Skip to content


Jugrafia_me_Amali_kaam

7

ریموٹ سنسنگ یا فضائی ادراک کا تعارف

(Introduction to Remote Sensing)  


آپ نے باب 6 میں ہوائی فوٹو گرافی یعنی تصویر کشی کے بارے میں پڑھا ۔اگر آپ نے اس کے مواد پر غور کیا ہوگاتو آپ نے یہ بھی سمجھا ہوگا کہ یہ انسانی آنکھوں کے مشاہدہ کرنے اورریکارڈ کرنے کی صلاحیت کی توسیع ہے۔ آپ نے یہ بھی نوٹ کیا ہوگا کہ ہوائی تصویر کشی کا نظام، سطح زمین کی چیزوں کے مشاہدات اور ریکارڈنگ کے ان تمام اصولوں کا استعمال کرتا ہے جو آنکھ کے ذریعہ کی جاتی ہیں۔ تاہم انسانی آنکھ اور تصویر کشی کا نظام دونوں ہی اس روشنی کے ساتھ عمل کرتے ہیں جواشیا کی سطح سے حاصل ہوتی ہے اورجو کل توانائی کا محفل ایک چھوٹا حصہ ہے۔دوسری طرف آج کل کے ریموٹ سنسنگ یا فضائی ادراک کے آلات صفر کیلوین درجۂ حرارت (-273oC) سے اوپر تمام اشیاء کی سطح سے منعکس ؍خارج ، جذب اورمنتقل کی گئی شعاع ریزی کے وسیع سلسلوں کے ساتھ تعامل کرتے ہیں۔
ریموٹ سنسنگ یا فضائی ادراک کی اصطلاح کا استعمال پہلی بار 1960 کے اوائل میں کیاگیا ۔ بعدمیںاس کی تعریف ان تمام طریقے عمل کی حیثیت سے کی گئی جن کا استعمال ایک ایسے ریکارڈ نگ آلے (مدرک یا سینسر) کے ذریعہ چیزوں اور مظاہرکی خصوصیات کی معلومات حاصل کرنے اور ان کی پیمائش کرنے میں کیا جاتا ہے جس کا مطالعے کے تحت۔ چیزوں اور مظاہر کے ساتھ کوئی جسمانی تعلق نہیں ہوتا ۔ ریموٹ سنسنگ کی اس تعریف سے یہ ذہن نشیںکیا جاسکتا ہے کہ اس میں ابتدائی طورپر چیزوں کی سطح ، ریکارڈ کرنے والا آلہ اور معلومات لانے والی توانائی کی لہریں شامل ہیں۔(شکل 7.1 )


1


2
معلومات بردار
توانائی لہریں
ادراک

فرہنگ

جاذبیت (Absorptance) : کسی چیزکے ذریعہ جذب کی گئی اشعاعی توانائی کا اس کے ذریعہ حاصل کردہ توانائی کا تناسب۔
بینڈ(Band) : برقی مقناطیسی طیف میں نوعی طول موج کا وقفہ ۔
ڈیجیٹل شبیہ(Digital image) صف اور کالم میں ترتیب سے رکھے گئے ڈیجیٹل نمبروں (DN) کی صف بندی جس میں ان کی شدت کی قدر اور محل وقوع کی خصوصیت ہوتی ہے۔
ڈیجیٹل نمبر(Digital Number) :ڈیجیٹل شبیہ میںایک پکسل (Pixel)کی قدر شدت۔
ڈیجیٹل شبیہ کا طریقہ کار   (Digital Image Processing):نمائندہ سطح کے مظاہرکے بارے میںمعلومات حاصل کرنے کی غرض سے DN قدروں کا عددی استعمال۔
برقی مقناطیسی شعاع ریزی (Electromagnetic Radiation (EMR) : روشنی کی رفتار سے کسی اسپیس(Space)یعنی مکان یا میڈیم(Medium)یعنی واسطہ کے ذریعہ توانائی کی سرایت۔
برقی مقناطیسی طیف(Electromagnetic Spectrum):چھوٹی لہروں کی زیادہ تعددی کائناتی شعاع ریزی سے بڑی طولِ موج کی کم تعددی تابکاری لہروں کا برقی مقناطیسی شعاع ریزی (EMR)سلسلہ۔
جھوٹے رنگ کا مخلوط   (False Colour Composite) :   مصنوعی طورپربنائے گئے رنگوں کی شبیہ جس میں نیلے ، ہرے اور لال رنگ ان طول موج والے خطوں کو تفویض کیاجاتا ہے جو قدرتی طور پر ان میں نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر معیار جھوٹے رنگ مخلوط(FCC) نیلے کو ہری شعاع ریز ی (0.5 سے 0.6 µmمائکرو میٹر)کے لیے ہرے کولال شعاع ریزی( 0.6 سے 0.7 µmمائکرومیٹر) اورلال کوقریب تر زیریں سرخ شعاع ریزی(0.7 سے0.8 µmمائکرو میٹر) کے لئے تفویض کیا جاتا ہے۔
بھورا پیمانہ (Gray Scale) :کسی شبیہ کی چمک دمک میں تغیرات کو پیمانہ بند کرنے کا وسیلہ جس کا تفاوت درمیانی بھوری قدروں سمیت کالے سے سفیدتک ہوتا ہے ۔
  شبیہ (Image) : قدرتی اورمصنوعی خط و خال پرمشتمل منظر(scene) کا مستقل ریکارڈجو تصویری اور غیر تصویری ذرائع سے بنا یا جاتا ہے۔
  منظر(Scene) : کسی شبیہ یا فوٹو گراف کے ذریعہ احاطہ کردہ زمین کا رقبہ ۔
مدرک (Sensor) : کوئی شبیہ بنانے والا یا غیر شبیہی آلہ جوبرقی مقناطیسی شعاع ریزی( EMR )کو حاصل کرکے اسے ایسے اشارے (Signal)میں بدل دیتا ہے جسے تصویری یا ڈیجیٹل شبیہ کی حیثیت سے ریکارڈ کیا جا سکے یا دکھایا جاسکے۔
انعکاسیت(Reflectance) : کسی چیز کے ذریعہ منعکس شعاعی توانائی کا اس کے ذریعہ حاصل کردہ توانائی سے تناسب۔
طیفی بینڈ(Spectral Band)   : مسلسل طیف میں طولِ موج کا تفاوت جیسے کہ ہرے بینڈ کا تفاوت 0.5 سے 0.6 µ(مائکرون) تک ہوتا ہے اور قریب تر زیریں سرخ (NIR) کا تفاوت 0.7 سے1.1 µ(مائکرون) تک ہوتا ہے۔

ریموٹ سنسنگ کے مراحل  

شکل 7.2 میں ان اعمال کی خاکہ کشی ہے جنہیں ریموٹ سنسنگ میںاعداد و شمارکو حاصل کرنے کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔ یہ بنیادی طریق ہائے عمل جو سطح زمین کی چیزوں اورمظاہر کی خصوصیات کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنے میں معاون ہیںوہ مندرجہ ذیل ہیں:
(الف) توانائی کا منبع (سورج ؍خوداخراجی)؛
(ب) منبع سے سطح زمین تک توانائی کی ترسیل ؛
(ج) سطح زمین کے ساتھ توانائی کا باہمی تعامل؛
(د) کرہ ہوا کے ذریعہ منعکس ؍خارج توانائی کی اشاعت ؛
(ہ) مدرک (sensor)کے ذریعہ منعکس ؍خارج توانائی کی شناخت کرنا؛
(و) موصولہ توانائی کواعداد و شمار کے تصویری ؍ڈیجیٹل شکل میںبدلنا؛
(ز) حاصل کردہ اعدادوشمارسے معلوماتی مواد کی تخریج کرنا؛
(ح) معلومات کونقشہ ؍جدولی شکل میں تبدیل کرنا؛
3
فضائی ادراک میں استعمال کی جانے والی توانائی کا سب سے اہم وسیلہ سورج ہے۔ توانائی کو مصنوعی طورپر پیدا کرکے بھی اشیا اورمظاہر کے بارے میں معلومات اکٹھاکی جاسکتی ہے۔جیسے فلیش گن یا راڈار میں استعمال کی جانے والی توانائی بیم(radio detection and ranging)۔
(ب) منبع سے سطح زمین تک توانائی کی ترسیل : منبع سے نکلنے والی توانائی منبع اور اشیاکی سطح کے درمیان توانائی کی موجوں کی صورت میں روشنی کی رفتار 300,000) کلومیٹر  فی سکنڈ) سے پھیلتی ہے۔ اس   توانائی کی اشاعت کوبرقی مقناطیسی شعاع ریزی (EMR) کہا جاتاہے۔ توانائی کی موج سائز اور تواتر میں بدلتی رہتی ہے۔ اس طرح کی تغیرات کا خاکہ برقی مقناطیسی طیف (شکل(7.3 کہلاتا ہے۔ موجوں کے سائز اورتواتر کی بنیادپر توانائی موجوں کوگاما، ایکس رے ، بالابنفشی شعاعوں (Ultra-violet rays) ،مرئی شعاعوں(Visible rays) ، زیریں سرخ شعاعوں(Infrared rays) ، خرد لہروں(Microwaves) اور تابکاری لہروں(Radio waves) میں درجہ بندکیاجاتاہے۔ طیف کے ان وسیع خطوں میں سے ہر ایک کا اطلاق مختلف قسم کے استعمال میں کیا جاتا ہے۔ البتہ توانائی کے مرئی (Visible)، زیریں سرخ (Infrared)اور خرد لہری(Microwave) خطوں کا اطلاق فضائی ادراک میں کیاجاتا ہے۔
4

تابکاری، بالابنفشی، بنفشی
شکل :7.3  

(ج)سطح زمین کے ساتھ توانائی کا باہمی تعامل : اشاعتی توانائی بالآخرسطح زمین کی اشیا کے ساتھ تعامل کرتی ہے۔اس کی وجہ سے اشیا میں توانائی کاا نجذاب (absorption)، ترسیل (transmission) ، انعکاس (reflection)اور اخراج (emission)ہوتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اشیاء اپنی ترکیب ، ظاہری شکل وصورت اور خصوصیات میں مختلف ہوتی ہیں۔ اس لیے اشیاکا اپنی موصولہ توانائی کے ساتھ عمل بھی یکساں نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ ایک خاص شیٔ کا طیف کے مختلف خطوں میں موصولہ توانائی کے ساتھ عمل بھی مختلف ہوتا ہے(شکل 7.5 )۔مثال کے طورپرمیٹھے پانی کا ایک مخزن طیف کے سرخ اور زیریں سرخ خطوں میں زیادہ توانائی حاصل کرتا ہے اور سیٹلائٹ شبیہ میں سیاہ ؍کالا نظر آتا ہے، جبکہ گدلا آبی مخزن طیف کے ہرے  اورنیلے خطے کو زیادہ منعکس کرتا ہے اور رنگ (tone)میں ہلکا نظر آتا ہے

5

(ج)کرہ ہوا کے ذریہ منعکس /توانایئ   کی اشاعت:جب سطح زمین کی چیزوں سے توانائی منعکس ہوتی ہے تو دوبارہ کرئہ ہوا میں چلی جاتی ہے۔آپ اس حقیقت سے واقف ہوں گے کہ کرئہ ہوا میں گیس، پانی کے سالمے اوردھول کے ذرات شامل ہوتے ہیں۔ چیزوں سے منعکس توانائی   جب کرئہ ہوا کے اجزائے ترکیبی کے ربط میں آتی ہے تو ان کی اصلی توانائی کی خصوصیات بد ل جاتی ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائڈ (CO2) ،ہائڈروجن (H) اور پانی کے سالمے زیریں سرخ خطہ کے وسط میںتوانائی کوجذب کرتے ہیں جبکہ دھول کے ذرات نیلی توانائی کو منتشر کرتے ہیں۔ اس طرح وہ توانائی جوکرئہ ہوا کے اجزائے ترکیبی کے ذریعہ جذب ہوتی ہے یا منتشر ہوتی ہے سیٹلائٹ پر رکھے مدرک (Sensor) تک کبھی نہیں پہنچتی اور ان توانائی موجوں کے ذریعہ لائی جانی والی اشیا کی خصوصیات کا ریکارڈ نہیںہوپاتا ۔

(ہ) مدرک کے ذریعہ منعکس ؍خارج توانائی کی شناخت : موصولہ توانائی کو ریکارڈ کرنے والے مدر ک(sensors) قریب قطبی شمس معاصر یا ہم دوری مدار(near-polar sun  synchronous orbit) میں 700سے 900 کلومیٹر کی بلندی پر رکھے جاتے ہیں۔ ان سیٹلائٹوں کوفضائی ادراک سیٹلائٹ کہا جاتا ہے (مثلاًہندوستانی ریموٹ سنسنگ سیریز) ۔ ان سیٹلائٹوں کے برعکس موسم نگراں اور ترسیلی سیٹلائٹوں کوارض استقلالی حالت (Geostationary position) پر رکھاجاتا ہے (سیٹلائٹ کوہمیشہ اپنے اسی مدارپر رکھا جاتا ہے جو زمین کی گردش کی سمت کے مطابق ہوتا ہے) جوزمین کی اپنے محور پر حرکت کی سمت کے مطابق زمین کے چاروں طرف گردش کرتے ہیں- اس کی بلندی تقریباً 36,000 کلومیٹر ہوتی ہے (مثلاً سیٹلائٹ کی INSAT سیریز)۔ ریموٹ سنسنگ اور موسم نگراں سیٹلائٹ کے درمیان موازنہ باکس (7.1) میںدیا گیا ہے۔ شکل 7.6بالترتیب شمس معاصر اور ارض استقلالی سیٹلائٹ کے مدار(Orbits) کو دکھا یاگیا ہے۔

22222

6

شکل :7.6 شمس دَوری(بائیں)اورارض استقلائی(دائیں)سیٹلائٹ

ریموٹ سنسنگ سیٹلائٹ کو ان مدرکوں (Sensors) کے ساتھ بھیجاجاتا ہے جن میںیہ صلاحیت ہوتی ہے کہ اشیاء کے ذریعہ منعکس برقی مقناطیسی شعاع ریزی (EMR) کو حاصل کرسکیں ۔ ہم نے باب 6 میں دیکھا کہ فوٹو گرافک یعنی تصویری کیمرہ کس طرح ایک اکسپوزر(exposer)پر تصویر یں لیتا ہے۔لیکن فضائی ادراک کے سیٹلائٹ میں مستعمل مدرک (sensor) ایک ایسا میکانزم ہوتا ہے جومعلومات اکٹھاکرنے اور ریکارڈ   کرنے میںتصویری کیمرہ سے مختلف ہوتا ہے۔  
خلائی مدرک سے لی گئی تصویریں ہندسی شکل میںہوتی ہیں جبکہ کیمرہ والے سسٹم سے تصویری شکل ملتی ہے۔

(و) موصولہ توانائی کو   تصویری ؍ڈیجیٹل شکل والے اعداد وشمار میں بدلنا: مدرک کے ذریعہ حاصل کردہ شعاع ریزی الیکٹرونک طورپر ہندسی شبیہ(digital image) میں بدلی جاتی ہے۔ اس میں ہندسی نمبر ہوتے ہیں جن کی ترتیب صف اور کالم میں ہوتی ہے۔ ان نمبروں کو منتج اعدادوشمار(data product)کی تمثیلی (تصویری) شکل میں بھی بدلاجاسکتا ہے۔زمین کاچکر لگانے والے سیٹلائٹ پر رکھے ہوئے مدرک حاصل کردہ تصویری اعدادوشمارکو دنیا کے مختلف حصوں میں واقع زمینی اسٹیشن کو الیکٹرونک طورپر بھیجتے ہیں ۔ہندوستا ن میں اس قسم کا ایک اسٹیشن شادنگر، حیدرآبادمیںواقع ہے۔
(ز)منتج اعدادوشمار (Data Products) سے معلوماتی مواد حاصل کرنا:زمینی اسٹیشن پر تصویری اعدادوشمارکے ملنے کے بعدان اعدادوشمارکے حصول کے دوران واقع خامیوں کو ختم کرنے کے لیے اسے درست کیا جاتا ہے۔ ایک بار شبیہ کے درست ہوجانے کے بعد ہندسی شبیہ بنانے کے طریقہ کار(Digital Image Processing Techniques)کا استعمال کرکے ہندسی شبیہوںسے اور مرئی تشریحی طریقوں (Visual Interpretation Methods)کا استعمال کرکے منتج اعدادوشمار کی تصویری شکل سے معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔
(ح)معلومات کونقشے ؍جدولی شکل میں بدلنا : تشریح شدہ معلومات کی بالآخر حدبندی کی جاتی ہے اور پھر انہیں موضوعی نقشوں کی مختلف پرتوں میں بدلا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جدولی اعدادوشمار بنانے کے لیے مقداری پیمائش بھی کی جاتی ہے۔
  مدرک   (SENSORS)
مدرک وہ آلہ ہے جو برقی مقناطیسی شعاع ریزی کو اکٹھا کرتاہے اوراسے سگنل میں بدل کر تفتیش کے تحت چیزوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے انہیں مناسب شکل میں پیش کرتا ہے۔ اعدادوشمار کے نتائج پر مبنی مدرک کو تصویری (analogue) اور غیر تصویری (digital) مدرک میں تقسیم کیاجاتا ہے۔
تصویری مدرک (کیمرہ) انکشاف کے ایک لمحے میں چیزوں کی شبیہوں کو ریکارڈکرلیتا ہے۔دوسری طرف غیر تصویری مدرک چیزوں کی شبیہ کو ٹکڑوں کی شکل میں حاصل کرتا ہے۔ ان مدرکوں کومعائنہ کار(Scanners) کہا جاتا ہے۔ آپ نے باب   6 میں فوٹوگرافک کیمرہ کی قسموں اوران کی جیومیٹری کو پہلے پڑھ لیا ہے۔ موجودہ باب میں ہم غیر تصویری مدرکوں کے بیان پر اکتفا کریں گے جو    ریموٹ سنسنگ والے سیٹلائٹ میں استعمال کیے جاتے ہیں۔
کثیر طیفی معائنہ کار(Multispectral Scanners) : ریموٹ سنسنگ والے سیٹلائٹ میں کثیر طیفی معائنہ کار (Mss) کا استعمال بطورمدرک بطورمدرک کیا جاتا ہے۔ان مدرکوں کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہ آگے بڑھتے زمین پر نظرآنے والی چیزوں کی شبیہ اتارلیں ۔ عام طورپر ایک معائنہ کار میں ایسا موصولی نظام (Reception system) ہوتا ہے جس میں آئینہ (Mirror) اور شناش (dete ctor) شامل ہوتے ہیں۔معائنہ کارمدرک معائنہ کی گئی لائنوں کے سلسلے کوریکارڈ کرکے منظرتیار کرتا ہے۔ ایسا کرتے وقت موٹر آلہ معائنہ جاتی آئینے(scanning mirror) کو مدرک کے منظر کے زاویائی میدان کے ذریعہ آگے پیچھے گھماتا رہتا ہے جومعائنہ والی لائنوں کی لمبائی کا تعین کرتا ہے اور اسے جھماکہ ؍سویتھ (swath) کہتے ہیں ۔ اسی وجہ سے معائنہ کار کے ذریعہ شبیہوں کو اکٹھا کرنے کو ٹکڑا ۔ٹکڑا(bit-by-bit) نام دیاجاتا ہے۔ ہرمنظرچھوٹے چھوٹے حصوں (Cells) پر مشتمل ہوتا ہے جو شبیہ کی مکانی تحلیل (spatial resolution) کاتعئین کرتا ہے۔منظر کے آرپارمعائنہ جاتی آئینے اہتزاز(Oscillation)موصولہ توانائی کارخ شناش (detector) کی طرف کردیتا ہے۔ جہاں انہیں برقی سگنل میںبدل دیا جاتا ہے۔ ان سگنلو ں کو مزید عددی قدروں میں بدلاجاتاہے جسے مقناطیسی ٹیپ پر ریکارڈ کرنے کے لیے ہندسی نمبر (DNS value) کہاجاتا ہے۔
کثیر طیفی اسکینروں کو مندرجہ ذیل دوقسموں میں تقسیم کیاجاسکتا ہے۔
وہسک بروم معائنہ کار(Whiskbroom Scanners)
پش بروم معائنہ کار(Pushbroom Scanners)
(i) وہسک بروم معائنہ کار : وہسک بروم معائنہ کار ایک گھومنے والاآئینہ اورایک تنہا شناش سے بنا ہوتا ہے۔آئینے کو اس طرح رکھاجاتا ہے کہ جب اس کی ایک گردش پوری ہوجاتی ہے توشناش میدان منظرکے آرپار 90o اور 120o کے درمیان چلتا ہے تاکہ طیف کے مرئی سے وسط زیریں سرخ تک کے خطوں کی حد میں تنگ طیفی بینڈوں کی شبیہ کثیر تعداد میں حاصل کرسکے۔ نو سانی مدرک کی کل وسعت کومعائنہ کار کا کل میدان منظریعنیTotal Field of View (TFOV)   کہتے ہیں۔تمام میدان کامعائنہ کرتے وقت مدرک کا آپٹیکل ہیڈ ہمیشہ ایک خاص بُعد پر رکھا جاتا ہے جسے لمحاتی میدان منظر یعنیInstantaneous Field of View (IFOV) کہتے ہیں۔ شکل7.7 میں وہسک بروم معائنہ کار کے معائنہ کرنے کامیکا نزم بتا یاگیاہے۔
7
(ii) پش بروم معائنہ کار : پش بروم معائنہ کار میں کئی شناش(detectors) ہوتے ہیں جومدرک کے جھماکے (swath) کو مکانی تحلیل سے تقسیم کرنے پر حاصل کے برابر ہوتے ہیں شکل(7.8 ) ۔مثال کے طورپر SPOTنامی فرانسیسی ریموٹ سنسنگ سیٹلائٹ کے ہائی ریزولوشن ویزیبل ریڈیو میٹر۔ 1 (HRVR-1) کا سویتھ 60 کلومیٹر ہے اور مکانی تحلیل (Spatial Resolution) 20 میٹر ہے ۔اگر ہم 60 کلومیٹر× 1000میٹرکو 20/ میٹر سے تقسیم کرتے ہیں تو ہمیں 3000 ڈیٹکٹر کی تعداد ملتی ہے جوSPOT HRV-1 کے مدرک میں لگے ہوئے ہیں۔ پش برو م معائنہ کار میں تمام شناش کی ترتیب خطی ہوتی ہوتی ہے اور ہرشناش وہ توانائی اکٹھا کرتاہے جو زمینی سیل (پکسل) کے ذریعہ منعکس ہوتی ہے۔ اس سیل کا بعد سمت القدم منظر پر 20 میٹر ہوتا ہے۔

سیٹلائٹ کی تحلیلی قوت(Resolving power of the Satellite)  

ریموٹ سنسنگ والے سیٹلائٹ میں شمس ہم دَوری قطبی مدارشبیہوں کواکٹھا کرنے کے قابل بناتا ہے۔ یہ عمل پہلے سے طے شدہ وقتی وقفہ جسے زمانی تحلیل (Temporal resolution) کہاجاتاہییا سطح زمین کے ایک رقبے پر سیٹلائٹ کے دوبارہ آنے پر ہوتا ہے۔شکل 7.9 میں دوشبیہوں کاخاکہ دیاگیا ہے جو ایک ہی رقبے کا ہے۔ اس سے ہمیں ہمالیہ کی نباتاتی قسموں میں ہوئی تبدیلی کا مطالعہ کرنے اور ریکارڈ رکھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ دوسری مثال 7.10 (aاور (b میں بحرہند میں سونامی کے آنے سے پہلے اوربعد کی حاصل کردہ شبیہوں کو دکھایاگیا ہے۔ جون 2004 ء میں لی گئی شبیہ انڈونیشیا کے باندا آسیہ(Bandha Acsha) میں غیر مضطرب ارضی خدوخال دکھاتی ہے جب کہ سونامی کے فوراً بعد لی گئی شبیہ میں سونامی کے ذریعہ پیدا ہونے والے نقصانات نظر آرہے ہیں۔     
8
شکل 7.9 آئ آرایس سٹیلا ئٹ کے ذریعہ مئ (بائیں) وار نومبر (دائیں) میں لی گئ ہمالیہ   اور شمال ہندوستان کے درمیان کی شبیہیں نبانات کے اقسام میں فرق کو دکھاتی ہیں ۔مئ کی شبیہ میں سر خیاں پٹیاں مخروطی نبانات کو بتاتی ہیں ۔نومبر کی شبیہ میں اضافہ سر خیاں پٹیاں پت جھر نباتات سے اور ہلکے سرخ رنگ فصلوں سے متعلق ہیں۔

9

10

مدرک کے تحلیلاتSENSOR RESOLUTIONS

فضائی ادراک کے اوصاف میں مکانی(Spatial) ،طیفی(Spectral) اور ریڈیو میٹرک تحلیلات شامل ہیں جن کی وجہ سے مختلف قطعہ زمین کے حالات سے متعلق مفید معلومات حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔
(i) مکانی تحلیل (Spatial Resolution) :آپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ لوگ کتاب یا اخبار پڑھتے وقت چشمے کا استعمال کرتے ہیں۔ کیا کبھی آپ نے سوچا کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟اس کی سیدھی سادی وجہ یہ ہے کہ ان کے آنکھوں کی تحلیلی قوت   ایک لفظ میں پاس پاس لکھے دوحروف میں فرق نہیں کر پاتی اور وہ انہیں دو الگ حروف کی شکل میں پہچان نہیں سکتے۔ مثبتی چشمے کا استعمال کر کے یہ لوگ اپنی بصارت نیز تحلیلی قوت کو بہتر بنانے کی سعی کرتے ہیں۔ ریموٹ سنسنگ میں بھی مدرک کی مکانی تحلیل کا مطلب یہی ہے۔ یہ مدرک(Sensor) کی وہ صلاحیت ہے جو پاس پاس واقع دو چیزوں کی سطحوں کو دو مختلف چیزوں کی سطح کی حیثیت سے فرق کرتی ہے۔اصولی طور پر بڑھتی تحلیل   (Resolution)   کے ساتھ چھوٹی سے چھوٹی چیز کی سطح کو بھی پہچاننا ممکن ہو جاتا ہے۔

(ii) طیفی تحلیل (Spectral Resolution) :   اس کا مطلب برقی مقناطیسی شعاع ریزی (EMR) کے مختلف بینڈوں میں مدرک کے ادراک اور ریکارڈ کرنے کی صلاحیت ہے۔ مدرک کے ذریعہ موصولہ شعاع ریزی کو منتشر کرنے والے ایک آلے کا استعمال کرکے کثیر طیفی (Multispectral) شبیہوں کو حاصل کیا جاتا ہے،اور خصوصی طیفی تفاوت(Specific Spectral Range) کے لیے حساس شناش (Detectors) لگا کر اسے ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ایسی شبیہوں کو حاصل کرنے میں روشنی کے انتشار کی توسیع کا اصول کارفرما ہوتا ہے جسے ہم فطرت میں’ قوس قزح‘ کی صورت میں دیکھتے ہیں اور تجربہ گاہ میں منشور(Prism) کا استعمال کرکے دیکھتے ہیں(باکس7.2 )۔

مختلف بینڈوں میں حاصل شبیہ چیزوں کے ذریعہ مختلف طور پر کارکردگی کو دکھلاتی ہیں جیسا کہ فضائی ادراک کے اعدادوشمار کو حاصل کرنے کے لیے پیراگراف 3 میں بتایا گیا ہے۔شکل 7.11 میں IRSP-6 (ریسورس سیٹلائٹ۔I) کے ذریعہ مختلف طیفی خطوں میں حاصل کردہ شبیہوں کی خاکہ کشی کی گئی ہے جس میں میٹھے پانی کے ذریعہ بینڈ 4 (زیریں سرخ) میں زبردست انجذابی خصوصیات اور خشک سطحوں کے ذریعہ بینڈ 2 (ہرے)میںملی جلی مضبوط انعکاسیت ظاہر ہوتی ہے۔

(iii) ریڈیو میٹرک تحلیل    (Radiometric Resolution) :   یہ مدرک (Sensor) کی وہ صلاحیت ہوتی ہے جو دو نشانوں کے درمیان امتیاز پیدا کرتی ہے۔ریڈیومیٹرک تحلیل جتنی زیادہ ہوگی دو نشانوں کے درمیان شناخت کیا جانے والا اشعاعی فرق (Radiance differences) اتنا ہی کم ہوگا۔
دنیا کے کچھ ریموٹ سنسنگ سیٹلائٹ کی مکانی، طیفی اور ریڈیو میٹرک تحلیلات کو جدول 7.1 میں دکھایا گیا ہے۔
3333

باکس 7.2  

روشنی کا انتشار   (Dispersion   of   Light)  

(کثیر طیفی شبیہوں کو حاصل کرنے میںمستعمل اصول)
کئی بینڈوں میں شبیہوں کو حاصل کرنے میں روشنی کے انتشار کے اصول   سے ماخوذ میکانزم کام کرتا ہے۔آپ نے قوس قزح ضرور دیکھا ہوگا ۔یہ روشنی کے انتشار کے قدرتی عمل سے بنتی ہے۔جب شعاعیں کرئہ ہوا میں موجود پانی کے ذرات سے ہوکر گذرتی ہیں تب قوس قزح بنتی ہے۔اس مظہر کا تجربہ روشنی کو منشور(Prism) کے بغل میں رکھ کر کیا جا سکتا ہے۔ منشور  
میں دیکھ سکتے ہیں جو سفید روشنی بناتی ہیں۔

11
قوس قزح
(روشنی کا قدرتی انتشار)

12
منشور
(روشنی کا مصنوعی انتشار)


13

منتج اعدادوشمار(Data Product)

ہم نے دیکھا کہ برقی مقناطیسی توانائی کی شناخت فوٹوگرافک طور پر یا الیکٹرونک طور پر کی جا سکتی ہے۔ فوٹوگرافی کے طریق عمل میں توانائی کے تغیرات کی شناخت اور ریکارڈ کرنے کے لیے روشنی حساس فلم(Light Sensitive Film) کا استعمال کیا جاتا ہے(باب6 دیکھیں)۔ دوسری طرف ایک معائنہ کار آلہ شبیہوں کو ہندسی صورت میں حاصل کرتا ہے۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ ہم دو اصطلاحوں–– شبیہ (Images) اور تصویر (Photographs)کے درمیان فرق کو سمجھیں۔ ایک شبیہ کا مطلب وہ تصویری نمائندگی ہے جسے شناخت اور ریکارڈ کرنے میں کن خطوں کی توانائی مستعمل ہے، کاخیال نہیں کیا جاتا۔تصویر کی اصطلاح خاص کر ان شبیہوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جنہیں فوٹوگرافک فلم پر ریکارڈ کیا جاتا ہے۔اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ تمام تصویریں شبیہ ہیں لیکن تمام شبیہیں تصویریں نہیں ہیں۔
شناخت اور ریکارڈ کرنے میں مستعمل میکانزم پر مبنی فضائی ادراک کے منتج اعداد و شمار(Data Product) کو موٹے طور پر دو قسموں میں درجہ بند کیا جا سکتا ہے۔
¤      تصویری شبیہ (Photographic Images)
¤   ہندسی شبیہ                     (Digital Images)   
تصویری شبیہ:   تصویریں برقی مقناطیسی طیف )یعنی (0.3 - 0.9 µm   کے نوری خطوں میں لی جاتی ہیں۔تصویروں کو حاصل کرنے کے لیے چار قسم کی روشنی حساس فلم روغنابی ترشوں(light sensitive film emulsion bases)   کا استعمال کیا جاتا ہے۔یہ سیاہ اور سفید، رنگین، سیاہ اور سفید زیریں سرخ اور رنگین زیریں سرخ ہیں۔البتہ ہوائی تصویر کشی میں عموماً سیاہ اور سفید فلم کا استعمال کیا جاتا ہے۔ معلوماتی مواد یارنگوں کی گہرائی(contrast) کو ضائع کیے بغیر تصویروں کو کسی بھی حد تک بڑا کیا جا سکتا ہے۔
ہندسی شبیہ:   ہندسی شبیہ مجرد تصویری عناصر (discrete picture elements) پر مشتمل ہوتی ہیں جن کو پکسل (pixel) کہا جاتا ہے۔ایک شبیہ میں ہر پکسل کی ایک شدتی قدر(intensity value) ہوتی ہے اوریہ پکسل شبیہ کے دو بعدی مکان کو بتاتا ہے۔ایک ہندسی نمبر(DN) پکسل کی اوسط شدتی قدر کی نمائندگی کرتا ہے۔یہ مدرک کے ذریعہ حاصل کردہ برقی مقناطیسی توانائی اور اس کے تفاوت کو بتانے کے لیے مستعمل شدتی سطح پر منحصر ہوتا ہے۔
ہندسی شبیہ میں ، چیزوںکی شبیہ سے متعلق تفصیلات کی نئی طباعت یا تخلیق نو (reproduction) پکسل کے سائز سے متاثر ہوتی ہے۔ایک چھوٹے سائز کا پکسل عام طور پر منظر کی تفصیلات کو محفوظ کرنے اور ہندسی نمائندگی میں مفید ہوتا  ہے۔لیکن ہندسی شبیہ کو ایک خاص حد سے زیادہ بڑا کرنے پر معلومات ضائع ہوجاتی ہیں اور صرف پکسل ہی باقی رہ جاتا ہے۔ہندسی شبیہ الگورتھم عمل کا استعمال کرکے شبیہ کی شدتی سطح کی نمائندگی کرنے والے ہندسی نمبروں کو دیکھا یاجا سکتا ہے(شکل 7.12)۔

14
شکل 7.12    ہندسی شبیہ (اوپر) اوراس کے ایک حصے کوبڑا کرکے(بائیں) پکسل کی چمک دکھائی گئی ہے اور(دائیں طرف)اس سے متعلق ہندسی اعداد کو دکھایا گیاہے۔

سیٹلائٹ شبیہوں کی تشریح(Interpretation of Satellite Imageries)

مدرکوں کے ذریعہ حاصل شدہ اعدادو شمار کو سطح زمین کی چیزوں اور مظاہر کی شکل اور طرز سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ہم نے دیکھا کہ مختلف مدرکات(Sensors) تصویری اور ہندسی منتج اعدادو شمار حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے مرئی تشریحی طریقوں(visual interpretation methods)   یا ہندسی شبیہ بنانے کی تکنیک (digital image processing techniques) کا استعمال کرکے ایسے خط و خال کی کیفی اور کمّی دونوں خصوصیات کو مستنبط کیا جا سکتاہے۔
مرئی تشریح ایک دستی مشق ہے۔اس میں چیزوں کی شبیہوں کو   شناخت کرنے کی غرض سے پڑھا جاتا ہے۔دوسری طرف ہندسی شبیہوں میں مطلوبہ معلومات حاصل کرنے کے لیے ہارڈویئر(Hardware) اور سافٹ ویئر   (Software) کے تال میل کی ضرورت ہوتی ہے۔وقت ،آلات اور لوازمات کے فقدان میں ہندسی شبیہ بنانے کی تکنیک کو عمل میں لانا ممکن نہیں ہے۔اس لیے صرف مرئی تشریحی طریقے کا تذکرہ کیا جائے گا۔

مرئی تشریح کے عناصر(Elements of Visual Interpretation)

خواہ ظاہر ہو یا نہ ہو ہم اپنی روزانہ کی زندگی میں چیزوں کی ہیئت، جسامت، محل وقوع اور گردوپیش کی اشیا ء کے ساتھ ان کے تعلقات کا استعمال انہیں پہچاننے کے لیے کرتے ہیں۔اشیاء کی ان خصوصیات کو مرئی تشریح کے عناصر کہا جاتا ہے۔ہم اشیاء کی ان خصوصیات کو دو جامع درجوں––شبیہ خصوصیات(Image Characteristics)اور قطعہ زمین خصوصیات (Terrain Characteristics) میں درجہ بند کر سکتے ہیں۔شبیہی خصوصیات میں رنگ یا ٹون جس میں اشیاء نظر آتی ہیں، ان کی شکل، سائز،طرز، بافت اور ان کا پڑنے والا سایہ شامل ہوتا ہے۔دوسری طرف قطعاتی خصوصیات میں محل وقوع اور اشیاء کا اپنے گردوپیش کی اشیاء کے ساتھ تعلق شامل ہوتا ہے۔
رنگ یا ٹون(Tone or colour): ہم جانتے ہیں کہ تمام اشیاء طیف کے سبھی خطوں میں توانائی حاصل کرتی ہیں۔اشیاء کی سطح کے ساتھ برقی مقناطیسی شعاع ریزی(EMR) کے تعامل کی وجہ سے توانائی کا انجذاب،ترسیل اور انعکاس ہوتا ہے۔ توانائی کی یہی منعکس مقدار مدرک کے ذریعہ بالترتیب بھورے ٹون یا سیاہ و سفید رنگوں کی اقسام اور رنگین شبیہوںمیں حاصل اور ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ رنگ اور ٹون میں تغیرات کا دارومدارآنے والی شعاعوں کے رخ،سطحی خصوصیات اور اشیاء کی بناوٹ پر ہوتا ہے۔دوسرے لفظوں میں اشیاء کی ہموار اور خشک سطحیں،غیرہموار اور نم سطحوں کے بالمقابل زیادہ توانائی منعکس کرتی ہیں۔اس کے علاوہ طیف کے مختلف خطوں میں اشیاء کی اثر پذیری بھی مختلف ہوتی ہے  

15

( دیکھیے پیراگراف ج––ریموٹ سنسنگ میں اعدادوشمار حاصل کرنے کے مراحل)مثال کے طور پر کثیر سطحی پتیوں کی ساخت کی وجہ سے تنومند نباتات کا انعکاس زیریں سرخ خطوں میں بہت زیادہ ہوتا ہے اور معیاری جھوٹے رنگ کے مخلوط میں ہلکے ٹون یا چمکدار لال رنگ میں ظاہر ہوتا ہے اور جھاڑیاں بھورے لال رنگ میں نظر آتی ہیں۔اسی طرح ایک میٹھا آبی مخزن اپنے ذریعہ حاصل کردہ زیادہ تر شعاع ریزی کو جذب کرلیتا ہے اور گہرے ٹون یا سیاہ رنگ میں نظر آتا ہے۔جب کہ گدلا آبی مخزن جھوٹے رنگ کے مخلوط (FCC) میں پانی کے سالموں کی مختلف اثرپذیری اور ریت کے معلق ذرات کی وجہ سے ہلکے ٹون یا ہلکے نیلے رنگ میں نظر آتا ہے   (شکل 7.13 الف اور ب)۔
فضائی ادراک کی شبیہوں میں سطح زمین کے مختلف خط و خال کے ذریعے ریکارڈ کیے جانے والے رنگوں کو جدول 7.2 میں دیا گیا ہے۔

جدول7.2 :   سطح زمین کے خط و خال کے معیاری جھوٹے رنگ کے مخلوط پر رنگوں کا نشان

4444

بافت (Texture) :   

  بافت کا مطلب ہے بھورے ٹون یا رنگوں کی اقسام میں معمولی تغیرات۔یہ تغیرات ابتدائی طور پر خط و خال کی چھوٹی اکائیوں کے  کے جمع ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں جنہیں انفرادی طور پر امتیاز کرنا مشکل ہوتا ہے جیسے گھنی آبادی اور کم آبادی کے رہائشی علاقے؛جھگی جھونپڑیاں اور غاصبانہ زمین گیر بستیاں؛کوڑا کرکٹ اور ٹھوس کچروں کی دیگر شکلیں اور مختلف قسم کی فصلیں اور پودے۔کچھ اشیاء کی شبیہوں میں بافتی اختلافات ہموار سے دانے دار بافتوں تک ہوتے ہیں(شکل 7.14 الف اور ب)۔مثال کے طور پر بڑے شہروں میں گھنے رہائشی علاقے چھوٹے رقبہ میں گھروں کے ارتکاز کی وجہ سے باریک بافت کا منظر پیش کرتے ہیں جب کہ کم آبادی والے رہائشی علاقوں کی بافت دانے دار ہوتی ہے۔اسی طرح اونچی تحلیل کی شبیہوں (high resolution images) میں گیہوں اور چاول کے باریک بافتوں کے مقابلے میں گنا اور باجرہ کے پودے دانے دار بافت بناتے ہیں ہرے بھرے سدابہار جنگلات کے باریک بافت کے موازنے میں جھاڑی دار زمینوں کے دانے دار بافت کو شبیہوں میں کوئی بھی دیکھ سکتا ہے۔
16
3۔ سائز یا جسامت(Size)   : ایک شبیہ کی تحلیل(Resolution) اور پیمانے سے ماخوذ کسی شئے کی جسامت انفرادی اشیاء کی دوسری اہم صفت ہے۔یہ واضح طور پر رہائشی گھروں کے ساتھ صنعتی علاقوں(شکل7.15 )؛شہر کے وسط میں اسٹیڈیم،شہری حاشیے پر اینٹ کے بھٹوں،بستیوں کی جسامت اور سلسلہ مراتب(hierarchy) وغیرہ کی شناخت کرنے میں معاون ہوتا ہے۔
4۔ شکل (Shape): انفرادی شئے کی عام ہیئت اور شکل و صورت یا خاکہ ریموٹ سنسنگ شبیہوں کی تشریح میں اہم کلید فراہم کرتے ہیں۔کچھ چیزوں کی شکل اتنی ممتازہوتی ہے کہ انہیں آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر سنسد بھون کی شکل کئی دوسرے تعمیرشدہ خط و خال سے خاص طور سے ممتاز ہے۔اسی طرح سے ہر ایک ریلوے لائن کو ایک شاہراہ سے اس کے راستے میں تدریجی تبدیلی سمیت ایک لمبی مسلسل خطی شکل کی وجہ سے آسانی سے پہچانا جا سکتاہے   (شکل7.16) ۔ مذہبی عبادت گاہوں   جیسے مسجد اور مندر کو ایک ممتاز خط و خال کی حیثیت سے پہچاننے میں شکل فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔
17
5۔سایہ (Shadow) : کسی چیز کا سایہ سورج کی روشنی کا زاویہ اور اس چیز کی اپنی اونچائی کا کارنامہ ہے۔کچھ چیزوں کی شکلیں اتنی منفرد ہوتی ہیں کہ ان کے پڑنے والے سائے کا پتہ لگائے بغیر ان کی شناخت نہیں ہو سکتی۔جیسے دہلی میں واقع قطب مینار، مسجدوں کے مینارے، اونچائی پر بنی پانی کی ٹنکیاں،بجلی اور ٹیلی فون کی لائنیں،اور اسی طرح کے دوسرے خط و خال کی پہچان صرف ان کے سایوں سے کی جا سکتی ہے۔سایہ شہر کے وسط میں واقع چیزوں کی شناخت کی اہلیت کو بری طرح متاثر کرتا ہے کیونکہ اس کا ٹون سیاہ ہوتا ہے جو اونچی عمارتوں کے نیچے واقع خط و خال کے اصلی ٹون یا رنگ پر غالب ہوتا ہے۔پھر بھی یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ شبیہوں کی تشریح میں ایک عنصر ہونے کی حیثیت سے سایہ سیٹلائٹ کی شبیہوں میں کم استعمال کیا جاتا ہے۔اس کے باوجودبڑے پیمانے کی فضائی فوٹوگرافی میں اس کا بامقصد استعمال ہوتا ہے۔
18
6۔ طرز (Pattern) :   بہت سے قدرتی اور مصنوعی خط وخال کی مکانی ترتیبوں سے ہیئتوں کے ظہور اور ارتباط میں تکرار نظر آتی ہے۔شبیہوں کے ذریعہ ان ترتیبوں کو ان سے بننے والے طرز کا استعمال کر کے آسانی سے پہچانا جاسکتا ہے۔مثال کے طور پر، ایک شہری علاقے میں ایک جیسے گھروں کی اکائیوں کے پلان اور خاکوں کی مدد سے ، اگر ان کے طرز کے مطابق چلیں تومنصوبہ بند رہائشی علاقوں کی پہچان آسانی سے کی جا سکتی ہے(شکل 7.17 )۔اسی طرح سے باغات اور شجر کاری میں پودوں کے درمیان یکساں فاصلوں کے ساتھ ایک ہی طر ح کی ترتیب نظر آتی ہے۔اس طرح پن نکاسی یا بستیوں کی مختلف قسموں کے درمیان فرق کیا جاسکتا ہے اگر ان کے طرز کا بغور مطالعہ کیا جائے اور ان کی پہچان کی جائے۔

19

7۔ ربط   (Association)   :   ربط کا مطلب ہے ُٓاپنے جغرافیائی محل وقوع کے ساتھ اشیاء اور ان کے گردوپیش کے درمیان تعلق۔مثال کے طور پر ایک تعلیمی ادارے کا ربط رہائشی علاقوں میں یا اس کے نزدیک اس کے محل وقوع کے ساتھ اور اسی احاطے میں کھیل کے میدان کے ساتھ ہوتا ہے۔اسی طرح اسٹیڈیم، ریس کورس اور گولف کورس کا ربط بڑے شہروں سے بڑھتے ہوئے شہر کے حاشیے پرشاہراہ کے ساتھ میں ربط،اور جھگی جھونپڑیوں کانالے یاریلوے لائن کے ساتھ ربط ملتا ہے۔


مزید معلومات کے لیے انٹرنیٹ ذرائع:

•   www.isro.gov.in
•    www.nrsc.gov.in
•    www.iirs.gov.in

مشق

مندرجہ ذیل چار متبادلوں میں سے صحیح جواب کا انتخاب کریں:
i) ( اشیاء کا فضائی ادراک مختلف وسائل سے کیا جا سکتا ہے جیسے الف۔فضائی مدرکات(Remote Sensors) ، ب۔ انسانی آنکھ اور   ج۔تصویری نظام۔ذرج ذیل میں کون ان کے ارتقاء کی صحیح ترتیب کی نمائندگی کرتا ہے؟
(الف) الف   ب   ج
(ب)   ب   ج   الف
(ج) ج   الف   ب
(د) مذکورہ بالا میں کوئی نہیں
(ii) برقی مقناطیسی طیف کے مندرجہ ذیل خطوں میں کس کا استعمال سیٹلائٹ ریموٹ سنسنگ میں نہیں کیا جاتا ہے؟
(الف) خردبینی لہر خطہ
(ب) زیریں سرخ خطہ
(ج) ایکس ۔رے
(د) مرئی خطہ
(iii) مندرجہ ذیل میں کون سا مرئی تشریحی تکنیک میں نہیں استعمال کیا جاتا؟
(الف) اشیا کی مکانی ترتیب
(ب) شبیہ پر ٹون کی تبدیلی کا تواتر
(ج) دوسری اشیاء کے تعلق سے کسی شئے کا محل وقوع
(د) ہندسی شبیہ بنانے کا عمل
مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب 30 الفاظ میں دیں:
(i) دیگر روایتی طریقوں کی بہ نسبت فضائی ادراک ایک بہتر تکنیک کیوں ہے؟
(ii) سیٹلائٹوں کی آئی آر ایس(IRS) اور انسیٹ(INSAT) سیریزمیں فرق واضح کریں۔

(iii) پش بروم معائنہ کار کی کار کردگی کو مختصراً   بیان کریں۔
مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب 125 الفاظ میں دیں:
(i) ایک ڈائگرام کی مدد سے وہسک بروم معائنہ کار کے عمل کو بیان کریں۔وضاحت کریں کہ یہ پش بروم معائنہ کارسے کس طرح مختلف ہے۔
(ii) شکل7.9 میں دی گئی ہمالیائی نباتات میں مشاہدہ کی جا سکنے والی تبدیلیوں کی شناخت کریں اور ان کی فہرست بنائیں۔  

سر گرمی

ذیل میں دی گئی آئی آر ایس آئی سی ایل آئی ایس ایس ۔IIIشبیہ(IRS IC LISS III imagery) پر نشان زد مختلف خط و خال کی شناخت کریں۔بیان کردہ شبیہی تشریح کے عناصر کی تفصیلات نیز رنگوں سے پتہ لگائیے جن میں متعدد اشیاء جھوٹے رنگ مخلوط پر ظاہر ہوتی ہے۔

20