Skip to content
Insanimaholiatauruloom-I-001


باب7


موثر ابلاغ کی مہارتیں

(Effective Communication Skills)


آموزشی مقاصد

یہ باب مکمل کرنے کے بعد طلبا:

•  ابلاغ کی مہارتوں کا مفہوم بتا سکیں گے۔

•  ابلاغ کی اہمیت پر گفتگو کر سکیں گے۔

•  ابلاغ کی مختلف مہارتوں کو بیان کر سکیں گے

•  ابلاغ کی خود اپنی مہارتوں کو مزید فروغ دے سکیں گے۔


ہر شخص کو موثر ترسیل کے طور طریقوں سے پوری طرح واقف ہونا چاہئے، چاہے یہ ابلاغ اس کی ذاتی زندگیسے متعلق ہو یا کام کاج سے ۔ماہرین کے مطابق ایک اچھا ترسیل کار(Communicator) ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص نے اپنی ذاتی زندگی ہی نہیں بلکہ پیشہ ورانہ زندگی میں بھی بڑی حد تک کامیابی حاصل کر لی ہے۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ جو شخص اچھا بول سکتا ہے اور سمجھ دار سامع ہے اس کی گفتگو میں کسی غلط فہمی کی گنجائش نہیں ہوگی۔ در اصل غلط فہمی کی بنیادی وجہ ہی یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بات کے اظہار کی صلاحیت نہ رکھتا ہو یا پھر سمجھ دار سامع نہ ہو۔

ہم ترسیل کے عمل میں مختلف صلاحیتوں کا استعمال کر کے معلومات،اطلاعات کو حاصل بھی کرتے ہیں اور ارسال بھی کرتے ہیں۔ ترسیل کے عمل کا اثر مناسب اور موزوں ترسیل کی مہارتوں کے استعمال پر موقوف ہے۔ اسی لئے ابلاغ کی موزوں صلاحیتیں ہر شخص کے لئے بہت اہم ہوتی ہیں۔ ترسیل کے عمل کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کہنے والے نے جوکچھ کہا ے اس کو سننے والے (Receiver) نے باہمی تفہیم کے ساتھ سمجھ بھی لیا ہے۔ ایسا اس لئے ہو سکتا ہے کہ ترسیلی عمل کے مختلف مراحل میں مفہوم مسخ ہو سکتا ہے ۔ ابلاغ کے عمل میں پیدا ہونے والے  خلا کو پر کرنے کے لئے کسی بھی شخص کے لئے ضروری ہے کہ اسے ابلاغ کاہنر آتا ہو۔ ابلاغی مہارتیں تیز ہونی چاہئیں تاکہ ابلاغ کا عمل موثر ہو سکے۔


7.1   ابلاغی مہارتوں کا مفہوم

(Meaning of Communication Skills)

•  زبان کے استعمال اور اطلاعات کے اظہار کی صلاحیتوں کو ہی ابلاغ کی مہارت کہتے ہیں۔اس طرح ابلاغ کا ہنر ان صلاحیتوں کو کہتے ہیں جو معلومات کو موثر طور پر بھیجنے اور وصول کرنے میں مدد کرتی ہیں۔یہ صلاحیتیں قدرتی بھی ہوتی ہیں اور اکتسابی بھی۔

•   ابلاغی مہارتیں ان طور طریقوں پر مشتمل ہوتی ہیں جو دیگر افراد تک معلومات پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔ ابلاغ کے عمل میں سوچنا،بولنا(گویائی)،سننا(سماعت)، پڑھنا ،لکھنا،تصور قائم کرنا اور جسمانی اشارات شامل ہیں۔ ان صلاحیتوں کے ذریعے ہم مختلف حالات میں مختلف طریقوں سے معلومات کو وصول بھی کر سکتے ہیں اور دوسروں تک پہنچا بھی سکتے ہیں۔

•   اگر ہم نفسیات کی زبان میں بات کریں تو ابلاغ کا ہنر ان رویوں کو کہیں گے جن کے ذریعے کوئی شخص کسی معلومات کو دوسرے تک منتقل کرتاہے تاکہ اس مواد کی باہمی تفہیم ہو سکے ۔

اس طرح ابلاغی مہارت اس صلاحیت کو کہیں گے جو ایک شخص اپنی بات کو مختلف لوگوں سے موثر طریقے سے اور تسلسل کے ساتھ کہنے کا اہل بناتی ہے اور اس طرح وہ اس بات کی مشترکہ تفہیم کر پاتے ہیں ۔ زبانی یا تحریری الفاظ، اشاروں اور پیغامات کی ترتیب کی مدد سے مخاطب کو راغب کرنے کا فن ، الفاظ اور حرکات و سکنات کا تال میل ، مخاطب اور ھالات کے حسب حال کسی بات کوتصور کرنے اور پھر اسے لفظوں میں ڈھالنے کا فن اور تکنیک ابلاغ کی مہارتوں میں شامل ہیں۔

 معلومات کی لین دین میں ابلاغی مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جو شخص کوئی پیغام بھیجتا ہے اسے اپنے مخاطب کی شخصیت ، اس کی ضروریات اور دل چسپیوں کا خیال کرتے ہوئے اپنے مقررہ پیغام پر غور کرنے ، اس کا ذۃنی نقشہ تیار کرنے اور ترتیب دینے کے لئے ان مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ مرسل یا پیغام بھیجنے والے کے لئے پانچ کاف(یعنی کیا؟ کہاں؟کب؟کس کو اور کیسے؟) بہت اہم ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اسی طرح پیغام کے وصول کنندہ کو چاہئے کہ وہ ذہنی تحفظات اور تعصبات یا  طبعی میلانات سے نجات پا کر اس پیغام کو بغور سنے ، دیکھے اور پڑھے اور ضروری ہو تو اس پیغام کے بین السطور کو بھی پڑھنے کی کوشش کرے۔ کہا جاتا ہے کہ قدرت نے ہمیں دو کان اور ایک منہ اس لئے عطا کئے ہیں کہ ہم کم بولیں اور زیادہ سنیں۔ کیا ہم اس بات پر عمل کرتے ہیں؟ وصول کنندہ کو یہ چاہئے کہ وہ ایک کان سے الفاظ کو سنے اور دوسرے کان سے یہ محسوس کرے کہ کیا کہا جا رہا ہے ۔ اس طرح وصول کنندہ کو پیغام کی تفہیم میں مدد ملے گی۔


کیاآپ جانتے ہیں کہ ابلاغ کے 70فیصد حصے کی تفہیم غلط ہوتی ہے،یا اس کی تشریح اور ترجمانی غلط ہوتی ہے، یا س کو مسترد کر دیا جاتا ہے ، یا تو ڑ مرو ڑ دیا جاتا ہے یا پھر سنا ہی نہیں جاتا۔موثر ابلاغی صلاحیتوں سے ہم ان خامیوں کو کم کر سکتے ہیں۔


7.2  ترسیلی مہارتوں کی قسمیں (Types of Communication Skills)

 ترسیل کا اسلوب ’کہا جا رہا ہے‘ کی طرح ہی یا اس سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ جسمانی اشارات بھی الفاظ کی طرح ہی اور کبھی کبھی ان سے بھی زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ ہم معلومات کوکتنے موثر طور پر بھیجتے یاوصول کرتے ہیں یہ اس بات پر موقوف ہے کہ ہم کسی ایک یا زیادہ ترسیلی مہارتوں کو موثر طور پر اور کس طرح استعمال کر رہے ہیں۔

•   سوچنا

پڑھنا

لکھنا

سننا

بولنا

•   بلا لفظ ترسیل


سوچنا(Thinking)

سوچنا ذاتی ابلاغ ہے ۔ اس میں انفرادی غور و فکر ، انہماک اور محویت شامل ہے۔ سوچنے کے عمل سے کوئی شخص بھی اپنے خیالات،افکار،آرا اور احساسات کومنتخب کرنے اور ان کو مرتب اورمنظم کرنے کااہل ہو سکتا ہے۔ ایک طرح سے،یہ ایک تجریدی (Abstract) عمل ہے کیوں کہ جب تک اس کا اظہار  الفاظ یا احساسات یا تحریروں کے ذریعے نہ کیا جائے کوئی بھی سوچنے کے عمل کو مکمل نہیں دیکھ سکتا۔ سوچنا،ترسیل کابنیادی مرحلہ ہے۔ آپ کے تمام اعمال اسی بات پر منحصر ہیں کہ آپ کیا اور کس طرح سوچتے ہیں۔

آپ سوچنے کی مہارت کو کس طرح فروغ دے سکتے ہیں۔

•   آپ جو کچھ سوچ رہے ہیں اس پر اپنی توجہ مرکو کیجئے۔

•   سوچنے کے عمل کے دوران منتشر خیالی سے بچئے۔

•   تخلیقی صلاحیت (Creativity) ، مسائل حل کرنے کی اہلیت ،اشتراک عمل،باریک بینی اور فکری اعتدال ،جیسی مہارتوں کو فروغ دینے کے لئے سوچنے کے عمل کو طاقت وربنائیے۔

پڑھنا(Reading)

یہ چھپے یا لکھے ہوئے مواد سے معنی حاصل کرنے کی صلاحیت ہے۔ تفریح، معلومات اور علم کا حصول مطالعے کے لئے چند ترغیبی عوامل ہیں۔ مہارت کے ساتھ پڑھنے کے لئے زبان کا علم ،پڑھنے میں روانی،ذخیرہ الفاظ، سمجھ کرپڑھنے ،ادارکی صلاحیت(Cognition) اور  رمز کشائی(Decoding) کی ضرورت ہوتی ہے ۔ بچہ عموماً چھے سال کی عمر تک زبان اور آوازوں سے واقف ہو جاتا ہے۔ ساتویں  سال میں وہ پڑھنے یا رمز کشائی کے ابتدائی مرحلے میں ہوتا ہے۔رمز کشائی کی مہارت میں بہتری آتی جاتی ہے اور آٹھ سال تک کی عمر میں لفظوں کی صحیح شناخت کے ساتھ ساتھ پڑھنے میں روانی بھی آجای ہے۔ نو سال کی عمر تک بچہ وانی کےساتھ پڑھنے لگتا ہے اور پڑھنے(Reading) کوپسند بھی کرنے لگتا ہے۔ 14سے19سال کی عمر تک قاری(Reader) اس قابل ہوجاتا ہے کہ جو کچھ وہ پڑھ رہا ہے اس کا تجزیہ کر سکے، مختلف نقطہ نظر کو سمجھ سکے اور جو کچھ پڑھا ہے اس پر تنقیدی رد عمل کا اظہار کر سکے۔

•   پڑھنے کی صلاحیت کو آپ کس طرح فروغ دے سکتے ہیں؟

•   اس مہارت کو فروغ دینے کے لئے آپ اپنی پسند کے موضوعات منتخب کر کے مطالعہ شروع کر سکتے ہیں۔

•   مطالعے کے دوران پہلے دائیں سے بائیں طرف اور پھر سطر بہ سطر اک خاص آہنگ کا خیال رکھئے۔

•   کچھ بیرونی سہولتیں بھی مثلاً بائیں طرف سے آنے والی روشنی کی کافی مقدار، حروف کا مناسب سائز اور پر سکون اور خاموش ماحول ضروری ہیں۔


سر گرمی1

اپنے پڑھنے کی عادتیں جاننے کے لئے مندرجہ ذیل باتوں کوقلم بند کیجئے۔

•   آپ ہر ہفتے مجموعی طو پر کسی کتاب، رسالے یا ناول کے کتنے صفحات پڑھ لیتے ہیں؟

•   اپنے پانچ دوستوں سے موازنہ کر کے لکھئے کہ آپ اور وہ کس قسم کا ادب پڑھنا پسند کرتے ہیں۔


 لکھنا(Writing)

 ترسیل کے لئے لکھنا سب سے اچھا طریقہ ہوتا ہے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ پیغام پہنچانے کا واحد طریقہ لکھناہی ہوتا ہے ۔ لکھنے کے لئے ہمیں یہ جاننا ضروری ہے کہ جو بات تحریری شکل میں آ گئی ہے اسے واپس نہیں لیا جا سکتا ۔ اس طرح زبانی ترسیل کے مقابلے تحریری ترسیل زیادہ ٹھوس چیز ہے جس میں غلطی کابھی کم سے کم امکان ہوتا ہے ۔ تحریر میں ترسیل کار کے سامنے کچھ نئے چیلنج(مثلاً لفظ کی ہجے، قواعد کی غلطیاں،تلفظ،لکھنے کااسلوب اور الفاظ کا انتخاب وغیرہ) ہوتے ہیں۔ جدید ٹکنا لوجی(مثلاً کمپیوٹر) نے ایسے قابل اعتماد آلات اور ذرائع فراہم کر دیئے ہیں جنہوں نے مختلف قسم کے میمورنڈم، خطوط یا تجاویز وغیرہ لکھنے کو بہت آسان بنا دیاہے۔ اب قواعد اور املا کی غلطیاں کمپیوٹر کی مدد سے پکڑی جا سکتی ہیں۔ مضامین ، گھر پر کرنے کے لئے دیا گیا اسکول کا کام، رسمی خطوط اور امتحانات میں وضاحتی جوابات لکھنے کے لئے یہ مہارتیں طلبا کے لئے بہت مفید ہیں۔

اچھا لکھنے کے لئے کچھ رہنما اصول 

•   عامیانہ لفظوں کے استعمال سے پرہیز کیجئے مثلا ً خاتون کے لئے عورت کا استعمال

•   مخففات استعمال کرنے کی کوشش نہ کیجئے۔

•   اگر سائنس ،حساب اور تکنیکی مضامین نہ ہوں تو علامتوں کا استعمال نہ کیجئے۔ اگر علامتیں بہت عام اور مشہور ہوں تو بات دیگر ہے۔

•   پامال او فرسودہ الفاظ یا فقروں کو بہت احتیاط کے ساتھ استعمال کیجئے۔

•   لوگوں اور کمپنیوں کا نام اور الفاظ کااملا صحیح لکھئے۔

•   جب کوی عدد دس سے کم ہو یا اس کا استعمال جملے کے آغاز میں ہو تو اس کو لفظوں میں لکھئے۔

(جیسے:دس سال پہلے میں اور میری بہن۔۔۔) عدد 10یا اس سے بڑا کوئی عدد ہو تو اس کو گنتی میں لکھئے(جیسے میرے بھائی کے پاس 13ماچس کی تیلیاں ہیں)

•   رموز اوقاف(Punctuation) کا مناسب استعمال کیجئے۔

•   جملے کو مختصر رکھئے۔

سرگرمی2

درج ذیل کے نمونے جمع کیجئے۔

•   سائنسی تحریریں(مثلا ً سائنسی میگزین یا سائنس کی درسی کتاب

•   بچوں کی کہانیاں

•   رسالوں کے مضامین

•   اخبارات کے اداریئے

ان میں سے ہرایک تحریر میں استعمال کئے جانے والے اسلوب یا انداز تحریر کے فرق کا مطالعہ کیجئے۔


سننا(Lestening)

ترسیل کے عمل میں یا تو ہم معلومات دیتے ہیں یا لیتے ہیں۔ معلومات کو وصول کرنے کا موثر طریقہ سننا ہے۔ ہم ہر روز صبح سے شام تک طرح طرح کی معلومات یا پیغامات وصول کرتے ہیں لیکن کچھ باتوں کو ہم زیادہ آسانی سے یاد رکھ پاتے ہیں اور  دیگر باتوں کو بھول جاتے ہیں۔ سماعت کرنا(Listening) ان صلاحیتوں کا مجموعہ ہے جن کا تعلق سننے(Hearing) پیغام کے مواد اور پیغام میں وصول کرنے والے کے ساتھ برتاؤ اور مرسل اور پیغام کے ساتھ ہمارے نفسیاتی رابطے سے ہے۔ سماعت کرنا صرف سننا یا الفاظ کا کانوں میں پڑنا نہیں ہے۔سماعت کرنے میں سمجھنے کی خواہش۔ پیغام اور بولنے والے کی بات قبول کرنے اور اس کا احرام کرنے کا رویہ بھی شامل ہے اور پیغام کے متعلق دوسروں کے تصور کی جانچ اور اس کے متعلق رائے قائم کرنے کا شعوری رجحان بھی شامل ہے ۔ سماعت کرنے کی صلاحیت قدرتی بی ہو سکتی ہے اور اکتسابی بھی۔ اسکوکچھ بنیادی اصولوں پر عمل کر کے حاصل بھی کیا جا سکتا ہے ۔


طلبا اپنے اسکول کے وقت کا 20فیصد حصہ سماعت کرنے میں صرف کرتے ہیں۔ اگر ٹی وی دیکھنے اور گفتگو کرنے کیوقت کو بھی اس میں شامل کر لیں تو طلبا اپنی بیداری کا تقریباً 50فی صد حصہ سننے میں صرف کرتے ہیں۔ کلاس روم میں جووقت  گزرتا ہے اس میں سماعت کرنے کا وقت تقریباً 100فی صد ہے۔


 آپ سماعت کرنے کی مہارت کو کیسے فروغ دیں گے؟

•   متکلم (Speaker) کی باتوں پر پوری توجہ اور سکون کے ساتھ توجہ دیجئے۔

•   سماعت کرتے وقت بولنا بندکر دیجئے۔

•   سامع کوچاہئے کہ وہ سماعت کرتے وقت اپنے خیالات اور تصورات کو ایک طرف کردے اور دوسرے کے خیالات کوپوری ہمدردی کے ساتھ اس کے نقطہ نظر سے دیکھنے کی کوشش کرے۔

•   پیغام کو سمجھنے کے لئے الفاظ کو غور سے سنئے اور بولنے والے کے احساسات پر توجہ دیجئے۔ پیغام کا بین السطور پڑھنے کی بھی کوشش کیجئے۔

•   غیر لفظی پیغامات جیسے متکلم کے تاثرات،اس کامیلان طبع اور اس کے بولنے کے محرکات سے بھی واقفیت حاصل کیجئے۔


’’سماعت کرنا‘‘ متحر ک ہونا ہے ۔ سماعت کرنا جسمانی اور نفسیاتی طور پر متکلم  سے متاثر ہونا ہے۔۔۔

متاثر نہ ہونے والے اور پلک نہ جھپکانے والے شخص کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ غیر سامع (Non-Listener) ہے۔۔ جب نظر آنے والی حرکت ختم ہو جائے اور آنکھ جھپکنے کی شرح چھ سیکنڈ میں ایک بارسے بھی کم ہوجائے تو سمجھ لیجئے کہ عملی اعتبار سے سماعت کا عمل رک چکا ہے‘‘۔

(فرینکلن ارنیسٹ جونیر(Franklin ernst,JR)


بولنا(Speaking)

بولنا سب سے بنیادی ترسیلی مہارت ہے۔ بولنے کا مطلب کسی بھی بولی جانے والی زبان میں آواز پیدا کرنا،تفہیم اور ان کا استعمال ہے۔ روز مرہ کی زندگی میں ہم اپنے افراد خانہ، دوستوں اور کام کاج کے ساتھیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں اور انہیں اپنے خیالات اور احساسات میں شریک کرتے ہیں۔

کسی گروپ کے سامنے بولنا اور عوامی تقریریں کرنا (Public Speaking) بولنے کی مہارتوں کی دو اہم قسمیں ہیں۔عوامی تقریریں لوگوں کے کسی گروپ سے ایک منظم اور سوچے سمجھے طریقے پر اس ارادے سے بولنا ہے تاکہ سامعین کو معلومات فراہم کی جائے، ان کو متاثر اور آمادہ کیا جائے، ان کو رغبت دلائی جائے اور ان کی تفریح کا سامان کیا جائے۔

2

اکثر بڑے  مقرروں میں قدرتی صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ اپنی مہارتوں اور اپنی باتوں کی اثر انگیزی کے ذریعے سامعین کو اپنی تقریر سننے میں محو بھی رکھ سکتے ہیں اور ان کو خاص مقصد کے لئے متحرک بھی کر سکتے ہیں۔ زبان اور بیان عوامی تقریروں اور بین شخصی ترسیل کے دو سب سے اہم پہلو ہیں۔ اس بات کویقینی بنانے کے لئے کہ آپ کے زبانی یالفظی پیغامات سمجھ لئے گئے اور یاد کر لئے گئے ہیں آپ کو چار آسان اور واضح عمل کرنے ہیں۔ یہ ہیں۔

•   اپنی پیش کش یا بات چیت کے مقصد کو سمجھئے۔

•   مقصد کو واضح اور مختصر رکھئے۔

•   اپنی بات دوسروں کے سامنے پیش کرنے سے پہلے اچھی طرح تیاری اور مشق کیجئے۔

•   پیغام کے ابلاغ کے وقت اپنے ذہن میں پیغام کا واضح تصور رکھئے ۔

آپ اپنی بات چیت یا پیش کش کو کس طرح موثر بنا سکتے ہیں؟

پیش کش یا بات شروع کرنے سے پہلے یہ بہت اہم ہے کہ آپ دج ذیل امور کو سمجھتے ہوں:

کون: وہ لوگ کون ہیں جن سے آپ بات کررہے ہیں؟ ان لوگوں کے مفادات،ان کے مسائل اور ان کی اقدار کیاہیں؟ ان میں اور دیگر لوگوں میں کیا باتیں مشترک ہیں؟ وہ لوگ منفرد یا یکتا کس مفہوم میں ہیں؟

کیا: آپ کس چیز کا ابلاغ کرنا چاہتے ہیں؟ موضوع گفتگو کی مناسب معلومات کامیابی کے لئے بہت اہم ہوتی ہے۔ اس سوال  کا جواب دینے کے لئے ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ ’کامیابی کے پیمانے‘ کے بارے میں سوال کریں۔ آپ کویہ کیسے معلوم ہوگا کہ جو بات آپ کے دل میں تھی وہ کامیابی کے ساستھ آپ نے پہنچا دی اور کب پہنچائی؟

کیسے: آپ اپنا پیغام بہترین طریقے سے کیسے پہنچا سکتے ہیں؟ اپنے مخاطب سے گفتگو کرتے وقت بہترین الفاظ اور غیر لفظی اشارات کا بھی انتخاب کیجئے۔ پیغام کے اول و آخر اور اس کے درمیانی حصے کے بارے میں بھی منصوبہ تیار کیجئے ۔ اگر وقت ہو اور جگہ بھی تو سمعی و بصری امدادی سامان بھی تیار کیجئے۔

کب: موزوں وقت بہت اہم پہلو ہے۔ وقت کے موزوں یا غیر موزوں ہونے کا اندازہ قائم کیجئے تاکہ آپ کی باتیں متعلقہ معاملے کے مطابق ہیں یا نہیں۔ ایسا بھی وقت ہوتا ہے جو بولنے کے لئے موزوں اور مناسب ہو اور ایسا بھی وقت ہوتا ہے جب خاموشی بہتر ہوتی ہے۔ یاد رکھئے کہ ’’بے وقت کی راگنی سے خاموشی بہتر ہے‘‘۔

کہاں: آپ جس پیغام کا ابلاغ کرنا چاہتے ہیں وہ کہاں واقع ہو رہا ہے؟ مثال کے طور پر آپ کے پاس  اتنا وقت ہے کہ آپ کمرے میں جا سکیں اور فرنیچر کو دوبارہ ترتیب دے سکیں۔۔ اگر آپ سمعی و بصری امدادی سامان کا استعمال کر رہے ہیں تو وہاں چیزوں کی فراہمی اور کافی روشنی کا بندو بست بھی ضروری ہے۔

کیوں: سننے والوں(Heares) کو سامعین(Listeners) میں بدلنے کے لئے آپ کو یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ آپ کی باتوں کی سماعت کیوں کریں اور اگر ضروری ہو تو یہ بات ان کو بھی بتانا ضروری ہے۔ ایسی کون سی باتیں ہیں جن کو سماعت کرنے کے لئے ان میں آمادگی پیدا ہوسکے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ جو کچھ ابلاغ کرنا  چاہتے ہیں اس کی قدر و قیمت اور اس کی افادیت آپ خود جانتے ہوں۔

آمادگی پیدا ہو سکے؟ اسکا مطلب یہ ہے کہ آپ جو کچھ ابلاغ کرنا چاہتے ہیں اس کی قدر و قیمت اور اس کی افادیت آپ خود جانتے ہوں۔


سر گرمی3

کسی بہترین مقرر کو یاد کیجئے جسے آپ نے سنا ہو۔ وہ مقرر اچھا کیوں تھا اس پر اپنے خیالات قلم بند کیجئے۔


غیر لفظی ابلاغ(Non-verbal communication

غیر لفظی مہارتوں کو کبھی کبھی بصری مہارتیں(Visual skills) بھی کہاجاتا ہے۔ ان سے ان کہی باتوں کا ابلاغ کیاجاتا ہے۔ ترسیل کی تحریری یاٹائپ شدہ شکلوں کے ساتھ یہ بھی ترسیلی عمل کا ایک حصہ بن جاتی ہیں۔

غیر لفظی اشارات میں درج ذیل چیزیں شامل ہیں:

•   جسمانی اشارات(مثلاً دست بستہ ہونا، کھڑے ہونا، بیٹھنا ،پر سکون ہونا، تناؤ میں ہونا(جسمانی حرکات،چہرے کے تاثرات ، آنکھیں ملانا اور جسمانی وضع)

•   مرسل اور وصول کنندہ کے جذبات(مثلاً چلانا،جوش و خروش اور بھڑکانے والے انداز میں بولنا)

•    لوگوں کے درمیان دیگر روابط(مثلاً دوستی،دشمنی،پیشہ ورانہ مسابقین یا اختلافات) عمر کی یکسانیت یا تفاوت، فکری مشابہتیں یا اختلافات،طبیعتوں کا میلان اور توقعات)

3

مخاطبین کے ساتھ غیر مناسب طور پر آنکھیں ملانا

آنکھیں ملانا: آنکھیں ملانا بین شخصی ترسیل کا بہت اہم ذریعہ ہے۔ اس سے ابلا غ کے عمل میں روانی پیدا ہوتی ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ آپ دوسروں سے دلچسپی رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ مخاطب یا مخاطبوں سے آنکھیں ملانے سے متکلم میں اعتبار بڑھتا ہے ۔ جو شخص بات کرتے وقت آنکھیں ملاتا ہے اس سے ابلاغ میں روانی پیدا ہوتی ہے اور دل چسپی ،لگاؤ،گرم جوشی اور اعتبار ظاہر ہوتا ہے۔

چہرے کے تاثرات

مسکراہٹ بہت طاقت ور اور موثر وسیلہ ے۔ مسکراہٹ سے درج ذیل چیزوں کا اظہار ہوتا ہے۔

•   خوشی

•   دوستانہ جذبات

•   گرم جوشی

•   انسیت

•   وابستگی

 اگر آپ اکثر و بیشتر مسکراتے ہیں تو آپ کے بارے میں یہ تصور پیدا ہوگا کہ آپ قابل اعتماد دوست ہیں۔ آپ میں گرم جوشی ہے اور آپ تک رسائی آسان ہے۔ مسکراہٹ اکثر ترغیبی ہوتی ہے یعنی آپ کی گفتگو کا سامع خوش گوار رد عمل ہوتا ہے اورآپ کی باتوں سے زیادہ استفادہ کرتا ہے۔

جسمانی حرکات(  Gestures): اگر بولتےہوتے آپ کے اعضائے جسمانی کے کچھ اشارے ، کچھ حرکات شامل نہ ہو ں تو آپ کی گفتگو بے کیف، بے جان اور غیر دلچسپ ہوگی۔ایک زندہ اور جاندار تدریسی انداز بچوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لیتا ہے اور موضوع کو دل چسپ بنا دیتا ہے اور تفریح کا سامان بھی فراہم کرتا ہے۔ سر سے ہاں کا اشارہ کرنے سے بھی ابلاغ کو تقویت ملتی ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ توجہ سے سن رہے ہیں۔

جسمانی انداز و اطوار: آپ اپنے طرز گفتار ،طرز رفتار اور طرز نشست و برخاست سے بھی بہت سی باتیں کہہ دیتے ہیں۔ سیدھے کھڑا ہونا لیکن اس طرح کھڑے ہونے میں اکڑ کانہ ہونا بلکہ تھوڑا آگے کو جھکا ہونا س بات کا اشارہ ہے کہ آپ قابل رسائی، بات کو سمجھنے اور قبول کرنے والے اور دوست مزاج ہیں۔ اسکے علاوہ جب آپ اور آپ کے مخاطب آمنے سامنے ہوں تو اس سے بین شخصی قربت کا اظہار ہوتا ہے۔ پیٹھ موڑ کر بات کرنے اور بات کرتے وقت فرش یا چھت کو دیکھتے  رہنے سے بچنا چاہئے۔ یہ انداز اختیار کرنے سے عدم دلچسپی کا اظہار ہوتا ہے۔

قربت(Proximity): ثقافتی اصول اس بات کے متقاضی ہوتے ہیں کہ دوسرے لوگوں سے گفتگو کرتے وقت ایک مناسب فاصلہ بر قرار رہے۔ اگر آپ دوسروں کے ذاتی معاملات میں مداخلت کریں گے تو آپ دیکھیں گے کہ وہ بے چین ہو رہے ہیں ۔ اس بے اطمینانی کی کیفیت کا اندازہ آپ مندرہ ذیل باتوں سے لگا سکتے ہیں:

 •   ہلنا جلنا

•   پہلو بدلنا

•   نظریں چرانا

کالج کی بڑی کلاسوں یا بڑے کانفرنس ہالوں یا کسی لکچر روم میں لوگوں کے ذاتی معاملات میں مداخلت کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ عام طور پر ایسے مقامات پر جگہ کشادہ ہوتی ہے ۔ اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے اور سامعین سے رابطے کوبڑھانے کے لئے متکلم کو متحرک رہنا چاہئے۔ قربت میں اضافے سے آپ آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کر سکتے ہیں اور سامعین بھی اپنی بات آپ سے کہہ سکتے ہیں۔

متوازی زبان(Paralinguistic): غیر لفظی ابلاغ کی اس شکل میں چھے  صوتی عناصر(Vocal Elements) یعنی لہجہ(Tone)، لے(Pitch)،آہنگ(Rhythm)، کھنک(Timbre) بلندی(Loudness) اور زیر وبم (Inflection) شامل ہیں۔

اپنی گفتگو کو زیادہ سے زیادہ موثر بنانے کے لئے مختلف موقعوں پر اپنی آواز میں ان چھے عناصر کا حسب ضرورت استعمال کرنا سیکھئے۔ مقررین اور اساتذہ کے بارے میں عام تنقید یہی ہوتی ہے کہ ان کے  لب و لہجے میں یکسانیت ہوتی ہے اور سامعین ان کی باتوں کی بے کیفی سے اکتا جاتے ہیں۔ رسمی تدریس میں تو عام طور پر طلبا کو یہی شکایت رہتی ہے کہ وہ زیادہ نہیں سیکھ پاتے اور ان کی دلچسپی بھی جلد ختم ہو جاتی ہے کیوں کہ انہیں ایسے اساتذہ کو سننا پڑتا ہے جو اپنی آواز میں اتار چڑھاؤ کرنا نہیں جانتے۔


سر گرمی4

صوتی عناصر یعنی لہجہ، آہنگ ، کھنک،بلندی اور زیرو بم کی تعریف کیجئے۔ ان عناصر کو شکل بدل بدل کر اپنی آوازوں میں پیدا کرنے کی مشق کیجئے۔


مزاح(Humour):مزاح کو لوگ عام طور پر نظر انداز کرتے ہیں جب کہ یہ ایک خوش گوار اور پر سکون ماحول پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ کلاس روم میں مزاح کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔ ہنسی سے متکلم اور سامع دونوں کا تناؤ اور دباؤ دور ہوتا ہے۔ ہر شخص کو خود پر ہنسنے کی  اہلیت کو فروغ دینا چاہئے اور سامعین کو بھی اسی طرح سوچنے کے لئے ترغیب دینی چاہئے۔ مزاح سے ایک دوستانہ ماحول پیدا ہوتا ہے جس سے ابلاغ آسان ہو جاتا ہے۔


سر گرمی5

لفظی اور غیر لفظی مہارتوں کو بہتر بنانے کے لئے ایک ویڈیو؍آڈیو ٹیپ پر اپنی گفتگو یا اپنی پیش کش کے ایک حصے کو ریکارڈ کیجئے۔ پھر اپنے کسی ساتھی یا دوست سے کہیے کہ وہ مزید بہتری لانے کے  لئے آپ کو مشورے دے اور کچھ تجاویز پیش کرے۔


آئیے ہم سبق میں سیکھی ہوئی باتوں کا اعادہ کریں

_   ہر فرد کو موثر طور پر ابلاغ کے لئے ضروری ساز و سامان سے آراستہ ہونا چاہئے ۔چاہے یہ ابلاغ شخصی سطح پر ہو یا کام کاج اور نوکری سے متعلق۔

_   ابلاغ کی مہارتیں وہ صلاحیتیں ہیں جن کی مدد سے ہم معلومات کوموثر طور پر بھیجتے بھی ہیں اور وصول بھی کرتے ہیں۔ یہ مہارتیں فطری بھی ہوتی ہیں اور اکتسابی بھی۔

_   ابلاغی مہارتیں ہمارے ان رویوں پر مشتمل ہوتی ہیں جو دوسروں تک معلومات پہنچاتے ہیں۔ ابلاغ کے عمل میں کسی ایک یا زیادہ مہارتوں، سوچنا،بولنا،سننا،پڑھنا،لکھنا،دیکھنا اور جسمانی اشارات کی ضرورت ہوتی ہے:۔


اس اکائی کے دسویں اور آخری باب’’عالمی معاشرے میں زندگی او ر کام کاج‘‘ میں خاندان،سماج(Community) اور عالمی معاشرہ(Global Society) کے ان مختلف مگر با ہم مربوط معاملات کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے جن سے کسی فرد کا سابقہ پڑتا ہے۔


کلیدی اصطلاحات

ترسیلی مہارتیں(Communication Skills)،سوچنا(Thinking)،پڑھنا(Reading)،لکھنا(Writing)،سننا(Listening)، بولنا(Speaking)،غیر لفظی مہارتیں(Non-verbal skills)


•  سوالات برائے نظر ثانی

1۔  ترسیلی مہارتوں کی اہمیت سے بحث کیجئے۔

2۔  ہر ترسیلی مہارت کا نام بتائیے اور اس کی وضاحت کیجئے۔

3۔  ’’غیر لفظی مہارتیں، لفظی مہارتوں کی طرح اہم نہیں ہیں‘‘ اپنی رائے لکھئے۔

4۔  دو ایسے اجنیوں کے درمیان ہونے والی موثر گفتگو تحریر کیجئے جو ٹرین میں ایک دوسرے سے ملے ہوں۔

5۔  آپ کے خیال میں کون سی تین مہارتیں زیادہ اہم ہیں؟ اور کیوں؟


•  عملی کام 7

موثر ترسیلی مہارتیں

موضوع:  ابلاغ کے اسالیب اور مہارتوں کی تفہیم

کام:  خود اپنے ہی ابلاغ کے اسلوب اور مہارتوں کا تجزیہ


پریکٹیکل کا مقصد:  طلبا خود اپنی مہارتوں(یعنی شخصی قوتوں اور خامیوں اور ان پر قابو پانے کی مشق ) کا تجزیہ کر سکیں گے۔

عملی کام کی انجام دہی


•  آپ نے اسی باب میں پڑھا کہ ابلاغی مہارتوں کے یکساں طور پر دو اہم حصے ہیں۔ یعنی ایک لفظی اور دوسرا غیر لفظی۔ اسی لئے ابلاغی مہارتوں کا تجزیہ کرتے وقت ہمیں دونوں حصوں کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔

•  اپنی کلاس کے ساتھیوں کی بات چیت کا مشاہدہ کیجئے اور ان کے جسمانی اشارات،قربت(Proximity) اور متوازی زبان (Paralinguistic) کے طریق کار کا مطالعہ کیجئے۔


مرحلہ1:   پہلے طلبا کو یہ بتائیے کہ وہ جس موضوع پر بولنا چاہتے ہیں اس پر پانچ منٹ اپنے خیالات کو اکٹھا کرلیں۔


مرحلہ 2:   طلبا سے کہیے کہ وہ نام کی ابجدی ترتیب سے یا پھر جس طرح وہ چاہیں ایک ایک کر کے اظہارخیال کریں۔


مرحلہ 3:  اب درج ذیل چیک لسٹ کے مطابق ہر مقرر کے اسلوب کا تجزیہ کیجئے



درجہ بندی بیان خصوصیات
1 2 3
آپ جیسے نو عمر طالب علم کے لییے مناسب  مواد 
سیدھا ،
سیدھا اکڑ کے اتھ 
ہلکا خمیدہ
جسمانی انداز
تواتر ایک طرف سے دوسرے طرف سر کی جنبش آنکھ ملانا
خوشی دوستانہ بات گرم جوشی چہرے کے تاثرات
ہلنا جلنا،پہلو بدلنا قربت
ہ،لے،آہنگ ،کھنک،بلندی متوازی زبان
کل نمبر

مرحلہ 4:   طلبا کے اظہار خیال کے بعد تو ان کے نمبروں کو جوڑیئے اور اس سے مقرر کے باریے میں اپنے ت اثرات کا موازنہ کیجئے۔

مرحلہ :     5 ہر مقرر کے بارے میں نتائج اخذ کیجئے اور ان خصوصیات کی نشاندہی کیجئے جن کے لئے ہر ایک کو اپنی ترسیلی مہارتوں کو بہتر بنانے کے لئے مشق کی ضرورت ہے۔