باب1
تعارف
انسانی ماحولیات اور علوم خاندان داری
(Human Ecolog and Family Sciences)
شعبہ علم کا ارتقا اور بہتر زندگی کے لحاظ سے اس کی معنویت
(Evolution of the Discipline and its relevance to quality of life)
ہم اپنی بات کا آغاز اس مضمون کے عنوان’’ انسانی ماحولیات اور علوم خاندان داری‘‘ کو سمجھنے کی کوشش سے کرتے ہیں۔ لغت میں لفظ’ماحولیات‘(Ecology) کی وضاحت دو طریقوں سے کی گئی ہے۔ ایک تو یہ کہ اس کو حیاتیات(Biology) کی ایک شاخ قرار دیا گیا ہے جس میں زندہ عضویوں(Living organism) اور ان کے ماحول کے مابین رشتوں سے بحث کی جاتی ہے۔دوسرے اس کو عضویے اور اس کے ماحول کے درمیان پیچیدہ رشتوں کا مجموعہ کہا گیا ہے۔ زیر نظر مضمون کے سیاق و سباق میں اگر ہم اس کا رشتہ حیاتیات سے جوڑیں تو’’ زندہ عضویہ‘‘ سے مراد انسان ہوگا اور اس لئے ’ماحولیات‘ سیے پہلے لفظ’انسانی‘ کا اضافہ کیا جائے گا۔
اس مضمون میں آپ انسانوں کا مطالعہ ان کے ماحول کے حوالے سے کریں گے۔ اسی کے ساتھ ، ان فعال رشتوں کا بھی مطالعہ کیا جائے گا جو بچوں، نو بالغوں اور نوجوانوں کے مختلف جسمانی ،معاشی،سماجی اور نفسیاتی عناصر کے درمیان پائے جاتے ہیں۔
اس باب کے عنوان میں لفظ’علوم خاندان داری‘ بھی اتنی ہی اہمیت کا حامل ہے۔ جیسا کہ آپ اتفاق کریں گے کہ اکثر لوگوں کی زندگی میں خاندان کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔خاندان کے اندر ہی بچوں کی پرورش ہوتی ہے جہاں ان کی نشو و نما ہوتی ہے اور نوجوانوں کی حیثیت سے ان کو آزادانہ شناخت حاصل ہوتی ہے۔ اس مضمون کے مطالعے کے دوران ، خاندان کے حوالے سے فرد کو سمجھنے میں طلبا کی رہنمائی کی جائے گی۔در اصل خاندان، معاشرے کی ایک انتہائی اہم سماجی اکائی ہے۔ درس و تدریس کے عمل میں ’انسانی ماحولیات اور علوم خاندان داری ‘ ایک مربوط طریق کار اختیارکرتے ہیں۔اس سے زیاد اہم بات یہ ہے کہ یہ مضمون خاندان اور سماج کے افراد کی مناسبت سے انسانوں اور ان کے ماحول کے درمیان تفاعل سے بحث کرتا ہے۔ یہی چیز ماحولیات سے ان کے ہمدردانہ تعلق کی اساس بنتی ہے جو جسمانی،نفسیاتی ، سماجی ،ثقافتی اوراقتصادی وسائل کا احاطہ کرتی ہے۔
گیارہویں جماعت کے اس نصاب میں آپ محسوس کریں گے کہ نو بلوغت(Adolescence) کے مرحلے پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے کیوں کہ یہ مرحلہ انسان کی زندگی میں ایک اہم موڑ کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ لہذا آپ مطالعہ کریں گے کہ نو بالغوں میں خود کو سمجھنے کا احساس کس طرح پیدا ہوتا ہے اور ان کی زندگی میں غذا اور دیگر وسائل جیسے کپڑے، لباس اور ترسیل کا کیا کردارہے۔
انسانی ماحولیات اور علوم خاندان داری(HEFS) سے کسی حد تک ملتا جلتا ایک مضمون اور بھی ہے یعنی علم خانہ داری یا ہوم سائنس(Home Science) لیکن دونوں مضمون بالکل یکساں نہیں ہیں۔ ہوم سائنس ملک کے مختلف حصوں میں یونیور سٹی اور اعلیٰ ثانوی سطح پر اسی نام سے پڑھائی جاتی ہے ۔ زمانے کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ علم کے بہت سے شعبوں نے نئی شکلیں اختیار کر لی ہیں اور زیادہ عصری معنویت والے نام اختیار کرلئے ہیں۔ مثلاً حیاتیاتی علوم(Biological Sciences) کے لئے اب مطالعات زندگی(Life Sciences) کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ ضرورت یہ تھی کہ اسکول کی سطح پر ہوم سائنس کے مواد کو نئے زمانے سے ہم آہنگ کیاجائے اور اس کو ایک ایسا عام عنوان دیا جائے جو گھر اور اس کے ان کاموں سے الگ کر دے جو عموماً لڑکیاں اور عورتیں انجام دیتی ہیں۔ یونیورسٹی کی سطح پر اس کام کو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن(UGC) نے کئی برسوں پہلے انجام دے دیا تھا۔
ہندوستان میں ’ہوم سائنس‘ سے لے کر ’انسانی ماحولیات اور علوم خاندان داری‘ تک کے ارتقائی سفر کا ایک مختصر خاکہ پیش خدمت ہے ۔ بیسویں صدی کے اوائل میں ملک کے مختلف حصوں میں بہت سے ایسے ادارے تھے جنہوں نے غذا وتغذیہ ،لباس سازی اور کپڑا سازی اور توسیعی تعلیم کے کورس شروع کر دیے تھے۔1932 میں یہ تمام مختلف شعبے ہوم سائنس کے عنوان کے تحت یک جا کر دیئے گئے جب لیڈی ارون کالج کے نام سے ایک ادارہ خواتین کی تعلیم کے فروغ کے لئے دہلی میں شروع کیا گیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان برطانوی راج سے آزاد نہیں ہوا تھا اور بہت کم لڑکیاں اسکول جاتی تھیں اور عورتوں کی اعلیٰ تعلیم کے لئے شاید ہی کوئی ادارہ موجود رہا ہو۔
ہندوستان کی تحریک آزادی کے قائدین میں چند ممتاز خواتین بھی شامل تھیں۔ ان میں سروجنی نائیڈو، راج کماری امرت کور اور کملا دیوی چٹو پادھیائے کے نام بہت نمایاں ہیں جو آل انڈیا ویمنز کانفرنس کی ممتاز شخصیات تھیں اورر جنہوں نے لیڈی ارون کالج کا نہ صرف خواب دیکھا بلکہ اس کو قائم بھی کیا۔ اس وقت ہندوستان میں برطانوی وائس رائے لارڈ ارون تھے ۔ ان کی بیوی لیڈی ڈورتھی ارون نے بھی اس کالج کے قیام میں بڑی مدد کی تھی۔ اسی وجہ سے اس کالج کا نام لیڈی ارون کے نام پر رکھا گیا ۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ عورتیں گھر اور سماج دونوں کی خدمت یکساں عزم و حوصلے سے کر سکیں تاکہ تعلیمی اور سماجی نابرابری کو ،جو عورتوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں رکاوٹ تھیں ، دور کیا جائے۔
اس طرح ہوم سائنس فقط’خانہ داری‘ سے متعلق ایک مضمون نہیں بلکہ بین موضوعاتی علوم کا ایک ایسا شعبہ سمجھا گیا جس کا مقصد طلبا کو با اختیار بنانا اور دیگرافراد خاندانوں کی زندگی کے معیار کو بلند کرنا تھا۔ْ بہر حال وقت گزرنے کے ساتھ (عام لوگوں اور ہوم سائنس سے نا واقف پیشہ وروں کے ذہن میں ) ہوم سائنس کا نام بنیادی طورر پر باورچی خانے کے کاموں ، کپڑے کی دھلائی اور بچوں کی نگہ داشت سے وابستہ ہو کر رہ گیا۔ اعلیٰ تعلیم کے لئے تو کئی سال پہلے اس کے نصاب تعلیم کووقت کی ضرورتوں سے ہم آہنگ کر دیا گیا تھا ور اس کے پیشہ ورانہ معیاروں کو از سر نو مرتب کیا گیا تھا، لیکن ہائی اسکول کی سطح پر اس کی صنفی تخصیص اور گھریلو کام کاج سے وابستگی بر قرار رہی۔ کچھ ایسے اسباب تھے جن کی بنا پر یا تو اس شعبے میں لڑکوں کو اسکول میں داخلہ نہیں دیا جاتا تھا یا پھر لڑکے خود اس مضمون کی طرف راغب نہیں ہوتے تھے کیوں کہ اس مضمون کو صرف لڑکیوں کے لئے مخصوص سمجھ لیا گیا تھا۔ اس کے بارے میں غلط طور پر یہ بھی سمجھ لیا گیا کہ یہ کوئی سنجیدہ مضمون نہیں ہے۔
اس درسی کتاب کا موجودہ نصاب اپنے مواد اور طریق کار دونوں اعتبار سے عصری تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ اس کو اس طرح سے مرتب اور پیش کیا گی ہے کہ آپ زیر بحث مسائل کی اچھی طرح نشان دہی کر سکیں۔ اس کورس کے بنیادی مقاصد کی ترجمانی کے لئے ’انسانی ماحولیات اور علوم خاندان داری‘ کے عنوان کو ہی بہت مناسب ترین سمجھا گیا ہے۔ ابواب کے مطالعے سے آپ محسوس کریں گے کہ یہ ایک بین علومی مضمون ہے۔ اس کے دائرہ کار میں مختلف شعبہ جات مثلاً انسانی نشو و نما (Human Development) غذا اور تغذیہ(Food and Nutrition) کپڑااورلباس(Fabric and Aparel)ابلاغ و توسیع(Communication and Extension) اور وسائل کی انتظام کاری(Resource Management) وغیرہ داخل ہیں۔ کسی بھی شخص کے لئے اپنے معیار زندگی کو مستحکم طور پربہتر بنانے کی غرض سے ان شعبوں کا علم بنیادی اہمیت رکھتا ہے چاہے وہ مرد ہو یا عورت ، دیہات کا ہو یا شہر کا۔ امید ہے کہ یہ درسی کتاب کچھ ایسےسوالات کا جواب دے سکے گی جو نوجوان ذہنوں میں اپنی زندگی کے بارے میں پیدا ہوتے ہیں اور جنہیں محض امتحانات پاس کرنے کا ذریعہ نہیں سمجھا جائے گا۔
کلیدی اصطلاحات
ماحولیات، خاندان ، نو بلوغت، علم خانہ داری یا ہوم سائنس ، صنفی تخصیص، ہم عصر، بین علومی ، معیار زندگی
۰ مشق
A۔ کیا آپ مضمون ہوم سائنس کے بارے میں جانتے ہیں۔ ہاں نہیں
اگر آپ کا جواب ’نہیں‘ ہے تو اپنے استاد سے معلوم کیجئے۔
ایسی پانچ اصطلاحات ؍تصورات کی فہرست تیار کیجئے جنہیں آپ ہوم سائنس سے وابستہ کرتے ہیں۔
1۔ ---------------------
2۔ ---------------------
3۔ ---------------------
4۔ ---------------------
5۔ ---------------------
B۔ سال کے آخر میں جب آپ اس کتاب ’انسانی ماحولیات اور علوم خاندان داری‘ کا مطالعہ کر چکیں تو پانچ ایسے تعلیمی شعبوں کی فہرست تیار کیجئے جنہیں آپ اس مضمون سے وابستہ کریں گے۔
1۔ ---------------------
2۔ ---------------------
3۔ ---------------------
4۔ ---------------------
5۔ ---------------------
۰ سوالات برائے نظر ثانی
1۔ ’انسانی ماحولیات‘ اور ’علوم خاندان داری‘ کی اصطلاحات کی وضاحت کیجئے۔
2۔ کیا آپ اس بات سے متفق ہیں کہ نو بلوغت زندگی کا ایک اہم موڑ ہے؟
3۔ کچھ ایسی ممتاز خواتین کے نام بتائیے جنہوں نے ہندوستان میں پہلا ہوم سائنس کالج شروع کرنے کا تصور پیش کیا۔
a۔ ---------------------
b۔ ---------------------
c۔ ---------------------
d۔ ---------------------