہوتی ہے۔ باندگی کا انحراف 50 سینٹی میٹر سے 250 سینٹی میٹر تک پہونچ جاتا ہے۔  

سرد برفانی جنگلاتی آب و ہوا

Cold Snow Forest Climates) D)

سرد برفانی جنگلات والی آب و ہوا شمالی نصف کرۂ میں بڑے بر اعظمی علاقوں میں 40ºC سے70ºCشمالی عرض البلاد کے درمیان یورپ،ایشیا اور شمالی امریکہ میں پائی جاتی ہے۔ یہ آب و ہوا دو ذیلی قسموں میں منقسم ہے:(۱) Df۔سرد آب و ہوا مرطوب موسم سرما کے ساتھ اور (۲) Dw۔ سرد آب ہوا خشک موسم سرما کے ساتھ ۔ اونچے عرض البلادوں میں موسم سرما زیادہ سرد ہوتاہے۔  

مرطوب موسم سرما والی سرد آب ہوا

(Cold Climate with Humid Winters)(Df)

مرطوب موسم سرماوالی سرد آب و ہوا سمندری مغربی ساحلی آب و ہوا کے قطبی جانب اور وسط عرض البلدی اسٹیپی(Steppe)کی طرف پائی جاتی ہے۔ موسم سرما ٹھنڈا اور برفیلا ہوتا ہے۔ کہرے سے آزاد موسم کی مدت قلیل ہوتی ہے ۔ درجۂ حرارت کا سالانہ تفاوت زیادہ ہوتا ہے۔ موسم کی تبدیلی اچانک لیکن مختصرہوتی ہے۔ قطبین کی طرف سردی زیادہ سخت ہوتی ہے۔

خشک موسم سرما کی ٹھنڈی آب و ہوا  

(Cold Climate with dry winters) (Dw)

خشک موسم سرما والی سرد آب و ہوا خاص کر شمال مشرقی ایشیاء میں پائی جاتی ہے۔ موسم سرما میں مخالف سیقلون کی نمایاں تشکیل اور موسم گرما میں اس کا کمزور ہونا اس خطے میں مانسون کی طرح ہواؤں کی بر گشتگی پیدا کرتا ہے۔ قطبین کی جانب موسم گرما کا درجۂ حرارت کم ہوتا ہے اور موسم سرما کا   درجۂ حرارت نہایت ہی کم ہوتا ہے جس کی وجہ سے بہت سے مقامات پر سال کے سات مہینوں تک درجۂ حرارت نقطۂ انجماد کے نیچے رہتا ہے۔ بارندگی موسم گرما میں ہوتی ہے۔ سالانہ بارندگی کم ہے جو 2 سے 15 سینٹی میٹر تک ہوتی ہے۔  

گروپ :E قطبی آب و ہوا

(Polar Climates)(E)

قطبی آب و ہوا 70º عرض البلد سے قطبین کی جانب ہوتی ہے۔ قطبی آب و ہوا دو قسموں پر مشتمل ہے :(1)ٹنڈرا (ET) اور(2) برفانی سرپوش (EF) ۔

ٹنڈرا آب و ہوا(ET) (Tundra Climate)  

ٹنڈرا آب و ہوا کا نام نباتات کی قسموں جیسے کم اگنے والی اکائی ، لائیکن اور پھول والے پودوں پر رکھا گیا ہے۔ یہ خط مستقل برف (Permafrost)کا علاقہ ہے۔جہاں تحتی مٹی مستقل طور پر منجمد رہتی ہے ۔ نشو و نما کا مختصر موسم اور آب گرفتگی (Waterlogging) صرف چھوٹے اگنے والے پودوں کی معاونت کرتے ہیں۔ موسم گرما میں ٹنڈرا کے علاقے میں دن میں لمبی مدت تک روشنی رہتی ہے۔  

قطبی برفانی سرپوش والی آب و ہوا

(Ice Cap Climate)(EF)

قطبی برفانی سرپوش والی آب و ہوا گرین لینڈ کے اندرونی علاقے اور انٹارکٹکامیں پائی جاتی ہے۔ یہاں گرمی میں بھی درجۂ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے ہوتا ہے۔ اس علاقہ میں بارندگی بہت کم ہوتی ہے۔ برف (Snow) اور Iceکے اکھٹاہونے اور بڑھتے دباؤ کی وجہ سے برف کی چادریں ٹوٹ جاتی ہیں۔ یہ آرکٹک اور انٹارکٹک کے پانی میں تیرنے والے آئس کی طرح حرکت کرتی ہیں۔ انٹارکٹک میں 79º جنوبی عرض البلد پر واقع پلیٹو اسٹیشن پر یہ آ ب و ہوا دیکھنے کو ملتی ہے۔

گروپ (H)بلند سرزمین کی آب و ہوا  

(Highland Climates(H)

بلند سرزمین کی آب و ہوا زمینی خد و خال سے متاثر ہوتی ہے۔ اونچے پہاڑوں میں مختصر فاصلے پر بھی اوسط درجۂ حرارت میں کافی تبدیلی ہوتی ہے۔ بلند سرزمینوں پر بارندگی کی قسموں اور ان کی شدت میں بھی مکانی تبدیلی ہوتی ہے۔ پہاڑی ماحول میں بلندی کے ساتھ آب و ہوائی سطح کے عمودی منطقے ہوتے ہیں۔

آب و ہوا کی تبدیلی(Climate Change)

آب و ہوا کے بارے میں سابقہ ابواب میں ہم نے موجودہ آب و ہوا کو مختصر طور پر سمجھا ۔ آب و ہوا کی جو قسم اس وقت ہماری جانکاری میں ہے وہ گذشہ 10 ہزار سالوں سے موجود ہوگی جس میں تھوڑی تبدیلی یا بعض اوقات بے حد اتار چڑھاؤ ہوا ہوگا ۔ کرۂ ارض پر شروع سے اب تک آب و ہوا میں کئی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ ارضیاتی ریکارڈ سے گلیشیائی اور بین گلیشیائی عہد میں تبدیلی کے نشانات ملتے ہیں۔ ارضیاتی خد و خال خاص کر بلند و بالا مقامات اور اونچے عرض البلاد میں گلیشیئر کے بڑھنے اور پیچھے کھسکنے کے نشانات ظاہر کرتے ہیں۔ گلیشیائی جھیلوں میں جمع رسوب بھی گرم اور ٹھنڈے دور کے ہونے کو ظاہر کرتے ہیں۔ درختوں میں بنے حلقے مرطوب اور خشک ادوار کے بارے میں ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ ان تمام ثبوتوں سے پتہ چلتا ہے کہ آب و ہوا میں تبدیلی ایک فطری اور مسلسل طریق عمل ہے۔
ہندوستان میں بھی متبادل طور پر مرطوب اور خشک ادوار کا زمانہ رہا ہے۔ آثار قدیمہ کی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ 8,000 ق ،م B.C میں راجستھان کے ریگستان میں مرطوب اور ٹھنڈی آب و ہوا تھی۔ 3,000ق م سے 1,700 ق م تک زیادہ بارش ہوئی تھی۔تقریباً 2,000 ق م سے 1,700 ق م تک یہ علاقہ ہڑپا تہذیب کا مرکز تھا۔ اس کے بعد خشک حالات کا غلبہ ہونے لگا۔
ارضیاتی ماضی میں 500 ملین سے 300 ملین سال قبل تک کیمبرین، (Cambrain)آرڈوویشین (Ordovician) اور سائلورین عصر میں زمین کا فی گرم تھی۔ پلائسٹوسین قون میں گلیشیائی اور بین گلیشیائی عصر واقع ہوئے۔ آخر گلیشیائی عصر تقریباً 18,000 سال قبل اپنے عروج پر تھا ۔ موجودہ بین گلیشیائی زمانہ 10,000 سال قبل شروع ہوا تھا۔

ماضی قریب کی آب و ہوا  

ٓآب و ہوا میں ہر وقت تغیر ہوتا رہتا ہے۔ گذشتہ صدی کی 90 کی دہائی میں بہت زیادہ موسمی واقعات کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ 1990 کے عشرہ میں اس صدی کا سب سے زیادہ گرم درجۂ حرارت اور دنیا میں چند سخت ترین سیلابوں کا مشاہدہ کیا گیا۔ 1967 سے 1977 کے دوران سہارا ریگستان کے جنوب میں ساحلی خطے میں دنیا کی بے انتہا تباہ کن خشک سالی کا مشاہدہ آب و ہوا کی ایسی ہی تبدیلی تھی ۔ 1930 کے عشرہ میں ریاستہائے متحدہ امریکہ کے جنوب مغربی عظیم میدانوں میں شدید خشک سالی واقع ہوئی جس جو دھول کی ٹوکری (Dust bowl)کے نام سے جانا جاتا ہے۔ فصلوں میں اضافہ یا فصلوں کی پیداوار کی ناکامی ، سیلاب اور لوگوں کی ہجرت کے تاریخی ریکارڈہمیں آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرا ت کے بارے میں بتاتے ہیں۔ یوروپ میں کئی بار گرم ، مرطوب ، ٹھنڈے(Vikings)اور خشک ادوار آ چکے ہیں ۔ گرم اور خشک آب و ہوا کے اہم واقعات دسویں اور گیارہویں صدی میں رونما ہوئے جب وائیکنگ گرین لینڈ میں بسے تھے۔یوروپ نے 1550 سے تقریباً 1850 کے دوران ایک چھوٹے برفانی عہد کا تجربہ کیا تھا۔ 1885 سے 1940 تک عالمی حرارت میں اضافے کا رجحان رہا ہے۔ 1940 کے بعد درجۂ حرارت کے اضافے کی شرح میں کمی آئی ہے۔

آب و ہوا کی تبدیلی کے اسباب  

(Causes of Climate Change)

آب و ہوا کی تبدیلی کے کئی اسباب ہیں۔ انہیں فلکیاتی (Astroniomical) اورارضی (Terrestrial) اسباب کے تحت درجہ بند کیا جا سکتا ہے۔ فلکیاتی اسباب شمسی داغ(Sunspot) کی سرگرمیوں سے مربوط شمسی حاصلات (Output)میں تبدیلیاں ہیں۔ شمسی داغ(Sunspots) سورج پر تاریک اور ٹھنڈے دھبے(patches) ہیں جو دائری طور پر بڑھتے اور گھٹتے رہتے ہیں ۔ بعض ماہرین موسمیات کے مطابق جب شمسی داغ کی تعداد بڑھتی ہے تو موسم سرد تر اور مرطوب تر ہوتا ہے اور زیادہ تر آندھیاں چلتی ہیں ۔ شمسی داغوں میں کمی کی وجہ سے گرم اور خشک تر حالات پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن یہ تحقیق شماریاتی طورپر اہم نہیں ہے۔  
دوسرا فلکیاتی نظریہ میلان کوچ اہتزاز(Millankovich Oscillations)ہے جو سورج کے چاروں طرف زمین کی مداری خصوصیات میں تبدیلیوں ، زمین گھومنے اور زمین کے محوری جھکاؤ میں ہونے والےCycles کو بتاتا ہے۔ یہ سبھی سورج سے آنے والی شمسی شعاعوں کی مقدار کو بدلتے ہیں جس کے نتیجے میں آب و ہوا پر اثر پڑ سکتا ہے۔
آب و ہوا ئی تبدیلی کا ایک دوسرا سبب آتش فشانی عمل ہے۔ آتش فشاں کے پھٹنے سے کرۂ ہوا میں کافی ایروزول(Aerosols)پہونچتے ہیں۔ یہ ایروزول کرۂ ہو ا میں کافی وقت تک رہتے ہیں اور شمسی اشعاع کو سطح زمین تک پہونچنے کے عمل کو کم کر دیتے ہیں۔ حالیہ پناٹوبہ اور السیون آتش فشاں کے پھٹنے کی وجہ سے زمین کا اوسط درجۂ حرارت کچھ سالوں تک گر گیا۔  
آب و ہوا پر سب سے اہم انسان تخلیقی اثرکرۂ ہوا کے گرین ہاؤ س گیسوں کے ارتکاز میں اضافے کا رجحان ہے جو عالمی حدت (Global warming) کا ممکنہ سبب بن سکتا ہے۔  

عالمی حدت(Global Warming)

گرین ہاؤس گیسوں کی موجودگی کی وجہ سے کرۂ ہوا ’’سبز گھر‘‘ کی طرح کام کرتا ہے۔ کرۂ ہوا آنے والی شمسی شعاعوں کو ارسال کرتا ہے لیکن سطح زمین کے ذریعہ اوپر کی جانب خارج کی جانے والی لمبی لہروں کی شعاع ریزی کو زیادہ تر جذب کر لیتاہے۔ وہ گیسیں جو لمبی لہروں شعاع ریزی کو جذب   کر لیتی ہیں انہیں گرین ہاؤس گیس (Greenhouse gases)کہاجاتا ہے ۔ وہ عمل جس سے کرۂ ہوا گرم ہوتا ہے اسے اکثر مجموعی طورپر سبز گھر اثر (Greenhouse effect) کہا جاتا ہے۔  

گرین ہاؤس کی اصطلاح سرد علاقوں میں گرمی کو محفوظ کرنے کےلیے استعمال کیے جانے والے ’’سبز گھر‘‘ کے مترادف ہے۔ گرین ہاؤس شیشہ سے بنا ہوتا ہے۔ شیشہ آنے والی شمسی اشعاع کی چھوٹی لہروں کے لئے شفاف ہوتاہے لیکن باہر جانے والی اشعاع کی لمبی لہروں کےلیے غیر شفاف ہوتا ہے۔ اس لیے شیشہ آنے والی اشعاع کو آنے دیتا ہے لیکن شیشہ گھر سے باہر جانے والی لمبی لہروں کی اشعاع کو روک دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے شیشہ گھر کے اندر کا درجۂ حرارت باہر کے با المقابل زیادہ گرم کرتا ہے۔موسم گرما میں جب آپ کسی کار یا بس میں بیٹھتے ہیں جس کی کھڑکیاں بند ہوتی ہیں تو آپ کو باہر کی بہ نسبت زیادہ گرمی محسوس ہوتی ہے۔ اسی طرح موسم سرما میں بند کھڑکی اور دروازے والی گاڑیاں باہر کے مقابلے میں زیادہ گرم رہتی ہیں۔ یہ گرین ہاؤس اثر کی دوسری مثال ہے۔  

گرین ہاؤس گیسیں

(Greenhouse Gases) (GHGs)

آج کے تعلق سے ابتدائی گرین ہاؤس گیسوں میں کاربن ڈائی آکسائڈ (Co2)، کلوروفلوروکاربن (CFCs)،میتھین(CH4)،نائٹرس آکسائڈ (N2O) اور اوزون(O3) شامل ہیں۔ کچھ دوسری گیس جیسے نائٹرک آکسائڈ (NO) اور کاربن مونو آکسائڈ (CO) آسانی سے گرین ہاؤس گیسوں کے ساتھ تعامل کرتی ہیں اور کرہ ہوا میں ان کے ارتکاز کو بڑھا دیتی ہیں۔  
کسی بھی دیئے گئے گرین ہاؤس گیس کے سالمہ کی اثر انگیزی اس کے ارتکاز میں اضافے کی مقدار ، کرۂ ہوا میں اس کی زندگی کا وقفہ اور اس کے ذریعہ جذب کی جانے والی اشعاع ریزی کی لہروں کی لمبائی پر منحصر ہوتی ہے ۔ کلورو فلورو کاربن (CFCsکافی موثر ہوتی ہیں۔ اوزون جو کہ کرۂ قائمہ کی بالا بنفشی شعاعوں کو جذب کرتی ہے، جب نچلے کرۂ متغیرہ میں ہوتی ہے تو ارضی شعاع ریزی کو جذب کرنے میں کافی مؤثر ہوتی ہے۔ دوسرا قابل غور نکتہ یہ ہے کہ جتنی دیر تک گرین ہاؤس گیسوں کے سالمے کرۂ ہوا میں رہیں گے تو زمینی کرہ ہوا کے نظام کو ان کے ذریعہ کی گئی تبدیلی کو بہتر بنانے میں زیادہ وقت لگے گا۔  
کرۂ ہوا میں گرین ہاؤس گیسوں میں سب سے زیادہ ارتکاز کا ربن ڈائی آکسائڈ کا ہے۔ زیادہ تر کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج رکازی ایندھن (تیل ، گیس اور کوئلہ) کے جلانے سے ہوتا ہے۔ جنگلات اور سمندر کا ربن ڈائی آکسائڈ کے لیے غرقے(Sink)ہیں۔ جنگلات (CO2) کا استعمال اپنی نشو و نما کے لیے کرتے ہیں ۔ اس لیے زمینی استعمال میں تبدیلی کی خاطر جنگلات کا صاف کرنا بھی CO2 کے ارتکاز میں اضافے کا سبب ہے۔ کرۂ ہوا کی کاربن ڈائی آکسائڈ کو نیچے بیٹھنے کےلیے منبع میں تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے میں 20 سے 50 سال کا وقت لگ جاتا ہے۔ یہ سالانہ 0.5 فیصد کے حساب سے بڑھ رہا ہے۔ آب و ہوائی ماڈل میں آ ب و ہوا کی تبدیلی کااندازہ لگانے کے لیے صنعتی ترقی سے ماقبل سطح پر کاربن ڈائی آکسائڈ کے دوگنا ارتکاز کو ایک اشاریہ (Index) کی حیثیت سے استعمال کیاجاتا ہے۔  
کلوروفلوروکاربن (C F C s) انسانی سرگرمیوں کی پیداوار ہیں۔ اوزون کرۂ قائمہ میں ہوتی ہے جہاں بالا بنفشی شعاعیں آکسیجن کو اوزون میں بدلتی ہیں۔ اس طرح بالا بنفشی شعاعیں(Ultra-violet rays) زمین تک نہیں پہونچ پاتیں۔ کلوروفلورو کاربن ، جو کہ کرۂ قائمہ کی جانب سرکتی ہیں، اوزون کو ختم کر دیتی ہیں۔ کرۂ قائمہ میں اوزون کے ارتکاز کا کم ہونا اوزون سوراخ (Ozone hole) کہلاتا ہے۔ یہ سوراخ بالا بنفشئی شعاعوں کو کرۂ متغیرہ سے گذرنے دیتا ہے۔
3rd
کرۂ ہوا میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے لیے بین الاقوامی کوششیں شروع کی گئی ہیں۔ اس میں سب سے اہم کیوٹو پروٹو کول (Kyoto Protocol)کا معاہدہ ہے جس کا اعلان 1997 میں کیا گیا ۔ اس پروٹوکول کو 141 ممالک کی منظوری کے بعد 2005 سے نافذ کیا گیا ۔ یہ پروٹوکول 35 صنعتی ممالک کو 2012 تک اپنے اخراجات کو 1990 میں موجود سطح کے تناسب میں 5 فیصد کم کرنے کے لیےبندش لگاتا ہے۔
کرۂ ہوا میں گرین ہاؤس گیسوں کے ارتکاز میں اضافے کا رجحان ایک لمبے عرصے میںزمین کو گرم کر سکتا ہے۔ زمین کے گرم ہونے کا اثر ہر جگہ یکساں نہیں ہوتا ۔ تاہم زمین کے گرم ہونے کا برا اثر زندگی معاون نظام (Life Supporting System) کو بری طرح متاثر کرسکتاہے۔ گلیشئیر اور برفانی چوٹیوں کے پگھلنے کی وجہ سے سمندری سطح میں اضافہ اور سمندر کی حرارتی توسیع ساحلی اور جزائری علاقوں کے بیشتر حصوں کو تہ آب کر سکتے ہیں جس سے سماجی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ عالمی معاشرے کے لیے دوسرا سنگین خطرہ ہے۔ گرین ہائوس گیسوں کے اخراج پر قابو پانے اور زمین کی گرمی کے بڑھتے رجحان کو روکنے کے لیے کوششیں پہلے ہی شروع کی جا چکی ہیں۔ ہمیں امید کرنی چاہیےکہ عالمی برادری اس چیلنج کا جواب دے گی اور اس طرز زندگی کو اختیار کرے گی جس سے دنیا آنے والی نسلوں کے لیے بھی قابل رہائش بنی رہے۔  
آج کی دنیا کا ایک بڑا مسئلہ زمین کا گرم ہونا (Global warming) ہے۔آیئے دیکھیں کہ درجۂ حرارت کے اعتبار سے یہ سیارہ کتنا گرم ہوا ہے۔
درجۂ حرارت کے اعداد و شمار انیسویں صدی کے وسط سے زیادہ تر مغربی یوروپ کے لیے دستیاب ہیں۔ اس مطالعے کا حوالہ جاتی وقفہ 90-1961 کے دوران کا ہے۔ ماقبل اور مابعد کے زمانوں کے لئے   درجۂ حرارت کی بے ربطگی کا تخمینہ 90-1961 کے دوران درجۂ حرارت کے اوسط سے لگایا گیا ہے۔ دنیا میں سطح زمین کے پاس ہوا کا سالانہ اوسط درجہ حرارت تقریباً 14º سینٹی گریڈ ہے۔ ٹائم سیریز 1856 سے 2000 تک زمین پر سالانہ سطحی درجۂ حرارت کی بے ربطگی دکھاتاہے جس میں90- 1960کے دوران پورے گلوب پر حرارت نارمل رہی ہے۔  
درجۂ حرارت میں یہ بڑھتا رجحان بیسویں صدی میں قابل شناخت ہو سکا۔ بیسویں صدی میں سب سے بڑی حرارت دو زمانوں 44-1901 اور99- 1977   کے دوران ہوئی۔ ان دونوں زمانوں میں عالمی درجۂ حرارت تقریباً   0.4ºسینٹی گریڈ بڑھے گا ۔ ان دو زمانوں کے درمیان تھوڑی سی ٹھنڈک تھی جو شمالی نصف کرہ میں زیادہ ممتاز تھی۔  
عالمی سطح پر اوسط نکالنے پر بیسویں صدی کے اختتام پر سالانہ اوسط درجۂ حرارت تقریباً 0.6º سینٹی گریڈاس درجۂ حرارت سے زیادہ رہا جو انیسویں صدی کے اختتام پر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ 2000-1856کے دوران سب سے گرم سات سال گذشتہ عشرہ میں ریکارڈ کیا گیا ۔ 1998 کا سال نہ صرف بیسویں صدی کے لیے بلکہ پورے ہزار سالوں کےلیے سب سے گرم سال تھا ۔

مشق


(i) درج ذیل میں کون کوپن کے ''A'' قسم کی آب و ہوا کے لیےضروری شرط ہے؟
         (ب) سب سے ٹھنڈے مہینے کا اوسط ماہانہ درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے زیادہ ہوتاہے۔
         (ج)   تمام مہینوں کا اوسط ماہانہ درجۂ حرارت 18ºسے زیادہ ہوتا ہے۔
         (د) تمام مہینوں کا اوسط درجۂ حرارت 10ºCسے   کم ہوتا ہے۔  
(ii)  آب و ہوا کی درجہ بندی میں کوپن کے نظام کو ذیل میں سے کیا کہا جاسکتا ہے؟
           (الف) اطلاقی                                      (ب) نظامی  
           (ج) نشائی                                            (د) تجربی
(iii) کوئین کے نظام کے مطابق جزیرہ نما ہند کا بیشتر حصہ ذیل میں سے کس زمرے میں آئے گا ؟
              (الف)   Af                                   (ب)BSh
              (ج)Cfb                                      (د)   Am
(iv) درج ذیل میں کس سال میں پوری دنیا میں سب سے گرم درجۂ حرارت ریکارڈ کیا گیا ؟
              (الف )1990                                (ب) 1998
              (ج)1885                                      (د) 1950
(v)  درج ذیل چار آب و ہوائی زمروں میں سے کون سا مرطوب حالات کی نمائندگی کرتا ہے؟
              (الف)A-B-C-E                       (ب) A-C-D-E
              (ج) B-C-D-E                          (د) A-C-D-F
2۔  مندرجہ ذیل سوالوں کا جواب تقریباً 30 الفاظ میں دیں۔
      (i)  آب و ہوا کی درجہ بندی کے لئے کوپن نے کن آب و ہوائی متغیرات (Variable) کا استعمال کیا ہے؟      
      (ii)  درجہ بندی کا ’’نشائی نظام ‘ ‘، ’’تجربی نظام ‘‘ سے کس طرح مختلف ہے؟
  (iii)  کس قسم کی آب و ہوا میں درجۂ حرارت کا تفاوت بہت کم ہوتا ہے؟
     (iv) اگر شمسی داغ بڑھ جاتے ہیں تو کس قسم کے آب و ہوائی حالات رونما ہوں گے؟
3۔  درج ذیل سوالوں کا جواب تقریباً 150 الفاظ میں دیں۔
  • "A" اور "B" قسم کے آب و ہوائی حالات کا موازنہ کریں۔
  • "C" اور "A"قسم کی آب و ہوا میں کس قسم کی نباتات پائی جاتی ہیں؟
  •   ’’گرین ہاؤس گیس ‘‘ سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ گرین ہاؤس گیسوں کی فہرست بنائیے ۔

پروجیکٹ کا کام

عالمی آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق کیوٹو اعلامیہ کے بارے میں معلومات اکھٹا کریں۔