Skip to content

Jugrafia_me_Amali_kaam

باب3 


عرض البلد ، طول البلد اور وقت

                     (Latitude, Longitude and Time)


زمین تقریباً ایک کرہ ہے۔ایسا اس حقیقت کی وجہ سے ہے کہ استوائی نصف قطر اور قطبی نصف قطر میں فرق ہے۔اپنے محور پر زمین کی گردش کی وجہ سے خط استوا پر ابھار پیدا ہوتا ہے۔اس لیے زمین کی اصلی شکل نارنگی جیسے کرہ نما کی ہو جاتی ہے۔زمین کی اسی شکل کی وجہ سے اس کے سطحی خط وخال کی وضع کے تعین میں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ اس کرہ پر حوالہ کے لیے کوئی ایسا نقطہ نہیں ہے جہاں سے دوسرے نقاط کی نسبتی مقام کی پیمائش کی جاسکے۔اس لیے مختلف مقامات کے محل وقوع کو معلوم کرنے کے لیے گلوب یا نقشے پر فرضی خطوط کا جال کھینچنا پڑتاہے۔آئیے پتہ لگاتے ہیں کہ یہ خطوط کیا ہیں اور یہ کس طرح کھینچے جاتے ہیں۔
زمین اپنے محور پر مغرب سے مشرق کی طرف اپنی گردش کی بنا پرحوالے کے دوقدرتی نقطے فراہم کرتی ہے یعنی شمالی اور جنوبی قطبین۔یہی جغرافیائی جال(Geographical grid) کی بنیاد بنتے ہیں۔مختلف خط وخال کے محل وقوع کا تعین کرنے کے لیے تقاطعی خطوط کے جال بنائے جاتے ہیں۔یہ جال افقی اورعمودی خطوط کے دو مجموعوں پر مشتمل ہوتا ہے جن کو باالترتیب متوازی خط عرض البلد اورنصف النہار ی خط طول البلد کہا جاتاہے۔
افقی خطوط ایک دوسرے کے متوازی مشرق و مغرب سمت میں کھینچے جاتے ہیں۔ شمالی قطب اور جنوبی قطب کے وسط میں کھینچے گئے خط کو خط استواء کہتے ہیں۔ یہ سب سے بڑا دائرہ ہے جو گلوب کو دوبرابر حصوں میں تقسیم کرتا ہے اسے دائرہ عظیم (Great circle) بھی کہا جاتا ہے ۔ دوسرے تمام متوازی خطوط خط استواء سے قطبین کی طرف خط استواء سے فاصلے کے تناسب میں چھوٹے ہوتے جاتے ہیں اور کرۂ ارض کو دو غیر مساوی حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ان خطوط کو چھوٹے دائرے (Small circles)بھی کہا جاتا ہے۔ مغرب و مشرق میں پھیلے ان فرضی خطوط کو متوازی خطوط عرض البلد (Parallels of latitudes) کہاجاتا ہے۔
شمال و جنوب میں پھیلے عمودی خطوط قطبین کوملاتے ہیں۔ ان کو نصف النھار خطوط طول البلد (Meridians of longitude) کہا جاتا ہے۔یہ خطوط خط استواء پر ایک دوسرے سے سب سے زیادہ دوی پر ہوتے ہیں اور ہر قطب کے نقطے پر ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں۔

عام طورپر عرض البلد اور طول البلد کو جغرافیائی محدد (Geographical coordinates) کہا جاتا ہے کیونکہ یہ خطوط کا ایک ایسا منظم جال فراہم کرتے ہیں جس پر سطح زمین کے مختلف خط وخال کے مقام کی نمائندگی کی جاسکتی ہے۔ ان محددوں کی مدد سے مختلف نقاط کے محل وقوع، فاصلہ اور سمت کا تعین آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔  
اگرچہ گلوب پر خط عرض البلد اور خط طول البلد کی لامتناہی تعداد کھینچی جاسکتی ہے لیکن ان میں سے صرف منتخب تعداد کو ہی نقشے پر کھینچا جاتا ہے۔عرض البلد اور طول البلد کی پیمائش ڈگری (0 )میں کی جاتی ہے کیونکہ یہ زاویائی دوریوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ہر ڈگری کو 60 منٹ (’) اور ہر منٹ کو 60 سکنڈ (“)میں مزید تقسیم کیا جاتا ہے۔

فرہنگ

متوازی خطوط عرض البلد (Paallels of latitude) :خطوط عرض البلد ، خط استواء کے شمال اور جنوب کی زاویائی فاصلوں کو ڈگری ،منٹ اور سکنڈ میں بتا تا ہے۔ عرض البلدکے خطوط کو متوازی خطوط (Parallels) کہتے ہیں۔
نصف النہاری خطوط طول البلد   (Meridians of longitude): اولین خط دائرہ نصف النہار(Prime Meridian) گرین وچ(Greenwich) سے مشرق ومغرب کی زاویائی فاصلوں کو ڈگری منٹ اور سکنڈ میں بتانے والے خطوط کو نصف النہاری خطوط طول البلد کہا جاتا ہے۔طول البلدکے خطوط کو نصف النہار (Meridians)کہتے ہیں۔

خط عرض البلد  

سطح زمین پر کسی جگہ کا عرض البلد خط استواء سے شمال یا جنوب میں اس کی دوری ہے جس کی پیمائش اس جگہ کے نصف النہار کے ساتھ زمین کے مرکز سے ایک زاویہ کی شکل میں کی جاتی ہے۔یکساں عرض البلاد کے مقامات کو ملانے والے خطوط کو متوازی خط (Parallel) کہتے ہیں۔خط استوا کی قدرصفر ڈگری ( 0o ) ہے اور قطبین کا عرض البلد 90o شمال اور 90o جنوب ہے (شکل3.1 ) اگر ایک ڈگری کے وقفے پر متوازی خط عرض البلد کھینچے جائیں تو شمالی اور جنوبی ہرایک نصف کرہ میں 89 متوازی خطوط ہوں گے۔اس طرح خط استواء کو شامل کرکے کھینچے گئےمتوازی خطوط کی کل تعداد 179ہوگی۔خط استواء کے شمال یا جنوب میں کسی مقام یا خط وخال کے محل وقوع پر منحصر حرف N یا S عرض البلدی قدر کے ساتھ لکھا جاتا ہے۔  
اگر زمین ایک مکمل کرہ ہوتی تو ایک عرض البلدکے ایک ڈگری کی لمبائی(ایک نصف النہار کا ایک ڈگری قوس) ایک مستقلہ قدر ہوتی یعنی زمین پر ہر جگہ 111 کلومیٹر کی دوری ہوتی۔یہ لمبائی تقریباً اسی دوری کے برابر ہے جتنی کہ خط استواء پر ایک ڈگری طول البلد کی دوری لیکن صحیح بات یہ ہے کہ خط استواء سے قطبین کی جانب عرض البلد ہر ایک کی ڈگری کی لمبائی میں تھوڑی تھوڑی بدلتی جاتی ہے۔خط استواء پر اس کی لمبائی 110.6 کلومیٹر ہوتی ہے تو قطبین پر یہ لمبائی 111.7 کلومیٹر ہے۔کسی جگہ کے عرض البلد کا تعین سورج کی بلندی یا قطب تارے کی مدد سے کیاجاسکتا ہے۔
1
شکل3.1متوازی خط عرض البلد

خطوط عرض البلد کی خاکہ کشی  

خطوط عرض البلد کو کیسے کھینچا جائے؟ ایک دائرہ کھینچیے اور اس کے درمیان سے ایک افقی خط کھینچ کر اسے دومساوی نصف حصوں میں تقسیم کردیجیے۔یہ خط خط استواء کی نمائندہ ہے۔اس دائرے پر ایک چاند اس طرح رکھیے کہ اس کے 0o اور 180o کا خط کا غذ پر خط استواء سے مل جائے۔اب اگر 20o جنوبی عرض البلد کو کھینچنا ہے تو خط استواء سے 20o کے زاویہ پر دائرہ کے نچلے نصف میں دونشان مشرق اور مغرب میں لگا ئیے جیساکہ شکل 3.2 میں دکھایا گیا ہے۔زاویہ کا بازودائرے کو دونقطوں پر کاٹے گا۔ان دونوں نقطوں کو خط استواء کے متوازی ایک خط سے ملائیے ۔ یہی خط 20o جنوبی عرض البلد ہوگا۔

2
شکل3.2متوازی خط عرض البلد کی خاکہ نویسی

خطوط طول البلد

عرض البلد کے خطوط دائرے ہیں لیکن طول البلد کے خطوط نصف دائرے ہیں جو قطبین پر ملتے ہیں۔اگر طول البلد کے مخالف خطوط ملادیے جائیں تو ایک مکمل دائرہ بن جاتا ہے لیکن ان کی قدریں دونصف النہار کی طرح الگ الگ مانی جاتی ہیں۔طول البلد کے خطوط خط استواء پر زاویہ قائمہ بناتے ہیں۔متوازی خطوط کے برعکس طول البلدکے سارے خطوط لمبائی میں برابر ہوتے ہیں۔عددی نشان لگا نے کے لیے وہ خط طول البلد جوگرین وچ رصدگا ہ (لندن کے نزدیک ) سے گزرتا ہے اسے ایک بین الاقوامی مفاہمت کے تحت اولین دائرہ نصف النہار (Prime Meridian) مان لیا گیا ہے اور اسے0o کی قدر دی گئی ہے۔
کسی جگہ کا طول البلد اولین دائرہ نصف النہار کے مشرق یا مغرب میں اس کی زاویائی فاصلہ ہے ۔اس کی پیمائش بھی ڈگری میں کی جاتی ہے۔ طول البلدکے خطوط اولین دائرہ نصف النہار سے مشرق کی طرف اور مغرب کی طرف 0o سے 180o تک ہوتے ہیں (شکل (3.3۔اولین دائرہ نصف النہار سے مشرق کی طرف والازمین کا حصہ مشرقی نصف کرہ اور مغرب کی طرف والا زمین کاحصہ مغربی نصف کرہ کہلاتا ہے۔
3
شکل3.3نصف النہاری خطوط طول البلد

خطوط طول البلد کی خاکہ کشی  

  خطوط طول البلد کو کیسے کھینچا جائے؟ ایک دائرہ کھینچیے جس کا مرکز شمالی قطب کی نمائندگی کرتا ہو۔ اس کا محیط خط استواء کا نمائندہ ہے۔ دائرہ کے مرکز سے ایک عمودی خط کھینچیے جو شمالی قطب سے ہو کر گزرے گا ۔یہ عمودی خطo0اور180oنصف النہار کی نمائندگی کرتا ہے جو قطب شمالی پر ملتے ہیں (شکل (3.4 ۔
جب آپ کوئی نقشہ دیکھتے ہیں تو مشرق آپ کے دائیں طرف اور مغرب بائیں طرف ہوتا ہے۔ لیکن طول البلد کھینچنے کے لیے تصور کریں کہ آپ شمالی قطب پر کھڑے ہیں جو شکل 3.4 میں دائرہ کا مرکز ہے۔اب آ پ غور کریں کہ اس حالت میں مشرق اور مغرب کی نسبتی سمتیں الٹ گئی ہیں۔ اب مشرق آپ کے بائیں طرف ہے جب کہ مغرب آپ کے دائیں طرف ہے اب 45o مشرق اور مغرب کو کھینچیں جیسا کہ شکل 3.5 میں دکھا یا گیا ہے۔ اس کے لیے اپنے چاندے (Protractor) کو عمودی خط پر اس طرح رکھیں کہ یہ0o۱ور180o نصف النہار کی سیدھ میں ہو اور تب 45o کو دونوں طرف ناپ لیں جو45o مشرقی نصف النہار اور 45oمغربی نصف النہار کو بالترتیب آپ کے بائیں ا ور دائیں جانب بتائے گا۔ یہ ڈائی گرام زمین کی ظاہری شکل کی نمائندگی کرتا ہے اگر اسے ہم براہ راست قطب شمالی سے دیکھتے ہیں۔
4
شکل3.4 0o اور 180oکا نصف النہار قطب شمالی پر ملتا ہے

طول البلد اور وقت  

ہم سب جانتے ہیں کہ زمین اپنے محور پر مغرب سے مشرق کی طرف گھوم رہی ہے۔ جس  کی بنا پر سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور مغرب میں غروب ہوتا ہے۔مین اپنے محور پر ایک پورا چکر یا 360o مکمل کرنے کے لیے 24 گھنٹے لیتی ہے۔ چوں کہ 180o کے خطوط طول البلد اولین دائرہ نصف النہار کے مشرق یا مغرب میں دونوں طرف پڑتے ہیں اس لیے سورج کو مشرقی یا مغربی نصف کرہ کوطے کرنے میں12 گھنٹے لگتے ہیں۔دوسرے لفظوں میں سورج ایک گھنٹے میں 15o طول البلد طے کرتا ہے یا ایک ڈگری طول البلد کوطے کرنے میں اسے4 منٹ کا وقت لگتا ہے۔مزید یہ بھی نوٹ کریں کہ جب ہم مغرب سے مشرق کی طرف چلتے ہیں تووقت کم ہوتا جاتاہے مشرق سے مغرب کی طرف بڑھتے جانے پر وقت زیادہ ہونے لگتا ہے۔
5
شکل 3.5طول البلد کے نصف النہاری خطوظ

وقت کی جس شرح پر سورج کسی طول البلدکی ڈگری کوطے کرتا ہے اسے اولین نصف النہار (0o طول البلد) کے وقت کی مناسبت سے کسی علاقے کے مقامی وقت کومعلوم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ آئیے درج ذیل مثالوں سے ہم اولین نصف النہارکی مناسبت سے وقت معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مثال1:  90o مشرقی طول البلدپرواقع تھمپو(بھوٹان )کامقامی وقت معلوم کیجیےجب کہ گرین وچ (0oطول البلد) پر 12.00 بجے دوپہرہے۔
بیان : اولین دائرہ نصف النہار کے مشرق میں وقت کے بڑھنے کی شرح ہر طول البلد پر 4منٹ ہے۔
حل : گرین وچ اور تھمپو کے درمیان فرق90o = طول البلد
کل وقت کا فرق   360=4×90 منٹ
360/60 = گھنٹے6 = گھنٹے
تھمپوکا مقامی وقت گرین وچ سے 6 گھنٹے زیادہ ہوگا یعنی تھمپو میں اس وقت شام 6.00 بجے کا وقت ہوگا۔
مثال 2 : 90o مغربی عرض البلد پر واقع نیو اور لیئنس (اکتوبر 2005 کے کٹرینا طوفان میں سب سے متاثر جگہ ) کا مقامی وقت دریافت کیجیے جب گرین وچ (0oطول البلد) پر دوپہر کے 12:00 بجے ہیں۔
بیان : اولین دائرہ نصف النہار کے مغرب میں وقت کے گھنٹے کی شرح ہر طول البلد پر 4 منٹ ہے۔  
حل : گرین وچ اور نیو اورلیئنس کے درمیان فرق 90o طول البلد  
کل وقت کا فرق 360=4×90o= منٹ
÷36/60 = گھنٹے 6 = گھنٹے
نیواور نیواور لیئنس کا مقامی وقت گرین وچ کے وقت سے 6 گھنٹے کم ہوگا
یعنی نیواور لیئنس میں صبح کے 6:00 بجے ہوں گے۔

  جدول 3.1 : متوازی خطوط عرض البلد اور نصف النہار ی خطوط طول البلدکے درمیان موازنہ



نمبر شمار     


1
2
3
4
5
6




متوازی خطوط عرض البلد
متوازی خط عرض البلدخط استواء کے شمال یا جنوب میں کسی نقطے کی زاویائی فاصلہ ہے جس کی پیمائش ڈگری میں جاتی ہے
تمام خطوط عرض البلد خط استواء کے متوزی ہوتے ہیں  
گلوب پر تمام خطوط عرض البلد دائروں کے بطور ہوتے ہیں  
دو خطوط عرض البلد کا درمیانی فاصلہ تقریباً 111کلو میٹر ہے ۔
0ºعرض البلد سے مراد خط استواء اور 90ºعرض البلد سے مراد قطبین ہے ۔
خط استواء سے قطبین تک خطوط عرض البلد کا استعمال حرارتی منطقوں کے تعین کے لیے کیا جاتا ہے یعنی 0ºسے 23½ºشمال اور جنوب کے درمیانی خطے کو منطقۂ حارہ، 23½ºسے 66½شمال اور جنوب کے درمیانی خطوں کو منطقۂ باردہ کہتے ہیں ۔



نصف النہاری خطوط طول البلد


نصف النہاری خط طول البلد خط استواء کے ساتھ ڈگری میںپیمائش کی گئی زاویائی فاصلہ ہے۔ اسے گرین وچ (0º) کے مشرق اور مغرب میں 0º سے 180ºتک ناپاجاتا ہے۔
تما م خطوط طول البلد قطبین پر آپس میں مل جاتے ہیں ۔
تمام خطوط طول البلد دائروں کے بطور ہیں جو قطبین سے ہو کر گزرتے ہیں ۔
دو خطوط طول البلد کا درمیانی فاصلہ خط استواء پر سب سے زیادہ ہے (111.3کلومیٹر)اور قطبین پر سب سے کم ہے (0کلو میٹر )۔وسط میں یعنی 45ºعرض البلد پر ان کا درمیانی فاصلہ 79کلو میٹر ہے ۔
خطوط طول البلد کی کل تعداد 360ºہے ۔اولین خط نصف النہار کے مشرق میں 180ºاور اس کے مغرب میں 180º۔
خطوط طول البلد کا استعمال اولین خط نصف النہار کے وقت کے حوالے سے مقامی وقت کا تعین کیا جاتا ہے ۔







اسی طرح دنیا کی کسی بھی جگہ کا وقت معلوم کیا جاسکتا ہے۔ تاہم کسی ملک کے علاقائی حدود میں حتی المقدور وقت کی یکسانیت برقرار رکھنے کے لیے ، ملک کے مرکزی طول البلد کو معیاری طول البلد مان لیا جاتا ہے اور اس کا مقامی وقت پورے ملک کے لیے معیاری وقت کے بطور مانا جاتا ہے۔ معیاری نصف النہار اس طورپرچنا جاتا ہے کہ وہ 150o یا 7o30' سے مکمل تقسیم ہوجائے تاکہ اس کے معیاری وقت اور گرین وچ کے اوسط وقت کے درمیان فرق کو ایک یا نصف گھنٹے کے مضرب(Multiply) میں بیان کیا جاسکے۔
بھارت کے معیاری وقت کی پیمائش82o30' خط طول البلد سے کی جاتی ہے جومرزاپور سے گزرتا ہے اس لیے بھارت کا معیاری وقت(IST)گرین وچ کے اوسط وقت (GMT) سے 5:30 گھنٹے آگے ہے(5=4×82o30/60 گھنٹے 30 منٹ)۔اسی طرح دینا کے تمام ممالک اپنے قلم رو کے اندر معیاری خط طول البلد کا انتخاب کرتے ہیں تاکہ اپنی انتظامی سرحدوں کے اندر وقت کا تعین کرسکیں۔جن ممالک کی مشرقی ومغربی وسعت کافی بڑی ہے وہ ایک سے زیادہ معیاری خط طول البلد کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ان کے یہاں ایک سے زیاد ہ وقتی منطقہ(Time Zone) ہوتا ہے جیسے روس ، کناڈا اور ریاستہائے متحدہ امریکہ۔ہم پوری دنیا 24اہم وقتی منطقات میں منقسم ہے (شکل 3.6 )

6
شکل3.6دنیا کے اہم وقتی خطے

بین الاقوامی خط تاریخ  International Date Line  


چوں کہ دنیا 24 وقتی منطقات میں منقسم ہے، اس لیے ایک ایسی جگہ ہونی چاہیے جہاں دنوں میں فرق کیا جاسکے،کوئی ایسی جگہ جہاں زمین پردن حقیقت میں’’شروع‘‘ہوتا ہے۔ 180o طول البلد کا خط تقریباً وہ جگہ ہے جہاں سے بین الاقوامی خط تاریخ گزرتی ہے۔اس طول البلد پر وقت 0o طول البلد سے ٹھیک 12 گھنٹے کے فرق پر ہوتا ہے،اس بات کا خیال کیے بغیر کہ کوئی اولین دائرہ نصف النہار سے مغرب کی طرف جاتا ہے یا مشرق کی طرف۔ہم جانتے ہیں کہ اولین دائرہ نصف النہار سے مشرق کی طرف وقت زیادہ ہوتا ہے اور مغرب کی طرف کم ہو تا ہے۔اس طرح اس شخص کے لیے جو اولین دائرہ نصف النہار سے مشر ق کی طرف چلتا ہے تو 0o طول البلد کے وقت کی بہ نسبت 12 گھنٹے کم ہوگا۔اور دوسرے شخص کے لیے جو مغرب کی طرف جاتا ہواولین دائرہ نصف النہار سے وقت 12 گھنٹے زیادہ ہوگا۔مثال کے طورپر جو شخص منگل کے دن مشرق کی طرف چل رہا ہے بین الاقوامی خط تاریخ کو پارکرنے پر بدھ شمار کرے گا اور دوسرا شخص جو اپنا سفر اسی دن شروع کررہا ہے لیکن مغرب کی طرف جارہا ہے تو بین الاقوامی خط تاریخ کو پار کرنے پرپیر شمار کر ے گا۔

مشق


درج ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 30 الفاظ میں دیں:
(i) زمین پر حوالہ کے لیے دوقدرتی نقطے کون سے ہیں؟
(ii) دائرہ عظیم کیا ہے؟
(iii)  محدد کیا ہیں؟
(iv)  سورج مشرق سے مغرب کی طر ف چلتا ہوا کیوں نظرآتا ہے؟
(v)  مقامی وقت سے کیا مراد ہے؟
عرض البلد اور طول البلد میں فرق واضح کیجیے:
عملی کام  
 اٹلس کی مدد سے مندرجہ ذیل مقامات کا محل وقوع معلوم کیجیے اور ان کا عرض البلد اور طول البلد لکھیے:
مقام عرض البلد طول البلد
(i) ممبئی
(ii)  ولادی ووستوک
(iii) قاہرہ
(iv)  نیویارک
(v) اوٹاوہ
(vi) جنیوا
(vii) جوہانس برگ
(viii) سڈنی  
اگراولین دائرہ نصف النہار پر صبح کے10:00 بجے ہیں تو درج ذیل شہروں میں کیا وقت ہوگا؟
(i)    دہلی
(ii)     لندن  
(iii) ٹوکیو
(iv) پیرس
(v)     قاہرہ  
(vi) ماسکو