باب
1
نقشوں کا تعارف Introduction to Map

شکل 1.1گلوب پردیکھاجانے والا بھارت
آپ نقشوں سے واقف ہوں گے جنہیں آپ نے سماجی علوم کی اپنی بیشتر کتابوں میں زمین یا اس کے کسی حصے کی نمائندگی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ زمین کی شکل ارض نما(geoid) (ابعاد ثلاثہ) ہے اور گلوب اس کی نمائندگی بہتر طور پر کر سکتا ہے(شکل 1.1)۔دوسری طرف ایک نقشہ پوری زمین یا اس کے کسی حصے کا کاغذ کے ٹکڑے پر ایک آسان سی نقل ہے۔دوسرے لفظوں میں یہ سہ ابعادی(Three dimensionals) زمین کی دو ابعادی(Two dimensionals) شکل ہے۔ اس طرح نقشہ ، اظلال نقشہ(Map Projections) کے طریقوں کو استعمال کرکے بنایا جا سکتا ہے(دیکھیں باب4) ۔ چونکہ زمین کے تمام خطہ وخال کو ان کے صحیح سائز اورشکل میں پیش کرنا ناممکن ہے اس لئے نقشے کو پیمانہ کم کر کے بنایا جاتا ہے۔ آپ اپنے اسکول کے احاطے کا تصور کریں۔ اگر آپ کے اسکول کا کوئی پلان یا نقشہ اس کے حقیقی سائز پر بنایا جائے تو یہ اتنا ہی بڑا ہوگا جتنا کہ اسکول کا احاطہ۔اس لیے نقشوں کوایسے پیمانے اور پروجیکشن کو استعمال کر کے بنایا جاتا ہے جس سے کہ کاغذ پر بنا ہر نقطہ زمین کی اصلی حالت کے مطابق ہو۔ اس کے علاوہ مختلف خط وخال کی نمائندگی کو بھی علامات، رنگوں اورعکسوں(Shades) کا استعمال کر کے آسان بنایا جاتا ہے۔اس لیے نقشے کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے کہ ’’نقشہ پوری روئے زمین یا اس کے کسی حصے کی ہموار سطح پر کم کئے گئے پیمانے کے مطابق انتخابی، علامتی اور عمومی نمائندگی ہے‘‘۔یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ پیمانے کے بغیر، خطوط اور کثیرالاضلاع کے سادہ جال کو نقشہ نہیں کہا جا سکتا۔اسے صرف خاکہ کہہ سکتے ہیں(شکل 1.2 )۔ موجودہ باب میں ہم نقشوں کے ضروری لوازمات، ان کی اقسام اور استعمال کا مطالعہ کریں گے۔

شکل 1.2دہلی کے گردوپیش کا خاکہ دائیں اوردہلی کا نقشہ بائیں
فرہنگ
جزیاتی ؍پٹواری نقشہ (Cadastral Map): ایک بڑے پیمانے کا نقشہ جسے 1:500 سے لے کر 1:4000 تک کے پیمانے پر بنایا جاتا ہے اور جس میں زمین کے ہر حصے کو ایک عدد سے معنون کر کے جائداد کے حدود کو دکھایا جاتا ہے۔
اصلی سمتیں/چہار سمتیں (Cardinal Points) : شمال(N)، جنوب(S)، مشرق(E) اور مغرب (W)
کارٹو گرافی /نقشہ نویسی (Cartography) : نقشوں، خاکوں، منصوبوں اور دیگر خاکائی تعبیروں کو بنانے،ان کا مطالعہ کرنے اور انہیں استعمال کرنے کا آرٹ، سائنس اور تکنیک۔
تعمیم نقشہ (Generalisation-Map) : نقشے پر اس کے پیمانے یا مقصد کی مناسبت سے شکلوں کی مرئی صورت کومتاثر کئے بغیر ،ان کی سھل ترین نمائندگی۔
ارض نما (Geoid) : ایک نارنگی کی شکل کا کرئہ نما(Oblate) جس کی شکل زمین کی اصلی شکل کے مشابہ ہوتی ہے۔
نقشہ (Map) : ایک کم کئے گئے پیمانے پر پوری روئے زمین یا اس کے کسی حصے کی انتخابی، علامتی اور عمومی نمائندگی۔
نقشوں کا سلسلہ (Map Series) :کسی ملک یا خطے کے لئے ایک ہی پیمانے، انداز اور خصوصیات پر بنائے گئے نقشوں کا گروپ۔
اظلال نقشہ(Projection Map): کرۂ نما کی سطح کوہموار سطح میں تبدیلی کا نظام۔
پیمانہ (Scale) : نقشہ ، پلان یا فوٹوگراف پر دو نقطوں کی دوری اور زمین پر انہیں نقطوں کے درمیان کی دوری کا تناسب۔
خاکائی نقشہ (Sketch Map) : آزادانہ طور پر ہاتھ سے کھینچا گیا نقشہ جس میں پیمانے اور سمت کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا۔
نقشہ بنانے کے ضروری لوازمات
نقشے کی مختلف قسموں کو دیکھتے ہوئے یہ بتانا مشکل ہوتا ہے کہ ان میں کون سی باتیں مشترک ہیں ۔نقشہ نویسی ایک آرٹ اور سائنس ہونے کی حیثیت سے ان طریق ہائے عمل کے سلسلوںکی نشاندہی کرتی ہے جو تمام نقشوں میں عام ہوتے ہیں۔ان اعمال کو نقشہ کے لوازمات بھی کہا جا سکتا ہے جو مندرجہ ذیل ہیں:۔
◊ پیمانہ(Scale)
◊ اظلال نقشہ(Map Projection)
◊ تعمیم نقشہ(Map Generalisation)
◊ نقشے کا ڈیزائن(Map Design)
◊ نقشے کی تشکیل اور طباعت(Map Construction and Prodcution)
پیمانہ : ہم جانتے ہیں کہ تمام نقشوں کو چھوٹا کرکے بنایا جاتا ہے۔نقشہ نویس کو سب سے پہلے نقشے کے پیمانے کے بارے میں فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔پیمانے کا انتخاب سب سے اہم ہوتا ہے۔نقشے کا پیمانہ ان معلومات کے حدود ، مواد اور اصلیت کا درجہ مقرر کرتا ہے جنہیں نقشے پر دکھایا جانا ہے۔مثال کے طور پرشکل 1.3 میں مختلف پیمانے والے نقشوں کا موازنہ پیش کیا گیا ہے۔اور پیمانے میں تبدیلی کی بنا پر ہونے والے سدھار کو دکھایا گیا ہے۔
اظلال یا پروجکشن: ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ نقشے زمین کی سہ ابعادی سطح کا کاغد کی سطح پر ایک آسان نمائندگی ہیں۔سبھی اطراف سے خمیدہ ارض نمائی سطح کو ہموار سطح میں بدلنا نقشہ نویسی کے عمل کا دوسرا اہم پہلو ہے۔ہمیں جاننا چاہیے کہ اس طرح کی بنیادی تبدیلی کی وجہ سے ارض نما پر نظر آنے والی سمت،فاصلے، رقبے اور شکلوں میں ناگزیر تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ کرئہ نما کی سطح سے ہموار سطح میں تبدیلی کے نظام کو اظلال نقشہ یا پروجیکشن (Map Projection) کہا جاتا ہے۔نقشہ بنانے میں پروجیکشن کا انتخاب، استعمال اور تشکیل کافی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔

تعمیم (Generalisation) :
ہر نقشہ ایک خاص مقصد کے تحت بنایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک عام مقصد کے تحت بنا ہوا نقشہ عام معلومات جیسے نشیب وفراز(Relief)، پن نکاسی، نباتات، بستیاں،نقل و حمل کے ذرائع وغیرہ کو دکھاتا ہے۔اسی طرح ایک خصوصی مقصد کے تحت بنا ہوا نقشہ ایک یا اس سے زیادہ منتخب عنوانات کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے جیسے آبادی کی کثافت، مٹی کی اقسام یا صنعتوں کا محل وقوع وغیرہ۔ چونکہ نقشے کو گھٹائے ہوئے پیمانے پر ایک خاص مقصد کے لیے بنایا جاتا ہے اس لیے نقشے کے مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے نقشے کے مواد کو طے کرنا ضروری ہوتا ہے۔نقشہ نویس کا تیسرا اہم کام نقشے کے مواد کو عمومی بنانا ہو تا ہے۔اس کے لیے نقشہ نویس ایسی معلومات (Data) کا انتخاب کرتا ہے جو منتخب عنوان کے موافق ہوں اور پھر انہیں ضرورت کے مطابق آسان بناتا ہے۔
نقشے کا ڈیزائن:
نقشہ نویس کا چوتھا اہم کام نقشے کا ڈیزائن ہے۔اس میں نقشے کی خاکائی صفات کی منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے۔اس میں مناسب علامات کا انتخاب،ان کے سائز اورشکل، حروف کو لکھنے کا انداز، خطوں کی موٹائی کا تعین کرنا،رنگوں اور عکسوں کا انتخاب کرنا،نقشے کے اندر نقشے کے مختلف عناصر کو ترتیب دینااور نقشے کی تشریح کے لیے ڈیزائن کرنا شامل ہیں۔اس طرح نقشے کا ڈیزائن نقشہ نویسی کا ایک پیچیدہ عمل ہے اور اس میں ان اصولوں کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے جو خاکائی ترسیل کو متاثر کرتے ہیں۔
نقشے کی تشکیل اور طباعت:
نقشہ نویسی کے عمل میں نقشہ بنانا اور اس کا مناقلہ (Reproduction) نقشہ نویس کا پانچواں اہم کام ہے۔گذشتہ زمانوں میں نقشہ بنانے اور نقل کرنے کا زیادہ تر کام ہاتھ سے کیا جاتا تھا۔نقشے قلم اور سیاہی سے بنائے جاتے تھے اور ان کی طباعت میکانیکی طور پر ہوتی تھی۔لیکن ماضی قریب میں کمپیوٹر کی مدد سے نقشہ نویسی اور فوٹو پرنٹنگ تکنیک کی وجہ سے نقشے کی تشکیل و طباعت میں زبردست انقلاب آچکا ہے۔
نقشہ نگاری کی تاریخ:
نقشہ نگاری کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ نوع انسانی کی خود کی تاریخ۔چکنی مٹی کی تختی پر بنا ہوا 2500 سال ق م کاسب سے قدیم نقشہ میسوپوٹامیہ میں ملا تھا۔ شکل 1.4 میں ٹالمی (Ptolemy)کے ذریعہ بنایا ہوا دنیا کا نقشہ دکھایا گیا ہے۔یونانی اور عرب جغرافیہ دانوں نے جدید نقشہ نویسی کی بنیاد رکھی۔محیط زمین (Circumference of Earth)کی پیمائش اور نقشہ نگاری میں جغرافیائی محدّد(Coordinates)کے نظام کا استعمال یونانیوں اور عربوں کا نمایاں کام ہے۔عہد جدید کے اوائل میں نقشہ نگاری کے آرٹ اور سائنس میں ایک نئی بیداری پیدا ہوئی جس میں حتی المقدور کوشش کی گئی کہ ارض نما کو ہموار سطح پر منتقل کرنے میں بگڑتی شکل کے اثرات کو کم کیا جائے۔صحیح سمت حاصل کرنے ، صحیح فاصلے کو برقرار رکھنے اور رقبے کی درست پیمائش کرنے کے لیے نقشوں کو مختلف اظلال پر بنایا گیا۔ہوائی فوٹوگرافی سروے کے زمینی طریقے میں معاون ثابت ہوئی اور ہوائی فوٹوگراف کے استعمال نے انیسویں اور بیسویں صدی میں نقشہ نگاری کے عمل کو بڑھاوا دیا۔
ہندستان میں نقشہ نگاری کی بنیاد ویدک زمانے میں پڑی جب نجمیاتی حقائق اور فلکیاتی مظاہر کی تشریح کی جانے لگی۔ ان تعبیرات کوآریہ بھٹ،وراہ مہیر،بھاسکر اور دیگر کلاسیکی مجموعہ کے قوانین یا ’سدھانت‘ کی شکل دی گئی۔ قدیم ہندوستانی علمانے اس وقت کی معلوم دنیا کو سات ’’دیپوں‘‘ میں تقسیم کیا تھا(شکل1.5)۔ مہابھارت میں پانی سے گھری ہوئی گول دنیا کا تصور ملتا ہے (شکل1.6 )۔

ٹوڈرمل نے سروے اور نقشہ نگاری کو لگان وصولنے کے طریقے کا لازمی جزء بنانے میں پیش قدمی کی۔اس کے علاوہ شیر شاہ سوری کے محصولی نقشوں نے عہد وسطیٰ میں نقشہ نگاری کی تکنیک کو مزید فروغ دیا۔پورے ملک کے لیے وقت کے ساتھ ہم آہنگ نقشوں کو بنانے کے لیے 1767 میں سروے آف انڈیا کے قیام کے ساتھ تفصیلی وضعی سروے(Topographical Survey) کیا گیا جو 1785 میں ہندوستان کے نقشے کی صورت میں نمودار ہوا۔ آج سروے آف انڈیا پورے ملک کے لیے مختلف پیمانوں پر نقشے تیار کرتا ہے۔
پیمانے پر مبنی نقشوں کی اقسام:پیمانے پر مبنی نقشوں کو بڑے پیمانے اور چھوٹے پیمانے کے نقشوں میں منقسم کیا جاسکتا ہے۔بڑے پیمانے کے نقشے چھوٹے رقبوں کو دکھانے کے لئے نسبتاً بڑے پیمانے پر بنائے جاتے ہیں۔ مثلاً 1:250,000 ،1:50,000 یا 1:25,000 کے پیمانے پر بنائے گئے وضعی نقشے اور دیہی نقشے، شہروں کے زونل پلان اور ہاؤس پلان بڑے پیمانے کے نقشے ہیں جو 1:4,000اور1:500کے پیمانے پر بنائے جاتے ہیں۔

دوسری طرف چھوٹے پیمانے کے نقشے بڑے علاقوں کو دکھانے کے لیے بنائے جاتے ہیں جیسے اٹلس کے نقشے اور دیواری نقشے وغیرہ۔
(i) بڑے پیمانے کے نقشے (Large-scale Maps): بڑے پیمانے کے نقشوں کو مزید دو قسموں میں بانٹا گیا ہے :
(الف) جزیاتی یا پٹواری نقشے(Cadastral Maps)
(ب) وضعی نقشے (Topographical Maps)
(الف)جزیاتی یا پٹواری نقشے:
کیڈسٹرل کی اصطلاح فرانسیسی لفظ’ کیڈسٹر‘سے ماخوذ ہے جس کے معنی ’زمینی جائداد کا اندراج‘ ہے۔یہ نقشے زمینی جائداد کی ملکیت کو دکھانے کے لیے بنائے جاتے ہیں جس میں زرعی زمین کی حدود اور شہری علاقوں میں انفرادی گھروں کے پلان کی نشان دہی ہوتی ہے۔پٹواری نقشے لگان اور محصولات وصول کرنے کے لیے اور ملکیت کا ریکارڈ رکھنے کے لیے سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے تیار کیے جاتے ہیں۔یہ نقشے بہت بڑے پیمانے پر بنائے جاتے ہیں جیسے گاؤں کا پٹواری نقشہ1:4000 کے پیمانے پر اور شہری پلان1:2000 کے پیمانے پر یا اس سے بھی بڑے پیمانے پر بنائے جاتے ہیں۔
(ب) وضعی نقشے:
یہ نقشے بھی کافی بڑے پیمانے پر بنائے جاتے ہیں۔وضعی نقشے بالکل درست سروے پر مبنی ہوتے ہیں اور دنیا کے تقریباً تمام ممالک کی قومی نقشہ نویس ایجنسیوں کے ذریعے نقشوں کے سلسلے کی شکل میں تیار کیے جاتے ہیں(دیکھیں باب5)۔ مثال کے طور پر سروے آف انڈیا پورے ملک کا وضعی نقشہ 1:250,000 ،1:50,000 اور 1:25,000 کے پیمانے پر تیار کرتا ہے(شکل 1.3 )۔ ان نقشوں میں وضعی تفصیلات جیسے نشیب وفراز، پن نکاسی، زرعی زمین، جنگلات، بستیاں، ترسیل کے ذرائع، اسکول، ڈاک خانہ،اور دیگر خدمات و سہولیات کے محل وقوع کو دکھانے کے لیے یکساں رنگوں اور علامات کا استعمال کیا جاتا ہے۔
(ii) چھوٹے پیمانے کے نقشے(Small-scale Maps): چھوٹے پیمانے کے نقشوں کو مزید مندرجہ ذیل اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
(الف) دیواری نقشے (Wall Maps)
(ب) اٹلسی نقشے (Atlas Maps)
(الف) دیواری نقشے:
عام طور پر یہ نقشے بڑے سائز کے کاغذ یا پلاسٹک کے کوٹ والے کاغذ پر کلاس روم یا لکچر ہال میں استعمال کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔دیواری نقشوں کا پیمانہ عام طور پر وضعی نقشوں کے پیمانے سے چھوٹا ہوتا ہے لیکن اٹلس کے نقشوں کے پیمانے سے بڑا ہوتا ہے۔
(ب) اٹلسی نقشے:
اٹلس کے نقشے چھوٹے پیمانے کے نقشے ہیں۔ یہ نقشے کافی بڑے علاقوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور طبیعی یا ثقافتی خصوصیات کی بہت زیادہ عمومی تصویر پیش کرتے ہیں ۔پھربھی ، اٹلسی نقشے دنیا ، براعظموں ، ممالک یا خطوں کے بارے میں جغرافیائی معلومات کے ترسیمی قاموس کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اگر ان کا مطالعہ مناسب طورپر کیا جائے تو ان نقشوں سے عمل وقوع ، ریلیف، پن نکاسی ، آب وہوا ، نباتات ، شہروں اور قصبوںکی تقسیم ، آبادی ، صنعتوںکا محل وقوع ، نقل وحمل کے جال کا نظام ، سیاحت اور توراثی مقامات کے بارے میں عمومی معلومات کا خزانہ ملتا ہے ۔
عمل پر مبنی نقشوں کی اقسام:
نقشوں کی تقسیم ان کے کام کی بنیادپر بھی کی جاتی ہے مثلاً ایک سیاسی نقشہ کسی براعظم یا ملک کی انتظامی تقسیم فراہم کرنے کا کام کرتا ہے اورخاکی نقشہ مختلف اقسام کی مٹی کی تقسیم دکھا تا ہے۔ مجموعی طورپر نقشوں کو ان کے کام کی بنیاد پر طبیعی نقشوں اور ثقافتی نقشوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔
(i) طبیعی نقشے :
طبیعی نقشے قدرتی خط وخال جیسے ریلیف ، ارضیات ، مٹی، پن نکاسی ، موسم اور آب وہوا کے عناصر ، نباتات وغیرہ کو دکھاتے ہیں۔
(الف) ریلیفی نقشے:
ریلیفی نقشے کسی علاقے کی عام وضع یا زمینی خدوخال کو دکھاتے ہیں جیسے پہاڑ اور وادیاں ، میدان ، سطح مرتفع،ندیاں۔ شکل 1.7 ناگ پور ضلع کے ریلیف اور ڈھلانی نقشے کو دکھاتا ہے ۔



(ب) ارضیاتی نقشہ:
ان نقشوں کو ارضیاتی ساخت اور چٹانی قسموں کو دکھانے کے لیے بنایا جاتا ہے ۔شکل 1.8 ناگپور ضلع میں چٹانوں اور معدنیات کی تقسیم دکھاتی ہے۔
(ج) آب وہوائی نقشے:
یہ نقشے کسی علاقے کے آب وہوائی خطوں کو دکھاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ درجۂ حرارت ، بارش ، ابر آلودگی ، رطوبت اضافی ، ہواؤں ہواؤں کی سمت اور رفتار اور موسم کے دیگر عناصر کی تقسیم کو دکھا نے لئے بھی یہ نقشے بنائے جاتے ہیں (شکل 1.9 ) ۔
(د) خاکی نقشے:
مختلف قسم کی مٹی اور ان کی خصوصیات کو دکھانے کے لیے بھی نقشے بنائے جاتے ہیں (شکل1.10 )
(ii) ثقافتی نقشے: ثقافتی نقشےانسان کے ذریعہ بنائی گئی چیزوں کو دکھاتے ہیں۔ ان میں مختلف قسم کے نقشے شامل ہیں جیسے آبادی کی تقسیم اور اضافہ ، جنس اور عمر ، سماجی اور مذہبی ساخت، خواندگی ، تعلیمی حصولیابی کی سطح ، پیشہ ورانہ ساخت ، بستیوں کا محل وقوع ، سہولیات وخدمات ، نقل وحمل کے خطوط اورپیداوار ، مختلف اشیاء کی تقسیم وروانی ۔
(الف) سیاسی نقشے:
یہ نقشے کسی علاقے جیسے ملک ، صوبہ یا ضلع کے انتظامی حصوں کو دکھاتے ہیں۔ یہ نقشے انتظامیہ کوانتظامی اکائیوںسے متعلق منصوبہ بندی اورنظم ونسق میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔
(ب) آبادی کے نقشے:آبادی کے نقشے آبادی کی تقسیم ، کثافت اوراضافۂ عمرآبادی، اور جنس کی ساخت ، مذہبی، لسانی اور سماجی گروپوں کی تقسیم اور آبادی کی پیشہ ورانہ ساخت کو دکھانے کے لیے بنائے جاتے ہیں (تصویر1.11)۔ علاقے کی منصوبہ بندی اور ترقی میں آبادی کے نقشے اہم کردار اداکرتے ہیں۔

(ج)معاشی نقشے :
معاشی نقشے مختلف قسم کی فصلوںاورمعدنیات کی پیداوار اور تقسیم ، صنعتوں اور بازاروں کے محل وقوع ، تجارت کے راستوں اور اشیاء کی روانی کی سمت کو دکھاتے ہیں۔ شکل 1.12 ناگپورمیں زمین کا استعمال اورشکل 1.13 فصلوں کی ترتیب اور صنعتوں کے محل وقوع کو دکھاتی ہیں۔

(د)نقل وحمل کے نقشے:
یہ نقشے سڑک ، ریلوے لائن ، ریلوے اسٹیشنوںاور ہوائی اڈوں کے محل وقوع کو دکھاتے ہیں۔
نقشوں کا استعمال
جغرافیہ داں، منصوبہ کار اور وسائل کے سائنسداںنقشوں کا استعمال کرتے ہیں ۔ اس استعمال میں وہ فاصلوں ، سمتوں اور رقبے رقبے کا تعین کرنے میں وہ کئی طرح کی پیمائش کا استعمال کرتے ہیں۔
فاصلوں کی پیمائش:
نقشے میں نظرآنے والی خطی اشکال دوبڑی قسم کے ہوتی ہیں۔ خط مستقیم اورغیر مستقیم یاخط منحنی۔ خط مستقیم کی اشکال جیسے ریلوے لائن ، سڑک اور نہر کی پیمائش آسان ہے ۔ اس کی پیمائش براہ راست ڈیوائڈر کی مدد سے یا نقشے کی سطح پر پیمانہ رکھ کرکیا جاسکتاہے۔ لیکن زیادہ ترفاصلوں کی ضرورت غیر مستقیم راستوں جیسے سمندری ساحل، ندیوں اور نالوں میں پڑتی ہے۔ ایسی شکلوں کی فاصلوں کی پیمائش ان شکلوں کے نقطہ آغاز سے نقطہ انجام تک دھاگہ رکھ کر کی جاتی ہے ۔ پھرفاصلے کو معلوم کرنے کے لیے دھاگے کو پھیلاکر پیمائش کی جاتی ہے۔ ان دوریوں کی پیمائش ایک آسان آلے، جسے روٹامیٹر(Rotameter) کہا جاتا ہے، کے ذریعہ بھی کی جاتی ہے۔ روٹا میٹرکے پہیے کو منحنی راستوں پر چلاکر دوری کی پیمائش کی جاتی ہے۔
سمت کی پیمائش:
نقشے پر سمت کی تعریف ایک تصوراتی خط مستقیم کی حیثیت سے کی جاتی ہے جو ایک عمومی بنیادی سمت سے زاویائی پوزیشن کو دکھاتا ہے۔ شمال کی طرف اشارہ کرنے والا خط سمت صفر یا بنیادی سمت کا خط بتاتا ہے۔ نقشہ ہمیشہ شمال کی سمت دکھاتا ہے اور دیگرتمام سمتیں اسی کے تعلق سے مقرر کی جاتی ہیں۔ شمالی سمت سے نقشے کا استعمال کرنے والا اس قابل ہوجاتا ہے کہ مختلف اشکال کا تعین ایک دوسرے کے تعلق سے کرسکے۔ عام طور پر چار سمتیںمعروف ہیں:شمال،جنوب،مشرق، مغرب ۔ ان کو سمتی نقطے (Cardinal Points) بھی کہا جاتا ہے۔ان سمتی نقطے کے درمیان کئی وسطی سمتیں بن سکتی ہیں(شکل 1.14)۔

پیمائش:
نقشوں کا استعمال کرنے والے نقشوںکی سطح سے شکلوں کے رقبے جیسے انتظامی اور جغرافیائی اکائیوں کی پیمائش بھی کرلیتے ہیں ۔ رقبے کی پیمائش مختلف طریقوں سے کی جاتی ہے ۔ ان میں سے سب سے آسان طریقہ مساوی مربع کی ترتیب ہے لیکن یہ بہت زیادہ صحیح طریقہ نہیں ہے۔ اس طریقہ میں نقشے پر مساوی مربعے کھینچے جاتے ہیں جو روشن ٹریسنگ ٹیبل پر نقشے کے نیچے گراف پیپر رکھ کر کیا جاتا ہے یا اس رقبے کو مربع جاتی کاغذ پر اتار لیا جاتا ہے۔ مکمل مربع کی کل تعداد اور نا مکمل مربع کی تعداد کو جوڑ لیا جاتا ہے۔ اس کے لئے مندرجہ ذیل مساوات کا استعمال کیا جاتا ہے:
رقبہ= مکمل مربع کی کل تعداد +( نامکمل مربع کی تعداد÷2 )× نقشے کا پیمانہ
رقبے رقبے کی پیمائش پولرپلینی میٹر(Polar Planimeter) کا استعمال کرکے بھی کی جاسکتی ہے ۔(باکس 1.1)
باکس1.1 پولرپلینی میٹرکا استعمال کرکے رقبے کی پیمائش
رقبے کی پیمائش پولرپلینی میٹرکا استعمال کرکے بھی کی جاسکتی ہے- اس آلے میں ایک چھڑ کی حرکت کے ساتھ پیمائش کی جاتی ہے جس کے لوکس کو ایک سرے کے تعبیری قوس(Radial Arc) سے نصب کرکے روکا جاتا ہے -پیمائش کئے جانے والے رقبے کو اس کے محیط کے ساتھ گھڑی کی سوئیوں کے موافق سمت میں ایک اشاریہ نشان کے ساتھ ٹریس کیا جاتا ہے۔ آغاز کے لیے ایک ایسے سہولیاتی نقطے کا انتخاب کرتے ہیں جہاں ٹھیک اسی نقطے پرٹریسنگ کے بازوکا اشاریہ لوٹ کرآجائے ۔رقبے کے محیط کو ٹریس کرنے سے پہلے اور بعد میں ڈائل کی ریڈنگ آلاتی اکائی میںقدر کو بتاتی ہے۔ رقبے کو مربع انچ یا مربع سینٹی میں بدلنے کے لئے ان ریڈنگس کی اسی مستقلہ (Constant) سے ضرب دینا پڑتا ہے جو اس خاص آلے کے لیے دیا گیا ہے۔

مزید معلومات کے لیے انٹرنیٹ کا پتہ:bhuvan.nrsc.gov.in
مشق
1۔ مندرجہ ذیل چارمثالوں میںسے صحیح جواب کاانتخاب کریں:
(i) خطوط اور کثیر الا ضلاع کے جال کو نقشہ کہنے کے لیے مندرجہ ذیل میں سے کس کا ہونا ضروری ہے۔
(الف) تشریح نقشہ
(ب) علامات
(ج) شمالی سمت
(د) نقشے کا پیمانہ
(ii) ایک نقشہ کا پیمانہ 1:4000 اور اس سے بڑا ہے ۔اسے کون سا نقشہ کہیں گے۔
(الف) پٹواری نقشہ
(ب) وضعی نقشہ
(ج) دیواری نقشہ
(د) اٹلسی نقشہ
(iii) مندرجہ ذیل میں کون نقشے کا لازمی عنصر نہیں ہے:
(الف) اظلال نقشہ
(ب) تعمیم نقشہ
(ج) نقشہ کا ڈیزائن
(د) نقشہ کی تاریخ
2۔ مندرجہ ذیل سوالات کے جوا ب تقریباً 30 الفاظ میں دیں۔
(i) تعمیم نقشہ کیا ہے؟
(ii) نقشے کا ڈیزائن اہم کیوں ہے؟
(iii) چھوٹے پیمانے کے نقشوں کے مختلف اقسام کیا ہیں؟
(iv) بڑے پیمانے کے نقشوںکی دواہم قسمیں بتائیے؟
(v) ایک نقشہ خاکہ سے کس طرح مختلف ہوتا ہے؟
3 ۔ نقشوں کی اقسام پرایک تفصیلی جائزہ پیش کریں۔