Skip to content

Jugrafia_me_Amali_kaam

 8  

موسمی آلات، نقشے اور چارٹ

(Weather Instruments, Maps and Charts)

موسم کسی خاص مقام اور وقت پر موسمی عناصر کے کرئہ ہوائی حالات کا پتہ دیتا ہے۔موسمی عناصر میں درجۂ حرارت، دباؤ، ہوا، رطوبت اور بادلوں کی کیفیت شامل ہیں۔ہر دن شعبۂ موسمیات کے ذریعہ دنیا کے مختلف موسمی اسٹیشنوں پر مشاہدے سے حاصل اعدادوشمار سے اس دن کا موسمی نقشہ تیار کیا جاتا ہے۔ہندوستان میں موسم سے متعلق معلومات ہندوستانی شعبئہ موسمیات ،نئی دہلی کی نگرانی میں حاصل اور شائع کیا جاتا ہے۔یہ شعبہ موسم کی پیشین گوئی بھی کرتا ہے۔

انڈین میٹیورولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (IMD) 1875   میں قائم کیا گیاتھااوراس کا ہیڈ کوارٹر کلکتہ میں تھا۔اب اس کا ہیڈ کوارٹر نئی دہلی میں ہے۔

موسم کی پیشین گوئی سے خراب موسم کی صورت میں قبل از وقت حفاظتی اقدامات کرنے میں مدد ملتی ہے۔کچھ دن قبل موسم کی پیشین گوئی کرنا کسانوں، بحری جہاز کے عملوں، پائلٹوں، مچھواروں اور دفاعی کارکنان وغیرہ کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔

فرہنگ

موسم   (Weather) :   کسی ایک مقام اور وقت پر کرئہ ہواکے دباؤ، درجۂ حرارت، رطوبت، بارندگی، بادلوں کی کیفیت اور ہواؤں سے متعلق کرئہ ہوا کی حالت کو موسم کہا جاتا ہے۔
۲۔ موسم کی پیشین گوئی (Weather Forecast) : موسم کے حالا ت جو کسی خاص علاقے میں 12 سے 48 گھنٹے میں واقع ہو سکتے ہیں کے بارے میں کافی حد تک درستگی یقین کے ساتھ پیشین گوئی کرنا ۔

موسم کا مشاہدہ

عالمی سطحوں پر موسمی مشاہدوں کو تین سطحوں پر ریکارڈ کیا جاتا ہے یعنی زمینی مشاہدہ گاہیں، بالائی ہوا میں مشاہدہ گاہیں اور خلاء میں واقع مشاہدہ کرنے والا پلیٹ فارم ۔اقوام متحدہ کی ایک خصوصی ایجنسی یعنی ورلڈ میٹیورولوجیکل آرگنائزیشن(WMO) ان مشاہدات کو ہم آہنگ کرتی ہے۔

زمینی مشاہدہ (Surface Observation)

  سطح زمین پرایک مثالی رصدگاہ میں موسمی عناصر جیسے درجۂ حرارت(سب سے زیادہ اور سب سے کم)، ہوائی دباؤ،رطوبت، بادل، ہوا اور بارش کی پیمائش اور اندراج کرنے کے لیے آلات ہوتے ہیں۔ خصوصی مہارت والی رصدگاہوں پر شعاع ریزی، کرئہ ہوا میں اوزون گیس کا پتہ لگانے،آلودگی اور کرئہ ہوا کی برقیات جیسے عناصر کو ریکارڈ کرنے کے لیے بھی آلات ہوتے ہیں۔یہ مشاہدات پوری دنیا میں دن کے ایک مقررہ وقت پر کیے جاتے ہیں جس کا فیصلہ WMO کرتا ہے اور آلات کا استعمال بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوتا ہے تاکہ مشاہدات میں عالمی سطح پر مطابقت برقرار رہے۔
ہندوستان میں موسمی رصدگاہوں کو عام طور پر پانچ درجوں میں بانٹا جاتا ہے جو ان میں موجود آلات اور روزانہ کیے گئے مشاہدات کی تعداد پر منحصرہوتے ہیں۔سب سے اونچا درجہ ،درجہ اول (Class-I) ہے۔درجہ اول کی رصدگاہوں میں درج ذیل آلات کی سہولت دستیاب ہوتی ہے:
بیش ترین (Maximum)اور کم ترین (Minimum)درجۂ حرارت ریکارڈ کرنے والا تھرما میٹر
باد پیما(Anemometer) اور باد نما(Wind vane)  
خشکDry) (اور تر(Wet) بلب تھرما میٹر
بارش پیما(Rain guage)     
  باد پیما   (Barometer)
عام طور پر ان رصدگاہوں میں پوری دنیا میں (گرین وچ وقت کے مطابق) 00 ،03 ، 06 ،09 ،12 ،15 ، 18 ،21بجے مشاہدات ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔البتہ نقل وحمل کی وجوہات(Logistic reasons)کی بناء پر کچھ رصدگاہیں اوپری ہوا کی سطح پر صرف دن میں محدود تعداد میں مشاہدات کو ریکارڈ کرتی ہیں۔

خلائی پلیٹ فارم پر مشاہدہ

موسمی سیٹلائٹ زمینی سطح اور کرئہ ہوا کی اوپری سطح پر مختلف موسمی عناصر کا جامع اور بڑے پیمانے پر مشاہدہ کرتے ہیں۔ارض استقلالی سیٹلائٹ موسمی حالات کے بارے میں خلاء پر مبنی مشاہدات فراہم کرتے ہیں(دیکھیے باب7 )۔ مثال کے طور پر ہندوستانی قومی سیٹلائٹ(INSAT) درجہ حرارت، بادلوں سے ڈھکے حصے،ہوا اور متعلقہ موسمی مظاہر کے بیش قیمت مشاہدات فراہم کرتاہے۔

موسمی آلات

مختلف موسمی مظاہر کی پیمائش کے لیے بہت سارے آلات کا استعمال کیا جاتا ہے۔کچھ عام لیکن اہم آلات کی فہرست نیچے دی گئی ہے۔

تپش پیما

ہوا کے درجۂ حرارت کی پیمائش کرنے کے لیے تپش پیما کا استعمال کیا جاتا ہے۔ زیادہ ترتپش پیما تنگ بندشیشے کی ٹیوب میں ہوتے ہیں جن کے ایک سرے پر پھیلا ہوابلب ہوتا ہے۔بلب اور ٹیوب کا نچلا حصہ پارہ یا الکحل جیسے سیال سے بھرا ہوتا ہے۔ دوسرے سرے کو بند کرنے سے پہلے ٹیوب کو گرم کرکے ہوا نکال دی جاتی ہے۔ تپش پیما کا بلب ہوا کے ربط میں آنے پر ٹھنڈا یا گرم ہوتا ہے،جو بھی حالت ہواس کی وجہ سے بلب کا پارہ اوپر چڑھتا ہے یا نیچے گرتا ہے۔شیشے کی ٹیوب پر پیمانہ بنا ہوتا ہے جس سے درجۂ حرارت کی پیمائش کی جاتی ہے۔  
1

تپش پیمامیں سب سے زیادہ استعمال کیے جانے والے دو عام پیمانے سینٹی گریڈ (Centigrade)اور فارن ہائٹ(Fahrenheite)   ہیں۔سینٹی گریڈ تپش پیما پر برف کے پگھلنے کے درجۂ حرارت کا نشان0oC اور پانی کے کھولنے کا نشان 100oC ہوتا ہے ، اور ان دونوں کے درمیانی وقفے کو 100 برابر حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔فارن ہائٹ تپش پیما پر پانی کے نقطئہ انجماد اور نقطئہ ابال کو بالترتیب 32oF اور 212oF کے درجہ بند نشان سے ظاہر کیا جاتا ہے۔
2
بیش ترین (Maximum)اور کم ترین (Minimum)درجۂ حرارت ریکارڈ کرنے والے تپش پیماکا استعمال ہوا کے درجۂ حرارت کی پیمائش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے جب کہ خشک بلب(Dry Bulb) اور تر بلب(Wet Bulb) تپش پیما کا استعمال ہوا میں نمی کا تعین کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ان تپش پیما کا ایک سیٹ اسٹیوینسن اسکرین میں رکھا جاتا ہے(باکس8.1)۔

باکس8.1

اسٹیوینسن اسکرین(Stevenson Screen)

  تھرمامیٹر کو بارندگی اور راست سورج کی روشنی سے بچانے کے لیے اسٹیوینسن اسکرین کو بنایا جاتا ہے جب کہ اس میں ہوا چاروں طرف سے ان کے گرد آزادی سے گردش کرتی رہتی ہے۔یہ لکڑی سے بنایا جاتا ہے جس کے کنارے چلمن کی طرح ہوتے ہیں تا کہ ہوا آسانی سے داخل ہو سکے۔اسے چار پایوں پر سطح زمین سے 3 فٹ 6 انچ کی اونچائی پر رکھا جاتا ہے۔پائے سخت مضبوط ہوں اور انہیں زمین میں گڑا ہونا چاہیے تاکہ ہل نہ سکیں۔سامنے کا پینل نیچے حصے سے اٹکا ہوتا ہے اور دروازے کا کام کرتا ہے جس سے تھر ما میٹر کی پیمائش لی جاتی ہے اور مرمت کا کام کیا جاتا ہے۔چونکہ سورج کی راست شعاعیں پارہ کو متاثر کری ہیں اس لیے اسٹیوینسن اسکرین کا دروازہ شمالی نصف کرّہ میں شمال کی طرف اور جنوبی نصف کرہ میں جنوب کی طرف رکھا جاتا ہے۔اسٹیوینسن اسکرین کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ یکساں درجۂ حرارت کی ایسی بندش بنائی جائے جو باہر کی ہوا کی درجۂ حرارت کے بعینہ نمائندگی کر سکے۔
3


بیش ترین طپش پیما کو دن میں سب سے زیادہ درجۂ حرارت ریکارڈ کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو پارہ ٹیوب میں اوپر چڑھتا ہے؛پھر بھی اگرپارہ ٹھنڈا ہوجائے تو بھی ٹیوب میں قینچ کی وجہ سے نیچے نہیں گر پاتا۔اسے نیچے لانے کے لیے دوبارہ سیٹ کرنا پڑتا ہے۔کم ترین تپش پیما دن میں سب سے کم درجۂ حرارت کو ریکارڈ کرتا ہے۔اس تپش پیما   میں پارہ کی جگہ الکحل کا استعمال کیا جاتا ہے۔جب درجۂ حرارت کم ہونے لگتا ہے تو ٹیوب   میں رکھی دھات کی سوئی نیچے جاکر سب سے کم درجۂ حرارت پر ٹک جاتی ہے۔(شکل8.1 بیش ترین تپش پیما   اور شکل 8.2 کم ترینتپش پیما)۔
خشک بلب(Dry Bulb) اورتر بلب(Wet Bulb) تپش پیما کا استعمال ہوا میں نمی کی پیمائش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے(شکل8.3 )۔خشک بلب(Dry Bulb) اور تر بلب(Wet Bulb) تپش پیما ایک ہی طرح کے دو تھرمامیٹر ہوتے ہیں جنہیں لکڑی کے فریم میں رکھا جاتا ہے۔خشک تپش پیما کے بلب کو نہیں ڈھکا جاتا اور اسے ہوا میں کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے جب کہ تر بلب تپش پیما کو ترململ(Muslin) کے تر ٹکڑے میں لپیٹ کر رکھا جاتا ہے جسے مسلسل نم رکھنے کے لیے مقطر پانی کے ایک چھوٹے برتن میں دھاگہ ڈبو کر رکھا جاتا ہے۔تر بلب سے ہونے والی تبخیر اس کے درجہ حرارت کو کم کرتی رہتی ہے۔
خشک بلب کی ریڈنگ ہوا میں موجود آبی بخارات کی مقدار سے متاثر نہیں ہوتی لیکن تر بلب کی ریڈنگ اس کی وجہ سے بدلتی رہتی ہے کیونکہ تبخیر کی شرح ہوا میں موجود آبی بخارات کی مقدار پر منحصر ہوتی ہے۔ہوا میں جتنی زیادہ نمی ہوگی ،شرح تبخیر اتنی ہی کم ہوگی اور تب،خشک بلب اور تر بلب کی ریڈنگ کے درمیان فرق کم ہوگا۔دوسری طرف اگر ہوا خشک ہے تو ن تر بلب کی سطح سے تبخیر جلدی ہوگی،جس کی وجہ سے درجۂ حرارت کم ہوگا اور دونوں ریڈنگ کے درمیان کا فرق زیادہ ہو جائے گا۔اس طرح خشک بلب اور تر بلب تپش پیما کی ریڈنگ کا فرق کرئہ ہوا میں نمی کی حالت کو بتاتا ہے۔فرق جتنا زیادہ ہوگا ،ہوا اتنی ہی خشک ہوگی۔

4

باد پیما   (Barometer)

ہمارے آس پاس کی ہوا میں وزن ہوتا ہے اور یہ سطح زمین پر کافی دباؤ ڈالتی ہے۔عام حالات میں سطح سمندر پر ہوا کا دباؤ 1.03 کلوگرام فی مربع سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ہواکے مسلسل حرکت کرنے،درجۂ حرارت میں تبدیلی اور بخارات کی مقدار میں تغیر کی وجہ سے وقت اور جگہ کے ساتھ ہوا کا وزن لگاتار بدلتا رہتا ہے۔
کرئہ ہوا کے دباؤ کی پیمائش کرنے کے لیے جس آلے کا استعمال کیا جاتا ہے اسے باد پیما یابیرومیٹر کہا جاتا ہے۔مرکری بیرومیٹر،اینی رائڈبیرومیٹراور بیروگراف عموماً سب سے زیادہ استعمال ہونے والے باد پیما ہیں۔ان میں پیمائش کی اکائی ملی بار میں ہوتی ہے۔مرکری بیرومیٹر ایک صحیح آلہ ہے اور اسے معیاری حیثیت سے استعمال کیا جاتا ہے۔اس میں کسی بھی جگہ کے کرئہ باد کے دباؤ کو شیشے کی ایک معکوس ٹیوب میں مرکری کے کالم کے وزن کے بالمقابل متوازن کیا جاتا ہے۔مرکری بیرومیٹر کے اصول کی تشریح ایک آسان تجربے سے کی جا سکتی ہے(شکل 8.4 )۔ تقریباً ایک میٹر لمبی شیشے کی ایک موٹی ٹیوب لیجیے جس کی موٹائی یکساں ہواور اسے مرکری(پارہ) سے بھر دیجیے۔ٹیوب کے منھ کو ایک انگلی سے بند کر دیجیے اور اسے الٹا کرکے پیالے میں رکھے پارہ میں ڈبو دیجیے ۔اس بات کا خیال رہے کہ اس میںہوا نہ گھسنے پائے۔اب اپنی انگلی کو ہٹا لیجیے۔
5
  
ٹیوب میں سے پارہ   پیالے میں بہے گااور پیالے میں سیال کی سطح کے اوپرایک مقررہ اونچائی پر رک جائے گا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پیالے میں رکھے ہوئے پارہ کی سطح سے اوپر ٹیوب میں پارہ کے کالم کا وزن غیر معینہ اونچائی والے ہوا کے کالم کے برابر سیال کی سطح مقطع کے مساوی ہوتا ہے۔اس طرح ٹیوب میں پارہ کے کالم کی اونچائی ہوا کے دباؤ کی پیمائش بن جاتی ہے۔
اینی رائڈ بیرومیٹر کا نام یونانی لفظ اے نیروس(Aneros) سے لیا گیا ہے،جس میں ’اے‘ کے معنیٰ ہیں ’’نہیں‘‘اور ’نیروس ‘کے معنیٰ ہیں’’مرطوب‘‘   یعنی غیر مرطوب یا جو غیر سیال ہو۔یہ ایک جامع اور حمل پذیر آلہ ہے۔اس میں ہلکے بھرت سے بنا ایک جھری دار دھات کا ڈبہ ہوتا ہے جس میںسے جزوی طور پر ہوا نکالنے کے بعدوہ پوری طرح بندہوتاہے۔اس پر ایک پتلا لچیلا ڈھکن ہوتا ہے جو دباؤ کی تبدیلی کو محسوس کرتا ہے(شکل8.5 )۔
6
جب دباؤ بڑھتاتوڈھکن اندر کی طرف دبتا ہے اور اس عمل سے پوائنٹر سے جڑے لیور کا سسٹم چلتا ہے جو لکھے ڈائل پر گھڑی کے موافق سمت میں گھومتا ہے اور اونچی ریڈنگ دیتا ہے۔جب دباؤ کم ہوتا ہے تو ڈھکن باہر کی طرف کھلتا ہے اور پوائنٹر گھڑی مخالف سمت میں گھومنے لگتاہے جس سے دباؤ کم ہونے کا پتہ چلتا ہے۔
بیروگراف اینی ر ائڈ بیرومیٹر کے اصول پر کام کرتا ہے۔اس میں ہوا سے خالی کئی باکس ایک دوسرے کے اوپر رکھے ہوتے ہیں تاکہ انتقالیت زیادہ ہو سکے۔لیور کا ایک سسٹم اس حرکت کو بڑھا دیتا ہے جو ایک قلم کے ذریعہ گردش کرنے والے ڈرم پر ریکارڈ کیا جاتا ہے۔بیروگراف کی ریڈنگ ہمیشہ صحیح نہیں ہوتی،اس لیے ان کو مرکری بیرومیٹر کی ریڈنگ سے موازنہ کرکے معیاری بنایا جاتا ہے۔  

باد نما   

بادنما ایک ایسا آلہ ہے جس کا استعمال ہوا کی سمت کی پیمائش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔بادنما ایک ہلکے وزن کی گردش کرنے والی پلیٹ ہوتی ہے جس کے ایک سرے پر تیر ہوتا ہے اور دوسرے پر اسی زاویہ پر دھات کی دو پلیٹیں جڑی ہوتی ہوتی ہیں۔یہ گردش کرنے والی پلیٹ لوہے کی ایک سلاخ (Rod)پر اس طرح چڑھائی جاتی ہے کہ یہ افقی پلیٹ پر آزادانہ گھوم سکے۔یہ ہوا کی معمولی بہاؤ پر بھی گھومنے لگتی ہے۔تیر ہمیشہ اس سمت کی طرف ہوتا ہے جدھرسے ہوابہہ رہی ہوتی ہے۔

78
شکل 8.6 بادنما                                          شکل 8.7 بارش پیما

بارش پیما

بارش کی مقدار کی پیمائش بارش پیما کی مدد سے کی جاتی ہے۔بارش پیما میں ایک دھات کااسطوانہ (Cylinder) ہوتاہے جس میں ایک گول قیف لگا ہوتا ہے۔ عام طور پر قیف کی گولائی کا قطر 20 سینٹی میٹر ہوتا ہے۔بارش کے قطروں کو جمع کیا جاتا ہے اور ایک پیمائشی گلاس میں ان قطرو ں کی پیمائش کی جاتی ہے۔عام طور پر بارش کی پیمائش ملی میٹر یا سینٹی میٹر کی اکائیوںمیں کی جاتی ہے۔برف کی پیمائش بھی اسے پانی میں بدل کر اسی طرح کی جاتی ہے(شکل8.7 )۔

موسم کے عناصر کی پیمائش کرنے کے لیے آلات

نمبرشمار

عنصر

آلہت  

اکائی

1
2
3
4
5
درجۂ حرارت
فضائی دباؤ
ہوا   (سمت)
ہوا   (رفتار)
بارش

تھرما میٹر
بیرومیٹر
باد نما
انیمو میٹر
بارش پیما
ڈگری سینٹی گریڈ؍ڈگری فارن ہائٹ  
ملی بار
اصلی سمتیں
کلومیٹر فی گھنٹہ
ملی میٹر؍سینٹی میٹر

موسمی نقشے اور چارٹ

موسمی نقشے: موسمی نقشہ زمین یا اس کے کسی حصے کے موسمی مظاہر کا ہموار سطح پر نمائندگی ہے۔یہ کسی بھی دن کے لیے مختلف موسمی عناصر جیسے درجۂ حرارت،بارش، دھوپ اور بادل،ہواؤں کی سمت اور رفتار وغیرہ سے متعلق حالات کو پیش کرتا ہے۔ایسے مشاہدات کچھ مقررہ اوقات پر لیے جاتے ہیں اور کوڈ کے ذریعہ پیشین گوئی کرنے والے مقامات پر بھیجے جاتے ہیں۔مرکزی دفتر ان مشاہدات کا اندراج کرتا ہے جو نقشوں کو بنانے میں بنیادکی طرح کام کرتا ہے۔پہاڑی مقامات،ہوائی جہازوں ، پائلٹ غباروں وغیرہ سے حاصل کردہ اوپری ہو ا کے مشاہدات کو الگ سے پلاٹ کیا جاتا ہے۔ ہندوستانی موسمی شعبہ(Indian Meteorological Department) کے قیام سے لے کر اب تک موسمی نقشے اور چارٹ باقاعدہ بنائے جا رہے ہیں۔
موسمی رصدگاہیں اعدادوشمار کو پونہ میں واقع مرکزی رصدگاہ کو ہر دن دوبار بھیجتی ہیں۔ہندوستانی سمندروں پر اڑنے والے جہاز بھی اعداد و شمار اکٹھا کرتے ہیں۔انٹارکٹکا میں موسمی رصدگاہ کے قیام،بین الاقوامی ہندوستانی بحری سفراور راکٹ اور موسمی سیارچوں کے ساتھ موسم کے مشاہدے اور پیشین گوئی میںاچھی ترقی ہوئی ہے۔
موسمی چارٹ:متفرق موسمی رصدگاہوں سے حاصل کردہ اعدادوشمار بہت زیادہ اور اس قدر تفصیلی ہیں کہ ایک چارٹ میں نہیں آسکتے جب تک کہ کوئی ایسا کوڈ نہیں بنایا جاتا جس سے کہ انہیں قلیل طور پر ظاہر کیا جاسکے۔اسے علامتی موسمی چارٹ (Synoptic Weather Chart) اور مستعمل کوڈ کو موسمی علامت(Meteorological Symbol) کہتے ہیں۔موسمی چارٹ موسم کی پیشین گوئی کے لیے ابتدائی آلہ فراہم کرتا ہے۔ان کی مددسے مختلف ہوائی مادے،ہوائی دباؤ کے نظام،ہوائی محاذ اوربارندگی کے علاقوں کی پہچان کی جاتی ہے۔

موسمی علامتیں

تمام رصد گاہوں سے حاصل پیغامات کو عالمی موسمی تنظیم(World Meteorological Organisation) اور قومی موسمی بیورو(National Weather Bureau) کے ذریعہ بنائی گئی معیاری علامتوں کا استعمال کرکے نقشے پر پلاٹ کیا جاتا ہے(شکل 8.8 اور 8.9 )۔نقشے پر تشریح کی سہولت کے لیے ہر عنصر کو اسٹیشن سرکل پر ایک مقررہ جگہ دی جاتی ہے جیسا کہ شکل8.8 اور 8.9 میں دیا گیا ہے۔

555
10

موسمی اعداد وشمار کی نقشہ نویسی

زیادہ تر موسمی اعدادوشمار کی نمائندگی خطی علامات سے کی جاتی ہے۔ان میں سب سے عام ہم پیمانہ خطوط (Isometric lines)ہیں۔ ان خطوط کو نقشے پرمساوی القدر(Isopleth) کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے۔ مساوی القدر خطوط کو ان مقامات کے لیے کھینچا جاتا ہے جہاں پر درجۂ حرارت، بارش، ہوائی دباؤ،دھوپ، بادل وغیرہ کی اوسط مقدار ایک جیسی ہو۔ان میں سے کچھ خطوط کا تذکرہ ان کے استعمال کے ساتھ ذیل میں کیا گیا ہے:
مساوی البار   (Isobar): یکساں ہوائی دباؤ والے مقامات کو ملانے والے خطوط؛
مساوی الحرارت   (Isotherm):   یکساں درجۂ حرارت والے مقامات کو ملانے والے خطوط؛
ہم بارانی خطوط (Isohyet): ایک دیے گئے وقت میںیکساں مقدار میں بارش والے مقامات کو ملانے والے خطوط؛
ہم آفتابی خطوط (Isohels):   روزانہ اوسطاً یکساں دھوپ کی مدت والے مقامات کو ملانے والے خطوط؛
مساوی الابر   (Isonephs):   اوسطاً یکساں مقدار میں بادلوں سے ڈھکے مقامات کو ملانے والے خطوط۔

موسمی نقشوں کی تشریح

مندرجہ بالا معلومات کی بنیاد پر ہم موسمی نقشوں کا تجزیہ کر کے ملک کے مختلف حصوں میں موجود موسمی حالات کے عمومی طرز کو سمجھ سکتے ہیں۔شکل 8.10 میں ماہ مئی کے دوران ہندوستان میں موجود عام موسمی حالات کی خاکہ کشی کی گئی ہے۔شمال اور شمال مشرق میں ہوا کے دباؤ میں عمومی اضافہ نظر آتا ہے۔کم دباؤ کے دو مراکز ایک راجستھان میں اور دوسرا خلیج بنگال میں دیکھے جا سکتے ہیں۔کم دباؤ کا مرکز خلیج بنگال میں پوری طرح بنا ہوا ہے جس کے چاروںطرف مساوی البار کے نیم دائرے ہیںجہاں سب سے کم دباؤ 996 ملی بار ہے۔جنوبی ہند کا آسمان بادلوں سے ڈھکا ہے جب کہ دوسری طرف ، ہندوستان کے وسطی حصوں میں عام طور پر آسمان صاف ہے۔مشرقی ساحل کے جنوبی حصوں میں،ہوائیں خشکی کی طرف سے سمندر کی طرف گھڑی مخالف سمت میں بہہ رہی ہیں۔شکل 8.13 کو بھی پڑھئے اور جولائی میں درجۂ حرارت اور ہوا کے دباؤ کے حالات کا پتہ لگائیے۔
شکل 8.11 اور 8.12 میںموسم سرما کے دوران ماہ جنوری اورماہ فروری میں عام موسمی حالات کی خاکہ کشی کی گئی ہے۔اس میں شمال سے جنوب کی طرف دباؤ میں عام اضافہ ہو رہا ہے۔ملک کے زیادہ تر حصوں میں آسمان صاف ہے اور زیادہ دباؤ کا خطہ ہندوستان کے مشرق کی طرف بن رہا ہے۔سب سے زیادہ دباؤ کا مساوی البار 1018 ملی بار راجستھان سے گذرتا ہے۔

11

12

13

14

مشق

1 ۔ ذیل میں دیے گئے چار متبادل میں سے صحیح جواب کا انتخاب کریں:
(i)    ہر دن کے لیے ہندوستان کے موسمی نقشوں کو کون سا شعبہ تیار کرتا ہے؟
(الف) عالمی موسمی تنظیم
(ب) ہندوستانی موسمی شعبہ
(ج) سروے آف انڈیا
(د) ان میں سے کوئی نہیں
(ii)   بیش ترین اور کم ترین تھرمامیٹر میں کون سے دو سیال استعمال کیے جاتے ہیں؟
(الف) پارہ اور پانی
(ب) پانی اور الکحل
(ج) پارہ اور الکحل
(د) ان میں سے کوئی نہیں
(iii)   یکساں دباؤ کے مقامات کو ملانے والے خطوط کو کہا جاتا ہے
(الف) مساوی البار
(ب) ہم بارانی خطوط
(ج) مساوی الحرارت
(د) ہم آفتابی خطوط
(iv)   موسم کی پیشین گوئی کا ابتدائی آلہ ہے
(الف)    تھرما میٹر
(ب) بیرومیٹر
(ج) نقشے
(د) موسمی چارٹ
(v) اگر ہوا میں زیادہ رطوبت ہے، خشک بلب اورتر بلب کی ریڈنگ کے درمیان فرق
(الف) کم ہوگا
(ب) زیادہ ہوگا
(ج) مساوی ہوگا
(د) ان میں سے کوئی نہیں ہوگا
2 ۔ مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 30 الفاظ میں دیں:
(i) موسم کے بنیادی عناصر کیا ہیں؟
(ii) موسمی چارٹ کیا ہوتا ہے؟
(iii) موسمی مظاہر کی پیمائش کے لیے عام طور پر درجہ اول کی رصدگاہوں میں کون سے آلات موجود ہوتے ہیں؟
(iv) مساوی الحرارت کیا ہے؟
(v) مندرجہ ذیل کو موسمی نقشوں پر دکھانے کے لیے کن موسمی علامتوں کا استعمال کیا جاتا ہے؟
(الف) بارش
(ب) دُھند
(ج) دھوپ
(د) بجلی کی کڑک
(ہ) بادلوں سے ڈھکا آسمان
3 ۔ درج ذیل سوال کا جواب 125 الفاظ سے زائد نہ ہو۔
موسمی نقشے اور چارٹ کس طرح تیار کیے جاتے ہیںاور یہ ہمارے لیے کس طرح مفید ہیں؟ بیان کریں۔

نقشے کا مطالعہ

شکل 8.12 اور8.13 کا مطالعہ کریں اور مندرجہ ذیل سوالات کے جواب دیں:
(الف) ان نقشوں میں کس موسم کو دکھایا گیا ہے؟
(ب) شکل   8.12 میں مساوی البار کی سب سے زیادہ قدر کیا ہے اور یہ ملک کے کس حصے سے گذرتا ہے؟
(ج) شکل   8.13 میں مساوی البار کی سب سے زیادہ اور سب سے کم قدر کیا ہے اور ان کا محل وقوع کہاں ہے؟
(د) دونوں نقشوں میں درجۂ حرارت کی تقسیم کا طرز کس طرح کا ہے؟
(ہ) آپ شکل   8.12 میں سب سے زیادہ اور سب سے کم اوسط درجۂ حرارت کس حصے میں دیکھتے ہیں؟
(و)       آپ دونوں نقشوں میں درجۂ حرارت اور دباؤ کی تقسیم میں کس طرح کا تعلق دیکھتے ہیں؟