(ج)گلوبی خصوصیات:
جیساکہ پہلے تذکرہ کیا گیا ہے کہ رقبہ ،شکل ،سمت اور فاصلہ چار ایسی گلوبی خصوصیات ہیں جنہیں نقشے پر محفوظ کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن کسی بھی پروجیکشن میں یہ چاروں خصوصیات ایک ساتھ نہیں پائی جاتی ۔اس لیے کسی خصوصی ضرورت کے تحت پروجیکشن بنایا جاسکتا ہے تا کہ مطلوبہ خصوصیات کوقائم رکھا جاسکے۔اس طرح گلوبی خصوصیات کی بنیاد پر پروجیکشن کو مساوی الرقبہ(Equal area)صحیح الشکل(Orthomorphic)،سمت الراسی(Azimuthal) اور مساوی الفاصلہ (Equi-distant) پروجیکشن میں منقسم کیا جاسکتا ہے۔ مساوی الرقبہ پروجیکشن کو صحیح الرقبہ (Homolographic) پروجیکشن بھی کہاجاتا ہے۔ یہ وہ پروجیکشن ہے جس میں زمین کے مختلف حصوں کے رقبے کی نمائندگی صحیح طورپر کی جاتی ہے۔ صحیح الشکل پروجیکشن وہ ہوتا ہے جس میں مختلف علاقوں کی شکلوں کو صحیح طورپرپیش کیا جاتا ہے۔ عام طورپر شکل کورقبے کی صحت پر برقرار رکھا جاتا ہے۔ سمت الراسی یا صحیح السمتی (True-bearing) پروجیکشن وہ ہوتا ہے جس میں مرکز سے تمام نقاط کی سمت کو صحیح طور پرپیش کیاجاتا ہے۔ مساوی الفاصلہ (Equi-distant) یا صحیح پیمانی (True-scale) پر وجیکشن وہ ہوتا ہے جس میں سے فاصلہ یا پیمانے کو صحیح طورپر برقراررکھا جاسکے۔بہر کیف ایسا کوئی پروجیکشن نہیں جس میں پورے طور پر پیمانہ کو ہر جگہ جگہ درست رکھا جا سکے۔اسی لیے اسے ضرورت کے مطابق صرف کچھ منتخب خطوط متوازی اور نصف النہار ی خطوط پر ہی برقرار رکھا جاسکتا ہے ۔
(د) منبع روشنی: منبع روشنی کے محل وقوع کی بنیا دپر پروجیکشن کو نومونی(Gnomonic) ، اسٹیر یوگرافک (Stereographic) اور راست خطی (Orthographic) پروجیکشن میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ روشنی کو گلوب کے مرکز پر رکھ کر نومونی پروجیکشن بنا یا جاتا ہے۔ اسٹیر یو گرافک پروجیکشن کی تشکیل اس وقت کی جاتی ہے جب روشنی کے منبع کو گلوب کے نزدیک اس نقطہ پر رکھتے ہیں جو گلوب پر رکھی ہموار سطح کے قطری طورپر مخالف ہوتا ہے۔ راست خطی پروجیکشن اس وقت بنا یا جاتا ہے جب روشنی گلوب سے لامتنا ہی فاصلہ پر ہوتی ہے اور گلوب اور ہموار سطح کے ملنے والے نقطہ کے مخالف سمت ہوتی ہے۔
کچھ منتخب پروجیکشن کی تشکیل
(الف) ایک معیاری خط متوازی کے ساتھ مخروطی پروجیکشن
(Conical projetion with one standard parallel)
مخروطی پروجیکشن وہ پروجیکشن ہے جس پر گلوب کے خطوطی جال کو قابل تکمیل مخروط پر کھینچا جاتا ہے اور یہ مخروط گلوب کے جس خط عرض البلد کو چھوتا ہے اسے معیاری خط متوازی کہا جاتا ہے ۔تصویر 4.3 کو دیکھیں جس میں مخروط گلوب پر واقع خط AB کو چھو رہا ہے اس لیے اسے معیاری خط متوازی کے بطور مان لیا گیا ہے۔اس معیاری خط متوازی کے دونوں طرف متوازی خطوط کی لمبائی بگڑی حالت میں ہوتی ہے۔
مثال:
10سے لےکر 70ºشمالی عرض البلد اور 10º سے 130º مشرقی طول البلد کے درمیان واقع علاقے کے لیے ایک معیاری خط متوازی کے ساتھ مخروطی پروجیکشن بنائیں جس کا پیمانہ 1:250,000,000 ہے اور عرض البلدی وطول البلدی وقفہ 10º ہے۔
تحسیب
کم کردہ زمین کانصف قطر2.56 = 640,000,000/250,000,000 cm
معیاری خط متوازی 40º شمال (10, 20, 30, 40, 50, 60, 70)
مرکزی خط نصف النہار ہے70º (10, 20, 30, 40, 50, 60, 70, 80, 90, 100, 110, 120, 130)
تشکیل:
(i) 2.56 سینٹی میٹر نصف قطر کا ایک دائرہ یا چوتھا ئی دائرہ کھینچیے جس پر زاویہ 10ºبطورCOE وقفہ اور زاویہ BOB اور AOD 40º کے معیاری خط متوازی کے بطوردکھا یا جاسکے۔
(ii) ایک خط مماس B سے Pتک اور اسی طرحAسے P تک اس طرح ڈالا جائے کہ ABاور BP گلوب کو چھونے والے مخروط کے دوبازو(sides) بن جائیں اور اس طرح وہ 40º شمال پر معیاری خط متوازی بنائیں۔
(iii) قوسی فاصلہE C خطوط متوازی کے درمیان وقفہ کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس قوسی فاصلہ کو لے کر ایک نصف دائرہ کھینچیں۔
(iv) OP X-Y سے OB پر کھینچا گیا عمود ہے۔
(v) دوسرا خط N-S بنالیں جس پر BPکے فاصلے کو معیاری خط متوازی کی حیثیت سے کھینچا جاسکے ۔ یہ خط N-S مرکزی خط نصف النہارہوجاتی ہے
(vi) دیگر خطوط متوازی کو مرکزی خط نصف النہار پر قوسی فاصلہ CEسے ناپ کرکھینچاجاتا ہے۔
(vii) X-Yکے فاصلے سے 40º کے معیاری خط متوازی پر نشان لگا یا جاتا ہے تاکہ دیگر خطوط نصف النہار کو کھینچا جاسکے۔
(vii ان نقاط سے قطب کو ملاتے ہو ئے خط مستقیم کھینچے جاتے ہیں۔
خصوصیات
1۔ تمام خطوط متوازی ہم مرکزی دائروں کے قوسین ہوتے ہیں اور مساوی فاصلے پر ہوتے ہیں۔
2۔ تما م نصف النہاری خطوط خط مستقیم ہوتے ہیں اور قطب پر ملتے ہیں۔ نصف النہاری خطوط متوازی خطوط کو زاویہ قائمہ پر کاٹتے ہیں۔
3۔ پیمانہ تمام نصف النہاری خطوط پر صحیح ہوتا ہے یعنی خط طول البلد پر فاصلے درست ہوتی ہیں۔
4۔ قطب کی نمائندگی دائر ہ کے ایک قوس سے کی جاتی ہے۔
5۔ معیاری خط متوازی پر پیمانہ صحیح ہوتا ہے اور اس خط سے فاصلے بڑھنے پر پیمانہ صحیح نہیں رہتا بلکہ بڑھ جاتا ہے۔
6۔ قطب کی جانب نصف النہار ی خطوط ایک دوسرے سے قریب ہوتے جاتے ہیں ۔
7۔ یہ پروجیکشن نہ تو مساوی الرقبہ ہے اور نہ ہی صحیح الشکل

شکل 4.3ایک معیاری خط متوازی کے ساتھ مخروطی پروجیکشن
خامیاں
1۔ یہ پروجیکشن عالمی نقشے کے لیے مناسب نہیں ہے کیونکہ معیاری خط متوازی کے مخالف نصف کرہ میں سب سے زیادہ بگاڑ بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔
2۔ معیاری خط متوازی والے نصف کرہ میں بھی بڑے علاقوں کے لیے یہ پروجیکشن مناسب نہیں ہے کیونکہ خط استواء سے قطبین کی جانب زیادہ خرابی آنے لگتی ہے۔
استعمال
1۔ عام طورپراس پروجیکشن کا استعمال وسطی عرض البلادکے علاقوں کو دکھانے کے لیے کیاجاتا ہے جو محدود عرض البلدی اورزیادہ طول البلدی وسعت کے علاقے ہوں۔
2۔ زمین کی ایک لمبی پتلی پٹی جو معیاری خط عرض البلد کے متوازی مشرق ،مغرب میں پھیلی ہو اس پروجیکشن پر درستگی کے ساتھ دکھائی جاسکتی ہے
3۔ سمت کے ساتھ معیاری خط متوازی کو ریلوے لائن ، سڑک ، تنگ ندی گھاٹیوں اور بین الاقوامی سرحدوںکو دکھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
4۔ یہ پروجیکشن کنیڈین پیسیفک ریلوے ، ٹرانس سائیبرین ریلوے ، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور کناڈا کے درمیان بین الاقوامی سرحد اور نرمداگھاٹی کو دکھانے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
(ب)اسطوانہ نما مساوی الرقبہ پروجیکشن
(Cylindrical Equal Area projection)
اسطوانہ نما مساوی الرقبہ پروجیکشن کو لیمبرٹ پروجیکشن(Lamberts Projection) بھی کہاجاتا ہے۔ یہ پروجیکشن متوازی شعاعوں کے ساتھ گلوب کی سطح کو خط استواء پر مس کرنے والے اسطوانہ پر ڈال کر بنایا جاتا ہے ۔عرض البلدی اور طول البلدی دونوں خطوط خط مستقیم ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کو زاویہ قائمہ پر کاٹتے ہیں۔ اس پروجیکشن میں قطبین کوبھی خطہ استواء کے برابردکھا یا جاتا ہے اس لیے اونچے عرض البلدوں والےعلاقوں کی شکل کافی بگڑجاتی ہے۔
مثال
پوری دنیا کے لیے اسطوانہ نما مساوی الرقبہ پروجیکشن بنائیے جس کے نقشے کا پیمانہ 1:300,000,000 ہے اور عرض البلدی اور طول البلدی وقفہ 15ºہے۔
تحسیب
کم کردہ زمین کانصف قطر2.1 =640,000,000/300,000,000 =(R) سینٹی میٹر
خط استواء کی لمبائی=(2pR) 13.2 =2×22×2.1/7 سینٹی میٹر ÷
خط استواء پر وقفہ 0.55 = 13.2×15º/360º= سینٹی میٹر
تشکیل
(1) 2.1سینٹی میٹر نصف قطرکا ایک دائرہ کھینچیے۔
(2) 75º,60º,45º,30º,15º اور 90º کے زاویوں کا نشان شمالی اور جنوبی دونوں نصف کروں میں لگا ئیے۔
(3) 13.2 سینٹی میٹرکا خط کھینچیے اور اسے 24 برابر حصوں میں 0.55 سینٹی میٹر کی دوری کے اعتبار سے بانٹ دیجیے۔ یہ لائن خط استواء کی نمائندگی کرتی ہے ۔
(4) خط استواء کے عمود پرایک خط اس نقطہ پر کھینچیے جہاں 0º اس دائر ے کے محیط پر ملتا ہے۔
(5) اس عمودی خط سے متوازی خطوط کو خط استواء کی لمبائی کے برابر کھینچیے ۔
(6i) پروجیکشن کو ذیل میں دی گئی شکل 4.4 کے مطابق مکمل کیجیے۔
شکل4.4اسطوانہ نما مساوی الرقبہ پروجیکشن
خصوصیات
1۔ تمام متوازی ونصف النہاری خطوط خط مستقیم ہوتے ہیں جوایک دوسرے کو زاویہ قائمہ پر کاٹتے ہیں۔
2۔ قطبین کا خط متوازی بھی خط استواء کے برابرہوتا ہے۔
3۔ صرف خط استواء پر پیمانہ صحیح ہوتاہے۔
خامیاں
1۔ قطبین کی طرف جانے پر علاقوں کی شکل زیادہ بگڑنے لگتی ہے۔
2۔ یہ پروجیکشن غیر مساوی الشکل ہے۔
3۔ رقبے کی درستگی کوشکل میں بگاڑ کی قیمت پر بر قراررکھا جاتا ہے۔
استعمال
1۔ یہ پروجیکشن ان علاقوں کے لیے زیادہ موزوں ہے جو 45º شمال اور جنوب کے درمیان ہی واقع ہوتے ہیں۔
2۔ یہ پروجیکشن منطقہ حارہ کی فصلوں جیسے چاول ، چائے ، کافی ، ربر اور گنے کی تقسیم کو دکھانے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
(ج) مرکیڑکاپروجیکشن (Mercator's Projection)
اس پر وجیکشن کی تشکیل ایک ڈچ نقشہ نویس مرکیڑجیرارڈس کارمیرنے 1569 میں کی تھی۔ یہ پروجیکشن ریاضی کے فارمولوں پر مبنی ہے۔س لیے ایک صحیح الشکل پروجیکشن ہے جس میں شکل کی درستگی کو برقرار رکھا جاتا ہے۔ متوازی خطوط کے درمیان فاصلہ قطبین کی طرف بڑھتی جاتی ہے۔اسطوانہ نما پروجیکشن کی طرح متوازی اور نصف النہاری خطوط ایک دوسرے کو زاویہ قائمہ پر کاٹتے ہیں۔ اس میں درست سمت کو دکھانے کی صفت بھی ہوتی ہے۔پروجیکشن پردونقطوں کو ملانے والا خط مستقیم ایک مستقل سمت کو دکھاتاہے۔ اس خط کو لوکسوڈروم یا یک میلانی خط (Rhumb line) کہتے ہیں۔
مثال 1:250,000 کے پیمانے اور 15º کے وقفہ پر دنیا کے نقشے کے لیے ایک مرکیٹرپروجیکشن بنائیے۔
تحسیب
کم کردہ زمین کانصف قطر1" =250,000,000/250,000,000 =(R) انچ
خط استواء کی لمبائی 6.28" =1×22×2/7 = (2pR) انچ
خط استوا ء پروقفہ 0.26"=6.28×15º/360º= انچ
تشکیل
(i) ایک 6.28" انچ لمبا EQ خط کھینچیے جو خط استواء کا نمائندہ ہے۔
(ii) اسے 24 مساوی حصوں میں تقسیم کیجیے ۔ہرحصے کی لمبائی کا تعین درج ذیل فارمولہ پرکیجیے:
خط استواء کے لمبائی × وقفہ360/
(iii) عرض البلد کے لیے فاصلہ کا حساب ذیل میں دیے گئے جدول کے مطابق لگائیے:
عرض البلد دوری
0.265"=1×0.265 15º انچ
0.549"=1×0.549 30ºانچ
0.881"=1×0.881 45ºانچ
1.317"=1×1.317 60ºانچ
2.027"=1×2.027 75ºانچ
(iv) پروجیکشن کوشکل 4.5 کے مطابق مکمل کیجیے۔
شکل 4.5مرکیٹر پروجیکشن
خصوصیات
1۔ تمام متوازی اور نصف النہاری خطوط خط مستقیم ہوتے ہیں جوایک دوسرے کو زاویہ قائمہ پرکاٹتے ہیں۔
2۔ تمام متوازی خطوط کی لمبائی یکساں ہوتی ہے جوخط استواء کی لمبائی کے برابر ہوتی ہے۔
3۔ تمام نصف النہاری خطوط کی لمبائی یکساں ہوتی ہے اوریہ یکساں فاصلے پر ہوتے ہیں لیکن گلوب پراپنے نظیری نصف النہاری خطوط سے بڑے ہوتے ہیں۔
4۔ متوازی خطوط کے درمیان فاصلہ قطبین کی طرف بڑھتا جاتا ہے۔
5۔ صرف خط استواء پر پیمانہ درست ہوتا ہے کیونکہ اس کی لمبائی گلوب کے خط استواء کے برابر نقشے ہوتی ہے۔ لیکن دوسرے متوازی خطوط گلوب کے متوازی خطوط سے زیادہ لمبے ہوتے ہیں، اس لیے ان پر پیمانہ صحیح نہیں ہوتا ۔ مثال کے طورپر نقشے پر 30º کا خط متوازی گلوب پر اسی قدر کے خط متوازی سے 1.154 گنا لمبا ہوتا ہے۔
6۔ علاقہ کی شکل برقرار رہتی ہے لیکن اونچے عرض البلدوں پر بگڑجاتی ہے۔
7۔ خط استواء کے نزدیک چھوٹے ممالک کی شکل جوں کی توں محفوظ رہتی ہے لیکن قطبین کی طرف یہ بڑھنے لگتی ہے۔
8۔ یہ ایک سمت الراسی اظلال (Azimuthal Projection) ہے۔
9۔ یہ ایک صحیح الشکل (Orthomorphic) پروجیکشن بھی ہے کیونکہ نصف النہاری خطوط پر پیمانہ متوازی خطوط کے پیمانے کے برابر ہوتا ہے۔
خامیاں:
1۔ اونچے عرض البلدوں پر متوازی اورنصف النہاری خطوط کا پیمانہ بگڑنے لگتا ہے ۔ اس کی وجہ سے قطبین کے نزدیک واقع ممالک کا سائز بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ مثال کے طورپر گرین لینڈ کا سائز ریا ستہائے متحدہ امریکہ کے برابرہوجاتا ہے جب کے حقیقت یہ ہے کہ گرین لینڈ ریاستہائے متحدہ امریکہ کا دسواں حصہ ہے۔
2۔ اس پروجیکشن میں قطبین کونہیں دکھا یا جاسکتا کیونکہ 90º کے متوازی خطوط اور ان پر پڑنے والے نصف النہاری خطوط لامتناہی ہوتے ہیں۔
استعمال :
1۔ یہ پروجیکشن دنیا کے نقشے کے لیے زیادہ موزوں ہے اور اس کا استعمال اٹلس کے نقشوں کو بنا نے میں کیا جاتا ہے۔
2۔ جہاز رانی کے لیے کافی مفید ہے کیونکہ اس میں بحری اور فضائی راستے بخوبی دکھائے جاسکتے ہیں۔
3۔ پن نکاسی ، بحری لہریں ،درجہ حرارت ، ہوائیں اوران کی سمت ،دنیا بھر میں بارش اور دیگر آب وہوائی عناصر کواس کواس نقشے پرمناسب ڈھنگ سے دکھا یا جاتاہے۔
شکل4.6 خط مستقیم لکزوڈروم یا یک میلانی خطوط ہیں اور نقطے والے خطوط عظیم دائرے ہیں
مشق
۱۔ ذیل میں دیے گئے چار متبادل میں سے صحیح جواب کا انتخاب کریں:
(i) دنیا کے نقشہ کے لیے سب سے کم مناسب یا غیرموزوں اظلال نقشہ ہے۔
(الف) مرکیٹر
(ب) آسان اسطوانہ نما
(ج) مخروطی
(د) مندرجہ بالاسب
(ii) ایک ایسا اظلال نقشہ جونہ مساوی الرقبہ ہے اورنہ ہی مساوی الشکل، یہاں تک کہ اس پر سمتیں بھی درست نہیں ہوتیں وہ ہے:
(الف) آسان مخروطی
(ب) قطبی سمت الراسی(Polar zenithal)
(ج) مرکیٹر
(د) اسطوانہ نما
(iii) ایک ایسا اظلال نقشہ جس میں سمت اور شکلیں صحیح ہوتی ہیں لیکن قطبین کی جانب جانے پر رقبے میں کافی بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے وہ ہے:
(الف) اسطوانہ نما مساوی الرقبہ
(ب) مرکیٹر
(ج) مخروطی
(د) مندرجہ بالا سب
(iv) جب روشنی کا منبع گلوب کے مرکز میں رکھا ہو اس سے بننے والے پروجیکشن کو کہتے ہیں:
(الف) صحیح الشکل
(ب) اسٹیر یو گرافک
(ج) نومونی
(د) مندر جہ بالا سب
2۔ درج ذیل سوالات کے جواب تقریباً 30 الفاظ میں دیں:
(i) اظلال نقشہ کے عناصر بیان کیجئے۔
(ii) گلوبی خصوصیات سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
(iii) کوئی بھی پروجیکشن گلوب کو صحیح طورپر پیش نہیں کرپاتا ، کیوں؟
(iv) اسطوانہ نما مساوی الرقبہ پروجیکشن میں رقبے کو برابرکیسے رکھا جاتا ہے۔
3۔ درج ذیل میں فرق واضح کیجیے:
(i) قابل تکمیل اور ناقابل تکمیل سطح
(ii) صحیح الرقبہ اورصحیح الشکل پروجیکشن
(iii) عمومی پروجیکشن اور غیر قائمہ پروجیکشن
(iv) متوازی خطوط اورنصف النہاری خطوط
4۔ مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب دیجیے جو 125 الفاظ سے زائد نہ ہوں:
(i) نقشہ پروجیکشن کی درجہ بندی میں استعما ل کیے جانے والے اصولوں کو بتائیے اور ہرقسم کے پروجیکشن کی اہم خصوصیات بیان کیجیے۔
(ii) جہاز رانی کے لیے کون ساپروجیکشن زیادہ مفید ہے؟اس پروجیکشن کی خصوصیات اور خامیوں کی تشریح کریں۔
(iii) ایک معیاری خط متوازی کے ساتھ مخروطی پروجیکشن کی خصوصیات اور خامیاں بیان کیجیے۔
عملی کام
30ºشمال سے 70º شمالاور 40º مشرق سے 30ºمغرب کے درمیان واقع علاقے کے لیے ایک معیاری خط متوازی کے ساتھ مخروطی پروجیکشن کا خطوطی جال تیار کیجیے جس کا پیمانہ 1:200,000,000 ہے اور عرض البلد ی اور طول البلدی وقفہ 20º ہے۔
ایک اسطوانہ نما مساوی الرقبہ پروجیکشن کے لیے خطوطی جال پوری دنیا کے لیے بنائے جس کا پیمانہ 1:150,000,000 اور عرض البلدی وطول البلدی وقفہ 15ºہو۔
1:400,000,000کے پیمانے اورعرض البلدی وطول البلدی و20ºکے وقفہ پردنیا کے نقشے کے لیے ایک مرکیٹر پروجیکشن بنائیے۔