Skip to content
Jugrafia_me_Amali_kaam

باب6 

ہوائی فوٹو گراف کا تعارف  

(Introduction to Aerial Photographs)


عام کیمروں سے لی گئی تصاویر سے ہم بخوبی واقف ہیں۔ان تصویروں سے ہمیں کسی چیز کا منظر بعینہ اسی طرح نظر آتا ہے جیسا کے ہم انہیں اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔دوسرے لفظوں میں ہمیں چیز وں کی لی گئی تصاویر کا افقی تناظر ملتا ہے۔ مثال کے طورپر بستی کے کسی حصے کی تصویر ہمیں وہی منظر پیش کرتی ہے جیسا کہ ہمیں اسے دیکھتے وقت لگتا ہے( شکل نمبر)۔6.1 مان لیجئے کہ ہم انہیں خط وخال پر ایک طائرانہ نظر ڈالنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے آپ کو کہیں فضامیں رکھنا پڑے گا۔ جب ہم فضامیں اوپر جاکر نیچے کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں بہت ہی مختلف منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہی منظر جو ہمیں ہوائی فوٹو گراف سے ملتا ہے ہوائی تناظر ( شکل (6.2کہلاتا ہے۔ دقیق کیمرے کا استعمال کرکے ہوائی جہاز یا ہیلی کاپٹر سے لی گئی تصویروں کو ہوائی فوٹو گراف (aerial phatogrophs) کہا جاتا ہے۔اس طرح سے لی گئی تصویریں وضعی نقشوں اور چیزوں کے عکسوں کی تشریح کرنے میں ایک لازمی آلہ بن چکی ہیں۔

1
شکل6.1مسوری شہر کا ہوائی فوٹو گراف
2
شکل6.2نہری شہر (اتراکھنڈ) کا طائرانہ منظر

فرہنگ

ہوائی کیمرہ(Aerial Camera):   ایک دقیق کیمرہ جو خاص طورپر ہوائی جہاز میں استعمال کرنے کے لیے بنا یا جاتا ہے۔
ہوائی فلم (Aerial Film): ایک کافی حساس فلم رول جس میں اندرونی تحلیلی قوت اور بُعدی طورپر دیرپاروغن کاری کی معاونت ہوتی ہے۔
ہوائی فوٹو گرافی (Aerial Photography): ایک فضائی پلیٹ فارم سے تصویر کھینچنے کا آرٹ، سائنس اور ٹکنالوجی۔
اعتمادی نشان (Fiducial Marks):  اشارہ جاتی نشان جو کیمرہ کے مرکزیا کناروں پر لگارہتا ہے۔جب فلم کو کھولاجاتا ہے تو یہ نشانات فلم کی نگیٹیو پر ظاہر ہوجاتے ہیں۔
پیش روانطباق(Forward Overlap): ہوائی جہاز کے چلنے کی سمت میں لی گئی دو لگاتار تصویروں پر ایک ہی جیسا علاقہ یہ عام طورپر فیصدمیں ظاہرکیاجاتا ہے۔
  شبیہ کی تشریح (Image lnterpretation) چیزوں کی شبیہ کو پہچاننے کا عمل اور ان کی اضافی اہمیت کا فیصلہ کرنا ۔
نقطہ سمت القدم :(Nadir Point) کیمرہ کے مرکزی لینس سے زمینی سطح پر کھنیچے گئے عمودکا قدم۔
صدرنقطہ (Principal Point) :کیمرہ کے مرکزی لینس سے تصویر کی سطح پر کھینچے گئے عمود کا قدم۔
  اصل دوری(Principal Distance) :تناظری مرکزسے تصویر کی سطح تک کی عمودی دوری۔
  تناظری مرکز(Perspective Centre) : روشنی کی شعاعوں کے جھرمٹ کا ابتدائی نقطہ تناظری مرکزکہلاتا ہے۔
فوٹوگرامیٹری (Photogrammetry) :ہوائی تصویروں سے قابل اعتماد پیمائش کرنے کی سائنس اور ٹکنالوجی ۔

ہوائی فوٹو گراف کا استعمال  

ہوائی فوٹو گراف کا استعمال وضعی نقشہ نگاری اور تشریح میں کیا جاتا ہے۔ان دومختلف استعمالوں کی وجہ سے الگ الگ لیکن باہمی طورپر مربوط سائنس فوٹوگرامیٹری اور تصویر یا شبیہ کی تشریح کا ارتقاء ہوا۔
فوٹوگرامیٹری: اس سے مراد ہوائی فوٹو گراف سے قابل اعتماد پیمائش کرنے کی ٹکنالوجی یا سائنس ہے۔ فوٹوگرامیٹری میں مستعمل اصولوں کی مدد سے ان تصویروں سے لمبائی چوڑائی اور اونچائی سے متعلق دقیق پیمائش کرنے میں سہولت ہوتی ہے۔اس لیے انہیں وضعی نقشوں کوبنانے اور نئی معلومات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اعداد وشمار کے ذریعے (Data Source) کی حیثیت سے استعمال کیاجاتا ہے۔
  ہندوستان میں ہوائی فوٹوگرافی کے ارتقاء کو باکس6.1 میں مختصر اً بیان کیا گیا ہے۔

باکس6.1 ہندوستان میں ہوائی فوٹوگرافی  

ہندوستان میں ہوائی فوٹوگرافی کی تاریخ 1920 سے شروع ہوتی ہے جب آگرہ شہر کے بڑے پیمانے پر ہوائی فوٹوگراف لیے گئے۔ بعد میں سروے آف انڈیا کی ہوائی سروے پارٹی نے اراودی ڈیلٹا کے جنگلات کا ہوائی سروے کیا جو 1923-24 کے دوران مکمل ہوا۔ اس کے بعد اس طرح کے کئی سروے کیے گئے جس میں ہوائی تصویروں سے نقشہ نگاری کے زیادہ بہتر طریقوں کا استعمال کیا گیا تھا۔آج ہندوستان میں ہوائی فوٹوگرافی ڈائریکٹوریٹ آف ایئرسروے (سروے آف انڈیا) نئی دہلی کی نگرانی میں پورے ملک کے لیے کی جاتی ہے۔تین فلائنگ ایجنسیوں––انڈین ایئرفورس، ایئرسروے کمپنی کولکتہ اور نیشنل ریموٹ سنسنگ ایجنسی حیدرآباد کو ہندوستان میں ہوائی فوٹوگراف لینے کے لیے سرکاری طورپر بااختیاربنایا گیا ہے۔
تعلیمی مقاصد کے لیے ہوائی تصویروں کی نشاندہی کاکام APFPS پارٹی نمبر73 ،ڈائریکٹوریٹ آف ایئر سروے ، سروے آف نڈیا ،ویسٹ بلاک IV ،آر کے پورم ،نئی دہلی کے ذمہ ہے

شبیہ(Image)کی تشریح: یہ اشیاء کی شبیہوں کو پہچاننے اور ان کی اضافی اہمیت طے کرنے کاآرٹ ہے۔تشریح شبیہ کے اصولوں کو ہوائی تصویروں سے کیفی معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جیسے زمین کا استعمال یا زمینی غلاف ،وضعی ہئیت ، مٹی کی قسمیں وغیرہ ۔ ایک ترتیب یافتہ تشریح کرنے والا زمینی استعمال کی تبدیلیوں کا تجزیہ کرنے کے لیے ہوائی فوٹوگراف کا استعمال کرسکتا ہے۔

ہوائی فوٹوگراف کے فائدے

زمینی مشاہدات کے بالمقابل ہوائی تصویروں کے درج ذیل فائدے ہیں:

(الف) نظری نقطہ میں سدھار : ہوائی فوٹوگرافی سے ایک بڑے علاقے پر طائرانہ نظر پڑتی ہے جس سے ہم سطح زمین کے مختلف خط وخال کو ان کے مکانی تعلق سے دیکھ سکتے ہیں۔

(ب) تاریخ محفوظ کرنے کی صلاحیت : ہوائی فوٹوگراف میں سطحی شکلوں کا ریکارڈ ایک لمحے میں ہوجاتا ہے اس لیے اسے تاریخی ریکارڈکے طورپر استعمال کیا جاسکتا ہے۔  (ج) وسیع حساسیت: ہوائی تصویریں لینے کے لیے استعمال کی جانے والی فلم کی حساسیت انسانی آنکھوں کی حساسیت کی بہ نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ ہماری آنکھیں برقی مقناطیسی طیف کے مرئی خطے کی صرف 0.4 سے 0.7 مائیکرومیٹر تک ہی دیکھ پاتی ہیں جب کہ فلم کی حساسیت 0.3 سے 0.9 مائیکرومیٹر تک ہوتی ہے۔

(د) سہ ابعادی تناظر: عام طورپر ہوائی تصویریں یکساں وقفے پر کھینچی جاتی ہیں جس سے ہمیں تصویروں کا ایک ہی طرح کا جوڑا مل جاتا ہے۔ تصویروں کے ان جوڑوں سے تصویرشدہ سطح زمین کا سہ بعدی منظر حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔

ہوائی تصویروں کی قسمیں

ہوائی تصویروں کی درجہ بندی کیمرے کے محور کی پوزیشن ، پیمانہ، سرپوش علاقہ (Coverage) کی زاویائی وسعت اور استعمال شدہ فلم کی بنیادپر کی جاتی ہے۔ بصری محور کی پوزیشن اور پیمانے پر مبنی ہوائی تصویروں کی قسمیں ذیل میں دی گئی ہیں:
(الف) کیمرہ محور کی پوزیشن پر مبنی ہوائی تصویروں کی قسمیں:
کیمرہ کے محور کی پوزیشن پر مبنی ہوائی تصویروں کی درج ذیل قسمیں ہیں:
(1) عمودی تصویریں(Vertical Photographs)  
(2) کم ترچھی تصویریں(Low oblique Photographs)  
(3) زیادہ ترچھی تصویریں(High Oblique Photographs)

(i)۔عمودی تصویریں: ہوائی تصویریں لیتے وقت کیمرہ لینس کے مرکز سے دوواضح محور بنتے ہیں۔ ایک زمینی سطح کی طرف اور دوسرا تصویری سطح کی طرف۔کیمرہ لینس کے مرکز سے زمینی سطح پرڈالے گئے عمود کو عمودی محور کہا جاتا ہے جب کہ لینس کے مرکز سے تصویری سطح تک کھینچی گئی پلمب لائن یعنی ساہول ڈوری کو فوٹوگرافک یا اپٹکل محور (بصری محور) کہا جاتا ہے۔جب تصویری سطح کو زمینی سطح کے متوازی رکھاجاتاہے تو یہ دونوں محور بھی ایک دوسرے سے منطبق ہوجاتے ہیں۔اس طرح سے جو تصویر ملتی ہے اسے عمودی ہوائی تصویر کہتے ہیں(شکل 6.3اور 6.4 ) بہر کیف عام طور پر دونوں سطحوں کے درمیان مکمل متوازیت برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ ہوائی جہاز زمین کے منحنی سطح پر اڑتا ہے اس لیے تصویری محور عمودی محور سے منحرف ہوتا ہے۔اگر اس طرح کا انحراف 3º مثبت یا منفی کی حد میں ہوتا ہے تو تقریباً عمودی تصویر یں ملتی ہیں۔ کوئی بھی تصویر جس کا بصری محور عمودی محور سے غیرارادی طورپر 3º  سے زیادہ منحرف ہوتا ہے،اسے جھکی ہوئی تصویر (Tilted photograph) کہتے ہیں۔

3
شکل6.4نیدرلینڈ کے آرنیہام کا عمودی فوٹوگراف               شکل 6.3عمودی ہوائی فوٹوگراف

(ii)کم ترچھی (Low Oblique):

ایسی ہوائی تصویر جس میں کیمرہ کا محور عمودی محور سے ارادتاً15o سے 30o کے درمیان منحرف ہوتا ہے تو اسے کم ترچھی تصویر (low oblique photograph) کہا جاتا ہے (شکل6.5 اور 6.6)۔ اس طرح کے فوٹوگراف کا استعمال اکثر ابتدائی جائزہ والے سروے (Reconnaissance survey) میں کیا جاتا ہے۔

4
شکل6.6نیدرلینڈ کے آرنیہام کی کم ترچھی تصویر                    شکل 6.5کم ترچھی تصویر

iii۔زیادہ ترچھی (High Oblique):

زیادہ ترچھی تصویریں اس وقت ہوتی ہیں جب کہ کیمرہ کے محورکو عمودی محور سے ارادتاً 60oکے قریب جھکا یا جاتاہے (شکل6.7 )۔اس قسم کی فوٹوگرافی کا استعمال ابتدائی جائزہ والے سروے میں کیا جاتا ہے۔

5
شکل6.7زیادہ ےترچھی تصویر

جدول 6.1 :  عمودی اور ترچھی تصویروں کے درمیان موازنہ
کیفیت عمودی کم ترچھی زیادہ اچھی
بصری محور
صفات ظاہر ہوتی ہے
احاطہ ؍احاطگی
علاقے کی شکل
لی گئی تصویرکا پیمانہ 
نقشے میں مقابلہ میں فرق
افادیت
جھکاؤ3oسے کم یعنی کم وبیش عمودی کے مطابق
افق ظاہر نہیں ہوتا
چھوٹاعلاقہ
مربع
یکساں ، اگر قطعہ زمین 
مسطح ہے
سب سے کم 
وضعی اور موضوعی نقشہ 
نگاری میں مفید
عمودی محور سے انحراف 30oسے زائد
افق ظاہر نہیں ہوتا
نسبتاً بڑا علاقہ 
مربع منحرف
پیش رو زمین سے پس
روزمین کی طرف گھٹتا ہے
نسبتاً زیادہ 
ابتدائی جائزہ  والے 
سروے 
عمودی طور سے
افق ظاہر ہوتا ہے
سب سے بڑا علاقہ
مربع منحرف
پیش روزمین سے 
پس رو زمین کی طرف 
گھٹتا ہے
سب سے زیادہ  
مثالی



(ب) پیمانے پر مبنی ہوائی تصویروں کی قسمیں: پیمانے پرمبنی ہوائی تصویروں کو بھی تین قسموں میں درجہ بند کیا جاسکتا ہے۔

i۔بڑے پیمانے کی تصویریں: جب ہوائی تصویروں کا پیمانہ 1:15,000 یا اس سے زیادہ ہوتا ہے تو ان تصویروں کو بڑے پیمانے کی تصویر میں درجہ بند کیا جاتا ہے (شکل 6.8)۔

7
شکل6.8عمودی اور ترچھی تصویروں کے درمیان موازنہ1:5000

ii۔درمیانی پیمانے کی ہوائی تصویریں:
  جن ہوائی تصویروں کا پیمانہ 1:15,000سے 1:30,000کے درمیان ہوتا ہے تو ان تصویروں کو درمیانی پیمانے کی تصویریں کہا جاتا ہے (شکل 6.9)۔

8
شکل6.9آرنیہام کی تصویر1:20.000

iii۔چھوٹے پیمانے کی تصویریں:
  جن ہوائی تصویروں کا پیمانہ 1:30,000 سے کم ہوتا ہے انہیں چھوٹے پیمانے کی تصویر کہا جاتا ہے (شکل6.10)

9
شکل6.10آرینہام کی تصویر1:40.000

ایک ہوائی تصویر کی جیومیٹری

  ایک ہوائی تصویر کی جیومیٹری کو سمجھنے کے لیے زمین کے تعلق سے تصویر کے رخ کو جاننااہم ہے یعنی وہ طریقہ جس میں زمینی نمائندگی (تصویر یا نقشہ) کے تعلق سے روشنی زمین پر پڑتی ہے۔ اس طرح کے پروجیکشن کی درج ذیل تین مثالیں مسئلہ کو سمجھنے کے لیے مفید ہوسکتی ہیں ۔  
10
شکل6.11متوازی پروجیکشن

شکل 6.11متوازی پروجکشن

متوازی پروجیکشن: اس پروجیکشن میں پڑنے والی شعاعیں متوازی ہوتی ہیں لیکن ضروری نہیں کہ وہ عمودی بھی ہوں ۔ مثلث LL1 ABC پر مثلث abcکی طرح پڑتی ہے (شکل(6.11  
آرتھوگونل پروجیکشن : یہ متوازی پروجیکشن کی خصوصی حالت ہے۔نقشے زمین کے آرتھوگونل پروجیکشن ہوتے ہیں۔ اس پروجیکشن کا فائدہ یہ ہے کہ سطح پر دوریاں ، زاویے اور رقبے اشیاء کی بلندی میں تفریق سے آزاد ہوتے ہیں۔کل6.12 آرتھوگونل پروجیکشن کی ایک مثال ہے جہاں پڑنے والی شعاعیں لائن LL1 کے عمود پر ہیں۔
11
شکل 6.12آرتھوگونل پروجیکشن
مرکزی پروجیکشن : شکل 6.13 میں مرکزی پروجیکشن کی مثال دکھائی گئی ہے۔ پڑنے والی شعائیں Bb,Aa اور ـCc ایک مشترک نقطہ O سے گزرتی ہیں جس کو تناظری مرکز کہتے ہیں۔ لینس کے ذریعہ پڑنے والی شبیہ کو مرکزی پروجیکشن کی طرح مانا جاتا ہے۔

12
شکل 6.13قائم الزاویہ پروجیکشن

جیساکہ پہلے تذکرہ کیا گیاہے کہ ہوائی فوٹوگراف ایک مرکزی پروجیکشن ہے ۔ ایک مطلق عمودی طورپر مسطح خطے میں ہوائی فوٹوگراف جیومیٹری کے اعتبار سے اس علاقے کے نقشے کے بالکل مطابق ہوتا ہے۔البتہ تصویر کا جھکاؤ اور تصویرشدہ زمین کے خدوخال میں تبدیلی کی وجہ سے ہوائی تصویر اس علاقے کے نقشے سے جیومیٹری کے اعتبار سے مختلف ہوجاتی ہے۔
جیساکہ شکل 6.14 میں دکھا یا گیا ہے کہ S کیمرہ کے لینس کا مرکز ہے ۔ زمینی سطح سے آنے والی شعاؤں کا جھرمٹ اسی نقطے کا احاطہ کرتا ہے اور یہاں سے نگیٹو (فوٹو) کی سطح پر منتشر ہوتا ہے اور شے کی شبیہ بناتا ہے۔ اس اس طرح مرکزی پروجیکشن کی یہ خصوصیت ہے کہ تما م سیدھی لائنیں شے کے نقطوں کو ان کی مطابقت والے شبیہ کے نقطوں سے ملاتی ہیں یعنی ایک ہی نقطے سے گزرتی ہیں ۔ شکل 6.14 میں اس تعلق کو بتا یا گیا ہے۔ CCi,BBi,AAi اور DDi کی سیدھی لائنیں تصویرشدہ زمین اور نگیٹو سطح پر ان کی مطابقت والے نقطوں کو ملاتی ہیں ۔مثال کے طور پر زمین پر Aاور نگیٹوسطح پر Ai(یامثبت سطحپر a) مطابقت رکھنے والے نقطوں کو ملانے والا ایسا خط ہے جو کیمرہ کے مرکزی لینس سے گزرتا ہے۔ اگر ہم Sکیمرہ کے محور کے مطابق ایک عمود نگیٹیو سطح (Nagative Plane)تک کھینچیں تو وہ نقطہ جہاں یہ عمود ن نگیٹوسے ملتا ہے اسے صدر نقطہ (Principal Point) کہاجاتا ہے (شکل6.14 میں (P ۔اگرہم اسی لائن کو زمین تک بڑھائیں تو یہ حدف سطح(تصویر شدہ زمین )سے PG پر یعنی زمینی صدر نقطہ پر ملے گا۔ اسی طرح اگر ہم ایک عمودی خط (پلمب لائن جیساکہ ثقل کی سمت کے ذریعہ ظاہر کیاجا تا ہے) Sسے کھینچیں تو یہ فوٹو نگیٹوپر ایک ایسے نقطے پر ملے گا جس کو نادر پوائنٹ اور زمین پر زمینی نادر پوائنٹ کہا جاتا ہے۔ شکل ,6.3 6.5اور 6.7 کے مشاہدے سے دیکھا جاسکتا ہے کہ پلمب لائن اور کیمرے کا محور عمودی تصویر کے لیے منطبق ہیں لیکن ترچھی اور جھکی ہوئی تصویروں کے لیے وہ الگ الگ ہیں۔ اس طرح عمودی تصویرکی صورت میں صدر نقطہ (Principal Point) اور نقطہ سمت القدم (Nadir Point) بھی ایک دوسرے سے منطبق ہوتے ہیں۔ترچھی تصویرکے لیے کیمرہ کے محور اور پلمب لائن کے درمیان زاویہ جھکا ہوا زاویہ ہوتا ہے۔ شکل6.14 عمودی تصویر کی مثبت اور منفی دونوں سطحوں کو دکھاتا ہے۔ مثبت اورمنفی سطحوں کی جیومیٹری ایک جیسی ہے۔
یہاں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ SP یعنی کیمرہ لینس اور نگیٹو پلین کے درمیان عمودی دوری کو فوکس فاصلہ (Focal Length) کی حیثیت سے جانا جاتا ہے ۔دوسری طرف SPG یعنی کیمرہ لینس اور تصویرشدہ زمین کے درمیان عمودی دوری کواڑان کی بلندی (Flying Height) کہاجاتا ہے۔

13
شکل 6.14مرکزی پروجیکشن

نقشہ اور ہوائی فوٹوگراف میں فرق

ہوائی فوٹو گراف سے براہ راست کسی نقشے کی چربہ نگاری(Tracing) نہیں کی جاسکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پلینی میٹری (پروجیکشن ) اور نقشہ اور ہوائی فوٹو گراف کے تناظر میں بنیادی فرق ہے۔یہ فرق جدول 6.2 میں دیا گیا ہے۔

جدول 6.2 نقشہ اور ہوائی فوٹو گراف میں فرق

نقشہ

یہ ایک آرتھوگونل پروجیکشن ہے۔
 نقشہ جیومیٹری کے اعتبارسے زمین کے دکھائے گئے حصے کی صحیح نمائندگی کرتاہے۔
 نقشہ کا پیمانہ پورے نقشہ پر یکساں ہوتا ہے۔
نقشہ کو بڑا کرنے یا چھوٹا کرنے کا مطلب ہے اسے ازسرنو بنا نا۔ ناقابل عبور اور غیربے فیض علاقوں کی نقشہ نگاری بہت مشکل ہوتی ہے اور کبھی کبھی یہ ناممکن ہوجاتی ہے۔   

ہوائی فوٹو گراف

یہ ایک مرکزی پروجیکشن ہے۔  
ہوائی فوٹو گراف جیومیٹری کے اعتبارسے غلط ہوتا ہے۔ جیومیٹر ی میں خرابی مرکز کے پاس سب سے کم ہوتی ہے اور کناروں کی طرف بڑھتی جاتی ہے۔  
تصویر کا پیمانہ یکساں نہیں ہوتا۔
بڑا کرنے یا چھوٹا کرنے سے تصویر کے مواد نہیں بدلتے اور آسانی سے عمل میں لایا جاسکتا ہے۔
ہوائی فوٹو گرافی ناقابل عبور اور بے فیض علاقوں میں بہتر ہوسکتی ہے۔

  عمودی ہوائی تصویروں میں بھی یکساں پیمانہ نہیں ہوتا جب تک کہ وہ مسطح خطے کے لیے نہ کھینچی گئی ہوں۔ہوائی تصویروں کو نقشے کے متبادل کی حیثیت سے استعمال کرنے سے پہلے تناظر ی منظر سے پلینی میٹرک منظر میں بدلنا پڑتا ہے۔ ایسی بدلی ہوئی تصویروں کو آرتھوفوٹو(Orthophoto ) کہتے ہیں۔

ہوائی تصویروں کا پیمانہ

آپ نقشہ پرپیمانے کے تصورسے واقف ہیں(دیکھیں باب(2۔ ہوائی تصویروں کے لیے پیمانے کا تصور بالکل اسی طرح ہے جیسے نقشے کے لیے۔ ہوائی تصویر پر دوری اور انہیں دو جگہوں کے درمیان حقیقی دنیا میں زمین پر دوری کے تناسب کو پیمانہ کہتے ہیں۔یہ مساوی اکائیوں میں ظاہر کیا جاسکتا ہے جیسے ایک سینٹی میٹر 1000= کلومیٹر (یا 12,000 انچ) یا نمائندہ کسرکی صورت میں 100,000) 1:)
پیمانہ اس بات کا تعین کرتا کہ کونسی چیز یں مرئی ہوں گی، تخمینہ کی صحت کتنی ہے اور بعض خط وخال کس طرح ظاہر ہوں گے۔ہوائی تصویروں پر مبنی تجزیہ کرتے وقت کبھی کبھی یہ ضروری ہوتا ہے کہ اشیاء کی تعداد ، کچھ مواد کے ذریعہ احاطہ کیے گئے رقبہ کا تخمینہ لگا یا جائے یا ان کی لمبائی پر منحصر بعض خط وخال کی پہچان کی جائے۔تصویر کی تشریح کرتے وقت اس بعد کا تعین کرنے میں لمبائی اور رقبے کااندازہ کرنا ضروری ہوتا ہے جس میں تصویر کے پیمانے کاعلم ضروری ہے۔ہوائی تصویر کے پیمانے کی تحسیب کے لیے تین طریقے ہیں جس میں معلومات کے مختلف مجموعوں کا استعمال کیا جاتا ہے:

پہلا طریقہ : تصویر ی فاصلہ اور زمینی فاصلے کے درمیان تعلق قائم کرکے:  

اگر اضافی معلومات جیسے ہوائی تصویر میں قابل شناخت دونقطوں کا زمینی فاصلہ موجود ہوتو عمودی فوٹو گراف کے پیمانہ کومعلوم کرنا آسان ہوگا بشرطیکہ زمینی فاصلہ (Dg ) معلوم ہو جس کے لیے ہوائی تصویر پر فاصلے (Dp)کی پیمائش کرنی ہے۔ اس حالت میں ہوائی تصویر کے پیمانے کوان دو کے تناسب میں ناپا جاسکتا ہے، یعنی DP/Dg ۔
مسئلہ 6.1 ایک ہوائی تصویر پر دونقطوں کادرمیانی فاصلہ 2 سینٹی میٹر ہے۔ زمین پر انہیں دو نقطوں کے درمیان کا فاصلہ ایک کلومیٹر ہے۔ ہوائی تصویر کے پیمانے (SP) کا حساب لگا ئیں۔
حل:
hal

دوسراطریقہ: تصویری فاصلہ اور نقشے کے فاصلے کے درمیان تعلق قائم کرکے :

  ہم جانتے ہیں کہ زمین پر مختلف نقطوں کے درمیان فاصلے ہمیشہ معلوم نہیں ہوتے۔البتہ اگر ہوائی تصویر پر دکھائے گئے رقبہ کے لیے کوئی قابل اعتمادنقشہ موجود ہو تو اسے تصویر کا پیمانہ متعین کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں نقشہ اور ہوائی تصویر پر دوقابل شناخت نقطوں کی دوری ہمیں اس قابل بنادیتی ہے کہ ہم ہوائی تصویر کے پیمانہ(SP) کی پیمائش کرسکیں۔ ان دوفاصلوں کے درمیان تعلق کو اس طرح ظاہر کیا جاسکتا ہے ]تصویر کا پیمانہ: نقشہ کاپیمانہ[ ] = تصویری   فاصلہ : نقشے پر فاصلہ [ تصویرکاپیمانہ= (SP) تصویر ی فاصلہ (DP) : نقشے پر فاصلہ   (Dm) × نقشہ کے پیمانہ کاعامل کاعامل (MSF)  
  Map Scale Factor     
مسئلہ 6.2 : ایک نقشہ پر دونقطوں کا فاصلہ 2 سینٹی میٹر ہے۔ ہوائی تصویر پر انہیں دو نقطوں کے درمیان فاصلہ 10سینٹی میٹرہے ۔ تصویر کا پیمانہ معلوم کیجیے جبکہ نقشہ کاپیمانہ 1:50,000 ہے۔

msf x Dm :   Dp = Sp
یا
  10 = سینٹی میٹر 2 : سینٹی میٹر 50,000 x   
یا
  10 = سینٹی میٹر : 100,000 سینٹی میٹر  
یا
1 = سینٹی میٹر : 10,000 = 100,000/10سینٹی میٹر      
  یا
  1 = اکائی 10,000 اکائیوں کی نمائندگی کرتی ہے۔
اس لئے 1:10,000   =   SP

15
شکل 6.15عمودی فوٹو گراف کی جیومیٹری
اور ہوائی جہاز کے اڑان کی بلندی (H)کے درمیان تعلق قائم کرکے:
اگر تصویر اور زمین یا نقشے پر اضافی فاصلے کے بارے میں مزید معلومات موجود نہیں ہیں تو ہم تصویر کے پیمانے کا تعین کیمرہ کا طول ماسکہ (f) اور ہوائی جہاز کے اڑان کی بلندی (H) کے بارے میں معلومات کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے (شکل 6.15 )۔ تصویر کے پیمانے کا اس طرح سے تعین کرنا زیادہ قابل اعتماد ہوسکتا ہے اگر ہوائی تصویر مکمل طورپر عمودی ہویا عمود کے قریب تر ہوا اور تصویر شدہ خطہ مسطح ہو۔ زیادہ تر عمودی تصویروں پر کیمرے کا طول ماسکہ (f) اور ہوائی جہاز کے اڑان کی بلندی (H)حاشیائی معلومات کی حیثیت سے ہوتی ہیں (باکس6.2 ) ۔ شکل 6.15 کو تصویرکے پیمانہ کا فارمولہ اخذکرنے کے لیے مندرجہ ذیل طریقہ سے استعمال کیا جاسکتا ہے:
طول ماسکہ (f): اڑان کی بلندی (H) =   
تصویر ی فاصلہ :(Dp) زمینی فاصلہ (Dg)  
مسئلہ 6.3 ایک ہوائی تصویر کا پیمانہ معلوم کیجیے جب کہ ہوائی جہاز کے اڑان کی بلندی 7500  میٹر ہے اور کیمرے کا طول ماسکہ 15 سینٹی میٹر ہے۔
H : f       = Sp
یا =   Sp 15 سینٹی میٹر : 100×75,00 سینٹی میٹر     
یا 750,000 15 : 1    = Sp
اس لیے1: 50,000   = Sp  

باکس 6.2 عمودی ہوائی تصویر وں پردی گئی حاشیائی معلومات      


793 تصویرکی وضاحت کا نمبر ہے جو سروے آف انڈیاکی APFPS73 پارٹی کی طرف سے دیا جاتا ہے۔ Bوہ فلائنگ ایجنسی ہے جس نے موجودہ تصویر کو کھینچا ہے (ہندوستان میں تین فلائنگ ایجنسیوں کو اجازت ہے کہ وہ ہوائی تصویریں کھینچ سکیں۔یہ ہیں ہندوستانی ہوائی فوج ، ایئرسروے کمپنی کولکتہ اورنیشنل ریموٹ سنسنگ ایجنسی ،حیدرآبادجن کی پہچان ہوائی تصویروں پر بالترتیب B,A اور Cسے کی جاتی ہے) 5پٹی نمبر ہے اور 23 پانچویں پٹی پر تصویر کا نمبر ہے۔

16

مشق  

کثیر انتخابی سوالات
مندرجہ ذیل میں کس ہوائی تصویرمیں افق نظرآتا ہے؟
(الف) عمودی  
(ب) تقریباً عمودی
(ج) کم ترچھی
(د) زیادہ ترچھی
مندرجہ ذیل میں کس ہوائی تصویرمیں سمت القدم اور صدر نقطہ ایک دوسرے پرمنطبق ہوتے ہیں؟
(الف) عمودی  
(ب) تقریباًعمودی
(ج) کم ترچھی  
(د) زیادہ ترچھی
ہوائی تصویروں میں کس قسم کا پروجیکشن استعمال کیا جاتا ہے؟
(الف) متوازی
(ب) آرتھوگونل
(ج)    مرکزی
(د) مندرجہ بالا میں سے کوئی نہیں

مختصرجوابی سوالات

زمین پرمبنی مشاہدات کے بالمقابل ہوائی تصویروں کے کنہیں تین فائدوں کا تذکرہ کریں۔
ہوائی تصویریں کیسے لی جاتی ہیں؟
ہندوستان میں ہوائی فوٹو گرافی کا مختصر جائزہ پیش کریں۔
مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 125 الفاظ میں دیں:
(i)     ہوائی فوٹو گراف کے دواہم استعمال کیا ہیں؟وضاحت کریں۔
(ii) پیمانہ کا تعین کرنے کے لیے مختلف طریقے کون سے ہیں؟