Skip to content
Tabaee_geography_kemubadiat

پانچویں اکائی

پانی(بحر اعظم)



اس اکائی میں بتایا گیا ہے 
  • آبیاتی دور
  • بحر اعظم ۔تحت البحر ریلیف؛ درجۂ حرارت اور نمکینیت کی تقسیم؛ بحری پانی کی حرکت ۔موجیں،مدوجزراور رویں


باب 13

پانی(بحر اعظم)

کیا ہم پانی کے بغیر زندگی کاتصور کر سکتے ہیں؟ یہ کہا جاتا ہے کہ پانی ہی زندگی ہے۔ پانی سطح زمین پر موجود زندگی کی تمام شکلوں کے لیے ایک لازمی عنصر ہے۔ اس سلسلے میں زمین کی مخلوقات خوش قسمت ہیں کہ یہ ایک آبی سیارہ ہے ورنہ ہم میں سے کسی کا وجود نہ ہوتا ۔ ہمارے شمسی نظام میں پانی ایک نادر شے ہے۔ خوش قسمتی سے زمین کی سطح پر پانی کی وافر مقدار ہے ۔ اسی لیےہمارے سیارے کو نیلا سیارہ بھی کہا جاتا ہے۔  
2nd
                                                تصویر13.1:آبایاتی دور
بارندگی(%77)،
ہوا کے ذریعہ نقل و حمل(%7)
تبخیری اخراج بخارات(%16)
بارندگی(%23)
گریزی آب (%7)
بحر اعظم
زمین دوزبہاؤ
مٹی میں سرایت

آبیاتی دور(Hydrological Cycle)

پانی ایک دوری وسیلہ ہے۔ اسے بار بار استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سمندر سے زمین کی طرف اور زمین سے سمندر کی طرف پانی کا بھی اک دور (Cycle)ہوتا ہے ۔یہی آبیاتی دور اندرون زمین ، سطح زمین پر اور زمین کے اوپر پانی کی حرکت کی تشریح کرتا ہے۔ آبی دور کا عمل کروڑوں سال سے چلتا رہا ہے اور اسی پر زمین کی تمام مخلوقات کا انحصار رہا ہے۔ زمین پر زندگی کی بقا کے لیےہوا کے بعد پانی سب سے اہم عنصر ہے۔ لیکن زمین پر پانی کی تقسیم کافی غیر مساوی ہے۔ بہت سے مقامات پر وافر مقدار میں پانی دستیاب ہے لیکن دوسرے مقامات پر کافی محدود مقدار میں ہے ۔ آبیاتی دور زمین کے کرۂ آب کے اندر پانی کی مختلف شکلوں جیسے سیال ،ٹھوس اور گیس کی صورتوں میں پانی کا دوران (Circulation) ہے۔ اس کے تحت سمندوں، کرۂ ہوا ،سطح زمین ،زیر زمین ،اور جسم نامیوں(Organism ) کے درمیان پانی کا لگاتار تبادلہ بھی شامل ہے۔
  اس سیارے کا تقریباً 71 فیصد پانی بحر اعظموں میں پایا جاتا ہے۔ باقی حصہ تازے پانی کی شکل میں گلیشئر ، برفانی سرپوش ،زمین دوز پانی کے ذرائع، جھیلیں ، مٹی کی نمی ، کرۂ ہوا ، ندیوں اور زندگی کے اندر ملتا ہے۔ زمین پر آنے والے پانی کا تقریباً 59 فیصد حصہ سمندروں اور دوسرے مقامات سے تبخیر کے ذریعہ کرۂ ہوا میں واپس چلا جاتا ہے۔ باقی حصہ سطح زمین پر بہتا ہے، زمین میں سرایت کر جاتا ہے یا اس کا کچھ حصہ گلیشیئر بن جاتا ہے (تصویر 13.1)

جدول1.13 :آبی دور کے اجزائے ترکیبی اور طریق ہائے عمل

اجزائے ترکیبی طریق ہائے عمل
سمندر میں 
پانی کا ذخیرہ
کرۂہوا میں پانی
یخ اور برف کی صورت میں 
پانی کا ذخیرہ 
سطحی گریزی آب
زمین دوز پانی کا ذخیرہ
تبخیر
تبخیری اخراج بخارات
تصعید
تکثیف
بارندگی
برف پگھلنے سےدھاروں کی شکل 
میں پانی کا بہنا
ندیوں کے بہنے سےمیٹھے پانی
کے ذخیرہ کا نفوذ
زیر زمین پانی سے
پھوٹنے والے چشمے


یہ بات ذہن نشین رہے کہ زمین پر قابل تجدید پانی کی مقدار متعین ہے جب کہ مانگ حد سے زیادہ بڑھ رہی ہے۔ اس کی وجہ سے دنیا کے مختلف حصوں میں زمانی و مکانی طو ر پر پانی کا بحران پیدا ہو رہا ہے ۔ ندیوں کے پانی کی آلودگی نے اس بحران کو اور بھی شدید بنا دیا ہے۔ آپ پانی کے وصف کی اصلاح کرنے اور پانی کی موجودہ مقدار کو بڑھانے میں کس طرح تعاون دے سکتے ہیں؟

بحری فرش کا ریلیف (Relief of the Ocean Floor)

بحر اعظم زمین کی باہری پرت کے بڑے نشیبوں میں واقع ہیں۔اس حصے میں ہم زمین کے بحری طاس کی ماہیت اور اس کے خد و خال کا مطالعہ کریں گے۔ بر اعظموں کے برعکس ، بحر اعظم فطری طور پر ایک دوسرے سے اس طرح ملے ہوئے ہیں کہ ان کی حد بندی کرنا مشکل ہے۔ جغرافیہ دانوں نے زمین کے بحری حصے کو چار بحر اعظموں میں تقسیم کیا ہے:
بحر الکاہل ،بحر اوقیانوس (اٹلانٹک) ،بحر جنوبی اور بحر منجمد شمالی (آرکٹک)۔ مختلف سمندر ،خلیج اور تنگ کھاڑیاں انہیں چار بڑے بحر اعظموں کے حصے ہیں۔
بحری فرش کا ایک بڑا حصہ سطح سمندر کے نیچے 3-6 کلومیٹر کے درمیان پایاجاتاہے ۔بحری پانی کے نیچے کی زمین جس کو بحری فرش کہا جاتا ہے، پیچیدہ اور مختلف خدو خال کی نمائش کرتا ہے اسی طرح جیسا کہ ہم زمین کے اوپر دیکھتے ہیں(تصویر 13.1)۔ بحری فرش نا ہموار ہے جس پر دنیا کے بڑے پہاڑوں کے سلسلے ، سب سے گہری کھائیاں اور سب سے بڑے میدان پائے جاتے ہیں۔ یہ خد و خال بر اعظموں کی طرح ساختمانی، آتش فشانی اور ذخیرہ اندوزی کے اعمال سے بنے ہیں۔

بحری فرش کے حصے (Divisions of the Ocean Floor)

بحری فرش کو چار بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:(1) بر اعظمی شیلف، (2)براعظمی ڈھلان،(3) گہرے سمندری میدان اور(4) بحری عمیق۔ان اقسام کے علاوہ بھی بحری فرش پر کچھ بڑے اور چھوٹے ریلیف پائے جاتے ہیں جیسے ستیغ،پہاڑیاں،سمندری پہاڑ، گائیوٹ، کھائیاں، کینیئن وغیرہ۔

بر اعظمی شیلف(Continental Shelf)

بر اعظمی شیلف ہر بر اعظم (Continential Shelf)کا وہ بڑھا ہوا کنارہ ہے جو نسبتاً اتھلے سمندر اور خلیج کے تحت ہوتا ہے۔ یہ سمندر کا سب سے کم گہرائی والا حصہ ہوتا ہے جس کی اوسط شرح ڈھال   O یااس سے بھی کم ہوتی ہے۔ یہ شیلف ایک بہت ہی کھڑی ڈھلان پر ختم ہوتا ہے جسے شیلف بریک کہتے ہیں۔
بر اعظمی شیلف کی چوڑائی سمندروں کے حساب سے بدلتی رہتی ہے۔ بر اعظمی شیلف کی اوسط چوڑائی تقریباً 80 کلو میٹر تک ہوتی ہے۔ کچھ کناروں پر شیلف نہیں ہوتے یا نہایت پتلے ہوتے ہیں جیسے چلی کا ساحل، سماترا کا مغربی ساحل وغیرہ۔ اس کے بر عکس بحر منجمد شمالی میں سائبرین شیلف کی گہرائی بھی بدلتی رہتی ہے۔ کچھ علاقوں میں اس کی گہرائی صرف 30 میٹر تک ہے تو دوسرے علاقوں میں 600 میٹر تک ہے۔  
بر اعظمی شیلف زمین سے ندیوں ، گلیشیئر ، ہوا کے ذریعہ لائے گئے اور موجوں وروؤں کے ذریعہ تقسیم کیے گئے مختلف موٹائی کے رسوبوں سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ لمبے عرصے تک کافی مقدار میں رسوبی ذخیروں کی وجہ سے بر اعظمی شیلف رکازی ایندھن کا ذریعہ بن گئے ہیں۔

بر اعظمی ڈھلان(Continental Slope)  

بر اعظمی ڈھلان ، بر اعظمی شیلف اور بحری طاس کو جوڑتی ہے۔ یہ اس جگہ سے شروع ہوتی ہےجہاں بر اعظمی شیلف کا نچلا حصہ تیزی سے کھڑی ڈھلان میں بدلنے لگتا ہے۔ ڈھلانی علاقے کی شرح ڈھال 2-5Oکے درمیان بدلتی رہتی ہے۔ ڈھلانی علاقے کی گہرائی 200 میٹر اور 3000 میٹر کے درمیان بدلتی رہتی ہے۔ ڈھلان کی سرحد بر اعظموں کے خاتمے کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس علاقے میں کینیئن اور کھائیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔
4th

                                       تصویر13.2:بحری فرش کے خدو خال

گہرے سمندری میدان(Deep Sea Plain)  

گہرے سمندری میدان بحری طاس سے کم ڈھلان والے علاقے ہیں۔ یہ دنیا کے سب سے زیادہ سپاٹ اور ہموار علاقے ہیں۔ اس کی گہرائی 3000 میٹر اور 6000 میٹر کے درمیان ہوتی ہے۔ یہ میدان باریک دانے والے رسوبوں جیسے چیکا اور سلٹ سے ڈھکے ہوتے ہیں۔  

بحری عمیق یا بحری کھائیاں  (Oceanic Deeps or Trenches)

یہ بحر اعظموں کے سب سے گہرے حصوں کے علاقے ہیں۔ کھائیاں نسبتاً کھڑے کنارے والے، تنگ طاس کی ہوتی ہیں۔ یہ اپنے ارد گرد کے بحری فرش سے 3 سے 5 کلو میٹر تک گہری ہوتی ہے۔یہ بحراعظمی ڈھلان کی بنیاد شدید زلزلے ہوتے ہیں ۔ اسی لیے یہ پلیٹوں کی حرکات کے مطالعے میں کافی اہم ہوتی ہیں۔ اب تک 57 کھائیوں کا پتہ چلا ہے جن میں سے 32 بحر الکاہل میں، 19 بحر اوقیانوس میں اور 6 بحر ہند میں واقع ہیں۔  

چھوٹے ریلیف والی شکلیں (Minor Relief Features)

مذکورہ بالا بحری فرش کے بڑے خدوخال کی شکلوں کے علاوہ کچھ چھوٹی لیکن اہم شکلیں بحر اعظم کے مختلف حصوں میں کثرت سے موجود ہوتی ہیں۔  

وسط   بحری ستیغ (Mid Oceanic Ridges)  

وسط بحری ستیغ پہاڑوں کے د و سلسلوں سے بنا ہوتا ہے جو ایک بڑے نشیب سے جدا ہوتا ہے۔ پہاڑی سلسلوں میں 2.500 میٹر تک بلند چوٹیاں ہو سکتی ہیں اور کچھ سطح سمندر سے اوپر تک آجاتی ہیں۔ آئس لینڈ جو اٹلانٹک ستیغ کا ایک حصہ ہے اس کی ایک مثال ہے۔

سمندری پہاڑ(Seamount)  

یہ ایک نوکیلی چوٹی والا پہاڑ ہوتا ہے جو سمندری فرش سے اوپر اٹھتا ہوا لیکن سطح سمندر تک نہیں پہنچ پاتا ۔ سمندری پہاڑ اپنی تشکیل کے اعتبار سے آتش فشانی ہیں۔ یہ 3,000 سے 4,500 میٹر اونچے ہو سکتے ہیں۔ بحر الکاہل میں ہوائی جزائر کی ایک وسعت کی شکل میں ایمپیریل سی ماؤنٹ ایک عمدہ مثال ہے۔  

  سمندری کینئین(Submarine canyons)  

یہ گہری گھاٹیاں ان میں سے ہیں کچھ کا موازنہ کولوریڈوندی کی گرانڈ کینئین سے کیا جا سکتا ہے۔ کبھی کبھی یہ بر اعظمی شیلف اور ڈھلان کو کاٹتی ہوئی ملتی ہیں جو اکثر بڑی ندیوں کے دہانے تک پہنچ جاتی ہیں۔ ہڈسن کینئن دنیا کی مشہور کینئین ہے۔

گائیوٹ(Guyots)  

یہ ایک سمندری پہاڑ ہے جس کا اوپری حصہ سپاٹ ہوتا ہے۔ اس سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ اس کا کئی مرحلوں میں بتدریج دھنساؤ ہوا ہے جس کی وجہ سے یہ سپاٹ سطح والا سمندری پہاڑ بن گیا ۔ یہ تخمینہ لگایا جاتا ہے کہ صرف بحر الکاہل میں 10,000 سے زیادہ سمندری پہاڑ اور گائیوٹ ہیں۔  

مرجانی جزائر(Atoll)  

یہ ٹراپیکی کے بحر اعظموں میں پائے جانے والے کم بلندی کے جزیرے ہیں جو مرکزی نشیب کے چاروں طرف مرجانی سنگستان(Coral reefs) پر مشتمل ہوتے ہیں۔ یہ سمندر کا حصہ ہو سکتا ہے(لیگون) یا کبھی کبھی میٹھے پانی ، کھارے پانی یا بہت زیادہ نمکین پانی کے چاروں طرف بن سکتے ہیں۔  

بحری پانی کا درجۂ حرارت (Temperature of Ocean Waters)

اس سیکشن میں مختلف بحر اعظموں میں درجۂ حرارت کی مکانی اور عمودی انحراف کو بتایا گیا ہے۔ بحری پانی زمین کی طرح ہی شمسی توانائی سے گرم ہوتا ہے۔ زمین کی بہ نسبت بحری پانی کے گرم اور سرد ہونے کا عمل سست ہوتا ہے۔  

درجہ حرارت کی تقسیم کو متاثر کرنے والے عوامل  

(Factors Affecting Temperature Distribution)

بحری پانی کے درجۂ حرارت کو متاثر کرنے والے عوامل درج ذیل ہیں:
(I)۔  عرض البلد :   سطح والے پانی کا درجۂ حرارت خط استوا سے قطبین کی جانب کم ہوجاتا ہے کیونکہ تشمس (Insolation)کی مقدار قطبین کی جانب کم ہو جاتی ہے۔
(ii)۔  زمین اور پانی کی غیر مساوی تقسیم:جنوبی نصف کرہ کے بحر اعظموں کی بہ نسبت شمالی نصف کرہ کے بحر اعظم زمین کے زیادہ وسیع حصوں سے ملے ہونے کی وجہ سے زیادہ حرارت حاصل کرتے ہیں۔
(iii)۔  غالب ہوائیں : زمین سے سمندر کی طرف بہنے والی ہوائیں سطح کے گرم پانی کو ساحل سے دور لے جاتی ہیں جس کی وجہ سے نیچے کا ٹھنڈا پانی اوپر آجاتا ہے۔ جس کی بنا پر درجۂ حرارت میں طولی انحراف ہے۔ اس کے برعکس زمین رخ ہوائیں گرم پانی کو ساحل کے پاس جمع کرتی ہیں اور اس سے درجۂ حرارت بڑھ جاتا ہے۔  
(iv)۔ بحری رویں: گرم بحری روئیں سرد علاقوں میں درجۂ حرارت کو بڑھا دیتی ہیں جب کہ سرد روئیں گرم بحری علاقوں میں درجہ حرارت کو کم کر دیتی ہیں۔ گلف اسٹریم (گرم رو) شمالی امریکہ کے مشرقی ساحل اور یوروپ کے مغربی ساحل کے پاس درجۂ حرارت کو بڑھا دیتی ہے۔  
جب کہ لیبراڈور لہر(سرد   رو) شمالی امریکہ کے شمال مشرقی ساحل کے پاس درجۂ حرارت کو کم کر دیتی ہے۔  
یہ تمام عوامل سمندر کے درجۂ حرارت کو مقامی طورپر متاثر کرتے ہیں۔ نچلے عرض البلاد میں گھرے سمندروں کا درجۂ حرارت کھلے سمندروں کے بالمقابل زیادہ ہوتاہے؛ جب کہ اونچے عرض البلاد میں گھرے سمندروں کا درجۂ حرارت کھلے سمندروں کے بالمقابل کم ہوتا ہے۔

درجۂ حرارت کی افقی اور عمودی تقسیم  

(Horizontal and Vertical Distribution of Temperature)

بحری پانی کے درجۂ حرارت کا پروفائل ظاہر کرتا ہے کہ گہرائی بڑھنے کے ساتھ درجۂ حرارت کس طرح کم ہوتا ہے۔ یہ پروفائل سمندر کے سطحی پانی اور گہری تہوں کے درمیان سرحدی خطہ کو دکھاتا ہے۔ یہ سرحد عام طور پر سطح سمندر سے 100-400 میٹر کے قریب شروع ہوتی ہے اور نیچے کئی سو میٹر تک پھیلی ہوتی ہے(تصویر 13.3) ۔ یہ سرحدی خطہ،جہاں سے درجۂ حرارت میں کمی تیزی سے ہوتی ہے،حرارتی تخفیف (Thermocline) کہلاتا ہے۔ پانی کے کل حجم کا تقریباً 90 فیصد حصہ عمیق بحر اعظم میں حرارتی خفیف کے نیچے پایا جاتا ہے۔ اس خطے میں درجۂ حرارت 0ºتک پہنچ جاتا ہے۔
وسطی اور نچلے عرض البلاد کے بحر اعظموں کے درجۂ حرارت کی ساخت کو سطح سے تہ تک سہ طبقاتی نظام کی صورت میں بیان کیا جا سکتا ہے۔
5th

                                   تصویر13.3:حرارتی تخفیف(تھرموکلائن)

پہلا طبق گرم بحری پانی کی اوپری پرت کی نمائندگی کرتا ہے اور اس کی موٹائی تقریباً 500 میٹر ہے جس میں درجۂ حرارت کا تفاوت 20ºاور25º سینٹی گریڈکے درمیان ہوتا ہے۔ یہ طبق ٹراپیکی خطے میں سال بھر موجود رہتاہے لیکن وسطی عرض البلاد میں اس کی تشکیل صرف موسم گرما میں ہوتی ہے۔  
دوسرے طبق کو حرارتی تخفیف کا طبق کہا جاتا ہے جو پہلے طبق کے نیچے ہوتا ہے اور اس کی خصوصیت یہ ہے کہ گہرائی بڑھنے کے ساتھ درجۂ حرارت میں تیزی سے کمی ہوتی ہے۔ حرارتی تخفیف کی موٹائی 500 سے 1,000میٹر تک ہوتی ہے۔  
تیسرا طبق بہت ٹھنڈا ہوتا ہے اور بحری فرش کی گہرائی تک پھیلاہوتا ہے۔ آرکٹک اور انٹارکٹک دائروں میں سطح آب کا درجۂ حرارت 0OCکےقریب ہوتاہے اور اس لیے گہرائی کے ساتھ درجۂ حرارت کی تبدیلی بہت کم ہوتی ہے۔ یہاں ٹھنڈے پانی کا صرف ایک طبق ہوتا ہے جو سطح سے بحری فرش کی گہرائی تک پھیلا ہوتا ہے۔
بحر اعظموں کی سطح کے پانی کا اوسط درجۂ حرارت تقریباً 27ºC ہوتا ہے جو خط استوا سے قطبین کی جانب بتدریج کم ہوتا جاتا ہے۔ عرض البلد میں اضافے کے ساتھ درجۂ حرارت میں کمی کی شرح عام طور پر   O.5ºC فی عرض البلد ہے ۔ اوسط درجۂ حرارت 20º عرض البلد پر 22ºC، 40ºعرض البلدپر 14ºC اور قطبین کے پاس 0ºC ہوتا ہے۔جنوبی نصف کرہ کے بالمقابل شمالی نصف کرہ کے بحر اعظموں کا درجۂ حرارت نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ درجۂ حرارت کا ریکارڈ خط استوا پر نہ ہو کر اس سے تھوڑا شمال میں ہوتا ہے۔ شمالی اور جنوبی نصف کرہ کے لیے اوسط درجۂ حرارت بالترتیب 19ºCاور16ºCکےآس پاس ہوتا ہے۔ یہ انحراف شمالی اور جنوبی نصف کروں میں زمین اور پانی کی غیر مساوی تقسیم کی وجہ سے ہے۔ تصویر 13.4 میں بحر اعظموں کے سطحی درجۂ حرارت کے طرز کو دکھایا گیا ہے۔
6th

                           تصویر13.4:بحراعظموں کے سطحی درجۂ حرارت (oC)کامکانی طرز

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بحر اعظموں کا سب سے زیادہ درجۂ حرارت ہمیشہ ان کی سطح پرہوتا ہے کیونکہ سطح کو سورج سے براہ راست حرارت ملتی ہے اور یہ حرارت بحر اعظم کے نچلے طبقات میں عمل ایصال کے ذریعہ پہنچتی ہے۔ اس وجہ سے گہرائی بڑھنے کے ساتھ درجہ حرارت کم ہوتا جاتا ہے لیکن کمی کی یہ شرح ہر جگہ یکساں نہیں ہوتی ۔ درجۂ حرارت 20 میٹر کی گہرائی تک تیزی سے کم ہوتا ہے اور اس کے بعد درجۂ حرارت میں کمی کی شرح سست ہو جاتی ہے۔  

بحری پانی کی نمکینیت (Salinity of Ocean Waters)

فطرت میں موجود ہر طرح کے پانی خواہ وہ بارانی پانی ہو یا بحری پانی اس میں محلول معدنی نمک پایا جاتا ہے۔ نمکینیت وہ اصطلاح ہے جس کا استعمال سمندری پانی میں محلول نمک کی کل مقداربتانے کے لیے کیا جاتا ہے(جدول 13.4) ۔ اس کی پیمائش 1,000 گرام (1کلو گرام) سمندری پانی میں محلول نمک کی مقدار(گرام میں) کی حیثیت سے کی جاتی ہے۔ اسے عموماً فی ہزا حصے (º/OO) کی صورت میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ نمکینیت سمندری پانی کی اہم خصوصیت ہے۔24.7º/OO کی نمکینیت کو ’کھارے پانی‘ کی اوپری حد بتانے کے لیے مانا جاتا ہے۔  
بحری نمکینیت کو متاثر کرنے والے عوامل کا تذکرہ ذیل میں کیا گیا ہے:
.1 سمندر کے سطحی طبق میں پانی کی نمکینیت خصوصاً تبخیر اور بارندگی پر منحصر ہوتی ہے۔
.2 ساحلی علاقوں میں سطح آب کی نمکینیت ندیوں سے تازے پانی کے بہاؤ کی وجہ سے اور قطبی علاقوں میں برف کے پگھلنے کی وجہ سے  زیادہ متاثر ہوتی ہے۔
.3 ہوائیں بھی پانی کو ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل کرکے نمکینیت کو متاثر کرتی ہیں۔
.4 نمکینیت کے انحراف میں بحری روؤں کا بھی ہاتھ ہوتا ہے۔ نمکینیت، درجۂ حرارت اور پانی کی کثافت ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔   اس لیے درجۂ حرارت یا کثافت میں کوئی بھی تبدیلی کسی علاقے میں نمکینیت کو متاثر کرتی ہے۔

7th

آبی مخازن میں سب سے زیادہ نمکینیت  

ترکی کی لیک وان(330º/OO)
بحیرۂ مردار(238º/OO)
گریٹ سالٹ لیک(220 º/OO)

نمکینیت کی افقی تقسیم (Horizontal Distribution of Salinity)

عام کھلے سمندروں میں نمکینیت % 33º  اور % 37ºکے درمیان ہوتی ہے۔ زمین سے گھرے بحیرۂ احمر میں یہ % 40ºتک پہنچ جاتی ہے ۔ جب کہ جزری دہانوں اور آرکٹک میں%35-0 درمیان موسم کے مطابق کم و بیش ہوتی رہتی ہے۔ گرم اور خشک علاقوں میں جہاں تبخیر زیادہ ہوتی ہے وہاں نمکینیت کبھی کبھی% 70º تک پہنچ جاتی ہے۔  
بحر الکاہل میں نمکینیت کا انحراف خاص کر اس کی شکل اور زیادہ رقباتی وسعت کی وجہ سے ہے۔ آرکٹک علاقوں سے پگھلتے پانی کی آمد کی وجہ سے شمالی نصف کرہ کے مغربی حصو ں میں نمکینیت %  35º-% 31º تک کم ہو جاتی ہے ۔ اسی طرح جنوب میں15º-20º   عرض البلاد کے بعد یہ % 33ºتک کم ہو جاتی ہے۔  
بحر اٹلانٹک کی اوسط نمکینیت تقریباً   % 36º۔ سب سے زیادہ نمکینیت 15º   اور20º   عرض البلاد کے درمیان ریکارڈ کی گئی ہے۔ سب سے زیادہ نمکینیت (% 37º)کامشاہدہ 20º شمال سے 30ºشمال تک اور20º   مغرب سے   60ºمغرب کے درمیان کیا جاتا ہے۔ یہ بتدریج شمال کی طرف کم ہوتی جاتی ہے۔ گوکہ بحیرۂ شمال اونچے عرض البلاد میں واقع ہے لیکن اس کی نمکینیت زیادہ ہے کیونکہ شمالی اٹلانٹک ڈرفٹ کے ذریعہ اس میں زیادہ نمکین پانی لایا جاتاہے۔ بالٹک سمندر میں بڑی مقدار میں ندیوں سے پانی کے آنے کی وجہ سے نمکینیت کم ریکارڈ کی جاتی ہے۔ بحیرۂ روم میں اونچی تبخیر کی وجہ سے نمکینیت کم ریکارڈ کی جاتی ہے۔ بحیرۂ روم میں اونچی تبخیر کی وجہ سے نمکینیت کا اونچا ریکارڈ رہتا ہے۔ بحیرۂ اسود میں ندیوں کے ذریعہ کافی مقدار میں میٹھے پانی کے ملنے کی وجہ سے نمکینیت کافی کم رہتی ہے۔ اٹلس دیکھیں اور بحیرۂ اسود میں ملنے والی ندیوں کا پتہ لگائیں۔
بحر ہند میں اوسط نمکینیت % 35º۔سب سے کم نمکینت کا رجحان خلیج بنگال میں دیکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ گنگا ندی کے ذریعہ لائے گئے پانی کا ملنا ہے۔ اس کے بر عکس بحیرۂ عرب میں زیادہ تبخیر اور میٹھے پانی کی کم آمد کی وجہ سے نمکینیت زیادہ ہے۔ تصویر 13.5 میں دنیا کے بحر اعظموں کی نمکینیت کو دکھایا گیا ہے۔

نمکینیت کی عمودی تقسیم (Vertical Distribution of Salinty)

نمکینیت گہرائی کے ساتھ بھی بدلتی ہے ،لیکن اس تبدیلی کا اندازہ سمندر کے محل وقوع پر منحصر ہوتا ہے۔ سطح کے پاس پانی کے برف میں بدلنے یا تبخیر کی وجہ سے نمکینیت میں اضافہ یا ندیوں کے ذریعہ تازے پانی کی آمد کی وجہ سے نمکینیت میں کمی ہو جاتی ہے۔ گہرائی میں نمکینیت کافی حد تک محکم رہتی ہے ،کیوں کہ یہاں نہ پانی کی مقدار میں کمی ہوتی ہے اور نہ ہی نمک کا اضافہ ہوتا ہے۔ بحر اعظم کے سطحی منطقے اورگہرائی والے منطقے کے درمیان نمکینیت میں واضح فرق ملتا ہے۔ کم نمکین پانی زیادہ نمکینیت والےکثیف پانی کے اوپر ہوتا ہے۔ نمکینیت عام طور پر گہرائی کے ساتھ بڑھتی ہے اور ایک واضح منطقہ ایسا ہے جسے ہیلوکلائن(Helocline) کہتے ہیں جہاں سے نمکینیت میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ اگر دوسرے عوامل میں کوئی تبدیلی نہ ہوتو سمندری پانی میں نمکینیت کے اضافے سے کثافت میں اضافہ ہوتا ہے۔ زیادہ نمکین سمندری پانی عموماً کم نمکین پانی کے نیچے چلا جاتا ہے۔ اس سے نمکینیت کے لحاظ سے طبقات بنتے ہیں۔  

مشق


1۔  کثیر انتخابی سوالات:
        (i)  ذیل میں سے اس عنصر کی پہچان کریں جو آبیاتی دور کا حصہ نہیں ہے :
(الف)    تبخیر (ب)   آبیدگی  
                (ج)بارندگی                        (د)   تکثیف
      (ii)  بر اعظمی ڈھلان کی اوسط گہرائی میں کتنا تفاوت ہوتا ہے:
                 (الف )20-2 میٹر         (ب)2,000-200 میٹر
                 (ج)200 -20میٹر        (د)   20,000-2,000 میٹر  
(iii)  مندرجہ ذیل میں کون بحراعظموں میں چھوٹے ریلیف والی شکل نہیں ہے؟
                 (الف)سمندری پہاڑ                (ب) مرجانی سنگستان  
                 (ج)بحری عمیق                     (د) گائیوٹ
   (iv)نمکینیت کو سمندری پانی میں محلول نمک کی مقدار کی حیثیت گرام میں سے ظاہر کیا جاتا ہے:
      (الف )   10 گرام       (ب)   فی 1,000 گرام  
                 (ج)   فی 100 گرام                   (د) 10,000   گرام  
(v)مندرجہ ذیل میں کون سب سے چھوٹا بحر اعظم ہے؟  
           (الف ) بحرہند                             (ب)بحر منجمد شمالی  
           (ج)بحر اوقیانوس                            (د)بحر الکاہل  
2۔  مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 30 الفاظ میں دیں:
     (i) ہم زمین کو نیلا سیارہ کیوں کہتے ہیں؟
     (ii)بر اعظمی حاشیہ کیا ہے؟
     (iii)مختلف بحر اعظموں کی سب سے گہری کھائیوں کی فہرست بنائیے۔  
     (iv) حرارتی تخفیف(Thermocline) کیا ہے؟
     (v)اگر آپ سمندر کی گہرائی میں جائیں تو آ پ کو کتنے حرارتی طبقات ملیں گے؟ گہرائی میں اضافے سےدرجۂ حرارت  میں انحراف کیوں ہوتا ہے؟
   (vi)سمندری پانی کی نمکینیت کیا ہے؟
3۔مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 150 الفاظ میں دیں۔  
   (i)  آبیاتی دور کے مختلف عناصر ایک دوسرے سے کس طرح مربوط ہیں؟  
  (ii)  ان عوامل کی جانچ کیجیےجو بحر اعظموں کے درجۂ حرارت کی تقسیم کو متاثر کرتے ہیں۔  

پروجیکٹ کا کام  

  (i)اٹلس کا مطالعہ کیجیے اور دنیا کے خاکے پر بحری فرش کے ریلیف کو دکھایئے۔  
(ii) بحر ہند میں پائے جانے والے وسط بحری ستیغ کے علاقوں کی شناخت کیجیے۔