باب 3
غذا،تغذیہ،صحت اور تن درستی
(Food ,Nutrition,Health and Fitness)
آموزشی مقاصد
یہ باب مکمل کرنے کے بعد طلبا میں یہ صلاحیت پیدا ہو جائے گی-
• غذا،تغذیہ،تغذیاتی عناصر(Nutrients) ، صحت اور تندرستی جیسی اصطلاحات کی تعریف بیان کرسکیں اور صحت بر قراررکھنے میں غذا اور تغذیئے کے کردار کی وضاحت کر سکیں۔
• اصطلاح’متوازن غذا‘(Balanced Diet) کا مفہوم سمجھ سکیں اور غذا کے انتخاب کے معاملے میں اس تصور کا استعمال کر سکیں۔
• مجوزہ غذائی فراہمی(Recommended Dietary Allowances) (آر ڈی اے) کی تعریف کی بنیاد سمجھ سکیں گے اور آر ڈی اے اور غذائی ضروریات کا فرق سمجھ سکیں۔
• غذائی اشیا کی مناسب گروپوں میں درجہ بندی کی وجہ سمجھ سکیں۔
• نو بالغوں کی غذائی عادتوں پر اثر انداز ہونے والے عوامل کا جائزہ لے سکیں۔
• خورد و نوش سے متعلق بد نظمیوں کے اسبا ب، علامات اور تغذیاتی اقدامات کی نشاندہی کر سکیں۔
3.1 تعارف
نو بلوغت بہت سی گہری تبدیلیاں لے کر آتی ہے۔ اس زمانے میں نشو و نما کی رفتار بڑے ڈرامائی انداز سے بڑھ جاتی ہے۔ نشو و نما کی یہ تیز رفتاری ان ہارمونوں کی سرگرمی کے سبب ہوتی ہے جوجسم کے ہر عضو کو متاثر کرتے ہیں اور اسی وجہ سے اس دوران صحت بخش کھانا بہت اہم ہو جاتا ہے۔ تغذیاتی عناصر کی ضرورت پورے بچپن کے دوران بڑھتی رہتی ہے، نو بلوغت کے دوران اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے اور بالغ ہو جانے پر اس ضرورت میں اعتدال آ جاتا ہے یا یہ بہت کم رہ جاتی ہے۔ یہ کہاوت کہ’آپ وہی ہیں جو آپ کھاتے ہیں‘(you are what you eat) درست ثابت ہو چکی ہے۔ ہم مختلف قسم کی غذائیں جیسے دال،چپاتی(روٹی)،بریڈ،چاول،سبزیاں،دودھ اور لسی وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ مختلف قسم کی غذائیں ہمیں صحت مند اور چاق و چوبند رکھنے کے لئے تغذیاتی عناصر فراہم کرتی ہیں۔یہ جاننا اہم ہے کہ صحت مند رہنے کے لئے کس قسم کی غذا کا استعمال کیا جائے۔ غذا ،تغذیاتی عناصر اور ہماری صحت پر ان کے اثرات کا علم تغذیہ(Nutrition) کہلاتا ہے۔
تغذیہ اور صحت در اصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ اسی لئے ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ صحت بڑی حد تک تغذیئے پر منحصر ہوتی ہے اور تغذیہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کیا کھاتے ہیں۔ اس لئے ہماری صحت اور تن درستی کا اہم ترین عامل (Factor)صرف غذا ہے۔
اب ہم غذا،تغذیہ،صحت اور تن درستی کی تعریف بیان کرتے ہوئے ان پر گفتگو کرتے ہیں۔
• غذا(Food) ہر وہ ٹھوس اور رقیق چیز غذاہے جو نگلے جانے ، ہضم ہو جانے اور جسم میں تحلیل ہو جانے پر جسم کو وہ ضروری چیزیں جن کو تغذیاتی عناصر کہتے ہیں، فراہم کرتی ہے اور جسم کو درست رکھتی ہے۔یہ زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔غذا توانائی فراہم کرتی ہے، اعضا اور بافتوں(Tissues) کونمو دیتی ہے اور ان کو درست کرتی ہے۔ غذا جسم کو بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے اور جسم کے افعال میں باقاعدگی لاتی ہے۔
• تغذیہ(Nutrition) غذاؤں ،تغذیاتی عناصر، ان میں شامل دیگر اشیا اور معدے میں ان کے افعال کا علم تغذیہ کہلاتا ہے ۔ ان افعال میں غذا کا معدے میں داخل ہونا ، ہضم ،انجذاب،استحالہ(Metabolism) او اخراج شامل ہے۔تغذیے کی اس تعریف میں فعالیاتی ابعاد(Physiological Dimensions) اور اس کے علاوہ اس کے معاشرتی ،نفسیاتی اور اقتصادی ابعاد بھی شامل ہیں۔
• تغذیاتی عناصر(Nutrients) تغذیاتی عناصر غذا کے وہ اجزائے ترکیبی ہیں جن کی مناسب مقدار جسم کو فراہم ہونا ضروری ہے۔ ان عناصر میں کاربوہائڈریٹ،پروٹین،چربی(Fats) ، معدنیات،وٹامن،پانی اور ریشے(Fibre) شامل ہیں۔ ہمیں صحت مند رہنے کے لئے کئی قسم کی قوت بخش غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کھانے کی بیشتر چیزوں میں ایک سے زیادہ تغذیاتی عناصر شامل ہوتے ہیں ، مثلاً دودھ میں پروٹین اور چربی ہوتی ہے۔ تغذیاتی عناصر کو غذاؤں کی روزانہ استعمال میں آنے والی اس مقدار کی بنیاد پر کثیر(Macro) اورقلیل(Micro) کے زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ کثیر تغذیاتی عناصر اور قلیل تغذیاتی عناصر کے درمیان فرق سمجھنے کے لئے ذیل کی شکل دیکھئے۔
3.2 متوازن غذا(Balanced Diet)
متوازن غذا مناسب مقدار اور صحیح تناسب والی ایسی مختلف غذاؤں پر مشتمل ہوتی ہے جو جسم کی پروٹین، کاربوہائڈریٹ،چربی،وٹامن،معدنیات،پانی اور ریشوں(Fibre) جیسی تمام روز مرہ غذائی ضرورتوں کو پورا کرتی ہو۔ ایسی خوراک اچھی صحت کو فروغ دیتی ہے اور بر قرار رکھتی ہے اور غذا فرہم نہ ہونے کے مختلف عرصے کے دوران ’تحفظاتی‘‘ ذخیرہ(Sfety Margin) یا محفوظ تغذیاتی عناصر فراہم کرتی ہے۔
قلیل تغذیاتی عناصر
(جسم کے لیے قلیل مقدار میں درکار )
آیوڈین ،لوہا ، معدنیات ،کیلشیم ،
کثیر تغذیاتی عناصر
(جسم کے لیے کثیر مقدار میں ضروری )
کاربوہائڈریٹ ،پروٹین ،چربیاں ،
تغذیاتی عناصر
وٹامن،پانی فائبر ریشے

شکل 1:غذا کے بنیادی تغذیاتی عناصر
برت رکھنے کے دوران یا جب ہماری روز مرہ کی خوراک میں بعض تغذیاتی عناصر کچھ دیر کے لئے کم ہو جاتے ہیں تو یہ تحفظاتی ذخیرہ(Safety Margin) ہماری صحت کی حفاظت کرتا ہے۔ اگر متوازن غذا کسی شخص کے لئے آر ڈی اے کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے تو اس میں بھی تحفظاتی ذخیرہ خود بہ خود شامل ہوگا کیوں کہ آر ڈی اے کا تعین زائد غذائی فراہمی کی بنیاد پر ہی کیا جا تاہے۔
آر ڈی اے(مجوزہ غذائی فراہمی)=ضروریات+تحفظاتی ذخیرہ
متوازن غذا میں درج ذی پہلوؤں کاخیال رکھا جاتا ہے:
1۔ اس میں مختلف قسم کی غذائی اشیا شامل ہوتی ہیں۔
2۔ یہ تمام تغذیاتی عناصر سے متعلق آر ڈی اے کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے۔
3۔ متوازن غذا میں صحیح تناسب میں تغذیاتی عناصر شامل ہوتے ہیں
4۔ یہ تغذیاتی عناصر کے لئے تحفظاتی ذخیرہ فراہم کرتی ہے۔
5۔ صحت کو فروغ دیتی ہے اور بر قرار رکھتی ہے۔
6۔ قد کے مطابق وزن کو بر قرار رکھتی ہے۔
3.3 صحت اور تندرستی(Health and Fitness)
عالمی صحت تنظیم(World health Orgnaisation) کے مطابق’’صحت صرف بیماری اور کمزوری کا نہ ہونا ہی نہیں بلکہ مکمل جسمانی جذباتی اور سماجی سلامتی کی حالت ہے‘‘۔ صحت کی یہ تعریف 1948سے آج تک تبدیل نہیں ہوئی ہے۔
ہم سب مثبت صحت (Positive Health) یعنی مکمل جسمانی ،سماجی اور ذہنی صحت چاہتے ہیں۔مثبت صحت بر قرار رکھنے کے لئے ہماری خوراک میں مطلوبہ تغذیاتی عناصر کی مناسب مقدار ضروری ہے۔
جسمانی صحت غالباً سب سے آسانی سے سمجھ میں آ جانے والی بات ہے۔ البتہ ذہنی صحت کی تعریف بیان کرنے کے لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ’’یہ جذباتی اور نفسیاتی سلامتی کی ایک ایسی حالت جس میں کوئی شخص اپنی ادراکی(Cognaitive) اور جذباتی صلاحیتوں کو استعمال کرنے ، سماج میں رہنے ارو کام کرنے اور روز مرہ زندگی کے عام تقاضوں کو پورا کرنے کا اہل ہو‘‘۔دوسرے الفاظ میں ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ کسی تسلیم شدہ ذہنی بیماری کا نہ ہونا لازمی طور پر ذہنی صحت کا اشاریہ نہیں ہوتا۔ ذہنی صحت کا اندازہ لگانے کاایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کوئی شخص کتنے موثر طور پر اورکتنی کامیابی کے ساتھ اپنے کام انجام دیتا ہے۔ خود کو با صلاحیت اور اہل سمجھنا ، تناؤ(Stress) کی عام حالتوں کو برداشت کر پانا، اطمینان بخش تعلقات بر قرار رکھنا ، آزادانہ یا غیر منحصر( Independent) زندگی گزارنا اور مشکل حالات سے سلامتی کے سا تھ نکل آناذہنی صحت کی نشانیاں ہیں۔
تندرستی اچھی صحت سے عبارت ہے ۔ تن درستی باقاعدہ ورزش ، صحیح غذا اور تغذیہ اور مناسب آرام کا نتیجہ ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ جسمانی بحالی کے لئے بھی ضروری ہے۔ تن درستی کی اصطلاح دو طریقوں سے استعمال کی جاسکتی ہے: عمومی تن درستی(صحت اور سلامتی کی حالت) او ر خصوصی تن درستی(کھیلوں اور پیشوں کے مخصوص پہلوؤ ں کو انجام دینے کی صلاحیت پر مبنی Task Orientedتعریف تندرستی ، دل ، خون کی نالیوں، پھیپھڑوں اور عضلات کی زیادہ سے زیادہ کام کرنے کی صلاحیت کا نام ہے۔اب تک تن درستی کی تعریف یہ کی جاتی رہی ہے کہ یہ’’کسی غیر ضروری تھکن کے بغیر دن بھر کے کام انجام دینے کی صلاحیت کا نام ہے‘‘۔ صنعتی انقلاب کے نتیجے میں زندگی گزارنے کے طور طریقوں میں تبدیلیاں آ گئیں، فرصت کے اوقات میں اضافہ ہو گیا اور ہر کام خود کار مشینوں سے ہونے لگا جس کے پیش نظر یہ تعریف نا کافی ہو گئی ۔ اس کی موجودہ تعریف میں ’’زیادہ سے زیادہ‘‘ ایک کلیدی فقرہ ہے۔
تن درستی کی تعریف اب اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ کام اور فرصت کے دوران جسم کے موثر طور پر کام کرنے، صحت مند رہنے اور بیماریوں اور ہنگامی حالات سے مقابلہ کرنےکی صلاحیت ہے۔ تن درستی کو پانچ زمروں میں تقسیم کیاجا سکتا ہے: ایرو بک تن درستی (Aerobic Fitness)، عضلاتی طاقت(Muscular Strength)،عضلاتی قوت برداشت(Muscular Enduranceلچک(Flexibility) اور جسمانی ساخت (Body Composition) ۔ تن درستی کسی شخص کو ذہنی اور جذباتی چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لئے تیار کرتی ہے ۔ تن درست ہونے سے ہم خود کو طاقت وراور توانا محسوس کرتے ہیں۔ تن درستی روز مرہ کے جسمانی تقاضوں کو پورا کرنے کے قابل بھی بناتی ہے اور ساتھ ہی اچانک پیش آنے والے چیلنج کا سامنا کرنا جیسے دوڑ کر بس پکڑنے کے لئے بھی زائد توانائی فراہم کرتی ہے۔
اس طرح صحت ایک مکمل جسمانی ، جذباتی اور سماجی سلامتی کی حالت ہے جب کہ تن درستی کسی جسمانی کام کے تقاضوں کو پورا کرنے کی اہلیت ہے ۔ متوازن غذا لینے والا اور تند درست شخص سیکھنے کے لئے زیادہ اہل ہے اوراس میں زیادہ توانائی ،زیادہ قوت برداشت اور زیادہ عزت نفس ہوتی ہے ۔ صحت بخش غذاؤں کا استعمال اور پابندی کے ساتھ ورزش تن درست رہنے میں یقیناً معاون ثابت ہوتی ہے ۔12سے18 سال کی عمر کے لڑکے؍ لڑکیاں جن کی کھانے کی عادتیں غیر صحت بخش ہوتی ہیں اور جنہیں مناسب تغذیہ فراہم نہیں ہوتا ان میں کھانے سے متعلق بے ضابطگیاں پیداہو جاتی ہیں۔
3.4 متوازن غذا کی منصوبہ بندی کے لئے بنیادی غذائی گروپوں کااستعمال
(Using basic food groups for planning balanced diets)
متوازن غذاکی منصوبہ بندی کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ غذاؤں کو گروپوں میں بانٹ دیا جائے اورپھر یہ دیکھا جائے کہ ہمارے کھانوں میں ہر گروپ شامل ہے یا نہیں۔ ہر غذائی گروپ میں مشترک خصوصیات والی مختلف غذائیں شامل ہوتی ہیں۔ یہ مشترک خصوصیات بنیادی غذا، غذا کے فعلیاتی اثرات(Physiological Function) یا غذا میں موجود تغذیاتی عناصر ہیں۔
غذاؤں کی زمرہ بندی، ان میں موجود تغذیاتی عناصر کی بنیاد پر بھی کی جا سکتی ہے۔ یہ زمرہ بندی مختلف عوامل کی بنیاد پر الگ الگ ملکوں میں الگ الگ طرح سے کی جاتی ہے۔ ہندوستان میں، کھانوں کے انتخاب کے رہنما اصول کے طور پر پانچ غذائی گروپ بنائے جا سکتے ہیں۔ اس زمرہ بندی کے لئے بہت سے عوامل، مثلاً غذا کی دست یابی ، قیمت ، کھانا کھانے کے اوقات(Meal pattern) اور غذا کی کمی کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کا دھیان رکھا جاتا ہے۔ ہر گروپ کی تمام غذاؤں میں تغذیاتی عناصر کی مقدار یکساں نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے ہر گروپ سے متعلق مختلف غذاؤں کو خوراک میں شامل کیا جاتا ہے۔
غذاؤں میں موجود تغذیاتی عناصر کی بنیادپر کی جانے والی درجہ بندی سے یہ بات یقینی ہو جاتی ہے کہ جسم کو تمام تغذیاتی عناصر فراہم ہو گئے ہیں اور ہر گروپ میں متنوع تغذیاتی عناصر دست یاب ہیں۔
انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ(ICMR) نے پانچ بنیادی غذائی گروپ تجویز کئے ہیں۔ یہ درج ذیل چیزوں پر مشتمل ہے:
• اناج اور ان سے بنی ہوئی چیزیں
• دالیں اور پھلیاں(Pulses and legumes)
• دودھ اور گوشت سے بنی چیزیں
• پھل اور سبزیاں
• چربی اور شکر
سرگرمی1
ایسی دس غذاؤں کی فہرست تیار کیجئے جو آپ عام طور سے استعمال کرتے ہوں۔ ان میں سے ہر غذا کے بارے میں بتائیے کہ اس کا تعلق کس گروپ سے ہے۔ پھر فہرست میں شامل غذاؤں میں پائے جانے والے کثیر اور قلیل تغذیاتی عناصر کی فہرست بنائیے۔ ایسی غذاؤں کے نام بھی بتائیے جن میں سب سے زیادہ توانائی ہو۔
ان پانچ غذائی گروپوں کا خلاصہ ذیل کی جدول میں دیکھیے
غذائی گروپ تغذیاتی عناصر
| توانائی ،پروٹین،غیر ظاہری ،چربی ،وٹامن ۔بی ۔1 وٹامن ۔بی۔2،فولک ایسڈ ،کیلشم ،لوہا ،فائبر
|
![]() |
1۔ اناج اور ان سے بنی چیزیں چاول،گیہوں راگی ،باجرا ،مکئی ،جوار ،جو،چوڑا ،گیہوں کا آٹا |
| توانائی ،پروٹین ،غیر ظاہر چربی ،وٹامن بی۔1،وٹامن ۔بی ۔2،فولک ایسڈ ،کیلشیم ،لوہا ،فائبر | ![]() |
II۔دالیں اور پھلیاں بنگالی چنا ،کالا چنا ،ہرا چنا ،لال چنا ،مسور دال ،مٹر ،راجما ،سویا بین بین (Bean) |
| پروٹین ،چربی ،وٹامن،بی ۔12،کیلشیم ،وٹامن ۔بی ۔2 | ![]() |
IIIدودھ ،گوشت اور دودھ سے بنی چیزیں دودھ ،دہی،چکنائی نکلا دودھ ،پنیر |
![]() |
گوشت مرغ کا گوشت ، جگر ،مچھلی ، انڈا | |
| کیروٹی نائڈس ،وٹامن ۔سی فائبر | ![]() |
IV۔پھل اور سبزیاں پھل آم ، امرود ،ٹماٹر ،پپیتا،سنترا ،لیموں ،خربوزہ ، تربوز |
| غیر ظاہر چربی ،کیروٹی نائڈس، وٹامن ۔بی 2،فولک ایسڈ ،کیلشیم ،لوہا ،فائبر | ![]() |
( سبزیاں (ہرے پتوں والی)
(امرنتھ (سدا بہار
، پالک ،کمل ککڑی ،ہرا دھنیا ،سرسوں کا ساگ ،میتھی کا ساگ
|
| کیروٹی نائڈس فولک ایسڈ ، کیلشیم ،فائبر |
![]() |
دیگر سبزیاں
گاجر ،بینگن ،بھنڈی ،شملہ مرچ ،بین،(Beans)پیاز ،کمل ککڑی ،پھول گوبھی
|
| توانائی ،چربی ،لازمی فیٹی ایسڈ (fatty Acid) |
![]() |
V۔چربی اور شکر چربی مکھن ،گھی،جمے ہوئے تیل ،خوردنی تیل ،جیسے مونگ پھلی ،سرسوں کا تیل ، ناریل کا تیل ، |
| توانائی | ![]() |
شکر شکر ،گڑ |
جدول1: پانچ غذائی گروپ
ذریعہ : گوپالن ، سی رام شاستری، بی وی اینڈ بال سبرامنین، ایس سی (Nutritive Value of Indian Foods,(1989)حیدرآباد، تغذیے سے متعلق قومی انسٹی ٹیوٹ ، آئی سی ایم آر۔
یاد رکھئے
ایک گرام
• کاربوہاڈریٹ سے حاصل ہوتی ہے 4Kcalتوانائی
• ایک گرام پروٹین سے حاصل ہوتی ہے 4Kcal توانائی
• ایک گرام چربی سے حاصل ہوتی ہے 9Kcalتوانائی
بنیادی غذائی گروپ کے استعمال سے متعلق ہدایات
متوازن غذا کے انتخاب اور تعین کے لئے پانچ غذائی گروپ والے نظام کا استعمال کیا جا سکتاہے۔ یہ روزمرہ غذاؤں سے متعلق عام ہدایات ہیں جنہیں تغذیئے سے متعلق تعلیم کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتاہے۔ ان ہدایات کا استعمال متعلقہ غذائی گروپ کے مطابق کیا جانا چاہئے۔
• خوراک میں ہر غذائی گروپ میں سے کم از کم ایک چیز شامل کی جائے۔
• ہر گروپ میں سے اپنی پسند کی چیزوں کا انتخاب کیجئے کیوں کہ ہر گروپ کی غذائیں ایک دورے جیسی تو ہیں لیکن ان کی تغذیاتی قدر یکساں نہیں ہے۔
• سبزیوں والے کھانے میں پروٹین کی مقدار کو بہتر بنانے کے لئے مناسب طور پر کئی غذائیں شامل کیجئے۔ مثلاً کھانے میں اناج اور دال ہو تو دودھ یا دہی کی بھی تھوڑی مقدار رکھیں۔
.• کھانے میں کچی سبزیاں اور پھل بھی شامل کریں۔
• کھانے میں کیلشیم اور دیگر تغذیاتی عناصر کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے دودھ ضرور شامل کریں کیوں کہ دودھ میں لوہے ، وٹامن سی اور فائبر کے سا تمام تغذیاتی عناصر ہوتے ہیں۔
• اناجوں کے ذریعے حاصل ہونے والی کیلوریاں مطولبہ مجموعی کیلوریوں کی %75سے زیادہ نہیں ہونی چاہئیں۔
متوازن غذا کی منصوبہ بندی کرتے وقت ہر گروپ کی غذاؤں کا مناسب مقدار میں انتخاب کیا جائے۔ اناج اور دالیں مناسب مقدار میں لی جائیں پھل اور سبزیاں کثرت سے کھائی جائیں۔ گوشت کی مقدار تھوڑی بہت اور تیل اور شکر بہت کم استعمال کیا جائے۔
آئیے اب غذائی ہدایت کے اہرام (Pyramid) کے تصور پر غور کریں۔
غذائی ہدایات اہرام
مندرجہ ذیل (شکل2) میں ہندوستانیوں سے متعلق غذائی ہدایات اہرام دکھایا گیا ہے۔
چربی اور شکر
دودھ ،گوشت اور دودھ سے بنی چیزیں
دالیں اور پھلیاں
پھل اور سبزیاں
اناج اور ان سے بنی چیزیں

شکل2:غذائی ہدایات اہرام
غذائی ہدایات اہرام روز مرہ غذائی ضروریات سے متعلق ہدایات کا گرافک خاکہ ہے۔ اس خاکے کو غذاؤں کے تنوع، ان کے استعمال پر اعتدال اور تناسب کی وضاحت کے لئے ترتیب دیا گیا ہے۔اس اہرام کے ہر حصے کا سائز روزانہ کھای جانے والی چیزوں کی کی مجوزہ تعداد ظاہر کرتا ہے۔ اس اہرام کی بنیاد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اناج کی مقدار وافر ہونی چاہئے کیوں کہ اناج ہی صحت بخش غذا کا بنیادی عنصر ہے۔ پھل اور سبزیاں اس سے اوپر رکھی گئی ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ان کی اہمیت نسبتاً ذرا کم ہے مگر خوراک میں پھر بھی وہ بہت اہم ہیں۔ گوشت اوردودھ کاخانہ تھوڑا چھوٹا اوراوپری حصے کے قریب ہے ۔ ان میں سے ہر ایک کے تھوڑی مقدار میں استعمال سے اہم تغذیاتی عناصرجیسے پروٹین، وٹامن اور معدنیات حاصل ہو جاتے ہیں جن میں چربی اور کولیسٹرال بہت کم ہوتا ہے۔چربی،تیل اور مٹھائیاں اوپر کے سب سے چھوٹے خانے میں ہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کا استعمال بہت کم کیا جائے۔
الکحل والے مشروبات اہرام میں شامل نہیں ہیں لیکن ان کی مقدار محدود ہونی چاہئے۔ مسالے ،کافی چائے اور سافٹ ڈرنک میں تغذیاتی عناصر ہوتے ہیں مگر بہت ہی کم مقدار میں لیکن اگر ان کا استعمال اعتدال کے ساتھ کیا جائے تو ان سے کھانے کا ذائقہ خوش گوار ہو جاتا ہے۔
روز مرہ کی غذاؤں کے رہنما منصوبے اور غذائی ہدایات اہرام کا سارا زور اناجوں، سبزیوں اور پھلوں پر ہے۔ یہ سب نباتاتی غذائیں ہیں۔ ہماری ایک دن کی خوراک کا تقریباً 75فی صد حصہ انہیں تین گروپوں میں شامل غذاؤں پر مشتمل ہوناچاہئے۔ اس حکمت عملی سے مرکب کاربوہائڈریٹ، فائبر، وٹامن، معدنیات اور تھوڑی مقدارمیں چربی حاصل ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس سے سبزی خوروں کے لئے خوراک کا انتخاب آسان ہو سکتاہے۔
3.5 سبزی خوروں کے لئے غذائی گائڈ(Vegetarian Food Guide)
سبزی خوروں کی کوراک بنیادی طور پر نباتاتی غذاؤں جیسے اناج ، سبزی ، پھلیوں(Legumes) ،پھل ،تخموں(Seeds) اور خشک میووں وغیرہ پر مشتمل ہوتی ہے۔ کچھ سبزی خوروں کی خوراک میں انڈے ،دودھ سے بنی چیزیں یا دونوں چیزیں شامل ہوتی ہے جولوگ گوشت نہیں کھاتے یادودھ سے بنی چیزیں استعمال نہیں کرتے وہ بھی غذائی گائڈ کا استعمال کر کے مناسب غذا کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ان کے لئے بھی یہی غذائی گروپ ہیں اور خوراک میں شامل غذاؤں میں تعداد بھی وہی ہے ۔سبزی خور لوگ گوشت کا کوئی بدل بھی چن سکتے ہیں مثلاً پھلیاں، تخم ، میوے(Nut)، ٹوفو(Tofu) ، اور انڈے( جو لوگ انڈے استعمال کرتے ہوں)۔ پھلیاں اور کم از کم ایک پیالہ ہری پتیوں سے لوہا فراہم ہوسکتا ہے جو عام طور پر گوشت کے ذریعے ملتا ہے۔ جو لوگ گائے کا دودھ نہیں پیتے وہ سویا(Soya) دودھ لے سکتے ہیں۔ یہ دودھ سویا بین سے نکالا جاتا ہے اور اگر اس میں کیلشیم، وٹامن، ڈی اور وٹامن ۔بی 12کا اضافہ کر لیا جائے تو اس سے دودھ جیسے تغذیاتی عناصر حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
غذائی گائڈ اہرام میں پانچوں غذائی گروپوں میں شامل ان غذاؤں پر زور دیا گیا ہے جو اہرام کے نچلے تین خانوں میں دکھائی گئی ہیں۔ یہ غذائی گروپ ہماری ضرورت کے تمام عناصر نہیں لیکن کچھ تغذیاتی عناصر ضرور فراہم کرتے ہیں۔ ایک گروپ کی غذائیں دوسرے گروپ کی غذاؤں کی جگہ نہیں لے سکتیں۔ کوئی بھی ایک گروپ دوسرے گروپ سے زیادہ اہم نہیں ہے۔ اچھی صحت کے لئے آپ کو سبھی کی ضرورت ہے۔
یہ اہرام ہماری ایک دن کی غذائی ضروریات کا خاکہ ہے۔ یہ مکمل غذائی نسخہ نہیں، بلکہ ایک عمومی گائڈ ہے جس سے آپ کو ایسی صحت بخش خوراک کے انتخاب میں مدد ملے گی جو آپ کے لئے مناسب ہو۔ اس اہرام میں مختلف قسم کی غذائیں تجویز کی گئی ہیں جن سے آپ کو ضرورت کے تمام تغذیاتی عناصر اور ساتھ میں مناسب کیلوریاں حاصل ہو سکیں تاکہ وزن قابو میں رہے۔
3.6 نو بلوغت کے دوران غذائی نظام(Dietary Patterns in Adolescence)
نو بالغوں کی صحت اور سلامتی کے لئے صحت بخش غذا بہت اہم ہے ۔ نو بالغوں کی تغذیاتی ضروریات میں حد درجہ تنوع پایا جاتا ہے ،لیکن جسمانی ساخت میں تیزی سے ہونے والی نمو اور تبدیلیوں کی وجہ سے عام طور پر یہ ضروریات بڑھ جاتی ہیں۔ جذباتی اور جسمانی صحت بر قرار رکھنے کے لئے مناسب تغذیے(Adeuate Nutrition) کی ضرورت ہوتی ہے۔ کھانے کی اچھی عادتیں مستقبل میں موٹاپے، امراض قلب، کینسر اور ذیابیطس سمیت تمام پرانی بیماریوں(Chronic Diseases) کو روکنے میں مدد کرتی ہیں۔
غذا میں شامل تغذیاتی عناصر سے متعلق مطالعوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ نو بالغوں کو وٹامن۔ اے ، تھائی مین(Thiamine)، لوہا اور کیلشیم مجوزہ مقداروں سے کم مل پاتے ہیں۔ البتہ وہ چربی ، شکر ،پروٹین اور سوڈیم کی اس سے زیادہ مقدار استعمال کرتے ہیں جسے ان دنوں مناسب سمجھا جاتا ہے۔
باقاعدہ خوراکوں کے وقفوں کے دوران کھانے پینے کی عادت پر اکثر تشویش ظاہر کی جاتی ہے ، لیکن دیکھا یہ جاتا ہے کہ نو بالغ اپنی تغذیاتی ضروریات کا اچھا خاصا حصہ با قاعدہ کھانوں کے بجائے باہر کی چیزوں سے پورا کرتے ہیں۔ غذاؤں کا انتخاب کھانے کے وقت اور جگہ سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔نو بالغ لوگ بہت زیادہ توانائی اور پروٹین والی غذائیں عام طور پر پسند کرتے ہیں مگر ان کے ساتھ تازہ پھلوں اور سبزیوں اور اناج سے بنی چیزوں پر بھی زور دیا جانا چاہئے۔
نو بالغوں کی کھانے پینے کی عام عادتیں کیا ہیں اور ان عادتوں کی نشان دہی کیوں ضروری ہے؟ کھانے کے طور طریقوں کو سمجھ لینے سے ہم غذاؤںمیں تغذیاتی عناصر کی مناسب مقدار کا زیادہ بہتر اندازہ لگا سکیں گے اور اس بات کو یقینی بنا سکیں گے کہ کیا یہ غذائیں صحت اور سلامتی بر قرار رکھنے کی کم سے کم ضروریات کو پورا کر رہی ہیں یا نہیں۔ نو بالغوں کی کھانے کی عام عادتوں میں با قاعدہ طور پر کھانا نہ کھانا، فاسٹ فوڈ کے استعمال کو اپنی عام روش بنا لینا ، پھل اور سبزیاں نہ کھانا، بار بار اسنیک(Snacks) کھانا اور ڈائٹنگ (Dieting) شامل ہے۔ ان میں سے ہر بات پر الگ الگ توجہ کر کے آپ اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ آپ اپنی کم سے کم تغذیاتی ضرورتوں کو پورا کر رہے ہیں۔
کھانوں میں بے قاعدگی اور باقاعدہ کھانا نہ کھانا نو بلوغت کے ابتدائی دنوں سے لے کر اس کے اواخر تک باقاعدہ کھانا نہ کھانے یا گھر سے باہر کھانے کی عادت بڑھ جاتی ہے۔ یہ عادت نو بالغوں کی آزادانہ روی اور گھر سے باہر رہنے کی بڑھتی ہوی ضرورتوں کی عکاسی کرتی ہے۔ اس عمر میں جو کھانے دن بھر میں باقاعدگی سے کھائے جاتے ہیں ان میں سب سے اہم رات کا کھاناہوتا ہے ۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ رات کا کھانا، صبح کا ناشتہ اور دن کا کھانا نہ کھانے کے معاملے میں لڑکیاں لڑکوں سے آگے رہتی ہیں۔محدود وسائل والے کنبوں میں نو بالغوں کو حاصل ہونے والی خوراکوں کی تعداد اور غذاؤں کی مقدار کم رہتی ہے جس کے نتیجے میں وہ تغذیاتی قلت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ناشتے سے بے رغبتی اور ناشہ نہ کرنے کی عادت دیگر لوگوں کے مقابلے 25سال سے کم عمر نوجوانوں اور نو بالغوں میں عموماً زیادہ ہوتی ہے۔ لڑکوں کے مقابلے لڑکیوں میں صبح کا ناشتہ نہ کرنے کے رجحان کی ایک امکانی وجہ دبلا پتلا ہونے کی خواہش اور اکثر ڈائٹنگ کرنا بھی ہوتی ہے۔ بہت سی نوجوان لڑکیاں سمجھتی ہیں کہ وہ صبح کا ناشتہ یا دن کا کھانا چھوڑ کر اپنے وزن کو کنٹرول کر سکتی ہیں ۔ اس طرز عمل کا نتیجہ الٹا بھی ہو سکتاہے کیوں کہ ایسے میں دن کے کھانے کے وقت تک ان کو اتنی بھوک لگتی ہے کہ وہ ضرورت سے زیادہ کھانا کھا لیتی ہیں جس سے کیولریاں بچانے کیس اری مہم بے اثر ہو کر رہ جاتی ہے۔ در حقیقت صبح کا ناشتہ نہ کرنے سے استحالہ (Metabolism) کا عمل سست ہو جاتا ہے جس سے وزن بڑھتا ہے اور کارکردگی کم ہو جاتی ہے۔
اسنیکنگ(Snacking) اسنیکنگ(ہلکی پھلکی غذائیں کھانا) نو بالغوں کے جینے کا ایک انداز ہے ۔ ویسے اسنیکنگ کوئی اتنی بری عادت بھی نہیں ہے ۔ اس سے فعال اور نموپذیر نو بالغوں میں توانائی کی سطح بر قرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ بہت سے نو بالغ باقاعدہ کھانا نہ کھانے کی عادت کے سبب روانہ تین بار باقاعدہ کھانا نہیں کھاتے۔ اس طرح اسنیکوں کا استعمال سود مند بھی ہے کیوں کہ ان سے ضروری تغذیاتی عناصر حاصل ہو جاتے ہیں۔ مگر صرف اسنیک ہی کھانا صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔
فاسٹ فوڈ: خاص طور پر شہری علاقوں میں رہنے والے نو بالغ لڑکے لڑکیاں فاسٹ فوڈ کے بہت شوقین ہوتے ہیں کیوں کہ یہ فوری طور پر دست یاب ہوتا ہے اور ایک سماجی چلن بن گیا ہے ۔ اسے فیشن سمجھا جانے لگا ہے ۔ فاسٹ فوڈ اکثر چربی اور ’خالی کیلوریوں‘( Calories) سے پر ہوتا ہے۔ آپ کسی فاسٹ فوڈ ریسٹوراں جائیں تو فاسٹ فوڈ کا انتخاب سمجھ بوجھ کے ساتھ کریں۔ جدول 2میں فاسٹ فوڈ کے بارے میں اہم معلوماتفراہم کی گئی ہیں۔
جدول 2: فاسٹ فوڈ کی تغذیاتی حدود
درج ذیل اجزا فاسٹ فوڈ کھانوں کی اہم تغذیاتی حدود ہیں۔
کیلشیم،ریبو فلیون(Riboflavin) ، وٹامن اے: دودھ یا ملک شیک(Milk Shake) نہ لیا جائے تو فاسٹ فوڈ سے یہ ضروری تغذیاتی عناصر فراہم نہیں ہوتے۔
فولک ایسڈ، فائبر: یہ کلیدی اجزا کچھ ہی فاسٹ فوڈ ہوتے ہیں۔
چربی:چربی سے ملنے والی توانائی کافی صد تناسب بہت سے فاسٹ فوڈ کھانوں میں زیادہ ہوتا ہے۔
سوڈیم: فاسٹ فوڈ کھانوں میں سوڈیم کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو ناپسندیدہ ہے۔
توانائی: کھانوں میں پائے جانے والے دیگر تغذیاتی عناصر کے مقابلے ان کھانوںمیں توانائی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔
اگر چہ فاسٹ فوڈ کے ذریعے خوراک میں تغذیاتی عناصر شامل ہو جاتے ہیں لیکن ان سے نو بالغوں کی تمام تغذیاتی ضروریات پوری نہیں ہوتیں۔ نو بالغوں اورماہرین صحت دونوں کو اس بات کا دھیان رکھنا چاہئے کہ فاسٹ فوڈ کو تغذیاتی طور پر اسی وقت قبول کیا جا سکتاہے جب ان کا استعمال مناسب انداز سے متوازن غذا کے ایک حصے کی حیثیت سے کیا جائے۔ لیکن صرف فاسٹ فوڈ ہی کھانا تشویش ناک ہو سکتا ہے ۔ تغذیاتی عناصر کے عدم توازن کے اثرات کئی برس بعد ظاہر ہوتے ہیں، خاص طور پر کسی پرانی بیماری کی صورت میں۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ نو بالغوں کے کھانے کے طور طریقے بعد کی زندگی میں ان کی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
ڈائٹنگ(Dieting): موٹاپا ان دنوں نو بالغوں کے لئے ایک اہم مسئلہ بنتا جا رہا ہے ۔ تمام لوگوں کے جسمانی وزن کو قابو میں رکھنے کے لئے مناسب اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایسا نہ کیا گیا تو80فی صد نو بالغ آگے چل کر موٹاپے کے شکار ہو جائیں گے۔ اس کے سبب ان کے ذیابطیس، ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرال کی کثرت اوربے خوابی سمیت مختلف عارضوں میں مبتلا ہونے کا اندیشہ بڑھ سکتا ہے۔
ٹھیک ٹھاک وزن والے نوبالغ لڑکے لڑکیاں بھی اس خام خیالی کے تحت کہ ’’دبلا پتلا ہونا اچھا ہے‘‘اکثر ڈائٹنگ کرنے لگتی ہیں۔یہ بتاتے ہوئے کہ یہی ایک خوبصورت جسم کی بنیاد ہے ، میڈیا نے لڑکیوں کے دبلا پتلا ہونے کے پیغامات(Messages) کی بھر مار کر رکھی ہے ۔ ساتھ ہی وزن کم کرنے کے طریقے بھی بتائے جاتے ہیں۔ ایسے ایسے معاشرے میں جہاں جسمانی حسن کی بڑی قدر و قیمت ہو ، نو بالغوں پر ان پیغامات کا ملا جلا رد عمل ہوتاہے اور اس کے نتیجے میں وزن گھٹانے کے لئے غیر صحت مندانہ اور غیر ضروری کوششیں بھی کی جانے لگتی ہیں۔
ماہرین کی نگرانی کے بغیرکی جانے والی ڈائٹنگ کے خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں ، جن میں کھانے پینے کی بے قاعدگیوں کے مسائل بھی شامل ہیں۔باقاعدہ کھانا نہ کھانا، پارٹیوں میں الٹے سیدھے کھانے کھانا(Binge eating)، بھوکے رہنا یا ملین دواؤں(Laxatives) یا ڈائٹ پلز(Diet Pills) کا استعمال ڈائٹنگ کی بعض عام علامات ہیں۔ جسکے وزن کا گھٹتے بڑھتے رہنا بھی ڈائٹنگ کے نتائج میں شامل ہے۔ اس سے کھانے پینے کی بے قاعدگیوں سے پیدا شدہ خرابیوں، موٹاپا، عزت نفس کا کم ہو جانا اور دیگر نفسیاتی مسائل کے پیدا ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسی صورت میں امراض قلب اور موت کا خطرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے۔
ڈائٹنگ سے متعلق مسائل پر قابو پانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ڈائٹ(Diet)لفظ کو ہی استعمال نہ کیا جائے بلکہ اس کی جگہ صحت بخش کھانا کھانے(Healthy Eating) کی اصطلاح استعمال کی جائے۔ اگر آپ ایک صحت مندانہ طرز زندگی اور خوردو نوش(Eating) کے بہتر طور طریقے اپنا لیں تو آپ کو مستقل ڈائٹنگ کرنے سے نجات مل سکتی ہے ۔خوردو نوش کی اچھی عادتوں کی نشان دہی صحت بخش کھانے کی حوصلہ افزائی کی طرف پہلا قدم ہے۔صحت مندانہ طرز زندگی اختیار کرنے میں ہی بھلائی ہے جس میں خوردو نشوش کی اچھی عادتیں اور باقاعدہ ورزش بھی شامل ہے۔
3.7 غذائی طرز عمل کی اصلاح
(Modifying diet related behaviour)
’ذات‘ سے متعلق باب میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ نو بلوغت ایک ایسا دور ہے جب فرد اقتدار اور تحکم کی مختلف صورتوں پر سوال قائم کرنے لگتا ہے اور اپنی حیثیت کو قائم کرنا چاہتا ہے۔ غذائی طرز عمل بھی ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے نو بالغ لڑکے اور لڑکیاں اپنی انفرادیت کا اظہار کرتے ہیں۔ اس طرح، گھر میں پکے (صحت بخش) کھانوں کو چھوڑ کر اکثر دوستوں کے کہنے سے بازار کے ایسے کھانے کھانا جو ہو سکتا ہے صحت بخش نہ ہو ں، نو بالغوں میں عام ہے۔
اپنے طرز زندگی(Life style) اور کھانا کھانے کے طور طریقوں میں تبدیلی بہ آسانی لائی جا سکتی ہے بشرطیکہ ہم اس کے لئے تیار ہوں۔ نو بالغ اپنے طور طریقوں میں تبدیلی کس طرح لا سکتے ہیں؟ اگلے سیکشن میں مزید تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ صحت بخش غذا کا طرز عمل کس طرح اختیار کیا جائے۔
ٹیلی ویژن دیکھنا کم کیجئے(Limiting Telivision Viwing) ٹیلی ویژن دن میں بس ایک یا دو گھنٹے ہی دیکھنا چاہئے۔(اس میں ویڈیو گیمس کا کھیلنا اور کمپیوٹر کا استعمال بھی شامل ہے۔) ٹی وی دیکھنے میں زیادہ کیلوریاں خرچ نہیں ہوتیں اور اس سے کھانے کی غلط عادتوں کو بڑھاوا ملتا ہے کیوں کہ ٹیلی ویژن دیکھتے وقت کھاتے رہنا عام طور پر شامل ہے۔ جو ایسا کرتے ہیں ان میں بسیار خوری(overeating) یا کم خوری(under eating)کی عادت عام ہوتی ہے۔
خوردو نوش کی صحت بخش عادتیں(Healthy Eating Habits): روزانہ اوسط مقدار کے تین متوازن کھانے اور دو غذائیت دار(Nutritious) اسنیک لیجئے۔ کھانا نہ کھانے سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
اسنیک(Snacks): اسنیکس دن میں دو سے زیادہ نہیں کھانے چاہئے۔ دن کے ان ناشتوں میں کم کیلوریوں والی غذائیں۔ جیسے کچھ پھل اور سبزیاں۔ ہونی چاہئیں۔ ان اسنیکس میں زیادہ کیولری والی غذاؤں، خاص طور پر آلو کے چپس، بسکٹ اور تلی ہوئی چیزوں سے بچنا چاہئے۔ کبھی کبھار اپنی پسند کے اسنیک بھی لئے جا سکتے ہیں لیکن اسے عادت میں نہیں شمار کرنا چاہئے۔
پینے کا پانی(Drinking Water): دن میں چار سے چھے گلاس پانی پینا، خاص طور پر کھانے سے پہلے ، اچھی عادت ہے۔ پانی میں کیلوریز نہیں ہوتیں۔ پانی سے سیرابی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔سافٹ ڈرنک اور پھلوں کا رس زیادہ نہیں لینا چاہئے کیوں کہ ان میں توانائی زیادہ ہوتی ہے(ایک گلاس میں 150.170کیلوریاں)
خوردو نوش کا روزنامچہ(Diet Journal): غذاؤں اور مشروبات کے ہفتہ وار استعمال کا ریکارڈ رکھناچاہئے۔ اس کے علاوہ ٹیلی ویژن دیکھنے، ویڈیو گیمس کھیلنے اور ورزش میں کتنا وقت لگا اس کا بھی ریکارڈ رکھئے۔ جسم کے وزن کا ہفتہ وار ریکارڈ رکھنا ایک اچھی عادت ہے۔
ورزش(Exercise):صحت مند زندگی کے لئے ورزش ضروری ہے۔ زائد از نصاب سر گرمیوں، جیسے کھیل کود میں حصہ لینے سے جسم چاق و چوبند رہتا ہے۔ ذیل میں جسمانی سر گرمیوں کو بڑھانے کے کچھ طریقے درج کئے جاتے ہیں۔
• کچھ دور تک چہل قدمی یا سائیکل چلانا
• خود کار سیڑھیوں یا لفٹ کے بجائے سیڑھیوں کا استعمال ۔
• ہر ہفتے3-4بار20-30منٹ باقاعدہ ورزش کیجئے۔ ورزش میں چہل قدمی، جاگنگ،تیرنا اور بائک چلانا شامل ہے۔ رسی کودنا، ہاکی، باکسٹ بال،والی بال یا فٹ بال کھیلنا اور یوگ کرنا جیسے کھیل اور سر گرمیاں ہر عمر کے لوگوں کے لئے سود مند ہیں۔
منشیات کی لت(Substance use and abuse): نو بلوغت کے دوران منشیات کا استعمال صحت عامہ کا ایک نہایت اہم اور تشویش ناک مسئلہ ہے۔ نو بالغوں میں تمباکو، الکحل، ماری یوانا(Marijuana) اور نشیلی دواؤں کا استعمال بہت عام ہے۔ نشیلی دواؤں اور الکحل کا استعمال نو بالغوں کے تغذیئے اور صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔ تغذیئے سے متعلق صلاح مشورہ اور عملی اقدامات نو بالغوں کی جسمانی اور نفسیاتی بحالی میں بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اوپر جن امور پر گفتگو کی گئی ہے ان کا بیشتر حصہ ان نو بالغوں کے لئے زیادہ اہم ہے جو شہری یا نیم شہری علاقوں میں رہتے ہیں۔دیہی ماحول مختلف ہوتاہے۔ گاؤں کے لڑکے لڑکیاں بیشتر کھیتی باڑی کے کام میں لگی رہتی ہیں۔ یہ لڑکے لڑکیاں، مرغی پالن ، مویشی پالن اور شہد کی مکھیاں پالنے جیسے مختلف کاموں میں اپنے والدین کی مدد کرتی ہیں۔ لڑکے کھیتی باڑی میں مدد کرتے ہیں تو لڑکیاں چھوٹے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال اور ساتھ ہی کھانا پکانے اور صفائی کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ اس طرح ان کے والدین بے فکری سے روٹی روزی کمانے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ موشیوں کے لئے چارہ اور جلانے کی لکڑیاں اور پانی لانے کے کام بھی ہوتے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں بہت سیے لوگ پھلوں، پھولوں، پتیوں اور جڑوں جیسی جنگلاتی پیداواروں پر منحصر ہوتے ہیں۔ ان کا بہت سا وقت انہیں چیزوں کو جمع کرنے اور قابل استعمال بنانے میں صرف ہوتا ہے۔
ان کاموں میں مصروف لڑکے لڑکیاں خاصی سر گرم زندگی گزارتی ہیں اور اسی وجہ سے ان کی توانائی کی ضروریات بھی بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ بلوغت کے دوران ان کی شرح نمو(Growth rate) زیادہ ہونے کی وجہ سے انہیں پروٹین کی بھی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ دیہی علاقوں کے غریب نو بالغوں میں ناقص غذا کا(Mal nourishment) کا شکار ہو جانے کا اندیشہ زیادہ رہتا ہے۔ لڑکیاں خاص طور پر خون کی کمی(Anemia) کی شکار ہو جاتی ہیں یا یوں کہیئے کہ ان کے خون میں لوہے کی مقدار کم ہو جاتی ہے اور انہیں صحت مند رہنے کے لئے ایسی غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے جن میں لوہا زیادہ ہو۔دیہی علاقوں کے مال دار گھرانوں کی نو بالغ لڑکے لڑکیاں بھی شہری علاقوں کے زیادہ آمدنی والے گھرانوں کے نو بالغوں جیسے مسائل سے دو چار رہتے ہیں ۔ وہ بھی کاہل اور بے عمل ہو جاتے ہیں اور ایسی مرغن غذائیں کھاتے ہیں جن میں چربی اور کاربو ہائڈریٹ زیادہ ہوتے ہیں۔
نو بلوغت اور خون کی قلت
ایک تخمینے کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً دو ارب لوگ بیشتر لوہے کی کمی کی وجہ سے خون کی قلت(Anemia) میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اس بیماری سے لڑکیاں اور عورتیں زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔2005-06میں کئے گئے نیشنل فیملی ہیلتھ سروے۔3(NFHS-3) کے مطابق 56 فی صد نو بالغ لڑکیاں اور 30فی صد نو بالغ لڑکے خون کی قلت میں مبتلا تھے۔ اس کے مقابلے میں خون کی قلت کے شکار 59۔6ماہ کی عمر والے چھوٹے بچوں کی تعداد 70فی صد تھی۔ یہ بھی پایا گیا کہ 1991-92میں کئے گئے آخری سروے کو اگر پیش نظر رکھا جائے تو خون کی قلت میں مبتلا لوگوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ہندوستانی جیسے ترقی پذیر ملکوں میں خون کی قلت کے مریضوں کی تعداد میں تناسب سے زیادہ اضافے کا سبب غریبی، نا کافی غذا، بعض بیماریاں، بار بار حاملہ ہونا ، دودھ پلانا اور صحت کی بنیادی سہولتوں سے محرومی ہے۔
نو بلوغت خون، کی قلت دور کرنے کے اقدامات کے لئے مناسب ترین وقت ہوتا ہے ۔ نمود(Growth) کی ضروریات کے علاوہ لڑکیوں کے لئے حاملہ ہونے سے پہلے ہی خون میں لوہے کی مقدار میں اضافہ بھی ضروری ہوتا ہے۔ لڑکے اور لڑکیاں دونوں اسکولوں ، تفریحی مشاغل، اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے خون کی قلت کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ اس معلومات کے لوہے کی حامل غذاوں یا ضرورت پڑنے پر لوہے کی کمی پوری کرنے والی دواؤں سے متعلق پیغامات ارسال کرنے کیلئے موثر طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
- سماجی ،اقتصادی،سیاسی نظام
- غذا کی دست یابی ،پیداوار اور تقسیم کا نظام

داخلی عوامل
- عضویاتی ضرورتیں اور خصوصیات
- جسم سے متعلق تصورات اور تصورات
- ذاتی اقدار اور عقائد
- غذائی ترجیحات اور عقائد
- نفسیاتی نشونما
- صحت
طرز زندگی
انفرادی غذائی طرز عمال
شکل 3: نو بالغوں کے غذائی طرز عمل کو متاثر کرنے والے عوامل
3.8 غذائی طرز عمل کو متاثر کرنے والے عوامل
(Factors Influencing Eating behaviour)
نو بلوغت تک پہنچتے پہنچتے غذائی طرز عمل پر بہت سے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یہ طرز عمل بہت پیچیدہ ہوتاہے۔وضاحت کے لئے دیکھئے شکل 3۔ نو بالغوں کی بڑھتی ہوئی آزادہ روی ، معاشرتی زندگی میں ان کی زیادہ سے زیادہ شرکت اور دیگر مختلف مصروفیتیں ان کے غذائی طرز عمل کو لازمی طور پر متاثر کرتی ہیں۔ اس عمر تک آتے آتے وہ اپنے لئے زیادہ غذائیں خریدنے اور تیار کرنے میں لگ جاتے ہیں اور اکثر بار بار کھاتے ہیں اور وہ بھی گھر سے باہر۔
نو بالغوں میں کھانے پینے کی صحت بخش عادتیں پروان چڑھانے کے لئے والدین کو چاہئے کہ ان کی نشوونما کو ذہن میں رکھتے ہوئے انہیں یہ موقع دیں کہ وہ مختلف غذائیت بخش غذاؤں میں سے اپنی پسند کے کھانوں کا انتخاب کر سکیں۔ اس عمر میں انہیں باورچی خانے کے استعمال کی بھی کچھ آزادی دی جانی چاہئے۔ یہ لڑکیوں کے ساتھ ساتھ لڑکوں کے لئے بھی ضروری ہے۔
یوں تو غذائی طرز عمل کی بنیاد خاندان میں ہی پڑتی ہے لیکن باہر کا ماحول بھی اس پر اثرانداز ہوتا ہے۔ ہم عمروں کے اثرات نو بالغوں کو تقویت بھی دیتے ہیں اور ساتھ ہی پریشانیوں کا باعث بھی ہوتے ہیں۔ ہم عمر وں کا ساتھ اور تعاون بھاری بدن والے نو بالغوں کو تقویت دیتا ہے مگر یہی ساتھی انہیں تنگ بھی کر سکتے ہیں۔
نو بالغ لڑکے لڑکیاں اشتہاروں سے بھی بہت جلد متاثر ہوتے ہیں۔ ٹیلی ویژن پر کھانے پینے کی چیزوں کے اشتہارات اور مختلف پروگراموں میں دکھائے جانے والے خوردو نوش کے طریقوں نے لوگوں کو ایک عرصے سے متاثر رکھا ہے۔ اکثر اشتہارات کھانے پینے کی ان چیزوں کے ہوتے ہیں جن میں بہت زیادہ شکر اور چربی ہوتی ہے۔ اسی لئے نو بالغوں کواس قسم کی غذاؤں اور مشروبات کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے۔
تیار کھانے آسانی سے حاصل ہو جاتے ہیں۔ یہ بات بھی نو بالغوں کی کھانے پینے کی عادتوں کو متاثر کرتی ہے۔ غذائی اشیا کی گھر بیٹھے فراہمی، سنیما ہالوں اورمیلوں میں کھیل تقریبات کے مواقع پر ، فاسٹ فود کی دکانوں اور جنرل اسٹوروں میں دن کے بیشتر اوقات میں فاسٹ فوڈ دست یاب ہوتا ہے۔ اس طرح نو بالغ لوگ نہ صرف یہ کہ زیادہ کھا لیتے ہیں بلکہ اکثر ایسی غذائیں کھا لیتے ہیں جو صحت کے لئے بہت اچھی نہیں ہوتیں۔ نو بالغوں کے اس رجحان پر نظر رکھنی ضروری ہے۔
3.9 نو بلوغت کے دوران غذائی بد نظمیاں
(Eating Disorders at Adolescence)
نو بلوغت تیز رفتار جسمانی نشو و نما اور جسم سے متعلق تصورات کے پختہ ہونے کا زمانہ ہے۔ اسی دوران مختلف غذائی بد نظمیاں پیدا ہوتی ہیں جن پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔ یہ تبدیلیاں عزت نفس(Self -esteem) سے وابستہ مسائل کو اور شدید کر دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر اینوریگز یا نرووسا(Anorexia Narvosa) ایسی ہی ایک بد نظمی ہے جس کا تعلق جسم سے متعلق تصور کے مسخ ہونے سے ہے اور جو عام طور پر نو بلوغت کے زمانے میں نظر آتی ہے ، جب کہ یہی وہ زمانہ ہے جب فرد اپنی شناخت حاصل کرنے کے لئے بہت کوشاں رہتا ہے اور جسم سے متعلق تصور جسمانی شبیہہ سے وابستہ مسائل سے بہت متاثر ہوتا ہے۔ نو بالغوں میں غذائی بد نظمی ایک عام بالغ جسمانی شبیہہ حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔
اینوریگز یا نرووسا کو سمجھنے کے لئے ہم سونم کی مثال لیتے ہیں۔ وہ چاہتی ہے کہ اس کا جسم ہر لحاظ سے بھر پور ہو۔ اس نے والدین اور ٹیچروں کی نصیحتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کھانا تقریباً بند کر دیا ہے ۔ اس پر تو جسم کو دبلا پتلا رکھنے کا خبط سوار ہے۔ اگر چہ اس کا موجودہ وزن ٹھیک ہے مگر اس پر کسی فلمی ادا کارہ یا ماڈل کی طرح ’’مثالی طور پر‘‘ دبلے ہونے کا خیال مسلط ہے۔ اپنے بارے میں اس کی رائے بہت اچھی نہیں ہے اور وہ بجھی بجھی سی رہتی ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ اپنے گھر والوں اور دوستوں سے کٹی کٹی رہنے لگی ہے۔ وہ اس بات سے بے خبر ہے کہ وہ کم غذائی کا شکار ہے لیکن اس کا اصرار ہے کہ وہ موٹی ہے۔ وہ جس غذائی بد نظمی کا شکار ہے اسے اینو ریگز یا نرووسا کہا جاتاہے ۔ اس کو نہیں معلوم کہ جسمانی وزن کے ایک دم بہت زیادہ کم ہو جانے سے موت بھی ہو سکتی ہے۔
بولیمیا(Bulimia) ایک اور غذائی بد نظمی ہے۔ بولیمیا اکثر وزن گھٹانے کی نا کام کوششوں کے بعد نو بلوغت کے اواخر یا بالغ ہونے کے اوائل میں ہوتی ہے۔ اس بد نظمی میں مبتلا لوگ بہت زیادہ کھاتے ہیں اور پھر قے کر کے یا ملین دوائیں لے کر پیٹ صاف کر لیتے ہیں۔ یہ بد نظمی اگر چہ عورتوں میں زیادہ عام ہے لیکن پانچ سے دس فی صد غذائی بد نظمیاں مردوں کوبھی لاحق ہوتی ہیں۔
اینوریگزیا(Anorexia) اور بولیمیا(Bulimia) کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں، مثلاً تشنج(Convulsion) گردوں کا بیکار ہو جانا(Renal failure) اختلاج قلب، دانتوں کا گرنا۔ نو بالغ لڑکیوں میں اینوریگزیا کے نتیجے میں ماہواری کا آغاز دیر سے ہوتاہے ، قدکم رہ جاتا ہے اور ہڈیاں کمزور(Osteoporosis) ہو جاتی ہیں۔
ان تمام بد نظمیوں سے بچنے کا بہترین طریقہ اپنی انفرادیت کو پہچاننا ہے۔ اپنا احترام اور اپنی عزت نفس یقینی طور پر زندگی کی حفاظت میں مدد گار ہوتی ہے۔ متوازن خوراک ،فائبر والی غذاؤں کے استعمال اور جسمانی کمیوں کو دور کرنے کے لئے کھانے میں تغذیاتی یا غذا کو مکمل کرنے والے عناصر کے اضافے سے ان بد نظمیوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
مختصر یہ کہ نوبلوغت کے دوران جسمانی، معاشرتی اور جذباتی تبدیلیاں، نوجوانوں کے تغذیاتی اور غذائی طور طریقوں پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ اگر چہ نو بالغوں کو تغذیئے کے بارے میں اس مقصد سے معلومات حاصل کرنے سے کچھ خاص رغبت نہیں ہوتی کہ اس سے ان کی عمر بڑھے گی مگر پھر بھی بنیادی غذای اصولوں کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ایک بہتر اور صحت مند زندگی کی بنیاد ڈالنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
صحت ، نو بالغوں کے لئے ایک کلیدی وسیلہ ہے ۔ صحت ان دیگر وسائل کی فراہمی اور استعمال پر بھی اثر انداز ہوتی ہے جو ہماری روز مرہ کی زندگی میں اہمیت کے حامل ہیں۔ فرد کے پاس اس کے علاوہ اور کون سے وسائل ہوتے ہیں؟ اس سوال کا جواب اگلے باب’وسائل کا بندو بست‘ میں دیا گیاہے اور یہ بھی بتایا گیاہے کہ وقت ،توانائی اورپیسے جیسے وسائل کابہترین استعمال کیسے کیا جا سکتاہے ۔
کلیدی اصطلاحات اور ان کے معنی
سرگرمی کی نوعیت(Activity level) : انسانی سر گرمی کی مختلف نوعیتیں ہوتی ہیں مثلاً غیر فعال یا تیز معتدل اور بھاری۔ اس کا تعلق پیشے سے ہوتاہے۔
اچھی صحت کی نشو و نما اور تحفظ کے لیے سبھی ضروری تغذیاتی عناصر کو فراہم کرنے والی وہ غذا جس میں مختلف غذائی اشیا مناسب مقدار اور صحیح تناسب میں شامل ہوتی ہیں۔
غذائی گروپ(Food Group): مشترک خصوصیات والی مختلف قسم کی غذاؤں کاگروپ۔ یہ گروپ غذاؤں کے عمل اور تغذیاتی عناصر کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں۔
رضاعت(Lactation): وہ عرصہ جس میں ماں اپنے شیر خوار کی دیکھ بھال کرتی ہے۔
فعلیاتی حالت(Physiological state) : وہ حالت جب معمولی فعلیاتی اسباب جیسے حمل یا رضاعت کی وجہ سے تغذیئے کی ضروریات بڑھ جاتی ہیں۔
مجوزہ غذائی فراہمی(Recommended Dietary Allowances)
ایسے تغذیاتی عناصر سے متعلق تجاویز جو تمام صحت مند لوگوں کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ ان کا تعلق کسی ایک فرد کی ضروریات سے نہیں ہوتا بلکہ یہ ایسے رہنما اصول ہیں جوبتاتے ہیں کہ ہمیں ایک دن میں کتنے تغذیاتی عناصر استعمال کرنے چاہئیں۔
• سوالات برائے نظر ثانی
1۔ آر ڈی اے (RDA) کی اصطلاح اور ضرورت کے درمیان فرق بتائیے۔
2۔ بتائیے کہ غذائی گروپوں کے استعمال سے متوازن غذاؤں کی منصوبہ بندی کس طرح آسان ہو جاتی ہے۔
3۔ ایسی 10غذاؤں کی فہرست تیار کیجئے جن کا تعلق حفاظتی غذائی گروپ سے ہے۔ اپنے انتخابات کی وجوہات بتائیے۔
4۔ ان عوامل سے بحث کیجئے جو نو بلوغت کے دوران غذائی طرز عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
5۔ غذائی طرز عمل سے متعلق دو ایسی بد نظمیوں کی وضاحت کیجئے جو نو بلوغت کے دوران پیش آ سکتی ہیں۔ ان بد نظمیوں کی روک تھام کا بہترین طریقہ کیا ہو سکتا ہے؟
• عملی کام 3
غذا،تغذیہ،صحت اور تن درستی
1۔ اچھی صحت کی دس علامتیں بیان کیجئے۔ ذیل کی جدول کا ستعمال کر کے خود کی زمرہ بندی کیجئے۔
اچھی صحت کی علامات خود کی زمرہ بندی
اطمینان بخش معمول کے مطابق معمول سے کم
1۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
3۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
4۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
5۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
6۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
7۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
8۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
9۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
10۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2۔ اپنی ایک دن کی غذا کا جائزہ لیجئے۔ معلوم کیجئے کہ ہر کھانے میں پانچوں غذائی گروپوں کی کتنی غذائیں شامل ہیں۔ کیا آپ خیال میں یہ غذا متوازن ہے؟ جواب کے لئے درج ذیل جدول کا استعمال کیجئے۔
کھانا غذائیں پانچوں غذائی گروپوں کی شمولیت خوراک کے متوازن غیر متوازن ہونے پر رائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
3۔ مندرجہ ذیل معلومات حاصل کرنے کے لئے اپنے افراد خانہ مثلاً دادی، ماں یا چچی سے بات چیت کیجئے:
(a) ممنوع غذائیں اور ان کی وجوہات۔
(b) ہندوستان کے جس علاقے سے آپ کا تعلق ہے وہاں برت اور تیوہاروں کے موقعوں پر کیا کھانے کھائے جاتے ہیں۔
(c) برت کے دوران کی جانے والی تیاریاں۔
معلومات کو درج ذیل جدول میں لکھئے۔
علاقہ موقع(برت کی نوعیت) تیاری تغذیاتی عناصر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مذکورہ بالا معلومات سے حاصل ہونے والے دو نتائج بیان کیجئے۔








