Skip to content

Jugrafia_me_Amali_kaam

باب5


وضعی نقشے Topographical Maps


آپ جانتے ہیں کہ نقشے ایک اہم جغرافیائی آلہ ہے۔آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ نقشوں کی درجہ بندی پیمانہ (Scale) اور عمل(Function) کے بنیاد پر کیا جاتا ہے۔باب 1میں جس وضعی نقشے کا ذکر کیا گیا ہے وہ جغرافیہ داں حضرات کے لیے سب سے اہم ہے۔یہ نقشے اساسی نقشے ہوتے ہیں جنہیں دوسرے نقشوں کو بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
وضعی نقشے کو عمومی مقصد نقشہ بھی کہا جاتا ہے، نسبتاً بڑے پیمانے پر بنائے جاتے ہیں۔ان نقشوں میں اہم قدرتی اورثقافتی خط وخال دیکھے جا سکتے ہیں۔جیسے ریلیف ، بناتات، آبی مخازن ، کاشت کی گئی زمین، بستیاں اور نقل وحمل کے جال وغیرہ۔یہ نقشے ہر ملک کی قومی نقشہ نگار تنظیموں (National Mapping Organisation) کے ذریعہ تیار کیے جاتے ہیں۔مثال کے طورپر سروے آف آف انڈیا ہندوستا ن میں ملک بھر کے لیے وضعی نقشوں کو تیارکرتا ہے۔یہ وضعی نقشے مختلف پیمانوں پرنقشوں کے سلسلے (Series of maps) کی صورت میں بنائے جاتے ہیں۔اس طرح ایک دیے گئے سلسلے میں تمام نقشوں پر ایک ہی قسم کے حوالہ جاتی نقطے، پیمانے پروجیکشن ،رواجی نشانات ، علامات اوررنگ ہوتے ہیں۔  
ہندوستان میں وضعی نقشوں کو دو سلسلوں میں تیارکیا جاتا ہے۔پہلا ہندوستا ن اور اس کے پڑوسی ممالک کا سلسلہ اور دوسرا دنیا کے عالمی نقشوں کا سلسلہ۔
ہندوستان اورپڑوسی ممالک کا سلسلہ: 1937 میں دہلی سروے کانفرنس کے وجود میں آنے تک ہندوستان اور پڑوسی ممالک کے وضعی نقشوں کا سلسلہ سروے آف انڈیا کے ذریعہ تیار کیا جاتاتھا۔ اس کے بعد پڑوسی ممالک کے لیے نقشوں کا تیار کرناچھوڑدیا گیا اور سروے آف انڈیا نے دنیا کے عالمی نقشوں کے سلسلے کے لیے دی گئی وضاحتوں کے مطابق اپنے آپ کو ہندوستان کے لیے وضعی نقشوں کی تیاری اور طباعت تک ہی محدود کرلیا ۔پھربھی سروے آ ف انڈیا نے نئے سلسلے کے تحت وضعی نقشوں کوبنانے میں ہندوستان اور پڑوسی ممالک کے متروک سلسلے کے نمبرسسٹم اور خاکائی پلان کو برقراررکھا۔
ہندوستان کے وضعی نقشے 1:10,00,000 1:2,50,00 1:25,000,1:50,000,1:1,:1,25,000 کے پیمانے پر تیار کیے جاتے ہیں جس کی عرض البلدی اور طول البلدی وسعت بالترتیب 15×15,30º×30º, 1º×1º,4º×4º اور 5×7'30" ہوتی ہے۔ان نقشوں میں سے ہر ایک پر نمبرکے اندراج کاسسٹم شکل 5.1 میں دیا گیا ہے۔
دنیاکےبین الاقوامی نقشے کا سلسلہ: دنیا کے بین الاقوامی نقشوں کے سلسلے کے تحت وضعی نقشوں کو 1:10,00,000 اور 1:250,000 کے پیمانے پر بنا یا جاتا ہے تاکہ پوری دنیا کے لیے معیاری نقشے تیار ہوسکیں۔
وضعی نقشوں کا مطالعہ: وضعی نقشوں کا مطالعہ آسان ہے۔ اس کے لیے نقشہ خواں کو نقشے پر دکھائی گئی تشریحات ،رواجی نشانات اور رنگوں سے آشنا ہونا پڑتا ہے وضعی نقشوں پر دکھائی دینے والے رواجی نشانات اورعلامات کو شکل 5.2 میں دکھایاگیا ہے۔

فرہنگ

خطوط ارتفاع (Contours): وہ فرضی خطوط جو اوسط سطح سمندر سے اوپر یکساں بلندی والے تمام نقطوں (مقامات) کوملاتے ہیں۔ ان کو’’لیول لائن ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
وقفہ خطوط ارتفاع (Contour Interval): دولگاتار خطوط ارتفاع کے درمیان وقفہ۔اسے عمودی وقفہ (Vertical Interval) بھی کہا جاتا ہے اور عام طورپر اسے V.I. کی شکل میں دکھا یاجاتا ہے۔ یہ کسی بھی دیے گئے نقشہ کے لیے یکساں ہوتا ہے۔
سطح مقطع (Cross Section) :ایک خط مستقیم کے ساتھ عمودی طورپر زمین کے کٹے ہوئے حصے کا منظر۔ اسے سیکشن یا پروفائل (نیم رخ)بھی کہتے ہیں ۔  
ہیشور (Hachures): سب سے زیادہ ڈھلان کے ساتھ نقشے پر کھینچی گئی چھوٹی سیدھی لکیریں جو خطوط ارتفاع کے ساتھ چلتی ہیں۔ یہ زمینی ڈھلان میں فرق کو واضح کرتی ہیں۔
وضعی نقشہ (Topogrophic Map) :بڑے پیمانے پر بنا ہوا چھوٹے علاقے کانقشہ جس میں قدرتی اورانسانوں کے ذریعہ بنائی گئی دونوں طرح کی سطحی شکلوں کی تفصیل ہوتی ہے۔اس نقشے میں ریلیف کو خطوط ارتفاع سے دکھایا جاتا ہے۔  

ریلیف کی نمائندگی کے طریقے  

زمین کی سطح یکساں نہیں ہے۔ اس میں پہاڑ، پہاڑیوں اور پٹھاروں سے لے کر میدانوں تک کی تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔سطح زمین کی اونچائی یا نشیب کوطبعی خدوخال یا ریلیفی خدوخال کہتے ہیں۔جو نقشہ ان خدوخال کو دکھاتا ہے اسے ریلیفی نقشہ (Relief Map) کہا جاتا ہے۔
1
شکل5.1سروے آف انڈیا کے ذریعہ شائع وضعی شیٹ کا حوالہ جاتی نقشہ
2
سڑکیں، کچی:اہمیت کے مطابق، پل
سنگِ میل، بیل گاڑی کا راستہ ،تنگ راستہ اوردرہ،پگ ڈنڈی کے ساتھ
ندیاں نالے تہہ میں راستے کے ساتھ،غیر معرف،نہر 
باندھ: سیمنٹ کا بناہوا پتھروں سے بنا،مٹی کی باڑ
ندیاں خشک آبرو کے ساتھ،جزائر اورچٹان کے ساتھ
 ممدوجزوی ندی،دلدل،نرکل
ریلوے
دوہری،
ٹرام وے
غیروقوعہ
شکل 5.2رواجی نشان اورعلامت

گزشتہ سالوں میں سطح زمین کے خدوخال کو نقشے پردکھا نے کے لیے کئی طریقے استعمال کئے گئے ہیں۔ان طریقوں میں ہیشور (Hachures)، ہل شیڈنگ (Hll Shading)، لیئرٹنٹ (Layertints)، بنچ مارک(Benchmark)مارک(Benchmark) اور اسپاٹ ہائٹ (Spot hights)اور خطوط ارتفاع(Contours) شامل ہیں۔ البتہ خطوط ارتفاع اور اسپاٹ ہائٹ کوتمام وضعی نقشوں پر خدوخال کو دکھانے کے لیے اغلب طورپر استعمال کیا جاتا ہے۔

خطوط ارتفاعی (Confaurs)  

ارتفاعی خطوط وہ فرضی خطوط ہیں جو اوسط سطح سمندر سے اوپر یکساں اونچائی والے مقامات کوملاتے ہیں۔خطوط ارتفاع کے ذریعہ کسی علاقے کی زمینی ہئیت کو دکھانے والانقشہ ارتفاعی نقشہ (Contour Map) کہلاتا ہے خطوط ارتفاع کے ذریعہ زمینی خدوخال کو دکھانے کا طریقہ کافی مفیداور عام ہے۔ نقشے پر بنے ارتفاعی خطوط کسی علاقے کے وضعی ہئیت کے بارے میںمفید معلومات فراہم کرتے ہیں۔
شروع میں وضعی نقشوں پر خطوط ارتفاع کھینچنے کے لیے زمینی سروے اور فرازی پیمائش (Levelling) کا طریقہ استعمال کیاجاتا تھا۔ لیکن فوٹوگرافی کی ایجاد اور بعدمیں ہوائی فوٹوگرافی کے استعمال نے سروے ،فرازی پیمائش اور نقشہ نویسی کے روایتی طریقوں کو بدل دیا۔اب یہی فوٹوگراف وضعی نقشہ نویسی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
ارتفاعی خطوط مختلف عمودی وقفوں (V.I.) پر کھینچے جاتے ہیں جیسے اوسط سطح سمندر سے 100,50,20 میٹر اوپر۔ اسے ارتفاعی وقفہ (Contour Interval) کہا جاتا ہے۔عام طورپریہ کسی بھی نقشے پر یکساں ہوتا ہے ۔اسے عموماًمیٹر میں ظاہر کیا جاتا ہے۔جب کہ تواتر میں دوارتفاعی خطوط کے درمیان عمودی وقفہ یکساں ہوتا ہے افقی فاصلہ ڈھلان کی نوعیت کے اعتبار سے بدلتا رہتا ہے ،افقی فاصلہ ،جسے(HE)) (Horizontal Equivalent بھی کہتے ہیں، ڈھلان کے سست ہونے پر بڑھتا ہے اور شرح ڈھال کے بڑھنے پریہ فاصلہ کم ہوجاتا ہے۔

خطوط ارتفاع کی کچھ بنیادی خصوصیات

° خطوط ارتفاع کی یکساں بلندی والے مقامات کو دکھانے کے لیے کھینچے جاتے ہے۔
° خطوط ارتفاع اور ان کی شکل بلندی اورڈھال یا زمینی ہیئت کی شرح ڈھال کی نمائندگی کرتے ہیں۔
° پاس پاس پڑنے والے ارتفاعی خطوط تیز ڈھال کوبتا تے ہیں جبکہ دور دور واقع ارتفاعی خطوط سست ڈھال کی نمائندگی کرتے ہیں۔
° جب کبھی دویادو سے زیادہ ارتفاعی خطوط ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں تو یہ کھڑی ڈھال کی تصویر پیش کرتے ہیں جیسے کلیف اور آبشار۔
° مختلف بلندی کے دو ارتفاعی خطوط کبھی ایک دوسرے کو نہیں کاٹتے ۔

ارتفاعی خطوط اور ان کے سطح مقطع(Cross section) کی نقشہ کشی

ہم جانتے ہیں کہ تمام وضعی خدوخال ڈھال کی مختلف ڈگری کو دکھاتے ہیں۔ مثال کے طورپر ایک مسطح میدان کی ڈھلان سست ہوتی ہے جب کہ کلیف اور گارج کی ڈھلانیں تیز ہوتی ہیں۔ اسی طرح وادیوں اور پہاڑی سلسلوں میں مختلف ڈگری کے ڈھال ہوتے ہیں۔ یعنی تیزسے لے کر سست تک۔ اس لیے ارتفاعی خطوط کا درمیانی فاصلہ اہم ہوجاتا ہے کیونکہ یہ ڈھال کی نمائندگی کرتا ہے۔

ڈھلان کی قسمیں

موٹے طورپر ڈھلان کو سست، تیز ، جوفی ، حدبی اورناہموار یا لہریہ دار میں درجہ بند کیا جاتا ہے۔ مختلف قسم کی ڈھلانوں کے ارتفاعی خطوط ایک خاص وقفہ جاتی ترتیب کو دکھا تے ہیں۔

سست ڈھال(Gentle Slope)

  جب کسی خدوخال کی ڈھلان کی ڈگریا زاویہ کافی کم ہوتا ہے تو اس قسم کے ڈھال کی نمائندگی کرنے والے ارتفاعی خطوط ایک دوسرے سے دور ہوتے ہیں۔  

تیز ڈھال(Steep Slope)

جب کسی خدوخال کی ڈھلان کا زاویہ زیادہ ہوتا ہے اور ارتفاعی خطوط ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں تو یہ تیز ڈھال کی نمائندگی کرتے ہیں۔  
3
سست ڈھال                                                                 تیز ڈھال

جوفی ڈھال(Concave Slope)

  ایسی ڈھال جس کا نچلا حصہ سست شرح ڈھال والا اور اوپری حصہ تیزشرح ڈھال والا ہوتو اسے جوفی ڈھال کہتے ہیں۔اس قسم کے ڈھال میں نچلے حصہ میں ارتفاعی خطوط دور دور ہوتے ہیں اور اوپری حصے میں قریب تر ہوتے ہیں۔

حدبی ڈھال(Convex Slope)

  جوفی ڈھال کے برعکس حدبی ڈھال کا اوپری حصہ سست شرح ڈھال اورنچلا حصہ تیزشرح ڈھال والا ہوتا ہے۔ نتیجتاً اوپری حصے میں ارتفاعی خطوط ایک دوسرے سے دوردور اور نچلے حصے میں قریب تر ہوتے ہیں۔
4
جوفی ڈھال                                  حدبی ڈھال

زمینی ہیئت کی قسمیں

مخروطی پہاڑی (Conical Hill)

یہ گردوپیش کی زمین سے یکساں طورپر اوپر اٹھی ہوتی ہے۔ یکساں ڈھال اور تنگ چوٹی کے ساتھ ایک مخروطی پہاڑی کی نمائندگی یکساں وقفے پر واقع اہم مرکز ارتفاعی خطوط سے کی جاتی ہے۔

سطح مرتفع(Plateau)

ملحقہ میدان یا سمندر سے اوپر اٹھی ہوئی مسطح چوٹی والی زیادہ پھیلاؤ والی اور نسبتاًتیز ڈھال کی سر زمین کوسطح مرتفع کہتے ہیں۔ پٹھار کی نمائندگی کرنے والے ارتفاعی خطوط دونوں کناروں پر پاس پاس ہوتے ہیں لیکن انتہائی اندرونی ارتفاعی خط کے دونوں اطراف میں کافی فاصلہ ہوتا ہے۔  


5
                    سطح مرتفع                                                     مخروطی ڈھال

وادی  

  دوپہاڑیوں یا ستونوں (ridges)کے درمیان واقع ارضی ہئیت جوندی یاگلیشئر کے ذریعہ بغلی کٹاؤکی وجہ سے بنی ہواسے وادی(Vally) کہتے ہیں۔

یو (U)شکل کی وادی

  (U-Shaped Valley)

یو شکل کی وادی کافی اونچائی پر گلیشیر کے ذریعہ زبردست بغلی کٹاؤ کی وجہ سے بنتی ہے۔ مسطح چوڑی تہہ اور دونوں طرف کھڑے کنارے اسے ’U‘ جیسا بنا دیتے ہیں۔ یوشکل کی وادی کا سب سے نچلا حصہ انتہائی اندرونی ارتفاعی خط کے ذریعہ ، جس کے دونوں طرف کافی کشادگی ہوتی ہے ،دکھا یا جاتا ہے۔اور اس خط کی عددی قیمت بھی سب سے کم ہوتی ہے باہر کے ارتفاعی خطوط پر عددی قیمت یکساں وقفہ کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔

وی (V) شکل کی وادی

(U-Shaped Valley)

یہ انگریزی کا لفظ V کی طرح ہوتی ہے۔ وی شکل کی وادی پہاڑی علاقوں میں ہوتی ہے۔وی شکل کی وادی کا سب سے نچلا حصہ ایسے ارتفاعی خطوط سے دکھایا جاتا ہے جن کے انتہائی اندرونی حصے والے ارتفاعی خط کے دونوں طر ف و قفہ بہت کم ہوتا ہے اور اس خط کی عددی قیمت بھی سب سے کم ہوتی ہے۔ ارتفاعی خطوط کی عددی قیمت یکساں وقفہ کے ساتھ باہر کے تمام دیگر ارتفاعی خطوط کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔

6
یو۔شکل کی وادی                وی(v)شکل کی وادی

گارج یا تنگ وادی(Gorge)

 کافی بلندی پر تنگ وادی ان علاقوں میں بنتی ہے جہاں ندی کے ذریعہ عمودی کٹاؤ بغلی کٹاؤ پر زیادہ غالب ہوتا ہے۔یہ بہت ہی تیز کناروں کے ساتھ گہری اورتنگ ندی گھاٹیاں ہوتی ہیں۔نقشہ پرگارج کی نمائندگی آپس میں قریب تر ارتفاعی خطوط کے ذریعہ کی جاتی ہے جس میں اندرونی انتہائی ارتفاعی خط کے دونوں کناروں میں فاصلہ بہت ہی کم ہوتا ہے۔

دنبالہ (Spur)

اونچی زمین سے نیچے کی طرف نکلی ہوئی زمین کی زبان کودنبالہ کہتے ہیں۔اس کی نمائندگی وی شکل کے ارتفاعی خطوط سے بھی کی جاتی ہے لیکن عددی نشان برعکس ہوتا ہے۔وی کے بازو اونچی زمین کی طرف اشارہ کرتے ہیں جب کہ وی کا راس (Apex)نیچے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

7
گارج یا تنگ وادی                                  دنبالہ

جوف (Cliff)

یہ ارضی ہیئت کی انتہائی تیز ڈھلان والی یا تقریباً عمودی شکل ہے۔نقشہ پرجوف کی شناخت اس طرح ہوتی ہے کہ ارتفاعی خطوط ایک دوسرے کے بہت زیادہ قریب ہوتے ہیں اور بالآخر ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں۔

آبشار اور شرشرے  

(Waterfalls and Rapids)

کسی ندی کے تہہ میں کافی اونچائی سے پانی کا اچانک اور تقریباً عموداً گرنا آبشار کہلاتا ہے۔بعض اوقات آبشار ندی کے ساتھ آگے یاپیچھے ہوتا رہتا ہے جس سے ندی کے اوپری حصہ یا نچلے حصہ میں شرشروں کی تشکیل ہوتی ہے ۔آبشار کی نمائندگی کرنے والے خطوط ارتفاع کسی ندی کی رہ گزر میں آپس میں مل جاتے ہیں جب کہ نقشہ پر شرشرے نسبتاً زیادہ فاصلہ والے خطوط ارتفاع کے ذریعہ دکھائے جاتے ہیں۔
8
جوف                                                        آبشار

سطح مقطع(Cross Section) بنانے کے اقدام

مختلف زمینی شکلوں کوان کے ارتفاعی خطوط کی مدد سے بنانے کے لیے مندرجہ ذیل اقدام کیے جاسکتے ہیں۔
نقشے پر ارتفاعی خطوط کو کاٹتے ہوئے ایک خط مستقیم کھینچیے اور اس پر AB کا نشان لگا دیجیے۔
ایک سفیدکا غذ کی پٹی یاگراف لے کر ABخط کے ساتھ رکھیے۔
3۔  AB خط کو کاٹنے والے ہر خط ارتفاع کی پوزیشن اور قیمت کانشان لگالیجیے۔
4۔ کسی مناسب عمودی پیمانے کا انتخاب کریں،مثلاً½سینٹی میٹر100=میٹرتاکہAB خط کے برابر اور متوازی افقی خطوط کھینچ سکیں۔ ان خطوط کی تعداد ارتفاعی خطوط کی تعداد کے مساوی یا اس سے زیادہ ہونا چاہیے۔
5۔ سطح مقطع کے عمودپر ارتفاعی خطوط کی قیمتوں کے مطابق اس کاغذ پر مناسب قیمت کے نشان لگا لیجیے۔ارتفاعی خطوط کے سب سے کم قیمت والے عدد کے اعتبار سے نمبردینا شروع کیجیے۔
اب نشان زد کاغذ کو سطح مقطع کی سب سے نچلے خط کے ساتھ افقی طور پر اس طرح رکھیے کہ کاغذکی AB خط نقشے کےAB خط سے مل جائے اورپھر ارتفاعی خطوط کے نقطوں کا نشان زد کر لیجیے۔
7۔ ارتفاعی خطوط کو کاٹتے ہوئے AB خط سے عمود کھینچیے اور اسے سطح مقطع کی بنیادی خط تک ملائیے۔
8۔ سطح مقطع کی بنیا د پر لگا ئے گئے تما م نقاط کو ہموار طور پر ملادیجیے۔  
ٍ9۔ وضعی نقشوں سے ثقافتی خط وخال کی پہچان  

وضعی نقشوں پررواجی نشانات  

  علامات اور رنگوں کے ذریعہ دکھائی گئی بستیاں، عمارتیں ، سڑک اورریلوے لائن اہم ثقافتی خط وخال ہیں۔مختلف خط وخال کا محل وقوع اورتقسیم طرزنقشے پر دکھائے گئے علاقے کو سمجھنے میں معاون ہوتے ہیں۔      

بستیوں کی تقسیم  

انہیں نقشے پر ان کے مقام،محل وقوع کے طرز، صف بندی اور ان کی کثافت کے ذریعہ دیکھا جاسکتا ہے۔ بستیوں کے نقشے کو ارتفاعی خطوط کے نقشہ سے موازنہ کرکے مختلف بستیوں کے طرز کی نوعیت اور وجوہات کو سمجھا جاسکتا ہے۔

نقشے پر چارقسم کی دیہی بستیوں کی پہچان کی جاسکتی ہے۔
(الف) گنجان بستیاں(Compact Settlements)  
(ب) منتشربستیاں(Scattered Settlements)  
(ج)خطی یا سطری بستیاں(Linear Settlements)  
(د) مدور بستیاں (Circular Settlements)  
اسی طرح شہری مراکز کی بھی درج ذیل طورپر شناخت کی جا سکتی ہے۔
(الف) چورا ہے والا قصبہ
(ب) مرکزی نقطے
(ج)   بازار والا مرکز
(د)   پہاڑی سیر گاہ یا اہل اسٹیشن
(ہ) ساحلی تفریح گاہ  
(و)    بندرگاہ
(ز) نواح شہری گاؤں یا سٹیلائٹ قصبے کے ساتھ صنعتی مراکز
(ح) راجدھانی والاشہر
(ط) مذہبی مرکز
بستیوں کے جائے وقوع کا تعین کرنے والے مختلف عوامل اس طرح ہیں:  
(الف) پانی کا ذریعہ
(ب) خوراک کی فراہمی
(ج) ریلیف کی نوعیت
(د) پیشے کی نوعیت اور صفت
(ہ) دفاع
  بستیوں کے جائے وقوع کا قریبی جائزہ خطوط ارتفاع اور آبی نکاس والے نقشے کے حوالے سے کیا جانا چاہیے۔بستی کی کثافت براہ راست خوراک کی سپلائی سے متعلق ہے۔کبھی کبھی دیہی بستیوں کی صف بندی بن جاتی ہے یعنی ان کی توسیع ندی کی وادی، سڑک، پشتہ یا ساحلی کنارے کے ساتھ ہوتی ہے۔ان کو خطی بستیاں (Linear settlement)   کہتے ہیں۔
جہاں تک شہری بستیوں کاتعلق ہے توایک چوراہے پر بسا ہوا قصبہ پنکھے کی شکل(Fan-shaped) کا طرز اختیار کر لیتا ہے،جہاں گھروں کی ترتیب سڑک کے کناروں کے ساتھ ہوتی ہے اور چوراہا قصبے کے وسط میں ہونے کی وجہ سے اصل بازار کی جگہ بن جاتا ہے۔مرکزی شہروں (Nodal town) میں سڑکیں تمام سمتوں میں شعاعی ہوتی ہیں۔

نقل و حمل اور ترسیل کا طرز

کسی علاقے کی خدوخال، آبادی، سائز، اور وسائل کے فروغ کا طرز ،ذرائع نقل و حمل ا ور ترسیل اور ان کی کثافت کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔انہیں رواجی نشانات اور علامات کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے۔نقل و حمل اور ترسیل کے ذرائع نقشے پر دکھائے گئے علاقے کے بارے میں مفید معلومات فراہم کرتے ہیں۔

وضعی نقشوں کی تشریح

نقشے کی زبان کا علم اور سمت کی سمجھ وضعی نقشوں کو پڑھنے اور تشریح کرنے کے لیے لازمی ہے۔پہلے شمالی خط اور نقشے کے پیمانے کو دیکھیں ۔پھر اپنا رخ اسی کے مطابق کریں۔آپ کو نقشے میں دیے گئے مختلف خط وخال کو بتانے والے علاماتی تشریحات ؍کلید کا علم رکھنا ضروری ہے۔ تمام وضعی نقشوں میں استعمال شدہ رواجی نشانات اور علامات کو دکھانے کے لیے جدول ہوتا ہے (شکل 5.2 )۔ رواجی نشانات اور علامات کو بین الاقوامی طورپر تسلیم کیا گیا ہے ۔ اس طرح کوئی بھی شخص دنیا میں کسی بھی جگہ بغیر اس ملک کی زبان کو جانے کوئی بھی نقشہ پڑھ سکتا ہے۔   
کسی بھی نقشے کی تشریح درج ذیل عنوانات کے تحت کی جاتی ہے:
(الف) حاشیہ کی معلوماتMarginal   Information
(ب) ریلیف اور پن نکاسیRelief and Drainage
(ج) زمینی استعمالLand Use
(د) نقل وحمل اور ترسیل کے ذرائعMeans of Transport and Communication
(ہ) انسانی بستیاںHuman Settlement
حاشیہ کی معلومات: اس کے تحت وضعی شیٹ کا نمبر ، اس کا محل وقوع ، خطوطی جال کا حوالۂ ڈگری اورمنٹ میں اس کی وسعت ، پیمانہ ، شیٹ میں موجود ضلعوں کے نام وغیرہ آتے ہیں۔  
  علاقے کے خدوخال : علاقے کے عام وضعی خدوخال کا مطالعہ میدان، سطح مرتفع (پٹھار)،پہاڑیاں یا چوٹیوں سمیت پہاڑ ، ستیغ، دنبالے (Spur)اور ڈھال کی عمومی سمت کی شناخت کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ان خط وخال کا مطالعہ مندرجہ ذیل عنوانات کے تحت کیا جاتا ہے:
° پہاڑی: جوفی ، حدبی، تیز یاسست ڈھال اور شکل کے ساتھ
° سطح مرتفع (پٹھار): کیا یہ وسیع ہے ، تنگ ہے، مسطح ہے ، لہریہ دار ہے یا کٹا پھٹا ہے۔
° میدان: اس کی قسمیں یعنی سیلابی ، گلیشیائی ،کارسٹ ، ساحلی، دلدلی وغیرہ  
° پہاڑ: عمومی بلندی ، چوٹی ،درّے وغیرہ۔

علاقے کی پن نکاسی: اہم ندیاں اور ان کی معاون ندیاں اور ان کے ذریعہ بنی وادیوں کی قسمیں اوران کی   وسعت ، طرز پن نکاسی کی قسمیں یعنی شجری ، شعاعی ، مدور، جالی نما، داخلی وغیرہ ۔

زمینی استعمال: اس کے تحت مختلف زمروں میں زمین کا استعمال شامل ہے جیسے  

° قدرتی نباتات اور جنگل (علاقے کا کون ساحصہ جنگلاتی ہے، کیا یہ گنجان جنگل ہے یا کم گھنا ہے اور وہاں پائے جانے والے جنگل کی قسم جیسے محفوظ ، مامون ، درجہ بند یا غیر درجہ بند)
° زراعتی ، باغات ، بنجرزمین ،صنعتی وغیرہ۔
° سہولیا ت اور خدمات جیسے اسکول ،کالج،ہسپتال ، پارک ، ہوائی اڈے ، برقی ذیلی اسٹیشن وغیرہ۔
نقل وحمل او ر ترسیل: ذرائع نقل وحمل کے تحت قومی شاہراہیں، صوبائی شاہراہیں، ضلعی سڑکیں، بیل گاڑی کے راستے ، اونٹوں کے راستے پگ ڈنڈی ، آبی راستے ، اہم ترسیلی لائنیں جیسے ڈاک گھروغیرہ شامل ہیں۔
بستیاں: بستیوں کا مطالعہ درج ذیل عنوانات کے تحت کیاجاتا ہے:
° دیہی بستیاں: دیہی بستیوں کی قسمیں اور طرز یعنی گنجان، نیم گنجان، خطی وغیرہ۔
° شہری بستیاں: شہری بستیوں کی قسمیں اور ان کا کام یعنی راجدھانی والاشہر،انتظامی شہر، مذہبی شہر، بندرگاہ والا شہر، سیرگاہ وغیرہ۔
  پیشہ: لوگوں کے عام پیشے کی پہچان زمینی استعمال اور بستیوں کی قسموں سے کی جاسکتی ہے مثلاً دیہی علاقوں میں لوگوں کی اکثریت کا خاص پیشہ زراعت ہے ، قبائلی خطوں میں لکڑی کا ٹنا اور ابتدائی زراعت کا غلبہ رہتا ہے اور ساحلی علاقوں میں مچھلی کاشکار کی جاتی ہے۔اسی طرح شہروں اور قصبوں میں لوگوں کا اہم پیشہ خدمات اور تجارت ہوتا ہے۔

نقشے کے تشریح کا طریق کار

نقشے کی تشریح میں ان عوامل کا مطالعہ شامل ہوتا ہے جو نقشے پر دکھائے گئے متعدد خط وخال کے درمیان اسباب وعلل کے تعلقات کو بتاتے ہیں۔ مثال کے طورپر قدرتی نباتات اور کاشت شدہ زمین کی تقسیم کے بارے میں ارضی ہیئتوں اور پن نکاسی کے پس منظرمیں بہترطورپرسمجھاجاسکتا ہے۔اسی طرح بستیوں کی تقسیم کامعائنہ نقل وحمل کے نظام والے جال کی سطح اور اور وضعی خدوخال کی نوعیت کے تناظر میں کیاجاسکتا ہے۔
نقشے کی تشریح میں مندرجہ ذیل اقدامات معاون ہوسکتے ہیں۔
° وضعی نقشے کے اندراجی نمبر سے ہندوستان میں اس علاقے کے محل وقوع کاپتہ لگائیں۔اس سے آپ کو بڑے اورچھوٹے طبیعاتی حصوں کی عمومی صفات کا علم ہوگا ۔نقشے کے پیمانے اورارتفاعی خطوط کے وقفہ کو نوٹ کریں۔اس سے آپ کوعلاقے کی عام ارضی ہیئت اور اس کی وسعت کا پتہ چلے گا۔
° مندرجہ ذیل خط وخال کو ٹریسنگ پیپر پر نقل کریں:
(الف) اہم ارضی ہئیتیں جیسا کہ ارتفاعی خطوط اور دیگر خاکوں سے دکھایا گیا ہے۔
(ب) پن نکاسی اور آبی خط وخال اہم ندیاں اوران کی معاون ندیاں۔
(ج) زمینی استعمال یعنی جنگلات ، زرعی زمین ، بنجر زمین سینکچوری ،پارک اسکول وغیرہ ۔
(د) بستی اور نقل وحمل کے طرز۔
° ان میں سے ہرخط وخال کے تقسیمی طرز کوالگ الگ بیان کریں جس میں خصوصی توجہ سب سے اہم پہلوؤں پرہو۔  
° ان نقشوں کے جوڑے کو ایک دوسرے پر رکھ کر دیکھیں اور اگر دونوں طرز کے درمیان کوئی تعلق نظر آتا ہے تو اسے نوٹ کریں ۔مثال کے طورپر اگر ارتفاعی خطوط کے نقشے کو زمینی استعمال والے نقشے کے اوپر دکھائے جائے تو اس سے ڈھلان کی ڈگری اور استعمال کی گئی زمین کی قسم کے درمیان تعلق کا پتہ چلتا ہے۔
°  ایک ہی علاقے اور ایک ہی پیمانے پر ہوائی فوٹوگراف اور سیٹلائٹ کی تصویر وں کا موازنہ وضعی نقشوں کے ساتھ کیاجا سکتا ہے تاکہ معلومات کونیا(Update) کیا جاسکے۔

مشق

درج ذیل سوالات کے جواب تقریباً30الفاظ میں دیں:
(i) وضعی نقشے کیا ہیں؟
(ii) اس تنظیم کانام بتائیں جو ہندوستا ن کے وضعی نقشے تیار کرتی ہے۔
(iii) سروے آف انڈیا کے ذریعہ ہمارے ملک کی نقشہ نگاری کے لیے کن پیمانوں کا استعمال عام طورپر کیا جاتا ہے۔
(iv) خطوط ارتفاع کیا ہیں؟
(v) خطوط ارتفاع کے درمیان فاصلہ کیا بتاتا ہے؟
(vi) رواجی نشانات کیا ہیں؟
 درج ذیل پر مختصر نوٹ لکھیں:
(i) خطوط ارتفاع
(ii) وضعی نقشوں میں حاشیہ کی معلومات
(iii) سروے آف انڈیا
نقشے کی تشریح سے آپ کیا سمجھتے ہیں اور اس کی تشریح میں کن طریقوں کا استعمال کیا جاتا ہے؟ وضاحت کریں۔
اگر آپ وضعی نقشے سے ثقافتی خط وخال کی تشریح کررہے ہیں تو آپ کیا معلومات حاصل کرنا چاہیں گے اور ان معلومات کو کیسے اخذ کریں گے ۔مناسب مثالوں کی مدد سے وضاحت کریں۔
مندرجہ ذیل خط وخال کے لیے رواجی نشانات اور علامات بنائیں۔
(i) بین الاقوامی سرحد
(ii) پل کے ساتھ پگ ڈنڈی۔
(iii) بینچ مارک  
(iv)   عبادت گاہیں۔
(v)  گاؤں  
(vi) ریلوے لائن
(vii) پکی سڑک

مشقA

خطوط ارتفاع کے طرزکا مطالعہ کریں اور مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب دیں:
1۔ خطوط ارتفاع کے ذریعہ بنے جغرافیائی خط وخال کے نام بتائیں۔
نقشے میں خطوط ارتفاع کے درمیانی فاصلہ کوبتائیں۔
3۔ AاورB کے درمیان نقشے کی دوری کاپتہ لگا کر اسے زمینی دوری میں تبدیل کریں۔
Aاور B C; اور Dاور E اور F کے درمیان ڈھلان کی قسموں کا نام بتائیں۔
F,D,E اور G کی سمتوں کا پتہ لگا ئیں۔
  
9
پیمانہ ایک سینٹی میٹر2کلو میٹر کی نمائندگی کرتا ہے

مشق B

ذیل میں دکھائے گئے وضعی نقشہ نمبر 63K/12 سے ماخوذاختصاری نقشے کا مطالعہ کریں اور درج ذیل سوالوں کے جواب دیں:

10
تنابی کسر
وضعی شیٹ نمبر63K/12کاحصہ
1:50,000 کو بیانیہ پیمانے میں بدلیں۔
اس علاقے کی اہم بستیوں کے نام بتائیں۔
گنگا ندی کی روانی کی سمت کیاہے؟
4۔  گنگاندی کے کس کنارے پر بھٹولی واقع ہے ؟
5۔  گنگاندی کے دائیں کنارے پردیہی بستیوں کاطرز کیا ہے؟
6۔  ان گاؤں کے بستیوں کے نام بتائیے جہاں ڈاک خانہ اور ٹیلی گراف آفس واقع ہیں؟
اس علاقے میں پیلارنگ کس چیزکوبتاتاہے؟
گنگاندی پار کرنے کے لیے بھٹولی کے لوگ کن ذرائع نقل وحمل کااستعمال کرتے ہیں؟

مشق(C)

  وضعی نقشہ نمبر 63K/12 سے ماخوذ اختصاری نقشے کامطالعہ کریں اور درج ذیل سوالوں کے جواب دیں:
نقشے میں سب سے اونچے مقام کی بلندی بتائیے۔
نقشے کی کس چوتھائی سے جمتہیواندی بہہ رہی ہے؟
کوار دری نالہ کے مشرق میں کون سی اہم بستی واقع ہے؟
4۔ اس علاقے میں کس قسم کی بستی پائی جاتی ہے؟
5۔ سیپوندی کے وسط میں سفید دھاریوں کے ذریعہ دکھائے گئے جغرافیائی خط وخال کا نام بتائیے۔
وضعی نقشے پر دکھائی گئی دو قسم کے نباتا ت کی نام بتائیے۔
کواردری نالہ کے بہاؤ یا روانی کی سمت کیا ہے؟
نقشے کے کس حصے میں نچلا کھجوری باندھ واقع ہے۔