اب تک آپ نے یہ محسوس کر لیا ہو گا کہ اس کتاب کی سابقہ سبھی اکائیوں میں آپ کو ماحول کے تین بڑے اقالیم یعنی کرۂ حجر ، کرۂ ہوا اور کرۂ آب کی معلومات حاصل ہوئیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ زمین پر رہنے والے جاندار عضوئیے جن سے کرۂ حیات کی تشکیل ہوتی ہے وہ دوسرے ماحولیاتی اقلیم سے باہمی تفاعل کرتے ہیں۔ کرۂ حیات میں زمین پر پائی جانے والی تمام جاندار چیزیں شامل ہیں۔ یہ تمام پودوں اور جانوروں پر مشتمل ہے اور ان کے تحت وہ تمام خوردبینی عضویئے بھی آتے ہیں جو کرۂ ارض پر پائے جاتے ہیں اور اپنے گرد و پیش کے ماحول سے باہمی تفاعل کرتے ہیں۔ زیادہ تر
زمین پر زندگی تقریباً ہر جگہ پائی جاتی ہے۔جاندار عضویئے قطبین سے لے کر خط استوا تک ،سمندر کی تہہ سے لے کر ہوا میں کئی کلو میٹر کی اونچائی تک ، منجمد پانی سے لے کر خشک وادیوں تک ، سمندر کے نیچے سے لے کر سطح زمین کے نیچے زمین دوز پانی تک پائے جاتے ہیں۔
عضوئیے کرۂ حجر یا کرۂ آب میں موجود ہوتے ہیں نیز کرۂ ہوا میں بھی پائے جاتے ہیں۔ بہت سارے عضویئے ایسے ہیں جو ایک اقلیم سے دوسری اقلیم میں آزادی کےساتھ گھومتے ہیں۔
کرۂ حیات اور اس کے اجزائے ترکیبی ماحول کے بہت ہی اہم عناصر ہیں ۔ یہ عناصر دوسرے قدرتی زمینی مناظر کے اجزائے ترکیبی جیسے زمین، پانی اور مٹی کے ساتھ تفاعل کرتے ہیں۔ یہ سبھی کرۂ ہوا کے عناصر جیسے درجۂ حرارت ،بارش نمی اور سورج کی روشنی سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔زمین، ہوا اور پانی کے ساتھ کرۂ حیات کا تفاعل عضویوں کی نمو، نشوونما، بالیدگی اور ارتقا کے لیے اہم ہے۔
ماحولیات (Ecology)
آپ اخبارات و رسائل میں ماحول اور ماحولیاتی مسائل کے بارے
ماحولیات کی اصطلاح (Ecology)ایک یونانی لفظ ’اوئیکوس (Oikos) سے اخذ کی گئی ہے جس کے معنی ہیں گھر (House)۔اسے لفظ لوجی (Logy) کے ساتھ ملا دیاگیا ہے جس کے معنی ’سائنس ‘ یا ’مطالعہ‘ ہے۔ لفظی طور پر ماحولیات کا مطلب پودوں، انسانوں،جانوروں اور خورد بینی عضویوں کے گھر (House) کی حیثیت سے زمین کا مطالعہ کرنا ہے۔ یہ سبھی ایک دوسرے پر منحصر اجزائے ترکیبی کی حیثیت سے ایک ساتھ رہتے ہیں۔ جرمنی کے ماہر حیوانیات ارنیسٹ ہیکل نے 1869 میں اویکولوجی (Oekologie) لفظ کا استعمال کیا اور اس طرح وہ ماحولیات کے اصطلاح کو استعمال کرنے والے پہلے شخص بن گئے ۔ زندگی کی مختلف شکلوں (حیاتی) اور طبعی ماحول (غیر حیاتی) کے درمیان تفاعل کا مطالعہ ہی ماحولیات کی سائنس کہلاتا ہے۔ اس طرح ماحولیات کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے کہ ماحولیات عضویوں کا ایک دوسرے کے ساتھ اور ان کے طبعی ماحول کے درمیان تفاعل کا سائنسی مطالعہ ہے۔
میں پڑھتے رہتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ماحولیات کیا ہے؟ ماحول جیسا کہ آپ جانتے ہیں حیاتی اور غیر حیاتی اجزائے ترکیبی سے مل کر بنا ہے۔ یہ سمجھنا بہت دلچسپ ہوگا کہ ایک قسم کا توازن لانے کے لیے کس طرح زندگی کی شکلوں کا تنوع برقرار رکھا جاتا ہے۔ یہ توازن ایک خاص تناسب میں قائم رکھا جاتا ہے تاکہ حیاتی اور غیر حیاتی اجزائے ترکیبی کے درمیان ایک صحت مند تفاعل جاری رہے۔
عضویوں کی کسی مخصوص جماعت کے غیر عوامل کے ساتھ کسی مخصوص طبعی مسکن میں تفاعل کے نتیجے میں واضح طورپر زمین ، پانی اور ہوا میں توانائی کی روانی اور مادی دور(Cycles) کو ماحولیاتی نظام (Ecological System) کہا جاتا ہے۔ ماحولیاتی نقطۂ نظر سے ایک طبعی مسکن کی وضاحت اس طرح کی جا سکتی ہے کہ یہ طبعی اور کیمیائی عوامل کا مجموعہ ہے جو عام ماحول کی تشکیل کرتا ہے۔ حیاتی اور غیر حیاتی اجزائے ترکیبی پرمشتمل نظام کو ماحولیاتی نظام (Ecosystem)کہا جاتا ہے ۔ ماحولیات کے تمام اجزائے ترکیبی ایک دوسرے سے مربوط اور ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تفاعل کرنے والے ہوتے ہیں۔دنیا میں مختلف طرح کے ماحولیاتی نظام مختلف ماحولیاتی حالات کے ساتھ موجود ہیں جن میں مختلف قسم کے پودوں اور جانوروں کی انواع(Species) نے ارتقا کے ذریعہ مطابقت حاصل کی ہیں۔ یہ مظہر قدرت ماحولیاتی(Ecological Adaptation) کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ماحولیاتی نظام کی قسمیں (Types of Ecosystems)
ماحولیاتی نظام کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ برّی اور آبی ، برّی ماحولیاتی نظام کو کئی حیاتی ناحیوں(Biomes) میں درجہ بند کیا جا سکتا ہے۔ حیاتی ناحیہ پودوں اور جانوروں کا ایک معاشرہ ہے جو ایک بڑے جغرافیائی علاقے پر پھیلا ہوتا ہے۔ زمین پر مختلف حیاتی ناحیوں کی سرحدیں خاص طو ر پر آب و ہوا کے ذریعہ طے کی جاتی ہیں۔ اس لیےحیاتی ناحیہ یا بایوم کی تعریف اس طرح کی جا سکتی ہے کہ یہ پودے اور جانوروں کی انواع (Species) کا ایک مکمل مجموعہ ہے جو مخصوص حالات کے تحت باہمی تفاعل کرتے ہیں۔ ان کے اندر بارش، درجۂ حرارت ،نمی اور مٹی کے حالات شامل ہوتے ہیں۔ دنیا کے کچھ بڑے حیاتی ناحیوں میں جنگل ،گھاس کے میدان ،ریگستان اور ٹنڈرا کے بائیوم ہیں۔ آبی ماحولیاتی نظام کو بحری یا سمندری اور میٹھے پانی کے ماحولیاتی نظام میں درجہ بند کیا جا سکتا ہے۔بحری حیاتی نظام میں سمندر،ساحلی مدوجزری مہانے(Estuaries) اور مرجانی سنگستان (Coral reeps) شامل ہیں۔ میٹھے پانی کے ماحولیاتی نظام میں جھیل ، تالاب،ندی یا دھارے ،دلدل اور پانگ (Bogs) آتے ہیں۔
تصویر15.1:ماحولیاتی نظام کی ساخت اور کام
تصویر15.1:ماحولیاتی نطام کی ساخت اور کام
ثلاثی صارفین اعلیٰ گوشت خور
ثانوی صارفین گوشت خور
ابتدائی صارفین سبزی خور
پیدا کار ہرے پودے
مردہ باقیات
تحلیل کار
مٹی کے تغذیاتی اجزا
ماحولیاتی نظام کی ساخت اور کام (Structure and Functions of Ecosystems)
ماحولیاتی نظام کی ساخت میں پودوں اور جانوروں کی انواع کی تفصیل ہوتی ہے۔ ساخت کے نقطۂ نظر سے ہر ماحولیاتی نظام میں حیاتی اور غیر حیاتی عوامل ہوتے ہیں۔ غیر حیاتی عوامل میں بارش، درجۂ حرارت، سورج کی روشنی ،فضائی رطوبت، مٹی کے حالات اور غیر نامیاتی اشیا(کاربن ڈائی آکسائڈ ،پانی ،نائیٹروجن ،کیلشیم، فاسفورس ،پوٹاشیم وغیرہ )شامل ہیں۔ حیاتی عوامل میں پیدا کار (Producures) ابتدائی ،ثانوی اور ثلاثی صارفین(Consumers)اور تحلیل کار (Decomposers)شامل ہیں۔ پیدا کار میں وہ سارے بڑے پودے شامل ہیں جو ضیائی تالیف (Photosynthesis) کے ذریعہ اپنا کھانا خود تیار کرتے ہیں۔ ابتدائی صارفین کے تحت سبزی خور جانور جیسے ہرن ،بکری ،چوہے اور سبھی پودے کھانے والے جانور جیسے سانپ ، باگھ اور شیر ہیں۔ بعض گوشت خور جو گوشت خوروں کو بھی کھاجاتے ہیں انہیں اعلیٰ گوشت خور(Top Carnivores) کہتے ہیں جیسے باز اور نیولے۔ تحلیل کا ر (Decomposers) وہ ہوتے ہیں جو مردہ عضویوں کو کھاتے ہیں (مثال کے طور پر گندہ خور جیسے گِدھ اور کوے) اور سڑی گلی چیزوں کو مزید توڑنے والے تحلیلی کارکن جیسے بیکٹیریا اور خورد بینی عضویئے۔ پیدا کار ابتدائی صارف کے ذریعہ صرف کیے جاتے ہیں جبکہ ابتدائی صارف ثلاثی صارف کے ذریعہ صرف کیے جاتے ہیں۔ تحلیل کار ہر ایک سطح پر مردار کھاتے ہیں۔ وہ انہیں کئی چیزوں میں تبدیل کر دیتے ہیں مثلاً تغذیاتی اجزا (Nutrients) ،زمین کی زر خیزی کے لئے ضروری نامیاتی اورغیر نامیاتی نمک ۔ کسی ماحولیاتی نظام کے عضویئے تغذئی سلسلہ کے ذریعہ ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں(تصویر 15.1) ۔ مثال کے طور پر پودے کھانے والے کیڑے ،جو دھان کی ڈنٹھل پر منحصر ہوتے ہیں ،مینڈک کے ذریعہ کھائے جاتے ہیں جو دوسری جانب سانپ کے ذریعہ کھا لیے جاتے ہیں جو با لآخر باز کے ذریعہ کھا لیے جاتے ہیں ۔ یہ کھانے اور کھائے جانے کا سلسلہ اور اس کے نتیجے میں توانائی کا ایک سطح سے دوسری سطح پر منتقل ہونا تغذئی سلسلہ (Food-chain) کہلاتا ہے۔ تغذئی سلسلہ کے عمل کے دوران ایک سطح سے دوسری سطح میں توانائی کے تبادلے کو توانائی کی روانی(Flow of energy) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ حالانکہ تغذئی سلسلے ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے ۔ مثال کے طور پر ایک چوہا جو اناج کھاتا ہے مختلف ثانوی صارف(گوشت خور ) کے ذریعہ کھایا جا سکتا ہے اور یہ گوشت خور کسی دوسرے ثلاثی صارف (اعلیٰ گوشت خور )کے ذریعہ کھائے جا سکتے ہیں۔ اس قسم کے حالات میں گوشت خوروں کی ہر ایک قسم ایک سے زیادہ قسم کا شکار کر سکتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں تغذئی سلسلے ایک دوسرے کے ساتھ باہمی طور پر مربوط ہو جاتے ہیں۔ انواع(Species)کے اس آپسی تعلق کے تانے بانے کو تغذئی جال (Food Web) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ عام طور پر دو طرح کے تغذئی سلسلوں کی شناخت کی گئی ہے :چرائی تغذئی سلسلہ (Grazing food-chain )اور ریخت تغذئی سلسلہ (Detritus food-chain)۔چرائی تغذئی سلسلے میں پہلی سطح پودوں کی شکل میں شروع ہوتی ہے جن کی حیثیت پیداکار کی ہے اور گوشت خور کی شکل میں صارف کی آخری سطح کی حیثیت سے ختم ہوتی ہے ۔سبزی خور درمیانی سطح پر ہوتے ہیں۔ ہر سطح پر توانائی ضائع ہوتی ہے جو عمل تنفس، عمل اخراج یا تحلیل کے ذریعہ ہو سکتی ہے۔ کسی تغذئی سلسلہ میں تین سے پانچ سطحیں ہوتی ہیں اور ہر سطح پر توانائی ضائع ہوتی ہے۔ ریخت تغذئی سلسلہ کی بنیاد خود تغذیوں(Autotrophs) سے توانائی کی تسخیر پر مبنی ہوتی ہے، جو چرنے والے جانوروں سے شروع ہوتی ہےاور جس میں چرائی تغذئی سلسلے سے نکلے ہوئے نامیاتی فضلات اور مردار چیزیں شامل ہوتی ہیں۔
حیاتی ناحیوں کی قسمیں(Types of Biomes)
گزشتہ پیراگرافوں میں آپ نے اصطلاح حیاتی ناحیہ (Biome) کے مطلب کی آموزش کی ہے۔ آیئے اب دنیا کے بڑے حیاتی ناحیوں کی پہچان کریں۔ دنیا میں پانچ بڑے حیاتی ناحیے ہیں : جنگل ،ریگستان ،گھاس کے میدان،آبی اور ارتفاعی حیاتی ناحیے۔ ان حیاتی ناحیوں کے چند خصائص جدول 15.1 میں دیئے گئے ہیں۔
حیات ارضی کیمیائی ادوار (Biogeochemical Cycles)
سورج توانائی کا بنیادی ذریعہ ہے جس پر زندگی کی تمام شکلیں منحصر ہیں۔ یہ توانائی ضیائی تالیف کے ذریعہ کرہ حیات میں زندگی کے عمل کو شروع کرتی ہے جو ہرے پودوں کے لیے کھانے اور توانائی کا خاص ذریعہ ہے۔ ضیائی تالیف کے دوران کاربن ڈائی آکسائڈ نامیاتی مرکبات اور آکسیجن میں تبدیل کردی جاتی ہے۔ کلInsolation جو زمین کی سطح پر پہنچتا ہے اس کا محض ایک انتہائی معمولی حصہ (0.1فی صد) ہی ضیائی تالیف میں خرچ ہوتا ہے۔ اس توانائی کا نصف سے زیادہ حصہ پودوں کے تنفس میں استعمال ہوتا ہے اور باقی حصے عارضی طور پر جمع کیے جاتے ہیں یا پودوں کے دوسرے حصوں میں بھیج دیئے جاتے ہیں۔
زمین پر زندگی جاندار عضویوں کی کافی مختلف اقسام پر مشتمل ہے۔ یہ سبھی جاندار عضویئے مختلف طرح کے جھنڈوں میں رہتے ہیں اور نوعی اختلافات میں اپنا وجود قائم رکھتے ہیں۔ا س طرح کی بقا میں نظامی روانی پائی جاتی ہے جیسے توانائی ، پانی اور تغذیاتی اجزا (Nutrients)کی روانی۔ تمام روانیاں(Flows)دنیا کے مختلف حصوں میں ، سال کے مختلف موسموں میں اور مختلف مقامی حالات کے اندر انحراف ظاہر کرتی ہیں۔ مطالعوں سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ گذشتہ ایک بلیَن سالوں میں کرۂ ہوا اور کرۂ آب تقریباً ایک ہی توازن کے کیمیائی اجزائے ترکیبی سے مل کر بنے ہیں۔ کیمیائی عناصر کا یہ توازن پودے اور جانوروں کے بافتوں (Tissues) میں ہونے والے دوری سفر کے ذریعہ قائم رہتا ہے۔ دور کی ابتدا عضویوں کے ذریعہ کیمیائی عناصر کو جذب کرنے سے ہوتی ہے اور یہ عناصر ہوا اور مٹی میں تحلیل ہو کر واپس آتے ہیں۔ ان سبھی ادوار کو زیادہ تر توانائی تشمُّس سے ملتی ہے۔ کرۂ حیات کے کیمیائی عناصر کی یہ دوری حرکات جو عضویہ اور ماحول کے درمیان چلتی رہتی ہیں انہیں حیاتی ارضی کیمیائی ادوار (Biogeochemical cycles) کہا جاتا ہے۔ ''Bio" کا مطلب جاندار عضویہ اور "Geo" کا مطلب زمین کی چٹانیں، مٹی ہوا اور پانی ہیں۔
حیاتی ارضی کیمیائی ادوار دو طرح کے ہوتے ہیں: گیسی دور اور رسوبی دور۔ گیسی دور (Gaseous cycle) میں تغذیتی اجزا کے خاص مخزن کرۂ ہوا اور سمندر ہیں جبکہ رسوبی دور (Sedimentary cycle)میں تغذیاتی اجزا کے خاص مخزن مٹی اور فشر ارض کی رسوبی اور دوسری چٹانیں ہیں۔
آبی دور (The Water Cycle)
سبھی جاندار عضویئے ،کرۂ باد اور کرۂ حجر آپس میں پانی کے دوران کو ٹھوس، رفیق یا گیس کی شکل میں قائم رکھتے ہیں جسے آبیاتی دور کہتے ہیں(اسی کتاب کا باب 13 دیکھیں)
کاربنی دور (The Carbon Cycle)
کاربن سبھی جاندار عضویوں کا ایک بنیادی عنصر ہے۔ یہ سبھی نامیاتی مرکبات کا بنیادی حصہ بناتا ہے۔ کرۂ حیات کے اندر پانچ لاکھ سے زیادہ کاربن کے مرکبات پائے جاتے ہیں ۔ کاربنی دور خاص طورپر کاربن ڈائی آکسائڈ کی تبدیلی ہے۔ یہ تبدیلی ضیائی تالیف کے ذریعہ کرۂ ہوا سے کاربن ڈائی آکسائڈ کی تثبیت سے شروع ہوتی ہے۔ اس طرح کی تبدیلی کے نتیجہ میں کاربوہائڈریٹ اور گلوکوز بنتے ہیں جو دوسرے نامیاتی مرکبات جیسے سکروز، اسٹارچ ،سیلولوز وغیرہ میں تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔ کچھ کاربوہائڈریٹ پودوں کے براہ راست استعمال میں آجاتے ہیں۔ اس طریق عمل کے دوران زیادہ کاربن ڈائی آکسائڈ پیدا ہوتی ہے اور پودوں کی پتیوں یا جڑوں کے ذریعہ دن کے دوران باہر نکال دی جاتی ہے۔ بچے ہوئے کاربوہائڈریٹ جن کا استعمال پودے نہیں کرتے وہ نباتی بافت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ نباتی بافت یا تو سبزی خو ر جانوروں کے ذریعہ کھائی جاتی ہے یا پھر خورد عضویوں کے ذریعے تحلیل کر دی جاتی ہے۔ سبزی خور جانور کے کھائے گئے کچھ کاربوہائڈریٹ کو کاربن ڈائی آکسائڈ میں تبدیل کر دیتے ہیں اور تنفس کے ذریعہ ہوا میں نکال دیتے ہیں۔ جانوروں کے مرنے کے بعد بچے ہوئے کاربوہائڈریٹ کو خوردعضویئے تحلیل کر دیتے ہیں۔
چارٹ 15.1 :دنیا کے حیاتی ناحیے(Biomes)
| حیاتی ناحیے |
ذیلی اقسام |
خطے |
آب و ہوائی صفات |
مٹی |
نباتیہ اور حیوانیہ |
| جنگل |
A۔ٹراپیکی 1۔استوائی 2۔پت جھڑی B۔معتدلہ C۔بادشمالی |
A1. 10o شمال۔جنوب A2 10o.25o B. مشرقی شمال امریکہ،شمال مشرقی ایشیا، مغربی اور وسطی یورپ۔ C.یوریشیا اور شمالی امریکہ کی وسیع پٹی، سائبیریا کے حصے، الاسکا ، کناڈا اور اسیکنڈینیویا |
A1. درجہ ٔ حرارت C 20.25o یکساں طور پر تقسیم شدہ A2. درجۂ حرارتC 25.30o سالانہ بارش کا اوسط 1000 ملی میٹر موسمی B. درجہ ٔ حرارتC 20.30o بارش یکساں تقسیم شدہ 750 سے1500 ملی میٹر، موسموں کی واضع حد بندی اور صریح سردی کا موسم C. قلیل مدتی نم اور معتدل گرم موسم گرما اور سرد خشک طویل موسم سرما، بہت کم درجۂ حرارت، بارندگی زیادہ تر برف باری کی شکل میں 400سے 1000ملی میٹر
|
A1.
تیزابی، تغذیاتی جزا کی کمی
A2.
تغذیاتی اجزا میں افراط
C.
تیزابی اور تغذیاتی
اجزا کی کمی ، مٹی کی پتلی پرت
|
A1.کئی پرتوں والا چھتّر اونچے اور بڑے درخت A2.کم گھنے درمیانی اونچائی والے درخت، کئی قسمیں ایک ساتھ موجود رہتی ہیں حشرات، چمگادڑ، پرندے اور پستانئیے دونوں میں مشترک ہیں B. درمیانی گنے چوڑی پتیوں والے درخت، پودوں کی انواع میں کم تنوع۔بلوط، بیچ، اور فر وغیرہ عام قسمیں ہیں ۔ گلہری، خرگوش، امریکی نیولا، پرندے، سیاہ، بھالو، پہاڑی شیر وغیرہ۔ C. سدا بہار مخروطی جیسے صنوبر ،فر، اوراسپروس وغیرہ۔ ہد ہد، باز، بھالو، بھیڑیا،ہرن،خرگوش اور چمگادڑ عام جانور ہیں۔
|
| ریگستان |
A۔گرم اور خشک ریگستان B۔نیم خشک ریگستان C۔ساحلی ریگستان D۔سرد ریگستان |
A. سہارا، کالاہاری مروستھلی ربع الخالی B. گرم ریگستانوں کے حاشیائی علاقے C.اٹاکاما D. ٹنڈرا آب ہوائی خطے |
A.درجہ حرارتC 20.45o B. 21.38oC C. 15.35oC D. 2.25oC AتاDبارش50ملی میٹر سے کم
|
تغذیاتی اجزا میں افراط جن میں نامیاتی مادوں کی کمی یا عدم موجودگی ہوتی ہے ۔ |
A.Cنباتات کی کمی، چند بڑے پستانئیے،حشرات الارض خزندے اور پرندے D.خرگوش، چوہے، چکارے اور زمینی گلہری
|
گھاس کے میدان (Grassland) |
A.ٹراپیکی B.معتدلہ اسٹپی |
A.افریقہ، آسٹریلیا، جنوبی امریکہ اور ہندوستان کے بڑے علاقے B.یوریشیا اور شمالی امریکہ کے حصے |
A.گرم آب و ہوا ،بارش 500.12,50ملی میٹر B.گرم موسم گرما اور سرد موسم سرما، بارش 500.900ملی میٹر
|
A.کی پتلی پرت کے ساتھ مسام دار B.پتلی گالے دار مٹی، قلیا میں بافراط |
A.گھاس، درخت اور بڑی جھاڑیوں کی غیر موجودگی زیراف ، زیبرا ، بھینس، چیتے، لکڑبھگے، ہاتھی، چوہے، چھچھندر، سانپ اور کینچوے وغیرہ عام طور سے پائے جاتے ہیں ۔ B.گھاس: کبھی کبھار پائے جانے والے درخت جیسے کاٹن ووڈ ، بلوط اور الوّ،غزالہ، زیبرا، گینڈا، جنگلی گھوڑے، شیر، مختلف قسم کے پرندے، کینچوے،سانپ عام طور پر پائے جاتے ہیں ۔ |
آبی (Aquatic) |
A.میٹھا پانی B.سمدری |
A.جھیلیں ، دھارے ، ندیاں،اور ترزمین B.سمندری مرجانی سنگستان، لیگون اور مدوجزری دہانے |
A.Bٹھنڈے ہوائی درجۂ حرارت اور اونچی نمی کے ساتھ درجۂ حرارت کافی بدلتا رہتا ہے۔ |
A.پانی، دلدل اور گلابہ B.پانی، مدوجزری دلدل اور گلابہ |
الگی اور دیگر آبی اور سمندری پودوں کا معاشرہ جن میں مختلف قسم کے پانی میں رہنے والے جانور پائے جاتے ہیں ۔ |
ارتفاعی (ltitudinal) |
|
اونچے پہاڑی سلسلوں کی ڈھلانیں جیسے ہمالیہ، انڈیز اور راکی |
درجۂ حرارت اور بارندگی عرض البلدی منطقوں کے مطابق بدلتی ہیں ۔ |
ڈھلانوں پر ریگولتھ |
بلندی کے مطابق بدلتی پت جھڑ سے ٹنڈرا نباتات |


خورد عضویوں کے ذریعہ تحلیل کردۂ کاربوہائڈریٹ عمل تکسید کے ذریعہ کاربن ڈائی آکسائڈ میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور کرہ ہوا
میں واپس لوٹ آتے ہیں(تصویر 15.2)۔
آکسیجنی دور (The Oxygen Cycle)
آکسیجن ضیائی تالیف کی خاص ضمنی پیداوار ہے۔ اس کا دخل کاربوہائڈریٹ کی تکسید میں ہوتا ہے جس کی بنا پر توانائی، کاربن ڈائی آکسائڈ اور پانی نکلتے ہیں۔ آکسیجن کا دور بہت زیادہ پیچیدہ عمل ہے۔ آکسیجن مختلف کیمیائی شکلوں اور مرکبات میں پائی جاتی ہے۔ یہ نائٹروجن کے ساتھ مل کر نائٹریٹس بناتی ہے اور دوسری بہت ساری معدنیات اور
تصویر15.2:ماحولیاتی نظام کی ساخت اور کام
فضائیCO2
جانوروں کا عمل تنفس
متی کا عمل تنفس
جانور
باردہ باقیات
عمل تحلیل کاری
جڑوں کا عمل تنفس
پودوں کے ذریعہ انجذاب
پودوں کا عمل تنفس
پودے
عناصر سے ملکر مختلف آکسائڈیں جیسے لوہے کا آکسائڈ ،المونیم آکسائڈ اور دیگر آکسائڈ بناتی ہے۔ ضیائی تالیف کے دوران سورج کی روشنی کے ذریعہ پانی کے سالموں کے تحلیل ہونے سے بڑی مقدار میں آکسیجن پیدا ہوتی ہے اور پودوں کے اخراج بخارات اور تنفس کے عمل کے ذریعہ کرۂ ہوا میں چھوڑ دی جاتی ہے۔
نائٹروجنی دور (The Nitrogen Cycle)
نائٹروجن کرۂ ہوا کا ایک بڑا حصہ ہے جو کرۂ ہوا کی گیسوں کا تقریباً 79 فیصد ہے۔ یہ مختلف نامیاتی مرکبات کا ایک لازمی حصہ بھی ہے جیسے امینو ایسڈ، نیوکلیائی ایسڈ ،پروٹین ،وٹامن اور صبغے(Pigment)وغیرہ ۔ صرف کچھ ہی اقسام کے عضویئے جیسے مٹی کے بیکٹیریا اور نیلی ہری الگی اس قابل ہوتے ہیں کہ وہ نائٹروجن کو گیس کی شکل میں سیدھے استعمال کر سکیں۔ عام طور پر نائٹروجن کی تثبیت کے بعد ہی قابل استعمال ہوتی ہے۔ کل تثبیت کردہ نائٹروجن کا 90 فیصد حیاتی ہوتا ہے۔ نائٹروجن کی کرۂ ہوا میں تثبیت برق اور کاسمک اشعاع ریزی کے ذریعہ بھی ہو سکتی ہے۔ سمندروں میں کچھ سمندری جانور اسے ثبت کر سکتے ہیں۔ فضائی نائٹروجن کی دستیابی شکل میں ثبت ہوجانے کے بعد بڑے پودے اسے جذب کر سکتے ہیں۔ سبزی خور جانور ،جو پودوں کو کھاتے ہیں، وہ اس کا کچھ حصہ صرف کرتے ہیں۔
مردار پودے اور جانور اور نائٹروجنی فضلات کے اخراج مٹی میں موجود بیکٹیریا کے ذریعہ نائٹرائٹ میں تبدیل کر دیئے جاتے ہیں۔ کچھ بیکٹیریا نائٹرائٹ کو نائٹریٹ میں تبدیل کر سکتے ہیں جو ہرے پودوں کےذریعہ دوبارہ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ کچھ ایسے بیکٹیریا بھی ہیں جو نائٹرایٹ کو آزاد نائٹروجن میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس طریق عمل کو نائٹروجن براری (Denitrification) کہا جاتا ہے (تصویر 15.3)
دیگر معدنیاتی ادوار (Other Mineral Cycles)
کاربن ،آکسیجن ،نائٹروجن اور ہائڈروجن جو کرۂ حیات کے اہم ارضی کیمیائی اجزائے ترکیبی ہیں۔ ان کے علاوہ کئی دوسری معدنیات پودے اور جانوروں کی زندگی کے لیے ناگزیر تغذیاتی اجزا کی حیثیت سے پائی جاتی ہیں۔
تصویر15.3:ماحولیاتی نظام کی ساخت اور کام
فضائی نائٹروجن
حیاتیاتی تثبیت
صنعتی تثبیت
نائٹریٹ مرکبات
نائٹروجن براری
یہ معدنی عناصر جن کی ضرورت جاندار عضویوں کو ہوتی ہے بنیادی طور پر غیر نامیاتی ذرائع جیسے فاسفورس ،گندھک،کیلشیم اور پوٹاشیم سے حاصل ہوتے ہیں۔ یہ عموماً مٹی ،پانی ،جھیل ،ندی اور سمندر میں حل شدہ نمک کی حیثیت سے پائے جاتے ہیں۔ معدنی نمک قشرارض سے فرسودگی کے ذریعہ سیدھے طور پر حاصل ہوتے ہیں جہاں حل پذیر نمک آبی دور میں داخل ہوتے ہیں اور بالآخر سمندر میں پہنچ جاتے ہیں۔ دوسرے نمکیات تہہ نشینی کے ذریعہ قشرارض میں واپس آتے ہیں اور فرسودگی کے بعد دوبارہ میں داخل ہوتے ہیں۔ سبھی جاندار عضویئے اپنی معدنی ضرورت پودوں اور جانوروں سے حاصل کرتے ہیں جنھیں وہ کھاتے ہیں۔ جاندار عضویوں کی موت کے بعد معدنیات مٹی اورپانی میں تحلیل اور بہاؤ کے ذریعہ واپس آجاتی ہے۔
ماحولیاتی توازن (Ecological Balance)
ماحولیاتی توازن کسی طبعی مسکن یا ماحولیاتی نظام میں پائے جانے والے عضویوں کے معاشرہ کے اندر حرکی توازن کی ایک حالت ہے۔ اس طرح کی حالت تب ہو سکتی ہے جب جاندار عضویوں میں تنوع نسبتاً مستحکم ہو۔ بتدریج تبدیلیاں بھی ہوتی ہیں لیکن یہ صرف قدرتی توانائی کے ذریعہ ہوتی ہیں۔ اس کی وضاحت ایسے بھی کی جا سکتی ہے کہ یہ کسی ماحولیاتی نظام کے ہر نوع کی تعداد میں ایک مستحکم توازن ہے۔ یہ مختلف عضویوں کے درمیان مقابلہ اور باہمی تعاون کے ذریعہ ہوتا ہے جہاں آبادی مستحکم رہتی ہے۔ یہ توازن اس حقیقت پر مبنی ہوتاہے کہ چند انواع جس ماحول میں نمو پاتی ہیں اس ماحول کےذریعہ طے کی گئی حدود میں ایک دوسرے سے مقابلہ آرارہتی ہیں۔ یہ توازن اس حقیقت سے بھی حاصل ہوتا ہے کہ کچھ انواع اپنی غذا اور بقا کے لیے دوسروں پر منحصر ہوتی ہیں۔ اس طرح کی کیفیت گھاس کے بڑے میدانوں میں پیش آتی ہے جہاں سبزی خور جانور (ہرن ، ژیراف،بھینس وغیرہ ) زیادہ تعداد میں ملتے ہیں۔ دوسری جانب گوشت خور جانور (باگھ ،شیر وغیرہ) جو عموماً بڑی تعداد میں نہیں ہوتے ، سبزی خور جانوروں کا شکار کرکے کھاتے ہیں اور اس طرح ان کی آبادی پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ مقامی جنگلوں میں کسی طرح کا خلل مثلاً جنگلوں کی انتقالی زراعت کےلیے صاف کرنا ، انواع کی تقسیم میں تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ یہ تبدیلی مقابلہ کی وجہ سےہوتی ہے جہاں ثانوی جنگلی انواع جیسےگھاس، بانس یا صنوبر مقامی انواع سے آگے نکل جاتی ہیں اور اصل جنگلی ساخت کو تبدیل کر دیتے ہیں۔ اسے توانائی (Succession) کہا جاتا ہے۔
ماحولیاتی توازن ، نئی انواع کے داخلہ ، قدرتی حادثات اور انسانی وجوہات کی بنا پر بھی بگڑتا ہے۔ انسانی مداخلت نے نباتی معاشرہ کو متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے ماحولیاتی نظام میں خلل پڑاہے۔ اس طرح کی گڑ بڑی کئی ثانوی توانائی کا سبب بنتی ہے۔ ارضی وسائل پر انسانی دباؤ کی وجہ سے ماحولیاتی نظام کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ اس نے اس کی اصلیت کو برباد کیا ہے اور عام ماحول پر اس کا الٹا اثر پڑا ہے۔ ماحولیاتی عدم توازن نے مختلف قدرتی آفات کو دعوت دی ہے جیسے سیلاب ، زمین کا کھسکنا ، بیماریاں اور غیر یقینی آب و ہوائی واقعات وغیرہ ۔
کسی مخصوص طبعی مسکن کے اندر پودوں اور جانوروں کے معاشروں کے درمیان بہت ہی گہرا رشتہ ہوتاہے۔ کسی مخصوص علاقہ میں زندگی کا تنوع مسکن کے عوامل کے اشاریہ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح کے عوامل کا خاص علم اور اس کی تفہیم ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔
مشق
1۔ کثیر انتخابی سوالات:
(i) ذیل میں سے کرۂ حیات میں کیا شامل ہیں؟
(الف) صرف پودے (ب)صرف جانور
(ج)سبھی جاندار اور غیر جاندار عضویئے (د)سبھی جاندار عضویئے
(ii) ٹراپیکی گھاس کے میدان کو اس نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
(الف) پریری (ب) اسٹیپی
(ج) سوانا (د) ان میں سے کوئی نہیں
(iii) آکسیجن چٹان میں موجود لوہے سے مل کربناتی ہے۔
(الف) آئرن کاربونیٹ (ب) آئرن آکسائڈ
(ج)آئرن نائٹرائٹ (د) آئرن سلفیٹ
(iv)
ضیائی تالیف کے دوران کاربن ڈائی آکسائڈ سورج کی روشنی کی موجودگی میں پانی سے مل کر ذیل میں کون سی چیز بناتی ہے؟
(الف) پروٹین (ج) کاربن ہائڈریٹ
(ب) امینو ایسِڈ (د) وٹامن
2۔ مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 30 لفظوں میں دیں۔
(i) ’ماحولیات‘ سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
(ii)ماحولیاتی نظام کیا ہے؟ دنیا کے بڑے ماحولیاتی نظام کی قسموں کے نام لکھیں؟
(iii) تغذئی سلسلہ کیا ہے؟ مختلف سطحوں کو دکھاتے ہوئے چرائی تغذئی سلسلہ کی ایک مثال پیش کریں۔
(iv) تغذئی جال سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ مثالیں دیں۔
(v) حیاتی ناحیہ (بایوم) کیا ہے؟
3۔ مندرجہ ذیل سولوں کے جواب تقریباً 150 لفظوں میں دیں۔
(i) حیاتی ارضی کیمیائی دور کیا ہے؟ کرۂ ہوا میں نائٹروجن کی تثبیت کیسے ہوتی ہے؟ وضاحت کریں۔
(ii) ماحولیاتی توازن کیا ہے؟ ماحولیاتی عدم توازن کو روکنے کے اہم طریقوں پر بحث کیجیے۔
پروجیکٹ کا کام
(i) دنیا کے نقشے پر مختلف حیاتیاتی ناحیوں کی تقسیم دکھایئے اور ہر حیاتیاتی ناحیہ کی اہم خصوصیات پر روشنی ڈالیے۔
(ii)اپنےاسکول کی چہار دیواری میں موجود درخت ،جھاڑیوں اور سدابہار پودوں کو نوٹ کریں اور نصف یوم ان پرندوں کا مشاہدہ کرنے میں لگائیں جواسکول کے باغ میں آتے ہیں۔ کیا آپ پرندوں کے تنوع کو بیان کر سکتے ہیں۔