بحری پانی متحرک ہوتاہے۔ اس کی طبعی خصوصیات جیسے درجۂ حرارت، نمکینیت ،کثافت اور خارجی قوتیں جیسے سورج ، چاند اور ہوائیں بحری پانی کی حرکت کو متاثر کرتی ہیں۔ بحری پانی کے مخازن میں افقی اور عمودی حرکات عام ہیں۔ افقی حرکت مد بحری روؤں اور موجوں سے متعلق ہے۔ اور عمودی حرکت و جزر سے تعلق رکھتی ہے۔ پانی کی ایک بڑی مقدار کے ایک معینہ سمت میں مسلسل بہاؤ کو بحری روکہا جاتا ہے جب کہ موج پانی کی افقی حرکت ہے۔ پانی ایک جگہ سے دوسری جگہ بحری رو کے ذریعہ آگے کی طرف چلتا ہے جب کہ موجوں میں پانی آگے نہیں بڑھتا بلکہ موجوں کا سلسلہ آگے بڑھتا ہے۔ عمودی حرکت میں بحر اعظموں اور سمندروں کا پانی اوپر اٹھتا ہے اور گرتا ہے۔ سورج اور چاند کی کشش کی وجہ سے بحری پانی دن میں دو بار اوپر اٹھتا اور گرتا ہے۔ ذیلی سطح سے ٹھنڈے پانی کا اوپر آنا اور سطحی پانی کا نیچے جانا بھی بحری پانی کی عمودی حرکت کی شکلیں ہیں۔
موجیں(Waves)
موجیں حقیقت میں پانی کی حرکت نہیں ہیں بلکہ توانائی ہیں جو بحری سطح پر چلتی ہیں۔ جب موج گذر جاتی ہے تب پانی کے ذرات چھوٹے دائرے میں چلتےہیں۔ ہوائیں موجوں کو توانائی فراہم کرتی ہیں۔ ہوائیں موجوں کو چلانےکا سبب بنتی ہیں اور توانائی ساحلی کناروں پر خارج ہوتی ہے۔ سطح آب کی حرکت گہرائی میں ٹھہرے بحری پانی کو شاذو نادر ہی متاثر کرپاتی ہے۔ جب موج ریتیلے ساحل تک پہنچتی ہے تو سست ہو جاتی ہے۔ یہ اس رگڑ کی وجہ سے ہوتا ہے جو متحرک پانی اور بحری فرش کے درمیان ہوتی ہے اور جب پانی کی گہرائی موج کی لمبائی کے نصف سے کم ہوتی ہے تو موج ٹوٹ جاتی ہے۔ سب سے بڑی موجیں کھلے سمندر میں پائی جاتی ہیں۔ موجیں زیادہ بڑی ہونے لگتی ہیں جب وہ آگے بڑھتی ہیں اور ہواؤں سے توانائی کو جذب کرتی ہیں۔
زیادہ تر موجیں ا ن ہواصں سے بنتی ہیں جو پانی کے مخالف چلتی ہیں۔ جب د وناٹ یا اس سے کم نسیم ساکن پانی پر چلتی ہے تو چھوٹی لہریں بنتی ہیں اور ہوا کی رفتار بڑھنے کے ساتھ بڑی ہوتی جاتی ہیں یہاں تک کہ موجوں کے ٹوٹنے پر سفید ٹوپیاں نمودار ہونے لگتی ہیں۔ کنارے سے لڑھکنے ،ٹوٹنے اور سمندری جھاگ میں بدلنے سے پہلے موجیں ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ طے کر سکتی ہیں۔
موج کی شکل اور سائز اس کی ابتدا کو بتاتے ہیں ۔ کھڑی ڈھال والی موجیں نوخیز ہوتی ہیں اور غالباً مقامی ہواؤں کی وجہ سے بنتی ہیں۔ سست اور
تصویر14.1:موجوں اور پانی کے سالموں کی حرکت
مستقل یا باضابطہ موجیں بہت دور کے مقامات پر شاید دوسرے نصف کرہ میں پیدا ہوتی ہیں۔ موجوں کی سب سے زیادہ اونچائی ہواؤں کی طاقت سے متعین ہوتی ہے یعنی کتنی دیر تک ہو ا چلتی اور کتنے علاقے پر ایک ہی سمت میں بہتی رہتی ہے۔
موجیں آگے بڑھتی ہیں کیونکہ ہوا اپنے راستے میں آبی مخزن کو دھکا دیتی ہے جب کہ قوت ثقل موجوں کے سرے کو نیچے کی طرف کھینچتی ہے۔ نیچے گرتا پانی پہلے والے نشیب کو اوپر کی طرف دھکیلتا ہے اور موج ایک نئی پوزیشن میں حرکت کرنے لگتی ہے(تصویر 14.1) ۔ موج کے نیچے پانی کی اصل حرکت دائری ہوتی ہے۔اس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ جب موج آتی ہے تو چیزیں اوپر اور آگے کی طرف منتقل ہوتی ہیں اور جب موج چلی جاتی ہے تو چیزیں نیچے اور پیچھے کی طرف منتقل ہوتی ہیں۔
موجوں کی خصوصیات
موج کا سرا اور نشیب : موج کے سب سے اونچے اور سب سے نچلے نکات کو بالترتیب سرا(crest) اور نشیب(Trough) کہا جاتا ہے۔
موج کی اونچائی : یہ موج کے نشیب کے نچلے حصے سے لے کر اوپری سرے تک کی عمودی دوری ہے۔
موج کی چوڑائی : یہ موج کی اونچائی کا ایک نصف ہوتا ہے۔
موج کی مدت : یہ محض کسی معینہ نقطے سے گزرنے والی موجوں کے دولگاتار سروں یا نشیبوں کے درمیان کا وقفہ ہے۔
موج کی لمبائی : یہ دو لگاتار دوسروں کے درمیان کی افقی دوری ہے۔
موج کی رفتار: یہ وہ شرح ہے جس پر موج پانی کے ذریعہ حرکت کرتی ہے، اس کی پیمائش ناٹ (Knot) میں کی جاتی ہے۔
موج کی تواتر: یہ ایک سیکنڈ کے وقفہ کے دوران کسی دیے گئے نقطے سے گذرنے والی موجوں کی تعداد ہے۔
مد وجزر(Tides)
دن میں ایک یا دو بار ، خاص کر سورج اور چاند کی کشش کی وجہ سے سمندری سطح کاوقفہ سے اوپر اٹھنا اور گرنا مد جزر کہلاتا ہے۔ موسمی اثرات (ہواؤں اور کرۂ ہوا کے دباؤ میں تبدیلیوں) کے ذریعہ پیدا ہونے والی پانی کی حرکت کو تلاطم (Surges) کہا جاتا ہے۔ تلاطم ، مد و جزر کی طرح باضابطہ نہیں ہوتے۔ مکانی و زمانی حیثیت سے مدو جزر کا مطالعہ بہت پیچیدہ ہے کیونکہ اس کی کثرت و سعت ،ضخامت اور اونچائی میں کافی انحراف پایا جاتا ہے۔
مد وجزر کے واقع ہونے کے اہم اسباب میں بڑی حد تک چاند کی ثقلی کشش کے کھنچاؤ اور کسی حد تک سورج کی ثقلی کشش کے کھنچاؤ کادخل ہوتا ہے۔ دوسرا سبب مرکز گریز قوت (Centrifugal force) ہے۔ یہ وہ قوت ہے جو قوت ثقل کو متوازن کرنے کےلیےاس کے بر عکس کام کرتی ہے۔ قوت ثقل اور مرکز گریز قوت دونوں ساتھ مل کر زمین پر دو بڑے مدوجزری ابھار پیدا کرتی ہیں۔ ایک مدو جزر ابھار زمین پر اس طرف ہوتا ہے جو چاند کے سامنے ہے اور دوسرا ابھار اس کی مخالف سمت میں ہوتا ہے۔گو کہ چاند کی قوت ثقل کی کشش کم ہوتی ہے کیونکہ یہ دور ہوتا ہے ، مرکز گریز قوت دوسری طرف مدوجزری ابھار پیدا کرتی ہے(تصویر14.2)
مدوجزر پیدا کرنے والی قوت ان دو قوتوں یعنی چاند کی ثقلی کشش اور مرکز گریز قوت کے درمیان پایا جانے والا فرق ہے۔ زمین کی جو سطح
تصویر14.2: قوت ثقل اور مد جزر کے درمیان تعلق
چاند سے قریب ترین ہے وہاں چاند کا کھینچاؤ یا اس کی قوت کشش مرکز گریز قوت کے بالمقابل زیادہ ہوتی ہے ،ا ور اس لیے ایک خالص قوت بنتی ہے جو چاند کی طرف ابھار کی وجہ بنتی ہے۔ زمین کی دوسری طرف میں قوت کشش کم ہوتی ہے اور یہ حصہ چاند سے دور ہوتا ہے تو یہاں پر مرکز گریز قوت غالب ہوتی ہے۔ اس لیے چاند سے دور ایک خالص قوت بنتی ہے اور یہ چاند سے دور دوسرا ابھار پیدا کرتی ہے۔ سطح زمین پر مدوجزری ابھار پیدا کرنے میں افقی مدوجزر پیدا کرنے والی قوتیں عمودی قوتوں کی بہ نسبت زیادہ اہم ہوتی ہیں۔
وسیع بر اعظم شیلف پر مدوجزری ابھار کی بلندی زیادہ ہوتی ہے۔ جب مدوجزری ابھار وسط جزائر سے ٹکراتے ہیں تو ان کی بلندی کم ہو جاتی ہے۔ ساحل کے ساتھ خلیجوں اور جزری دہانوں کی شکل بھی مدوجزر کی شدت کو بڑھا دیتی ہے۔ قیف نما خلیجیں مدو جزری وسعت کو کافی حد تک بدل دیتی ہیں۔ جب مدوجزر جزیروں،خلیجوں اور جزری دہانوں سے ہو کر گذرتا ہے تو اسے مد وجزری روئیں کہا جاتا ہے۔
خلیج فنڈی ،کناڈا کے مدوجزر
کناڈا کے نوواسکوٹیا میں واقع خلیج فنڈی میں دنیا کا سب سے بلند مدوجزر ہوتا ہے۔ مدوجزری ابھار 15-20 میٹر تک ہوتا ہے۔ چونکہ ہر دن (تقریباً ۲۴ گھنٹے میں) دو اونچے مد اور دو نچلے جزر ہوتے ہیں، اس لیے ایک مدوجزر کو چھہ گھنٹے کے وقفہ سے آنا چاہئے۔ ایک خام اندازے کے مطابق مدوجزر ایک گھنٹے میں 240 سینٹی میٹر اوپر اٹھتا ہے (1,440سینٹی میٹر کو ، چھ گھنٹے سے تقسیم کرکے)۔ اگر آپ تیز ڈھال والے کلیف کی موجودگی والے ریتیلے ساحل (جو یہاں پر عام ہے) کے ساتھ اندر کی جانب چلیں تو آپ اور اس کے ساتھ چلیں کہ مدو جزر کا مشاہدہ کریں گے۔ ایک گھنٹہ چلنے کے بعد آپ دیکھیں گے کہ مدوجزر آرہا ہے، تو جہاں سے آپ چلے تھے وہاں واپس پہونچنے سے پہلے پانی آپ کے سر سے اوپر ہوگا۔
مدو جزر کی اقسام (Types of Tides)
مدوجزر ایک جگہ سے دوسری جگہ میں اور وقت کے لحاظ سے بھی اپنی فریکوینسی ،سمت اور حرکت کے اعتبار سے بدلتے رہتے ہیں۔ مدوجزر کو ایک دن یا 24 گھنٹے میں ان کے وقوع کے تواتر کی بنیاد پر یا ان کی بلندی کی بنیاد پر کئی قسموں میں ان کی جماعت بندی کی جا سکتی ہے۔
وقوع کے تواتر کی بنیاد پر مدوجزر (Tides based on frequency)
نصف یومیہ مدوجزر : یہ سب سے عام مدوجزری طرز ہوتا ہے جس میں روزانہ دو اونچے مدوجزر اور دو نچلے مدوجزر ہوتے ہیں۔ یکے بعد دیگرے ہونے والے اونچے یانچلےمدوجزر اور ایک نچلا مدوجزر ہوتا ہے۔ یکے بعد دیگرے اونچے یا نچلے مدوجزر کی بلندی تقریباً یکساں ہوتی ہے۔
یومیہ مدو جزر: ہردن صرف ایک اونچا مدو جزر اور ایک نچلا مدو جزر ہوتا ہے۔ یکے بعد دیگر ے اونچے یا نچلے مدو جزر کی بلندی تقریباً یکساں ہوتی ہے ۔
مخطوط مدوجزر : جن مدوجزر کی بلندی میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے انہیں مخطوط مدوجزر کہتے ہیں۔ یہ مدوجزر عام طور پر شمالی امریکہ کے مغربی ساحل کے ساتھ اور بحر الکاہل کے بہت سے جزیروں میں ہوتے ہیں۔
سورج ، چاند اورزمین کی پوزیشن پر منحصر مدوجزر:
اوپر اٹھتے پانی کی بلندی (اونچے مدوجزر) کافی حد تک زمین کے لحاظ سے سورج اور چاند کی پوزیشن پر منحصر ہونے کی وجہ سے بدلتی رہتی ہے۔ اس زمرے میں مد اکبر (Spring tides) اور مد اصغر (Neap tides)آتے ہیں۔
مد اکبر : زمین کی نسبت سے سورج اور چاند کی پوزیشن مدوجزر کی بلندی پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔ جب سورج ،چاند اور زمین ایک خط مستقیم میں ہوتے ہیں تو مدوجزر کی بلندی زیادہ ہو جاتی ہے۔ ان کو مد اکبر کہا جاتا ہے اور یہ مہینے میں دو بار ہوتے ہیں، ایک مکمل چاند کے وقت (چودھویں کی شب) اور دوسرا نئے چاند کے وقت (جب چاند دکھائی نہیں دیتا)۔
مد اصغر: عام طور پر مد اکبر اور مد اصغر کے درمیان سات دنوں کا فاصلہ ہے۔ اس وقت سورج اور چاند ایک دوسرے کے زاویہ قائمہ پر ہوتے ہیں اور سورج اور چاند کی قوتیں ایک دوسرے کے بر خلاف کام کرتی ہیں۔چاند کی کشش اگرچہ سورج کی کشش کی دوگنا ہوتی ہے لیکن اس کشش کے خلاف سورج کی ثقلی کشش کے کام کرنےکی وجہ سے چاند کی کشش کم ہوجاتی ہے۔
مہینے میں ایک بار چاند کا مدار زمین سے قریب تر ہوتا ہے(اقرب الارض یعنی Perigee میں ہوتا ہے) تو غیر معمولی طور پر اونچے اور نچلے مدوجزر واقع ہوتے ہیں۔ اس وقت مد و جزری تفاوت نارمل سے زیادہ ہوتا ہے ۔ دو ہفتے بعد جب چاند زمین سے بعید ترہوتا ہے (اوج الارض یعنی Apogee میں ہوتا ہے) تو چاند کی قوت ثقل محدود ہوتی ہے اور مدوجزری تفاوت اپنی اوسط بلندی سے بھی کم ہوتا ہے۔
ہر سال تین جنوری کے آس پاس جب زمین سورج سے قریب تر ہوتی ہے (اقرب الشمس یعنی Perigelion میں ہوتی ہے ) تو غیر معمولی اونچے مدوجزر اور غیر معمولی نچلے مدوجزر کے ساتھ مدوجزری تفاوت بھی سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر سال چار جولائی کے آس پاس جب زمین سورج سے بعید تر ہوتی ہے (اوج شمس یعنی Aphelionمیں ہوتی ہے) تو مدوجزری تفاوت اوسط سے بھی کم ہوتا ہے۔
اونچے مد و جزر اور نچلے مدوجز ر کے اس درمیانی وقفہ کو ، جب پانی کی سطح گر رہی ہوتی ہے، جزر(Ebb) کہا جاتا ہے۔ نچلے مدوجزر اور اونچے مدوجزر کے اس درمیانی وقفہ کوجب مدوجزر اٹھ رہا ہوتا ہے، بہاؤ یا سیلاب (flow or flood) کہا جاتا ہے۔
مدوجزر کی اہمیت (Importance of Tides)
چونکہ مدوجزر زمین ، چاند اور سورج کی پوزیشن کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں جن کو صحیح طور معلوم کیا جا سکتا ہے، اس لیے مدوجزر کی پیشین گوئی کافی پہلے سے کی جا سکتی ہے۔ اس سے ملاحوں اور مچھواروں کو اپنی سرگرمیوں کو پلان کرنے میں مدد ملتی ہے۔ مدوجزر ی بہاؤ کشتی رانی کےلیے کافی اہمیت رکھتی ہے۔ ایسی جہازی پناہ گاہیں(Harbours) جوندیوں کے قریب مدو جزوی دہانوں(Estuaries) میں ہوتی ہیں۔ جہاں داخلے کے مقام پر اتھلے سوارے (Bars) ہوتے ہیں جن کی وجہ سے جہاز اور کشتیاں ان پناہ گاہوں میں داخل نہیں ہو پاتے ان کے لیے مدوجزوی بلندی (Tidel Height) کافی اہمیت کی حامل ہے۔ کیونکہ اس موقع پر ان پناہ گاہوں میں پانی کی سطح کافی اونچی ہو جاتی ہے اور بحری جہاز اور کشتیاں آسانی سے اندر داخل ہو سکتے ہیں۔ مدوجزر سوبوں کو بہا لے جانے اور مدوجزری دہانے سے آلودہ پانی کو ہٹانے میں مددگار ہوتے ہیں۔ کناڈا ، فرانس اور روس میں مدوجزر کا استعمال برقی توانائی پیدا کرنے میں کیا جاتا ہے۔ مغربی بنگال کے سندر بن میں درگا دوانی پر 3 میگا واٹ بجلی تیار کرنے کے لیے ایک مدوجزری پاور پروجیکٹ شروع کیا گیا ہے۔
بحری رویں(Ocean Currents)
بحر اعظموں میں بحری روئیں ندی کے بہاؤ کی طرح ہوتی ہیں۔ یہ پانی کا ایک مستقل حجم ہوتی ہیں جو ایک متعین راستے اور سمت میں بہتی ہیں۔ بحری روئیں دو قسم کی قوتوں سے متاثر ہوتی ہیں:(1) ابتدائی قوتیں جو پانی کی حرکت کی شروعات کرتی ہیں؛ (2) ثانوی قوتیں جو روؤں کو بہنے کے لیے مجبور کرتی ہیں۔
بحری روؤں کو متاثر کرنے والی ابتدائی قوتیں ہیں:(1) شمسی توانائی کے ذریعہ پانی گرم ہونا ؛ (2) ہوائیں ؛ (3) قوت ثقل ؛ ( 4) کوریولس قوت ۔ شمسی توانائی کے ذریعہ گرم ہونے کی وجہ سے پانی پھیلتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بحری پانی کی سطح وسطی عرض البلاد کی بہ نسبت خط استوا کے پاس 8 سینٹی میٹر زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے ایک ہلکی شرح ڈھال بن جاتی ہے اور ڈھلان پر پانی نیچے کی طرف بہنے لگتا ہے۔ بحری سطح پر بہنے والی ہوائیں پانی کو حرکت کرنے کےلیے دھکیلتی ہیں۔ ہوا اور سطح آب کے درمیان رگڑ آبی مخزن کے اپنے راستے پر حرکت کے لیےمتاثر کرتی ہیں۔ قوت ثقل پانی کو نیچے کھینچ کر انبار لگاتی ہے اور شرح ڈھال میں تبدیلی پیدا کرتی ہے۔ کوریولس قوت کی مداخلت کی وجہ سے پانی شمالی نصف کرہ میں دائیں طرف اور جنوبی نصف کرہ میں بائیں طرف بہنے لگتا ہے۔ پانی کے یہ بڑے ڈھیر اور ان کے چاروں طرف بہاؤ کو گردش(Gyres)کہتے ہیں۔ان کی وجہ سے تمام بحری نشیبوں میں بڑی دائری روئیں پیدا ہوتی ہیں۔
بحری رویں
بحری روئیں اپنے بہاؤ (drift) سے جانی جاتی ہیں۔ عام طور پر روئیں سطح کے پاس سب سے زیادہ شدید ہوتی ہیں اور 5 ناٹ سے زیادہ کی رفتار اختیار کرسکتی ہیں۔ گہرائی میں روئیں عموماً سست رفتار ہوتی ہیں اور 0.5 ناٹ (knot) سے بھی کم رفتار سے چلتی ہیں۔ روئیں کے رفتار کو ڈرفٹ (drift)کہا جاتا ہے۔ ڈرفٹ کی پیمائش ناٹ میں کی جاتی ہے۔ کسی رو کی طاقت رو اس کی رفتار سے ظاہر ہوتی ہے۔ ایک تیز رفتار روزوردارہے۔ روعموماً سطح کے پاس شدید ہوتی ہے اور جیسے جیسے گہرائی بڑھتی ہے اس کی شدت کم ہوتی جاتی ہے۔ زیادہ تر روؤں کی رفتار 5 ناٹ کے مساوی یا اس سے کم ہوتی ہے۔
پانی کی کثافت میں فرق بحری روؤں کی عمودی حرکت کو متاثر کرتا ہے ۔ زیادہ نمکین پانی کم نمکین پانی کے مقابلے میں زیادہ کثیف ہوتا ہے ۔ اسی طرح ٹھنڈا پانی ، گرم پانی کی بہ نسبت زیادہ کثیف ہوتا ہے۔ کثیف پانی نیچے بیٹھتا ہے جب کہ نسبتاً ہلکا پانی اوپر اٹھتا ہے۔ ٹھنڈے پانی کی بحری روئیں اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب قطبین کا ٹھنڈا پانی نیچے بیٹھتا ہے اور آہستہ آہستہ خط استوا کی طرف چلتا ہے۔ گرم پانی کی روئیں خط استوا سے قطبین کی طرف سطح کے ساتھ چلتی ہیں اور نیچے بیٹھنے والے پانی کی جگہ لے لیتی ہیں۔
بحری روؤں کی اقسام (Types of Ocean Currents)
ان کی گہرائی کے اعتبار سے بحری روؤں کی درجہ بندی سطحی روؤں اور عمیق روؤں میں کی جاسکتی ہے:(1) سطحی روئیں کل بحری پانی کے 10 فیصد حصہ پر مشتمل ہوتی ہیں، یہ پانی بحرا عظم کے 400 میٹر اوپر تک ہوتا ہے۔ (2) عمیق روئیں کل بحری پانی کے 90 فیصد حصہ پر مشتمل ہوتی ہیں۔ یہ پانی کثافت اور ثقل میں انحراف کی وجہ سے بحری نشیبوں کے چاروں طرف گھومتا ہے۔ اونچے عرض البلاد پر جہاں درجۂ حرارت کے گھٹ جانے کی وجہ سے کثافت بڑھ جاتی ہے اور گہرائی والا پانی عمیق بحری نشیبوں میں نیچے کی طرف چلا جاتا ہے۔
تصویر14.3:بحرالکاہل، اٹلانٹک اور بحر ہند کی اہم روئیں
درجۂ حرارت کے اعتبار سے بحری روؤں کو سرد اور گرم روؤں میں درجہ بند کیا جاتا ہے۔(1) سرد رویں ٹھنڈے پانی کو گرم پانی کے علاقوں میں لاتی ہیں۔ یہ روئیں عام طور پر (دونوں نصف کروں کے)نچلے اور وسطی عرض البلاد میں بر اعظموں کے مغربی ساحل پر اور شمالی نصف کرہ کے اونچے عرض البلاد میں بر اعظموں کے مغربی ساحل پر اور شمالی نصف کرہ کے اونچے عرض البلاد میں مشرقی ساحل پر پائی جاتی ہیں۔(2) گرم روئیں گرم پانی کو ٹھنڈے پانی کے علاقوں میں لاتی ہیں اور عام طور پر (دونوں نصف کروں کے) نچلے اور وسطی عرض البلاد میں ان کا مشاہدہ بر اعظموں کے مشرقی ساحل پر کیا جاتا ہے اور شمالی نصف کرہ میں یہ اونچے عرض البلاد میں بر اعظموں کے مغربی ساحل پر پائی جاتی ہیں۔
اہم بحری رویں(Major Ocean Currents)
اہم بحری روئیں غالب ہواؤں اور کوریولس قوت کے ذریعے پیدا شدہ تناؤ سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ بحری گردش کا طرز کم و بیش کرۂ ہوا کے گردش کی طرز کے مطابق ہوتا ہے۔ وسطی عرض البلاد میں بحر اعظموں پر ہوا کی گردش اکثر مخالف سیقلونی ہوتی ہے(جو شمالی نصف کرہ کے مقابلے میں جنوبی نصف کرہ میں زیادہ واضح ہوتی ہے)۔ بحری گردش کا طرز بھی اسی کے مطابق ہوتا ہے۔ اونچے عرض البلاد میں جہاں ہوا زیادہ تر سیقلونی شکل میں بہتی ہے، بحری گردش بھی یہی طرز اپناتی ہے۔ واضح مانسونی بہاؤ کے خطوں میں مانسونی ہوائیں روؤں کی حرکات کو متاثر کرتی ہیں۔ قوت کوریولس کی وجہ سے نچلے عرض البلاد کی گرم روئیں شمالی نصف کرہ میں دائیں طرف اور جنوبی نصف کرہ میں بائیں طرف چلنے لگتی ہیں۔
بحری گردش حرارت کو ایک عرض البلدی پٹی سے دوسری پٹی تک اسی طرح منتقل کرتی ہے جیسے کرۂ ہوا کی عام حرکت کے ذریعہ حرارت منتقل ہوتی ہے۔ آرکٹک اور انٹارکٹک دائروں کا ٹھنڈا پانی ٹراپیکی اور استوائی خطوں کے گرم پانی کی طرف جاتا ہے جب کہ نچلے عرض البلاد کا گرم پانی قطبین کی طرف جاتا ہے ۔ مختلف بحر اعظموں کی اہم لہروں کو تصویر 14.3 میں دکھایا گیا ہے ۔
بحر الکاہل ،بحر اٹلانٹک اور بحر ہند میں پائی جانے والی روؤں کی فہرست تیار کیجیے۔
روؤں کی حرکت غالب ہواؤں سے کس طرح متاثر ہوتی ہے؟ تصویر 14.3 سے کچھ مثالیں دیجیے۔
بحری روؤں کے اثرات (Effects of Ocean Currents)
بحری روؤں کے کئی اثرات براہ راست اور بالواسطہ طور پر انسانی سرگرمیوں پر پڑتے ہیں۔ ٹراپیکی اور نیم ٹراپیکی عرض البلاد کے مغربی سواحل (خط استوا کے قریبی ساحلوں کو چھوڑ کر ) ٹھنڈے پانی کے متصل ہیں۔ ان کا اوسط درجۂ حرارت نسبتاً کم رہتا ہے اور یہاں یومیہ و سالانہ تفاوت بہت معمولی رہتا ہے۔ کہرا ہوتا ہے لیکن عام طور یہ علاقے خشک ہیں۔ وسطی اور اونچے عرض البلاد میں بر اعظموں کے مغربی سواحل گرم پانی کے متصل ہیں جس کی وجہ سے یہاں واضح طور پر بحری آب و ہوا پائی جاتی ہے۔ ان سواحل کی خصوصیات میں سرد موسم گرما اور معتدل موسم سرما جہاں درجہ حرارت کا سالانہ تفاوت بہت ہی کم ہوتا ہے۔ ٹراپیکی اور نیم ٹراپیکی عرض البلاد میں گرم روئیں بر اعظموں کے مشرقی ساحلوں کے متوازی بہتی ہیں۔ اس کی وجہ سے آب و ہوا گرم اور بارانی ہو جاتی ہے۔ یہ علاقہ نیم ٹراپیکی مخالف سیقلون کے مغربی کناروں پر پڑتے ہیں۔ گرم اور سرد روؤں کے ملنے سے آکسیجن کی افزودگی ہوتی ہے جس سے پلینکٹن (Planktons) کی نشو ونما میں مدد ملتی ہے اور یہ مچھلیوں کی اولین خوراک ہے۔ دنیا کے بہترین ماہی گیری والے علاقے انہیں اتصالی منطقوں میں پائے جاتے ہیں۔
مشق
1۔ کثیر انتخابی سوالات:
(i) اوپر اور نیچے کی طرف بحری پانی کی حرکت کو ذیل میں سے کہا جاتا ہے:
(الف) مدوجزر (ب) رو
(ج) موج (د) مذکورہ بالا میں سے کوئی نہیں
(ii) ذیل میں سے مد اکبر کس وجہ سے پیدا ہوتا ہے:
(الف) چاند اور سورج کی وجہ سے جو زمین کو ثقلی طور پر ایک ہی سمت میں کھینچتے ہیں۔
(ب) چاند اور سورج کی وجہ سے جو زمین کو ثقلی طور پر مخالف سمت میں کھینچتے ہیں۔
(ج) ساحلی کناروں کے کٹے پھٹے ہونے کی وجہ سے۔
(د) مذکورہ بالا میں سے کوئی نہیں۔
(iii) ذیل میں سے چاند کی پوزیشن کیا ہوتی ہے جب زمین اور چاند کے درمیان کی دوری سب سے کم ہوتی ہے؟
(الف ) اوج التمش میں (ب) اقرب الارض میں
(ج) اقرب الشمس میں (د) اوج الارض میں
(iv) ذیل میں سے زمین اقرب الشمس میں کب پہنچتی ہے ؟
(الف ) اکتوبر میں (ب) ستمبر میں
(ج) جولائی میں (د) جنوری میں
2۔ مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 30 الفاظ میں دیں۔
(i) موجیں کیا ہیں؟
(ii) بحر اعظم میں موجوں کو توانائی کہاں سے ملتی ہے؟
(iii) مدوجزر کیا ہیں؟
(iv) مدوجزر کیسے بنتے ہیں؟
(v) جہاز رانی سے مدوجزر کا کیا تعلق ہے؟
3۔ مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 150 الفاظ میں دیں۔
(i) بحری روئیں درجۂ حرارت کو کیسے متاثر کرتی ہیں؟ یہ شمال مغربی یوروپ کے ساحلی علاقوں کے درجۂ حراکو کیسے متاثر کرتی ہیں؟
(ii) بحری روؤں کے پیدا ہونے کے کیا اسباب ہیں؟
پروجیکٹ کا کام
(i) کسی تالاب یا جھیل کے پاس جائیے اور موجوں کا مشاہدہ کیجیے۔ ایک پتھر پھینکیئے اوردیکھیے کہ موجیں کیسے بنتی ہیں۔ ایک موج کا خاکہ بنایئے اور اس کی لمبائی ، دوری اور چوڑائی کی پیمائش کیجیےاور انہیں نوٹ بک میں ریکارڈ کیجیے۔
(ii) بحری روؤں کو دکھانے والا ایک گلوب اور ایک نقشہ لیجیے ۔ بحث کیجیےکہ کچھ روئیں گرم یا سرد کیوں بنتی ہیں اور وہ بعض مقامات میں کیوں مڑ جاتی ہیں اور ان کے مڑنے کی وجوہات کی جانچ کیجیے۔