Skip to content
Insanimaholiatauruloom-I-001

                 

اکائی II

خاندان ،برادری اورسماج کی تفہیم

(Understanding Family,Community and Society)


پہلی اکائی کے ابواب ’خودفہمی‘ان عوامل سے متعلق تھے جوآپ کی فیصلہ سازی کی صلاحیت پراثراندا ہوتے ہیں۔اب ہم

خاندان،برادری اور سماج کی تفہیم کی طرف بڑھتے ہیں جن کا خود آپ ایک حصہ ہیں۔اس اکائی کے پہلے سیکشن (بابIX)

میں ’بڑوں‘کے ساتھ آپ کے رشتوں اورتعلق پرتوجہ دی جائے گی ۔یہاں ’بڑوں‘سے مراد وہ اہم لوگ ہیں جن کا تعلق آپ کے خاندان سے ہے ۔دوسرے سیکشن (بابX)میں نوبالغوں کے مختلف معاشرتی مسائل اورضروریات مثلاًصحت،کام،وسائل

تعلیم اورملبوسات کے رواج پرگفتگوہوگی۔


 باب - 9  

’دیگر اہم لوگوں ‘کے ساتھ رشتے اورروابط

(Relationship and Interaction with significant others)

:Aخاندان(Family)


آموزشی مقاصد 

اس باب کے مکمل ہوجانے کے بعدطلباء:

•   خاندان کی تعریف اورا س کا مفہوم سمجھیں گے ۔

•   خاندان اور اس کے کاموں کی اہمیت کوبیان کرسکیں گے۔

•   فرد کی مکمل نشونما میں خاندان کے تعاون کو بیان کرسکیں گے۔

•   خاندانی زندگی کے دور (Family Life Cycle)کے بارے میں معلومات حاصل کرسکیں گے ۔

•   خاندان کی حرکیات (Dynamics)کا تجزیہ کرسکیں گے ۔

•   خاندان میں موثر ابلاغ کی اہمیت کوسمجھ سکیں گے۔


خاندان کی اہمیت(Importance of Family)

یہاں دی گئی تصویر وں میں گھر کے اند ر بچوں کے کچھ مناظر دکھائے گئے ہیں۔آپ دیکھ سکتے ہیں کہ گھر کے بڑے اورکچھ دیگر لوگ ان بچوں کی دیکھ بھا ل میں لگے ہیں۔بعض تصویروں میں صرف ماں یاباپ اوربچے نظر آرہے ہیں۔ا ن سب کے درمیان رشتے یاتوخون کے ہیں یاشادی یاگودلئے جانے کے ذریعے قائم ہوئے ہیں۔ان کے سماجی،اقتصادی اورثقافتی فرق سے قطع نظر،ان تمام صورتوںمیں یہ بات بہرحال مشترک ہے کہ کم از کم دویازیادہ نسلوں کے لوگ ایک ساتھ رہ رہے ہیں۔یعنی ماں اوربچے،دادی دادااوربچے،والدین اورغیرشادی شدہ بالغ بچے۔یہ سب خون یاشادی کے رشتے سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔اس سے مختلف صورت دوبالغ افراد کی ہے جومیاں بیوی ہیں اورایک ہی نسل کے ہیں  وہ ایک نئے کنبے کی تشکیل کرتے ہیں۔

2

 9 A-1   تعارف (Intrudction)

آپ اورآپ کی جماعت کے سبھی ساتھی اپنے اپنے خاندان کے ساتھ رہتے ہیں۔خاندان معاشرے کی بنیاد ی اکائی ہے ۔بچے ہوں یابڑے،سبھی لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے کیلئے خاندانوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔معاشرے کی ثقافت کوجاری اوربرقراررکھنے کیلئے بھی خاندان ضروری ہے ۔بچے کی دیکھ بھال اورا سکی پرورش میں خاندان کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے ۔اسی لئے بچے کی شخصیت کی مکمل نشونمامیں خاندان کی حیثیت کلیدی ہوتی ہے۔پچھلے ابواب میں آپ مطالعہ کرچکے ہیں کہ بچے کی جسمانی صحت وسلامتی میں مناسب تغذیہ اوردیگر امور کی کتنی اہمیت ہے۔اسی طرح ،معاشرے کے ایک حساس اورسودمند فردکی حیثیت سے بچے کی نشوونماکیلئے ضروری ہے کہ اس کے سماجی اورجذباتی تجربات مثبت ہوں اوراس میں رشتوں اوروابستگی کاصحیح احساس موجودہو۔خاندان بچوں کی پرورش اورنگہ داشت کے ذریعے ایسے تمام تجربات حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔آپ اپنی زندگی کے بعض ایسے موقعوں کویادکیجئے جب آپ کی طبیعت خراب ہوئی ہو۔اس وقت آپ کے ماں باپ نے کس طرح آپ کی دیکھ  بھال کی تھی ؟یاان موقعوں کویادکیجئے جب آپ کسی بات پرناخوش یاپریشان رہے ہوںاورگھر کے سب لوگوں نے آپ کوخوش کرنے کی کوشش کی ہو۔ہرشخص کی زندگی میں ایسی بہت سی مثالیں مل جائیں گی جب ماں باپ،بہن بھائیوں یاخاندان کے دیگر افرادنے اسے تسلی دی ہوگی اورحوصلہ افزائی بھی کی ہوگی۔اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ خاندان نہ صرف پرورش اورنگہ داشت کرتے ہیں بلکہ وہ ضرورت کے وقت فرد کی زندگی میں استحکام بھی پیدا کرتے ہیں اورمددبھی کرتے ہیں۔ہر بچے کا حق ہے کہ وہ خاندان میں پرورش پائے۔

سب بچے اتنے خوش قسمت نہیں ہوتے کہ ان کوایسا خاندان مل جائے جس میں ایک ہی چھت کے نیچے ماں اور باپ دونوں کا سایہ میسرہو۔آپ کے پڑوس میں ہی ایسے بچے ہوسکتے ہیں جن کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک دنیاسے گزرچکاہو۔ایسی صورت میں صرف ماں یاصرف باپ کوماں اورباپ دونوں کے فرائض انجام دینے ہوتے ہیں اورانہیں کبھی کبھی چچی یادادی وغیرہ کی مددبھی حاصل ہوجاتی ہے ہم ا س بات سے بھی واقف ہیں کہ کبھی کبھی ماں اور باپ کسی وجہ سے ایک ساتھ نہیں رہ پاتے اوران کوالگ ہوناپڑتا ہے۔ایسے میں ماں باپ میں سے کوئی ایک ہی بچے کی دیکھ بھال کے فرائض انجام دیتا ہے ۔

جہاں تک ممکن ہوبچوں کو ان کے خاندانوں سے جدانہیں کیا جاناچاہئے ۔آپ ذرا ان بچوں کے بارے میں سوچیے جوکسی سیلاب یازلزلے جیسی آفات کی وجہ سے خاندان کی وجہ سے محروم ہوگئے ہیں۔وہ ایک خاندان میں زندگی گزارنے کا تجربہ کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟ایسی صورتوں میں یاتولوگ بچوں کوگودلے لیتے ہیں یاپھرکچھ ادارے ان کی پرورش کی ذمہ داری قبول کرلیتے ہیں۔ایسے بچوں کی دیکھ بھال حکومت کی ذمہ داری ہے ۔

آپ نے ایسے چھوٹے بچوں یا نوبالغوں کودیکھاہوگا جوبے گھر نظرآتے ہیں۔ان میں سے کچھ بچے وہ ہوتے ہیں جوروٹی روزی کی تلاش میں خود اپنا گھر یابچوں سے متعلق اداروںکوچھوڑدیتے ہیں۔کچھ ایسے بھی بچے ہوتے ہیں جن کے خاندان ہی ان کوچھوڑدیتے ہیں۔یا پھروہ گم ہوگئے ہوتے ہیں۔ایسے بچوں کو’بے گھربچے‘(Street children)کہاجاتاہے ۔ا ن کے ساتھ رہنے والے دیگران ہی جیسے بچے ان کے خاندان کے افرادکی طرح ہوجاتے ہیں۔کبھی کبھی یہ بچے اپنے گھر واپس بھی چلے جاتے ہیں۔

ہم’ خاندان‘کی تعریف ان الفاظ میں بیان کرسکتے ہیں کہ ’’یہ شادی،خون یاگودلئے جانے کے رشتوں سے تشکیل پانے والاایک ایسا گروپ ہے جس کے افراد ایک گھر کی شکل میں رہتے ہیں،اورجوشوہربیوی اورماں باپ،بیٹابیٹی اوربھائی بہن وغیرہ کے اپنے اپنے سماجی کرداروں کی حیثیت سے ایک دوسرے کے ساتھ تفاعل کرتے ہیں اورایک مشترکہ کلچر کی تشکیل کرتے ہیں‘‘

امتحان کیلئے فارم بھرتے وقت آپ کوخاندان کے سربراہ کانام بھی لکھنا ہوتاہے ۔آپ نے کس کا نام لکھا ہے؟خوداپنے نام پر غورکیجیے۔نام کا پہلاحصہ توآپ کے والدین نے رکھا ہے لیکن اکثرنام کادوسراحصہ آپ کاخاندانی نا م ہوتاہے جسے انگریزی میں(Surname)کہاجاتا ہے اورجوخاندان کے سبھی افراد میں مشترک ہوتاہے۔یہ نام اکثرباپ کا خاندانی نام ہوتاہے ۔شمال مشرق اورجنوب میں،دوسرانام،ماں کے خاندان کاہوتاہے۔جن خاندانوںمیں شناخت کیلئے باپ کانام چلتاہے ان کو’پدرنسبی‘                         (Patrilineal) اورجن خاندانوںمیں ماں کانام چلتاہے انہیں مادرنسبی(Matrilineal)کہاجاتاہے۔پدرنسبی خاندانوںمیں باپ کوفوقیت حاصل ہوتی ہے اورمادرنسبی خاندانوںمیں ماں کو۔زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وراثت کے قوانین بھی اسی اصول کے تحت ہوتے ہیں۔

پدر نسبی خاندان کے باپ کے مکان یاآبائی مکان میں رہنے کوپدری رہائش اورمادرنسبی خاندان کے اپنی ماں کے آبائی گھر میں رہنے کو مادری رہائش کہاجاتاہے۔

ایک ساتھ رہنے کی بنیادپرہی یہ فرق قائم کیا جاسکتا ہے کہ خاندان وحدانی (Nuclear)ہے یاتوسیعی(Extended)۔

اگرآپ اپنے والدین اوربہن بھائیوں کے ساتھ رہتے ہیں توآپ کاخاندان وحدانی (Nuclear)کہلائے گا ۔آپ میں سے کچھ ایسے بھی ہوں گے جن کے گھر میں دادا،دادی اورنانانانی یاچچاچچی وغیرہ بھی رہتے ہوں گے۔ایسے خاندان توسیعی خاندان (Extended Families)کہلاتے ہیں۔مشترکہ خاندان(Joint Family)وہ ہوتاہے جس میں افرادخانہ کی کئی نسلیں ایک ساتھ رہتی ہوں۔خاص طورپر ایک ایسا گھرانہ جس میں میاں بیوی کے ساتھ ان کے شادی شدہ بچوں (عام طورپراولاد)اورغیرشادی شدہ بچوں کے ساتھ ساتھ ان بچوں کے بچے بھی رہتے ہوں ۔یہ گھرانہ بہت بڑا ہوسکتا ہے اوراس کے افراد کسی ایک ہی پیشے سے جڑے بھی ہوسکتے ہیں۔جن خاندانوں میں والدین کے علاوہ دیگر بالغ افرادبھی ہوتے ہیںان کے کام اوران کی ذمہ داریاں ،خاص طورپر بچوں کی پرورش کے معاملے میں،مشترک ہوتی ہیں۔وحدانی خاندانوں میں بچوں کی نگہ داشت اورپرورش صرف والدین ہی کے ذمے ہوتی ہے۔کچھ خاندانوں میں آپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ دادادادی یادیگر افراد ساتھ نہیں رہتے اورکبھی کبھی ملنے آجاتے ہیں۔کبھی کبھی جب ماں اورباپ دونوں کوکام پرجاناہوتاہے تووہ اپنے بچوںکوکسی قریبی عزیز کے یہاں چھوڑ دیتے ہیں۔اس طرح ایک وحدانی خاندان میں رہنے والے بچوں کوبھی دیگر لوگوں کے ساتھ بات چیت یاان کے ساتھ تفاعل کا موقع ملتاہے۔بڑے خاندان میں رہنے کے فوائد بھی ہیں اورنقصانات بھی ۔لیکن افراد خانہ کی سلامتی خود ان پر منحصر ہوتی ہے۔

 9A -2   خاندان کے کام  (Functions of Family)

  خاندان کی ساخت اوراس کے افراد کی تعداد کچھ بھی ہواوروہ خاندان کہیں بھی آبادہولیکن اسے اپنے افرادخصوصاً بچوں کیلئے بعض اہم ذمہ داریاں اداکرنی ہوتی ہیں جودرج ذیل ہیں۔

1-   پرورش اورنشوونما:تمام خاندان مردوں اورعورتوں کوایک ساتھ رہنے اورتولیدی عمل انجام دینے کے جائز مواقع فراہم کرتے ہیں اوراس طرح نسل انسانی کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔آپ اپنے بچپن کا زمانہ یادکیجئے تومعلوم ہوگا کہ تمام خاندان اپنے بچوں کی پرورش کرتے ہیں اوران کی ضرورتوں کا خیال رکھتے ہیں۔شفقت اورمحبت کے ساتھ بچوں کی جذباتی ضرورتوں کی تکمیل کرنے سے ان میں وابستگی کا احساس پیداہوتا ہے ۔عمر بڑھنے کے ساتھ ہماری چاہے جانے کی خواہش میں کمی نہیں آتی ۔وابستگی اورجذباتی تعلق کی ضرورت ہر عمر میں رہتی ہے ،حالانکہ ا سکے اظہار کی شکلیں مختلف ہوسکتی ہیں ۔ایک نوبالغ لڑکا جس کے اندر جسمانی تبدیلیاں رونما ہونے لگی ہوں اورجس کے اندر خود مختاری کا احساس بھی جاگ گیا ہو،لگتا یہ ہے کہ اس کودیکھ ریکھ اورپرورش کی ضرورت نہیں رہی ہے،لیکن وہ اس خاندان کی محبت بھری حمایت کاہمیشہ ہی محتاج رہتاہے ۔نانی یادادی اپنے پوتے پوتیوں کے گھر آنے کی شدت سے منتظر رہتی ہے تاکہ و ہ ان کے ساتھ بات چیت کرکے یاان کے کام کاج انجام دے کراپنے آپ کومصروف رکھ سکیں۔اسطرح ہم دیکھتے ہیں کہ خاندان ہرعمر کے افراد کومختلف حالات اورمختلف مواقع پرمحبت،ہمدردی اورحمایت فراہم کرتاہے۔

2-   سماجی ربط کاری (Socialisation):روز مرہ کی گفتگو اوربچوں کے ساتھ تفاعل کے ذریعے چھوٹے بچوں کومعاشرتی آداب اورطورطریقے سکھانے کا عمل ہے ۔خاندان اس سماجی رابطہ کا ری کے ذریعے سماجی تسلسل اورتبدیلی کے درمیان تعلق قائم رکھنے کااہم کام انجام دیتاہے ۔خاندان میں رہ کرپیدا ہونے والا’’ہم‘‘کااحساس ،جذبات اوررویوں کی ترسیل میں بہت مفید ہوتا ہے۔آپ نے اپنی ماں یاباپ کوکتنی بار یہ کہتے سنا ہوگا کہ’’نہیں ،تم ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ ہمارے خاندان میں ایسا نہیں ہوتا ‘‘یا’’ہمارے خاندان میں بچے پڑھائی میں بہت محنت کرتے ہیں۔‘‘خاندان جن اقدار کوچھوٹے بچوں میں منتقل کرتا ہے وہ اکثر سماج کے عام ماحول سے حاصل کی جاتی ہیں۔ اگرچہ بہت سی چیزیں مشترک ہوتی ہیں مگرہر خاندان ان کواپنے اپنے طریقے سے اختیار کرتاہے۔  

سرگرمی 1 

خاندان کے لڑکے لڑکیوں کیلئے پسندیدہ اورناپسندیدہ باتوں کی ایک فہرست تیارکیجئے۔ان باتوں پرکلاس میں بحث کیجئے اوردیگر خاندانوں کے بچوں کے ساتھ ان کا موازنہ کیجئے ۔اس سے آپ کویہ سمجھنے میں مددملے گی کہ اگرچہ خاندانوں میں مشابہتیں ہوتی ہیں لیکن ہرخاندان کے افراد اپنے خاص تجربات سے بھی دوچار ہوتے ہیں۔


3-  افراد خانہ کی حیثیت اورکردار کا تعین کرنا:کیا آپ کومعلوم ہے کہ آپ کی صنف سے قطع نظر ،اسکول میں آپ کی حیثیت ایک طالبعلم کی ہے ،جبکہ گھر میں آپ کی حیثیت مختلف ہوتی ہے اوریہ حیثیت ہرخاندان میں الگ الگ ہوتی ہے ۔کوئی نابالغ لڑکا ایک بیٹا ،ایک بھائی اورایک برادرنسبتی ہوسکتا ہے ۔ان میں سے ہرکردار کی الگ الگ ذمہ داریاں اورخصوصیات ہیں جوسماجی طورپر طے شدہ ہیں۔ان سے افراد کی زندگی میں استحکام اورایک تیقن کی صورت پیداہوتی ہے کیونکہ ان کی وجہ سے روز مرہ کی ذمہ داریوں کوانجام دینا آسان ہوجاتا ہے۔

سرگرمی 2

  ’’روایات جدید زمانے کی زندگی میں روکاوٹ ہیں‘‘اس موضوع پر کلاس میں مباحثہ کیجئے ۔

      کلاس میں روایات کے مثبت اورمنفی پہلوؤں کی روشنی میں نتائج اخذ کیجئے۔


4- اقتصادی معاملات:تمام دنیا میں،والدین خاندان کی پرورش کیلئے معاش حاصل کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔خاندان اپنے بچوں ،اوران کے علاوہ بالغوں ،بوڑھوں اوران معذور بچوں بوڑھوں کی کفالت کابندوبست کرتے ہیں جن کافی الحال کوئی ذریعہ معاش نہ ہو۔خاندان اوربرادری کے اندر اورباہرخود آپ کا تجربہ اس بات کی تصدیق کیلئے کافی ہوگا۔خاندان معاشرے کی ایک بنیادی اکائی ہے۔ برادری اورمعاشرے کے ساتھ تعلقات اوران کی برقراری اسی کے دائرہ کا رمیں آتی ہے۔اس طرح رشتے دار وں ،دوستوں،معاشرے اورملک کے ساتھ تعلقات برقراررکھنے کیلئے وسائل فراہم کرنا بھی خاندان کے دائرہ کارمیں آتاہے۔مثال کے طورپرہمیں مختلف اداروں جیسے پنچایت یادیگر فلاحی تنظیموں کی بھی مددکرنی پڑتی ہے،شادیوں اورجنم دنوں پرتحائف دینے ہوتے ہیں اورسماجی کاموں میں شرکت کیلئے بھی وقت نکالنا پڑتا ہے ۔یہ سب ایک بڑے سماج میں خاندان کی سرگرم حصے داری کی ہی مثالیں ہیں۔


سرگرمی 3

اپنے والدین سے گفتگو کرکے رشتے داروں یادوستوں کودئے گئے تحفوں پرہونے والے خرچ کے بارے میں لکھئے ۔تحفوں کے انتخاب اورخرچ کی گئی رقم کے بارے میں بتایئے اوراس موضوع پرآپ کے والدین کا کوئی خاص تبصرہ ہوتو وہ بھی لکھئے۔


5- نفسیاتی مددکی ضرورت پوری کرنا :گھر کے لوگ روزانہ کہیں نہ کہیں جاتے ہیں مثلاًبچے اسکول جاتے ہیں اورماں باپ کام کی جگہ پرجاتے ہیں لیکن شام کوانہیں اپنے گھر کی مانوس فضامیں واپسی پرخوش گواری کا احساس ہوتا ہے ۔غذا ،کپڑے اورمکان کی بنیادی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ، ہرشخص کواپنائیت کے سلوک ،قبول کئے جانے اورمحبت کی ضرورت ہوتی ہے ۔تحفظ کایہ احساس کسی بھی فر د کی ہمہ جہت اورمثبت نشوونما کیلئے بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔گھر میں مثبت ماحول کی کمی کسی بھی عمر میں کسی بھی شخص کے ذہنی دباؤ کی وجہ ہوسکتی ہے ۔

اس طرح گھر کے سبھی افراد کیلئے خوش آہنگ رشتوں اوردیگر افراد کے تعاون کویقینی بنانابھی خاندان کی اہم ذمہ داریوں میں ہے ۔خاندان کے سبھی افراد سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے محبت سے پیش آئیں گے ۔اس سے ہم یہ بھی سیکھتے ہیں کہ دوسروں کی محبت کاجواب محبت سے دیں۔ہم دوسروں کے ساتھ محبت کریں گے تودوسرے بھی ہم سے محبت کریں گے ۔محبت کالین دین ہی آئندہ رونما ہونے والے واقعات اورحالات کی بنیادپرہوناچاہئے ۔بیشتر معاملے باہمی محبت کیلئے پوری طرح خاندان پرمنحصر ہوتے ہیں۔

3

یہاں اس بات کا اعادہ ضروری ہے کہ چندبے گھر بچوں کواپنے گھر کے لوگوں سے سماجی اورنفسیاتی مدد نہیں مل پاتی ۔وہ ایسی صورتوں میں نفسیاتی مدداپنے دوستوں اورساتھیوں سے حاصل کرتے ہیں۔بہت سے بچے جنہیں چھوڑ دیاجاتا ہے یاجویتیم ہوجاتے ہیں انہیں بچوں سے متعلق مراکز جیسے’بچوں کاگھر‘میں جگہ مل جاتی ہے جنہیں حکومت یاغیرسرکاری تنظیمیں چلاتی ہیں ۔ایسے تمام بچوں کا حق ہے کہ انہیں نگہ داشت اورتعلیم حاصل ہو۔

6 -  خاندان کے کچھ اورکام:خاندان کچھ اورکام بھی انجام دیتے ہیں جوتفریحی ،مذہبی اورسماجی نوعیت کے ہوسکتے ہیں۔یہ کام معاشرے کی بقاکیلئے بہت اہم ہوتے ہیں۔

4

گھرکے لوگ عام طورپر یوم پیدائش ،مذہبی تقریبات اوردیگر مواقع پر دوسرے گھروں یاددوستوں کے یہاں بھی جاتے رہتے ہیں۔    

خاندان کا ایک اوراہم کام یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ بچوں کومعاشرے کی ذمہ داریاں انجام دینے کیلئے معاشرتی آداب سکھاتے ہیں۔خاندان معاشرتی اقدار (Civic values)کی تعلیم گاہ بھی ہوتا ہے ۔یادکیجئے کہ بچپن میں آپ اپنے کلاس کے کسی بچے کی پنسل یاربر غلطی سے لے آئے تھے اورآپ کواسے واپس کرنے کیلئے کہا گیا تھا۔اس طرح آپ کوچیزوں کے حق ملکیت کے بارے میں بتایاگیا تھا۔ اسی طرح آپ اپنے بچپن کی باتیں یادکریں توآپ کوبہت سے ایسے واقعات یادآجائیں گے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ خاندان کس طرح محبت ،تعاون ،قوت برداشت،قربانی اورفرمانبرداری جیسی خوبیاں پیدا کرنے کے مواقع فراہم کرتے تھے ۔یہ خوبیاں انسان کوایک صحتمند اورسود مند شہری بننے میں مددگا رہوتی ہیں۔ 

9A.3   خاندانی زندگی کا دور (Family Life Cycle)

سگونااپنی بڑی بہن کی شادی میں گئی تھی ۔وہ واپس آئی تو اس نے اپنی ماں سے پوچھا’’کیا سدھادی دی اورجیجاجی کوایک خاندان کاحصہ کہاجاسکتاہے یا وہ صرف ایک شادی شدہ جوڑا ہیں؟‘‘ماں نے کچھ دیر سوچا اورپھر کہا ’’دیکھو سگونا،سدھا اوراس کا شوہر ابھی ایک شادی شدہ جوڑا ہیں کہ کیونکہ وہ ابھی خاندان کا حصہ بننے کے ابتدائی مرحلے میں ہیں‘‘۔یہاں آپ خاندانی زندگی کے دور ان کے مراحل کے بارے میں غورکررہے ہیں؟اپنے اطراف کے ماحول پر ایک نظر ڈالیے تومعلوم ہوجائے گا کہ خاندانوں کی تشکیل کے مختلف مرحلے ہوتے ہیں۔ہم سدھا اوراس کے شوہر کی مثال ہی لیتے ہیں۔جلد ہی ان کے بچے ہوجائیں گے ،پھر بچے جوان ہوں گے اوران بچوں کے بھی اپنے کنبے ہوں گے ۔سدھااوراس کا شوہر بوڑھے ہوجائیں گے توگھر میں بس ایک میاں بیوی بن کے رہ جائیں گے ۔اس طرح خاندانی زندگی کا ایک پورا دورہوتا ہے جسے ’خاندانی زندگی کادور‘کہاجاتاہے ۔نیچے دیے گئے خانے میں آپ خاندانی زندگی کے دور کے مختلف مراحل کا مطالعہ کریں گے ۔مرحلے کے اپنے چیلنج اورکام ہیں جنہیں انجام دینا ہوتا ہے ۔یہ سارے کام خاندانی زندگی کے ہرمرحلے پر افراد خانہ کیلئے مفید ہوتے ہیں۔


خاندانی زندگی کا دور خاندانی زندگی کا ایک وسیع تصور پیش کرتا ہے ۔یہ دور خاندانی زندگی کے متواتر مرحلوں اوررویوں کی شناخت پرمبنی ہوتا ہے جوسالوں میں رونما ہوتا ہے ۔


وحدانی خاندان کے مختلف مراحل

خاندانی زندگی کا دور عام طو رپر سات مرحلو ں پرمشتمل ہوتا ہے جوحسب ذیل ہیں۔

1۔   شادی شدہ جوڑا (بچوں کے بغیر)

2۔   nبچوں کی پرورش کرنے والاخاندان

3۔    پری اسکول عمر سے چھوٹے بچوں والاخاندان

4۔   اسکول جانے والااورنوبالغ بچوں والاخاندان   

5۔   وہ خاندان جہاں نوجوان بالغ افراد اعلی تعلیم کام کیلئے تیارہوں

6۔   ادھیڑ عمر کے والدین جس کے بچے بالغ یا شادی کے لائق ہوں

7۔   عمر رسیدہ اورفارغ البال جوڑا۔


9 -4  خاندان کی ترقیاتی ذمہ داریاں

(Family Developmental Tasks)

جناب کمار اپنی بیگم کے ساتھ جناب روی کے پڑوس میں رہتے ہیں۔ان کا ایک نومولود بچہ ہے اوران کی ایک بڑی بیٹی اسکول جاتی ہے ۔پٹیل خاندان اوپر کی منزل میں رہتا ہے ۔ان کے بچے اسکول جاتے ہیں اوروہ اپنے بچوں کے نمبروں کے بارے میں ہمیشہ ہی فکر مند رہتے ہیں۔روی کے گھر جونوکرانی کام کرنے آتی ہے وہ بھی بڑی فکر مند رہتی ہے کیونکہ اس کی لڑکی آگے پڑھنا چاہتی ہے مگر ا سکے پاس ا سکے لئے پیسے نہیں ہیں۔ان ساری باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین خاندان کیلئے مختلف کام انجام دیتے ہیں۔والدین کے کاموںمیں جوتنوع ہے ا س کا انحصار بچوں کے عمروں سے ہے ۔اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ خاندان کی ترقی کے کام ان ذمہ داریوں پر مشتمل ہیں جن کا تعلق افراد خانہ کی ضروریات سے ہے ۔

سرگرمی 4

آپ کا خاندان جس مرحلے میں ہے اس سے متعلق خاندان کی ترقیاتی ذمہ داریوں کا بیان کیجئے اوربتائیے کہ آپ کے والدین ان ذمہ داریوں کوکس طرح اداکرتے ہیں۔خاندان کی ساخت ،بچوں کی تعداد اوربڑوں کی تعداد کی وجہ سے ذمہ داریوں کی ادائیگی میں آنے والے فرق کے بارے میں اپنی کلاس میں گفتگو کیجیے۔ 


 9A-5  خاندان کی حرکیات(Family Dynamics)

افرادخاندان ایک دوسرے کے ساتھ تعلق رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کوانجام دیتے ہیں۔ہرخاندان میں اس باہمی تعلق کی صورتیں مختلف ہوتی ہیں۔باہمی تعلق کے انہیں طورطریقوں کوخاندان کی حرکیات کہاجاتا ہے ۔یہ مختلف عوامل مثلاًخاندان کی ساخت ۔یعنی خاندان میں بچوں اوربالغ افراد کی تعداد اورایک دوسرے کے ساتھ ان کے رشتے ۔افراد خانہ کی شخصیتیں ،ثقافتی پس منظر،اقداراورشخصی وخاندانی تجربات وغیرہ سے متاثر ہوتے ہیں۔

والدین کے ساتھ ہم رشتگی اورخاندانی امور کی تفہیم خاندان کی اہم ترین سرگرمیوں میں شامل ہے۔بچوں کی شخصیت اوران کی آئندہ زندگی پروالدین کا زبردست اثرپڑتا ہے ۔جب والدین اورنوبالغوں کے درمیان مثبت باہمی تفہیم پر مبنی خوش گوارتعلق ہوتا ہے تو ایک خوش وخرم اورکامیاب خاندانی زندگی کی بنیادپڑتی ہے ۔اس قسم کی تفہیم کیلئے ضروری ہے کہ تمام افراد ایک دوسرے کا ادب کریں اورا ن کی قدروقیمت سے آگاہ ہوں۔

سرگرمی 5                                                         

•   ہم اپنے ماں اورباپ کے بارے میں کیا کچھ جانتے ہیں؟   

•   آپ کی والدہ کا پورا نام کیا ہے ؟

•   آپ کی والدہ کی جائے پیدائش کیاہے ؟

•   آپ کے والد کا پورا نام کیا ہے ؟

•   آپ کے نام کا آخری حصہ کس کے نام پر ہے ؟

•   آپ کی والدہ کے بچپن کا بیشتر حصہ کہاںگزرا؟

•   آپ کی والدہ کی تعلیم کہاں تک ہے ؟

•    آپ کے والدکی تعلیم کہاں تک ہے ؟

•    آپ کی والدہ کس بات سے خوش ہوتی ہیں؟

•   آپ کے والد کس بات سے خوش ہوتے ہیں؟

•    آپ کی والدہ آپ کوکیا بناناچاہتی ہیں؟

•   آپ کے والد آپ کوکیا بناناچاہتے ہیں؟

9A-6  معاملات کونمٹانا(Handling Situations)

کبھی کبھی بچے والدین کی نصیحتوں کومداخلت سمجھتے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ بچے ماں باپ کے کاموں اورذمہ داریوں کی مشکلات کوسمجھیں کیونکہ ان کی ذمہ داریاں ایک طویل عرصے پر محیط ہوتی ہیں۔اسی طرح والدین اورگھر کے بالغ افراد کوبھی سمجھنا چاہئے کہ بچے خاندان اورمعاشرے میں خود اپنامقام بناناچاہتے ہیں۔اسی لئے ہرفرد کیلئے ضروری ہے کہ وہ کسی تناؤاورکشاکش کے بغیر دوسری ذمہ داریوںکوسمجھنے کی کوشش کرے ۔لباس ،پیشے اوردوستوں کے انتخاب ،کنبے کی ذمہ داریوں میں حصہ داری اورٹیلی ویزن دیکھنے جیسے معاملات میں خاندان کے افراد میں اکثر نااتفاقی یاٹکراؤپیداہوجاتا ہے ۔ہرخاندان میں اس قسم کے اختلافات سے نمٹنے کیلئے مختلف طریقے ہوتے ہیں۔صرف باپ یاصرف ماں پر منحصر خاندانوں میں صرف باپ یا ماں کی ذمہ داریاں زیادہ اہم ہوجاتی ہیں ۔بچوں کوایسے والدیاوالدہ کیلئے ،جودونوں والدین کے فرائض انجام دے رہے ہوں،زیادہ سمجھ داری اورزیادہ حساسیت کا مظاہرہ کرناہوتا ہے ۔دوسرے شخص کے نقطئہ نظر کوسمجھ لیناکسی بھی ٹکراؤ کی روک تھا م کا سب سے موثر طریقہ ہے ۔

  سرگرمی 6

نقطہ نظر کی تشکیل 

1۔   کسی ٹکراؤ والی صورت حال کا انتخاب کیجئے ،مثلاًپیشے کا انتخاب کا مسئلہ

2۔   استاد کی طرف سے نشان دہی کی جاسکتی ہے کہ اس مسئلے کے چارنقطئہ نظر ہوسکتے ہیں ۔ایک نقطئہ نظر خود نوجوان کا،دوسرا والدہ کا،تیسراوالدکا اور ایک چوتھا خود استاد یا صلاح کا رکا ۔

3۔   ان چاروں نقطئہ نظر کوکلاس میں ڈرامائی پیش کش کے ذریعے سمجھا یاجاسکتاہے ۔

4۔   د س منٹ کے بعد اس منظر نامے کے کرداربدل دیے جائیں ۔جس طالب علم نے والد کاکرداراداکیا ہواب وہ نوجوان کا اورجس نے ٹیچر کا کرداراداکیا وہ ماں کاکرداراداکرے گا ۔

5۔   اس تجربے سے یہ فائدہ ہوگا کہ دوسروں کے نقطئہ نظر کوسمجھنے میں مددملے گی اوراس تما م صورت حال پر مباحثے کے بعدایک نتیجہ نکالاجاسکے گا ۔


9A-7   افراد خاندان کی تقویت اورمدد(Support and Strength to Members)

آپ پچھلی اکائی میں ’ذاتی نشوونما‘کے موضوع پر یہ پڑھ چکے ہیںکہ آپ کی عمر کے لوگوں کی ذمہ داریوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ بالغ لوگوں کے درمیان بالغوں کی طرح کام کرنا سیکھیں ۔ادھیڑ عمر کے لوگوں کومختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے مثلاًخراب صحت،ملازمت یا کام میں پریشانی یانقصان ،والدین میں سے کسی کا کسی دورجگہ تبادلہ ،خاندان میں کسی کی موت ،کسی بوڑھے رشتے دارکی اضافہ یامالی بحران وغیرہ۔مشکل حالات میں چھوٹوں کی معاملہ فہمی اوران کے تعاون کی اہمیت کوکم نہیں سمجھنا چاہئے ۔اکثر بچوں کی موجودگی اوران کی شرکت سے مشکل ترین حالات میں بھی اہل خاندان کوبڑی مددملتی ہے ۔

اب ہم یہ دیکھیں گے کہ اہل خاندان کوایک دوسرے کی ضروریات اورجذبات کوسمجھنے میں کن باتوں سے مددملتی ہے ۔یہ پایاگیا ہے کہ اس سلسلے میں ایک اہم کردار ابلاغ کا ہے ۔


9A.8   خاندان میں ابلاغ(Communication in the Family)

آپ نے اکثر سناہوگا کہ انسان سماجی حیوان ہے ۔لیکن کیا آپ کوعلم ہے کہ ہمارے جاگنے کے اوقات کا 70فیصد حصہ کسی نہ کسی شکل میں ابلاغ کرنے میں گزرتاہے ۔خاندان کا کوئی فرد ہویا پھر بجنے والی گھڑی آپ کواسکول جانے کیلئے جگاتی ہے اور اسطرح آپ کا دن شروع ہوتاہے ۔پھر آپ دوستوں کے ساتھ اسکول جاتے ہیں اور آپ اس دوران کسی نہ کسی سے بات چیت کرتے رہتے ہیں۔صبح کی اسمبلی سے لیکراستادوں ،ساتھیوں اورپرنسپل کے ساتھ گفتگو تک کا سارا وقت رسمی یا غیر رسمی ابلاغ میں گزرجاتا ہے ۔مختلف حالات کے تحت ایک اچھی اوربھرپور زندگی گزارنے کیلئے موثرابلاغ کی صلاحیت بہت ضروری ہے۔

اسی طرح،جب ہم گھر پر ہوتے ہیں توہم بڑوں ،چھوٹے بڑے بچوں،دادادادی ،پڑوسیوں اورمددگاروں سے مختلف انداز سے گفتگوکرتے رہتے ہیں۔اس طرح خاندان میں ابلاغ ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے خاندان کے افرادکے درمیان لفظی یا غیرلفظی معلومات کا تبادلہ ہوتا رہتاہے ۔ایک جگہ رہنے والے باہم متعلق افراد کے درمیان رابطہ وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کرتا رہتاہے ۔

ایک ہی خاندان کے افراد کے درمیان ابلاغ بہت اہم ہوتا ہے کیونکہ اسی وسیلے سے افراد ایک دوسرے سے اپنی ضرورتوں ،اپنی خواہشات اوراپنے مسائل کااظہارکرتے ہیںاوران کوسماجی اورجذباتی تعاون دیتے ہیں۔چونکہ بولنے اورسننے کاعمل ایک دوسرے سے مربوط ہوتا ہے ،اسلئے ابلاغ ایک متحد کرنے والاعنصر ہے ۔ابلاغ میں اس بات پرتوجہ مرکوز کی جاتی ہے کہ دوسرے کیا سوچتے اورکیا محسوس کرتے ہیں۔دوسرے لفظوں میں کہاجائے توبولنا ہی ابلاغ کا اہم پہلو نہیں ہے بلکہ دوسرے جوبات کہہ رہے ہیں اسکوسننا بھی ابلاغ کا حصہ ہے ۔ابلاغ کے ذریعے ہی خاندان کے افراد ان ناگزیر مسائل کوحل کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں جواکثرگھروں میں پیش آتے رہتے ہیں۔کھلے اورایماندارانہ ابلاغ سے ایک ایساماحول پیداہوتا ہے جس میں خاندان کے افراد اپنے اختلافات اور اسکے علاوہ دوسرے کیلئے اپنی پسندیدگی اورمحبت کا اظہارکرسکتے ہیں۔ابلاغ کے درج ذیل چا رطریقو ں کی نشان دہی کی گئی ہے :

(i)   واضح اورراست ابلاغ:واـضح اورراست ابلا غ کی سب سے صحت مندانہ شکل ہے ۔یہ شکل اس وقت سامنے آتی ہے جب کوئی بات خاندان کے کسی خاص شخص سے واضح اورراست انداز سے کہی جاتی ہے ۔ابلاغ کے اس طریقے کی ایک مثال یہ ہوسکتی ہے کہ ایک باپ اپنے بیٹے سے اس بات پرناامیدہوجائے کہ وہ چھوٹے موٹے کام بھی نہیں کرتا اوریہ کہے کہ ’’بیٹے،مجھے بڑا افسوس ہواکہ تم اپنی دادی کوآج ڈاکٹر کے ہاں نہیں لے گئے۔‘‘

(ii)  واضح اوربالواسطہ ابلاغ:ابلاغ کے اس طریقے میں پیغام واضح توہوتاہے مگر براہ راست نہیں دیا جاتا ۔اوپر کی مثال میں ہی باپ اپنی بات اس طرح کہے گا ’’مجھے بہت افسوس ہے کہ لوگ اپنے چھوٹے چھوٹے کام بھی بھول جاتے ہیں‘‘،۔اس مثال میں ہوسکتا ہے بیٹااپنے باپ کے اشارے کوسمجھ جائے اوریہ بھی ہوسکتا ہے کہ نہ سمجھ پائے۔

(iii) درپردہ اورراست ابلاغ:درپردہ اورراست ابلاغ اس وقت ہوتاہے جب بات واضح نہیں ہوتی لیکن خاندان کے متعلقہ فردسے براہ راست کہی جاتی ہے ۔مذکورہ مثال میں باپ اس طرح کہتا ہے ’’بیٹے اب لوگ کا م پراس طرح توجہ نہیں دیتے جیسے پہلے دیا کرتے تھے‘‘۔

(iv)   درپردہ اوربالواسطہ ابلاغ:درپردہ اوربالواسطہ ابلاغ اس وقت ہوتا ہے جب پیغام اورپیغام وصول کرنے والادونوں واضح نہیں ہوتے ۔خاندانی تعلقات ٹھیک نہ ہونے کی صورت میں ابلاغ ،بہت درپردہ اوربالواسطہ ہوتاہے ۔اس قسم کے ابلاغ کی مثال یہ ہوسکتی ہے کہ باپ اس طرح کہے’’آج کل کے نوجوان بہت کاہل اورغیرذمہ دار ہوتے ہیں‘‘۔

یہاں یہ بات یادرکھنے کی ہے کہ ابلاغ کے طریقے تہذیب سے جڑے ہوتے ہیں۔مثال کے طورپر مغربی معاشرے (مثلاًامریکا)میں کھلا اورراست ابلاغ زیادہ قابل قبول ہوسکتاہے ۔بہر حال ہندوستا نی خاندانوں میں جہاں چھوٹوں اوربڑوں کا بڑا لحاظ کیا جاتا ہے بالواسطہ ابلاغ کوہی ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ بڑوں کے ساتھ راست ابلاغ کو توہین آمیزبھی سمجھا جاسکتاہے ۔


 9A-9  موثر خاندانی ابلاغ کی تعمیر کی کلیدیں

 (Keys to Building Effective Family Communication)

شہری خاندانوں میں بڑھتی ہوئی پیشہ وارانہ مصروفیات اوردیہی زندگی کے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی الجھنوں اورمسابقت کی وجہ سے ضروری ہوگیا ہے کہ ہمارے ابلاغ کا طریقہ ایسا ہوکہ ہم روز مرہ کے چیلنجوں کا مقابلہ کرسکیں اوران چیلنجوں کوصرف محسوس کرکے ہی نہ رہ جائیں ۔ایسے بہت سے طریقے ہوسکتے ہیں جنہیں خاندان کے اندر موثرابلاغ کیلئے اختیار کیا جاسکتا ہے اورنتیجتاًباہمی رشتوں کومزید بہتر بنایا جاسکتا ہے ۔ذیل میں موثر خاندانی ابلاغ کیلئے کچھ تجاویز پیش کی جاتی ہیں:


اکثر باہمی گفتگوکیجئے:آج شہری خاندانوں کے سامنے ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ ان کے افراد کیلئے ایک ساتھ وقت گزارنے کے مواقع کم ہوتے جارہے ہیں۔مصروفیت اتنی بڑھ گئی ہے کہ بامعنی گفتگو اورساتھ اٹھنے بیٹھنے کا وقت بھی نہیں مل پاتا ۔اب خاندان کے افراد کیلئے بہت ضروری ہوچکاہے کہ باقاعدہ اورراست گفتگو کیلئے وقت نکالیں۔کبھی ٹی وی بند کرکے ایک ساتھ کھانا کھانابہت اچھا ہوتا ہے ۔یہ بھی ایک اچھا خیال ہے کہ ٹیلی ویزن بند کرکے رات کا کھانا ایک ساتھ کھایاجائے یا پھر کسی اتوار کی شام سب ایک ساتھ بیٹھیں اورخاندان کودرپیش مسائل پر گفتگو کریں۔اس طرح خاندان کے بڑوں کے ساتھ وقت گزارنے سے بھی خاندانی رشتے مضبوط ہوتے ہیں۔بڑوں کے ساتھ گفتگو کے نتیجے میں کم عمر وں کوتسلی اورتسکین حاصل ہوتی ہے اوربڑوں کوبھی اپنے اہم ہونے کا احساس رہتا ہے۔بہرحال چھوٹوں اوربڑوں کے درمیان بات چیت سے باہمی محبت اوراحترام کوفروغ ملتا ہے ۔

ابلاغ واضح ہوناچاہیے:دیکھا گیا ہے کہ جس خاندان کے افراد خوش نظر آتے ہیں وہ عام طور پر ایک دوسرے کے ساتھ بہت واضح انداز میں اپنے خیالات اوراحساسات کااظہار کرتے ہیں۔خاندان کے افراد(میاں بیوی ،ماں باپ اوربچوں)کے درمیان پیداہونے والے مسائل کوحل کرنے کیلئے کوششیں کرتے وقت ابلاغ یا اظہار رائے کا واضح ہونا بہت ضروری اوراہم ہوتاہے ۔بالواسطہ اورغیر واضح ابلاغ سے نہ صرف یہ کہ مسائل کا حل ممکن نہیں ہوتا بلکہ ا سکے نتیجے میں افرادخانہ کے درمیان باہمی قربت اورجذباتی تعلق میں کمی آنے کا اندیشہ بھی رہتا ہے ۔

مستعد سامع بنئے:دوسروں کی بات کوغور سے سنناموثر ابلاغ کا ایک لازمی پہلو ہے ۔مستعد سامع بننے کا مطلب یہ ہے کہ آپ دیگر لوگوں کے نقطئہ نظر کوسمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔لفظی اورغیر لفظی پیغامات اوراشارات پر توجہ دینا بہت ضروری ہوتا ہے ۔مستعد سامع دوسرے شخص کے نقطئہ نظر کوسمجھتا ہے اوراس کا احترا م بھی کرتا ہے ۔مستعد سامع بننے کا ایک اوراہم پہلو یہ ہے کہ آپ وضاحت بھی طلب کرسکتے ہیں۔مثلاً آپ یہ پوچھ سکتے ہیں کہ ’’آپ کی اس بات کا کیا مطلب ہے ؟‘‘یا’’کیا میں نے آپ کی بات کا صحیح مطلب سمجھا ہے ؟‘‘مستعدسماعت کا مطلب ہے دوسرے کے نقطئہ نظر کوسمجھنا اورا سکا احترام کرنا۔خاندان ،فرد کیلئے ہمیشہ ایک اہم پس منظر کے طورپربرقرار رہتاہے ۔بچہ جیسے جیسے بڑا ہوتا ہے،اس کے ربط وتعلق کا دائرہ وسیع ترہوتا جاتا ہے ۔اکثر بچوں کے لیے  ،گھر کے بعد اسکول ایک دوسرااہم ماحول ہوتا ہے جہاں بچوں کوان لوگوں کے ساتھ ربط وتعلق کا موقع ملتا ہے جن کا گہرا اثربچوں کی زندگی پرپڑتا ہے ۔اسکول میں دوسرے خاندانوں کے بچوں کے ساتھ تعلقات کا موقع بھی حاصل ہوتاہے ۔اگلے باب’اسکول،ہم جماعت اوراساتذہ میں اسی پہلو پر گفتگو کی گئی ہے۔ 

 کلیدی اصطلاحات:

خاندان( Family)،پدرنسبی(Patrilineal)،مادرنسبی(Matrilineal)،وحدانی خاندان(Nuclear Family)،توسیعی خاندان(Extended Family)،خاندانی زندگی کا دور(Family Life Cycle)،خاندان کی ترقیاتی ذمے داریاں(Family Developmental Tasks)،خاندان میں ابلاغ(Communication in Family)

سوالات برائے نظر ثانی

1-   اصطلاح ’خاندان‘کی تعریف بیان کیجئے۔خاندانوں کی مختلف نوعیتوں سے بحث کیجئے۔

2-   خاندان کے تین اہم کام مثالوں کے ساتھ واضح کیجئے۔

3-   درج ذیل پر مختصر نوٹ لکھئے۔

(a)   خاندانی زندگی کا دور

(b)   خاندان کی ترقیاتی ذمہ داریاں

(c)   خاندان کی حرکیات(Family Dynamics)

(d)   خاندان میں تصادم کے حالات

4-   خاندان میں ابلاغ کی کیا اہمیت ہے ۔اپنے ہی خاندان کی مثال لیجئے اوراس میں ابلاغ کے رویوں کوبیان کیجئے ۔بتائیے کہ خاندان کے افراد کے درمیان ابلاغ کوکس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے ؟


عملی کام 8

خاندان 

موضوع    خاندان کے افراد،احباب اوراساتذہ کے ساتھ اتفاق اوراختلاف رائے کے دائرے

کام-1   اتفاق اوراختلاف رائے کے دائروں کی فہرست بنائیے۔

2-    اتفاق اوراختلاف رائے دور کرنے کے کچھ طریقوں کی نشان دہی کیجئے۔

عملی کام کا مقصد: نوبلوغت عمر کا ایسا حصہ ہے جس میں آپ اپنی شناخت کے احساس کی تشکیل کررہے ہوتے ہیں۔شناخت کی تشکیل کے اس عمل میں ہمیشہ تونہیں لیکن اکثر وبیشتر افراد خاندان اوردیگر باحیثیت لوگوں سے آپ کے ٹکراؤ کا امکان رہتاہے۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ مختلف امور میں آپ کی رائے دوسروں سے مختلف ہوتی ہے ۔اس کے نتیجے میں رشتوں میں تناؤپیداہوجاتا ہے ۔ا س عملی کام سے آپ اختلافات کے اسباب کی نشان دہی کرسکیں گے اورا س بات پر غور کرنے کا بھی مواقع ملے گا کہ اختلافات دورکرنے اورمسائل حل کرنے کے کیا طریقے ہوسکتے ہیں۔

عملی کام کی انجام دہی:6 4- طلباء پرمشتمل گروپ بنائیے ۔پہلے دس منٹ میں پچھلے چندماہ کے دوران افراد خاندان ،دوستوں اوراستادوں کے ساتھ اپنے تعلقات اورگفتگو کے بارے میں غورکیجئے۔ذیل میں دی گئی جدول کا استعمال کرکے اپنے انفرادی اختلاف اوراتفاق رائے کے بارے میں لکھئے۔


شخص                                اتفاق رائے کے دائرے                            اختلاف رائے کے دائرے                       اظہاررائے

والد                                        ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                           ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

والدہ                                       ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                           ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہن                                       ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                           ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھائی                                      ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                           ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

احباب                                    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                           ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اساتذہ                                     ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                           ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب اپنے خیالات میں گروپ کے دیگر افراد شریک کیجئے اوردرج ذیل امور پر گفتگو کیجئے:

-1 (a)  کیا ایسے کچھ امور ہیں جن کے بارے میں آپ کے اورخاندان کے کسی مخصوص فرد،احباب اوراساتذہ کے درمیان اختلاف ہے۔

(b)   آپ کے خیال میں ایسا کیوں ہوتاہے؟

(c)   اختلافات دورکرنے کےلیے  آج کل آپ کیا کررہے ہیں؟

(d)   اختلافات کودوریا کم کرنے کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے ؟

2(a) کیا اختلافات کے کچھ ایسے دائرے بھی ہیں جہاں بہ ظاہر صرف آپ ہی کی رائے مختلف ہے اورگروپ کے دیگر طلباء کااس سلسلے میں کوئی اختلاف رائے ہے ؟

(b)   اس کی وجہ کیا ہوسکتی ہے ؟

(c)   کیا ان اختلافات کوحل کرنے کیلئے آپ کچھ کرسکتے ہیں؟

3(a) وہ کون سے دائرے ہیں جن میں آپ اپنے خاندان کے افراد ،دوستوں اوراساتذہ سے اتفاق رائے رکھتے ہیں؟

(b)   کیا آپ اتفاق رائے کے ان دائروں کواپنے قریبی لوگوں کے ساتھ تعلقات اوررشتوں کومضبوط تر کرنے کے لئے استعمال کرسکتے ہیں اوراس طرح اختلافات کم کرسکتے ہیں؟




باب- 9


B-اسکول ،ہم جماعت اورمعلم 

(School, Prees and Educators) 


آموزشی مقاصد

اس حصے کے کی تکمیل کے بعد طلباء:

نئے رشتوں کی تشکیل میں اسکول کے کردار پر بحث کرسکیں گے ۔

اس بات کوسمجھ سکیں گے کہ بڑھتے ہوئے بچے ہم جماعتوں کے ساتھ رشتے کس طرح استوار کرتے ہیں۔

دوستی کی اہمیت جا ن سکیں گے ۔

طلباء کی ترقی اورکامیابی پر تعلیم اوراساتذہ کے اثرات کا تجزیہ کرسکیں گے ۔


9B-1 اسکول  (School)

آپ کے خیال میں کیا اسکول صرف پڑھنے پڑھانے کی جگہ ہے یا اس کے سوا کچھ اوربھی ہے ۔آپ جب لفظ ’اسکول‘سنتے ،پڑھتے یا سوچتے ہیں توآپ کے ذہن میں سب سے پہلے کیا چیز آتی ہے؟آپ میں سے بیشتر کہیں گے ،’پڑھائی اورامتحانات ‘۔اس جواب میں آپ تھوڑے سے خوف اورسخت محنت کا اضافہ بھی کرسکتے ہیں۔لیکن اسکول ایک ایسی جگہ بھی ہے جہاں آپ کے دوست بنتے ہیں اوران میں سے کچھ دوستیاں ،بڑی پائدار بھی ہوتی ہیں جوتمام عمر باقی رہتی ہیں۔یہاں اساتذہ کی شکل میں آپ کا واسطہ بالغ افرادسے بھی پڑتا ہے اوران میں سے بیشتر اساتذہ حصول علم ،نئے نئے مضامین اورموضوعات اورزندگی کے بارے میں آپ کے رویے کوتبدیل کردیتے ہیں۔جن اساتذہ نے آپ کواسکول میں پڑھایا ان میں سے کسی ایک یا کئی استادوں کیلئے آپ میں سے بیشتر طلباء میں ایک خصوصی احساس پایا جاتا ہوگا ،جیسے انہیں پسند کرنایا ان کے منتظر رہنا ۔ا سطرح ہماری زندگی میں تعلیمی مقاصد کی تکمیل کے علاوہ ،اسکول ایسے سماجی رشتوں کا ایک جال بھی ہے جوہماری اقدار ،رویوں اورطرز فکر پر تدریس کے ذریعے راست طورپر یا اسکول کے ساتھیوں (School Peers)اور اساتذہ سے تفاعل کے ذریعے بالواسطہ طورپر اثرانداز ہوتا ہے ۔دوسرے لفظوں میں ،اسکول سماجی میل جول

(Socialisation)کا ایک اہم عامل بھی ہے ۔ا س باب میں ہم اسکول کی اس حیثیت پرخصوصی توجہ دیں گے کہ یہ وہ جگہ بھی ہے جوہماری زندگی میں دیگر اہم لوگوں کے ساتھ روابط اوررشتے قائم کرنے میں معاون ہے ۔

9B-2 ہم جماعتوں کے ساتھ تعلق (Peers Relationships)

چھ ماہ تک کے شیر خوار بھی دوسرے شیر خوار بچوں کے ساتھ اپنی دل چسپی کا اظہارکرتے ہیں۔اگر ان بچوں کوپاس پاس رکھا جائے تویہ ایک دوسرے کوچھونے کی کوشش کریں گے ،مسکرائیں گے اورایک دوسرے کودیکھیں گے ۔لیکن ا س عمر میں یہ دوسرے بچوں کوصرف ایک چیز سمجھتے ہیں اورجس طرح ہم سوچتے ہیں کہ یہ بچے بھی فرد ہیں اورہم کودیکھ کرردعمل ظاہر کرتے ہیں ،یہ بچے اس طرح نہ توسوچتے ہیں نہ کرتے ہیں۔ایک سے تین سال کی عمر میں بچے یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ دوسرے بچے’شخص‘ہیں اوراسی لئے وہ ان کے ساتھ سماجی رابطہ شروع کردیتے ہیں۔ابتدائی برسوں میں ،دوست وہ ہوتا ہے جوآپ کے قریب رہتا ہے ۔دوسرے لفظوں میں جس کسی کے ساتھ بھی کھیلنے کا موقع ملتا ہے وہ دوست ہوجاتا ہے ۔عام طور پر ایسی دوستی میں دوست کی شخصیت اورا سکی خوبیوں کے بارے میں پسند یاناپسند کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔اس عمر میں بچے اپنے کسی کھیل کے ساتھی کیلئے کسی قسم کی ترجیح کا اظہار نہیں کرتے ۔ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا ہے کہ وہ مل جل کرکسی ایک ہی کھلونے سے کھیلیں یابات بھی کریں ۔زیادہ تروہ اپنے آپ کھیلتے رہتے ہیں۔

اسکول جانے کی عمر سے پہلے بچہ زیادہ پائدار انداز میں دوسروں کے ساتھ تعلق قائم کرنا شروع کردیتا ہے ۔لیکن شروع شروع میں دوستیاں سطحی قسم کی ہوتی ہیں۔یہ دوستیاں بنتی بھی جلد ہیں اورجلد ٹوٹ بھی جاتی ہیں ۔بچہ اس بچے کا دوست جلد بن جاتا ہے جس کے پاس اس کی پسند کا کھلونا ہوتا ہے ،البتہ ممکن ہے کہ اگلے دن یہ دوستی قائم نہ رہے ،جبکہ قدرے بڑے بچوں میں یہ دوستی برقرار رہتی ہے ۔اس طرح اسکول جانے کی عمر سے پہلے دوست وہ ہوتا ہے جس کے ساتھ بچہ کسی نہ کسی کام میں لگا رہتاہے ،مثلاًکھلونوں سے ہی کھلتارہتاہے ۔پری اسکول (Pre School)عمرکے آخری حصے میں ،بچوں کے درمیان تعلق زیادہ پائدار ہونے لگتا ہے اوریہ بچے ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتے بھی ہیں۔ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے ہیں اورکھیل کے دوران ناراض بھی ہوجاتے ہیں۔ممکن ہے یہ بچے کچھ دوستوں کودوسرے دوستوں پر ترجیح بھی دیتے ہوں۔درمیانی بچپن کی شروعات میں بچہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ دوست وہ ہوتے ہیں جن کے ساتھ مشترکہ دلچسپیوں اورچیزوں پر بات کی جاسکے اوردوست وہ نہیں ہیں جن کے پاس ہماری پسند کی چیزیں ہوں۔ اب بچہ یہ بھی سمجھنے لگتا ہے کہ ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا ،ایک دوسرے کی ضرورت کے وقت کام آنا اورپسندیدہ خوبیاں جیسے مہربانی اورایک دوسرے کا خیال رکھنا بھی دوستی کی اہم خصوصیات ہیں۔وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ دوست ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔درمیانی بچپن کے دوران بچے کے دوستوں کا حلقہ عام طور پر وسیع ہوجاتاہے ۔بچہ دوستو ں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے لگتا ہے اوردوستوں کے اثرات بھی زیادہ قوی ہوجاتے ہیں۔نوبلوغت کی عمر تک پہنچتے پہنچتے دوستیاں گہری ہوجاتی ہے اوردوست ایک دوسرے کواپنے دلی احساسا ت اورخیالات بتانے لگتے ہیں۔

   ’ذات‘کے بارے میں کتاب میں شامل باب میں آپ نے پڑھا ہے کہ جب بچہ نوبالغ (Adolescent)ہوجاتاہے تودوست اس کیلئے ماں باپ سے زیادہ اہم ہوجاتے ہیں۔عام طور پر بیشتر نوبالغوں کا اپنے قریبی دوستوں کا ایک چھوٹا ساحلقہ ہوتا ہے جسے حلقئہ احباب کہاجاسکتا ہے ۔انگریزی میں ایسے حلقے کیلئے Cliqureکا لفظ استعمال ہوتاہے ۔ایسے دوستوں کی تعداد بھی بہت ہوتی ہے جن سے زیادہ گہری دوستی نہیں ہوتی ۔ایسے دوستوں کو’شناسا‘(Crowd)کہاجاتاہے ۔شناساؤں کا حلقہ ہم عمروں کا ایک کم منظم گروپ ہوتا ہے جومشترکہ دلچسپیوں اورسرگرمیوں کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔’شناسا‘افرادایک دوسرے کے اتنے قریب نہیں ہوتے جتنے حلقہ احباب کے لوگ ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں۔اس طرح کسی اسٹیج شوکوساتھ دیکھتے والے نوجوان مل کرشناساؤں کے حلقے کی تشکیل کرتے ہیں جبکہ باہر گھومنے جانے کی منصوبہ بندی کرنے والے نوبالغوں کا گروپ حلقہ احباب کا حصہ ہوں گے ۔

9B-3  دوستی کی اہمیت (The Importance of Friendship)

دوستی ہر ایک مرحلے پر اہم ہوتی ہے کیونکہ دوستی سے ہی بچے میں یہ احساس تقویت پاتاہے کہ اسے اپنے ہی جیسے لوگوں میں قبولیت حاصل ہے ۔اس سے بچے میں جذباتی تحفظ کااحساس پیداہوتاہے جوبڑے ہونے پرسماجی اورجذباتی رشتوں کی نمو کیلئے بہت اہم ہے ۔جن بچوں کواس کے ساتھی ہی مستردکردیتے ہیں ان کا رویہ جارحانہ ہوجانے کا اندیشہ رہتا ہے ۔اس کے علاوہ یہ اندیشہ بھی رہتا ہے کہ وہ اپنے اس رویے کے ذریعے اجتماعی سرگرمیوں میں روکاوٹ پیداکریں ۔جن بچوں کوان کے ساتھی (Peers)مسترد کردیتے ہیں وہ تنہائی پسندہوجاتے ہیں یا پھر بدقسمتی سے ایسے بگڑے ہوئے لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا شروع کردیتے ہیںجن کی قدریں اورسرگرمیاں عام تہذیبی روش سے الگ ہوتی ہیں ۔اس سے اس بچے کوبہت نقصان پہنچ سکتا ہے ۔

نوبلوغت کے زمانے میں نوبالغوں پر اس بات کا زبردست دباؤ ہوتا ہے کہ وہ ساتھیوں کے حلقے کی قدروں کوتسلیم کریں اورجیسا وہ کرتے ہیں وہی وہ بھی کریں ۔ساتھیوں کی طے کردہ اقدار اوران کے متعین کردہ رویے والدین کی قدروں کے برعکس ہوسکتے ہیں اوراگر نوبالغوں میں والدین کی اقدار سے احتراز اوراپنے مطالبات منوانے کی عادت راہ پاگئی ،تونتیجے کے طورپر والدین سے زبردست کشمکش شروع ہوجاتی ہے۔بہرحال ،یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ساتھیوں کا دباؤ نشوونما کی ایک عام حالت ہے ۔درحقیقت،جب نوبالغ لڑکے لڑکیاں اپنے دوستوں سے اپنے ان تجربات اوراحساسات کا اظہارکرکے جن کا اظہار وہ گھروالوں سے نہیں کرسکتے سمجھتے ہیں کہ سب ٹھیک ہے اورخود کوتنہامحسوس نہیں کرتے ،کیونکہ انہیں لگتاہے کہ خود دوست بھی ان ہی مسائل اورتجربات سے دوچار ہیں ۔اس کے علاوہ ،نوبلوغت کی عمر کے اختتام تک ،ساتھیوں کادباؤ کم ہوجاتا ہے اورپھر بالغ ہوتا نوجوان مسائل کوکئی تناظر میں دیکھنے کا اہل ہوجاتا ہے ۔بہرحال یہ درست ہے کہ ساتھیوں کے دباؤمیں آکربہت سے نوبالغ سماج مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہوجاتے ہیں جوخود ا نکے اورمعاشرے کیلئے خطرناک ہوتی ہیں ۔ان سرگرمیوں میں نشیلی دواؤں کوآزمانااورمناسب معلومات اوراحتیاط کے بغیر جنسی تجربہ شامل ہے ۔نوبالغوں اوروالدین دونوں کوچاہئے کہ وہ ایک دوسرے کے نقطئہ نظر اورایک دوسرے کے مسائل کوسمجھیں ۔ایسا تبھی ہوسکتا ہے جب والدین اورنوبالغوں کے درمیان کھل کر بات چیت ہوجس کیلئے دونوں کوکوشش کرنی ہوتی ہے ۔

یہ یادرکھنا بھی ضروری ہے کہ بہت سی ثقافتوں میں ساتھیوں کی اقدار بالغ افراد کی اقدارسے خاص ملتی جلتی ہوتی ہیں۔ایسی صورت میں نوبالغوں اوروالدین کے درمیان زیادہ ٹکراؤکی نوبت نہیں آتی بلکہ ساتھی،معاشرے کی اقدار کومزید تقویت پہنچانے میں مددگار ہوتے ہیں۔

سرگرمی 1   

آپ نے بچے کی نشوونما کے مختلف مراحل میں دوستی کے بہت سے پہلوؤں کے بارے میں پڑھا ۔خود اپنے تجربات پر غورکیجئے اوران دوستوں کے بارے میں سوچیے جنہوں نے مختلف طرح سے آپ پراثرات ڈالے ہیں۔


سرگرمی2

ایک نوجوان کی حیثیت سے کیا کچھ ایسے پہلو ہیں جن میں آپ اپنے دوستوں کی رائے سے اتفاق اوروالدین کی رائے سے اختلاف رکھتے ہوں؟کلاس میں اس پر بحث کیجئے۔


9B-4  اساتذہ کے اثرات  (Influence of the Teachers)

اسکول میں،اساتذہ کے اثرات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔والدین ہی کی طرح ،وہ حدوں کا تعین کرتے ہیں،مطالبات رکھتے ہیں،اقدار سے واقف کراتے ہیں اورنشوونما کوفروغ دیتے ہیں۔اساتذہ قابل تقلید مثالی کردار ہوتے ہیں اوراکثر بچے کی نشوونما پر اثر ڈالتے ہیں۔بچے جن اساتذہ کواچھا سمجھتے ہیں اورپسند کرتے ہیں ان کے رویوں کی نقل کرسکتے ہیں اورجن اساتذہ کی بچے تعریف کرتے ہیں ان کے پڑھائے ہوئے مضامین بھی انہیں اچھے لگنے لگتے ہیں۔

ہمیشہ تونہیں لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچوں سے اساتذہ کی توقعات کا بچوںکی کا رکردگی اوررویوں پر برا اثر پڑتا ہے ۔یہ دیکھا گیا ہے کہ اساتذہ کی توقعات کا طلباء کو ترغیب دینے ،خود اعتمادی اورعزت نفس کا احساس پیدا کرنے ،کامیابی کی توقع اوراس کے حصول کے عمل پر بہت برا اثر پڑتا ہے ۔ا س بات کے مثبت پہلو بھی ہوتے ہیں اورمنفی بھی ۔مثبت پہلو تویہ ہے کہ جن طلباء سے بہت زیادہ توقعات ہوتی ہیں ان کے لئے اساتذہ کا رویہ زیادہ مثبت ہوسکتا ہے۔وہ دیکھ کرباربار مسکرائیں گے ،ان کی ستائش بھی زیادہ کریں گے ،ان کے کام کوبہت غور سے جانچیں گے اورجوابات تلاش کرنے کیلئے ان کوزیادہ تاکید بھی کریں گے ۔ اگر ان کی کارکردگی اچھی نہیں ہوگی تواساتذہ انہیں سخت محنت کرنے کوکہیں گے ۔اس طرح وہ طلباء کویہ جتائیں گے کہ ان سے توقع ہے کہ وہ کامیاب ہوں ۔اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ جن بچوںسے توقعات کم ہوں گی انہیں ممکن ہے کہ اساتذہ لکھنے پڑھنے کے لئے نہ رغبت دلائیں گے اورنہ ان پر زوردیں گے ۔چونکہ بچے اساتذہ کی توقعات کے عین مطابق بننے،کامیابی حاصل کرنے اوران کے کہنے کے مطابق طرزعمل اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں،اس لئے اساتذہ کی توقعات کی حیثیت ایک طر ح سے خود تکمیلی پیشین گوئی (Self- fulfilling prophecy)کی سی ہوتی ہے۔تجربات سے معلوم ہواکہ اگر کوئی طالب علم اوسط درجے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن استادکویہ بتایا جاتا ہے کہ اس میں زبردست صلاحیت پوشیدہ ہے تو استاداس طالب علم سے بہتر روابط استوا رکرلیتا ہے اوربچہ اپنی پہلے سے بہتر کارکردگی کا مظاہر ہ کرنے لگتا ہے ۔

مذکورہ بالاگفتگو کاخلاصہ یہ ہے کہ اساتذہ کوکم توقعات کے مضر اثرات سے محتاط رہناچاہئے ۔بچوں کی صلاحیتوں کے بارے میں پیشگی اندارے لگانے سے اجتناب کی ضرورت ہے ۔ا سکے علاوہ،اگر کسی وقت بچے کی کارکردگی ناکافی ہے تو اس بات کا بہرحال امکان ہے کہ وہ مستقبل میں مناسب حوصلہ افزائی ملنے پر بہتر کارکردگی کامظاہرہ کرے ۔اساتذہ کوچاہئے کہ وہ صرف چند سے نہیں بلکہ تما م طلباء سے کامیابی کی توقع رکھیں ۔بچوں کی کامیابیوں کوان کی پچھلی کارکردگی سے جوڑ کردیکھنا چاہئے ،صرف کلاس میں کامیابی کی اوسط سے موازنہ نہیں کرناچاہئے ۔

استاداورشاگرد کا رشتہ تدریس اورآموزش کے عمل کاجوہر ہے ۔تمام دنیا اورہندوستان کے فلسفیوں اورماہرین تعلیم نے تدریس اورآموزش کوایک ایسا عمل قراردیا ہے جس میںاستاد اورشاگرد مشترکہ طورپر علم کوفروغ دیتے ہیں۔ہندوستا ن کی قدیم تعلیمی روایت کے مطابق گروکا کرداربہت فعال ہوتا ہے ۔جیسا کہ اپنشدوں میں لکھا ہے گروکاکام شاگرد کومکمل طورپر آزاداورخود کو مکمل طورپر غیر ضروری بنادینا ہے ۔تاہم ا س عہد میں یہ مانا جاتاتھا کہ آزادی کے حصول کیلئے سخت محنت ،آموزش ،ریاضت اورخود کووقف کردینا ضروری ہے۔گروسوالات پوچھنے ،تحقیق وجستجو کرنے اورمسلسل معلومات حاصل کرتے رہنے کیلئے طلباء کی حوصلہ افزائی کرتے تھے کیونکہ اس سے طلباء کواپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہارکاموقع ملتا تھا ۔ہندوستا ن کے عصری تعلیمی ماحول میں اساتذہ اوراسکول کے کردار کے علاوہ کچھ اورعوامل بھی درمیان میں آگئے ہیں،مثلاً اس بات کویقینی بنانے کادباؤ کہ طالب علم امتحان میں زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرے ۔ایسے بھی اساتذہ ہیں جواپنے طلباء کوصرف سبق پڑھادیتے ہیں اوربچوں کوسوال کرنے کی ذرا بھی اجازت نہیں دیتے ۔جب بچوں کواسکول اورتدریسی عمل میں نفسیاتی تحفظ کا احساس نہیں ہوگا تویہ بات ہی مشکوک ہوجائے گی کہ تعلیمی نظام،اساتذہ اورطلباء کے درمیان صحت مندانہ رشتے استوار کرنے میں کامیاب ہوسکتاہے ۔بہرحال،ایسے بھی اساتذہ ہیں جواپنے طلباء کی تعلیم میں بڑا تعمیری کردار اداکرتے ہیں اوران کے مستقبل کیلئے ان کے رہنما کے طورپر کام کرتے ہیں۔    

اس لئے اسکول ایک اہم سیاق ہے جونوبالغوں کی نشوونما پر اثراندا زہوتاہے ۔اگلے باب میں ہم برادری اورمعاشرے کے بارے میں پڑھیں گے ۔برادری اورمعاشرہ بڑے سیاق ہیں جن میں اسکول اورخاندان چھوٹے سیاق کی طرح ہیں۔

کلیدی اصطلاحات اوران کے معنی

1۔  حلقہ احباب (Clique): چندقریبی دوستوں کا حلقہ ۔

2۔   بھیڑ یا ہجوم(Crowd):ساتھیوں کی ایک بڑی تعدادجوایک دوسرے سے دورکاتعلق رکھتے ہیں۔

3۔   ساتھیوں کادباؤ(Peer Pressure):ساتھیوں کے حلقے کی اقدار کوتسلیم کرنے (Conform)اورانہیں کے معین کردہ رویوں کواپنانے کیلئے نوبالغوں پر پڑنے والادباؤ۔

 4۔   باہمی تشکیل (Co- construction):ایسا اس وقت ہوتا ہے جب شاگرد اوراستاد دونوںہی علم اورتفہیم کی ترقی اورفروغ کیلئے کام کرتے ہیں۔ا س تناظر میں یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ علم معلومات کا کوئی جامدخزانہ نہیں ہے جوعالم استاد سے ’علم سے عاری‘شاگرد کومنتقل کردیا جائے بلکہ استاداورشاگر د دونوں ہی تدریس اورآموزش کے دوران اپنے تجربات اورتدریس کے عمل میں اپنے تجربات اورفہم کا اضافہ کرکے علم کی ازسرنوتشکیل کرتے ہیں اوراس طرح کتابوں میں یا استادکے بیان کردہ علم کی از سرنودریافت کرنے اوراسکی نئی ترجمانی کی کوشش کرتے ہیں۔

5۔  نفسیاتی تحفظ (Psychological Safety):ایک ایساماحول جس میں کسی فردکی عزت نفس کوکوئی خطرہ نہیں ہوتا ،جسمیں اسکواپنی صلاحیتوں کی قدروقیمت اوران کے تئیں مثبت رویے کا احساس ہوتا ہے ۔ایسے ماحول میں فرددوسروں کے منفی ردعمل کی پرواہ نہیں کرتا ۔

ذیل میں آپ کی ذہنی ورزش کیلئے ایک معمہ دیا جارہا ہے ۔اسے حل کیجئے اوراپنی مہارت کا اندازہ کیجئے ۔

اس معمے کے کالم 1 میں کچھ ایسے انگریزی الفاظ ہیں جنہیں آپ پڑھ چکے ہیں۔ان الفاظ میں حروف کی ترتیب الٹ پلٹ کردی گئی ہے ۔پہلے آپ ان لفظوں کی صحیح ترتیب لکھیے اورپھر کالم 2 سے جوڑے ملائیے۔

کالم 2 کالم 1 نمبر شمار
  • دوستوں کا ایک بڑا حلقہ جن میں گہری دوستی نہیں ہوتی ۔
....dowcr -1
 •  قریبی دوستوں کا ایک چھوٹا حلقہ۔ ......quelci -2
 •   اقدار اوررویوں کوتسلیم کرنے کی ضرورت۔ ....repe......repruse -3
 بچے اپنے استاد کی توقعات کے مطابق بننے علم حاصل کرنے اورطرز اختیارکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ......fles-uliflflgin oprhpcey -4
•  طلباء کومسلسل سوالات کرتے رہنے ،جستجوکرنے اورتحقیق کرتے رہنے کیلئے ہمت افزائی کرنا۔  ........urug -4

1۔   وضاحت کیجئے کہ اسکول کس طرح دیگر لوگوں کے ساتھ روابط اوررشتے قائم کرنے کی جگہ ہے ؟

2۔   وضاحت کیجئے کہ شیرخوارگی کے زمانے سے نوبلوغت تک دوستی کی نوعیت کس طرح بدلتی رہتی ہے ؟

3۔   دوستیاں کیوںاہم ہیں؟

4۔   ساتھیوں کادباؤ(Peer Pressure)سے کیا مطلب ہے ؟یہ دباؤکس طرح نوبالغوں کیلئے تناؤ کا سبب ہوسکتا ہے ؟

5۔   استاتذہ اوران کا رویہ طلباء کی کامیابی اورانہیںترغیب دینے کے عمل کوکس طرح متاثر کرسکتاہے ؟




باب- 9


C۔  برادری اورسماج

(Community and Society)

آموزشی مقاصد

اس باب کے مطالعے کے بعدطلبا:

•   برادری اورسماج کے تصورات پر گفتگو کرسکیں گے ۔

•   افراد اورخاندانوں کی زندگی میں سماج کی اہمیت اورثقافت کے ساتھ سماج کے تعلق کوبیان کرسکیں گے۔

•   سماج پر اثر انداز ہونے کی میڈیا کی خصوصیت واضح کرسکیں گے ۔

•    برادری کیلئے افرادکی ذمہ داریوں کوتفصیل سے بتا سکیں گے ۔


9C-1   تعارف

پچھلے ابواب میں آپ نے افراد کی زندگی میں خاندان ،اسکول اوردوستوں کی اہمیت کے بارے میں پڑھا ۔انسان ایک سماجی وجود ہیں۔ہم دوسرے لوگوں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہوئے اپنی زندگی گزارتے ہیں۔پیدائش کے بعد سے ہی،انسانوں کے بچے دیگر تما م پستانی جانداروں کے (Mammal)نومولود وں کے مقابلے دوسروں پرزیادہ منحصر ہوتے ہیںاوران کا یہ انحصار مقابلتاً زیادہ عرصے تک باقی رہتا ہے ۔انحصار کے اس پورے زمانے میں بچے اوراس کی دیکھ بھال کرنے والوں کے درمیان قریبی رابطہ ہتا ہے جس سے ابتدائی زندگی کی تشکیل اورنشوونما میں بڑی مددملتی ہے اورابتدائی زندگی کایہی دور مستقبل کی بنیادبنتا ہے ۔سماجی سے ہم رشتگی (Sociability)انسانی زندگی کا ایک اہم وصف ہے ۔ہم دوسرے لوگوں کے درمیان رہنا پسند کرتے ہیں،دوسروں کا رد عمل دیکھ کراوردوسروں کی باتیں سن کرہم اپنے بارے میں اپنی رائے قائم کرتے ہیں،ہم اپنے اردگرد موجودلوگوں کے ساتھ گھل مل کراپنے معاشرے اورثقافت کے بارے میں واقفیت حاصل کرتے ہیںاوراپنے اردگرد نظر ڈالنے سے ہمارے اندر صحیح اورغلط کاشعور پیداہوتا ہے ۔یہ ان طورطریقوں کی کچھ مثالیں ہیں جن کے ذریعے جاعتیں افراد کی نشوونما کومتاثر کرتی ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ا سکے برعکس صورت حال درست نہیں ہوتی ۔ایک ذی حس زندہ وجود (ایسے وجود جن کے پاس حسی اعضاہیں )کی حیثیت سے ہم اپنے تجربات سے بہت زیادہ متاثرہوتے ہیں۔ہم اپنے تجربات سے کیوں متاثر ہوتے ہیں؟اس کا ایک بنیادی سبب یہ ہے کہ دوسرے لوگوں کے ساتھ ہمارے معاملات ہماری زندگی پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔

9C-2  برادری (Community)

برادری لوگوں کی ایک ایسی جماعت کاتصورہے جن کے اقدار ،اعتقاد،مفادات اوروراثت مشترک ہوتے ہیں۔جماعت کے سائز کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔برادری لوگوں کا ایک چھوٹا حلقہ بھی ہوسکتا ہے جس کی سرگرمیاں مشترک ہوں یا ایک ایسا حلقہ بھی ہوسکتا ہے جوعارضی طورپر کسی مشترکہ مقصدکیلئے یک جا ہواہوجیسے انٹرنیٹ پرچیٹ کرنے والی برادری (Chat community)یا بچوں کاایک ایسا حلقہ جوکسی میدان میں کسی کھیل کیلئے جمع ہواہو۔برادری کی اصطلاح ان لوگوں کیلئے بھی استعمال کی جاتی ہے جوایک مشترکہ علاقے میں رہتے ہوں اورجن کا ماحول مشترک ہو۔خصوصیات کے اس اشتراک کی وجہ سے،برادری کے افراد ایک دوسرے کیلئے بہت اہم ہوتے ہیں چاہے ،وہ لوگ اس بات سے واقف ہوں یا نہ ہوں۔معاشرہ(Society)یا نسلی گروپ کی اصطلاحات میں بھی اشتراک کی وہی صورت ہوتی ہے جوبرادری میں ہوتی ہے ۔عام استعمال میں ان اصطلاحات کوایک دوسرے کے لئے استعمال کیاجاسکتاہے ۔ 

قدیم زمانے سے ہی افراد یک جایاگروہ میں رہتے آئے ہیں اوراس طرح کام کاج ،کھانے پینے ،رہنے سہنے،بچو ںکی دیکھ بھال اوردیگر بہت سی سرگرمیو ں میں ایک دوسرے کے ساتھ اشتراک کرتے رہے ہیں۔اگرچہ خاندان صدیوں سے ایک پائدارگروپ کی شکل میں موجود رہا ہے لیکن خاندان سے باہر کے لوگوں کا بھی ہماری زندگی میں ایک اہم کردار ہوتا ہے ،یہاں تک کہ جن لوگوں سے آپ کبھی ملے بھی نہ ہوں ان کا بھی آپ کی زندگی میں ایک کردار ہوسکتا ہے ۔بعض معنوں میں توایک ملک کے باشندے اورتمام دنیا کے رہنے والوں کوبھی ایک برادری کہاجاسکتا ہے ۔مثال کے طورپر اگرہم عالمی حرارت (Global warming)کے نتائج کے سلسلے میں بات کریں توانسانی برادری کی حیثیت سے دنیا کے تمام لوگوں کے اجتماعی عمل کے نتائج پر گفتگو کرسکتے ہیں ۔کسی ملک کے شہری حکومت،آئین اورمعیشت میں شریک ہوتے ہیں۔برادری لوگوں کے اجتماع کاایک مجرد تصور ہے اوریہ کسی ایک مشترکہ خصوصیت تک محدود نہیں ہے ۔ سماجیات (Sociology)میں برادری اورسماج کی اصطلاحات کامفہوم ذرا مختلف ہے ۔وہاں معاشرے سے مراد انسانی جمعیت بندی کا ایک زیادہ بڑا اورزیادہ مجرد تصورہے جبکہ برادری ایک زیادہ باہم پیوستہ اکائی کی حیثیت سے کی جاتی ہے ۔خاندان اوررشتے داری کوبرادریوں کی مثالیں سمجھاجاتا ہے جن میں علم ،تجربہ،عقیدوںاوراقدارکا اشتراک ہوتاہے ۔

برادری کی مختلف قسمیں  (Different type of communications)

آئیے اب ہم اپنے اردگرد برادری کی مثالوں پرغورکرتے ہیں یعنی وہ لوگ جوہمارے بعض تجربات میں ہمارے شریک ہوتے ہیں۔خاندان کے بعدسب سے واضح سماجی صورت،’پڑوس ‘کی ہے ۔پڑوس ایک اہم سماجی اکائی ہے کیونکہ پڑوسی ہی وہ لوگ جن کے درمیان ہم رہتے ہیں اورجوہماری روز مرہ سرگرمیوں میں ہمارے شریک ہوتے ہیں۔یقیناً اس کایہ مطلب نہیں ہے کہ پڑوس کے تمام افرادبالکل ایک جیسے ہوں ۔ایسا ہرگز نہیں ہے ،پھر بھی زندگی کے معاملات میں اشتراک ہمیں کچھ معنوں میں یکساں بنادیتا ہے ۔مثال کے طورپر زیادہ ترپڑوسی مقامی طورپر دست یاب خدمات کا استعمال کرتے ہیں۔مثلاً بازار ،حفظان صحت کے مراکز ،اسکول اوربچوں کے کھیل کے میدان وغیرہ ۔اس اشتراک سے لوگ ایک دوسرے کے نزدیک آتے ہیں اوراس کے نتیجے میں باہم گفتگو بھی ہوتی ہے ،دوستی بھی ہوجاتی ہے اورباہمی تعاون بھی ہوتا ہے ۔مثال کے طورپر تہواروں کے موقعوں پر مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ دوسروں کواپنی خوشی میں شریک کرنے کیلئے خصوصی طورپر تیارکھانا پیش کرتے ہیں۔کسی مصیبت میں پڑجانے کی صورت میں توپڑوس کی بہت ہی اہمیت ہوتی ہے ۔ہنگامی صورت حال میں کئی بار ہمیں اپنے دوستوں اورخاندان والوں سے بھی پہلے پڑوسیوں کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔ایسے موقعوں پر عموماً لوگ ایک دوسرے کی مددکرتے ہیں حالانکہ تعاون کرنے کے معاملے میں لوگوں کا طرز عمل مختلف ہوسکتاہے ۔کسی اجنبی راہگیر کے مقابلے جن کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے ہم اپنے پڑوس میں رہنے والے ان لوگوں کی مدد کیلئے زیادہ تیار رہتے ہیں جن سے ہم واقف ہیں۔یہاں برادری کی طرززندگی اوران سماجی اداروں کی تنظیم کے بارے میں گفتگو بہت ضروری ہے جن کی نوعیت مختلف ماحولیاتی پس منظروں ۔جیسے گاؤں یاشہر۔میں مختلف ہوتی ہے ۔

5

 گھر ،مختلف خدمات اورمعاشرے کی نوعیت کے اعتبار سے شہر،قصبے اورگاؤں ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ کسی بڑے شہر کے محلوں میں مکانات کافی فاصلے پر ہوتے ہیں اوربیشتر لوگ آپس میں ا کثر بات نہ کرتے ہیں نہ ایک دوسرے کواچھی طرح جانتے ہیں۔یہ بھی صحیح ہےکہ بعض حالات میں ایسا نہیں ہوتا ۔۔اس کے برعکس گاؤوں اور قصبوں میں،پڑوسیوں کے درمیان قربت اوراپنائیت کا زیادہ احساس ہوتا ہے ۔گاؤں کے لوگ عام طورپر اپنے علاقے میں رہنے والے سبھی خاندانوں کوخوب جانتے ہیں۔اگرگاؤں چھوٹا ہے تب تولوگ اس گاؤں کے سبھی خاندانوں کوجانتے ہیں۔لوگ نام بنام ہرشخص کوپہنچانتے ہیں یا کم سے کم گھر کے مکھیا کو توجانتے ہی ہیں۔گاؤں میں کسی اجنبی کے آنے پر اسے فوراً پہنچاناجاسکتا ہے ۔اس کا یہ مطلب ہرگزنہیں ہے کہ شہر کے لوگوں میں دوستی نہیں ہوتی لیکن زیادہ آمدنی اورشہری زندگی کی مصروفیتوں کی وجہ سے لوگوں کوایک دوسرے سے بات کرنے کا وقت نہیں ملتا ۔اس کے علاوہ شہری علاقوں میں لوگ باربار گھر بدلتے رہتے ہیں یا جن گھروں میں لوگ رہتے ہیں ان کے مالک وہ خود نہیں ہوتے ۔باہمی تعلقات نہ ہونے کاایک اہم سبب یہ بھی ہے ۔اس کے برخلاف گاؤں میں ایسا لگتاہے کہ ہرشخص ایک دوسرے کوجانتاہے ۔خاندانوں کی پہچان افراد سے ہوتی ہے،ان کے پتے سے نہیں ۔قصبوں کی زندگی ان دوانتہاؤں کے درمیان ہے ۔ان میں کچھ خصوصیات دیہی زندگی کی ہوتی ہیں کی کیونکہ لوگ ایک دوسرے کواچھا خاصاجانتے ہیں لیکن قصبوں یا چھوٹے شہروں میں بھی مکانات بدلنا عام ہے اورلوگ ،نوکر ی یا کام کیلئے باہر جاتے ہیں۔اسکے علاوہ ایسے اوربھی عوامل ہیں جوشہری زندگی سے ملتے جلتے ہیں۔اسی لئے سماجیات کے ماہرین دیہی ،قصباتی اورقبائلی معاشروں کے درمیان فرق کرتے ہیں کیونکہ ان سب کی تنظیم کسی نہ کسی انداز میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے ۔دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ سماجی ادارے جیسے اسکول ،کمیونٹی سینٹر ،صحت کے مراکز اورمقامی سیاسی اداروں کی تنظیم بھی شہری اوردیہی علاقوں میں الگ الگ ہوتی ہے۔شہری علاقوں میں اجنبیت کااحساس زیادہ پایاہے اوریہ سماجی روابط ،سماجی کنٹرول اورتغیر پذیر سماجی حقیقت(Changing social reality)کاایک اہم پہلو ہے۔

پڑوس ،گاؤں طبقہ اورشہر کے علاوہ انسانی برادری کی اورقسمیں بھی ہوتی ہیں۔مثال کے طور پر جولوگ ایک ہی زبان بولتے ہیں یا انکی جائے پیدائش یکساں (مثلاً کسی بڑے شہر )کا ہے وہ سب خصوصی موقعوں پر یک جاہوتے ہیں۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بنگالی زبان بولنے والوں کیلئے درگاپوجاکے تہوار کی بڑی اہمیت ہے ۔درگا پوجا ستمبر یا اکتوبر کے آس پاس منائی جاتی ہے ۔پوجا کے دنوںمیں کئی جگہ پنڈال لگائے جاتے ہیں جہاں لوگ اس تہوار کومل کرمناتے ہیں،کھاتے پیتے ہیں اورپوجاکرتے ہیں۔ان مقامات پر بچوں کے کھیل اورتفریح کیلئے بھی خوب مواقع ہوتے ہیں۔نوجوان پوجاکے دوران رقص کرتے ہیں ،معمر افرادانہیں دیکھتے ہیں اوردیوی کی مہربانی کیلئے دعا کرتے ہیں۔ 

6

ایک دوسری مثال ریاست مہاراشٹر کی ہے جہاں گنیش چتر تھی کے دوران بڑے دھوم دھام اورجوش وخروش سے گنیش پوجا کی جاتی ہے ۔لوگ جمع ہوتے ہیں فنڈاکھٹا کرتے ہیں اوریہ پروگرام کسی دریا یاسمندر میں گنیش جی کی مورتیوں کے وسرجن کے ساتھ تکمیل کوپہنچتا ہے۔اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ مذہبی وابستگی ،نسلی گروپ اورمشترکہ زبان کچھ ایسے عوامل ہیں جن کی بنیادپر ایک بڑے معاشرے میں چھوٹی چھوٹی اور قابل شناخت برادریوں کی تشکیل ہوتی ہے ۔

سر گرمی1

اپنی برادری سمیت چند برادریوں کے نام اور ان کی مشترکہ خصوصیات لکھئے۔ جن برادریوں سے آپ وابستہ ہیں ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے ساتھیوں اور اپنے اساتذہ کے ساتھ گفتگو کیجئے۔ کبھی کبھی آپ کواس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ آپ میں بھی یہی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔


یادرکھیے کہ ایک شخص امکانی طورپر کئی برادریوں کا حصہ ہوسکتاہے۔مثال کے طور پر ایک پارسی خاندان کی بچی اسکول میں پڑھتی ہے ۔اس طرح وہ لامحالہ اسکول کی برادری کاایک حصہ ہے ۔وہ کسی استانی کی زیر نگرانی ڈانس بھی سیکھتی ہے اوراس طرح وہ اس ڈانس گروپ کی بھی ایک رکن ہے ۔ممکن ہے کہ یہ لڑکی ایک ایسے گروپ میں بھی شامل ہوجوسڑکوں پر بھرنے والے جانوروں پر ظلم کے خلاف جدوجہد کرتاہے ۔اس طرح یہ لڑکی جانوروں سے لگاؤرکھنے والے گروپ کی رکن بھی ہوئی ۔اس طرح بہ یک وقت ہم کئی گروپوں اورکئی برادریوں کے رکن ہوسکتے ہیں اوریہ بھی ممکن ہے کہ ہمیں وابستگی کا علم بھی نہ ہو ۔بہرحال،یہ وابستگی ہمارے لئے ہماری شناخت کی تشکیل اورکسی گروپ سے ہمارے تعلق کے احساس کیلئے بہت اہمیت رکھتی ہے۔

برادری کا کام  (Functions of Communication)

جیسا کہ ہم اس سے پہلے ذکرکرچکے ہیں ،انسان کی زندگی میں برادریوں کابہت اہم کردار ہے ۔یہ بھی سچ ہے کہ لوگوں کے بغیر کسی بھی برادری کا وجود نہیں ہوسکتا ۔اس طرح فرد اوراس کی برادری کے درمیان ایک فعال اورباہم تعمیری (Co-constructive)رشتہ ہوتا ہے ۔اگر چہ برادری فردکوشناخت ،امداد ،سماجی کنٹرول (کیا کیا جائے اورکیا نہ کیا جائے )،مقاصد اورمشاغل عطا کرتی ہے لیکن کسی برادری کے معاملات کوعمل میں لانے والے اس کے افراد ہی ہوتے ہیں۔کسی برادری کے ارکان کی شرکت کے بغیر کوئی بھی سماجی تنظیم وجودمیں نہیں آسکتی ۔مثال کے طورپر ،جب کسی خاندان کے افراد اپنے نئے اراکین کوکسی برادری کے اصول کوبتانے کیلئے جمع ہوتے ہیں تویہ عمل خاندان کے افراد کی شرکت کے بغیر انجام نہیں پاسکتا ۔بچوں کی ولادت اوران کی پرورش کی ذمہ داری مائیں انجا م دیتی ہیں جبکہ باپ عام طور پر ان ذمہ داریوں کوانجام دینے کیلئے ماؤں کی مدد کرتے ہیں ،ان کوتحفظ دیتے ہیں اورخاندان کی مالی ذمہ داریوں کوپور ا کرتے ہیں۔خاندان کی ان تمام ذمہ داریوں میں ماں اورباپ شریک ہوتے ہیں،خاندان کے دیگر افراد بھی ان کاموں میں مدد کرتے ہیں اورکبھی کبھی تودوست اورپڑوسی بھی اس کام میں شامل ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر جب ماں روز گار کی غرض سے گھر سے باہر جاتی ہے توبچوں کی دیکھ بھال کرلیتے ہیں۔اکثر توگھر کے عمر رسیدہ افراد جوگھر کی ذمہ داریوں میں شریک ہوتے ہیں چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں اوراس طرح بچے کی نگہ داشت میں ان کی سرگرم حصے داری ہوتی ہے ۔اب ہم برادری کی کچھ ذمہ داریوں کوبیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ برادری چاہے خاندان ہو،رشتہ داروں کا کوئی گروپ ہویا کوئی رہائشی برادری ہویا پھر ملک ہو ۔برادری اپنے ارکان کیلئے مندرجہ ذیل کام انجام دیتی ہے ۔

•   کسی فرد کوشناخت کا احساس فراہم کرنا ۔

•   زندگی کی بقا،تعلیم ،معاش ،تفریح،تحفظ اورنگہ داشت کے مواقع فراہم کرنا ۔خطرات ،بیماری اوربڑھاپے وغیرہ میں ان چیزوں کی خاصی اہمیت ہوتی ہے ۔

 •   نوجوان نسل کوسماجی حصہ داری کیلئے تیارکرنا ۔

•   گروپ کی بقاکو یقینی بنانا۔

•   کسی شخص کوبرادری اورمعاشرے کاعملی رکن بننے میںمددگارہونا۔   


سرگرمی 2

مذکورہ بالاکاموں میں سے ہرایک کے بارے میں اپنی زندگی سے مثالیں لے کراپنے ہم جماعت سے بحث کیجئے اوراسے پوری کلاس سے اشتراک کیجئے۔


9C-3 معاشرہ اورثقافت (Society and Culture)

جیسا کہ ہم نے پچھلے سیکشن میں پڑھا ،برادری کے مقابلے میں معاشرے کا تصور زیادہ لچک دارہے۔عمومی طورپر معاشرے کوعام لوگوں پر مشتمل سمجھا جاسکتا ہے جن میں ضروری نہیں کہ برادری کی طرح بعض خصوصیات مشترک ہوں۔یہ دونوں لفظ عام زبان میں ایک دوسرے کے مترادف کے طورپر بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔ثقافت کی اصطلاح بنیادی طورپر لوگوں کی زندگی گزارنے کے طور طریقوں کیلئے استعمال ہوتی ہے ۔ثقافت بنیادی طورپر کسی شخص یا کسی گروپ کے ماحول کے ان تما م عناصر پر مشتمل ہوتی ہے جومادی بھی ہوسکتے ہیںاورغیر مادی بھی (جیسے عقیدے ،اقدار اوراعمال )اورجنہیں لوگوں نے اپنے استعمال کیلئے خود بنایاہو ۔عام زبان میں ثقافت کی یہ اصطلاح ،مختلف طرح سے استعمال کی جاتی ہے۔کبھی کبھی لفظ ثقافت کا استعمال کیلئے خود بنایاہو۔عام زبان میں ثقافت کی یہ اصطلاح ،مختلف طر ح سے استعمال کی جاتی ہے ۔کبھی کبھی لفظ ثقافت کا استعمال طبقہ خواص(High Society)کیلئے بھی ہوتاہے ،مثلاًاس وقت ہم کسی شخص کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ وہ بہت مہذب ہے ۔ہمارے اس مضمون میں یہ اصطلاح اس مفہوم پر استعمال نہیں کی گئی ہے۔یہاں ثقافت سے لوگوں کے معتقدات اوران کا طرز زندگی مراد ہے ۔دیگر چیزوں کے علاوہ جوغذا ہم کھاتے ہیں،جوکپڑے ہم پہنتے ہیں،جوزبان ہم استعمال کرتے ہیں اورجن تقریبات میں ہم شرکت کرتے ہیںوہ سب ثقافت میں شامل ہیں۔ثقافت میں لوگوں کے خیالات بھی شامل ہیں ۔ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ثقافت ان مختلف چیزوں کی متحرک اورپیچیدہ ساخت (Dynamic and Complex Construction)ہے جوہمارے ماضی ، ہمارے حال اورہمارے مستقبل کا حصہ ہیں۔برادری کی طرح کسی ثقافتی گروپ سے وابستہ لوگ چیزوں کے بارے میں مشترکہ خیالات رکھتے ہیں اورعام طورپر ایک دوسرے سے قریب رہتے ہوں۔ثقافت اورملک کے مفہوم کوخلط ملط نہیں کرناچاہئے ،خاص طورپر ہمارے جیسے بڑے ملکوں کے معاملے میں جس میں بے شمار نسلی گروپ،مختلف ماحولیاتی پس منظر اورہزاروں زبانیں ہیں۔ہمارے ملک کوکثیر ثقافتی (Multi Cultural)معاشرہ کہاجاسکتاہے ۔آئین ہندکے آٹھویں شیڈول کے مطابق ہمارے ملک میں چارنئی زبانوں کوشامل کرنے کے بعدسرکاری طورپر 22درج فہرست زبانیں ہیں۔یہ چارنئی زبانیں ہیں بوڈو،میتھلی ،سنتھالی اورڈوگری ۔ہر درج فہرست زبان کی بہت سی بولیاں (Dialects)ہیںجومتعلقہ ریاستوں میں بولی جاتی  ہیں۔ان سرکاری زبانوں کوآسانی سے 10روپیے کے نوٹ میں دیکھاجاسکتا ہے(سرگرمی 3دیکھئے )۔اس میں صرف 18زبانیں ہیں،اس لئے کہ یہ نوٹ مذکورہ چارزبانوں کے اضافے سے پہلے کا چھپا ہواہے ۔ان زبانوں کوگنتے وقت یہ مت بھول جائیے کہ ہندی اورانگریزی زبانیں اس نوٹ پر نمایاں حرفوں میں موجود ہیں۔  

سرگرمی 3 

  10روپیے کا نوٹ لیجئے اورا س پر چھپی تصویروں اورلفظوں کوغورسے دیکھئے ۔اس پر آپ ہندی اورانگریزی دونوں میں10’روپے ‘لکھا دیکھیں گے ۔غورکیجئے اس میں کئی اورزبانیں ہیں اوران سب میں ’10روپے ‘ہی لکھا ہواہے ۔نوٹ پر لکھی ہوئی زبانوں کوپہچان کرنے کی کوشش کیجئے ۔اشارہ :یہ زبانیں انگریزی حروف تہجی کے مطابق لکھی گئی ہیں۔


9C.4 ذرائع ابلاغ اورمعاشرہ  (Media and Society)

جدید معاشرے میں ذرائع ابلاغ یامیڈیا ایک بہت اہم عوامل (Factor)ہے۔مقننہ عدلیہ اورانتظامیہ کے ساتھ یہ جدید معاشرے کا چوتھا ستون ہے ۔اول الذکر تینوں کاتعلق سماجی تنظیم ،سماجی کنٹرول اورسماجی افعال سے ہے لیکن میڈیا ایک ایسا وسیلہ ہے جس کے ذریعے ابلاغ کاعمل منظم طورپر گروپ کی سطح پر ہوتا ہے ۔ہمارے پاس مختلف قسم کے میڈیا ہیں جوہمیں مقامی ،قومی اوربین الاقوامی واقعات ،شخصیات اورمعاشرے کی ترقیوں سے باخبر رکھتے ہیں۔جدید معاشرے میں ہم اپنے روز مرہ زندگی میں مختلف ذرائع ابلاغ سے دوچار ہوتے ہیں۔مثلاً ٹیلی ویزن ،اخبار ،ریڈیو،اورانٹرنیٹ۔گویا ان سب ذرائع نے ہمیں ساری دنیا کودیکھنے کے لئے ایک کھڑکی فراہم کردی ہے ۔اگر ذرائع ابلاغ نہ ہوتے توہمیں صرف وہ باتیں معلوم ہوپاتیں جنہیں ہم خود دریافت کرتے ہیں یاپھر جنہیں لوگ ہمیں بتادیتے ہیں۔میڈیا ہمیں ماضی وحال اورنزدیک ودور کی معلومات فراہم کرتاہے اسی لئے یہ ہمارے سماجی رجحانات پربھی گہرا اثر ڈالتا ہے ۔مثال کے طورپر یہ دیکھا گیا ہیکہ ٹیلی ویزن کے اشتہارات ناظرین کے چیزوں کے استعمال کے رجحان پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔یہی سبب ہے کہ ٹیلی ویزن کواب تجارتی کمپنیاں اپنی مصنوعات کے اشتہارات کیلئے بڑے پیمانے پر استعمال کرتی ہیں۔

تعلیم اورکیرئر ،ذرائع معاش سے متعلق موقعوں کے بارے میں میڈیا زبردست معلومات مہیا کراتا ہے ۔مثال کے طورپر امتحانات کی تاریخوں ،نوکریو ںاوروظیفوں وغیرہ کی اطلاعات قومی اخبارات میں شائع ہوتی ہیں۔اس طرح ہم،تعلیم اورملازمتوں سے متعلق درخواست دینے کے لئے مقامات پرآسانی سے پہنچ سکتے ہیں۔یہ بات یادرکھنے کی ہے کہ کسی بھی فردپر میڈیا کی معلومات کے اثرات مختلف عوامل پر منحصر ہوتے ہیں۔مثلاً اس کی عمر،صنف ،تعلیم ،خاندانی اورنسلی پس منظر اورمزاج ۔جب کبھی کوئی نئی تکنالوجی سامنے آتی ہے (جیسے موبائل فون وغیرہ)تویہ دیکھا جاتا ہے کہ نئی نسل پر اس کے اثرات زیادہ ہوتے ہیں(بشرطیکہ ا س تک ان کی رسائی ممکن ہو)۔

۷

سرگرمی 4

کسی تازہ اخبار یارسالے میں ایسا مضمون تلاش کیجئے جودرج ذیل کے بارے میں ہوااوراسے کلاس میں لائیے۔

1۔   کھیلوں سے متعلق مضمون۔

2۔   تعریفی پروگراموں سے متعلق مضمون ۔

3۔   شادی کے اشتہارات

4۔   مصنوعات کے بارے میںاشتہارات

  مختلف طلباء کے جمع کئے گئے مضامین پر کلاس میں بحث کیجئے ۔آپ ان مضامین کی درجہ بندی مختلف طریقوں سے کرسکتے ہیں۔

ٹی وی اوراخبارات کے علاوہ ہم انٹرنیٹ کے ذریعے بھی دنیاسے جڑے ہوئے ہیں۔آج چھوٹے چھوٹے شہروں اوردیہات میں بھی سائبر کیفے موجودہیں۔انٹرنیٹ پر دست یاب معلومات کسی بھی دیگر میڈیا کے ذریعے فراہم شدہ معلومات کے مقابلے میں زیادہ متنوع اورزیادہ تفصیلی ہوتی ہے ۔کسی بھی طاقتورمیڈیاکی طرح انٹرنیٹ بھی خاصانقصان پہنچاسکتا ہے اوراسی طرح کسی بھی دیگر میڈیا کی طرح انٹرنیٹ کا مناسب استعمال معاشرے پر ا سکے مثبت اثرات کا ضامن ہے ۔مثال کے طورپر جب ہم معلومات کیلئے انٹر نیٹ کا استعمال کرتے ہیں توہمیں ایسی بہت سی سائٹیں (Sites)دست یاب ہوتی ہیں جن کا مواد نئی نسل کے ذہنوں کونقصان پہنچاسکتا ہے ۔انٹرنیٹ ایسی معلومات کا بھی ایک طاقت ور ذریعہ بن سکتا ہے جسے وہ لوگ بھی استعمال کرسکتے ہیں جولوگوں اورسماج کونقصان پہنچانے کے درپے ہوتے ہیں۔والدین اورگھر کے دوسرے بڑوں کے لیے  بہت ضروری ہے کہ وہ ان میڈیا پرنظر رکھیں جسے بچے استعمال کرتے ہیں۔کسی غیر ضروری سختی یا پابندی کے بغیر،والدین اساتذہ اوردیگر افراد میڈیا کے بہتر استعمال کے بارے میں بچوں کی رہنمائی کرسکتے ہیں اوراس طرح بچے بہتر اوراہم معلومات جمع کرسکتے ہیں،تفریح حاصل کرسکتے ہیں اوردیگر لوگوں کے ساتھ رابطہ قائم کرسکتے ہیں۔

اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ کوئی بھی میڈیا اپنے آپ میں نقصان دہ نہیں ہے بلکہ ا سکے استعمال کا طریقہ اوروہ مقاصد نقصان دہ ہوسکتے ہیں جن کیلئے ا سکا استعمال کیا جارہا ہے ۔مقصد ہی میڈیا کواچھا یا برا بناتا ہے ۔درج ذیل باکس میں والدین اوربچوں کی نگہ داشت کرنے والوں کیلئے کچھ سادہ سی ہدایات ہیں۔ان کے ذریعے بچوں میں ذمہ دارانہ انداز میں ٹی وی دیکھنے کا سلیقہ پیداکیا جاسکتاہے ۔

بچوں میں ذمہ دارانہ انداز میں ٹی وی دیکھنے کوفروغ دینے کیلئے ،بڑوں کوچاہئے کہ وہ درج ذیل نکات پر توجہ دیں:

•   اس بات سے ہمیشہ باخبر رہیے کہ بچے کیا پروگرام دیکھ رہے ہیں۔بہتر بات یہ ہوگی کہ بچوں کے ساتھ آپ بھی ٹی وی کواپنے متبادل کے طورپراستعمال نہ ہونے دیں۔

•   ٹی وی د یکھنا ایک عادت ہے ۔ا سلئے بچوں کے اس رجحان کوشروع سے ہی قابومیں رکھیے۔

•   اگرآپ یہ چاہتے ہیں کہ بچہ کچھ خاص اوقات میں ٹی وی دیکھے تویہ یادرکھیے کہ ٹی وی دیکھنے کا آپ کا انداز بچے کیلئے بہترین رہنما کا کام کرے گا ۔

•   بچوں سے تفریحی اورمعلوماتی پروگرام دیکھنے کوکہیے ۔

•   ٹی وی کوکسی مرکزی جگہ رکھنا اچھا ہوتا ہے تاکہ ہرشخص اسے دیکھ سکے۔

•    ٹی وی کوسزا مت بنائیے (ٹی وی بند کرکے )،نہ اسکو انعام بنایئے (ہر وقت ٹی وی دیکھنے کی اجازت دے کر)۔ا س سے زیادہ دیر تک ٹی وی دیکھنے کے رجحان میں غیر ضروری پیچیدگی  پیداہوگی ۔

•   امتحانات کے دوران بچے تھوڑا گھومنا پھرنا اورتفریح کرنا چا ہتے ہیں۔ان کوتھوڑا ٹی وی دیکھنے دیجے ۔لیکن خیال رہے کہ بچہ گھر سے باہر کی سرگرمیوں میں دلچسپی لے ۔یہ چیزامتحان کے دوران جذباتی استحکام اوریادداشت کیلئے اچھی ہوتی ہے۔

•   بچے کوبتا ئیے کہ تشدد،خونریزی (چاہے یہ کسی خبر کا حصہ ہی کیوں نہ ہو )ان لوگوں کیلئے تکلیف دہ ہوتی ہے جو ا سکا شکارہوتے ہیں،چاہے آپ کوذرا بھی تکلیف کا احساس نہ ہو۔ 

   ایک دن کے ٹی وی دیکھنے کوچند پروگراموں تک محدود رکھیے ۔پورے دن کیلئے ٹی وی کھلا مت رکھیے۔

•   دیر رات تک چھوٹے بچوں کے ساتھ ٹی وی مت دیکھیے کیونکہ بہت سے پروگرام بچوں کے لیے مناسب نہیں ہوتے ۔

•   ٹی وی کے ساتھ دوسری سرگرمیاں مثلاً انڈورکھیل(Indoor game)،بورڈگیمس،کہانیوں اورکتابوں کواہمیت دیجئے ۔ 


لوگوں پر ایک اوراہم سماجی اثر فلموں کا ہوتا ہے ۔ہندوستا ن سب سے زیادہ فلمیں بنانے والاملک ہے اوراسی لئے یہ کوئی تعجب  کی بات نہیں کہ فلم اسٹا رہماری سب سے زیادہ بااثر رول ماڈلوں میں شامل ہیں۔امیتابھ بچن کے پرستاروں کی تعدادلاکھوں میں ہوگی ۔یہ پرستار امیتابھ کوایک قابل تقلید کردار (Role model)سمجھتے ہیں اوران کی اداکاری ،ان کے انداز یہاں تک کہ ان کی طرززندگی کی نقل کرنے کی کوشش میں لوگ ا ن کے ہی جیسا بننا چاہتے ہیں۔اداکاروں کی شخصیت سرانگیز ہوتی ہے اوروہ سماج پرگہرا اثرڈالتے ہیں۔ان کے ایک ایک کام پر نظررکھی جاتی ہے اورہمارے اخبارات اورٹی وی چینل ان کی ہربات کی خبر رکھتے ہیں۔ہم ان سے متعلق خبروں کوبہت غور سے سنتے ہیں اوراپنے دوستوں اورگھر والوں سے ان کے بارے میں بات چیت کرتے ہیں ۔ا سکے علاوہ فلمیں سماجی حقیقتوں کومنعکس بھی کرتی ہیں اورانہیں متاثر بھی کرتی ہیں ۔مثال کے طورپر، وقت کے ساتھ ساتھ فلموں میں عورت کی تصویر بدل گئی ہے اوراب ہم فلموں میں بہت متنوع قسم کی کہانیوں کوقبول کررہے ہیں۔ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ بہت سی فلموں پر پابندی لگا دی جاتی ہے ۔یہ کام سینسر بورڈبھی کرتا ہے اورمذہبی حلقے بھی ۔اگرفلمیں بااثر نہیں ہوتیں توان پر پابندی نہ لگا ئی جاتی ۔سچائی یہی ہے کہ ہندوستا نی سماج کا کثیر ثقافتی (Multi-Cultural)تانابانافلمی کہانیوں کیلئے نہ صرف مواد فراہم کرتاہے بلکہ یہ فلم بنانے کوطرح طرح کے چیلنجوں سے بھی دوچار کرتا ہے ۔فلمیں مختلف ملکوں کی تہذیب وثقافت کوہم تک پہنچانے کا کام کرتی ہیں۔غیر ملکی فلموں کے ذریعے ہم بہت سے مقامات اوربہت سے لوگوں سے ہی نہیں بلکہ ان کے طرز زندگی کے بعض پہلوؤں سے بھی واقف ہوجاتے ہیں،چاہے یہ طرز زندگی یورپ کا ہو،امریکا کا ہو یا اسٹریلیا کا ۔

ا سطرح مختلف ذرائع ابلاغ ہمارے لئے ساری دنیا سے واقف ہونے کا ذریعہ ہیں ۔ان سے ہماری تفریح بھی ہوتی ہے ،معلومات بھی حاصل ہوتی ہے ،ہم جذباتی طورپر متاثر بھی ہوتے ہیں اوردنیا بھر میں ہمارے چاروں طرف موجود لوگوں کے ساتھ ہمارا سماجی رشتہ بھی قائم ہوتا ہے ۔اس طر ح فلمیں سماجی حقیقت اورثقافتی حرکیات (Cultural Dynamics)یا ثقافتی سرگرمیوں کی ایک اہم جہت ہیں۔

     سرگرمی 5

ایسی تازہ ترین فلم کا نام بتایئے جوآپ نے دیکھی ہو۔فلم کی کہانی اورکرداروں کویا دکیجیے جوآپ کو پسند یاناپسندرہے ہوں۔اپنی پسند ناپسند کی وجوہ بھی تحریر کیجئے ۔


9C.5 انفرادی بچہ،برادری اورسماج 

(The Individual Child, Community and the Society)

بچے جب ایک فرد کی حیثیت سے دنیا میں آتے ہیں توان کوکچھ ایسے لوگوں کا ساتھ ملتا ہے جن سے خاندان کی تشکیل ہوتی ہے ۔آپ پچھلے ابواب میں لوگوں کی زندگی میں خاندان کی اہمیت کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔خاندان سماجی زندگی کی ابتدائی اکائی ہے جونسبتاً وسیع تر سماجی حقیقت یعنی جماعتی زندگی اورفرد کے درمیان اشترا ک کی بنیاد ہوتا ہے ۔خاندان کے افراد ہی (شعوری یا غیر شعوری طورپر )یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ بچے وسیع تر معاشرے کی کون سی اقدار اورکاموں کواختیار کریں گے اورکن اقدار کومسترد کردیں گے ۔اس طرح کسی بھی برادری یا کسی بھی ثقافت کا ہر خاندان یکساں اقدار کا حامل نہیں ہوتا ۔شخصی تجربات ،سماجی اورتاریخی عوامل اورانفرادی مزاج ہرفرد کومنفرد بناتی ہیں ان کی بنیاد پر ہی انسانوں میں اتنا تنوع پایا جاتا ہے ۔

قدرتی یا انسانوں کی لائی ہوئی آفات اورذاتی یا سماجی مشکلات کی وجہ سے کبھی کبھی ایسے حالات پیداہوجاتے ہیں کہ بچے کی نشوونما اوردیکھ بھا ل کرنے والا بھی نہیں ہوتا ۔کبھی کبھی خاندان اتنا غریب ہوتا ہے کہ وہ ڈھنگ سے بچے کی دیکھ بھا ل اورپرورش نہیں کرپاتا ۔ ایسی صورتوں میں یہ یادرکھنا چاہئے کہ بچے کی پرورش کرنا مرکزی یا صوبائی سرکا ر کی ذمہ داری ہے ۔ہمارے آئین میں فراہم کردہ بنیادی حقوق ،بنیادی ضرورتوں کوپورا کرنے کے اقدامات سے تعلق رکھتے ہیں۔ہمارے ملک کے اقتصادی حالات ،وسائل کے فقدان ،ان کی ناکافی تقسیم اورکبھی کبھی انکے لوگوں تک نہ پہنچ پانے کے سبب حکومت مشکلات سے دوچار بچوں اورخاندانو ںکی دیکھ بھال کاکام انجام نہیں دے پاتی ۔یہ ہندوستانی سماج کی ایک تکلیف دہ حقیقت ہے کہ ٹکنالوجی اورتعلیم کی ترقی کے میدانوں میں کامیابی کے باوجود ہم آج بھی تمام بچوں کی مناسب غذا ،تعلیم اورصحت خدمات فراہم کیے جانے کویقینی نہیں بناسکے ہیں۔ہمیں ابھی اس منزل تک پہنچنے کیلئے ایک طویل سفرکرناہے تب ہمارا سماج منظم ہوکرمشکل حالات سے دوچا رلوگوں کی زیادہ موثر نگہ داشت کے کام میں شریک ہوسکے گا ۔اس میں شک نہیں کہ غیر حکومتی تنظیمیں (NGO)ایسے حالات سے نمٹنے کیلئے ترقیاتی پروگراموں اوربیداری پیدا کرنے کے اقدامات کے ذریعے متبادل کے طورپر اپنی جیسی کوشش کررہی ہیں ،لیکن ضرورت ا س بات کی ہیکہ سرکاری مشینری زیادہ قوت ارادی ،بہتر اخلاقیات اوربہترمالی وسائل کے ساتھ مشکل حالات سے دوچار بچوں اورلوگوں کو صحت خدمات ،تعلیم ،تفریح اورمجموعی سلامتی فراہم کرنے کی ذمہ داری اٹھائے ۔

  ہمیں اس بات سے بھی باخبر ہوناچاہیے کہ جہاںبرادری ہمیں تحفظ فراہم کرتی ہے اورہمیں اپنی بر ادری میں بعض حقوق حاصل ہوتے ہیں تووہیں ہماری کچھ انفرادی اوراجتماعی ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں۔برادری اورسماج سے جوکچھ حاصل ہوتا ہے ،اسے وہ سب واپس کرنا بھی ہرفرد کی اہم ذمہ داری ہے۔یادرکھیے کہ انفرادی عزم اورحصہ داری کا بغیر برادریاں باقی نہیں رہ سکتیں ۔اسلئے آپ کویہ عزم کرنا ہے کہ آپ کواپنے خاندان ،برادری ،سماج ،ملک اورساری دنیا کا ایک سرگرم رکن بنناہے اوراس طرح آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کیلئے اپنا کردار اداکرنا ہے ۔فرد اورجماعت کے رشتے کی طاقت یہی ہے کہ وہ ایک دوسرے پر منحصر ہوتے ہیں اوران کے حقوق اورذمہ داریاں مشترک ہوتی ہیں۔ہم سب کیلئے ان ذمہ داریوں کواداکرنا ضروری ہے ۔

آئندہ چارابواب میں ہم کچھ اہم سرکاروں کے بارے میں پڑھیں گے جن کی سماج کے لوگوں کیلئے بڑی اہمیت ہے ۔یہ میں صحت اورتغذیہ ،کام اورکام کی جگہ ،وسائل کی فراہمی ،خواندگی اورتعلیم،اوراپنے ملک کی کپڑوں اورملبوسات کی وراثت۔

کلیدی اصطلاحات 

برادری (Community)،معاشرہ(Society)،ثقافت(Culture)،سماجی کنٹرول(Social Control)،ٹیلی ویزن ،انٹرنیٹ،حقوق اورذمہ داریاں (Rights and Responsibilities)


•    سوالات برائے نظر ثانی 

1۔   برادری کے مفہوم سے مختصربحث کیجئے۔برادری کے کچھ کام بھی بتائیے ۔

2۔   آپ لفظ معاشرہ سے کیا سمجھتے ہیں؟یہ برادری سے کس طرح مختلف یاا سکے جیسا ہے ؟

3۔   ثقافت (Culture)کیا ہے ؟مثالوں کے ذریعے وضاحت کیجئے ۔

 4۔   ٹی وی اورانٹرنیٹ سماج پر کس طرح اثرانداز ہوتے ہیں؟

5۔   ان طریقوں سے بحث کیجئے جن سے ایک فرد سماج کواپنا تعاون دے سکتا ہے؟


عملی کام 9

  برادری اورسماج

موضوع: مختلف حالات کے تحت گروپ حرکیات (Dynamics)یا جماعتی سرگرمیوں کا مشاہدہ کرنا اورقلم بند کرنا 

کام:گھر طعام گاہوں (Eateries)،کھیل کے میدان ،اسکول اورتفریح گاہوں میں گروپ حرکیات کامشاہدہ کرنا ۔

عملی کام کا مقصد :اوپر جن جگہوں کا ذکر کیا گیا وہ برادریوں کی مختلف شکلیں ہیں۔ہر برادری میں ایک دوسرے سے بات چیت کرنے یا کسی قسم کا رد عمل ظاہر کرنے کے طور وطریقے ہوتے ہیںجن کا انحصار ا س برادری کی تشکیل کے مقصد،اس کے افراد کی ایک دوسرے سے قربت اورا س کی مدت پر ہوتا ہے ۔

عملی کام کی انجام دہی :درج ذیل میں سے ہر جگہ ایک گھنٹہ گزارئیے اوروہاں آپ کی موجودگی میں رونما ہونے والی جماعتی سرگرمیوں کودیکھئے :

گھر ،طعام گاہوں ،کھیل میدان ،اسکول ،سیر گاہیں۔

  وہاں موجود لوگوں سے آپ گفتگو کرنے کی ضرورت انہیں ۔آپ کوصرف انہیں دیکھنا ہے ۔ہاں اگرکوئی آپ سے بات شروع کرے توآپ فطری طریقے سے اس کا جواب ضرور دیجئے ۔مذکورہ بالاہربرادری میں آپ مندرجہ ذیل باتوں پرغور کرسکتے ہیں:

•   اس مقام پر موجود لوگوں کی تعداد ۔

•   کیا وہاں تمام لوگ ایک باہم مربوط حلقے کی شکل میں تھے یا چھوٹے چھوٹے گروپوں میں؟

•  گروپ کے لوگوں کی عمریں کیاتھیں؟

•   گروپ کے مختلف لوگ کیا کررہے تھے ؟کیا کچھ لوگ دوسروں کے مقابلے زیادہ فعال تھے ؟مثال کے طورپر کیا گروپ کا کوئی قائد تھا اوردوسرے لوگ اس کے کہنے پر چل رہے تھے؟

•   ان کی آپس میں بات چیت کاانداز کیا تھا ؟رسمی تعارف مرکوز(Hieararchical)

•   گروپ کے افراد کس زبان میں بات کررہے تھے ؟مادری زبان یا انگریزی ؟کیا یہ زبان رسمی تھی یا غیر رسمی ؟

گروپ کے لوگ کتنی دیر تک ا یک ساتھ رہے ۔کیا یہ گروپ پھر کسی دن جمع ہوگا یا یہ ا سکے افراد ایک باریک جا ہوئے تھے؟

مندرجہ ذیل جدول کا استعمال کرکے اپنے مشاہدات قلم بند کیجئے۔


گروپ حرکیات  برادی 
حلقے کے لوگ صرف ایک بار جمع ہوئے یا بار بار ابلاغ کا انداز:بولی جانے والی زبان  افراد کے نام  موجودہ لوگوں کی تعداد،عمر تفاوت 


کلاس میں 4-5طلباء کے گروپ بنائیے اورہر ایک کے سامنے اپنے مشاہدات پیش کیجئے ۔آپس میں اس بات پر مباحثہ کیجئے کہ کیا مختلف برادریوں کی سرگرمیاں یکساں تھیں یا مختلف ۔ہر گروپ اپنے مشاہدات ساری کلاس کے سامنے پیش کرے۔