Skip to content

باب 16

حیاتیاتی تنوع اور تحفظ

آپ ارضی صدریائی تبدیلیوں خصوصاً مختلف آب و ہوائی منطقوں میں فرسودگی اور فرسودگی والے غلاف کی گہرائی کے سلسلے میں پہلے ہی معلومات حاصل کر چکے ہیں۔ اعادہ کے لیےباب 6 میں دی گئی تصویر 6.2 دیکھیں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ فرسودگی والا غلاف نباتات کے تنوع کی بنیاد ہے اور اسی کو حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) فرسودگی کے اس انحراف اور نتیجتاً حیاتیاتی تنوع کی بنیادی وجہ شمسی توانائی اور پانی کی در آمد ہے۔ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ وہ علاقے جن میں ان چیزوں کی د ر آمد بہ افراط ہوتی ہے وہ حیاتیاتی تنوع کے وسیع احاطے والے علاقے ہوتے ہیں۔ 

آج جو حیاتیاتی تنوع ہم دیکھتے ہیں وہ ڈھائی سے ساڑھے تین ملین سال کے ارتقا کا نتیجہ ہے۔ انسانوں کے ظہور سے پہلے زمین پر کسی دوسرے دور کے مقابلہ میں حیاتیاتی تنوع میں بہت تیزی سے گراوٹ آئی ہے اور یکے بعد دیگرے نوع کو ان کے حد سے زیادہ استعمال کی وجہ سے معدومی کا شکار ہونا پڑا۔ دنیا میں حیاتیاتی   نوع کی تعداد 2 ملین سے 100 ملین کے درمیان ہے جس میں 10 ملین کا اندازہ سب سے بہتر ہے۔ نئی نوع(Species) کی کھوج لگاتار ہوتی رہتی ہے جن میں بہتوں کی اب تک درجہ بندی کرنی باقی ہے(ایک اندازہ کے مطابق جنوبی امریکہ کے میٹھے پانی کی مچھلیوں میں سے تقریباً 40فیصد کی اب تک درجہ بندی نہیں ہوئی ہے) ٹراپیکی جنگلات میں حیاتی تنوع کی افراط ہے۔


حیاتیاتی تنوع ایک نظام ہے جو حیاتیات کے نقطۂ نظر سے اور ساتھ ساتھ انفرادی عضویہ کے نقطۂ نظر سے مسلسل ارتقا کی راہ پر گامزن ہے۔ کسی نوع کی اوسط نصف حیات (Half life) کا اندازہ 1 ملین سے 4 ملین سال کے درمیان لگایا گیا ہے اور زمین پر بھی رہنے والی نوع میں 99 فیصد آج معدوم ہو چکی ہیں۔ زمین پرحیاتیاتی تنوع ہر جگہ یکساں طور پر نہیں پایا جاتا ہے۔ ٹراپیکی خطوں میں یہ یکسانیت سے بہ افراط پایا جاتا ہے۔ جیسے جیسے ہم قطبی خطوں کی جانب بڑھتے جاتے ہیں ویسے ویسے ہم پاتے ہیں کہ نوع کی قسم تو گھٹ رہی ہے لیکن ان کی آبادی یعنی تعدادبڑھتی جا رہی ہے۔  
حیاتیاتی تنوع(Biodiversity) خود دو لفظوں کا مرکب ہے:حیاتی (Bio) اور تنوع (Diversity)۔آسان لفظوں میں حیاتیاتی تنوع عضویوں (Ogranisms)کی وہ تعداد اور اقسام ہیں جو کسی مخصوص جغرافیائی خطہ میں پائی جاتی ہیں۔ یہ پودوں ، جانوروں اور خودبینی عضویوں کی قسموں ،ان کے اندر پائے جانے والے جین (Genes) اور ان کے ذریعہ بنائے گئے ماحولیاتی نظام کی طرف اشارہ کرتاہے۔ اس کا تعلق زمین پر پائے جانے والے عضویوں کے درمیان تغیر پذیری سے ہے جس میں نوع (Species) کے اندر اور ان کے درمیان تغیر پذیری اور اسی طریقہ سے ماحولیاتی نظاموں کے اندر اور ان کے درمیان ہونے والی تغیر پذیری شامل ہے۔ حیاتیاتی تنوع ہماری زندہ رہنے والی روایت ہے۔ یہ سیکڑوں لاکھوں سال پر مشتمل ارتقائی تاریخ کا نتیجہ ہے۔  

حیاتیاتی تنوع پر بحث تین سطحوں پر کی جا سکتی ہے (i) جینیاتی تنوع (Genetic Diversity) (ii) نوعی تنوع (Species Diversity) (iii)ماحولیاتی نظامی تنوع(Ecosystem Diversity)

جینی تنوع (Genetic Diversity)

جین زندگی کے مختلف حیاتی شکلوں کے بنیادی بلڈنگ بلاکس ہیں۔ جینی تنوع نوع کے اندر جین کے انحراف کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ منفرد عضویوں کے گروپ جن کی جسمانی خصوصیات میں خاص مشابہت پائی جاتی ہے، انہیں نوع (Species) کہاجاتاہے۔ جینی نقطۂ نظر سے انسان ہوموسیپئن (Homo sapiens)   کے زمرے میں آتے ہیں جن کی اپنی خصوصیات جیسے قد، رنگ ، جسمانی شباہت وغیرہ میں کافی فرق پایا جاتا ہے۔ یہ جینی تنوع کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ جینی تنوع نوعی(Species) آبادی کی صحت مند افزائش کے لیے ضروری ہوتا ہے۔  

نوعی تنوع(Species Diversity)

یہ نوع (Species)کی قسموں کی طرف اشارہ کر تا ہے۔ اس کا تعلق کسی علاقہ میں نوع کی تعداد سے ہے ۔ نوع کے تنوع کی پیمائش اس کے تمول ، بہتات اور قسموں کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ کچھ علاقے دوسرے کے مقابلہ میں نوع کے معاملے میں زیادہ متمول ہوتے ہیں ۔ وہ علاقے جو نوع تنوع میں متمول ہوتے ہیں، انہیں تنوع کے اثر پذیر مقامات (Hotspots) کہا جاتا ہے (تصویر 16.5)۔

  ماحولیاتی نظام کا تنوع (Ecosystem Diversity)

پچھلے باب میں آپ نے ماحولیاتی نظام کا مطالعہ کیا ہے۔ ماحولیاتی نظام کی قسموں کے درمیان واضح تفاریق اور ہر ماحولیاتی نظام کے اندر ہونے والے ماحولیاتی طریق ہائے عمل اور طبعی مساکن کا تنوع ایک ساتھ مل کرماحولیاتی نظام کے تنوع کی تشکیل کرتے ہیں۔ کمیونٹی نوع کی وابستگی اور ماحولیاتی نظام کی حد بندی بالکل سختی سے نہیں کی گئی ہے۔ ا س لیے ماحولیاتی نظام کی سرحدوں کی حد بندی سخت اور پیچیدہ ہے۔  

1st


   تصویر16.1:مغربی گھاٹ، اناملائی کے اندرا گاندھی نیشنل پارک میں گھاس کے میدان اور وشولاش ۔ماحولیاتی      نظام کے تنوع کی ایک مثال

حیاتیاتی تنوع کی اہمیت  

(Importance of Biodiversity)

حیاتیاتی تنوع نے انسانی کلچر کے فروغ میں کئی طریقوں سے مدد کی ہے۔ دوسری جانب انسانی معاشرے نے جینی ،نوعی اور ماحولیاتی سطحوں پہ قدرت کے تنوع کو شکل دینے میں بہت اہم کردار نبھایا ہے۔ حیاتی تنوع مندرجہ ذیل کردار ادا کرتے ہیں ۔ ماحولیاتی ، معاشی اورسائنسی ۔  

حیاتیاتی تنو ع کا ماحولیاتی کردار  

(Ecological Role of Biodiversity)

کئی قسم کی نوع(Species) ماحولیاتی نظام کے اندر کچھ نہ کچھ کام انجام دیتی ہیں۔ ماحولیاتی نظام میں کوئی بھی چیز بغیر کسی وجہ کے نہ تو پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی باقی رہتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر عضو یہ اپنی ضرورتوں کو حاصل کرنے کے علاوہ دوسرے عضویوں کے استعمال کی کچھ مفید چیزیں بھی عطا کرتا ہے۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ ہم یعنی انسان کس طریقہ سے ماحولیاتی نظام کی بقا میں تعاون دیتے ہیں۔ نوع توانائی لیتے ہیں اور ذخیرہ کرتے ہیں ، نامیاتی اشیا کو پید ا اور تحلیل کرتے ہیں، ماحولیاتی نظام میں ہر جگہ پانی اور تغذیاتی اجزا کے دور میں معاونت کرتے ہیں، فضائی گیسوں کی ثبت کرتے ہیں اور آب و ہوا کو منضبط کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ یہ سبھی کام ماحولیاتی نظام کے عمل اور انسانوں کی بقا کےلیے اہم ہیں۔ ماحولیاتی نظام جتنا متنوع ہوتا ہے اُتنا ہی افتادہ اور حملہ کی حالتوں میں نوع (Species) کے زندہ رہنےکے مواقع بہتر ہوتے ہیں اور نتیجتاً زیادہ پیدا کار ہوتے ہیں۔ اس لیے نوع کا خاتمہ نظام کی اپنی بقا کو قائم رکھنے کی صلاحیت کو کم کرتا ہے۔ کسی نوع کے اونچے جنینی تنوع کی طرح ماحولیاتی نظام جن میں اونچا تنوع ہوتا ہے ان میں ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ تطابق کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں کسی ماحولیاتی نظام میں جتنے زیادہ قسم کے نوع ہوتے ہیں، وہ ماحولیاتی نظام اتنا ہی زیادہ مستحکم ہو سکتا ہے۔  

حیاتیاتی تنوع کا معاشی کردار

(Economic Role of Biodiversity)

سبھی انسانوں کی روز مرّہ کی زندگی کے لیےحیاتیاتی تنوع ایک اہم وسیلہ ہے۔ حیاتیاتی تنوع کا ایک اہم حصہ فصلی تنوع (Crop diversity) ہے جسے زرعی حیاتیاتی تنوع بھی کہا جاتا ہے۔ حیاتیاتی تنوع کو وسائل کا مخزن سمجھا جاتا ہے کیونکہ اسی سےغذا تیار ہوتی ہے، دوا سازی اور آرائش کے سامان حاصل ہوتے ہیں۔ حیاتیاتی وسائل کا یہ تصور حیاتی تنوع کے انحطاط کا ذمہ دار ہے ساتھ ہی ساتھ یہ نئے تصادم کی شروعات بھی ہے جو تقسیم کے قوانین اور قدرتی وسائل کے تصرف سے متعلق ہیں ۔ کچھ اہم معاشی اشیا جو حیاتی تنوع انسانوں کو مہیا کراتی ہے، وہ ہیں :غذائی فصلیں،مویشی ،جنگلات ، مچھلیاں ،ادویاتی وسائل وغیرہ ۔  

حیاتیاتی تنوع کا سائنسی کردار  (Scientfic Role of Biodiversity)

حیاتی تنوع اس لحاظ سے کافی اہم ہے کیونکہ ہر نوع ہمیں اس بات کا کچھ سراغ دے سکتی ہے کہ کس طرح زندگی کی شروعات ہوئی اورکیسے اس کا ارتقا جاری رہے گا ۔ حیاتیاتی تنوع اس بات کو سمجھنے میں مدد کرتا ہے کہ حیات کا فعل کس طرح ہوتا ہے اور ہر نوع ماحولیاتی نظام کی بقا میں کیا کردار ادا کرتی ہے۔ اس نظام میں ہم بھی ایک نوع ہیں۔ یہ سچائی ہم میں سے ہر ایک کو تسلیم کرلینا چاہئے تاکہ لوگ خود زندہ رہیں اور دوسری نوع کو بھی اپنی زندگی جینے دیں۔  
اس بات کا لحاظ کرناہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہر نوع کو ہمارے ساتھ ساتھ زندہ رہنے کا پیدائشی حق ہے۔ اس لئے یہ بات اخلاقی اعتبار سے غلط ہے کہ جان بوجھ کر یعنی نوع کو اس طرح نقصان پہنچایا جائے جس سے کہ وہ معدوم ہوجائیں ۔ حیاتیاتی تنوع کی سطح دوسری نوع (Species)سے ہمارے تعلق کی کیفیت کا ایک عمدہ اشار یہ ہے۔ صحیح معنوں میں حیاتی تنوع کا تصور متعدد انسانی کلچر کا جزولازم ہے۔  

حیاتیاتی تنوع کا اتلاف (Loss of Biodiversity)

پچھلی کچھ دہائیوں میں انسانی آبادی میں اضافہ کی وجہ سے قدرتی وسائل کے صرف کی شرح بڑھ گئی ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں کھپت کی اس شرح نے نوع(Species) اور ان کے طبعی مسکن کے خاتمہ کو تیز کر دیا ہے۔ ٹراپیکی خطے جو دنیا کے کل رقبہ کا صرف ایک چوتھائی حصہ گھیرے ہوتے ہیں اور ان میں دنیاکی انسانی آبادی کا تین چوتھائی حصہ موجود ہے۔زیادہ آبادی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وسائل کا حد سے زیادہ استعمال اور ازالۂ جنگلات عام ہو چکا ہے۔ چونکہ ٹراپیکی بارانی جنگلات میں پوری دنیا بھر میں پائی جانے والی نوع(Species) کا 50 فیصد یہیں موجود ہے اس لیے طبعی مساکن کی بربادی تمام کرۂ حیات کےلیےخطرناک ثابت ہوئی ہے۔  
قدرتی آفات جیسے زلزلہ ،سیلاب ،آتش فشاں کا پھٹنا ، جنگلی آگ وغیرہ زمین کے نباتیہ اور حیوانیہ کو نقصان پہنچاتی ہیں اور اس طرح سے متاثر خطوں کے حیاتیاتی تنوع میں تبدیلی لاتی ہیں۔ حشرات کش ادویہ اور دوسرے آلودگی کرنے والے مادّے جیسے ہائڈروکاربن اور مسموم بھاری دھات ناتواں اور نازک نوع (Species)کو برباد کرتے ہیں۔ وہ نوع جو مقامی طبعی مسکن کی اصل ساکِن نہیں ہوتیں بلکہ اُس ماحولی نظام میں باہر سے لائی جاتی ہیں انہیں بدیسی نوع (Exotic Species) کہا جاتا ہے۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں جو اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ بدیسی نوع کے آنے سے کسی حیاتیاتی کمیونٹی(Biotic Community) کو بے انتہا نقصان پہنچا ہے۔ گزشتہ کچھ دہائیوں میں کچھ جانور جیسے باگھ،ہاتھی ، گینڈا،مگرمچھ ،آبی نیولا اور پرندے وغیرہ کا ان کے سینگ،دانت اورکھال وغیرہ کے لیے ناجائز طور پر بے رحمی سے شکار کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں عضویوں کی بعض اقسام کو مائل بہ معدوم (Endangered) والے درجہ میں شامل کر دیا گیا ہے۔  
بین الاقوامی یونین برائے تحفظ فطرت و قدرتی وسائل (IUCN) نے معدوم ہو جانے کے خطرہ سے دو چار پودوں اور جانوروں کو ان کے تحفظ کے مقصد سے تین درجوں میں تقسیم کیا ہے۔  

زوال آمادہ نوع(Endangered Species)

اس کے اندر وہ نوع آتی ہے جو معدومی (Extinction) کے خطرے سے دوچار ہے۔ آئی یو سی این (IUCN) معدومی کے خطرہ سے دوچار نوع کی شرح فہرست (Rate List) کی شکل میں عالمی سطح پر زوال آمادہ نوع کی خبریں شائع کرتی ہے۔  
2nd

تصویر16.2:لال پانڈا۔معدومی کے خطرے سے دو چار ایک نوع

 زدپذیر نوع (Vulnerable Species)  

اس کے اندروہ نوع آتی ہے جو اُن کی معدومیت کا سبب بننے والے عوامل  
3rd
تصویر16.3:اگستھیا ملائی چوٹی(ہند)پر واقع زنکیر یاسبسٹینی۔سنگین طور پر معدومی کے خطرہ سے دو چار ایک نوع


کے جاری رہنے پر مستقبل میں معدومی کے خطرہ سے دو چار ہو سکتی ہے۔ اس نوع کی بقا کی ضمانت نہیں دی جا سکتی کیونکہ اس کی آبادی کافی حد تک کم ہو گئی ہے۔  

نادر نوع (Rare Species)  

اس نوع (Species)کی آبادی دنیا میں بہت کم ہے۔ یہ محدود علاقہ میں پائی جاتی ہے یا پھر ایک بڑے علاقہ میں چھدرے طور پر تعداد میں بکھری ہوئی ہے۔  

حیاتیاتی تنوع کا تحفظ (Conservation of Biodiversity)

انسانی وجود کے لیے حیاتیاتی تنوع اہم ہے۔ زندگی کی سبھی شکلیں ایک دوسرے سے اتنے قریب سے جڑی ہیں کہ کسی ایک میں پڑنے والا خلل


4th
تصویر16.4:ہمبوڈٹیاڈیکرنس بیڈ۔جنوبی مغربی گھاٹ(ہند)کانہایت نادر درخت

5th
                         تصویر16.5:دنیا کے ماحولیاتی،سرگرم،مقام(Hotspots)

 دوسروں میں عدم توازن کی صورت پیدا کر دیتا ہے۔اگر پودوںاور جانورں کی نوع معدومی کے خطرے سے دوچار ہوجائیں تو یہ ماحول میں انحطاط یا پستی کی وجہ بن جاتی ہیں اور جس سے انسانوں کی اپنی بقا کے لئے خطرہ ہو سکتا ہے۔ لوگوں کو تعلیم دینے کی ضرورت ہے کہ ماحول موافق معمول اپنائیں اور اپنی سرگرمیوں کو اس طرح ترتیب دیں جن سے کہ ہماری ترقی دوسری حیاتیاتی شکلوں کے ساتھ ہم آہنگ اور سہارے کے قابل ہو۔ اس حقیقت کی طرف لوگوں کی جانکاری بڑھ رہی ہے کہ سہارے کے لائق استعمال کے ساتھ تحفظ تبھی ممکن ہے جب مقامی کمیونٹی اور افراد امداد باہمی کے ساتھ معاونت کریں۔ اس کے لیے مقامی سطح پر ادارہ جاتی ساخت کی ترقی ضروری ہے۔ سنگین مسئلہ صرف نوع یا طبعی مسکن کا تحفظ ہی نہیں بلکہ تحفظ کے طریق عمل کو جاری رکھنے کا ہے۔  
حکومتِ ہندنے 155 دیگر دوسرے ملکوں کے ساتھ جون 1992 میں برازیل کے شہر رائیوڈی جنیرو میں منعقد ہ دنیا کی چوٹی کانفرنس (Earth Summit) میں حیاتیاتی تنوع کے عہد نامہ پر دستخط کیےہیں۔ حیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے اس عہد نامہ میں مندرجہ ذیل تدابیر شامل ہیں۔  
(i)  معدومی کے خطرے سے دو چار نوع کی حفاظت کی کوشش کی جانی چاہیے ۔
(ii) معدومی سے بچاؤ کے لیے خاص منصوبہ بندی اور انتظام کی ضرورت ہے۔
(iii) غذائی فصلوں، چارے کی فصلوں،عمارتی لکڑی والے پیڑ ،مویشی جانوروں اور ان ہی کی طرح جنگلی قبیل کی حفاظت ہونی چاہیے۔
(iv) ہر ملک کو جانوروں کے جنگلی قبیل کی پہچان کرنی چاہیے اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہیے ۔
(v) طبعی مساکن جہاں نوع اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں،افزائش نسل کرتے ہیں،آرام کرتے ہیں اور پرورش کرتے ہیں،ان کی دیکھ بھال               اور حفاظت کرنی چاہیے ۔  
(vi)  جنگلی پودوں اور جانوروں کے بین الاقوامی کاروبار کو منضبط کرنا چاہیے۔
قدرتی سرحدوں کے اندر نوع حیوانی مخلوقات کو بچانے ،محفوظ کرنے اور اُن کی افزائش کے لیے حکومتِ ہند نے جنگلی مخلوق حفاظتی ایکٹ   1972 نافذ کیا جس کے تحت قومی پارک اور پناہ گاہیں قائم کی گئیں اورکرۂ حیاتی تحفظ گاہوں(Biosphere reserves)   کا اعلان کیا گیا ۔ ا ن پارکوں کی تفصیل ہندوستان : طبیعی ماحول (NCERT,2006) میں دی گئی ہے۔
کچھ ایسے ممالک ہیں،جو ٹراپکی خطہ میں واقع ہیں، ان میں دنیا کے حیاتیاتی تنوع کی ایک بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔ انہیں تنوع کے مراکز عظمیٰ (Mega diversity centers)کہا جاتا ہے۔ اس طرح کے 12 ممالک ہیں، جن کے نام ہیں۔ میکسِکو ،کولمبیا ، ایکویڈور،پیرو،برازیل ، زائر ،میڈاگاسکر،چین ، ہندوستان ،ملیشیا ،انڈونیشیا اور آسٹریلیا جن میں یہ مراکز واقع ہیں (تصویر 16.1 ) بہت زیادہ زد پذیر علاقوں میں وسائل کو مجتمع کرنے کے لیےبین الاقوامی یونین برائے تحفظ فطرت و قدرتی وسائل (IUCN) نےچند علاقوں کی نشاندہی حیاتیاتی تنوع کے اثر پذیر مقامات(Biodiversity hostspots) کی حیثیت سے کی ہے ۔ اثر پذیر مقام کی تعریف ان میں پائی جانے والی نباتات کے مطابق کی جاتی ہے۔ پودے اہم ہوتےہیں کیونکہ یہ ماحولیاتی نظام کی ابتدائی پیداواری صلاحیت (Productivity) کو طے کرتے ہیں۔ زیادہ تر (لیکن سبھی نہیں) اثر پذیر مقامات خوراک، ایندھن کی لکڑی، فصل والی زمین اور عمارتی لکڑی سے آمدنی حاصل کرنے کےلیےنوع (Species) سے بھر پور ماحولیاتی نظام پر منحصر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پرمیڈاگا سکر میں تقریباً 85 فیصد پودے اور جانور ایسے ہیں جو یہاں کےعلاوہ دنیا میں اور کہیں نہیں پائے جاتے ۔یہاں کے لوگ دنیا کے سب سے غریب لوگوں میں ہیں جن کا انحصار کاٹو اور جلاؤ والی زراعت پر ہوتا ہے۔ امیر ملکوں میں دوسرے اثر پذیر مقامات مختلف قسم کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں ۔ ہوائی جزیروں پر مختلف قسم کے بے نظیر پودے اور جانور پائے جاتے ہیں جو در آمدی نوع (Species) اور زمینی ترقیات کی وجہ سے خطرہ میں ہیں۔

مشق


1۔  کثیر انتخابی سوالات:
  (i)  حیاتیاتی تنوع کا تحفظ ذیل میں سے کس کے لیےاہم ہے؟
                          (الف)جانور                                   (ب)پودے
                        (ج)جانور اور پودے                           (د)تمام عضویے
(ii)  ذیل میں سے پُر خطر نوع(Species) کون سے ہیں؟
        (الف)   دوسروں کے لیے خطرہ ہیں                    (ب) شیر اور باگھ
         (ج)   تعداد میں کثیر ہیں                                (د)   معدومی کے خطرہ سے دو چار ہیں
(iii) قومی پارک اور پناہ گاہیں ذیل میں سے کس مقصد سے قائم کیے گئے ہیں؟
          (الف)   تفریح کےلیے                                  (ب)   شکار کےلیے
           (ج)   پالتو جانوروں کےلیے                             (د)   تحفظ کےلیے
(iv)  حیاتی تنوع بہ افراط ہوتے ہیں:
           (الف)   ٹراپیکی خطوں میں       (ب)   معتدل خطوں میں
            (ج)قطبی خطوں میں                                   (د)بحر اعظموں میں
(v) مندرجہ ذیل میں کس ملک میں ’دنیا کی چوٹی کانفرنس ‘ (Earth Summit) منعقد ہوئی تھی؟
          (الف)   سلطنت متحدہ (UK)                       (ب)برازیل
           (ج)میکسِکو                                              (د)چین
.2 مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 30 الفاظ میں دیں:
  (i) حیاتیاتی تنوع کیا ہے؟
      (ii)  حیاتیاتی تنوع کی مختلف سطحیں کون کون سی ہیں؟
      (iii)  اثر پذیر مقامات (Hotspots) سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
      (iv)  انسانوں کے لیے جانوروں کی اہمیت پر مختصراً بحث کریں؟
      (v)  بدیسی نوع(Exotic Species) سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
.3  مندرجہ ذیل سوالوں کے جوابات تقریباً 150 لفظوں میں دیں۔
   (i)  فطرت کی تشکیل میں حیاتی تنوع کیا کردار ادا کر تا ہے؟
 (ii)
حیاتیاتی تنوع کو نقصان پہنچانے والے ذمہ دار اہم عوامل کون کون سے ہیں؟ ان کو روکنے کے لیے کیا قدم اٹھانا چاہیے؟
  
 پروجیکٹ کا کام  
آپ کا اسکول جس صوبہ میں واقع ہے اس میں پائے جانے والے قومی پارک ،پناہ گاہیں اور کرہ حیاتی تحفظ گاہوں کی فہرست تیار کریں اور ہندوستان کے نقشہ پر ان کے محل وقوع کو دکھائیں۔