Skip to content
Insanimaholiatauruloom-I-001


 باب8


 عالمی معاشرے میں گزر بسر اور کام

(Living and working in a global society)

آموزشی مقاصد

اس باب کے مطالعے کے بعد طلبا-

 •   فرد ، خاندان،سماج اور عالمی معاشرے کے درمیان رشتوں کو سمجھ سکیں گے۔


پچھلے ابواب میں آپ نے اپنے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔خود کو سمجھنا دوسروں کوسمجھنے کی پہلی سیڑھی ہے۔ہر شخص ایک معاشرتی ماحول میں رہتا ،سہتا اور پلتا بڑھتا ہے۔ سی لئے کسی بھی فرد کی نشو و نما اور طرز عمل کو سمجھنے کے لئے اس کے نزدیکی ماحول مثلاً اس کے خاندان اور دیگر بڑے معاشرتی و ثقافتی رشتوں ۔ کو سمجھنا ضروری ہے۔

جیسے جیسے فرد بڑاہوتا ہے،اور ترقی کی منزلیں طے کرتا ہے دوسروں کے ساتھ اس کے رشتوں کا بھی ایک جال سا تیار ہوتاجاتا ہے۔ کسی بھی شخص کا سب سے پہلا اور سب سیے قریبی ماحول اس کے اپنے خاندان کا ہوتا ہے۔ بچپن کے دوران تمام سر گرمیوں، مشغلوں اور بین شخصی رشتوں کی تشکیل عام طور پر خاندان کے ماحول یا اسی کے پس منظر میں انجام پاتی ہیں۔جب بچہ بڑا ہو جاتا ہے تو گردو و پیش کی دیگر سماجی ساختوں مثلاً اسکول ،یار دوست اور پڑوسیوں کے ساتھ اس کا تفاعل بڑھ جاتا ہے۔

یہ سارے نظام ایک بڑی تہذیب اور ماحول میں سر گرم رہتے ہیں، جہاں عقیدوں، اصول اور ضابطے ،وسائل اور مواقع اور پابندیوں کا ایک پورا نظام موجود ہوتا ہے۔ روز مرہ زندگی کے تمام پہلو جیسے ، غذا،تغذیہ ،ملبوسات،وسائل،ابلاغ کے طور طریقے،پالیسیاں ، تفاعل اور رشتے وغیرہ خود اپنے معاشرے اور دوسرے معاشروں کے بڑے نظاموں سے متاثر ہوتے ہیں۔ کوئی بھی تبدیلی ، کوئی بھی خوش گوار واقعہ یا کشمکش جو کسی غیر متعلق ماحول میں ہی رونما کیوں نہ ہوتی ہو، اس کا دائرہ گردو و پیش کے تمام سماجی معاملات تک پھیلا ہوتا ہے اور افراد کو بھی متاثر کرتاہے۔ یہ بات عالم کاری(Globalisation) کے موجودہ دور میں خاص طور پر لاگو ہوتی ہے جب ملکوں کے درمیان سرحدیں نرم پڑتی جا رہی ہیں اور وہ جغرافیائی، معاشی، ثقافتی اور سیاسی لحاظ سے با ہم زیادہ سے زیادہ مربوط ہوتے جا رہے ہیں۔ عالمیت تمام دنیا کے لوگوں کے درمیان باہمی رابطوں اور سامان ، خدمات اور سرمایہ اور اطلاعات کے تبادلے میں اضافے پر مشتمل ہے ۔ اگر چہ عالمیت کوئی نئی چیز نہیں ہے لیکن نئی ٹکنا لوجیوں کی آمد او ر خاص طور سے ٹیلی مواصلات کے شعبے میں انقلابی تبدیلیوں کی وجہ سے اس کی رفتار میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ہر معاشرہ دنیا کے دیگر معاشروں میں رونما ہونے والے واقعات اور تبدیلیوں سے تیزی کے ساتھ متاثر ہو رہا ہے۔ مثال کےطور پر 2008 کے امریکی اقتصادی بحران نے ساری دنیا کی معیشتوں کو متاثر کیا اور اس کے اثرات ہندوستان کے بازار،خاندانوں اور لوگوں پر بھی نظرآئے۔ بہت سے لوگوں کو شیئر بازار کی سرمایہ کاری میں نقصان ہوا تو بہت سوں کی نوکریوں پر بن آئی اور اسی بنا پر انہیں اپنے معیار زندگیکے ساتھ ابھی واضح طور پر سمجھوتہ کرنا پڑا۔ فیشن کے رجحانات بھی اس کی ایک اور مثال ہیں۔ آج کل ایک تیزی سے بڑھتا ہوا رجحان یہ ہے کہ لوگ اپنے ملبوسات میں بین الاقوامی طور طریقوں یا فیشنوں کو اپنا رہے ہیں۔ دنیا کے تمام نوجوانوں اور ہندوستان کے دیہی و شہری نوجوانوں کے ملبوسات کے طرزوں میں یکسانیت خاصی نمایاں ہے۔ ہماری روز مرہ کی زندگی ہمارے خاندان، اسکول اور پڑوس سے ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر رونما ہونے والے واقعات سے متاثر ہوتی ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہم ایسے مجہول لوگ نہیں ہیں جو ہر نئی چیز کا اثر قبول کر لیں۔ہر شخص ہوش مند بھی ہے اور فعال بھی اور وہ اپنی مخصوص شخصیت اور تہذ  یبی حیثیت کے مطابق ہی بیرونی اثرات قبول کرتاہے۔ اس سلسلے میں مغربی فیشن سے مطابقت پیدا کرنے کی ایک مثال جینس کے ساتھ ٹی شرٹ کے بجائے کرتے کے ساتھ جینس کا استعمال کرنے کی ہے۔ اس کے علاوہ،ہر فرد اس ماحولیاتی پس منظر یا ان لوگوں کو بھی متاثر کرتا ہے جن کے  ساتھ وہ ربط میں آتا ہے۔ اسکی ایک دلچسپ مثال یہ ہو سکتی ہے کہ نو بالغ یا چھوٹے لڑکے لڑکیاں عموماً گاڑی کے نئے ماڈل یا رنگ جیسے معاملات میں اپنے والدین کی پسند پر اثر انداز ہوتے ہیں یا اسی طرح چھٹیوں کے دوران کہاں جانا ہے یہ بھی بچوں  کی پسند پر منحصر ہوتا ہے۔ اس طرح اثر پذیری کا یہ عمل دو طرفہ ہوتا ہے ۔ خود اپنے گھر کو دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ آپ اپنے والدین سے متاثر ہوتے ہیں مگر بعض معاملوں میں والدین بھی آپ کا اثر قبول کرتے ہیں۔


سرگرمی1

آپ اپنے گھر سے متعلق دو سے لے کر پانچ تک ایسی مثالیں لکھئے جن میں آپ نے والدین یا دیگر افراد خانہ کے فیصلے کو متاثر کیا ہو۔


 افراد اور ان کے سماجی پس منظر بہت متحرک ہوتے ہیں۔اپنی پوری زندگی کے دوران ، فرد حالات اور تغیرات کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے اور ساتھ ہی ستھ گردو پیش کے حالات بھی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ موجودہ زمانے میں تغیرات کی رفتار اتنی تیز ہے کہ اب نسلی تفاوت(Generation gap) نہ صرف دو نسلوں یعنی اولاد اور والدین کے درمیان یا داد ا؍دادی اور پوتوں؍ پوتیوں کے درمیان ہی نہیں بلکہ چھوٹے اور بڑے بچوں کے درمیان بھی رونما ہو سکتا ہے۔ اب سے چند سال پہلے جو انداز فکر اور طریق کار قابل قبول تھا اب تبدیل ہو چکا ہے ۔ آپ میں سے جن کے بڑے یا چھوٹے بھائی بہن ہیں ایسی صورت حال سے ضرور گزرے ہوں گیے جب آپ سب میں کسی بات پر بحث ہوئی ہوگی اس جذبے کے ساتھ سب لوگ جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں وہی صحیح ہے۔  اس دوران آپ نے اپنے بھائی بہنوں سیے ایسے جملے ضرور کہے ہوں’’جب میں تمہاری عمر کا تھا۔۔۔‘‘

اس طرح افراد اور گردو پیش کے حالات کے درمیان گہرا تعلق ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ اسی بات کا اعادہ ہے جس کو آپ تعارفی باب میں پڑھ چکے ہیں کہ افراد کااپنے ماحول سے قریبی رشتہ ہوتا ہے ۔ ہر شخص کی زندگی بہت سی ماحولی ساختوں جیسے خاندان، پڑوس،برادری(Community) سماج سے متاثر ہوتی ہے-یہ ماحولی ساختیں مقامی بھی ہو سکتی ہیں اور عالمی بھی۔ اکائی IIمیں ہم اپنے آپ کو سمجھنے سے آگے بڑھ کر خاندان،اسکول،برادری او ر سماج کے پس منظر کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔


کلیدی اصطلاحات

عالم کاری(Globalisation)،دو طرفہ راستہ (Bi-directional-ways)، ثقافت،تہذیب(Culture)، مطابقت پذیری(Adaptation)،سیاق(Context)




سوالات برائے نظرثانی

1۔  عالم کاری کیا ہے؟اپنی روز مرہ زندگی سے کچھ ایسی دل چسپیاں اور ایسے کاموں کا انتخاب کیجئے جن پر عالمی رجحانات یا واقعات اکا اثر پڑا ہو۔

2۔  ان طریقوں سے بحث کیجئے جن کے بارے میں آپ خیال کرتے ہیں کہ اپنے والدین کو متاثر کیا ہے؟

3۔  خود اپنے خاندان کے بارے میں سوچئے اور ایسی دو مثالوں کی نشاندہی کیجئے جن میں آپ نے اپنے اور اپنے والدین کے  درمیان نسلی تفاوت کا احساس کیا ہو؟