باب6
ذرائع ابلاغ اور ترسیلی ٹکنا لوجی
(Media and Communication Technology)
آموزشی مقاصد
یہ باب مکمل کرنے کے بعد طلبا:
• ترسیل کے تصور کی تعریف کر سکیں گے۔
• روز مرہ کی زندگی میں رسیل کی اہمیت پر گفتگو کر سکیں گے۔
• ترسیل کی مختلف قسموں کی وضاحت کر سکیں گے
• ترسیل کے عمل کی وضاحت کر سکیں گے
• میڈیا اور اس کے کاموں کی درجہ بندی کر سکیں گے۔
• ترسیلی ٹکنالوجیز کا تجزیہ کر سکیں گے۔
ذرائع ابلاغ ایک اہم شعبہ علم ہو گیا ہے۔ اس شعبے نے نو بالغوں کو کافی متاثر کیا ہے۔ اس باب میں ہم اس بات پر گفتگو کریں گے کہ ہماری روز مرہ کی انسانی معیشت کے یہ دونوں پہلو ہماری زندگی کے لازمی حصے کس طرح بن گئے اور انہوں نے ہماری زندگی کے معیار میں کیا اضافہ کیا ہے۔ پہلے ہم ترسیل کے تصور کی بات کرتے ہیں۔
6.1 ترسیل اور اس کی تکنیک(Communication and Communication
Technology)
انسانی بقا کے لئے ابلاغ بہت بنیادی اور اہم چیز ہے۔ یہ روئے زمین پر زندگی کی ابتدا سے ہی موجود ہے۔ دور جدید میں ٹکنا لوجی کی تیز رفتار ترقی کے نتیجے میں اب تقریباً ہر ہفتے بازار میں ابلاغ کے نئے نئے طریقے اور نئے نئے آلات متعارف ہو رہے ہیں۔ان میں سے کچھ آلات اپنی افادیت اور کم لاگت ہونے جانے کی وجہ سے بہت مقبول ہو گئے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی افادیت اور ان کا استعمال مستحکم ہوا ہے۔
در ج ذیل تصاویر کا مشاہدہ کیجئے اور صورت حال ،احساسات اور مختلف لوگوں کے تصورات کو بیان کیجئے۔

ترسیل کیا ہے؟ (What is Communication)
مختلف حالات میں سوچنے ،مشاہدہ کرنے ،سمجھنے ،تجزیہ کرنے اور احساسات کو ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنے اور مختلف النوع ذرائع سے دوسروں تک پہنچانے یا منتقل کرنے کا عمل ابلاغ ہے۔دیکھنا،سننا،خیالات،تجربات،حقائق،معلومات،تاثرات،جذبات وغیرہ کا خود سے یا دوسرے لوگوں سے تبادلہ کرنابھی ابلاغ میں شامل ہے۔
جیسا کہ نام سے ظاہر ہے لفظ کمیونی کیشن لاطینی لفظ کمیونس(Communis) سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں عمومی یا مشترک(Common)۔ اسی لئے کمیو نی کیشن خیالات و احساسات میں دوسروں کو شریک کرنا اور معلومات و اطلاعات کو دوسروں تک پہنچانا ہی نہیں ہے بلکہ اس میں ایک ایسے طریقے سے مواد (Content) کے حقیقی معنی کی تفہیم بھی شامل ہے جو ابلاغ کار (Communicator)اوروصول کنندہ(Receiver ) دونوں ہی کے لئے مشترک ہوتاہے۔ اس طرح موثر ابلاغ، اس عمل میں شریک لوگوں کے درمیان پیغامات کے مرادی مفہوم کی ایک مشترک تفہم پیدا کرنے کی با شعور کوشش ہے۔ ابلاغ ایک مسلسل عمل ہے جو گھر،اسکول اور سماج سمیت معاشرتی زندگی کے تمام شعبوں میں جاری و ساری ہے۔
ترسیل کی درجہ بندی (Classification of Communication)
ابلاغ کی درجہ بندی مختلف سطحوں،ہیئتوں،قسموں اور طریقوں کی بنیاد پر کی جا سکتی ہے۔
طرز تفاعل پر مبنی درجہ بندی (Communication based on the type of interaction)
(i) یک طرفہ ترسیل: ایسی صورتوں میں وصول کنندہ تک معلومات کی ترسیل ہوتی ہے لیکن وہ نہ تو اطلاع بھیجنے والے (Sender) سے خیالات و احساسات کا تبادلہ کر سکتا ہے اور نہ ہی فوری طور پر کوئی جواب دے سکتا ہے۔ اس طرح یہ ترسیل یک طرفہ رہتی ہے۔ تقریریوں ،لکچروں،وعضوں،ریڈیو یا میوزک سسٹم پر موسیقی سننا،ٹی وی پر کسی تفریحی پروگرام دیکھنا اور ویب سائٹ وغیرہ پر معلومات کے حصول کے لئے انٹر نیٹ کا استعمال کرنا وغیرہ سب یک طرفہ ترسیل کی مثالیں ہیں۔

جوزف
کتنا بکواس پروگرام ہے ۔
مین چینل بدلتا ہوں ۔
(ii) دو طرفہ ترسیل: یہ ترسیل دو یا دو سے زیادہ لوگوں کے درمیان ہوتی ہے۔ ترسیل کے عمل میں حصہ لینے والے سبھی لوگ صرف سن کر یابول کر خیالات اور معلومات وغیرہ کا تبادلہ کرتے ہیں۔ موبائل فون پر گفتگو ، ماں کے ساتھ مستقبل کے پروگرام کے بارے میں بات چیت اور چیٹنگ(Chatting) کے لئے انٹر نیٹ کا استعمال وغیرہ دو طرفہ ترسیل کی مثالیں ہیں۔

ہیلو ،سمرہ
تم کیسی ہو ؟
تمھارا شکریہ زبیدہ ،میں اچھی ہوں ۔
اور تمھارا کیا حال ہے ؟
جب ایک بچہ رو رو کر اپنی بھوک ظاہر کرتا یا اس کی ترسیل کرتا ہے تو جواب میں ماں اس کو دودھ پلاتی ہے۔ بچے کا رونا ایک ایسا پیغام ہے جواس کی بھوک کی ترسیل کرتا ہے اور اس کی بقا کے لئے اہم بھی ہے۔ یہاں بھی ترسیل دو طرفہ (Two way) ہے۔
B: ترسیل کی سطحوں پر مبنی درجہ بندی
(i) ذاتی ترسیل(Intra-Personal Communication) : اس کا مطلب کسی کا اپنے آپ سے ابلاغ کرنا ہے۔ یہ ذہنی عمل کی ایک شکل ہے جس میں فرد غور و فکر ، مشاہدہ اور تجزیہ کر کے ایسے نتائج اخذ کرتا ہے جو اس کی زندگی اور ماضی ،حال اور مستقبل کے رویوں سے تعلق رکھتے ہوں۔ ذاتی ترسیل ایسا مسلسل عمل ہے جو فرد کے اندرہمیشہ رہتا ہے۔مثال کے طور پر کسی انٹر ویو یا زبانی امتحان دینے سے پہلے ذہنی مشق ذاتی ترسیل کی مثال ہے۔

پولیو کی دوا میرے بچے کی صحت کے لیے کیوں کر مفید ہو سکتی ہے ؟
(ii) بین شخصی ترسیل (Inter-Personal Communication) یہ آمنے سامنے کی بات چیت میں ایک یا زیادہ لوگوں کے ساتھ خیالات کا تبادلہ کرنا ہے۔ یہ ترسیل رسمی یا غیر رسمی کسی بھی صورت میں ممکن ہے۔جسمانی حرکات،چہرے کے تاثرات ،اٹھنے بیٹھنے کے انداز،حرکات و سکنات،تحریریں اور زبانی اظہار جیسے الفاظ اور آوازیں ترسیل کے مختلف ذرائع ہیں اور ان سب کا استعمال بین شخصی ترسیل کے لئے ہوتا ہے۔ دوستوں کے ساتھ ایسی مشکلات کے بارے میں گفتگو جن سے آپ اپنے مطالعے یا کسی ترجبے کے دوران دو چار ہوئے یا کسی ایسے مباحثے میں شرکت جس کے بعد سوال و جواب بھی ہوں، بین شخصی ترسیل کے زمرے میں آتے ہیں۔بین شخصی دو اسباب سے موثر ترین اور مثالی قسم کی ترسیل ہے۔ پہلا سبب یہ ہے کہ اس قسم کی ترسیل میں اطلاع دینے والے اور اطلاع وصول کرنے والے کے درمیان قربت اور براہ راست تعلق ہوتا ہے اور اسی لئے وصول کنندہ کو مطمئن کرنا ،آمادہ کرنا ، اس کو کسی بات کے لئے ترغیب دینا اور کسی خیال کو قبول کرنے کے لئے تیار کرنا آسان ہوتاہے۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ کسی موجوزہ خیال پر وصول کنندہ کے براہ راست جواب سے فوری طور پر مثبت جوابی عمل بھی ممکن ہوتا ہے۔

(iii) گروپ ترسیل(Group Communication): بین شخصی ترسیل کی طرح گروپ ترسیل بھی براہ راست اور شخصی ہوتا ہے لیکن ترسیل کے اس عمل میں دو سے زیادہ لوگ شامل ہوتے ہیں۔ گروپ ترسیل سے اجتماعی فیصلہ سازی اور ایک مشترکہ طرز عمل اختیار کرنے میں مدد ملتی ہے اس سے اظہار ذات(Self-expression) کا موقع ملتا ہے اور دوسروں کو زیادہ اچھی طرح متاثر کیا جا سکتا ہے جس سے اپنے گروپ میں کسی فرد کی قدر بڑھ جاتی ہے۔ گروپ ترسیل سے تفریح،تسکین،معاشرتی روابط اور تحریک و ترغیب میں بھی مدد ملتی ہے۔ گروپ ترسیل کو بڑھانے اور بہتر بنانے کے لئے سمعی و بصری امدادی وسائل(Audio-visual Aids) بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔
(iv) ترسیل عامہ یا ماس کمیو نی کیشن(Mass Communication)ٹکنا لوجی میں ایک پیش رفت کے نتیجے میں افکار، نئے خیالات اور نئی ایجادات کا چیزوں کو معاشرے کے ایک بڑے حصے تک پہنچانا ممکن ہو گیا ہے۔ترسیل عامہ کی تعریف ہم اس طرح بیان کر سکتے ہیں۔’’یہ کسی میکانیکی تدبیر کی مدد سے پیغامات کوپھیلانے اور پھر ان کو عوام تک پہنچانے کا عمل ہے‘‘۔ریڈیو ،ٹی وی ،سیٹلائٹ کے ذریعے مواصلاتی رابطہ ،اخبارات اور میگزین وغیرہ ترسیل عامہ کے ذرائع ہیں۔ترسیل عامہ کے مخاطبین(Audiences) کا دائرہ بہت وسیع ہوتا ہے ، وہایک دوسرے کے لئے اجنبی ہوتے ہیں ، بہت بڑے علاقے پر پھیلے ہوئے ہوتے ہیں او ر زمانی و مکانی اعتبار سے ترسیل کار(Communicator) سے دور ہوتے ہیں ۔ ان اسباب کے تحت ان کا صحیح،مکمل ،براہ راست اور فوری رد عمل کا حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا بلکہ ان سے حاصل ہونے والے جوابی تاثر والا سست رفتار،تدریجی اور مہنگا ہوتاہے اور تاخیر سے بھی دست یاب ہوتاہے۔
(v) درون تنظیمی ترسیل(Intra-organisational Communication): تنظیمی ترسیل بہت منضبط اور بڑی تنظیموں میں ہوتا ہے۔ جب لوگ یک جا ہو کرکسی تنظیم میں کام کرتے ہیں تو تنظیمیں بھی روابط قائم کرتی اور ان کو بر قرار رکھتی ہیں۔ وہ اپنے ماحول کے اندر اور اپنے مختلف شعبوں میں ترسیل کی مختلف سطحوں کا استعمال کرتی ہیں۔ ہر تنظیم میں سطحوں یا درجات کا ایک نظام ہوتا ہے۔ یہ نطام مشترکہ مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے کام کرتاہے۔ ایسی تنظیموں میں اطلاعات کی ترسیل ایک ہی سطح پر دو طرفہ اور مختلف سطحوں پر یک طرفہ ہو سکتا ہے۔
(vi) بین تنظیمی ترسیل(Inter-orgnisation Communication): یہ ترسیل کا وہ نظام ہے جسے کوئی تنظیم دوسری تنظیم کے ساتھ تعاون اور یک جہتی کے ساتھ کام کرنے کے مقصد سے قائم کرتی ہے۔ مثال کے طور پر ملک کی ترقیاتی سرگرمیوں میں مدد کرنے کے لئے بین الاقوامی ایجنسیاں تکنیکی اور مالی امداد فراہم کرتی ہیں جب کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں انتظامی مدد فراہم کرتی ہیں۔
یہ بات بہت اہم ہے کہ درون تنظیمی اور بین تنظیمی نظاموں میں ترسیل مختلف شعبوں یا تنظیموں کے درمیان نہیں ہوتی بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ ترسیل کرنے والے وہ انسان ہوتے ہیں جو ان تنظیموں میں کام کرتے ہیں۔چنانچہ اس معاملے میں انسانی عمل کو سمجھنا بہت اہم ہے۔

شکل 1: مختلف تنظیموں کے درمیان ترسیلی نظام
حکومت ہند
C: ذرائع یا طریقوں پر مبنی ترسیل کی درجہ بندی
(Classiflcation based on the means or modes of Communication)
(i) زبانی ترسیل:(Verbal Communication):سمعی ذرائع یا زبانی طریقے(Auditory Means or verbal Modes) بولنا ،گانا یا بعض اوقات آواز کا اتار چڑھاؤ وغیرہ۔ زبانی ترسیل کے اہم ذرائع ہیں۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مجموعی طور پر ایک فرد اپنے جاگنے کے اوقات کا تقریباً70فی صدحصہ زبانی ترسیل یعنی سننے ،بولنے اور زور سے پڑھنے میں صرف کرتا ہے۔
(ii) غیر زبانی ترسیل(Non-verbal Communication) :جسمانی حرکات و سکنات،چہرے کے تاثرات، مزاجی کیفیات، نشست و برخاست کے انداز، آنکھوں کے اشارے ، لمس،متوازی زبان(Para-language) تحریریں،لباس،بالوں کے طرز یہاں تک کہ فن تعمیر،علامات اور اشاراتی زبان ، جیسے کچھ قبیلوں میں دھوئیں کی علامت ترسیل کے ذرائع ہیں۔
D: انسان کے مختلف حواس کی شمولیت پر مبنی درجہ بندی
(Classification based on the involvement of number of human senses)
کیا آپ نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ہم کسی عوامی یاکلاسیکل رقص کو ٹی وی یا براہ راست دیکھ کر کس طرح اپنے قیمتی روایتی ورثے کو کتابوں میں کہیں زیادہ بہتر طور پر اور زیادہ دلچسپی کے ساتھ سمجھ لیتے ہیں؟
ہمارے حواس اورابلاغ
• لوگ جو کچھ پڑھتے ہیں اس کا 10فیصد یاد رکھتے ہیں۔ بصری
• لوگ جو کچھ سنتے ہیں اس کا 20-25فی صد یاد رکھتے ہیں۔ سمعی
• لوگ جو کچھ دیکھتے ہیں اس کا 30-35فی صد ذہن میں رکھتے ہیں بصری
• لوگوں نے جو کچھ دیکھا ہے اور سنا ہے اس کا 50فی صد یا اس سے زیادہ ان کو یاد ہے۔ سمعی بصری
• لووں نے جو کچھ دیکھا ہے ، سنا ہے اور کیا ہے اس کا نوے فی صد یا اس سے زیادہ ان کو یاد ہے سمعی و بصری
سیکھنے کے عمل میں زیادہ سے زیادہ حواس کی شمولیت سیکھنے کو (Learning) زیادہ قابل فہم اور مستقل بنا دیتی ہے۔
جدول1(Table):حواس کی تعداد پر مبنی ترسیل کی درجہ بندی
ابلاغ کی قسم مثالیں
سمعی(Audio) ریڈیو،آڈیو ریکارڈنگ،سی ڈی پلیئر،لیکچر ،لینڈ لائن فون ، موبائل
بصری(Visual) علامات،مطباعہ مواد،چارٹ،اشتہارات
سمعی و بصری(Audio-visual) ٹی وی ،ویڈیو فلمیں،ملٹی میڈیا،انٹر نیٹ
سرگرمی1
در ج ذیل تجربے میں ترسیل کے لئے استعمال ہونے والے مختلف ذریعوں ،طریقوں ،قسموں اور سطحوں کی فہرست تیار کیجئے۔ اپنے مشاہدات کو قلم بند کیجئے ۔کیا آپ کو ملک کے کسی گاؤں، دیہی علاقے یا چھوٹے شہر میں رہنے یا وہاں جانے کاموقع ملا ہے؟آپ کو کیا تجربہ ہوا؟کیا آپ نے ترسیل اور ترقی یافتہ ٹکنا لوجی کی علاموں جیسے موبائل فون، فیکس مشین اور دیگر ساز و سامان،بجلی کے کھمبے اور ایسی دوسری چیزوں کا مشاہدہ کیا ؟ نوجوانوں ،عورتوں بوڑھوں او دیگرلوگوں سے مل کر ان سے بات کر کے آپ کو کیسا لگا؟ اس بات پر اپنی کلاس میں بحث کیجئے ۔
ترسیل کس طرح ہوتی ہے؟(How does communication take place)
ترسیل کا عمل
اطلاعات یا مواد(Content) کو کسی میڈیم (ذریعے) کا استعمال کر کے مرسل(Sender) سے وصول کنندہ کی طرف منتقل کرنے کا عمل ترسیل ہے۔ اس میں اطلاعات کے تبادلے کے لئے ایسے طریقے استعمال کئے جاتے ہیں جن سے اطلاعات کو مراسل اور وصول کنندہ صحت ووضاحت کے ساتھ مکمل طور پر سمجھ سکیں۔ جس طرح مصنوعات کو بازار میں اتارنے سے پہلے بازار کا سروے کیا جاتا ہے ،ویسے ہی بھیجے گئے پیغامات کی مزید منصوبہ بندی کے لئے مخاطبین کی طرف سے جوابی تاثر بھی حاصل کیا جاتا ہے۔
آئیے دیکھیں کہ ترسیل کے مختلف مرحلے کس ترتیب سے عمل میں آتے ہیں۔ان سب کو بیانکرنے کا ایک طریقہ درج ذیل ہے: کونکہتا ہے ، کیا کہتا ہے، کس سے کہتا ہے، کب کہتا ہے، کس انداز سیے کہتا ہے، کن حالات میں کہتا ہے اور اس کا کیا اثر ہوتا ہے۔ترسیلی عمل کے بنیادی عناصر ایک پورا دورانیہ (Cycle) مکمل کرنے کے لئے عام طور پر ایک معین سلسلے میں ترتیب دیئے جاتے ہیں۔کامیاب اور موثر ترسیل کے لئے ان چھے عناصر پر ماہرانہ گرفت ضروری ہے جنہیں ترسیل کا ’SMCRE‘ ماڈل کہا جاتا ہے۔

شکل2: ترسیل کا SMCREماڈل
- مانند(Source)
- ترسیل کار(Cmmunicator)
- آغازکار(Orignator)
- مرسل (Sender)
- پیغام (Massage)
- اطلاعات(Information)
- خیالات(Ideas)
- مواد(Content)
- چینل(Channel)
- آلات(Tools)
- ذریعہ (Medium)
- وصول کنندہ (Receiver)
- مخاطب(Audience)
ترسیل کا اثر (Effect of communication )
SMCREکے پورے عمل او اس میں موجود عناصر کو دکھاتا ہے۔
1: ماخذ: ماخذ وہ شخص ہے جو ترسیل کے عمل کو شروع کرتا ہے ، وہی ترسیل کے پورے عمل پر کی اثر اندازی کے لئے ذمے دار کلیدی عامل ہے، وہ ایک ایسے ڈھنگ سے مخاطبین کے مخصوص گروپ کو پیغام بھیجتا ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف پیغام کی صحیح تشریح ہوتی ہے بلکہ اس سے مطلوبہ جواب بھی حاصل ہوتا ہے۔ یہ ماخذ آپ کے استاد،ماں،باپ،دوست،اسکول کا ساتھی،نوکر،لیڈر،انتظامیہ کا کوئی فرد،مصنف،کسان یا ملک کے کسی دور دراز علاقے کا ایسا قبائلی ہو سکتا ہے جس کو آپ کی مقامی زبان وغیرہ سے واقفیت ہو۔
سر گرمی2
اپنے گاؤں یا دیہی علاقوں میں اطلاعات ؍معلومات کی امکانی ماخذ کی نشان دہی کیجئے۔
2۔ پیغام: یہ وہ مواد یا اطلاعات ہیں جن کو ترسیل کنندہ(Communicator) وصول کرنا،قبول کرنااور ان پر عمل کرنا چاہتا ہے۔یہ کوئی بھی تکنیکی سائنسی یا عام سی اطلاع،کسی خاص شعبہ علم سے متعلق کوئی خاص یا عام بات ،یا کسی فرد یا گروپ کی روز مرہ کی زندگی کے بارے میں کوئی معلومات ہو سکتی ہے۔ ایک اچھا پیغام سادہ لیکن واضح اور اپیل کرنے والا ہونا چاہئے۔ یہ پیغام متعین،معتبر ،بر وقت،موزوں اور منتخب کئے گئے واسطوں اور وصول کنندہ گروپ کی نوعیت اور قسم کے لئے قابل قبول ہونا چاہئے۔
سر گرمی3
ریڈیو،ٹی وی یا اخبارات میں سے کسی دو ذرائع سے نیوز اسٹوری یا انتخابی پروپیگنڈہ یا سماجی پیغام کو جمع کیجئے۔
3۔ چینل(Channel):چینل وہ ذریعہ جس سے اطلاعات کسی مرسل کی طرف سے ایک یا ایک سے زیادہ وصول کنندہ کی طرف جاتی ہے۔ آمنے سامنے اور منہ سے نکلے ہوئے براہ راست الفاظ ترسیل کا سب سے سادہ اور سب سے موثر ذریعہ ہیں۔
اور شاید دنیا کے ترقی پذیر اور کم ترقی یافتہ ملکوں کی اکثریت میں یہی سب سیے زیادہ استعمال ہونے والا ترسیلی ذریعہ ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور معاشرے میں تبدیلی آنے کی وجہ سے اب ترقی یافتہ ترسیلی ذرائع او ر ملٹی میڈیا ٹکنا لوجیوں پر زیادہ زور دیا جانے لگا ہے۔
سرگرمی 4
کسی ایسے روایتی طریقے کا پتا لگائیے جس کو قبائلی یا دیہی علاقوں کے لوگ اپنے علاقوں میں اہم اعلانات کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
چینل دو طرح کے ہو سکتے ہیں
(i) بین شخصی ترسیلی چینل(Inter-personal Communiation Channels ) جیسے افراد اور گروپ۔
(ii) ترسیلی ذرائع کے چینل، جیسے سیٹلائٹ،وائر لیس اور آواز کی ترنگیں(Sound waves)۔
سر گرمی 5
فرض کیجئے آپ اطلاعات کے وصول کنندہ ہیں۔اب آپ کوجو معلومات اسکول سے حاصل ہوتی ہیں اس کی قسم اور اس کی کوالٹی قلم بند کیجئے۔
4. وصول کنندہ(Receiver):وصول کنندہ سے مراد پیغام کے مخاطب(حاضرین ،ناظرین یا سامعین) ہیں جن کے لئے پیغام کی ترسیل کی گئی ہے۔ یہ مخاطب گروہ بھی ہو سکتا ہے ، کوئی مرد یا عورت بھی ، گاؤں دیہات کا رہنے والا بھی ہو سکتا ہے اور شہر کا بوڑھا بھی ہو سکتا ہے اور جوان بھی۔ وصول کنندہ گروپ اور مراسل میں جتنی یکسانیت ہوگی ترسیل کی کامیابی کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔
5۔ ترسیل کا اثر(فیڈ بیک)(Effect of Communication (Feed back: جب تک پیغام کا جواب نہ مل جائے اس وقت تک ترسیل نا مکمل ہے۔ ترسیل کسی بھی عمل کا یہی ابتدائی اقدام او ر یہی اختتامی عنصر( Termination element)۔اختتام اس وقت ہوتاہے جب پیغام کا جواب وہی ہوتا ہے جس کی ہمیں توقع ہو۔ ایسی صورت میں چوں کہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے اس لئے دورانیہ(Cycle) پورا ہو جاتا ہے۔ اگر مخاطبین کا جواب متوقع نتائج کا حامل نہیں ہوتا توپیغام پر از سر نو غور کیا جاتاہے اور اسے دوبارہ تیار کیا جاتا ہے اور اس طرح ترسیل کے مکمل عمل کو دوبارہ کرنا پڑتا ہے۔ہم یہاں چند مثالیں پیش کرتے ہیں:(a) ایک ٹیچر نے سبق پڑھایا اور سبق کے آخر میں یہ دیکھنے کے لئے سوالات پوچھے کہ آیا طلبا نے سبق سمجھایا نہیں۔ سوال پوچھنے اور پتا لگانے کا عمل ہی فیڈ بیک(جوابی تاثر ) کہلاتا ہے۔(b) اخبارات اور رسائل میں قارئین کے خطوط،مدیر اور دیگر لکھنے والوں کے لئے فیڈ بیک ہیں۔(c) کسی ٹی وی پروگرام کی اہمیت اور درجہ بندی TRPs(Television Rating Points) ناظرین کی طرف سے فیڈ بیک کی ایک دوسری مثال ہے۔
6.2 میڈیا کیا ہے(What is Media?)
اگر آپ ریڈیو سنتے ہیں اور ٹی وی دیکھتے ہیں تو آپ واقف ہوں گے کہ آپ جو کچھ دیکھتے یا سنتے ہیں وہ کسی نہ کسی طرح آ پ کو متاثر کرتا ہے ۔ یہی میڈیا کا اثر ہے۔ہم اس کے بارے میں کچھ گفتگو کرتے ہیں۔
ٹیلی ویژن کے پروگرام اور اشتہارات ،تھیٹر یا ٹی وی پر فلمیں،اخبارات کی خبریں، سیاسی رہنماؤں کی تقریریں، کلاس روم میں ٹیچر کے پڑھائے ہوئے سبق،بجلی کے ایسے سامان کی شکایت جو صحیح طور پر کام نہ کر رہا ہو یا گھر بیٹھے انتر نیٹ پر خریداری ان سب چیزوں میں کیا کیا بات مشترک ہے۔ ان سب میں مشترک عنصر یہ ہے کہ مختلف شعبوں کی معلومات یا متفرق پیغامات کو دوسروں تک پہنچانے یا دوسرے لوگوں کے ساتھ معلومات بانٹنے میں کوئی نہ کوئی میڈیم ضرور استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً، جب ہم کسی سے بات کرتے ہیں یا کسی کو بات کرتے سنتے ہیں تو اس سارے عمل میں ہوا(Air) ایک میڈیم کے طور پر کام کرتی ہے کیوں کہ اس ہوا کے ذریعے ہی آواز کی ترنگیں سفر کرتی ہیں کیوں کہ خلا(Vaccum)میں کوئی بھی آواز منتقل نہیں ہوتی۔اس کے علاوہ زبان بھی ایک میڈیم ہے۔
اس طرح اگر ترسیل ایک عمل ہے تو میڈیا وہ ذریعہ ہے جن میں خیالات،احساسات،اختراعات اور تجربات وغیرہ کو پھیلانے یا دوسروں کے ساتھ ان کو بانٹنے کے لئے ترسیل کے مختلف طریقوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ میں لازمی طور پر جدید ٹکنا لوجی کا استعمال ہوتا ہے لیکن ٹکنا لوجی کی موجودگی کا ہمیشہ یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ترسیل بھی ہو رہی ہے ۔ ذرائع ابلاغ کا استعمال ہمیشہ مخاطبین کے بڑے،اجنبی او ر مختلف النوع گروپ کے لئے ہوتا ہے۔
کیا میڈیا سے صرف ریڈیو اور ٹی وی مراد ہے؟ نہیں ،بلکہ اس میں سیٹ لائٹ مواصلات،کمپیوٹر اور وائر لیس ٹکنا لوجی کی تمام قسمیں شامل ہیں۔ میڈیا بہت سی تبدیلیاں اور ترقیاں ہو چکی ہیں۔ اب تو ترسیلی مقصد کے لئے بہت سی جدید ٹکنا لوجیاں دست یاب ہیں۔
میڈیا کی درجہ بندی اور میڈیا کے کام
(Media Classiications and Functions)
میڈیا کی درجہ بندی دو بڑے زمروں یعنی روایتی میڈیا اور جدید میڈیا میں کی جا سکتی ہے۔
روایتی میڈیا: کچھ عرصہ پہلے تک ،بیشتر دیہاتوں کی توسیعی سرگرمیاں پوری طرح روایتی میلوں اور ریڈیو پر منحصر تھیں۔ صورت حال آج بھی مختلف نہیں ہے۔دیہی اور دور دراز علاقوں میں ترسیل کے موثراور کثیر الاستعمال میڈیم کے طور پر آج بھی بین شخصی ترسیل میڈیا کا ہی استعمال ہوتا ہے۔ کٹھ پتلی،لوک رقص(Folk-Dance) لوک تھیٹر،زبانی ادب،میلے ٹھیلے رسوم و علامتیں، پرنٹ میڈیا جیسے چارٹ،پوسٹر ،اخبارات ،رسالے اور قدیم مقامی مطبوعہ چیزیں بھی لوک میڈیا میں شامل ہیں۔ روایتی لوک میڈیا کا استعمال ترسیل کے گھریلو ذرائع کے طور پر ہوتا ہے۔ روایتی لوک ٹھیٹر یا ڈرامے جیسے جاترا(بنگال)،رام لیلااور نوٹنکی(اتر پردیش)بدیسیا(بہار،تماشا(مہاراشٹر)،یکش گان،دش اوتار(کرناٹک)بھوائی(گجرات)کچھ بہت مقبول گھریلو چینل ہیں۔ اس طرح زبانی ادب او ر موسیقی کی مختلف شکلیں بھی بنیادی طور پر لوک یا قبائلی گیتوں اور قصوں جیسے باول اور بھٹیالی(بنگال)انسا او ددریا(مدھیہ پردیش)دوبا او گربھا(گجرات)چکری(کشمیر)بھنگڑ اور گدا(پنجاب)،کجری چیتی(اتر پردیش)آلہا(یو پی، بہار)پوڑا اور لونی(مہاراشٹر)بیہو(آسام)مند،پنی باری اور چرانس اور بھاٹ(راجستھان) پر مشتمل ہیں۔ملک کے شمال مشرقی اور دیگر قبائلی سماجوںمیں کچھ ایسے میلے اور تیوہار بھی ہوتے ہیں جن میں خاص طور پر ڈھول بجائے جاتے ہیں۔ ان ڈھولوں کی تھاپ میں بڑا آہنگ ہوتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ رقص اور گانا بھی ہوتا ہے۔تفریحی پروگراموں کے علاوہ پیاماتکی ترسیل کے لئے بھی کٹھ پتلی کی مختلف اقسام کا مشترکہ میڈیا کے طور پر بھی استعمال ہوتاہے۔ان میں ڈوری والی کٹھ پتلیاں یا سوتر آدھاریکا کا استعمال خاص طور پر راجستھان ،گجرات میں اور چھایا پتلیوں کے ناٹک ملک کے شمالی حصوں میں زیادہ عام ہیں۔ اس کے علاوہ تمام ملک کی مختلف برادریوں میں پیغامات ،اظہارات،جذبات اور روایات کی ترسیل کے لئے بہت سے تیوہاروں،میلوں ،رسموں،تقریبوں اور یاتراؤں وغیرہ کا ستعمال کیا جاتا ہے۔
بدلتے زمانے کے ساتھ ساتھ یہ بات سامنے آچکی ہے کہ موجودہ مخاطبین(Audiences) کی متنوع معلومات کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے روایتی ترسیلی ذرائع نہ تو کافی ہیں او نہ اچھی طرح ضروی ساز و سامان سے لیس ہیں۔ اسی وجہ سے میڈیا کی نئی ٹکنا لوجیاں بہت مقبول ہوتی جا رہی ہیں۔
سر گرمی6
آپ کے صوبے میں دیہی اور شہری علاقوں میں جن مختلف لوک میڈیا کا ستعمال ہوتا ہے ان کے بارے میں معلومات جمع کیجئے۔ اگر آپ کے صوبے میں قبائلی علاقے ہیں تو وہاں کے متعلقہ لوک میڈیا(Folk Media) کے بارے میں معلومات فراہم کیجئے ۔
جدید میڈیا:جدید ٹکنا لوجی کے طلوع کے ساتھ ساتھ ترسیلی ذرائع کا دائرہ حد درجہ پھیل گیاہے ۔ اب نئی مواصلاتی ٹکنا لوجیاں جیسے موبائل فون وغیرہ نئی آب و تاب اور نئی سہولتوں کے ساتھ دستیاب ہیں۔ ان سے نشر و اشاعت کے معیار اور صلاحیت میں بہتری بھی ہوئی ہے اوراضافہ بھی۔ اب دستی سائز کے آلات کا استعمال دیہی اور دور دراز علاقوں میں عام ہو رہا ہے اور ترسیل کی ان جدید ٹکنا لوجیوں کی دست یابی آسان ہو رہی ہے۔کمپیوٹروں اور خاص طور پر انٹر نیٹ کی دست یابی اور فراہمی ترسیلی ذرائع کے ایک بالکل نئے عہد کی نقیب بن گئی ہے۔ ریڈیو،سیٹےلائٹ ٹی وی ،جدید پرنٹ میڈیا،مختلف قسم کے پروجیکٹروں پر دکھائی جانے والی فلمیں،آڈیو کیسیٹ او ر سی ڈی ٹکنا لوجی،کیبل اور وائر لیس ٹکنا لوجی، موبائل فون ویڈیو فلم اور ویڈیو کانفرنسنگ جدید میڈیا کی کچھ مثالیں ہیں۔
میڈیا کے کام( Functions of Media) پچھلے ابواب میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ ذرائع ابلاغ نو بالغوں کو زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ میڈیا کے درج ذیل کام ہیں:
1۔ معلومات: اس میں معلومات کی فراہمی او ر معلومات کا تبادلہ دونوں شامل ہیں۔آج معلومات ایک طاقت(Power) ہے۔ ریڈیو،ٹی وی اور اخبارات و رسائل جیسے میڈیا کے ذریعے ترسیل بہت آسان ہو گئی ہے۔
2۔ تحریص ترغیب: ہم اپنے خیالات سے ہمیشہ ہی مطمئن نہیں ہوتے۔ کسی خیال کو مخاطبین کے لئے قابل قبول بنانے کی غرض سے مناسب ترسیلی ذریعے کا استعمال کیا جا سکتاہے۔ اس سلسلے میں مخاطبین کی نفسیات اور ان کے معاشرتی اور ثقافت پس منظر کی گہری سمجھ ضروری ہے۔
3۔ تفریح: عوامی میڈیا(Folk Media) اور زبانی روایات سے لے کر ڈی ٹی ایچ نشریات(Direct to home telecasts) تک دونوں قسم یعنی روایتی اور جدید ترسیلی ذرائع سے بہت سے تفریحی پروگرام مہیا ہوتے ہیں۔ تعلیم کو آسان او ر دل چسپ بنانے کے لئے میڈیا کا استعمال تفریحی شکلوں میں کیا جاتا ہے۔
4۔ توضیح و تشریح:ترسیلی وسائل، خاص طور پر تصویروں اور اعداد و شمار کے استعمال سے بہت سے مشکل پیچیدہ تصورات کو آسانی سے سمجھایا جا سکتاہے۔مثال کے طور پر کسی جغرافیائی علاقے کو درستی کتاب میں اس کے بارے میں پڑھنے کے مقابلے کا رٹو گرافک نقشوں یا گلوب کے ماڈل کی مدد سے پہچاننا زیادہ آسان ہوتاہے۔
5۔ اقدار کا شعور: میڈیا سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اچھی اقدار کا شعور پیدا کر کے ایک صحت مند معاشرے کو فروغ دینے میں معاون ہوگا۔مثال کے طور پر کہانیوں،کٹھ پتلی او ر کارٹون فلموں کا استعمال کر کے اچھی اقدار کی تعلیم دی جا سکتی ہے۔
6۔ تعلیم و تربیت: مقامی زبان میں مناسب ترسیلی وسائل کی مدد سے حاصل ہونے والے نئے تجربات کی اور مقامی مسائل پر توجہ دینے سے درس و تدریس کے عمل کو تقویت ملتی ہے۔ اس میں مختلف تصورات تفاعلی تعلیم پر مبنی (Interactive Instruction) ویڈیو اور آڈیو کیسٹ اور درس و تدریس سے متعلق مطبوعہ بنیادی مواد شامل ہیں۔
7۔ تال میل(Coordination): جدید تفاعلی ترسیلی ٹکنا لوجیوں کی وجہ سے فاصلے یا جسمانی دوری زیادہ اہم نہیں رہ گئی ہے۔ترسیل کی رفتار ،وسعت اور درستگی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ کسی ایک جگہ بیٹھ کرایک بہت بڑے علاقے پرپھیلے ہوئے بڑے بڑے منصوبوں میں تال میل پیدا کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔
8۔ رویوں میں تبدیلی(Behavioural Change): مختلف شعبوں سے متعلق توسیعی تعلیمی سر گرمیاں چاہے وہ صحت ،خواندگی،ماحولیاتی مسائل، باختیار کاری(Empowerment) کے پروگراموں اور ایجاد پسندی اختیار کرنے سے متعلق ہوں، یہ سب بڑے پیمانے پر موثر ترسیل کے فن اور تکنیک پر منحصر ہیں۔ میڈیا مفید پیغامات کی ترسیل کا خاص ذریعہ ہے اور اگر وہ لوگ جن کے لئے یہ پیغامات تیار کئے گئے ہیں انہیں قبول کر لیتے ہیں تو پھر ان کے رویے میں براہ راست یا بالواسطہ تبدیلی آ جاتی ہے۔
9۔ ترقی: میڈیا قومی ترقی میں تیزی لانے کاکام کرتا ہے ۔ ترسیل ماہرین اور عام لوگوں کے درمیان ایک پل کا کام کرتی ہے ۔اس طرح وہ ترقی کے عمل میں ایک مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ میڈیا ترقی کی رفتار تیز کر دی ہے اور ترسیل کے ذریعے لوگوں کو قریب تر لا کر دنیا کو چھوٹا بنا دیا ہے۔
ترسیل اور میڈیا دونوں ہی لوگوں تک پہنچنے کے لئے جدید ٹکنا لوجی کو اپناتے ہیں۔ اگلی سیکشن میں ہم اسی بارے میں گفتگو کریں گے۔
6.3 کمیونی کیشن ٹکنالوجی کیا ہے؟(What is Communication Technology?)
عالمی منظر نامہ ترسیل کے ایک انقلاب سے گزر رہا ے اور ترسیلی ٹکنا لوجیاں بہت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔ آج جو چیز نئی ہے ک وہ متروک ہو سکتی ہے۔لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ہر چیز کو کم سے کم وقت میں جان لیں۔ اب معلومات میں ایک ابال سا آ چکا ہے ا ور مختلف قدیم و جدید ذرائع کے توسط سے ساری معلومات آسانی سے دستیاب اور فراہم ہے۔ اسی لئے ترسیلی ٹکنا لوجی ایک کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
ہم مختلف زمانوں(ماضی اور حال) میں مختلف ماحولوں( مثلاً دیہی ،شہری اور قبائلی) میں ترسیل کے لئے مختلف میڈیم او ر مختلف ترسیلی ٹکنا لوجیوں کا استعمال کرتے رہے ہیں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ اب فاصلے نابود ہو چکے ہیں ۔پہلے جو کچھ دور ہوا کرتا تھا اب وہ قریب آگیا ہے ۔اب ہر مقامی چیز عالمی بن گئی ہے ۔نسیم پڑودا ،چیئرمین ،ورلڈ ٹیل

اپنے چاروں طرف نظر ڈالیے۔آپ مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ الکٹرانک میڈیا سے متعلق بہت سی نئی ٹکنا لوجیوں نے ترسیلی ذرائع وسائل کی دنیا میں انقلاب پیدا کر دیاہے؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان میں پہلا ٹی وی ٹرانسمیٹر گجرات کے پج گاوںٔ میں لگا تھا۔ اس سے سیٹلائٹ کے ذریعے دہلی کے مشترکہ پروگراموں کے ساتھ ساتھ مقامی زبان میں پروگرام نشر ہوتے تھے۔
معلومات کی ترسیل کے لئے تیار شدہ اور استعمال کی جانے والی مختلف ٹکنا لوجیاں ترسیلی ٹکنا لوجی کہلاتی ہیں۔اس میں وہ جدید ٹکنا لوجیاں شامل ہیں جو ڈیٹا(Data) کو منتقل کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ ڈیتا یا تو الیکٹرانک سگنل کی شکل میں یا ڈیجیٹل(Digital) ہوتے ہیں لوگ ہارڈویر،تنظیمی نظاموں اور معاشرتی اقدار کی مدد سے معلومات کو جمع کرنے، ایک خاص شکل دینے اور ان کا تبادلہ کر تے ہیں۔
ترسیلی ٹکنا لوجیوں کی درجہ بندی (Classification of communication
technologies)
ترسیلی ٹکنالوجیوں کی بڑی تعداد دستیاب ہے۔ ان سب کو دو بڑے روپوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔
(i) زمینی کیبل پر مبنی ٹکنالوجیاں: یہ ٹکنا لوجیاں نسبتاً سستی اور کم پیچیدہ ہیں۔زمینی ٹیلیفون یا بغیر انٹر نٹ کے شخصی کمپیوٹر(PC) اس قسم کی ٹکنا لوجی کی مثالیں ہیں۔
سر گرمی 7
اپنی کلاس میں گروپ بنا کر مباحثہ کیجئے کہ ترسیلی ٹکنا لوجی عذاب ہے یا نعمت؟
(ii) وائر لیس ٹکنا لوجیاں: اس میں عام طور پر بنیادی ڈھانچے(Infra Structure) کی ضرورت کم ہوتی ہے لیکن کیبل والی ٹکنالوجیوں کے مقابلے یہ زیادہ مہنگی ہوتی ہیں۔ریڈیو،مائکروویو اور سیٹ لائٹ وائر لیس،ٹیلیفونی یا ’بلیو ٹوتھ‘ ٹیکنا لوجی کا موبائل فون اور کمپیوٹر میں استعمال اس کی مثالیں ہیں۔
ریڈیو اور ٹیلی ویژن دو ایسی اہم ٹکنا لوجیاں ہیں جنہوں نے میڈیا کے طور پر کام کیا او ر پورے ترسیلی منظر نامے کو بدل دیا۔
ریڈیو: ہر عمر،ہر جنس ،ہر مذہب اور مختلف آمدنی رکھنے والے ریڈیو کے سامعین ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ریڈیو نے اپنی براہ راست نشریات سے زمان و مکان کی قیود کو توڑ دیاہے۔ چھوٹے سائز کے ٹرانسسٹروں کے استعمال سے ملک کے دور دراز علاقوں میں بھی ریڈیو کے نشریات کو سننا ممکن ہوگیا ہے۔
ٹیلی ویژن: ہندوستان میں ٹی وی 1959 میں متعارف ہوا۔ یہ خاص طور پر دیہی ترقی اور تعلیم کو فروغ دینے کے لئے شروع کیا گیا تھا۔ ٹی وی کے پروگراموںکی منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور بصری تکبیر(Visual maganification) صوتی اطناب(Sound amplifiction) ،سپرامپوزیشن(Super-imposition) اسپلٹ اسکرین تعامل(Split Screen processes)،فیڈنگ(Fading) اور زومنگ(Zooming) وغیرہ مختلف تکنیکیں استعمال کر کے ان کو پیش کیا جاتا ہے۔ یہ تکنیکیں ٹی وی کو اور زیادہ موثر بناتی ہیں اور دیکھنے والوں پر اس کے اثر کو بڑھا دیتی ہیں۔
جدید ترسیلی ٹکنا لوجیاں (Modern Communication Technologies)
جدید ترسیلی ٹکنا لوجیوں کی فہرست طویل ہے اور ہر آنے والے دن ہم موجودہ ٹکنا لوجی میں کسی نہ کسی اضافے کی بات سنتے ہیں۔ذیل میں جدیدترسیلی ٹکنا لوجیوں کی کچھ اہم قسمیں بتائی گئی ہیں جن کا خاص طور پر توسیعی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
1۔ مائکرو کمپیوٹر:کمپیوٹروں کو بڑے فریم والے (بڑے او مہنگے) کمپیوٹروں ، منی کمپیوٹروں(Mini Computers) جو ذرا کم طاقت والے ہوتے ہیں او ر مائکرو کمپیوٹروں ( جو مائکرو چیپس ٹکنا لوجی پر مبنی ہوتے ہیں) میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔کمپیوٹروں کی یہ درجہ بندی ان کی طاقت ،ہدایت کی رفتار،ڈیٹا ذخیرہ کرنے کے لئے دستیاب حافظے(Memory) کی مقدار اور کمپیوٹروں کی داخلی ارتباط(Inter-connectivity) پر مبنی ہے۔
’بلیو ٹوتھ‘ ٹکنا لوجی کیا ہے؟
’بلیو‘ ٹوتھ ٹکنا لوجی آواز اور ڈیٹا کو Mbps1کی شرح سے منتقل کرنے کی صلاحیت او ر موبائل ،پی سی ،موبائل فون اور دیگر دستی آلات کے درمیان کم لاگت اور مختصر رینج والا ریڈیو فری کوئنسی رابطہ(RF link) ہے۔ یہ فری کوئنسی متوازی اور سیریل پورٹ کی اوسط رفتار سے بالترتیب تین سے آٹھ گنا تیز تر ہوتی ہے ۔ یہ ٹھوس اور غیر دھاتی چیزوں سے گزر کر منتقل ہو سکتی ہے۔ یہ ایک سیل فون اور ایک ہینڈ فری سیٹ (Hands free head set) یا ایک کار کٹ(Car-kit) کو وائر لیس سے کنٹرول کرتی ہے اور ان کے درمیان وائر لیس رابطے کو بر قرار رکھتی ہے۔

مائکرو کمپیوٹر کے کاموں میں خاص طور پر توسیعی امور کے لحاظ سے پروسیسنگ ، ہر طرح کی معلومات کار ریکارڈ رکھنا، ریکاوٹنگ کا کام ،مختلف معاملات کی ذخیرہ کاری، بہت چھوٹی سی جگہ میں تحقیقات اور فیلڈ میں استعمال میں آنے والے تجربات اور معقول لاگت پر معلوماتی مواد کی طباعت وغیرہ شامل ہیں۔ اگر ایک دوسرے سے جوڑ دیا جائے تو کمپیوٹر ایک دوسرے کے ساتھ رابطے کا کام بھی کرتے ہیں اور تمام دنیا سے معلومات کی فراہمی کو آسان بناتے ہیں۔
2۔ ویڈیو ٹیکسٹ(Video Text): ویڈیو ٹیکسٹ یا ویڈیو ڈیٹا(View -Data) الیکٹرانک ٹیکسٹ سروس ہے جو مرکزی کمپیوٹر سے ٹیلی فون نیٹ ورک یا کیبل سسٹم کے ذریعے گھر کے ٹی وی سیٹ میں منتقل ہو جاتی ہے۔ یہ سروس اس لحاظ سے تفاعلی(Interactive) ہے کہ ناظر(Viewer) کو مطلوبہ ڈیٹا تک رسائی کا اختیار ہوتاہے۔
3۔ الیکٹرانک میل(E-mail): اس نظام کے تحت معلومات کو مرسل(Sender) سے وصول کنندہ تک الیکٹرانک طور پر بھیجا جاتا ہے۔ای میل ایک زمینی ڈاک(Surface mail)کی طرح ہوتی ہے۔ اس میں پیغام کو کمپیوٹر پر ٹائپ کر دیا جاتا ہے اور ٹیلیفون کے ذریعے دوسرے کمپیوٹر کو بھیج دیا جاتا ہے۔ یہ ایک میل باکس کے ذریعے دو یا زیادہ لوگوں کے درمیان ترسیل کا ایک آسان طریقہ ہے۔پیغام کمپیوٹر میں ذخیرہ ہو جاتاہے اور کمپیوٹر ایک ڈاک خانے کا کام کرتا ہے ، یہاں تک کہ وصول کنندہ اس پیغام کو وصول کر لیتا ہے۔ ٹیلیفون سے ایک موڈم (Modem) جوڑ کر ڈاک(Mail) کو دیکھا جا سکتا ہے۔
سیٹیلائٹ کمیو نی کیشن
پچھلے تیس سال کے اندر سیٹیلائٹ کمیو نی کیشن دنیا کے تقریبا تمام ملکوں میں پہنچ چکا ہے اور اس نے نہ صرف ترسیل بلکہ انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں ایک انقلاب برپا کر دیاہے۔
یہ ہے کیا؟
یہ سیٹلائٹ ترسیل،ترسیل کاایک ایسا عمل ہے جومختلف مقاصد کے لئے سیٹیلائٹ ٹکنا لوجی کی مدد سے انجام دیا جاتا ہے ۔ سیٹیلائٹ خلا میں واقع ہوتا ہے جس سے معلومات حاصل کی جاتی ہیں یا بصری سینسروں(Optical sensors) کی مدد سے ساری دنیا میں بھیج دی جاتی ہیں۔ یہ بصری سینسر خلائی اور ہوائی پلیٹ فارموں پر نصب ہوتے ہیں۔
سیٹیلائٹ کمیو نی کیشن کی منفرد خصوصیات
• اس میں کسی بھی دو مقام کے درمیان قابل اعتماد اور فوری ترسیل کی صلاحیت ہوتی ہے۔
• اس کے ذریعے معلومات کو بہت وسیع علاقے پر پھیلے ایک مقام سے دوسرے بہت سے مقامات ایک ایک ساتھ بھیجا جا سکتاہے۔
• یہ معلومات کو بہت سے مقامات سے حاصل کرنے کے بعد ایک مرکزی جگہ پر جمع کرتاہے۔
سیٹیلائٹ کمیونی کیشن کے فائدے اور اس کے استعمال
• دور حسی(Remote-sensing) سیٹلائٹ کسی چیز کو دور سے ہی دیکھ لیتا ہے۔ڈیٹا بہت جلدی او ربار بار جمع ہو جاتا ہے۔سینسر ڈیتا ایسی شبیہیں(images) بناتا ہے جن کو بڑیے پیمانے پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر قدرتی وسائل کی دست یابی کے بارے میں صحیح صورت حال معلوم کرنے کے لئے ان شبیہوں سے بڑی مدد ملتی ہے۔ اسی طرح زراعت اور زراعت سے وابستہ دیگر صنعتوں کے لئے اس کی موسمی پیشین گوئیاں بہت سود مند ہوتی ہیں۔
• خلائی ٹکنا لوجی کے اطلاق اور ہندوستانی خلائی ترقیاتی پروگرام میں یہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔
• یہ دنیا بھر میں دست یاب اعلیٰ معیار کا مواصلاتی (Telecommunication) نظام ہے اور ترقی یافتہ عالمی مسابقت کا ذریعہ ہے۔
• اس کے ذریعے دور دراز علاقوں میں بھی ترقیاتی مواقع دستیاب ہیں۔
• تیز رفتار اور معیاری مواصلاتی وسائل کی فراہمی نے سفر کی پریشانیوں سے نجات دی ہے اور فیصلہ سازی کے عمل کو آسان بنا دیاہے اور اس طرح توانائی اور دیگر وسائل کی حفاظت کو فروغ دیا ہے۔
ایس آئی ٹی ای(SITE): ایک انقلاب انگیز معاشرتی اور ٹکنا لوجیائی تجزیہ
• سیٹیلائٹ تعلیمی ٹیلی ویژن تجربہ(Satelite Instructional Television Experiment)(SITE) امریکہ کی اپلیکیشن ٹکنا لوجی سیٹلائٹ(ATS6) کا استعمال کر کے 1976 میں شروع کیا گیا تھا اور یہ اپنی نوع کا دنیا کا سب سے بڑا تجربہ تھا۔
• ایس آئی ٹی ای(SITE) نے سیٹلائٹ پر مبنی تعلیمی ٹیلی ویژن نظام شروع کرنے ، اس کی جانچ(Testing) اور انتظام کے شعبے میں خاص طور پر دیہی علاقوں میں قیمتی تجربہ فراہم کیا ہے۔
• ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملکوں کے لئے ایس آئی ٹیای نے ترسیل عامہ کی تیز ترقی میں سیٹیلائٹ ٹکنا لوجی کے بالقوہ امکانات کا مظاہر کیا ہے ، مجموعی طور پر سائٹ(SITE) نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دور دراز علاقوں میں مواصلات کے بنیادی ڈھانچیے کا نہ صرف پھیلاؤ ممکن ہے بلکہ اس سے قومی ترقی کے فروغ میں بھی یقیناً مدد ملے گی۔ معاشرتی اور تکنیکی دونوں مقاصد کے حصول میں سائٹ ایک کامیاب تجربہ تھا۔ اس تجربے سے سیٹیلائٹ نے ٹکنا لوجی کے مزید استعمال بالخصوص دیہی ہندوستان میں ترسیل کے لئے ٹیلی ویژن کے استعمال کی راہ ہموار کر دی ہے۔
4۔ تفاعلی ویڈیو: تفاعلی ویڈیو کاایک ایسا نظام ہے جو کمپیوٹر او ر ویڈیو کا مرکب ہے۔ اس میں ملٹی میڈیا کے طریقوں یعنی ٹیکسٹ، غیر متحرک فوٹو گراف،ویڈیو،آڈیو،سلائڈوں اور اور ہیڈس(Overheads) وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔مختلف شکلوں میں محفوظ شدہ پیغامات کو استعمال کار(Users) اپنی پسند کے مطابق وصول کرتے ہیں۔ سسٹم کے بارے میں استعمال کاروں(Users) کا رد عمل یہ طے کرتا ہے کہ کون سا طریقہ اپنایا جائے۔
5۔ ٹیلی کانفرنسنگ: ٹیلی کانفرنسنگ ایک تفاعلی گروپ ترسیل ہے۔ اس نظام کا مقصد جغرافیائی اعتبار سے دور دراس علاقوں میں اور جسمانی اعتبار سے بہت فاصلوں پر رہنے والے لوگوں کے درمیان بات چیت کراناہے۔ ٹیلی مواصلاتی وسائل کی ترقی سے اب لمبے سفر کئے بغیر گھر بیٹھے لوگوں کے درمیان ملاقات ممکن ہے۔
سر گرمی8
سڑکوں کے کنارے لگے بڑے بڑے اشتہارات کے دو پیغامات جو آپ کویاد ہوں لکھئے۔ ان پیغاموں کی تشریح بھی لکھئے۔
•پیغام:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تشریح:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
•پیغام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تشریح:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس طرح ترسیلی ٹکنا لوجی نے ترسیل کو بہت آسان بنا دیا ہے۔اب دنیا بھر میں زیادہ سے زیادہ لوگ ان ٹکنا لوجیوں کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن انسانی موجودگی کو آج بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ اپنی روز مرہ کی زندگی میں ہمیں مختلف لوگوں سے آمنے سامنے بات کرنی پڑتی ہے۔ اس طرح موثر ترسیل کے لئے کچھ بنیادی مہارتوں کا فروغ بہت ضروری ہے۔’’موثر ابلاغ کی مہارتوں‘‘ پر مشتمل اگلا باب یہ سمجھنے میں ہماری مدد کرے گا۔
کلیدی اصطلاحات:
ترسیل،گروپ ترسیل،ترسیل عامہ،زبانی اور غیر زبانی ترسیل،میڈیا ترسیلی ٹکنا لوجی، بلیو ٹوتھ ٹکنا لوجی، سیٹلائٹ کمیو نی کیشن
• سوالات برائے نظر ثانی
1۔ ترسیل کی اصطلاح سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ زبانی اور غیر زبانی ترسیل کے مختلف طریقے کون سے ہیں؟
2۔ مثال کی مدد سے سمجھائیے کہ ترسیل کا عمل کیا ہے
3۔ ’ترسیل کے عمل میں حواس(Senses) کی جتنی زیادہ تعداد ہوگی ، ترسیل اتنا ہی موثر اور پائیدار ہوگی‘‘۔ دلائل کے ساتھ اظہار خیال کیجئے۔
4۔ میڈیا ہماری روز مرہ کی زندگی کو کس طرح متاثر کرتاہے؟میڈیا کی مختلف قسمیں بیان کیجئے۔
5۔ ترسیل ٹکنا لوجی کی اصطلاح کی تعریف کس طرح کی جاتی ہے؟دو ایسی اہم ترسیلی ٹکنا لوجیوں سے بحث کیجئے جن سے ترسیل کی دنیا میں انقلاب آ گیا ہے۔اپنے جواب کے لئے دلائل بھی دیجئے۔