Skip to content
Insanimaholiatauruloom-I-001


باب 5


کپڑے

(Fabrics Around Us)

آموزشی مقاصد

اس باب کے مطالعے کے بعد طلبا

•   کپڑوں کے تنوع پر گفتگو کر سکیں گے۔

•   عام طور پر نظر آنے والے کپڑوں کے نام بتا سکیں گے اور ان کی زمرہ بندی کر سکیں گے۔

•   دھاگے(Yarn) اور کپڑا بنانے کے تصور کی وضاحت کر سکیں گے۔

•   کپڑوں کے ہر زمرے کی خاصیتوں کو بیان کر سکیں گے۔

•   مختلف مقاصد کے لئے استعمال ہونے ولاے کپڑے سے بنی مصنوعات کا با شعور انتخاب کر سکیں گے۔


5.1 تعارف

کپڑے ہر جگہ نظر آتے ہیں۔ یہ ہماری زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ ان سے ہمیں آرام بھی ملتا ہے اور گرمی بھی۔اپنے رنگوں اور خوب صورتی کے سبب یہ ہماری آرائش بھی کرتے ہیں۔ان کی بناوٹ یا بنائی میں بڑا تنوع ہوتاہے ۔ آپ اپنی دن بھر کی مصروفیات پر نظر ڈالئے اور سوچئے کہ کپڑے آپ کو کتنے اچھے لگتے ہیں۔ آپ جب سو کر اٹھتے ہیں تو سب سے پہلے آپ بستر کی چادر دیکھتے ہیں۔ بستر کی چادر اور تکیوں کے غلاف بھی کپڑے ہیں۔ پھر آپ اسکول جانے سے پہلے نہاتے ہیں اور تولیہ کااستعمال کرتے ہیں۔ یہ تولئے بھی ایسے کپڑے کے بنے ہوتے ہیں جو ملائم ہوتا ہے اور پانی کو جذب بھی کر لیتا ہے۔ پھر اسکول کا جو لباس آپ پہنتے ہیں وہ بھی ایک خاص قسم کے کپڑے سے ہی بنتا ہے ۔ آپ جس بستے میں اپنی کتابیں اور پڑھنے لکھنے کا دیگر سامان لے جاتے ہیں وہ بھی کپڑے کا ہی بنا ہوا ہے۔ البتہ اس کی بنائی میں فرق ہے ۔ بستے کایہ کپڑا ذرا سخت اور موٹا ہے لیکن اتنا مضبوط ہے کہ بستے کے سارے بوجھ کو برداشت کر لیتا ہے۔ اگر آپ گھر کو دیکھیں تو ہر جگہ آپ کو کپڑے نظر آئیں گے، کمروں کے پردے، باورچی خانے کے جھاڑن، فرش کے پونچھے اور دریاں  وغیرہ سب کپڑے ہی ہیں۔ کپڑے مختلف نوع،وزن اور موٹائی کے ہوتے ہیں۔آپ کیسا کپڑا پسند کرتے ہیں اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ آپ کپڑے کو کس مقصد کے لئے استعمال کریں گے۔

2

شکل 1: کپڑوں سے ریشوں تک

اگر آپ کسی مخصوس کپڑے کو ہاتھ میں لے کر اس کی بناوٹ کو کھولیں تو آپ بیشتر کپڑوں کے دھاگے جیسے ریشے کھینچ کر الگ کر سکتے ہیں۔یہ ریشے سیدھے زاویوں پر ایک دوسرے سے گندھے یا بنے ہوتے ہیں جیسے آپ کی اونی صدری یا ٹی شرٹ۔ یہ دھاگے جالوں(Nets) اور جھالروں کی طرح باہم پیوست ہوتے ہیں۔انہیں دھاگہ(Yarn) کہا جاتا ہے۔ اگر آپ ان دھاگوں کے بل کھولیں تو آپ کوباریک با جیسے تار نظر آئیں گے۔ یہ ریشے (Fibres) کہلاتے ہیں۔ اس طرح ریشے کپڑوں کے بنیادی سانچے ہیں۔ یہ سارا سازو سامان یعنی ریشے،دھاگے اور کپڑے(Fabrics)، ٹیکسٹائل مصنوعات(Textile Products ) یا صرف ٹیکسٹائلز(Textiles) کہلاتی ہیں۔جب کپڑا تیار ہو جاتاہے تو پھر کچھ اور مرحلوں سے بھی گزرتا ہے ۔ اس عمل سے کپڑے کی شکل و صورت(صفائی ،سفیدی،رنگینی) میں بہتری پیدا ہو جاتی ہے اور کپڑے کی چمک دمک میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے، اسمیں بہتری آ جاتی ہے یایوں کہئے کہ کپڑا چھونے میں اچھا لگتا ہے اور اس طرح اس کی قیمت اسکے استعمال کی صلاحیت بہتر ہو جاتی ہے۔اس سارے عمل کو تکمیلی عمل(Finishing) کہا جاتا ہے۔ آج کل بازاروں میں بہت سے مختلف قسموں کے کپڑے دست یاب ہیں اور ہر کپڑے کا کام یا اس کی نوعیت الگ ہوتی ہے۔ استعمال کئے جانے پر یا دیکھ بھال اور رکھ رکھاؤ جیسے معاملات میں کسی کپڑے کا برتاؤ مختلف عوامل جیسے ریشوں کی قسم ،دھاگے اور تکمیلی عمل وغیرہ منحصر ہوتا ہے۔

سر گرمی1

اپنے گھر ،درزی کی دکان،کپڑے کی دکان یا دوستوں کے گھروں سے کپڑوں کے مختلف نمونے جمع کیجئے اور ہر کپڑے کا نام لکھئے۔


5.2 ریشوں کے خواص(Fibre Properties)

ریشے کے خواص کپڑے کے خواص متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اہم ترین اور سب سے مفید ریشہ وہ ہے جو بڑی مقدار میں اور کم قیمت پر دستیاب ہو۔اس کی سب سے لازمی خاصیت کتائی بنائی کے قابل ہونا(Spinnability) ہے یعنی اس کے دھاگے اور کپڑے میں آسانی کے ساتھ بدل دیئے جانے کی خصوصیت۔یہ ریشے کی لمبائی، مضبوطی، لچک اور سطح کی بناوٹ جیسی خاصیتوں کا مجموعہ ہے۔ صارف کی تسلی کے نقطہ نظر سے رنگ ،چمک،وزن، نمی کا جذب ہونا،رنگ کا جذب ہونا اورلچک جیسی خاصیتیں پسندیدہ ہوتی ہیں۔ کپڑے کی مضبوطی،کیمیکلز،صابن اور ڈٹرجنٹ کے اثرات،گرمی کے اثرات اور کیڑوں سے بچاؤ وغیرہ ایسے عوامل ہیں جو کپڑوں کی پائیداری اور ان کے رکھ رکھاؤ پر اثر انداز ہوتے ہیں اور صارفین کے لئے ان کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔


5.3  ٹیکسٹائل کے ریشوں کی زمرہ بندی

(Classification of Textile Fibres)

کپڑا سازی میں کام کرنے والے ریشوں کی زمرہ بندی ان کی اصل (قدرتی اور انسانوں کے بنائے ہوئے) عام کیمیائی قسم جیسے سیلو لوسی(Cellulosic)، پروٹین یا سنتھٹیک(Synthetic) صنفی تجارتی نام(پولیسٹر،ٹیرین اور ڈیکرون) کی بنیاد پر کی جاتی ہے ۔ یہ ریشے اسٹیپل(Staple) بھی ہو سکتے ہیں یعنی سوت جیسی مختصر لمبائی والے ،اور فلامنٹ(Filament) بھی ہو سکتے ہیں یعنی طویل لمبائی والے جیسے ریشم اور پولیسٹر وغیرہ۔


قدرتی ریشے(Natural Fibres)

5.3.1 قدرتی ریشے وہ ہیں جوریشوںکی شکل میں ہی ہمیں قدرتی طور پر دستیاب ہو جاتے ہیں۔ قدرتی ریشوں کی چار قسمیں ہیں

(A) سیلو لوسی ریشے(Cellulosic)

(1)  بیجوں کے روئیں۔ کپاس ،کپوک(سانبھل)

(2)  چھال کے ریشے۔سن، جوٹ

(3)  پتوں کے ریشے ۔ انناس،اگیو(سیل) وغیرہ۔

(4)  گری کا چھلکا یا بھوسا۔ مثلاً ناریل وغیرہ کا ریشہ

(B)  پروٹین ریشے(Protein Fibres)

(1) جانوروں کے بال۔ اون ، خاص طور پر بال (بھیڑ ، اونٹ کے ) اورفر

(2)  کرمی اخراج۔ ریشم

(C) معنی ریشے:ایس بیسٹو(Asbestos)

(D) قدرتی ربر


مصنوعی ریشے(Manufactured Fibres)

آپ میں سے بہت سے لوگوں نے کپاس کے پھولوں کو دیکھا ہوگا جن کے بیجوں پر ریشے چپکے ہوتے ہیں یا پھر ایسی بھیڑوں کو دیکھا ہوگا جن پر لمبے لمبے بال ہوتے ہیں۔آپ تصور کر سکتے ہیں کہ یہ چیزیں دھاگا یا کپڑا بنانے میں کس طرح کام آتی ہوں گی۔بہر حال آپ کے لئے یہ سمجھنا مشکل ہی ہوگا کہ مصنوعی یا سنتھیٹک (Synthetic) ریشے کس طرح وجود میں آئے۔

پہلا مصنوعی ریشہ۔ رے یان(Rayon)۔AD1895میں تجارتی مقاصد کے لئے تیار ہوا، جب کہ دیگر ریشے بیسویں صدی کی پیداوارہیں۔


مصنوعی ریشے تیار کرنے کا تصور شاید ریشم جیسا دھاگا بنانے کی انسانی خواہش سے وجود میں آیا۔ غالباً اس خیال کی عملی شکل کچھ اس طرح تھی: ریشم کا کیڑا جو بنیادی طور پر شہتوت کی پتیوں پر پلتا ہے، ان پتیوں کو ہضم کر لیتا ہے اور پھر اپنے جالے پرونے والے عضووں(Spinnerettes) سے جو دو سوراخوں کی شکل میں ہوتے ہیں ، ایک رقیق مادہ خارج کرتا ہے جو ٹھوس ہونے پر ریشم کافلامنٹ(کوکون)بن جاتا ہے۔ اس کامطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی سیلولوز مادہ ہضم کر لے تو یہ ممکن ہے کہ وہ ریشم جیسی کوئی چیز پیدا کر لے ۔ اس طرح ایک زمانے تک رے یان(Rayon) کو مصنوعی ریشم یا صرف آر ٹ سلک کہا جاتا تھا۔


قدیم ترین مصنوعی ریشے،غیر ریشہ دار مادے کو ریشہ دار شکل میں بدل کر بنائے جاتے تھے۔یہ خاص طور پر سوت کے کچرے یا لکڑی کی لگدی(Wood pulp) جیسی سیلو لوز اشیا سے بنائے جاتے تھے۔ دوسرے گروپ کے مصنوعی ریشوں کو مکمل طور پر کیمیائی مادوں کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ خام مال کچھ بھی ہو، اس کو ریشوں کی شکل میں تبدیل کرنے کے بنیادی طریقے یہی ہیں۔


۰ ٹھوس خام مال کو ایک مخصوص لزوجت یا چپچپاہٹ(Viscosity) والی رقیق شکل میں تبدیل کیا جاتا ہے ۔ ایسا کسی مخصوص کیمیائی عمل، تحلیل کے عمل،استعمال حرارت یا ایک مرکب عمل کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے ۔ اس محلول کو کتائی محلول(Spining solution) کہا جاتا ہے ۔

۰   اس محلول کو ایک اسپنریٹ(Spinnerette)سے گزار کر ایک ایسے ماحول میں چھوڑا جاتا ہے جہاں یہ سخت ہو جاتا ہے اور ایک باریک تار کی شکل میں جم جاتا ہے ۔اسپنریٹ ایک انگشتانے نما ٹونٹی ہوتی ہے جس میں بہت سے چھوٹے چھوٹے سوراخ ہوتے ہیں۔

۰ جب یہ سخت ہو جاتا ہے تو اس کو جمع کر کے مزید لطیف بنانے کے لئے پھیلا دیا جاتاہے ۔اس کے بعد اس کے پھیلاؤ یا سائز کی خصوصیات میں بہتری لانے کے لئے اس کو ٹیکزرائزیشن(Texurisation) جیسے عمل سے گزارا جاتا ہے۔

3

شکل2: اسپنریٹ(Spinneretters)


مصنوعی ریشوں کی قسمیں (Types of Manufactured Fibres)

 

(a) نو تشکیل شدہ سیلو لوسی ریشے(Regenerated Cellulosic Fibres): رے یان کپرا مونیم(Rayon Cuprammonium) ،وسکوز(Viscose) زیادہ نمی والے ریشے

(b) ترمیم شدہ سیلو لوسی(Modified Cellulosic):ایسی ٹیٹ(Acetate)،ثانوی ایسی ٹیٹ(Secondry acetate)،ثلاثی ایسی ٹیٹ(Triacetate)

(c) پروٹینی ریشے:ایزلون(Azlon)

(d) غیر سیلو لوسی(سنتھیٹک) ریشے:

(i)   نائیلون

(ii)   پولیسٹر۔ٹیریلین۔ٹیرین

(iii)   ایکریلک(Acrylic)۔ارلون، کیشمی لون

(iv)   موڈا کریلک(Modacrylic)

(v)   اسپنڈیکس(Spandex)

(vi)   ربر(Rubber)

(e) معدنی ریشے(Mineral Fibres)

(i)   کانچ۔ فائبر گلاس

(ii)  دھاتی۔ لیوریکس(Lurex) ریشے


5.4 دھاگے(Yarns)

ریشوں کی شکل میں ٹیکسٹائلز کا استعمال صارفی مصنوعات(Consumer Products) کے لئے ہمیشہ نہیں کیا جا سکتا۔البتہ سرجیکل روئی اورتکیوں، لحافوں وگدوں وغیرہ کو بھرنے کے لئے ان کا استعمال کیا جا سکتاہے۔جیسا کہ ہم دیکھتے رہتے ہیں ریشوں کو کپڑے کی شکل میں لانے کے لئے پہلے ان کو بٹے ہوئے طویل دھاگوں یا تاروں میں بدلنا ہوتا ہے ۔ اگر چہ کچھ ایسے بھی کپڑے ہیں۔ جیسے نمدا یا غیر بنے ہوئے کپڑے۔ جو براہ راست ریشوں سے بنائے جاتے ہیں لیکن اکثر و بیشتر ریشوں کو پروسیس کیا جاتا ہے اور ان کو ایک درمیانی شکل دینے کے لئے مشینی عمل سے گزارا جاتا ہے۔ کپڑے اور ریشے کے اس درمیانی مرحلے کو ہی دھاگہ (Yarn)کہا جاتا ہے۔

دھاگا ریشوں، فلامنٹ یادیگر اشیا سے بنا ایسا مسلسل تار ہے جس کو بننے (Weaving)،پھندے ڈالنے یانٹنگ( Knitting) کے ذریعے ایک ایسی مناسب شکل میں لایا جاتا ہے  جس سے ٹیکسٹائل کپڑا بنایا جا سکے۔

دھاگا بنانے کا عمل(Yarn Processing)

قدرتی اسٹیپل ریشوں سے ان دھاگوں کی پروسیسنگ کو کتائی(Spinning) کہا جاتا ہے ، حالانکہ کتائی در اصل پورے مشینی عمل کا آخری مرحلہ ہے۔


پرانے زمانے میں یہ بات عام تھی کہ غیر شادی شدہ لڑکیاں اپنی نازک انگلیوں سے بہترین قسم کا دھاگا کا تا کرتی تھیں۔ اسی وجہ سے غیر شادی شدہ لڑکیوں کے لئے انگریزی زبان میںSpinsterکا لفظ مستعمل ہے جو spinسے ماخوذ ہے جس کے معنی کاتنے کے ہیں۔


 دھاگے کی پروسیسنگ یعنی ریشے کو دھاگے میں بدل دینا کئی مرحلوں پر مشتمل ہے۔ ہم ان مرحلوں پر ایک ایک کر کے گفتگو کرتے ہیں:

(i) ریشے صاف کرنا: عام طور پر ریشوں میں بیرونی ملاوٹیں ہوتی ہیں۔ ان ملاوٹوں کا انحصار ریشوں کے ماخذ یا اصل پر ہے یعنی یہ کہ وہ کہاں سے حاصل ہوئے ہیں۔جیسے روئی میں بونے یا پتیاں وغیرہ اور اون میں کھال کے ٹکڑے یا چربی وغیرہ۔ ان ملاوٹوں کو صاف کیا جاتا ہے ، ریشوں کو چھانٹا جاتا ہے اور ان کو چادروں کے رول(Rolled Sheets) میں بدل دیا جاتا ہے۔کھلے ریشوں کی ان لپٹی چادروں کو انگریزی میں لیپ(Lap) کہا جاتا ہے ۔

(ii) سلائیور(Sliver) میں بدلنا: لیپس(Laps) کی تہیں کھول دی جااتی ہیں اور ان کو کارڈنگ(carding) اور کامبنگ(Combing) کے عمل سے گزارا جاتا ہے۔ اس عمل میں ان ریشوں کی دھنائی(carding)اور جھڑائی(Combing) شامل ہیں۔یہ دھنائی اور جھڑائی کا عمل ایسا ہی ہے جیسے آپ اپنے بالوں میں کنگھا اور برش کرتے ہیں۔ دھنائی میں ریشے الگ الگ ،سیدھے اورایک دوسرے کے متوازی ہو جاتے ہیں۔نفیس کپڑوں کے لئے دھنائی کے بعد جھڑائی بھی کی جاتی ہے۔ اس عمل سے بہت باریک قسم کی ملاوٹیں اور چھوٹے چھوٹے ریشے بھی دور ہو جاتے ہیں اس کے بعد لیپس کو قیف نما آلے سے گزارا جاتا ہے جس سے یہ چادریں سلائیورمیں تبدیل ہو جاتی ہے۔یہ سلائیور2-4سینٹی میٹر قطر والی،ریشوں کی رسی،جیسی صورت میں ہوتا ہے۔

(iii) ریشوں کو باریک بنانا ،کھینچنا اور بٹنا: جب ریشے ایک مسلسل ڈوری کی شکل میں تبدیل ہو جاتے ہیں تو ان کو مطلوبہ سائز میں لانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ اس ڈوری کو باریک بنانے(Attenuation) کاعمل ہے۔ یکسانیت لانے کے لئے کئی سلائیوروں کو یک جا کر لیا جاتا ہے جس سے یہ زیادہ لمبے اور نفیس ہو جاتے ہیں۔اگر دو الگ قسم کے ریشوں کا مخلوط (Blended) دھاگہ مطلوب ہوتا ہے ، جیسے روئی اور اون(Cotswol= cotton and wool) تو اس مرحلے پر مختلف قسم کے ریشوں کویکجا کر دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً حاصل ہونے والا سلائیور اصل سلائیور کے حجم کا ہی ہوتا ہے۔

اب سلیور کو تاننے کے بعد روونگ(Roving) مشین میں لے جایا جاتا ہے جہاں اسے مزید باریک بنایا جاتا ہے یہاں تک کہ یہ اپنے پرانے اصل قطر کا4 ہو جاتا ہے ۔ ریشوں کومربوط رکھنے کے ئے اس میں تھوڑے سے بل دے دیئے جاتے ہیں۔ اگلا مرحلہ کتائی (spining) کا ہوتا ہے۔یہاں ڈوری اپنی آخری شکل یعنی دھاگے میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔اب مطلوبہ باریکی اور نفاست حاصل کرنے کے لئے اس کو اور کھینچا جاتا ہے ا ور اس کو حسب ضرورت بٹ دیا جاتا ہے ۔ اس کے بعد اس کو مخروط نما اینٹوں پر لپیٹ دیا جاتا ہے۔

5

شکل3:روئی کی کتائی

تمام مصنوعی ریشوں کو سب سے پہلے خام تار یا فلامنٹ میں تبدیل کیا جاتاہے  ۔تار یا دھاگا ایک فلامنٹ سے تیار کیا جاتا ہے اور ایک سے زیادہ فلامنٹ سے بھی۔ اسی کے لئے چند فلامنٹوں کو یک جا کر کے بٹ لیا جاتا ہے۔فلامنٹ کو ہموار لمبائی(Staple length) کے ریشوں میں بھی کاتنا ممکن ہے۔ اس وقت ان کو قدرتی ریشوں کی طرح کتائی کے عمل سے گزارتے ہیں اور ان کو کتا ہوا دھاگا(Spun yarns) کہتے ہیں ۔ ہموار لمبائی کے ریشوں کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب مکسڈ یا مصنوعی کپڑا جیسے ٹیری کاٹ(ٹیرین اور کاٹن) ٹیری وول(ٹیرین+وول(یا پولی کاٹ(رے یان+کاٹن)درکار ہوتا ہے۔


دھاگے سے متعلق اصطلاحات(Yarn Terminology)

(a)  دھاگے کا نمبر(Yarn number) آپ نے دھاگوں کی پھرکیوں کے لیبل پر مختلف نمبر 40,30,20دیکھے ہوں گے ۔ اگر آپ دھاگے کی باریکی اور نفاست کودھیان سے دیکھیں گے اور ایک دوسرے سے ان کا موازنہ کریں گے تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ زیادہ نمبر والا دھاگا زیادہ عمدہ یا باریک ہوتا ہے۔ریشے کے وزن اور اس سے نکالے گئے دھاگے کے وزن میں ایک طے شدہ تعلق ہوتا ہے ۔ اسی سے دھاگے کا نمبر متعین ہوتا ہے۔یہی نمبر دھاگے کی باریکی کو ظاہر کرتا ہے۔

(b) دھاگے کابل(Yarn Twist): جب ریشوں کو دھاگے میں بدلا جاتا ہے تو ریشوں کے درمیان پکڑ پیدا کرنے کے لئے ان میں بل دیئے جاتے ہیں۔ اسے ٹی ، پی ، آئی (Twist per inch) یعنی فی انچ بل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جن دھاگوں میں بل ڈھیلے ہوتے ہیں وہ زیادہ نرم اور زیادہ چمک دار ہوتے ہیں جب کہ کسے ہوئے بل والے دھاگے میں ابھار ہوتے ہیں ۔ (جیسے جینس کے ڈینم مٹریل میں )۔

(c) بُنائی کا دھاگا( Yarn) اور سلائی کا دھاگا(Thread): انگریزی کے دونوں لفظ یعنی Yarn اورThreadدھاگے کے لئے ہی استعمال ہوئے ہیں۔ البتہ یارن(بنائی کا دھاگا) کپڑوں کی بنائی میں استعمال ہوتا ہے جب کہ ٹھریڈ(سلائی کا دھاگا ) کپڑوں کو باہم سینے کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔


5.5 کپڑے کی تیاری (Fabric Production)

بازار میں مختلف قسم کے کپڑے دست یاب ہوتے ہیں۔ مختلف کپڑوں میں فرق یا تو بنیادی ریشوں (جیسے سوتی اور اونی وغیرہ ) کی وجہ سے ہوتا ہے یا پھر ، جیسا کہ آپ نے پڑھا، دھاگے کی وجہ سے کپڑوں کودیکھ کر مختلف ریشوں کے درمیان فرق کیا جا سکتا ہے۔

اب ہم اس بات پر گفتگو کریں گے کہ یہ مختلف کپڑے کس طرح بنائے جاتے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ اکثر کپڑے دھاگے کے بنے ہوتے ہیں ۔ البتہ کچھ کپڑے براہ راست ریشوں سے بھی بنتے ہیں۔

کپڑوں کی دو اہم قسمیں ایسی ہیں جو براہ راست ریشوں سے بنائی جاتی ہیں یعنی نمدا اور بے بنا کپڑا یا مربوط ریشے والا کپڑا(Bonded Fibre Fabric)۔ یہ کپڑا ریشوں کی دھنائی اوجھڑائی کے بعدچٹائی کی شکل میں بچھا کر اور ان کو چپکا کر بنایا جاتا ہے۔چٹائیاں مطولبہ سائز کی اور مختلف شکلوں کی بنائی جا سکتی ہیں۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے ۔ بیشتر کپڑے بنانے کے لئے خام مال کئی مراحل سے گزارنا پڑتا ہے ۔ مثلا کرگھوں پر بنائی،سلائی ،بٹنااور پرونا وغیرہ کپڑا بنانے کے مختلف طریقے ہیں۔


سر گرمی2

اپنی قمیص،پینٹ،جینس،تولیہ،موزوں،جوتے کے فیتوں،فرش کی چادروں،قالینوں اور نمدوں وغیرہ کے بنیادی سامان کی ساخت کے درمیان فرق معلوم کیجئے۔


کپڑے کی بُنائی(Weaving)

بُنائی کپڑا سازی کے فن کی سب سے پرانی شکل ہے۔ یہ شکل ابتدا میں چٹائیاں اور ٹوکریاں بنانے میں کام آتی تھی۔ بنے ہوئے (Woven) کپڑے کے دھاگے کے دو تار ہوتے ہیں جو زاویہ قائمہ(Right Angles) پر ایک دوسرے سے ملا کر بنے جاتے ہیں ۔ اس طرح ایک پختہ اور ہموار کپڑے کی شکل بن جاتی ہے۔ یہ کپڑا ایک مشین پر بنا جاتا ہے جسے کرگھا(loom) کہتے ہیں۔ دھاگے کے تاروں کا ایک سیٹ کرگھے پر لمبائی میں تانا جاتا ہے ۔ اسی سے کپڑے کی لمبائی چوڑائی متعین ہو جاتی ہے ۔ دھاگوں کے اس سیٹ کو تانا (Warp) کہا جاتا ہے ۔کرگھے پر یہ دھاگے ایک مساوی فاصلے پر اور متعین تناؤ(Tension) پر رکھے جاتے ہیں۔دوسرا تار بھراؤ دھاگہ(Filling Yarn) کہلاتا ہے ۔ بھراؤدھاگے کو کپڑا بنانے کے لئے تانے میں بنا جاتاہے ۔ اس میں سب سے سادہ بنائی کا طریقہ یہ ہے کہ ایک قطار میں بھراؤ دھاگے کو تانے کے اوپر نیچے ادل بدل کر آگے بڑھایا جاتا ہے ۔ دوسری قطار میں یہ ترتیب الٹی ہو جاتی ہے ۔ تانے کے تاروں کی مختلف تعداد کے اوپر نیچے ایک متعین ترتیب میں بھراؤ کے دھاگے کو گزارنے سے کپڑے کے متنوع ڈیزائن بن جاتے ہیں۔ ڈیزائن کی رنگا رنگی اس وقت اور نمایاں ہو جاتی ہے جب تانے اور بھراؤ میں مختلف رنگ استعمال ہوتے ہیں۔ کچھ ڈیزائنوں میں تانے اور بھراؤ دھاگے کے متوازی دھاگے کا ایک زائد تار بھی چلایا جاتا ہے۔ اسے بنائی کے دوران پھندوں کی طرح باقی رکھا جاتا ہے اور بعد میں یا تو انہیں کاٹ دیا جاتا ہے یا پھر چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ اس سے کپڑے کی بناوٹ کچھ ایسی ہو جاتی ہے جیسے تولیہ(جس میں پھندے نہ کاٹے جائیں)، ویلوٹ اور کار ڈورائی (Corduroy) وغیرہ میں ہوتی ہے جہاں یہ تار کاٹ دیا جاتاہے۔

6

بُنے ہوئے کپڑے میں دھاگوں کی سمت کو دانا(Grain) کہا جاتا ہے ۔تانے کے دھاگے لمبای میں دانوں یا حاشیئے (Selvedge) کے ساتھ چلتے ہیں ۔ بھراؤ والے دھاگے جو چوڑائی میں چلتے ہیں ان کو بانا(Weft) کہا جاتا ہے ۔ اس طرح بنے ہوئے کپڑے کی لمبائی اور چوڑائی کوحاشیہ اور بانا(weftاورSelvedge ) کہا جاتا ہے۔ جب آُپ کوئی کپڑا خریدتے ہیں تو اس میں دو ترشے ہوئے حاشیئے(Cut Sides) ہوتے ہیں اور دو بندھے ہوئے حاشیے(Bound sides) ہوتے ہیں ۔ کپڑا حاشیے کی طرف سب سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔

بُنائی (Knitting)

بنائی میں دھاگوں کے کم از کم ایک سیٹ کی شیرازہ بندی ہوتی ہے۔ اس میں دھاگوں کا کم سے کم ایک سیٹ چلتا ہے ۔ بنائی ہاتھ سے بھی کی جاتی ہے  جس میں فلیٹ کپڑے کے لئے دو سوئیوں سے اور سرکولر کپڑے کے لئے چار سوئیوں سے بنائی ہوتی ہے۔مشین سے بھی بنائی کی جا سکتی ہے۔ اس عمل میں بنائی کی سوئی یا مشین بیڈ کے ساتھ ساتھ سلسلے وار پھندے ڈال دیئے جاتے ہیں ۔ اس کے بعد ہر قطار پھندوں کی پہلی قطار کے ساتھ باہم مربوط کر کے بنی جاتی ہے۔ دھاگے کی حرکت بنے جانے والے کپڑے کی چوڑائی کے ساتھ ساتھ ہوتی ہے اور اسی لئے اسے بھرائی یا بانے کی بنائی کہا جاتا ہے ۔ بنائی کا یہ طریقہ ایسے کپڑے کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے جنہیں بناتے وقت ایک خاص شکل بھی دی جاتی ہے ۔

 صنعتی سطح پر استعمال کی جانے والی بنائی کی مشینیں کرگھوں جیسی ہوتی ہیں۔ ان مشیوں میں دھاگوں کا ایک سیٹ لگا ہوتا ہے (تانے کے دھاگوں کی طرح)۔ پھندے برابر والے دھاگوں کے ساتھ ڈالے جاتے ہیں۔ اس طریقے کو تانا بنائی(Warp knitting) کہاجاتا ہے۔ اس سے ایسا کپڑا تیار ہوتا ہے جس کو ’’بانا بنائی والے‘‘ کپڑوں کے بر خلاف تراشا اور سیاجا سکتا ہے۔


7

شکل 5: تانا بنائی     شکل 4: بانا بنائی


بنائی کے ذریعے کپڑے تیزی سے تیار ہو سکتے ہیں۔ پھندوں کے نظام کی وجہ سے ان کپڑوں میں لچک زیادہ ہوتی ہے اور اس لئے یہ کپڑے چست لباسوں (جیسے بنیان،انڈر ویئر اور موزے وغیرہ) کے لئے زیادہ موزوں ہوتے ہیں۔ یہ ہوا دار اور آرام دہ ہوتے ہیں ۔ ان میں اعضا کو آسانی سے حرکت دی جاتی ہے ۔ اسلئے یہ کھیل کو د کے لباسوں کے طور پر مناسب ترین ہوتے ہیں۔

فیتہ بندی(Braiding)

فیتہ اور فیتے جیسی چیزیں بننے کا طریقہ یہ ہے کہ تین یا زیادہ دھاگوں کو، جو ایک ہی جگہ سے شروع ہوتے ہیں با ہم گوندھا جاتا ہے ۔ یہ سارے دھاگے متوازی طور پر چلتے ہیں۔ یہ بنائی جوتوں کے فیتوں اور ،ڈوریوں ،رسیوں ،تاروں ، جالیوں اور ان کی ٹریمنگ میں کی جاتی ہے۔

جال(Nets)

جال کُھلا جالی دار کپڑا ہوتا ہے۔اس کو ہاتھ یا مشینوں دونوں طریقوں سے بنا جا سکتا ہے۔

لیس(laces)

لیس کڑھائی والا ایسا فیتہ ہوتا ہے جس پر دھاگوں کے نیٹ ورک سے پیچیدہ ڈیزائن بنائے جاتے ہیں۔ لیس بنانے میں دھاگوں کو بل دینے ، پھندے بننے اور گرہ لگانے کے طریقے اختیار کئے جاتے ہیں۔


5.6  کپڑے کی تکمیلی تزئین کاری(Textile Finishing)

بازار میں دست یاب کپڑوں کو دیکھ کریہ کہنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ یہ وہی کپڑا ہے جو کرگھے پر بنا گیا تھا۔بازار میں دستیاب تمام کپڑے ایک یا دو بار تکمیلی تزئین کاری(Finishing Touches) سے ضرور گزارے جاتے ہیں ارو ان پر کوئی نہ کوئی رنگ بھی چڑھایا جاتا ہے۔

کپڑے کی تکمیلی تزئین کاری(Finishing) ایسی تدبیر ہوتی ہے جوکپڑے کی ظاہری شکل و صورت، اسکی بناوٹ اور مختلف قسم کے استعمال کے مطابق اس کی ہیئت کو بدل دیتی ہے۔ تکمیلی تزئین کاری کے جن مراحل کو لازمی سمجھا جاتا ہے ان کو معمول (Routine) کہا جاتا ہے ، یہ تکمیلی تزئین کاری پائدار بھی ہوتی ہے جو دھونے یا ڈرائی کلین کرنے سے ختم نہیں ہوتی مثلا ً رنگائی قابل تجدید بھی ہوتی ہے جیسے کلب یا نیل وغیرہ جو دھونے پر ختم ہو جاتا ہے ان کو دوبارہ لگایا جاتا ہے ۔


سرگرمی3

کپڑوں کے پانچ لیبل جمع کیجئے۔ ان سے حاصل شدہ معلومات کااپنی تازہ پڑھی ہوئی باتوں سے موازنہ کیجئے۔


 اپنے کاموں کے اعتبار سے تکمیلی تزئین کے چند مراحل درج ذیل ہیں:

۰ ظاہری شکل کی تبدیلی: کلیننگ (منجھائی ،بلیچنگ)،سیدھا کرنا اور چکنا کرنا(دبانا،استری کرنا اور پھیلانا)

۰  بافتی تبدیلی(Change Texture) : کلف لگانا۔مسالہ لگا کر سخت کرنا، خصوصی استری کرنا یا دبانا

۰ خواص میں تبدیلی:واش اینڈ ویئر، مستقل استری یا واٹر پروف ،کیڑوں سے تحفظ(Mothproof) ، فائر پروف سکڑنے سے بچاؤ۔

 رنگوں کے ذریعے تکمیلی تزئین: کپڑوں کے انتخاب میں رنگ بہت ہی اہم ہوتے ہیں ۔ بات گھر کی ہو یا لباس کی ، رنگوں کی اہمیت طے ہے ۔ جن مادوں سے کپڑے کے رنگ اس طرح بدل جاتے ہیں کہ آسانی سے دھل نہیں سکتے، ان کو ڈائی (Dyes) کہتے ہیں۔ ڈائی کرنے کاطریقہ کپڑوں اور ڈائی کی کیمیائی نوعیت(Chemical nature) اور مطلوبہ اثر کی قسم پر منحصر ہوتا ہے۔

رنگوں کا استعمال درج ذیل مراحل کے دوران ہو سکتا ہے:

۰   ریشے کی سطح پر :مختلف قسم کے دھاگوں یا ڈیزائن والے نمدوں کے لئے 

۰   دھاگے کی سطح پر:چیک کی بنائی، دھاریوں اور بنائی کے دیگر ڈیزائنوں کے لئے 

۰   کپڑے کی سطح پر:یہ پائدار رنگائی کا سب سے عام طریقہ ہے ۔ یہ ڈیزائن سازی جیسے ’باٹک‘،ٹائی اینڈ ڈائی اورچھپائی کے لئے بھی عام ہے۔

چھپائی(Printing): یہ رنگائی کی زیادہ ترقی یافتہ اور خصوصی شکل ہے۔ اس میں رنگوں کا استعمال خاص خاص جگہوں اور طے شدہ ڈیزائنوں تک ہی محدود ہوتا ہے ۔ چھپائی میں کچھ خصوصی آلات کا استعمال کیا جاتا ہے جن سے رنگ صرف متعین حصوں تک ہی پہنچتے ہیں۔ اس طرح چھپائی کے ذریعے کپڑے پر مختلف قسم کے رنگوں کا استعمال ہو سکتا ہے ۔ چھپائی دستی آلات (جیسے بلاک،اسٹینسل یا اسکرین وغیرہ) کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے اور صنعتی سطح(جیسے رولر پرنٹنگ یا آٹو میٹک اسکرین پرنٹنگ وغیرہ) کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے۔



5.7  کچھ اہم ریشے(Some Imprtant Fibres)

سوت(Cotton)

بچوں کے لباس اور گھریلو کپڑوں کے لئے سوت بہت ہی بڑے پیمانے پر استعما ل کیا جانے والا ریشہ ہے۔ ہندوستان ایسا پہلا ملک ہے جہاں کپاس کی کھیتی اور سوتی کپڑے کا استعمال شروع ہوا۔ آج بھی ہندوستان کے بہت بڑے رقبے میں پیمانے پر کپاس کی کھیتی ہوتی ہے۔سوت کے ریشے کپاس کے ڈوڈوں سے حاصل ہوتی ہیں۔ ہر بیج میں باریک بال لپٹے ہوتے ہیں۔جب بیج پک جاتے ہیں تو ڈوڈا پھٹ جاتا ہے ۔ بیجوں سے ریشوں کو ایک خاص طریقے سے الگ کر لیا جاتا ہے جسے چنائی (Ginning) کہتے ہیں اور ریشوں کو بڑے بڑے تھیلے بنا کر بنائی کے لئے بھیج دیا جاتا ہے۔

خواص(Properties)

۰  سوت ایک قدرتی سیلولوسی اور اسٹیپل ریشہ ہے۔ یہ سب سے چھوٹا ریشہ ہوت اہے جس کی لمبائی ایک سے پانچ سینٹی میٹر تک ہوتی ہے ۔ اسی وجہ سے اس کا دھاگا یا کپڑا دیکھنے میں ذرا بھدا اور چھونے میں کسی حد تک کھر دُرا ہوتاہے ۔ یہ دیگر تمام ریشوں کے مقابلے زیادہ وزنی ہوتا ہے۔

۰ سوت نمی کو بہت اچھی طرح جذب کر لیتا ہے اور آسانی سے خشک بھی ہو جاتاہے۔چنانچہ یہ گرمیوں میں بہت آرام دہ ہوتاہے ۔

۰ ہر وزن کے باریک،عمدہ بناوٹ اور اچھی طرح تیار والے کپڑوں میں سوت کا استعمال ہوتا ہے۔ بازار میں دست یاب ململ کیمرک ،پاپلین ،لٹھا ،پردوں کے کپڑے ،ڈینم ،چادریں بنانے کاکپڑا اور آرائشی کپڑے سوتی ہی ہوتے ہیں۔

لینن(Linen)

لینن باسٹ(Bast) ریشے سے بنتا ہے۔جو السی اورسن وغیرہ کی چھال سے حاصل ہوتا ہے ۔ لفظ باسٹ(Bast) سے مراد چھال کے اندر کاگودے دار حصہ ہے۔ ریشے حاصل کرنے کے لئے چھال کو پانی بھگویا جاتا ہے جس سے نرم حصے گل کر الگ ہو جاتے ہیں۔ پانی میں گل کر نرم کرنے کے اس عمل کو رٹنگ(Retting) کہا جاتا ہے۔گلنے کے بعد لکڑی والے اجزا الگ ہو جاتے ہیں اور لینن کے ریشے جمع کر کے کتائی کے لئے بھیج دیئے جاتے ہیں۔

خواص

لینن بھی ایک سیولو لوسی ریشہ ہے۔ اسی لئے اس کے بیشتر خواص کپاس(Cotton) سے ملتے جلے ہیں۔

اس کا ریشہ کپاس سے لمبا اور زیادہ باریک ہوتا ہے اور اس وجہ سے اس سے جو دھاگا تیار ہوتا ہے وہ زیادہ مضبوط اور زیادہ چمک دار ہوتاہے۔

روئی یا کپاس کی طرح لینن بھی نمی کو جلد جذب کر لیتا ہے اور اسی لئے یہ آرام دہ ہوتا ہے ۔ البتہ یہ ڈائی کو آسانی سے جذب نہیں کرتااسی لئے اس کے رنگ چمکدار نہیں ہوتے۔

 سن کی کھیتی دنیا کے بہت کم علاقوں میں کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اسے گلانے اور ریشے نکالنے کا عمل بھی ذرا طویل ہے اسی لئے لینن کا استعمال کپاس کے مقابلے کم ہوتا ہے۔

پٹ سن اور ستلی(Hemp) بھی لینن کی طرح باسٹ ریشے ہیں۔ یہ زیادہ کھر درے اور غیر لچک دار ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کا استعمال رسیاں اور ٹاٹ کے بورے وغیرہ بنانے میں کیا جاتا ہے۔

اون(Wool)

 اون بھیڑوں کے بال سے حاصل ہوتا ہے۔ اون دوسررے جانوروں جیسے بکری، خرگوش اور اونٹ وغیرہ سے بھی حاصل ہوتا ہے۔ ان ریشوں کو خصوصی روئیں دار ریشے کہا جاتا ہے ۔ بھیڑوں کی مختلف نسلوں سے الگ الگ قسم کے بال حاصل ہوتے ہیں۔ بھیڑوں کی بعض نسلیں تو صرف اون حاصل کرنے کے لئے ہی پالی جاتی ہیں۔ بھیڑوں کے جسم سے بال کاٹنے کو موتراشی (Shearing) کہا جاتا ہے ۔ ان کے بال سال میں یک یا دو بار تراشے جاتے ہیں جس کا انحصار موسمی حالات پر ہے۔ موتراشی کرتے وقت اس  بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ ہر حصے کے ایک جیسے بال ایک جگہ رکھے جائیں۔ ایسے ایک قسم کے بالوں کو فلیس(Fleece)کہا جاتا ہے ۔اس سے چھٹائی (Sorting) میں آسانی ہو جاتی ہے کیوں کہ جسم کے مکتلف حصوں کے بالوں کی لمبائی اور عمدگی میں فرق ہوتا ہے ۔ اس کے بعد ان کا میل ، چکنائی اور گندگی صاف کرنے کے لئے ان کی رگڑائی ،منجھائی (Scouring) کی جاتی ہے۔ اس کے بعد بالوں پر کاربن آمیزی(Carbonisation) ہوتی ہے جس سے پتیوں اور ٹہنیوں وغیرہ کے پھنسے ہوئے نباتاتی اجزا صاف ہو جاتے ہیں۔ پھر ان کو کتائی  (Spinning) کے لئے بھیج دیا جاتا ہے۔

خواص

 اون ایک قدرتی پروٹین ریشہ ہے۔ ان ریشوں کی لمبائی4سے 40سینٹی میٹر تک ہوتی ہے ۔ یہ موٹے اور بھدے بھی ہو سکتے ہیں اور نفیس اور باریک بھی۔ اس کا انحصار بھیڑوں کی نسل        اور جسم کے ان مختلف حصوں پر ہوتا ہے جن سے یہ بال حاصل ہوتے ہیں ۔ اون میں ایک قدرتی شکن یا داخلی لہر ہوتی ہے اور اسی پر اسی میں لچک اورکھنچاؤ کا تناسب منحصر ہوتا ہے

دیگر ریشوں کے مقابلے اون کم مضبوط ہوتا ہے لیکن اسمیں لچک زیادہ ہوتی ہے۔

•    اون کی سطح پر کھرنڈ(Scales) ہوتے ہیں۔ یہ قدرتی طور پر پانی کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پھر بھی اون پانی کی زیادہ مقدار کو جذب کر سکتا ہے لیکن سطح کے اوپر نبی محسوس نہیں ہونے دیتا۔اس کی اسی صلاحیت کی وجہ سے یہ مرطوب اور ٹھنڈی آب و ہوا میں آرام دہ ہوتا ہے۔

اون کو سوت، رے یان اور پولیسٹر کے ساتھ ملا کر بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس سے کپڑے کے رکھ رکھاؤ اور دیکھ بھال میں سہولت ہوتی ہے۔

ریشم(Silk)

ریشم ایک قدرتی تار دار ریشہ ہے جو ریشم کے کیڑے سے خارج ہونے والی رطوبت(Secretion) سے بنتا ہے۔ اگر ریشم کی پیداوار طے شدہ حالات میں ہو جائے(زراعتی یا شہتوتی ریشم) تو ریشم بہت چکنا ہوتا ہے اورلمبے ریشے پیدا ہوتے ہیں جس سے کپڑا زیادہ چکنا، نفیس اور چمک دار بنتا ہے۔ قدرتی حالات میں پیدا ہونے والا ریشم زیادہ کھر درا ،زیادہ مضبوط اورکم لمبا ہوتا ہے لیکن اس سے تیار ہونے والا کپڑا زیادہ مضبوط ہوتا ے(مثلاً تسر سلکTussar silk) اچھی کوالٹی کے رشم کے لئے ریشم کے کیڑے کی زراعت پر بہت توجہ دینی پڑتی ہے۔ ریشم کے کیڑے پالنے کو ریشم پروری (Sericulture) کہا جاتا ہے۔ ریشم یوں کہ  ایک تار دار ریشہ ہے اس لئے اس کو کاتنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ اس کو احتیاط کے ساتھ یوں(Cocoons) سے اتار کر لپیٹ لیا جاتا ہے ۔ اس کا دھاگا بہت  سے تاروں کو بٹ کر تیار کیا جاتا ہے ۔ اگر تار ٹوٹ جائیں یا کپڑے کو یوں کو توڑ دیں تو پھر ٹوٹے ہوئے تار کو سوت کی طرح ہی کاتا جاتا ہے۔ اسے کتا ہوا ریشم کہتے ہیں۔

یہ مانا جاتاہے کہ ریشم کی دریافت اتفاقاً اس وقت ہوئی جب ایک کیڑے کا کویا ایک چینی شہزادی کی چائے کی پیالی میں گر گیا۔ شہزادی نے اس کوئے کو پیالی سے نکالا تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ کوئے میں سے ایک طویل تار نکال سکتی ہے۔ چینیوں نے ریشم سازی کے ہنر کو دو ہزار سال تک یعنی 500عیسوی تک راز میں رکھا ۔

خواص

•  ریشم ایک قدرتی پروٹین ریشہ ہے اور ریشم کا قدرتی رنگ سفیدی مائل(Off white) یا دودھیا ہوتا ہے۔ قدرتی ریشم کا رنگ بھورا(Brownish) ہوتا ہے ۔ ریشم کے تار بہت لمبے، باریک اور چکنے ہوتے ہیں اور ان میں چمک دمک بھی زیادہ ہوتی ہے۔ ریشم میں ایک قسم کا قدرتی گوند ہوتا ہے جس سے ریشم کی بناوٹ میں ایک طرح کا گھونگرالاپن یا خم پیدا ہو جاتا ہے۔

•  جو ریشے کپڑوں میں استعمال کئے جاتے ہیں وہ سب سے زیادہ  مضبوط ریشم سے بنتے ہیں ۔ اس میں لچک زیادہ اور کھنچاؤ معتدل ہوتتا ہے۔

رے یان(Rayon)

یہ مصنوعی سیلو لوسی ریشہ ہے ۔ سیلو لوسی اس لئے ہی کہ یہ لڑکی کی لگدی سے تیار ہوتا ہے اور مصنوعی اس لئے ہے کہ لکڑی کی لگدی کو کیمیائی عمل سے گزارا جاتا ہے اور پھر اسے از سر نو ریشوں کی شکل دی جاتی ہے۔

خواص

چوں کہ رے یان ایک مصنوعی ریشہ ہے اس لئے اس کے سائز اور اس کی شکل کو جیسے چاہیں بنا سکتے ہیں۔اس کا ایک یکساں قطر(Uniform Diameter) ہوتا ہے اور اس میں صفائی اور چمک بھی ہوتی ہے۔

چوں کہ رے یان ایک سیلو لوسی ریشہ ے اس لئے اس کے بیشتر خواص سوت جیسے ہیں۔ لیکن اس کی مضبوطی اور پائداری کم ہوتی ہے  رے یان اور مصنوعی سیلو لوسی ریشوں کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کے بے کار حصوں کو پھر سے استعمال میں لا کر ریشم جیسی شکل دی جا سکتی ہے۔

نائیلون(Nylon)

پہلا حقیقی مصنوعی ریشہ (جو مکمل طور پر کیمیائی مادوں سے تیار کیا گیا ) نائیلون تھا۔ یہ پہلے پہل دانتوں کے برش کے ریشے کے طورر پر رائج کیا گیا تھا۔1940 میں نائلون سے موزے اور جراب بنائے گئے جو بہت کامیاب رہے۔ اس کے بعد اس کو ہر قسم کے کپڑے کے لئے استعمال کیا جانے لگا۔ نایلون سے وسرے مصنوعی ریشوں کے استعمال کو بھی بہت فروغ ملا اور بعد میں دوسرے مصنوعی ریشوں کے استعمال کو بھی مقبولیت ملی۔

خواص

نائیلون کے تار عام طور پر بہت چکنے اور چمک دار ہوتے ہیں اور ان کا قطر بھی یکساں ہوتا ہے یہ مضبوط ہوتے ہیں اور یہ گھستے بھی نہیں ہیں۔

•  نہ گھسنے کی وجہ سے یہ برشوں اور قالینوں وغیرہ کے لئے بہت موزوں ہوتے ہیں۔

•  نائیلوں بہت لچک دار ریشہ ہوتا ہے ۔ زیادہ لطیف اور شفاف ریشوں کا استعمال’ایک سائز‘ والے کپڑوں(جیسے موزوں وغیرہ) میں ہوتا ہے۔

•  نائیلون بہت مقبول کپڑا ہے جو موزوں، عام لباس،زیر جاموں،تیرکی کے لباسوں ،دستانوں ، جال(نیٹ) اور ساڑیوں کے لئے خوب استعمال ہوتا ہے۔ نائیلون موزے بنیان اور زنانہ زیریں لباسوں کی تیاری کے لئے ایک اہم ترین ریشہ ہے۔ عام لباسوں کے لئے نائیلون کو دیگر ریشوں کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔


پولیسٹر(Polyester)

پولیسٹر ایک اور مصنوعی ریشہ ہے۔ اسے ٹیریلین(Terylene) یا ٹیرین(Terene) بھی کہا جاتاہے۔

خواص

پولیسٹر کے ریشے کا قطر ہر جگہ یکساں ہوتا ہے، اس کی سطح چکنی اور اس کی ظاہری شکل ایک راڈ(Rod) جیسی ہوتی ہے۔ اپنی ضروریات اور استعمال کے مطابق پولیسٹر کو مضبوطی، لمبائی اور قطر کے لحاظ سے مختلف شکلوں میں بنایا جاسکتا ہے۔ اس کا ریشہ جزوی طور پر شفاف اورچمک دار ہوتا ہے۔

پولیسٹر میں نمی جذب کرنے کی صلاحیت بہت کم ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ پانی کو آسانی سے جذب نہیں کرتا۔ اس طرح، خشک گرمیوں کے مہینوں میں پولیسٹر کا پہننا آرام دہ نہیں ہوتا۔

پولیسٹر کی سب سے بڑی فائدہ مند خصوصیت یہ ہے کہ اس میں شکنیں نہیں پڑتیں۔ اس کے ریشے کی آمیزش رے ریان،سوت اور اون کے ساتھ بہت عام ہے ۔ کتے ہوئے ریشم کے ساتھ بھی اس کی آمیزش کسی حد تک ہو جاتی ہے۔


ایکریلک(Acrylic)

یہ ایک اور مصنوعی ریشہ ہے۔ یہ اون سے اتنا ملتا جلتا ہے کہ ایک ماہر شخص کو بھی دونوں کے درمیان فرق کرنا مشکل ہوتا ہے۔ عام طور پر اس کو کیش میلان(Cashmilon) کہا جاتاہے۔ یہ اون کے مقابلے سستا ہوتا ہے۔

خواص

دیگر تمام مصنوعی ریشوں کی طرح اس ایکریلک ریشے کی لمبائی ،قطر اور باریکی بھی صنعت کار طے کرتے ہیں۔ اس ریشے کو بناتے وقت اس میں الگ الگ طریقوں سے خم اور چمک پیدا کرنا ممکن ہے۔

ایکریلک ریشہ بہت مضبوط نہیں ہوتا۔ اس کی مضبوطی سوت جیسی ہوتی ہے ، لچک زیادہ ہونے کی وجہ سیاس کے ریشے میں کھینچ کر لمبا کئے جانے (Elongation) کی صلاحیت بہت زیادہ ہوتی ہے ۔

ایکریلک کو اون کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ بچوں کے کپڑوں،پوشاکوں ،کمبلوں اور بنے ہوئے کپڑوں میں ایکریلک کا استعمال خوب ہوتا ہے۔


لچک دار ریشے(Elastomeric Fibres)

مذکورہ بالا ریشوں کے علاوہ کچھ ایسے ریشے بھی ہیں جو کم معروف ہیں۔ یہ لچکیلی اور بر جیسی مادے (Substances) ہیں اور انہیں مختلف شکلوں میں بنایا جا سکتاہے۔ ان کی قدرتی شکل میں ربر بھی شامل ہے اور ان کی مصنوعی شکلSpandexia یا Lycra(لئکرا) ہے۔ اس کا استعمال عام طور پر کم لچک والے کسی ریشے کے ساتھ آمیزش کر کے کیاجاتا ہے۔

 آپ نے اس بات میں کپڑے کی مختلف قسموں کے بارے میں پڑھا ہے ۔ آئندہ سیکشن ’بچپن‘ کے تحت آپ کو بچوں کے ملبوسات کی دنیا سے متعارف کرایا جائے گا۔

نو بالغوں کے لئے کپڑے کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔ اس سے وہ ملبوسات کا انتخاب آسانی سے کر سکیں گے ۔ ملبوسات سے دل چسپی سبھی نو بالغوں کی مشترکہ خصوصیت ہے۔

کپڑوں کے علاوہ ایک اور دلچسپی جو مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو ایک رشتے میں باندھتی ہے وہ میڈیا اور مواصلات ہیں۔ میڈیا اور مواصلاتی ٹکنا لوجی کے باریے میں اگلے باب میں گفتگو کی جائے گی۔


کلیدی اصطلاحات:

کپڑے(Fabrics)، دھاگا(Yarn)ریشے(Fibres)، ٹیکسٹائل(Textile) ٹیکسٹائل کی تکمیلی تزئین کاری(Finishing Textile) بنائی یا بننا (Weaving)، بنائی(Knitting)، سوت(Cotton)، لینن(Linen)،اون(Wool)،ریشم(Silk)، رے یان(Rayon)،نائیلون،پولیسٹر ،ایکریلک


۰ سوالات برائے نظر ثانی

1۔     روز مرہ کے استعمال کی ایسی پانچ چیزوں کے نام بتائیے جو مختلف قسم کے کپڑوں سے بنائی جاتی ہیں۔

ٹیکسٹائل ریشوں کی زمرہ بندی کس طرح کی جاتی ہے؟ ان کی خصوصیات کو اختصار کے ساتھ بیان کیجئے۔

3۔     دھاگا کسے کہتے ہیں؟دھاگا(Yarn)بنانے کے مشینی عمل کے مختلف طریقوں کی وضاحت کیجئے۔

4۔      کڑے کی پیداوارکے مختلف مشینی مراحل کی فہرست بنائیے۔

5۔   درج ذیل ریشوں میں سیے ہر ایک کے تین تین خواص بتائیے۔

سوت

لینن

اون

ریشم

•   رے یان

•    نائیلون

•    ایکریلک


•  عملی کام 5

ہمارے روز مرہ استعمال کے کپڑے

موضوع: کپڑے

کام:  1۔ دن بھر استعمال ہونے والے کپڑوں اور لباسوں کی ایک فہرست تیار کیجئے۔

2۔  کس چیز کے لے کون سا کپڑا زیادہ مناسب ہے غور کرکے لکھئے۔

عملی کام کی انجام دہی

کسی ایک دن استعمال میں آنے والے کپڑوں اور لباسوں کی فہرست بنائیے۔ آپ کپڑوں کے مختلف زمروں کی نشان دہی کے لئے درج ذیل جدول کااستعمال کر سکتے ہیں۔(یہ کپڑے ذاتی استعمال کے بھی ہوسکتے ہیں اور دیگر کے لئے بھی۔ وضاحت کے لئے جدول ملاحظہ کیجئے۔)


       وقت                    استعمال                    پیداوار/مصنوعات                           کپڑا

      صبح6بجے                  ذاتی استعمال                      تولیہ                       سوتی

      صبح 6بجے                 دیگر استعمال                         تکئے کا غلاف                                   سوتی

4-5طلبا کے گروپ بنائیے اوراپنے مشاہدات کا ایک دوسرے سے تبادلہ کیجئے۔ اسکو ل او ر گھر میں آپ جو لباس پہنتے ہیں وہ کن کپڑوں کے بنے ہوتے ہیں۔ اس بات پر بحث کیجئے۔


•   عملی کام 6

ہمارے روز مرہ کے استعمال کے کپڑے

موضوع: کپڑوں کی حرارتی صلاحیت اور آتش پذیری

(Thermal Property and inflammability of Fabrics)

 کام: مختلف کپڑوں کے جلنے کا تجربہ اوراس کی قسم کا تجزیہ

سر گرمی کا مقصد: کپڑوں کی آتش پذیری سے ہمیں یہ جانچنے میں مدد ملتی ہے کہ جلنے پر یا آگ کے قریب آنے پر کپڑے پر کیا اثر ہوگا۔ اس سے صارف کو بھی یہ فائدہ ہوگا کہ وہ استعمال کرتے وقت احتیاط برتے گا۔یہ کپروں کے ریشے پہچاننے کا بھی ایک طریقہ ے۔

حرارت مختلف ریشوں پر مختلف طور پر اثر کرتی ہے۔ کچھ کپڑے جھلس جاتے ہیں اور آگ پکڑ لیتے ہیں ، کچھ پگھل جاتے ہیں اور کچھ سکڑ جاتے ہیں۔کچھ ریشے آگ لگنے پر خود بجھ جاتے ہیں اور کچھ ریشے آگ نہیں پکڑتے۔


ریشوں کی آتش پذیری کی خصوصیات(Burning Characteristics of Fibres)



8

عملی کام کی انجام دہی

1۔   کپڑے کی پتلی پٹی لیجئے(1/2س م  5xس م )

2۔   اس پٹی کو کسی چمٹی سے پکڑ لیجئے اور اس کو کسی جلتی ہوئی موم بتی یا اسپرٹ لیمپ کی ہلکی آنچ کے قریب لا کر جلانے کا تجربہ کیجئے۔

احتیاط: یہ تجربہ کسی استاد کی نگرانی میں موم بتی یا اسپرٹ لیمپ کی بہت ہلکی آنچ پر انجام دیں۔

3۔   مختلف کپڑوں کے 4-5 نمونے  لے کر اس عمل کو کئی بار کیجئے اور مشاہدات لکھئے۔

آگ کے قریب آنےپر                   جلتے ہوئے                     آگ سے ہٹانے پر          بو راکھ /تلچھٹ/رنگ اور ساخت                نتیجہ