Skip to content
Insanimaholiatauruloom-I-001


باب - 10


مختلف سماجی حالات کے سروکار اورضرورتیں 

(Concerns and Needs in Diverse Contexts)

A:تغذیہ ،صحت اورصفائی

(Nutrition, Health and Hygiene)

آموزشی مقاصد 

اس سیکشن کے مطالعے کے بعد طلبا:
•   صحت اور ا سکی مختلف جہات کی اہمیت پر بحث کرسکیں گے ۔
•   تغذیہ اورصحت کے باہمی رشتوں کوسمجھ سکیں گے ۔
•   تغذیے کی قلت (under nutrition)اورکثرت تغذیہ (overnutrition)کے نتائج جان سکیں گے ۔
•   مناسب اورصحت مند غذائی عادتوں کاانتخاب کرسکیں گے ۔
•   تغذیہ اوربیماری کے درمیان باہمی تعلق کی نشان دہی کرسکیں گے ۔
•   غذاؤں سے پیداہونے والی بیماریو ں کی روک تھام میں صفائی کی اہمیت کی (Sanitation)وضاحت کرسکیں گے ۔


10A.1   تعارف 

ہر شخص اچھی زندگی گزارنا پسند کرتا ہے اورصحت وسلامتی کے ساتھ رہنا چاہتا ہے ۔1948میں انسانی حقوق کے عالمی منشور میں یہ بات کہی گئی تھی کہ ’’ہر شخص کو ایک ایسی زندگی گزارنے کاحق حاصل ہے جواسے اوراس کے خاندان کی صحت وسلامتی اورغذا فراہم کرنے کیلئے مناسب ہو‘‘۔اس کے باوجود کئی ماحولیاتی حالات اورہمارے اپنے طرز زندگی کے اثرات ہماری صحت پرپڑتے ہیں جوکبھی کبھی مضر بھی ہوتے ہیں۔آئیے سب سے پہلے’ہم لفظ صحت کی‘وضاحت کریں ۔صحت کے متعلق ممتازترین تنظیم یعنی عالمی صحت تنظیم (WHO)نے ’صحت ‘کی تعریف اس طرح بیان کی ہے ’’صحت ایک مکمل ذہنی ،جسمانی اورسماجی سلامتی کی حالت ہے اوریہ محض بیماری نہ ہونے کا نام نہیں‘‘بیماری کا مطلب جسمانی صحت میں خلل اورجسم کے کسی عضو یا حصے کے افعال میں رکاوٹ بگاڑ اورایسی تبدیلی ہے جس سے اس عضو کے معمول کے افعال (normal functions)میں بے قاعدگی پیدا ہوتی ہے اوروہ مکمل سلامتی کی حالت سے دورجاپڑتے ہیں۔صحت ایک بنیادی انسانی حق ہے ۔تمام لوگوں کی عمر ،صنف ،نسل ،عقیدے ،مذہب،جائے رہائش (شہری ،دیہی ،قبیلہ جاتی )اورقومیت کی کسی بھی تفریق کے بغیر زندگی بھر صحت کابلند ترین معیار حاصل کرنے اوراس کوبرقراررکھنے کاحق حاصل ہے ۔  

صحت کے ماہرین (وہ لوگ جوصحت کے مختلف پہلوؤں سے وابستہ ہوں )کاعمومی مقصد اچھی صحت کوفروغ دینا ہے ،۔یعنی زندگی کی بہبود یاسلامتی کوبرقرار رکھنے میں تعاون دینا ہے ۔


10A-2  صحت اورا سکی جہات  (Health and its Dimensions)

آپ نے غورکیا ہوگا کہ صحت کی تعریف میں کئی جہات (یعنی جسمانی ،سماجی اورذہنی )شامل ہیں۔جسمانی صحت پر تفصیل سے بات کرنے سے پہلے ہم مختصر طورپر ان تینوں جہتوں کے بارے میں غورکریں گے ۔
سماجی صحت (Social Health):سماجی صحت سے مراد افراد اورسماج کی صحت ہے ۔جب ہم سماج کی بات کرتے ہیںتوہم اس سماج کا ذکرکررہے ہوتے ہیں جہاں تمام شہریوں کواچھی صحت کیلئے ضروری تمام بنیادی حیزیں اورخد مات حاصل کرنے کے یکساں مواقع ملیں۔جب ہم افراد کی بات کرتے ہیں توہماری مراد ہرفردکی بہبود ہوتی ہے ۔یعنی ہرفرد دوسرے لوگوں اورسماجی اواروں کے ساتھ خوشگوار تعلق رکھے ۔سماجی صحت میں ہماری سماجی صلاحیتیں اورسماج کے فردکی حیثیت سے کام کرنے کی اہلیت شامل ہیں۔جب ہم مشکلات اورتناؤ یادباؤ سے دوچارہوتے ہیںتوسماجی تعاون ہمیں مقابلے کی ہمت اوردرپیش مسئلے کوحل کرنے میں مدددیتا ہے ۔سماجی تعاون کے اقدامات بچوں اوربالغوں میں مثبت سماجی مطابقت اورہم آہنگی پیداکرتے ہیں اورشخصی نشوونماکوفروغ دیتے ہیں ۔سائنسی تحقیقات سے معلوم ہواہے کہ جولوگ سماج کے ساتھ اچھی مطابقت رکھتے ہیں ان کی عمر زیادہ ہوتی ہے اوروہ بیماریوں سے بھی جلدصحت مند ہوجاتے ہیں ۔اسی لئے آج کل سماجی صحت کوبہت اہمیت حاصل ہوتی جارہی ہے۔صحت کے چند سماجی عوامل حسب ذیل ہیں: 
-   روزگار کی نوعیت 
 -   کارخانے یادیگر کام کرنے کی جگہوں پر حفاظت 
-   صحت خدمات کی دست یابی
-   ثقافتی ،مذہبی عقائد ،اخلاقی پابندیاں ،اقدار کا نظام
-   سماجی ،اقتصادی اورماحولیاتی حالات 
 ذہنی صحت :  اس سے مراد جذباتی اورنفسیاتی بہبود ہے ۔جس شخص کونفسیاتی سلامتی کا احساس ہوگا وہ اپنی ادراکی اورجذباتی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرسکے گا ،سماج میں اچھی طرح رہ سکے گا اورروز مرہ زندگی کے عام تقاضوں کوپورا کرسکے گا ۔ذیل میں دیے گئے خانے میں ذہنی صحت کے کچھ اشارے دیکھیے۔

مثبت ذہنی صحت والاشخص -

•   محسوس کرتا ہے کہ وہ باصلاحیت اورکام کرنے کا اہل ہے ۔
•   روز مرہ زندگی میں پیش آنے والے دباؤیاتناؤ سے نمٹ سکتاہے۔
•   اس کے سماجی رشتے اطمینان بخش ہوتے ہیں۔
•   خود اپنے بل پرزندگی گزارسکتا ہے ۔
•   اگر کسی جذباتی یا ذہنی تناؤ یادباؤ کا شکار ہوتاہے تواس صورت حال کا مقابلہ کرتا ہے اوراس سے باہر آسکتا ہے ۔
•   حالات سے خوف زدہ نہیں ہوتا ۔
•   اگرچھوٹی موٹی مشکلات یامسائل کا سامنا ہوتو غیر معمولی طویل مدت تک شکست خوردگی یا کم ہمتی میں مبتلا نہیں ہوتا ۔
جسمانی صحت : صحت کا یہ پہلو جسمانی تن درستی (Physical fitness)اورجسم کے کاموں پر مشتمل ہے ۔جسمانی طورپر صحت مند وہ شخص ہے جواپنے معمولات کوانجام دے سکے۔غیر معمولی طورپر تھکاوانہ محسوس کرے اورجراثیم زدگی (Infection)  اوربیماری سے مزاحت کی مناسب صلاحیت رکھتاہو۔

10A-3  صحت کی نگہ داشت  (Health care)

ہرشخص اپنی صحت کا خود ذمہ دارہے لیکن یہ ایک اہم اورسماجی سروکار (Public Concern)بھی ہے ۔اس لئے حکومت اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری اداکرتی ہے اورملک کے شہریوں کومختلف سطحوں پر صحت سے متعلق خدمات مہیا کراتی ہے ۔دراصل اچھی صحت فرداورخاندان دونوں کیلئے معیاری اوربہتر زندگی کی اساس ے اوربرادری اورملک کی سماجی ،اقتصادی اورانسانی ترقی کویقینی بنانے کی بنیادبھی ۔
صحت کی دیکھ بھال ان مختلف خدمات پر مشتمل ہوتی ہے جنہیں صحت خدمات سے متعلق اداروں کے کارکن یاماہرین ،صحت کے فروغ ،ا سکی دیکھ بھال،نگرانی یابحالی کےلیے افراد اوربرادریو ں کومہیا کرائی جاتی ہیں۔ابتدائی ،ثانوی اورتیسری ۔ایک مثال سے یہ بات واضح ہوجائے گی ۔گاؤں میں عام طورپر ابتدائی صحت مرکز ہوتا ہے جس میں صحت کی ابتدائی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ضلع اسپتال میں ثانوی درجے کی صحت خدمات کا انتظام ہوتا ہے ۔دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائسنز(AIIMS)جیسے اسپتالوں میں تیسرے (Tertiary)درجے کی نگہ داشت فراہم کی جاتی ہے ۔اس اسپتال میں ایسے مریضوں کولیاجاتاہے جنہیں ثانوی سطح کے اسپتال بہتر علاج کیلئے بھیجتے ہیں۔ 

10A.4  صحت کے اشاریے (Indicators of Health)

صحت کثیر جہتی ہوتی ہے اورہر جہت (Dimension)کومتاثر کرنے والے کئی عوامل ہوتے ہیں۔اس طرح صحت کااندازہ کرنے کے کئی اشاریوں (Indicators)کا استعمال کیاجاتا ہے ۔ان اشاریوں میں اموات ،امراض ،معذوری کی شرح،تغذیاتی صورت حال،صحت خدمات اوران کی فراہمی ،استفادہ ،صحت پالیسی(Health Policy)اورمعیار زندگی (Quality of Life)وغیرہ شامل ہیں۔

10A.5  تغذیہ اورصحت  (Nutrition and Health)

تغذیے اورصحت کا بڑا قریبی تعلق ہے ۔’سب کیلئے صحت‘کے عالمی پروگرام میں،تغذیے کا فروغ بنیادی عناصر میں شامل ہے ۔
تغذیے کا تعلق جسمانی اعضاء اوربافتوں کی ساخت اوران کے کاموں کی دیکھ بھال سے ہے ۔یہ جسم کی نشوونما سے بھی تعلق رکھتا ہے ۔اچھا تغذیہ لوگوں کوصحت مندانہ زندگی گزارنے ،جراثیم زدگی (Infection)سے مقابلہ کرنے،توانائی کی مناسب سطح برقرار رکھنے اوراپنے سارے کام تھکن محسوس کیے بغیرکرنے میں مد ددیتا ہے ۔بچوں اورنوبالغوں کی نشوونما ،ذہنی نمو اورصلاحیتوں کوبروئے کارلانے میں  تغذیے کی بڑی اہمیت ہے ۔بالغ افراد کوسماجی اوراقتصادی طورپر مفید اورصحت مند زندگی گزارنے کیلئے کافی مقدار میں تغذیہ بہت ضروری ہے۔ کسی بھی شخص کی تندرستی اورصحت اس شخص کی غذائی اورتغذیاتی اجزابہت صائع ہوتے ہیں۔اسی لئے بیماری اورمرض تغذیاتی حالت پر برااثر ڈالتے ہیں ۔اسلئے تغذیہ انسانی زندگی ،صحت اورترقی’بنیادی ستون ‘ہے۔

10A.6  تغذیاتی عناصر (Nutrients)

غذاؤں میں تقریباً 50سے زیادہ تغذیاتی عناصر کوانسانی جسم کیلئے ان کی ضروری مقداروں کی بنیادپر کثیر تغذیاتی عناصر (Macronutrients)(جن کی نسبتاً زیادہ مقدار میں ضرورت ہوتی ہے )اورقلیل تغذیاتی عناصر(Macronutrients)(جنکی کم مقدار میں ضرورت پڑتی ہے )میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔چربی ،پروٹین ،کاربوہائڈریٹ اورریشے (Fiber)عموماً کثیر تغذیاتی عناصر کا حصہ ہوتے ہیں۔قلیل تغذیاتی عناصر میں معدنیات مثلاًلوہا،جست (Zinc)،سلی نیم(Selenium)جیسی دھاتیں اورچربی اورپانی میں تحلیل ہوجانے والے وٹامن شامل ہیں۔ان میں سے ہرایک بہت اہم کام انجام دیتا ہے ۔کچھ تغذیاتی عناصر جسم میں ہونے والے مختلف استحالاتی (Metabolic)افعال میں معاون عاملوں (Co- Factors)اورمعاون خامروں(Co- enzyme)کے طورپر کام کرتے ہیں۔یہ عناصر جین کی تشکیل اوراندراج (Transcription)میں موثرہوسکتے ہیں۔مختلف اعضا اورنظام معدنیات کے ہضم ،انجذاب ،استحالے(Metabolism)ذخیرے اوراخراج اوران کے استحالے کے نتیجے میں انہیں آخری شکل دینے میں بہت اہم کردار اداکرتے ہیں۔دراصل جسم کے تمام حصوں کے خلیے کوتغذیاتی عناصر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ایک عام صحت مند جسمانی حالت میں ان عناصر کی ضرورت عمر،صنف اورعضویاتی حالت (Physlological state)کے مطابق الگ ا لگ ہوتی ہے ۔بہ الفاظ دیگر نشوونما کے مختلف ادوارجیسے شیر خوارگی ،بچپن ،نوبلوغت اورعورتوں میں حمل ورضاعت کے دوران یہ ضرورت الگ الگ ہوتی ہے ۔ہر جسمانی سرگرمی کی سطح بھی توانائی اورتوانائی کے استحالے میں شامل تغذیاتی عناصر مثلاً تھائی مین اورریبوفلے ونی جیسے وٹامنوں کی ضرورت کومتعین کرتی ہے ۔
تغذیاتی عناصر ،ان کے استحالے ،ذرائع اوران کے کاموں کی معلومات ،بہت اہم ہے ۔ہر شخص کوایسی متوازن غذاکھانی چاہئے جس میں مطلوبہ مقدار میں تمام ضروری تغذیاتی عناصر موجودہوں۔
تغذیے کی سائنس کا تعلق زندگی ،نشوونما اورسلامتی کیلئے غذا اورتغذیاتی عناصر کے حصول ،فراہمی اوراستعمال سے ہے ۔ 
ماہرین تغذیہ (اس شعبے میں کام کرنے والے پیشہ وارانہ ماہرین)کاتعلق صحت وتندرستی کے بہت سے پہلوؤں سے ہے ۔ان میں حیاتیاتی اوراستحالاتی پہلو اورامراض کی مختلف حالتیں اوران کے دوران جسم کوتغذیے کی فراہمی کے طریقے (کلینکل تغذیہ )شامل ہیں۔تغذیے کے شعبہ علم کے تحت لوگوں کی تغذیاتی ضروریات اوران کے تغذیاتی مسائل ،تغذیاتی عناصر کی کمی سے پیداہونے والے مسائل (عوامی تغذیہ )اوردل کے امراض ،ذیابیطیس ،سرطان اورہائپر ٹینشن جیسی بیماریوں کی روک تھام کا مطالعہ کیا جاتا ہے ۔

1

ہم سب جانتے ہیں کہ جب کوئی شخص بیمار ہوتا ہے تو اس کا کھانا کھانے کاجی نہیں کرتا ۔ایک شخص کیا اور کس طرح کھاتا ہے یہ بات صرف ا س شخص کے ذائقے پر ہی منحصر نہیں بلکہ ا سمیں دوسرے عوامل بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں،مثلاً غذاکی فراہمی (غذا ئی تحفظ )جس کا قریبی تعلق قوت خرید (اقتصادی پہلو )سے ہے ،ماحولیات (پانی اورآب پاشی)اورقومی وبین الاقوامی پالیساں ۔تہذیب،مذہب ،سماجی حالت یامرتبہ عقیدے اورممنونات (Taboos)بھی ہماری غذا ئی پسند اورناپسند ،مقدار غذا اورتغذیاتی حالت کومتاثر کرتے ہیں۔
اچھی صحت اورتغذیہ کس طرح ہماری مددکرتے ہیں؟:اپنے چاروں طرف نظر دوڑائیے ۔آپ دیکھیں گے کہ صحتمند لوگ عام طورپر خوش وخرم رہتے ہیں اوروہ دوسروں کے مقابلے کام بھی زیادہ کرتے ہیں۔صحت مند والدین اپنے بچوں کی اچھی طرح دیکھ بھال اورپرورش کرسکتے ہیں۔صحت مندبچے عموماً خوش بھی رہتے ہیں اوراسکول میں بھی ان کی کارکردگی اچھی ہوتی ہے ۔اس طرح کوئی شخص صحتمند ہوتا ہے تووہ اپنے لئے بھی زیادہ تعمیری کام کرسکتا ہے اورمعاشرے کی سطح پر بھی مختلف سرگرمیوں میں سرگرم حصہ لے سکتاہے ۔ظاہر ہے کہ اگرکوئی بھوک کا مارا ہوا ہے یاتغذیے کی قلت کا شکارہے تووہ صحتمند اورتعمیری صلاحیتوں کاحامل کس طرح ہوسکتا ہے ،دوسرے لوگوں کے ساتھ مل جل کر کیسے رہ سکتا ہے اورسماج کا معاون ومددگا ر کیسے ہوسکتا ہے:

جدول :1مناسب تغذیاتی حالت بہت ضروری ہے کیونکہ یہ 

•   جسم کے وزن کوبرقرار رکھتی ہے
عضلات کے حجم کوبرقرار رکھتی ہے
•   معذور ہوجانے کا اندیشہ کم کرتی ہے
•  جراثیم زدگی کے خلاف مزاحمت پیدا کرتی ہے 
•   جسمانی اورذہنی دباؤ کا مقابلہ کرنے میںمددکرتی ہے
•  تعمیری صلاحیتوں کوبہتر کرتی ہے
پیداواریت 
غذا    مناسب تغذیہ    مثبت صحت     صفائی اور صحت       خدمات اور سہولت رسائی       تعلیم اور مہارتیں      اچھا ماحول 
2
شکل 1: تعمیری صلاحیتوں کیلئے صحت اورتغذیے کے وسائل
شکل 2سے بچوں کی تعلیم کیلئے اچھی تغذیاتی حالت کے فوائد معلوم ہوتے ہیں۔
اچھا تغذیہ مثبت اثر ڈالتا ہے 
ذہنی ارتقا پر           عام صحت پر            بینائی پر 
اس سے ادراکی نمو کو فروغ ملتا ہے            ماحول سے سرگرم تفاعل ،نتیجہ :غیر حاضری میں کمی ،ناکام ہونے اور ترک تعلیم کے اندیشے    میں کمی 
بینائی متاثر ہو جانے کا اندیشہ کم ہو جاتا ہے 
حافظہ 
توجہ کی مدد
ارتکاز



3

شکل :2بچوں کی تعلیم کیلئے اچھی تغذیاتی حالت کے فوائد
 
نامناسب تغذیہ کیاہے ؟(What is malnutrition):نامناسب تغذیہ ،تغذے کی عا م حالت سے ہٹ جاتا ہے ۔جسم کوتغذیے کی جتنی مقدار مطلوب ہوتی ہے ،تغذیے کا ا س سے کم یازیادہ استعمال نامناسب تغذیہ کا سبب بنتا ہے ۔اس طرح نامناسب تغذیے کی دوشکلیں ہوتی ہیں ۔ایک تغذیاتی قلت (Undernutrition)اوردوسری تغذیاتی کثرت (Overnutrition) تغذیاتی عناصر کا ضرورت سے زیادہ استعمال تغذیاتی کثرت کا اورناکافی استعمال تغذیاتی قلت کا سبب بنتا ہے ۔نوبلوغت میں نامناسب تغذیے کا اہم سبب غلط غذائوں کا انتخاب اورغذاؤں کا غلط امتزاج (Combination)بھی ہوتا ہے ۔

10A.7 تغذیاتی سلامتی پر اثر انداز ہونے والے عوامل  (being Factors affecting nutritional well - )

عالمی صحت تنظیم (WHO)نے چارایسے اہم عوامل کی فہرست تیار کی ہے جوتغذیاتی سلامتی کیلئے اہم ہیں(جیساکہ یہاں دی گئی شکل میں دکھایا گیاہے )۔
تغذیہ سلامتی 
غذا اورتغذیہ کا تحفظ 
بیماری سے متاثر ہوسکنے والوں کی نگہ داشت 
سب کیلئے اچھی صحت 
محفوظ ماحول 

اب ہم ان عوامل میں سے ہر ایک کا مختصر بیان کرتے ہیں۔
غذا اورتغذیے کا تحفظ :غذا اورتغذیے کے تحفظ کا مطلب یہ ہے کہ ہرشخص کو(وہ کسی بھی عمر کا ہو)پورے مطلوبہ مقدار میں غذا اورتغذیہ حاصل ہو،تا کہ وہ ایک صحت مند زندگی گزارسکے ۔
بیماری سے جلد متاثر ہونے والوں کی دیکھ بھال :ا سکامطلب یہ ہے کہ ہرفرد کومشفقانہ نگہ داشت اورتوجہ ملنی چاہیے ۔چھوٹے بچوں کے معاملے میں اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ ان کوخاندان اورسماج کی طرف سے اورکام کاجی ماؤں کے معاملے میں مالکان کی طرف سے دیکھ بھال اورتعاون ملنا چاہیے ۔اسی طرح جولوگ بیمارہوں۔ان کوبھی مختلف سے نگہ داشت اورتعاون ملنا چاہیے ۔مثلاً غذا ،تغدیہ اورطبی مددوغیرہ۔
سب کےلیے صحت’سب کیلئے صحت ‘میں بیماروں کی روک تھام اوربیمارہوجانے کی صورت میں بیماری کا علاج شامل ہے ۔متعددی بیماریوں کی صورت میں خصوصی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ،کیونکہ ان بیماریوں کے سبب جسم میں تغذیاتی عناصر ختم ہوجاتے ہیںجس سے اورتغذیاتی حالت کمزورہوجاتی ہے ۔ہرشہری کاحق ہے کہ اسے صحت کی کم سے کم نگہ داشت ضرور حاصل ہو۔صحت انسان کابنیادی حق ہے ۔اسہال (Diarrhoea)سانس کی بیماریاں ،خسرہ ،ملیریا اورتپ دق یا ٹی بی جیسی بیماریوں ہندوستان میں ،خاص طورپر چھوٹے بچوں میں ،عام ہیں،جوموت کا سبب بنتی ہیں۔
محفوظ ماحول: محفوظ ماحول میں ماحول کے تمام پہلو اورایسی جسمانی ،حیاتیاتی اورکیمیائی اشیاء شامل ہیںجوصحت پراثر انداز ہوسکتی ہیں۔محفوظ ماحول میں محفوظ پینے کا پانی ،صاف غذا اورماحولیاتی آلودگی اورتباہی (Degradation)کی روک تھام شامل ہے۔

10A-8 تغذیے کے مسائل اوران کے نتائج  (Nutritional Problems and their Consequences)

ہندوستان کے لوگوں کوتغذیہ سے متعلق کئی مسائل کا سامنا ہے ۔ان میں سب سے بڑا مسئلہ تغذیاتی قلت کاہے۔ہندوستان میں یہ صورت حال حاملہ خواتین کے ساتھ زیادہ ہے جوقلت تغذیہ کی خود بھی شکارہیں اوران بچوں کا وزن بھی پیدائش کے وقت کم ہوتا ہے ۔ایسے بچوں (تین سال سے کم عمر والے)کم وزن بچوں کی نشوونمابھی رک جاتی ہے ۔ہندوستا ن میں پیدا ہونے والے ایک تہائی بچے پیدائش کے وقت کم وزن کے ہوتے ہیں۔یعنی ان کا وزن 2500گرام سے کم ہوتا ہے ۔اسی طرح عورتوں کی ایک بڑی تعدادایسی ہے جن کے جسم کا وزن کم رہتا ہے ۔تغذیے سے تعلق رکھنے والی کچھ اورخرابیاں بھی ہوتی ہیںجیسے لوہے کی کمی پر مبنی خون کی کمی (Anaemia)،وٹامن A کی کمی (جس کے نتیجے میں نابینائی پیدا ہوجاتی ہے )،آیوڈین کی کمی وغیرہ ۔قلت تغذیہ سے کئی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
تغذیاتی قلت (undernutrition):تغذیاتی قلت سے جسم کا وزن گھٹ جاتا ہے ،دوسرے سب سے خطرناک اثر یہ پڑتا ہے کہ بچوں کی ذہنی نمو(cognitive development)اوران کا دفاعی نظام متاثر ہوتا ہے ۔ا سکے علاوہ وٹامن ’اے‘کی کمی کی وجہ سے اندھے پن جیسی معذوری پیدا ہوسکتی ہے ۔آیوڈین کی کمی بھی خاص طورپر حاملہ خواتین اوربچوں کی صحت اوران کی نشوونما کیلئے ایک بڑاخطرہ ہوتی ہے کیونکہ اس کی وجہ سے حاملہ عورتوں کواسقاط ہوجاتا ہے ،بچے مردہ پیدا ہوتے ہیں۔بچوں کوگھینکا ،(goitre)ہوجاتا ہے ،وہ گونگے بہرے ہوجاتے ہیں،ذہنی طورپر سے معذور ہوجاتے ہیںیا پیدائشی طورپر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں۔
لوہے کی کمی کا بھی صحت اورسلامتی پرمنفی اثر پڑتا ہے ۔شیر خوار اورچھوٹے بچوں میں لوہے کی کمی وجہ سے نفسی حرکی (psychomotor)کے صلاحیت کے فروغ اورذہنی نمو میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اورا سطرح علمی وتعلیمی کا رکردگی بہت زیادہ متاثر ہوجاتی ہے ۔لوہے کی کمی سے جسمانی سرگرمی بھی کم ہوجاتی ہے ۔حمل کے دوران اس سے جنین(foetus)کی نشونما متاثر ہوتی ہے اورماں کی بیماری اورموت کا اندیشہ بھی بڑھ جاتا ہے ۔
تغذیاتی قلت کے ساتھ تغذیاتی کثرت بھی اچھی چیز نہیں ہے ۔تغذیاتی عناصر کی کثرت سے صحت کے کئی مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔کچھ تغذیاتی عناصر کی کثرت سے سمیت (toxicity)پیداہوجاتی ہے اورنتیجتا ً وزن بڑھ جاتا ہے اورموٹاپے کی شکایت بھی ہوجاتی ہے ۔موٹاپے سے کئی بیماریو ں جیسے ذیابطیس ،امراض قلب اورہائی پرٹینشن وغیرہ کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے ۔ہندوستان میں ہمیں دونوں قسم کے مسائل درپیش ہیں  یعنی قلت تغذیہ سے متعلق بھی اور کثرت تغذیہ سے متعلق بھی ۔قلت تغذیہ سے تغذیاتی خامیا ں (Nutritional deficlenies)پیدا ہوتی ہیں اورکثرت تغذیہ کی وجہ سے غذا سے متاثرہ مستقل اورغیر متعدی امراض پیدا ہوتے ہیں۔ا س صورت حال کو(جس میں تغذیہ کی قلت اورکثرت دونوں ہوں)’’نامناسب تغذیے کادوطرفہ بار‘‘(Double burden of malnutrition)کہاجاتا ہے ۔ہمارے ملک میں تیسرے نیشنل اینڈ فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق شہری علاقو ں کے 28.9فیصد مرداور22.2فیصد عورتوں کا وزن زیادہ ہے یاپھر وہ موٹاپے کے شکا رہیں ۔یہ فیصد شرح دیہی مردوں میں (8.6) اورعورتوں میں (7.3)میں کافی کم ہے۔
تغذیہ اورجراثیم زدگی (Nutrition and Infection):تغذیہ کی ضرورتوں کوپورا کرنے کیلئے لیم نامناسب مقدار میں غذا مہیا کردینا ہی کافی نہیں ہوتا ۔ا سمیں ماحول کا اثر بھی اہم ہوتا ہے ۔تغذیاتی عناصر اورغذا کی بھر پورمقدار میں فراہمی پر ہی تغذیے کا انحصار نہیں ہے بلکہ بڑی حدتک اس بات پر بھی ہے کہ اسکی صحت کیسی ہے ؟تغذیہ اورجراثیم زدگی کا قریبی تعلق ہے ۔اگر کسی کی صورت حال خراب اورناکافی ہے توا سکی مزاحمت اوردفاع کی صلاحیت میں گراوٹ آئے گی اورنتیجتاً جراثیم زدگی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔اس کے برخلاف جراثیم زدگی کے دوران جسم (قے اوردست وغیرہ کے ذریعے )تغذیاتی عناصرکی کافی مقدار کوکھودیتا ہے جبکہ ا سکی تغذیاتی عناصر کی ضرورت حقیقتاً بڑھ جاتی ہے ۔اگربھوک کی کمی یا (الٹی ،قے ہوتو)نہ کھاسکنے کی وجہ سے ،تغذیاتی عناصر کی اتنی مقدار جسم کونہیں ملے گی جتنی اسکوضرورت ہے اوراس طرح جراثیم زدگی ،تغذیاتی حالت پر بہت برا اثر ڈالے گی ۔ایسی صورت میںمزید جراثیم زدگی کا خطرہ بڑھ جاتاہے ،اورتمام لوگوں خاص طور پر بچوں اوربوڑھوں اورقلت تغذیہ کے شکارلوگوں کیلئے جراثیم زدگی اوربیماری کا خطرہ اورزیادہ ہوجاتاہے ۔
ترقی پذیر ملکوں میں غذاؤں کے سبب لگنے اورپھیلنے والی بیماریاں(جیسے اسہال،پیچش)بہت بڑا مسئلہ ہے کیونکہ ان سے جسم میں پانی کی کمی (Dehydration)ہوجاتی ہے جس سے موت بھی ہوسکتی ہے ۔بہت سی متعدی اورچھوت کی بیماریاں ماحولیاتی آلودگی ،گھر کی گندگی ،ذاتی اورغذائی صفائی نہ ہونے سے ہوتی ہیں۔اسی لئے دیکھنا یہ ہے کہ بیماریوں کی روک تھام کیسے کی جاتی ہے ۔

.9 10A حفظان صحت اورصفائی  (Hygien and Sanitation)

بیماری کی روک تھا م اور ان پر قابوپانے کیلئے مختلف امراض سے متعلق داخلی اورخارجی دونوں عوامل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔
ذیل کی جدول میں یہ دونوں عوامل دیے گئے ہیں:
جدول 2:مختلف بیماریوں سے متعلق داخلی اور خارجی عوامل 
خارجی /ماحولیاتی عوامل  میزبان عوامل /داخلی 
طبیعی ماحول :ہوا پانی ،مٹی ،گھر ،آب و ہوا،موسم ،جغرافیائی حالات ،گرمی ،روشنی ،شور تاب کاری (Radiation)،
عمر ،صنف ،نسل ،خاندان 
حیاتیاتی ماحول میں انسان اور دیگر جاندار شامل ہیں جیسے جانور ،چوہے ،حشرات ،پودے ،جرثومے یا وائرس ،خورد عضویے۔ان میں کچھ بیماری پیدا کرتے ہیں یعنی جراثیم زدگی کا سبب ہوتے ہیں اور امراض کے جراثیم کے میزبان اور پھیلانے والے ہوتے ہیں ۔ 
حیاتیاتی (Biological)عوامل :جیسے وراثت خون کا گروپ ،خامرے (Enzymes)،خون میں شامل مختلف مادے،(Substance)جیسے کولیسٹرول وغیرہ کی مقدار،مختلف اعضا اور نظاموں کے کام 
 سماجی نفسیاتی عوامل (psychosocial factors):جزباتی   
صحت ،ثقافتی اقدار،رسم و رواج ،عادات ،عقائد ،طبعی میلانات ،مذہب ،طرززندگی ،صحت خدمات وغیرہ ۔ 
سماجی اور اقتصادی خصوصیات مثلا پیشہ ، شادی شدہ ،/غیر شادی شدی ہونا ،مکان 
طرز زندگی کے عوامل جیسے تغذیہ ، خواراک ، جسمانی سرگرمیاں ،رہن سہن ،نشیلی اشیا کا استعمال جیسے نشیلی دوائیں شراب وغیرہ
ان عوامل میں حفظان صحت اوراصول صحت ،تغذیہ اوربیماری سے مامونیت (Immunisation)بہت اہم ہیں۔جب ہم حفظان صحت (Hygiene)کی بات کرتے ہیں تولازمی طورپر دوپہلوؤں کوسامنے رکھتے ہیں۔ایک ذاتی (Personal)اوردوسرے ماحولیاتی (Environmental)ذیل کی شکلوں سے واضح ہوتا ہے کہ ہر ایک پہلو میں کون سے عوامل شامل ہیں۔صحت بڑی حد تک سماجی ماحول،طرززندگی اوررویو ں بشمول غذاؤں کے استعمال پر منحصر ہوتی ہے ۔صحت حفظان صحت سے گہرا تعلق رکھتی ہے ۔حفظان صحت کی کمی سے مختلف طرح کے انفکشن پیدا ہوتے ہیں۔مثلاً کیڑوں سے ہونے والی جراثیم زدگی ۔
  ماحولیاتی حفظان صحت (Environmental Hygiene):اس میں خانگی حفظان صحت اوربرادری کی سطحوں پر نامیاتی اورغیر نامیاتی دونوں خارجی مادے شامل ہیں۔اس میںطبعیاتی عوامل جیسے پانی ،ہوا ،رہائش ،تا بکاری وغیرہ اورحیاتیاتی عوامل جیسے پودے بیکٹریا ،وائسرس ،حشرات اورجانور شامل ہیں۔
ذاتی حفظان صحت 
شکل 3:حفظان صحت کے ذاتی پہلو 

5
شکل 4:حفظان صحت کے ماحولیاتی پہلو 

انسانی فضلے کی نکاسی کا بندوبست
پانی کی سپلائی 
حفظان غذا 
رقیق فضلے اور گندگی کی نکاسی کا بندو بست 
حفظان ماحول 
مچھر اور ملیریا 
ردی کی ٹوکری میں رفع فضلات رکھنا (سالڈ ویسٹ مینجمنٹ )
گھر 
صفائی 
ماحولیاتی حالات کوبہتر بنانے کیلئے ماحول کی صحت پر توجہ دینا ضروری ہے اس سے صحت کوفروغ ہوگا اوربیماریوں کی روک تھام ہوگی ۔ماحول کی صحت میں پینے کا پانی ،صفائی ستھرائی خاص طورپر فضلے کی نکاسی وغیرہ بہت اہم ہیں۔اسی طرح ہوا اورپانی کی آلودگی بھی بڑا مسئلہ ہے ۔پانی کی نوعیت بہت ہی اہم ہے کیونکہ آلودہ پانی بہت سی بیماریاں جیسے اسہال ،کیڑوں سے ہونے والی جراثیم زدگی ،جلد اورآنکھوں کے انفکشن اورگنی ورم (Quinea worm)وغیرہ ہوتی ہیں۔
حفظان غذا: غذائی بیماریاں ا س وقت ہوتی ہیں جب ہم ایسی غذائیں کھالیتے ہیں جن میں بیماری پیدا کرنے والے خورد عضویے (Pathognie micro - organisms)ہوتے ہیں۔غذائی بیماریاں کئی اسباب سے ہوسکتی ہیں:
غذا میں کسی نامیاتی مادہ یا Toxinکی موجودگی ۔
بیماری پیدا کرنے والے عضویے کا کافی تعداد میں ہونا۔
آلودہ غذا کا کافی مقدار میں استعمال ۔
اسہال (دست آنا )پیچش ،امیبائسس (Amoebiasis)،متعدی ہپی ٹائٹس (Infective Hepatitis)،ٹائفائڈ(Typhoid)،لیسٹریوسس(Listeriosis)،بوٹولزم (Botulism)،ہیضہ اورآنتوں کی سوزش (Gastroenteritis)غذا کی آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریاں ہیں۔ان میں سے بیشتر بیماریاں غلط غذائی عادتوں اورذاتی بے توجہی کے سبب پیداہوتی ہیں جیسا کہ نیچے کہاگیا ہے۔
ایسی غذاؤں کا استعمال جوخراب ہو گئی ہوں جن میں جراثیم پیدا ہوگئے ہو ں اورغیر محفوظ یا ناقابل استعمال ہوں۔ان میں پانی ،مسالے موسمی پھل اورسبزیاں اورمرکبات (Mixes)وغیرہ بھی شامل ہیں۔
نامناسب ذخیرہ کا ری سے بھی بیماری پیدا کرنے والے خورد عضویو ں کی افزائش ہوتی ہے۔
کیڑوں کی روک تھام نہ ہونا
آلودہ برتنوں ،پلیٹوں ،چمچوں ،گلاسوں وغیرہ کا استعمال 
غذا کوپوری طرح نہ پکانا 
غذا ؤ ں کوایسے درجہ حرارت (4سے 600سیلیس )پر رکھنا جوخورد عضویوں کی پیداوار کیلئے معاون ہو
ٹھنڈک کا ناکافی انتظام 
پکے ہوئے اوربچے ہوئے کھانوں کو ناکافی طورپر گرم کرنا یا دوبارہ گرم کرنا
مکرر آلودگی 
غذاؤں میں کھلا رکھنا 
پلیٹوں میں غذاؤں کی سجاوٹ کیلئے آلودہ چیزوں کا استعمال کرنا
غذاؤں کی نقل وحمل ،خرید وفروخت اورپکانے کے عمل سے وابستہ افراد کا حفظان صحت کا اورصفائی کا خیال نہ رکھنا۔مثلاً کپڑوں کا گندہ ہونا ،ہاتھوں کا دھلا نہ ہونا،ناخون وغیرہ میں میل ہونا وغیرہ ۔
  گھر یا گھر سے باہر کا م کرنے کی صلاحیت کرنے کیلئے تغذیہ ،صحت سے متعلق امور کاخیال رکھنا لازمی ہے ۔اگلے باب میں ہم کام ،کارکن اورکارگاہ (کا م کی جگہ )کے رشتوں سے بحث کریں گے ۔

کلیدی اصطلاحات 

صحت کی دیکھ بھال یا نگہ داشت (Health Care)،تغذیاتی عناصر(Nutrienis)،نامناسب تغذیہ(Malnutrition)،حفظان صحت اورصفائی (Hygiene and Sanitation)حفظان غذا (Food Hygiene)

مشقیں 

1-   درج ذیل دیب سائٹوں کودیکھیے اوران کے بارے میں کلاس میں گفتگو کیجئے 
بچوں کی عالمی صورت حال سے متعلق یونیسیف کی رپورٹ:
http://www.unicef.org/sowe08
انسانی ترقیاتی اشاریہ http://hdr.undep.org/en/statisticals
عالمی صحت تنظیم کی عالمی صحت سے متعلق رپورٹ:http://www.who.in/whr/en/
2-  کم از کم 5-6ایسے اشاریوں کی نشاندہی کیجئے جوآپ کے خیال میں صحت کے لئے اہم ہیں اورمعلوم کیجئے کہ اس سلسلے میں دنیا کے ملکوں میں ہندوستان کا کون سا درجہ ہے ۔
دیہی علاقوں کے طلباء کے لیے  متبادل :اپنے گاؤں کی دوایسی ماؤں سے جن کے چھوٹے بچے ہوں انٹرویولیجئے ۔ہر ایک ماں سے پوچھیے کہ پچھلے ایک سال کے دوران بچے کودستوں کی بیماری کتنی بار ہوئی ۔مائیں جووجوہات بتائیں ان پر اظہار خیال کیجئے ۔
3- صحت کی بہت سی جہات ہیں ۔کچھ ایسے کاموں یا پیشوں کوبتا ئیے جوصحت اورتغذیے سے متعلق ہوں جن میں بیماریوں کی روک تھام ،اچھی صحت کا فروغ اورمعالجاتی خدمات بھی شامل ہیں۔

سوالات برائے نظر ثانی 

1-   ’’تغذیہ تعمیری صلاحیتوں ،آمدنی اورزندگی کے معیار پر برا اثر انداز ہوتا ہے ‘‘اس بیا ن پر لکھیے ۔
2-   تغذیہ کس طرح ذہنی معذوری ،اندھے پن اورزندگی کے معیار سے تعلق رکھتا ہے ؟
3-   کلاس کوگروپوں میں تقسیم کیجئے ۔ہر گروپ ان مقامات پرجائے جہاں غذائی خدمات دست یاب ہیں مثلاً کینٹین ،کیفے ٹیر یا
  ریستوراں ،ٹھیلا وغیرہ۔(a)غذ ا کی صفائی (b)ذاتی صفائی سے متعلق امور سے لاپروائی کی نشان دہی کیجئے ۔
4-  کلاس میں ا س بات پر مباحثہ کیجئے کہ حفظان صحت کوکس طرح بڑھاواد یاجائے اورغذا کوکس طرح محفوظ بنایا جائے ۔
                                                              یا 
طلباء کوتین گروپوں میں تقسیم کیجئے ۔ایک گروپ ’’غذا ‘دوسرا’’لوگوں ‘‘اورتیسرا ’’اکائی ،سہولتوں اورسازوسامان ‘‘پر گفتگو کرے گا۔
ان پہلوؤں یا سرگرمیوں کی نشان دہی کے بعد جوبیماریوں کا اندیشہ بڑھاتی ہیں،ان گروپوں سے انسدادی تدابیر تجویز کرنے کیلئے بھی کہا جاسکتا ہے ۔

اساتذہ کےلیے مشورہ 

کچھ منتخب طلباء اسکول کے بچوں ،والدین اوربرادری کیلئے صحت ،تغذیہ اورحفظان صحت پر ایک نمائش کا اہتمام کریں اوراس کام میں اساتذہ ان کی رونمائی کریں ۔

طلباء کےلیے مشورہ 

(a)    اپنے اسکول اور        (b)  اپنے گھر کے نزدیک ماحول کی صفائی (Environmental Hygiene)سے متعلق کم از کم تین ایسے عوامل کی نشان دہی کیجئے جن کی درجہ بندی ’’بہت اچھے ،اچھے ٹھیک ،خراب اوربہت خراب‘‘کے تحت کی جاسکے ۔

عملی کام10

A- تغذیہ، صحت اورحفظان صحت
درج ذیل غذائی جدولوں میں دی گئی غذاؤں کے 150گرام خوردنی حصے میں توانائی ،پروٹین ،کیلشیم اورآئرن کی مقدار کا موازنہ کیجئے ۔


لوہے کی مقدار mgفی 150گرام کیلشیم کی مقدار mgفی150گرام پروٹین کی مقدارفی گرام 
150گرام 
توانائی کی مقدار 
kcal فی150گرام 
اناج کا نام 

1- باجرہ 
2-چاول (خام مل میں تیار
3-مکئی (خشک )
4-گیہوں (ثابت)

(b)دالیں 
پھلی /دا ل کا نام  توانائی کی مقدار kcalفی150گرام پروٹین کی مقدار فی گرام150گرام کیلشیم کی مقدار mgفی150گرام لوہاکی مقدارmgفی150گرام
1-بنگالی چنا دال
2-کالا چنا دال
3-مسور
4-سویابین
(c)سبزیاں 
آئرنmgفی150گرام کیلشیمmgفی150گرام پروٹین کی مقدارگرام فی 150گرام توانائی کی مقدار kcalفی150گرام سبزی کا نام 
پالک 
بینگن 
گوبھی 
گاجر
(d)پھل
لوہے کی مقدار mgفی150گرام کیلشیم کی مقدارmgفی150گرام پروٹین کی مقدار گرام فی 150گرام توانائی کی مقدارkcalفی150گرام پھلوں کے نام 
آم (پکا ہوا)
سنترہ 
امرود(دیسی)
پپیتا (پکا ہوا)

(B)  اپنے خاندان کی خوراک میں کاربوہائڈریٹ ،پروٹین ،چربی،وٹامن ’اے‘لوہااورکیلشیم کی کثرت والے ذرائع بتائیے ۔کیا آپ ا سمیں کچھ اصلاحات بھی تجویز کریں گے ؟جواب کوذیل کی جدول میں لکھیے ۔
کیلشیم کے ذرائع لوہا کے ذرائع  وٹامن ’اے‘کے ذرائع چربی کے ذرائع پروٹین کے ذرائع کاربوہائڈریٹ کے ذرائع

تجاویز غذائی عادتیں جن میں اصلاح کی ضرورت نہیں 


 اساتذہ کےلیے نوٹ

اساتذہ ا س بات کیلئے طلباء کی حوصلہ افزائی کریںکہ وہ اپنے علاقے کی غذاؤں کی (جواوپر جدول میں مذکورنہیں ہیں )تغذیاتی قدروقیمت کا تعین کریں ۔اس سلسلے میں درج ذیل کتاب جوانڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (ICMR)نے شائع کی ہے بہت مفید ثابت ہوگی۔

غذا کے تشکیلی عناصر کا جدول (Food Composition Tables)
فی100گرام خوردفی حصے تغذیاتی قدر (Nutrition value per 100g. edible protion)
اناج 
لوہا (mg) کیلشیم(mg) پروٹین(g) توانائی(kcal) نام
0.8 42 11.6 361 باجرہ 
0.7 10 6.8 345 چاول(خام ہل کا )
2.3 10 11.1 342 مکئی (خشک)
5.3 41 11.8 346 گیہوں (ثابت)

دالیں 
نام توانائی (kcal) پروٹین(g) کیلشیم(mg) لوہا(mg)
بنگالی چنا دال 360 17.1 56 5.3
کالا چنا دال 347 24.0 154 3.8
مسور 343 25.1 69 7.58
سویابین 432 43.2 240 10.4
سبزیاں 

لوہا (mg) کیلشیم(mg) پروٹین(g) توانائی (kcal) نام
17.4 73 2.0 26 پالک 
0.38 18 1.4 24 بینگن
1.23 33 2.6 30 گوبھی 
1.03 80 0.9 48 گاجر


پھل

لوہا (mg)
کیلشیم(mg)
پروٹین(g)
توانائی (kcal) نام
1.3 14 0.6 74 آم پکا ہوا 
0.32 26 0.7 48 سنترہ 
0.27 10 0.9 51 امرود دیسی
0.5 17 0.6 32 (پپیتا (پکا ہوا

ذریعہ :’’ہندوستانی غذاؤں کی تغذیاتی قدر(1985)(Nutritive Value of Idnian Foods)

سی گوپالن ،بی وی رام شاستری اورایس سی پال سبرامنین نظر ثانی اورتجدید شدہ (1985)سی بی ایس نرسنگ راتو وائی جی دیو ستھالے اورکے سی پنت (دوبارہ اشاعت 2007) 


باب-10


B-کام، کارکن اور کارگاہ

(Work,Worker and Workplace

آموزشی مقاصد۔
اس باب کامطالعہ کرنے کے بعد طلبا
•   کام کے اجزا کی شناخت کر سکیں گے۔
•    کام ،کارکن او ر کارگاہ کی تعریف بیان کر سکیں گے۔
•    بہتر کار کردگی کے لئے کر سکیں گے۔
•   کام ،کارکن او ر کارگاہ کے درمیان باہمی انحصار کی وضاحت کر سکیں گے۔

10B-1   تعارف(Introduction)

 ہم سب روزانہ گھنٹوں کام کرتے ہیں، بچے پڑھنے جاتے ہیں یا کوئی اور کام کرتے ہیں تو والدین روٹی رزی کماتے ہیں اور گھر کابندو بست بھی کرتے ہیں۔ اگر چہ ہم سب روزانہ بہت سر گرمیاں انجام دیتے ہیں لیکن کیا آپ نے ان مختلف طریقوں کے بارے میں سوچا ہے جن سیے ہم کسی ایک کام کو انجام دیتے ہیں؟ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ایک کام کو تواچھے طریقے سے کرلیتے ہیں لیکن دورے کام اتنے اچھے ڈھنگ سے نہیں کر پاتے؟
نشا ایک ہنر مند کاریگر ہے۔ وہ اپنا کام اچھے طریقے سے نہیں کر سکتی کیوں کہ اس کو اپنے کام سے رغبت نہیں ہے۔جہاں وہ کام کرتے ہی وہاں کام کا ماحول سازگار نہیں ہے۔ وہ جگہ آرام دہ نہیں ہے ۔ جس جہ کام کرنا پڑتا ہے وہ بھی صحیح بنی ہوئی نہیں ہے۔ نتیجہ ہے کہ اس کا دل کام میں نہیں لگتا۔ اگر کام کے ماحول میں سدھار ہو جائے تو وہ بہتر نتائج دے سکتی ہے اور بہتر طور پر اپنے وسائل (مہارتوں اور علم) کا استعمال کر سکتی ہے۔ کام کے ماحول کے علاوہ اور بھی ایسے عوامل ہو سکتے ہیں جو اس کی کار کردگی کو متاثر کر رہے ہوں۔ آئیے ہم ان عوامل کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
اچھی کار کردگی کے لئے اہم بات یہ ہے کہ ہم کام کو اس ماحول کے تعلق سے سمجھیں جہاں یہ کام انجام دیا جا رہا ہے۔اگر ہم یہ بات سمجھ لیتے ہیں تو استعمال ہونے والی توانائی اور کام پر لگنے والا وقت دونوں کم ہو جائیں گے او ر کام کرنے کی صلاحیت بڑھ جائے گی۔ ساتھ ساتھ اس سے نہ تو تھکن ہوگی اور نہ ہی صحت سے متعلق دیگر پریشانیاں۔ کسی کاریگر کو غیر آرام دہ ماحول میں کام کرنے پر مجبور کرنے کے بجائے اس کے لئے ایک صحت مند ماحول پیدا کرنا ضروری ہے۔
مثال کے طور پر آپ کی ماں باورچی خانے میں کام کرتی ہیں اور انہیں برتن اٹھانے کے لئے بار بار جھکنا پڑتا ہے۔ ہو سکتا ہے برتن کچن کاونٹر سے ذرا فاصلے پر کھے ہوں۔ اس صورت میں برتن اٹھانے کے لئے وقت بھی زیادہ لگے گا اور ان کی توانائی بھی زیادہ صرف ہوگی۔ اس کے علاوہ تھکن اور کمر درد بھی ان کے حصے میں آئیں گے۔ اس کے بر عکس اگر برتن کاؤنٹر کے قریب اور کسی مناسب اونچائی پر رکھ دیئے جائیں تو وہ اپنا کام آرام سے کر سکیں گی اور اس طرح ان کی کام کی صلاحیت بڑھ جائے گی۔

9
کارکن 
کام کرنے کی جگہ 
کام 
شکل 1:کام ،کارکن اور کام کرنے کی جگہ کے درمیان رشتہ
دی گئی شکل کام،کارکن(Worker) اور کام کرنے کی جگہ کے درمیان باہمی انحصار کو واضح کر رہی ہے۔ اس رشتے کو سمجھنے کے لئے تینوں اجزا(کام ،کارکن اور کام کرنے کی جگہ کا تفصیلی مطالعہ ضروری ہے۔

10B-2 کام(Work)

کام کرنے کی جگہ اور استعمال میں آنے والے دیگر سازو سامان کے درمیان ایک بہتر تعلق پیدا کرنے کے لئے ’’کام‘‘ کو سمجھنا ضروری ہے۔ کام کی تعریف اس طرح بیان کی گئی ہے کہ ’’یہ ایسی سرگرمی ہے جس کا مقصد کچھ بنانا ی اکچھ کرنا ے‘‘ کام کسی کے تفویض کردہ دیئے  گئے کام کو انجام دینے یا پورا کرنے کے لئے جسمانی اور ذہنی کوشش ہے۔ یہ ہمارے مقاصد کی تکمیل کی بنیاد ہے۔ یہ ایک فرض(Duty)، ایک مقصد(Task) یا ایک سر گرمی(Activity) ہے جسے انجام دیا جانا ہے۔ مثلاً طالب علم کا کام بنیادی طور پر حصول علم ے۔
 کام بہت سے چھوٹے چھوٹے کاموں(Jobs)، تفویض کردہ کاموں(Tasks) اور تفویض کردہ ذیلی کاموں (Sub-tasks) پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ سب مطلوبہ مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے آلات اور ذرائع کا کام کرتے ہیں لیکن مقاصد اور ذیلی مقاصد کا فیصلہ کرنے سے پہلے ہر شخص کو اپنے مقاصد کا پورا علم ہونا چاہئے ورنہ کام کو نقصان پہنچے گا۔
انجام دیا گیا کام معیاری اس وقت ہوگا جب
(a) کام کرنے والا اپنے مقصود سے اچھی طرح واقف ہو
(b) کام کرنے والا اپنی تشکیل کے لئے کچھ معیار مقرر کر لے
(c) مقصد کے مطابق دیئے ہوئے کام کو انجام دیا جائے۔
بہر حال’’وقت‘‘ اور ’’مطلوبہ توجہ‘‘ جیسے کچھ اور قوتیں ہیں جو تفویض کردہ کاموں(Tasks) کی انجام دہی میں موثر ہوتے ہیں۔ اس سے بچنے کے لئے کام ’’کام کو آسان کرنا‘‘ ضروری ہے۔وق اور توانائی کا صحیح بندو بست ہی کام کو آسان بناتا ہے۔ کام کو آسان بنانے کی تعریف اس طرحح کی جا سکتی ہے کہ یہ ایک مقررہ توانائی اور وقت میں زیادہ کام کرنا ہے۔
اس طرح یہ کسی سر گرمی کو آسان اور شاید دل چسپ بنا دینے کے لئے بھی لازمی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی سر گرمی یا کام کو پسند کرتا ہے تو اس میں بہت دل چسپی لیتا ہے اور اس کو جلد اور بہت بڑی مہارت کے ساتھ پورا بھی کر لیتا ہے ۔(اس موضوع پر آپ اگلے باب میں تفصیل سے پڑھیں گے۔

10B-3 کارکن(کام کرنے والا)(Worker)

کارکن وہ شخص ہے جو بعض پیداواری نتائج حاصل کرنے کے لئے کوئی کار منصبی یا سر گرمی انجام دیتا ہے۔ کوئی طالب علم جو اپنے اسکول کاکام کرتا ہے اور کوئی خانہ دار خاتون جو گھر کی صفائی کرتی ہے ۔ کارکن کی مثالیں ہیں۔ جب کوئی فرد کسی کام میں مشغول ہوتا ہے تو  اس میں درج ذیل پہلو ہوتے ہیں:

جسمانی(Physical)

 اس کا تعلق کارکن کے جسم سے ہے ۔ اس میں انسانی توانائی ،جسمانی سر گرمی اور نشو و نما شامل ہیں۔
توانائی: زندہ رہنے اور کام کرنے کے لئے توانائی ضروری ہے۔یہ توانائی کہاں سے آتی ہے؟ توانائی اس غذا سے ملتی ہے جو ہم کھاتے ہیں۔ ہماری غذائی ضرورتوں کا انحصار مختلف عوامل جیسے عمر،صنف،جسم کی ساخت، کام کی نوعیت اور کام کی مدت پر ہے۔
جسمانی سر گرمی: کسی بھی شخص کو کام کرنے کے لئے توانائی کی کتنی مقدار کی ضرورت ہوتی ہے اس کا انحصار اس شخص کی عمر ، صنف، کام کی نوعیت ، کام کی شدت اور کام کی مدت پر ہوتاہے۔ کام میں جتنے عضلات(Muscles) استعمال ہوں گے اور کام کی مدت جتنی طویل ہوگی توانائی کی ضرورت اتنی ہی زیادہ ہوگی۔
ذیل میں دی گئی جدول ان مختلف مشترکہ سر گرمیوں کو انجام دینے کے لئے ضروری توانائی کو دکھاتی ہے جنہیں ہم سبھی روز مرہ زندگی میں انجام دیتے ہیں۔

جدول1:کچھ مشترک سرگرمیوں مین استعمال ہونے والی توانائی (EnergyCosts)
kcalفی منٹ فی کلو گرام وزن جسم

عورتیں  مرد سر گرمی  نمبر شمار 1 1 سونا 1 1.2 1.2 لیٹنا  2 1.2 1.2 خا،وش بیٹھنا  3 1.5 1.4 کھڑے رہنا  4 1.6-3.3 2.4 لباس کی تبدیلی اور آراستگی  5 1.8 چوٹی باندھنا  1.6 1.4 کھانا پینا  7 3 2.8 آہستہ چلنا  8 گھریلو کام کاج  7.6 جھاڑو دینا  1 12.2 پوچھا کرنا  2 10.5 کپڑے دھونا  3 7.9 استری کرنا  4 6.4 کھانا پکانا 5 13.9 پانی بھرنا  6 9.7 مسالے پیسنا  7

عورتیں  مرد سرگرمی  نمبر شمار
عام شخصی سرگرمیاں 
1 1 سونا 1
1.2 1.2 لیٹنا 2
1.2 1.2 خاموش رہنا 3
1.5 1.4 کھڑے رہنا 4
1.6-3.3 2.4 لباس کی تبدیلی اور آہستگی 5
1.8 چوٹی باندھنا 
1.6 1.4 کھاناپینا 7
3 2.8 آہستہ چلنا  8
گھریلو کام کاج
7.6 جھاڑو دینا  1
12.2 پوچھا کرنا 2
10.5 کپڑے دھونا  3
7.9 استری کرنا  4
6.4 کھانا پکانا  5
13.9 پانی بھرنا  6
9.7 مسالے پیسنا  7

Source: Varghese .M.A. Atrya.N.. & Chatterji  I(1989 Ergonomics in the home, DRS Report, Mumbai. S.N.D.T. Women's University


 نشو و نما: نشو و نما کے لئے بھی توانائی ضروری ہے۔ اس لئے جب عمر کے کسی خاص حصے میں نشو و نما کی رفتار تیز ہوتی ہے تو توانائی کی ضرورت بھی بڑھ جاتی ہے۔ اسی لئے شیر خواروں، بچوں اور نو بالغوں کو زیادہ توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

ادراکی(Cognitive)

ادراکی یا ذہنی پہلو کسی کارکن کی نفستیاتی خصوصیات پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ خصوصیات رویوں،مہارتوں اور معلومات وغیرہ کی ہیں۔ مقاصد تک پہنچنے کے لئے ہمیں اہلیت اور  میلان طبع(Aptitude) کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی خاص موضوع کو حاص کرنے، رسمی تربیت اور مستقبل مشق کے ذریعے  مہارتوں کو فروغ دینے اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے آمادگی یا ذہنی رجحان (Attitude)کی بھی ضروت ہوتی ہے۔ ذیل کی مثال سے مثبت ذہنی رجحان کی اہمیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
 شوبھا ایک با صلاحیت نوجوان لڑکی ہے۔ اس کا تخیل زر خیز ہے اور اس میں ڈرائنگ کی صلاحیت ہے۔ شوبھا مصور(Artist) بننا چاہتی ہے۔ اس نے ایک کورس میں داخلہ لیا اور اس طرح اپنی صلاحیتوں کو فروغ دیا اوراپنی منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے مطلوبہ علم حاصل کر لیا۔ اس نے اپنی کوششوں، سخت محنت اور دست یاب وسائل کی مدد سے ایک کامیاب آرٹ ٹیچر بننے کا مقصد حاصل کر لیا۔

جذباتی(Affective)

اس میں کام کے بارے میں کسی کارکن کی پسند، نا پسند اور ترجیحات شامل ہیں۔ اس جذباتی پہلو کا تعلق کسی سر گرمی کے بارے میں کارکن کے ذاتی جذبات اور احساسات اور مقاصد کے حصول کے لئے اس کی اپنی کوششوں سے ہے۔ کام سے بے اطمینانی تھکن کا احساس پیدا کرتی ہے اور کام کے بارے میں تسلی کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے۔

وقت کے استعمال کا پہلو(Temporal)

 اس کا تعلق وقت کے صحیح استعمال سے ہے۔ کبھی کبھی ایسی سر گرمیوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے جن کو کوئی شخص ایک متعین وقت میں انجام دینا چاہتا ہے۔ اس کے لئے وقت کا بہتر طور پر استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اسکے بارے میں آپ اگلے باب میں پڑھیں گے۔
اس طرح کارکنوں کی ان خصوصیات کو سمجھنا اس بات کا اشاریہ (Indicator) ہے کہ ہر کارکن دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اور اس کی جسمانی ،ادراکی ،جذباتی اور وقت کے استعمال کی صلاحیتیں بھی الگ ہوتی ہیں۔ کام کرنے کا آلات ،ساز و سامان اور کام کرنے کی جگہ ایسی ہونی چاہئے جو کارکن کے جسم کی ساخت کے لحاظ سے بنائی گئی ہو۔ مثال کے طور پر قینچی جیسے اوزار ایسے بنے ہوں  جو دائیں اور بائیں دونوں ہاتھ سے کام کرنے والوں کے لئے موزوںہوں۔ اس کے علاوہ آلات اور اوزار ایسے بھی ہوں جو کارکنوں کی حفاظت کو دھیان میں رکھ کر بنائے گئے ہوں۔

سر گرمی1

مندرجہ ذیل عنوانات کے تحت آنے والی سر گریوں کی فہرست تیار کیجئے۔
•   وہ جسمانی سر گرمیاں جن میں فاضل توانائی خرچ ہوتی ہے۔
•   وہ سر گرمیاں جن میں ذہنی کام اور مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
•   وہ سرگرمیاں جنہیں آپ پسند کرتے ہوں یا نا پسند کرتے ہوں۔
•   وہ سر گرمیاں جن میں وقت کا مناسب استعمال ضروری ہو۔

10B.4   کارگاہ(Workplace)
کارگاہ وہ جگہ ے جہاں کوئی کارکن کام کرتا ہے۔ اسکول،پڑھنے کا کمرہ اور باورچی خانہ وغیرہ بھی کار گاہ یا کام کی جگہیں ہیں۔ کام کرنے کے ناساز گار ماحول سے پیدا شدہ صحت کی خرابیوں سے بچنے کے لئے کار گاہ کو اچھی طرح تیار کیا جانا بہت اہم ہے۔ یہا چھی پیداوار یت اور اچھی کار کردگی کے لئے بھی ضروری ہے۔ کام کی جگہ کارکن اور کام کی نوعیت دونوں کو ذہن میں رکھ کر تیار کی جانی چاہئے تاکہ کام، سکون،آرام اور لیاقت کے ساتھ کم سے کم توانائی خرچ کر کے انجام دیا جا سکے۔
کارگاہ درج ذیل عناصر پر مشتمل ہوتی ہے:

طبیعی اور کمیائی ماحول (Physical and Chemical Environment)

کام کرنے کی جگہوں پر کئی قسم کے طبیعی اور کیمیائی عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ ہم ان عوامل کے زیر اثر آنے سے مکمل طور پر بچ نہیں سکتے لیکن اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہماری صحت پر برا اثر نہ پڑے۔
 وہ ماحولیاتی عوامل جن کا کار گاہ کے انتخاب یا اس کو تیار کرتے وقت خیال رکھنا ضروری ہے، درج ذیل ہیں:

•   شور:   کام کرتے وقت زیادہ شور ہماری توجہ کام کی طرف سے ہٹا دینا ہے۔شور گھر میں بھی ہو سکتا ہے(جیسے ٹی وی کی زیادہ تیز آواز، پریشر ککر کی سیٹی ، ٹونٹی سے پانی کے بہنے کی آواز یا مشینوں وغیرہ کی آوازیں) یا باہر سے بھی آ سکتا ہے(جیسے سڑک کا ٹریفک، لاؤڈ اسپیکر ، کوئی جلوس وغیرہ)۔
•   روشنی:   کام کرنے کی گجہ پر روشنی کا مناسب بندو بست ہونا چاہئے۔ روشنی کی مقدار کا انحصار کام کی نوعیت ،کارکن کی عمر، سرگرمی کی مدت ، روشنی کے ذریعے سے دوری اور کام کی جگہ پر مختلف رنگوں کی موجودگی ہوتا ہے۔
•   آب و ہوا: آب و ہوا کو متاثر کرنے والے چار اہم عوامل ہیں: ہوا کی حرارت، ٹھنڈی اور گرم سطحوں کے شعاع ریزی(Radiation) کی حرارت، ہوا کی رفتار اور اضافی رطوبت(Relative Humidity)۔ ان عوامل کا اثر کارکن کی توانائی کی لاگت(Energy Cost) پر بھی ہوتا ہے ۔ اندرونی آب و ہوا کو مصنعری ذرائع مثلاً جیسے پنکھے ،ایگزاسٹ،روم ہیٹر،کولر اور ایئر کنڈیشنر وغیرہ سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
•   شعاع ریزی(Radiation) جیسا کہ آپ طبعیات(Physics) کیا کیمیا(Chemistry) میں پڑھ چکے ہوں گے، جب کوئی مادہ (Substance) ایسی شعاعوں یا موجوں(Waves ) کو خارج کرتا ہے جن  کی نوعیت برق مقناطیسی (Electromagnetic) ہوتی ہے تو اس کو شعاع ریزی(Radiation) کہا جاتا ہے۔ اس کے بعض اثرات مفید  ہوتے ہیں اور بعض نقصان دہ بھی۔ شعاع ریزی کی افادیت یا مضرت کا انحصار اس کی قسم(الفا،بیٹا،گاما،ایکس ۔ ریز،یو وی ریز) ، اس کی شدت اور اس کے زیر ثر آنے کی مدت پر ہوتا ہے۔
•   خرد حیاتیاتی آلودگی(Microbiological Pollution): ہم ہمیشہ ماحول میں موجود خورد عضویوں کی زد میں رہتے ہیں کیوں کہ یہ ہوا، پانی ،غذا اور ہمارے جسموں میں موجود رہتے ہیں۔ اگر لوگ حفظان صحت اور صفائی ستھرائی کا اعلیٰ معیار قائم نہیں رکھتے تو اس سے جراثریم پھیلتے ہیں ۔ اگر یہ جراثیم نقصان پہنچانے والے ہوں تو ان سے بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر اس شخص کو جو کھانا پکا رہا ہے اسے اپنا کام شروع کرنے سے پہلے ہاتھ دھونے چاہئیں ورنہ ہاتھوں پر موجود جراثیم کی وجہ سے کھانا آلودہ ہو جائے گا۔
•   کیمیائی مادے(Chemical Substances): ہم ہر وقت رقیق،گیس ،بخارات، دھول یا ٹھوس مادوں کی شکل میں ماحول میں موجود کیمیائی مادوں سے گھرے رہتے ہیں۔ یہ سب چیزیں کارکن کے لئے بے چینی کا سبب بھی بن سکتی ہیں اور صحت کے لئے خطرہ بھی ۔

کارگاہ کی ساخت (Work Surface)

 کام کرنے کی جگہ کے طبعی اور کیمیائی ماحول کے علاوہ کار گاہ کی ساخت یا سطح بھی کارکن کے آرام اور اس کی صحت کو متاثر کرتی ہے۔ اس کا تعلق کام کی جگہ کی لمبائی ،چوڑائی اور اونچائی سے ہے۔ مناسب اسٹوریج ڈیزائن اور آلات کی مناسب ڈیزائن(Equipment Design) بھی ایسے اہم عوامل ہیں جو کارگاہ کے ڈیزائن کو متاثر کرتے ہیں۔ کار گاہ تیار کرتے وقت مندرجہ ذیل نکات کو پیش نظر رکھنا چاہئے:
•   کیا اہم کام کئے جائیں گے؟
•   یہ اہم کام کس طرح کئے جائیں گے؟
•   کتنے کام کئے جائیں گے؟
•   کام کس ترتیب سے کئے جائیں گے؟
کام کرنے کی جگہ کا تعلق کام کرنے کی مخصوص جگہوں(Workstation) ساز و سامان اور کارکن کی جسمانی حالتوں(Body positions) سے ہے۔ کام کرنے کی جگہ کا ڈیزائن اچھا ہو تو ایک ہی جگہ بیٹھے رہنے بعض کاموں کی تکرار اور بے ڈھنگ انداز سے بیٹھنے یا کھڑے ہونے کی صورت حال کم پیدا ہوتی ہے جس سے کام کی کیفیت اور معیار میں  بہتری آتی ہے۔
ایک اچھی کار گاہ کا نقشہ بناتے وقت مندرجہ ذیل نکات کو ذہن میں رکھنا چاہئے:
•   آلات،اوزار اور دیگر سامان ایسی جگہوں پر اور اس انداز میں رکھے ہوں کہ کارکن ان تک آسانی سے پہنچ سکے۔ مثال کیط ور پر ، باورچی خانے میں استعمال ہونے والے برتن اور دھلے ہوئے برتن واش بیسن(Wash Basin) یا ایسی ہی کسی اور جگہ الگ الگ رکھے ہوئے ہوں۔ دھونے کے صابن اورکلینر وغیرہ بھی اس طرح رکھے ہوں کہ برتن دھونے والے کے ہاتھ ان تک پہنچ سکیں۔
•   چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے کام کرنے کی بینچ مشقت طلب کاموں کے مقابلے ذرا نیچی ہونی چاہئے۔
•   ہاتھ کے اوزار او ر آلات آرام دہ جگہ پر رکھے ہوں اور اس طرح کہ ان سے چوٹ لگنے کا اندیشہ نہ ہو۔
•   کوئی اہم کام کرتے وقت ، کارکن کو تکلیف دہ حالت میں نہیں کھڑا ہونا چاہئے مثلا زیادہ دیر تک جھکنا
•   بیشتر کام ایسے ہوتے ہیں کہ کارکن کو اپنی کارگاہ پسند کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ پھر بھی وہ اپنی کار گاہ کو اپنی ضرورتوں کے مطابق ڈھال سکتا ہے۔
طالب علم کی اچھی طرح تیار کی گئی کارگاہ(مطالعے کا کمرہ) ایسی ہونی چاہئے جس میں پڑھنے کی گجہ روشن ہو،میز رکھی جا سکے، کمرے کا درجہ حرارت آرام دہ ہو اور اس میں شور نہ ہو۔ اگر کرسی استعمال کی گئی ہے تو وہ نہ زیادہ اونچی ہو نہ زیادہ نیچی بلکہ مطالعے کی میز کی اونچائی کے مطابق ہو، کتابیں اور اسٹیشنری کی درازیںقریب ہوں تاکہ طالب علم آسانے سے ان تک پہنچ سکے۔
کام ،کارکن اور کارگاہ کے درمیان تعلق کو وقت اور جگہ(Time and space) کے وسائل کے مناسب استعمال سے تقویت دی جا سکتی ہے۔ہم آئندہ باب’ وسائل کی دست یابی اور ان کا بندو بست‘‘ زیر عنوان دونوں اہم وسائل پر گفتگو کریں گے۔

کلیدی اصطلاحات:

کام(Work)،کارکن(Worker)،کارگاہ(Workplace) توانائی کی لاگت(Energy cost)


   سوالات برائے نظر ثانی
1۔   کام کیا ہے؟ کام کے اجزا کے بارے میں بتائیے۔
کون کون سے عناصر کام کی لیاقت کو بڑھاتے ہیں؟
3۔   ان ماحولیاتی عوامل سے بحث کیجئے جو طالب علم کے کام سے متعلق سر گرمیوں میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔
4۔    آپ کام،کارکن اور کارگاہ کے باہمی انحصار کی وضاحت کس طرح کریں گے؟



باب-10


C-وسائل کی دستیابی اور انتظام کاری

(Resource Availability and Management)


آموزشی مقاصد
اس باب کے مطالعے کے بعد طلبا۔
•   وقت اور جگہ کو ضروری وسائل کی حیثیت سے بیان کر سکیں گے۔
•   وقت اور جگہ کے انتظام کی ضرورت کا تجزیہ کر سکیں گے۔
•   وقت اور جگہ کی انتظام کاری کے طریقوں پر بحث کر سکیں گے۔
•   وقت کی انتظام کاری کے آلات سے بحث کر سکیں گے۔
•   جگہ کی منصوبہ بندی کے اصولوں کی وضاحت کر سکیں گے۔


جیسا کہ آپ پچھلے باب میں پڑھ چکے ہیں، املاک اشیا اور پیسہ ایسے وسائل ہیں جن کا استعمال  اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کیا جاتا ہے۔آپ نے یہ بھی پڑھا ہے کہ پیسہ، وقت اور توانائی وسائل کی کچھ مثالیں ہیں۔یہ وسائل فرد کے لئے اثاثوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ وسائل وافر مقدار میں بہت کم فراہم ہوتے ہیں اور ہر شخص کو یکساں طور پر دستیاب نہیں ہوتے۔ اس لئے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے ہمیں اپنے تمام وسائل کا مناسب استعمال کرنا ضروری ہے۔ اگر یہ وسائل ضائع ہو جائیں یا ان کا مناسب استعمال نہ کیا جائے تو ہمیں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مشکل ہوگی۔
وسائل کا بر وقت او ر موثر استعمال ان کی بھر پور افادیت کو بڑھاتاہے۔اس بات میں آپ وقت اور جگہ کی انتظام کاری کے بارے میں پڑھیں گے ۔ ایک وسیلے کے طور پر پیسے اور اس کی انتظام کاری  کے بارے میں یونٹ 4میں روشنی ڈالی جائے گی۔

10C-1  وقت کی انتظام کاری(Time Management)

وقت محدود ہوتا ہے اور لوٹ کر نہیں آتا۔ ہم وقت کی پیمائش سال،مہینوں،دنوں،گھنٹوں،منٹوں اور سیکنڈوں میں کرتے ہیں۔ ہمیں ہر دن چوبیس گھنٹے ملتے ہیں جنہیں ہم اپنی مرضی سے استعمال کرتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم اس وقت کا استعمال کس طرح کرتے ہیں ۔ اگر وقت کا استعمال مناسب نہیں کیا جائے تو اس پر قابو پانے کی تمام تر کوشش کے باوجود وہ ہمارے ہاتھ سے نکلتا جائے گا۔ کوئی شخص کتنا بھی اہم اور کتنا بھی قیمتی کیوں نہ ہو، وہ وقت کو نہیں روک سکتا، نہ اس کی رفتار کو گھٹا بڑھا سکتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں۔
آج کے تیزی سے بدلے ہوئے طرز  زندگی میں ،گھر اسکول، یا کام کاج کی جگہ پر ہماری ضرورتیں اور ذمے داریاں بڑھ گئی ہیں۔ اس صورت حال نے وقت کی انتظام کرای کی اہمیت  کو بہت بڑھا دیا ہے ۔ اب کامیابی کے لئے وقت کی انتظام کاری کی مہارتوں کو فروغ دینا بہت ضروری ہو گیا ہے ۔ جو لوگ یہ تدابیر اختیار کتے ہیں وہ زندگی کے ہر میدان میں وہ چاہے زراعت ہو یا تجارت ، کھیل ہو یا عوامی خدم کے دورے پیشے، کوئی اور ذاتی زندگی، کامیاب ہوتے ہیں۔ غرض تمام شخصی اور پیشہ ورانہ امور میں وقت کا صحیح استعمال کامیابی کی کنجی ہے۔ وقت کی اس انتظام کاری سے آرام اور تفریح کے لئے بھی وقت نکل آتا ہے۔
 وقت کی انتظام کاری کا اصول یہ ہے کہ نتائج پر توجہ مرکوز کیجئے، مشغول رہنے پر نہیں۔ لوگ اکثر ادھورے کاموں کے بارے میں بڑے فکر مند رہتے ہیں اور اسی فکر میں کئی کئی دن گزار دیتے ہیں لیکن انہیں کچھ حاصل نہیں ہوتا اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ سب سے اہم او ر قیمتی چیز’وقت‘ پر توجہ مرکوز نہیں کرتے۔ مثال کیط ور پر بعض طلبا اپنا سارا وقت امتحان کی فکر میں گزار دیتے ہین جب کہ انہیں وہ وقت مطالعے میں گانا چاہئے تھا۔
وقت کی صحیح انتظام کاری ، منصوبہ بندی سے شروع ہوتی ہے ۔وقت کے استعمال کا منصوبہ بنانا بہت ضروری ہے۔ اس کے منصوبے کی تعریف ہم اس طرح بیان کر سکتے ہیں کہ یہ ان سر گرمیوں کا پیشگی نظام الاوقات ہے جنہیں ایک مقررہ مدت کے اندر انجام دینا ہے۔

آپ کے وقت کی انتظام کاری کتنی اچھی ہے؟ (How good is your time management)

 وقت اور سر گرمیوں کی منصوبہ بندی کے اقدامات سے پہلے یہ متعین کرنا ضروری ہے کہ آپ کے وقت کی انتظام کاری کتنی موثر ہے؟ آپ خود اپنے منصوبہ بند کاموںکو کس حد تک پورا کر پاتے ہیں؟ کیا آپ اپنے ہفتہ وار ،روزانہ یا ہر گھنٹے کے کام ک سمجھ داری سے انجام دے سکتے ہیں؟ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کو ایسا لگتا ہے کہ اپنی سرگرمیاں مکمل کرنے کے لئے دن بھر کا وقت کافی نہیں ہوتا۔

سرگرمی1

ذیل میں دی گئی سر گرمی سے آپ کو وقت کی انتظام کاری کی اپنی صلاحیت کا اندازہ کرنے میں مدد ملے گی۔
ہدایات: ذیل میں دیئے گئے سوالات کو نمبر دیجئے اور یہ متعین کیجئے کہ ان میں سے کون سا بیان آپ کے معاملے میں زیادہ صحیح ہے۔ آپ کو جوابات کی درجہ بندی اس طرح کرنیہے
ؓبالکل نہیں=  1
بہت کم=    2
کبھی کبھی=   3
 4 =اکثر
اکثر و بیشتر= 5
مثالیں: اگر پہلے سوال کے لئے آ پ کا جواب’’اکثر ‘‘ ہے تو آپ متعلقہ خانے میں 4لکھئے اور اگر آپ کا جواب ’’بہت کم‘‘ ہے تومعلقہ خانے میں 2لکھئے۔
تمام سوالوں کے جواب دینے کے بعد آخری میزان حاصل کرنے کے لئے سب جوابوں کا ماحصل لکھ دیجئے۔
bbb
ccc

اکثرو بیشتر اکثر کبھی کبھی بہت کم بالکل نہیں  سوال نمبر شمار 
کیا آپ دن کے دوران اولین ترجیح کے کامون کو پورا کر پاتے ہیں ؟ -1
کیا آپ اپنے کامون کو ترجیح کے لحاظ سے ترتیب دے سکتے ہیں ؟ -2
کیا آپ اپنے کام مقررہ مدت میں کر سکتے ہیں ؟ -3
کیا آپ منصوبہ بندی اور نظام الاوقات بنانے کے لیے الگ الگ وقت مقرر کرتے کرتے ہیں ؟ -4
کیا آپ اپنے کیے گئے کاموں میں لگنے والے وقت کا حساب رکھتے ہیں ؟ -5
آپ کتنی بار رکاوٹ اور توجہ ہٹے بغیر کام کر سکتے ہیں ؟ -6
آپ کو جو کام انجان دینے ہیں ان کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے کیا آپ ماصد کا تعین کرتے ہیں ؟ -7
کیا آپ غیر متوقع باتوں پر قابو پانے لیے اپنے نظام الاوقات میں ’فاضل وقت‘کی گنجائش رکھتے ہیں ؟ -8
کیا آپ اپنے نئے تفویض کردہ کاموں کی ترجیح قائم کرتے ہیں ہیں ؟ -9
کیا آپ مقررہ مدت اور پابندیوں کے دباؤ میں آئے بغیر اپنا کام مکمل کر سکتے ہیں ؟ -10
کیا آپ اہم کاموں کو رکاوتوں کے باوجود موثر طور پر انجام دے لیتے ہیں ؟
-11

کیا تفویج کردہ کامون کو گھر نہ لاکر دفتر میں ہی انجام دے لیتے ہیں ؟ -12
کیا آپ تفویض کردہ کام کرنے سے پہلے اہم کاموں کی فہرست یا منصوبۂ عمل تیار کرتے ہیں ؟ -13
کسی تفویض کردہ کام کی ترجیح متعین کرنے کے لیے کیا آپ تجربہ کارلوگوں سے مشورہ کرتے ہیں ؟ -14
تفویض کردہ کام شروع کرنے سے پہلے کیا آپ اس پر غور کرتے ہیں کہ اس کام میں جو وقت لگ رہا ہے ،وہ اس کے لائق ہے؟ -15


اسکور کی تشریح

اسکور                تشریح
46-75 آپ اپنے وقت کا بہت موثر بندو بست کر رہے ہیں۔ مزید بہتری کے لئے نیچے دیئے گئے سیکشن پر نظر ڈالیئے۔
31-45           بعض پہلوؤں سے آپ اچھے ہیں لیکن دیگر پہلوؤں میں بہتری کی گنجائش ہے۔نیچے دیئے گئے کلیدی مسائل پر توجہ کیجئے ۔ آپ شاید محسوس کریں گے کہ آ پرکام کا دباو اب پہلے سے کم ہو گیا ہے ۔
15-30           آپ کے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ طویل مدتی کامیابی کے لئے آپ کے پاس اس بات کا وسیع موقع ہے کہ آپ اپنے کام کو اور موثر بنا سکیں۔ تا ہم اس کے لئے آپ کو وقت کے مفید استعمال کے طریقوں کو بہتر کرنا ہوگا

وقت اور سر گرمی کی منصوبہ بندی کے اقدامات  (Step in time and activity plan)

(a)  
 جتنی جلد ممکن ہو اپنا کام شروع کر دیجئے۔ ذمے داری سے بچنے یا س میں تاخیر کرتے رہنے میں اپنا وقت ضائع مت کیجئے۔ طالب علم گھر پہنچے تو تھوڑی دیر آرام کر لے ، کھانا کھائے اور پھر دن ختم ہونے تک کام کو ٹالنے کے بجائے فوراً اپنے اسکول کا کام شروع کر دے۔
(b)  
 روز کا ایک معمول بنا لیجئے۔ بعض اہم کام کرنے کے لئے وقت کا انتخاب کر لیجئے۔ مثلاً اسکول کا کام کرنا ہے یا گھر کے چھوٹے موٹے کام کرنا۔ اس کے بعد اپنے معمول کے کاموں کو انجام دیجئے طلبا کو چاہئے کہ اپنے کام وقت پر اور بلا تاخیر کرنے کے لئے ہر روز کا ایک معمول بنالیں۔
(c) 
  اپنے کاموں کی ترجیحی ترتیب مقرر کر لیجئے۔ ہرنیا کام شروع کرنے سے پہلے یہ اطمینان کر لیجئے کہ اس کام سے آپ کے پہلے سے چل رہے کام  متاثر نہیں ہوں گے۔ کسیایک ہی وقت میں بہت سے کاموں یا سر گرمیوں کی ذمے داری مت قبول کیجئے۔ اگر آپ کے پاس وقت کم ہے اور کام زیادہ ہے تو اختیاری کام بعد میں شروع کیجئے اور پہلے لازمی کام انجام دیجئے۔ مثال کیط ور پر ، اگر کسی طالب علم کاکوئی کلاس ٹیسٹ ہے تو اسے پہلے اپنے ٹیسٹ کی تیاری کرنی چاہئے اور اس کے بعد ہوم ورک کرناچاہئے اور اس کے بعد دیگر سر گرمیاں انجام دینی چاہئیں۔
(d) 
  غیر اہم اور کم ترجیح والے کام ہاتھ میں نہ لیجئے۔ اگر آپ کے پاس وقت نہیں ہے یا کام زیادہ ہے تو انکار کرنے کی عادت ڈالئے۔ جو کام اہم نہیں ہے انہیں کرنے سے منع کر دیجئے۔ مثال کے طور پر اگر کسی طالب علم کو اگلے روز کا کچھ کام کرنا ہے تو وہ ٹیلی ویژن نہ دیکھے۔
(e) 
 بڑے کام کو چھوٹے چھوٹے قابل انتظام حصوں میں تقسیم کر دیجئے۔ دن بھر کے سکول کے کام (بڑے کام) کو مختلف مضامین کے لحاظ سے چھوٹے چھوٹے کاموں میں تقسیم کر دیجئے۔
(f) ان کاموں پر اپنا وقت اور اپنی توانائی ضائع نہ کیجئے جن پر زیادہ توجہ کی ضرورت نہیں ہے۔
(g)
    کوئی کام شروع کیجئے تو اسے مکمل کیجئے یا پھر یہ طے کر لیجئے کہ اس کو کب تک پورا کرنا ہے۔کام مکم کئے بغیر اس کو نہ چھوڑیئے۔
(h)  
 شروع کرنے ،او ختم کرنے کے اوقات کو نظام الاوقات کا حصہ بنا لیجئے۔اس سے ہر اہم کام کو موثر طور پر انجام دینے کے لئے وقت مل جائے گا ۔ دن بھر کے کاموں کا ایک نظام الاوقات بنا لیجئے جس میں تفریحح کا وقت بھی ہمیشہ شامل ہونا چاہئے۔
سرگرمیوں کی قسمیں 
لازمی             اختیاری 
                  مثال :سفر پر جانا ،گھر پر پیڑ پودے لگانا ،
                 تقریابات میں شرکت کرنا وغیرہ 
روزانہ 
مثال :ہر روز گھر کی صفائی اور جھاڑو پوچھا ۔
اسکول کے تفویض کردہ کام ،اسکول 
کے لیے تیاری ،کھانا پکانا ،آرم وغیرہ 
ہفتہ وار 
مثال :کپڑوں کی دھلائی ،کپڑوں پر استری ،
گھر کی ہفتہ وار صفائی ، ضروری چیزوں کی خریداری ،
اسکول کے ہفتہ وار تفویض کردہ کاموں کے لیے تیاری وغیرہ 
ماہانہ 
مثال : اسکول کی ماہانہ فیس کی ادائیگی ،
الماریوں وغیرہ کی نئی ترتیب 
سالانہ 
مثال :سالانہ امتحان ،اسکول میں کھیل کودکی 
سالانہ تقریبات اور صحت کے معائنے وغیرہ 




ddd


سرگرمی2

ذیل میں  بارہویں درجے کے ایک ایسے طالب علم کے وقت اور کاموں کے نظام الاوقات درج ہے جو کسی چھوٹے شہر میں اسکول 
کے قریب ہی رہتا ہے۔ سامنے کے کالم میں اپنے اوقات اور سر گرمیوں کا نظام تحریر کیجئے۔
آپ کے اوقات کی منصوبہ بندی  دیہی خانہ داری کے اوقات کی منصوبہ بندی  5.00am
سو کر اٹھتا ہے  5.00am
روز مرہ کی ذاتی سرگرمیاں  5.00-6.00am
پڑھائی /باورچی خانے کے کام میں مدد 6.00-7.00am
نہانا اور اسکول کی تیاری  7.00am-7.30am
ناشتہ اور اخبار بینی  7.30am-7.50am
اسکول پہنچنا  7.50am-8.00am
اسکول میں رہنا  8.00am-2.00pm
گھر پہنچنا  2.00pm-2.10pm
کپڑے بدلنا ،ہاتھ منہ دھونا ،دوپہر کا کھانا کھانا وغیرہ ۔ 2.10pm-3.00pm
آرم/سونا  3.00pm-4.00pm
پڑھنا اور اسکول کا کام کرنا  4.00pm-6.00pm
باہر جا کر کھیلنا ،خالی وقت گزارنا ، ٹی وی دیکھنا ، والدین کے ساتھ وقت گزارنا ،بہن بھایئوں کے اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا  6.00pm-8.00pm
رات کا کھانا  8.30pm-9.00pm
مطالعہ ، اگلے دن کے لیے اسکول کا بستہ تیار کرنا  9.00pm-10.00pm
سونا 10.00pm-5.00am





وقت سے متعلق منصوبے انفرادی ضروریات کے مطابق بنائے جاتے ہیں۔ ہر شخص کے مقاصد الگ ہوتے ہیں اور ہر شخص کی ضروریات الگ ہوتی ہیں۔مثال کیط ورپرایک طالب علم کے وقت کا منصوبہ اس شخص کے منصوبے سے الگ ہوگا جو کام پر باہر جاتا ہو۔

سر گرمی3

والدہ کے اوقات کی منصوبہ  دیہی خانہ دار کے اوقات کی منصوبہ بندی 
جاگنا  4.00 am
گائے کو چارہ دینا اور دودھ دوہنا  4.00 am5.00am
نہا کر پوجا پاٹ کرنا  5.00am-5.30am
کھانا پکانا اور گھر والوں کو پیش کرنا  5.30am-7.00am
کھیت میں کام کرنا 7.00am-9.00am
گھر کے دیگرچھوٹے موٹے کام جیسے گھر کی صفائی ،برتنوں کی صفائی ، کپڑون کی دھلائی  9.00a-10.30am
آرام کا وقت :اس میں بنائی،گھر کے افراد سے بات چیت ،ٹی وی دیکھنا شامل ہے  10.00am12.30pm
گھر والوں کو دوپہر کا کھانا دینا ، خود بھی کھانا کھانا 12.30pm-1.30pm
سہ پہر کاکام  1.30pm -3.00pm
پکانے کے لیے پانی لانا  3.00pm-4.30pm
گھر کے چھوٹے موٹے کام  4.30pm-6.00pm
رات کا کھانا تیار کرنا  6.00pm -7.30pm
گھر والوں کو کھانا دینا اور خود بھی کھانا  7.30pm-8.30pm
گھر کے باقی کام  8.30pm-9.30pm
ٹی وی دیکھنا ،سونا  9.30pm.10.00pm


وقت کے انتظام کاری کے لیے موثر مشورے(Tips for effective time management)

1۔’’کاموں‘‘ کی سادہ سی فہرست تیار کیجئے۔

اس سے آپ کو کاموں کی نشاندہی کرنے، انہیں انجام دینے کی وجہ جاننے اور انکو مکمل کرنے کے لئے وقت کا تعین کرنے میں مدد ملے گی۔

سرگرمی کو انجام دینے کا سبب مکمل کرنے کا دن /تاریخ  سرگرمی  نمبر شمار 

2۔   روزانہ/ہفتہ وار منصوبہ ساز

دن                                                             گھنٹے 
          صبح                                   شام 
10-11 9-10 7-8 6-7 5-6 4-5 3-4 2-3 1-2 12-1 11-12 10-11 9-10 8-9 7-8
پیر
منگل
بدھ
جمعرات
جمعہ
سنیچر
اتوار



3۔   طویل مدتی منصوبے

ایک ماہانہ چارٹ بنائیے تاکہ آگے کی منصوبہ بندی کی جا سکے۔ طویل مدتی منصوبہ ساز سے اس بات کی یاد دہانی کرتا رہے گا کہ اپنے اوقات کی بھی تعمیری منصوبہ بندی کرنی ہے

جنوری     _______________________________________________________________________________________________
فروری     _______________________________________________________________________________________________
مارچ      _______________________________________________________________________________________________
اپریل    _______________________________________________________________________________________________
مئی      _______________________________________________________________________________________________  
جون       _______________________________________________________________________________________________
جولائی   _______________________________________________________________________________________________
اگست  _______________________________________________________________________________________________ 
ستمبر    _______________________________________________________________________________________________
اکتوبر  _______________________________________________________________________________________________ 
نومبر  _______________________________________________________________________________________________ 
دسمبر _______________________________________________________________________________________________ 

وقت کی انتظام کاری کے طریقے(Tools in time management)

ذیل میں دیئے گئے طریقے وقت کی انتظام کاری کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں:
(i)   بہت زیادہ مصروفیت کا وقت(Peak load period): وقت کی وہ مدت ہے جس میں کام کا بوجھ سب سے زیادہ ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر صبح کا وقت یا رات کے کھانے کاوقت۔

17
(ii)   کام کا خط منحنی(Work curve): یہ کسی وقت کے دوران ہونے والے کام کا پتا لگانے کا طریقہ ہے۔
یہاںaسےbتک خود کام کے لئے آمادہ کرنے کا وقت ہے۔cکام کرنے کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت  اور dتھکن کی وجہ سے آنے والی زیادہ سے زیادہ گراوٹ ہے۔
(iii)   آرام کے وقفے: یہ کام کے دوران غیر پیداواری رکاوٹیں ہیں۔ آرام کے وقفوں کی مدت اور ان کا تعدد(Frequency) بہت اہم ہوتا ہے ۔ یہ وقفے نہ بہت طویل ہونے چاہئیں اور نہ بہت مختصر

سر گرمی4

اپنے روز کے زیادہ سے زیادہ کام کے اوقات اور آرام کے وقفوں کی نشاندہی کیجئے۔

(iv)   کام کو آسان بنانا(Work Simplification):یہ کسی کام کو شعوری طور پر ، سادگی ،آسانی اور تیزی سے کرنے کی کوشش ہے ۔ اس میں دو اہم وسائل یعنی وقت اور توانائی کی ہم ااہنگی اور انتظام کاری شامل ہے۔ اس کا مقصد ایک دیئے گئے وقت اور توانائی کی مدد سے کام کو انجام دینا ہے، یا یوں کہئے کہ ایک مقررہ کام کی انجام دہی میں وقت یا توانائی یا دونوں کی مقدار کو کم کرنا ہے ۔ کام کو آسان بنانے کے طریق کار میںتبدیلی لانے کے لئے تبدیلیوں کی تین سطحیں بہت اہم ہیں ۔ یہ حسب ذیل ہیں:
ہاتھ اور جسم کی حرکات میں تبدیلی: اس میں کام کے یکساں ذرائع اورنتیجے پر نظر رکھتے ہوئے صرف جسم اور ہاتھوں کو حرکت میںتبدیلی لانا ہے ۔ا س طرح بہت سے کام درج ذیل زریعے سے کم کوشش اور محنت سے کئے جا سکتے ہیں۔
(i) بعض مراحل کوچھوڑ کر اور بعض کوایک ساتھ ملا کر مثلاً
•   ڈشوں کو برتنوں کی ایک ریک(Rack) پر سوکھنے دیجئے ۔ اس طرح انہیں پوچھ کر سکھانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
جو چیزیں بازار سے خریدنی ہیں ان کی ایک فہرست بنا لیجئے اور ان کو الگ الگ خریدنے کے بجائے ایک ساتھ خریدیے۔

(II)   کام کی ترتیب اور سا کے انداز کوبہتر بناکر ، مثلاً
•   یکساں قسم کے کام ایک ساتھ کیجئے ۔ گھر کی صفائی کرتے وقت، سارے کمروںمیں جھاڑ نے جھاڑو دینے اور پو نچھا پھیرنے کے کام ہر کمرے کو الگ الگ صاف کرنے کے بجائے ایک ساتھ کئے جا سکتے ہیں۔ اس طرح کام زیادہ سلیقے سے ہوجائے گا۔
(III)  
 کام کی مہارت پیدا کرکے بھی محنت کو کم کیا جا سکت اہے ۔ کسی کام کی بھر پور واقفیت اور مہارت سے جسمانی محنت کم لگتی ہے اور اس طرح وقت اور توانائی کی بھی بچت ہوتی ہے۔
(IV)
   جسم کی وضع کو بہتر بنا کر بھی محنت کی بچت ہو سکتی ہے۔یعنی جسم کی درست اور اچھی وضع کو بر قرار رکھنا،(شکل2دیکھئے) عضلاتکا موثر استعمال کرنا،جسم کے اعضا سیدھے رکھنا اور آخرکار ہڈیوں پر زیادہ سے زیادہ وزن ڈالنا، اس طرح عضلات کو تناؤ سے آزاد رکھنا۔ مثال کے طور پر پر جھک کر جھاڑو دینے کے بجائے جھاڑو کا لمبا دستہ جسم کی مستحکم وضع کو بر قرا ر رکھے گا۔
(دیکھئے شکل 3)

کھڑے ہونے کا درست انداز۔ کھڑے ہونے کے صحیح انداز میں سر گردن، سینہ اور پیٹ ایک دورے کے اوپر توازن کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس سے جسم کا بوجھ ہڈیوں کے ڈھانچے(Bony framework)پر رہتا ے اور عضلات اوررباطوں(Ligaments)پر کم سے کم دباؤ پڑتا ہے۔
اسی طرح کام کرنے کے لئے بیٹھنے کاصحیح انداز بہت متوازن اور پر سکون ہونا چاہئے۔ بیٹھنے کا انداز ایسا ہو کہ جسم کا بوجھ ہڈیوں کے ڈھانچے پر رہے اور عضلات اور اعصاب پر دباؤ یا تناؤ نہ ہو۔ توازن اس اندازکا ہو کہ کامکرنے میں سہولت ہو جائے۔

18

شکل 2: جسم کے اعضا کو مرکز ثقل کی سیدھ میں دکھانے والی شکل

19

شکل:3

غیر آرام دہ دستے والی جھاڑوجس میں کمر کو جھکانا پڑتا ہے اور عضلات پر دباؤپڑتا ہے ۔
آرم دہ لمبے دستے جھاڑو
•   کام ،ذخیرہ گاہ اور زیر استعمال آلات میں تبدیلی-اس میں ذخیرہ گاہ کو منظم کرنے ، کچن کے سامانکو دوبارہ ترتیب دینے، استعمال کرنے والے کی ضرورت کے مطابقکام کرنے کی جگہ کی صحیح اونچائی،اور چوڑائی کا تعین کرنے اور پریشر ککر،واشنگ مشین،مائکرو ویو وغیرہ محنت بچانے والے سامان استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ان تمام امور سے وقت کی بچت ہوتی ہے اور ہاتھ کم چلانے پڑتے ہیں۔
•   نتیجے کی تبدیلی۔ یہ تبدیلیاں درج ذیل کے استعمال سے ہوتی ہیں۔
۔   مختلف خام مال مثلاً ثابت مسالوں کے بجائے بسے ہوئے تیار مسالے ، فصلوں کے لئے نامیاتی بیجوں کا استعمال وغیرہ۔
۔   ایک ہی خام مال سے مختلف مصنوعات کی تیاری۔مثلاً آئس کریم کے بجائے قلفی، کوفتے کے شور بے کے بجائے لوکی کا پراٹھا وغیرہ۔
۔   کام مال اور تیار مصنوعات دونوں میں تبدیلی۔ مثلاً فاؤنٹین پین کے بجائے بال بین وغیرہ کا استعمال ۔

10C.2 جگہ کی انتظام کاری(Space Management)

گھر یا گھر سے باہر اور دفتر میں مختلف سر گرمیاں انجام دینے کے لئے لوگ جگہ کا استعمال کرتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگاکہ ایک اچھے نقشے پر بنا ہوا کمرہ کشادگی کا احساس کراتا ہے جبکہ اتنے ہی رقبے میں بناہوا یکساں پیمائش کاکمرہ ٹھیک سے منظم نہ کیا جائے تو بند بند اور بے ترتیب سا لگتا ہے۔ جگہ کی انتظام کاری(Space management) میں جگہ کی منصوبہ بندی ، منصوبے کے مطابق  اس کا استعمال ،استعمال کے لحاظ سے منصوبے پر عمل در آمد اور اس کی افادیت اور جمالیاتی اثر کے لحاظ سے اس کی قدر و قیمت کا تعین وغیرہ شامل ہیں۔ اچھی طرح تیار کی گئی کام کی جگہ پرکام کے دوران نہ صرف اارام ملتا ہے بلکہ وہ دل کش بھی نظر آتی ہے۔

جگہ  اور گھر(Space and the home)

 بیٹھنا،سونا،پڑھنا،پکانا،نہانا،دھونا،تفریح وغیرہ ایسی سرگرمیاں ہیں جو گھر میں انجام پاتی ہیں۔ ان سر گرمیوں اور ان سے پیدا ہونے والے کاموں کے لئے عام طور پر گھر میں کچھ جگہیں طے ہوتی ہیں۔ جہاں جگہ دستیاب ہو وہاں ایسی سر گرمیوں کو انجام دینے کے لئے مخصوص کمرے ہوتے ہیں۔ اکثر شہری متوسط طبقے کے بیشتر گھروں میںبیٹھک ،کواب گاہ،باورچی خانہ ،اسٹور روم،غسل خانہ،بیت الخلا،برآمدہ؍صحن وغیرہ ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ کچھ گھروں میں بعض اور کمرے جیسے ڈائننگ روم،اسٹڈی روم،ڈریسنگ روم،مہمان خانہ ،بچوں کا کمرہ ،گیریج(اسکوٹر؍کار کے لئے) زینہ،راہدای،پوجا کمرہ،باغیچہ اور ٹیریس وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ان جگہوںکی منصوبہ بندی کس طرح ہوگی؟

سر گرمی5

اپنے گھر میں مختلف کمروں اورجگہوں میں انجام دی جانے والے سر گرمیوں کی ایک فہرست تیار کیجئے ۔ مثال کے طور پر:


         کمرے                                               سر گرمیاں
             باورچی خانہ                                                                          کھانا پکانا
_____________________________________________              ______________________________________________
_____________________________________________              ______________________________________________
_____________________________________________             ______________________________________________
_____________________________________________             ______________________________________________
_____________________________________________             ______________________________________________
_____________________________________________             ______________________________________________
_____________________________________________            _______________________________________________
_____________________________________________            _______________________________________________
_____________________________________________            _______________________________________________
_____________________________________________            _______________________________________________


جگہ کی منصوبہ بندی کے اصول(Principles of space planning )


جگہ کے بھر پور استعما ل کے لئے اس کی منصوب بندی کی جانی ضروری ہے۔ ذیل میں ایسے اصول درج کئے جاتے ہیں جنہیں گھر میں کام کی جگہوں کے تعین اور انکو تیار کرتے ہوئے ذہن میں رکھناچاہئے۔
(i) رخ(Aspect): رخ کسی عمارت کی بیورنی دیواروں میں دروازوں او ر کھڑکیوں کی ترتیب یا نظم کو کہتے ہیں ۔ اس سے وہاں مقیم لوگوں کو قدرت کے عطیات مثلاً دھوم ،ہوا اور مناظر سے لطف اندوز ہونیکے مواقع حاصل ہوتے ہیں۔
(ii) تاثر(Prospect): تاثر اپنے اصل مفہوم میں وہ احساس ہے جو اس شخص میں پیدا ہوتا ہے جو کسی گھر کو باہر سے دیکھتا ہے ۔ گھر اس طرح بنایا جائے کہ وہ دیکھنے میں اچھا لگے۔ اس کے قدرتی حسن کا استعمال بھی کیا جا سکت اہے ۔ اس سلسلے میں دروازوں اور کھڑکیوں کے رخ کی بھی بڑی اہمیت ہے ۔ اس میں نا خوش گوار چیزوں کو چھپانا بھی شامل ہے۔
(iii) ذاتی پہلو(Privacy): جگہ کی منصوبہ بندی میں ذاتی پہلو کاخیال رکھنا سب سے اہم اصول ہے ۔ ذاتی معاملات کے دو اہم پہلو ہیں:
•  اندرونی ذاتی پہلو:(Internal Privacy): ایک کمرے کو دوسرے کمرے سے الگ رکھ کر اندرونی ذاتی پہلو کا خیالرکھا جا سکتا ہے ۔ سیے دروازوں کی جگہ کے تعین اور چھوٹی راہداری یا لابی وغیرہ کی سہولت کیس اتھ گھر کی منصوبہ بندی کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اندرونی ذاتی پہلو کاخیال چھوٹے بڑے پردے ڈال کربھی رکھا جا سکتا ہے ۔ زیادہ افراد والے گھروں میں عورتوں کے بیٹھنے کے لئے الگ جگہ رکھی جاتی ہے جس سے انہیں ہر مداخلت سے دور رکھنے کا مقصد حل ہو جاتا ہے۔
•  خارجی ذای پہلو(External Privacy): گھر کے تمام حصوں کو پڑوس کی تمام عمارتوں یا گھروں،عام راستوں اور جگہوں سے روپوش رکھ کرخارجی ذاتی پہلو کا خیال رکھا جا سکتا ہے۔ اس لئے دروازے کے آگے ایک سائبان بھی بنایا جا سکتا ہے،جس کے سامنے کوئی پیڑ یا بیلیں بھی لگائی جا سکتی ہیں۔

20

خارجی ذاتی پہلو کا اہتمام۔ باڑہ یا جھاڑیوں کے ذریعے محفوظ گھر

سر گرمی6

اپنے خاندان کے مختلف عمر کے لوگوں سے بات کیجئے اور ان سے پوچھئے کہ وہ ’ذاتی پہلو‘ سے کیا سمجھتے ہیں۔

(iv) یک جائی( Grouping): اس کا مطلب گھر کےمختلف کمروں کا ایک دوسرے سے نزدیک یا دور ہوتا ہے۔مثال کیطور پر کسی عمارت میں کھانے کا کمرہ باورچی خانے کے نزدیک ہونا چاہئے اور باورچی خانہ بیت الخلا سے دور ہونا چاہئے۔
21
مکان کا نقشہ 
اٹھنے بیٹھنے کا کمرہ        خواب گاہ 
باورچی خانہ 
ٹوائلٹ 
(v) کشادگی(Roominess) اس کا مطلب کسی کمرے میں ہرنے والے لوگوں کو کشادگی کا احساس دلاناہے۔ دستیاب جگہ کا بھر پور استعمال کیا جانا چاہئے۔ مثال کیطور پر کمرے کی دیواروں میں الماری ،طاق اور مچان ہو سکتا ہے تاکہ کمرے کا فرش مختلف سر گرمی کے ئے بچا رہے۔ اس کے علاوہ کمرے کا سائز کمرے کی شکل،فرنیچر کی ترتیب اور کمرے کے رنگوں کا امتزاج بھی اسکی کشادگی کے احساس پر اثر انداز ہوت اہے ۔ ایک مناسب مستطیل کمرہ مربع شکل کے یکساں ناپ والے کمرے کے مقابلے میں زیادہ کشادہ لگتا ہے ۔ گہرے رنگوں کے مقابلے ہلکے رنگوں سے بھی کمرہ زیادہ کشادہ معلوم ہوتا ہے۔
(vi) فرنیچر:کمرے کی منصوبہ بندی کرتے وقت وہاں رکھے جانے والے فرنیچر کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔ اس بات کا بھی دھیان  رہے کہ ضروری فرنیچر ہی کمرے میں رکھے جائیں۔فرنیچر کو اس طرح ترتیب دیاجائے کہ کمرے میں چلنے پھرنے کے لئے بھی کافی گنائش باقی رہے۔
22

بغیر فرنیچر غیر آراستہ کمرے جنہیں بعد میں فرنیچر کی تمام ضروریات کو پورا کرتے ہوئے آراستہ کیا گیا۔

(Vii)صفائی(Sanitation): صفائی ، مناسب روشنی ،ہوا کی آمد و رفت اور صفائی اور دھلائی کی سہولتوں پر مشتمل ہوتی ہے جس کے طریقے مندرجہ ذیل ہیں۔
(a) روشنی: روشنی کی دوہری اہمیت ہے۔ ایک تو اس سے روشنی ہوتی ہی ہے دوسرے حفظان صحت میں بھی مدد ملتی ہے۔کسی عمارت میں روشنی قدرتی ذرائع سے بھی فراہم کی جاتی ہے اورمصنوعی ذرائع سے بھی۔ کھڑکیا ں،بلب،ٹیوب لائٹ روشنی کے کچھ ذرائع ہیں۔
(b)  ہوا کا انتظام(Ventilation): یہ کسی عمارت میں باہر سے ہوا کے آنے کا انتظام ہے۔ ہوا کا انتظام ایک اہم عامل ہے جو کمروں اور عمارت کو آرام دہ بناتا ہے۔ عام طور پر کھڑکیوں اور دروازوں ،روشن دانوںکو عمارت میں اس طرح رکھا جاتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ ہوا آ سکے۔ اگر کھڑکیاں آمنے سامنے لگائی جائیں تو اس سے ہوا کی آمد بڑھ جاتی ہے۔ کسی عمارت میں ہوا کی کمی سر کے درد ،غنودگی اور کام سے اکتاہٹ کا سبب بنتی ہے۔ہوا قدرتی ذرائع سے بھی آتی ہے اور مصنوعی طریقے سے بھی مثلاً ایگزاسٹ فین وغیرہ  استعمال کر کے۔
(c)  صفائی ستھرائی کی سہولتیں:عام صفائی ستھرائی اور عمارت کا رکھ رکھاؤ وہاں رہنے والوں کی ذمے داری ہوتی ہے۔ تا ہم منصوبہ بندی کرتے وقت صفائی ستھرائی کی سہولتوں کا خیال رکھنا اور دھول سے محفوظ رہنے کا بھی بندو بست ضروری ہے۔ عمارت میں غسل خانے اور بیت الخلا کا بندو بست بھی صفائی ستھرائی کے زمرے میں شامل ہے ۔ دیہی مکانات میں بیت الخلا اور غسل خانے عام طور پر صحت کے پچھلے حصے اور کمروں سے دور الگ اکائی کے طور پر بنائے جاتے ہیں۔ان کو رہائشی حصوں سے دور رکھنے میں حفظان صحت کے اصلو پر عمل ہوتا ہے۔
(viii) ہوا کی گردش(Circulation): ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں ہواکا گزر ممکن ہونا چاہئے ۔ ہوا کے گزرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہوا کسی مشترکہ جگہ سے ہر رہائشی اکائی تک بے روک پہنچ سکے۔ اس سے گھر کے افرادکے ذاتی پہلو کا تحفظ بھی  یقینی ہو جاتا ہے۔

23

(ix) عملی پہلو: کسی جگہ کی منصوبہ بندی کرتے وقت ، کچھ عملی پہلوؤں کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ ان عملی پہلوؤں میں عمارت کی مضبوطی، اس میں فراہم کی جانے والی سہولتیں، خاندان کا آرام،سادگی ،خوب صورتی اور مستقبل میں توسیع کی گنجائش بہت اہم ہیں۔کمزور عمارت کھری کر کے بچت کرنا عقل مندی نہیں ہوگی۔
(x) خوش نمائی:خوش نمائی منصوبے کے عام نقشے سے پیدا شدہ تاثر کا نام ہے ۔ کفایت سے سمجھوتہ کئے بغیر ، کسی بھی جگہ کا نقشہ ایسا ہوجس سے ہماری جمالیاتی حس کو تسکین ملے۔
مذکورہ بالا اصولوں کی رعایت رکھنے  سے جگہ کی منصوبہ بندی اور انتظام کاری میں مدد متی ہے ۔ اس بات میں ہم نے  دو اہم وسیلوں یعنی وقت اور جگہ کے بارے میں پڑھا کہ کس طرح ان کا بہتر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگلے باب میں ہم ایک اور وسیلے ،علم اور اس کے حصول کے طریقوں کے بارے میں پڑھیں گے ۔ آموزش،تعلیم او ر توسیع ،حصول علم کی بنیاد ہیں۔

کلیدی اصطلاحات

وقت کی انتظام کاری(Time Management)۔جگہ کی انتظام کاری(Space Management)،وقت کے استعمال کا منصوبہ(Time plan)، سر گرمی کا منصوبہ(Activity plan)، کام کو آسان بنانا(Work Simplification)۔

سوالات برائے نظر ثانی
وقت اور جگہ کے وسائل کو بیان کیجئے۔
وقت کی انتظام کاری کیوں ضروری ہے۔
وقت اور سرگرمی کے منصوبے کے مراحل کے بارے میں بحث کیجئے۔
4۔      وقت کی انتظام کاری کے کون کون سے ذرائع ہیں؟
جگہ کی انتظام کاری کی تعریف بیان کیجئے۔ گھر کے اندر جگہ کی منصوبہ بندی کے اصولوں پر بحث کیجئے۔


باب - 10


D- آموزش ، تعلیم اور توسیع 

(Learning, Education and Extension )

آموزشی مقاصد

اس حصّے کے مطالعے کے بعد طلبا :
٭  آموزش کے معنی اور اس کی اقسام سے بحث کرسکیں گے۔ 
٭  خاندان، اسکول، برادری اور سماج کے پس منظر میں تعلیم کا کردار بیان کرسکیں گے۔ 
٭  توسیع تعلیم اور اس کے طریقوں کی اہمیت کو واضح کرسکیں گے۔
٭  ہندوستان کے چند توسیعی پروگراموں کے بارے میں معلومات حاصل کرسکیں گے۔

10D.1   آموزش یا سیکھنا ( Learning)


تعارف: اب تک آپ نے اتنا کچھ سیکھ لیا ہوگا کہ آپ آموزش یا سیکھنے کا مطلب بتانا ضروری نہیں ہے۔ آپ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ آموزش ہماری زندگی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ ہمارے علم ، ہماری فہم اور ہمارے رویوں کی کلید ہے۔ ہم اسی وقت سے سیکھنا شروع کردیتے ہیں جب ہم اس دنیا میں آتے ہیں۔ در حقیقت ، تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جنین ماں کے پیٹ میں ہی سیکھنا شروع کردیتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں آموزش زندگی کے ساتھ ہی شروع ہوجاتی ہے۔ اس طرح آموزش کی تعریف اس طرح بیان کی جاسکتی ہے: 
کسی تجربے کے نتیجے میں کسی نئے طرز عمل (Behaviour) کا حصول یاکسی پرانے رویے کا طاقت وریا کمزور ہونا ۔ 

آموزش کے عمل میں تین اہم اجزا شامل ہیں :
  • سیکھنے والا، جس کے طرز عمل میں اصلاح یا تبدیلی ہوتی ہے۔ 
  • طرز عمل کی تبدیلی کے لیےمطلوبہ تربیت
  • وسائل ، انسانی اور مادی 

آموزش پانچ قسم کی ہوسکتی ہے 

(i)زبانی آموزش(Verbal Learning): مختلف زبانوں کو سیکھنے کا عمل زبانی آموزش کا نتیجہ ہوتاہے۔ عام طور پر ہم اس قسم کی آموزش کے لیے نشانات، تصویروں ، علامتوں، لفظوں ، شکلوں ، اصوات اور موسیقی کی آوازوں جیسے ابلاغی طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔ اس میں تحریری یازبانی نثر کے ذریعے معنیات (Semantics)یا رسمیاتی علم (Procedural Knowledge) کی آموزش بھی شامل ہے۔ مثال کے طور پر کسی درسی کتاب کے اسباق پڑھ کر سیکھنے کا عمل ۔
(ii)یاد کرنے یا رٹنے کے ذریعے آموزش (RoteLearning or memorisation):
یہ بھی لفظی آموزش (Verbal Learning) کی ایک قسم ہے مگر اس آموزش میں کسی موجوع کے گہرے معانی کی تفہیم اورنتائج اخذ کرنے کی اہمیت کم ہوتی ہے۔ اس کے بجائے اس میں مواد کو رٹ لینے پر زور ہوتا ہے۔ رٹنے کے ذریعے آموزش میں رٹنے یا باربار یاد کرنے کی تکنیک اپنائی جاتی ہے۔ رٹنے کے طریقے کا استعمال ریاضی ، موسیقی اور مذہبی موضوعات میں زیادہ ہوتا ہے۔ مثال کے طورپر اشعار یاد کرنا ، پہاڑے یاد کرنا ، سورتیں اور اشلوک یا دکرنا وغیرہ ، رٹنے کے ذریعے آموزش کی مثالیں ملتی ہیں۔ 
(iii)حرکی آموزش (Moter Learning ): اس قسم کی آموزش میں ہم مختلف قسم کے عضلات (Muscles) کا استعمال کرتے ہیں جس سے جسمانی پھرتی پیدا ہوتی ہے جس کے نتیجے میں مہارتوں (Skills) کو فروغ ملتا ہے۔ تیراکی، ڈرائیونگ ، سلائی ، ٹائپنگ ، بُنائی ، ساز بجانا، سائیکل چلانا، ڈرائنگ ، پینٹنگ اور رقص وغیرہ سیکھنا حرکی آموزش کی چند مثالیں ہیں۔ اس طرح کی آموزش کے ذریعے مختلف مہارتوں کے حصول اور ان میں مشاق ہوجانے سے سیکھنے والے میں اعتماد بھی پیدا ہوجاتا ہے اور اس کی تشفی بھی ہوجاتی ہے۔ 
(iv)تصور مرکوز آموزش(Concept learning):آموزش کے اس طریقے میں کسی چیز کے ادراک ، سابقہ تجربے، تربیت یاادراکی سرگرمیوں (Congnitive Processes) کے نتیجے میں ہمارے ذہن میں ایک تصویر بن جاتی ہے۔ یہ ذہنی تصویر کسی بھی چیز کے عمومی خیال (Genralisedideal) کو ظاہر کر تی ہے۔ مثال کے طو رپر، اگر ہم نے کتا نامی جانور کے تصور کو سمجھ لیاتو جب کبھی لفظ ’کتا‘ زبان سے نکلے گا تو کتے اور اس کی خصوصیات کے بارے میں ہمارے ذہن میں ایک تصویر بن جائے گی۔ تصور مرکوز آموزش اشیا اور خیالات کو شناخت کرنے ، ان کا نام لینے یا ان کی نشان دہی کرنے میں کام آتی ہے ۔ اس سے سیکھنے والے بتدریج نظری تصورات مثلاًانصاف، صداقت اور غیر یکسانیت (Heterogenity)کے مقام سمجھنے لگتے ہیں۔ 
(v)مسائل کا حل (Problem solving): جیسا کہ نام سے ظاہر ہے ، مسائل کا حل اعلادرجے کی آموزشی سرگرمی ہے۔ اس میں ادراکی اہلتیوں جیسے غور وفکر، استدلا ل ، تمیز، تعمیم ، تخیل مشاہدے اور نتائج اخذ کرنے کی اہلیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر عمر کے لوگ مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً، ایک شیر خوار بچہ بھوکا ہونے پر رونے کے ذریعے اپنا مسئلہ حل کرتا ہے اور ایک طالب علم سنجیدگی کے ساتھ اپنے اسکول کا کام پورا کرکے اپنا مسئلہ حل کرلیتا ہے۔ اس طرح مسائل کے حل کے ذریعہ بہت کچھ سکھا جاسکتاہے۔ 

خلاصہ 

آموزش کی قسمیں: 

  • زبانی آموزش (Verbal learning): یعنی کسی نئی زبان کا سیکھنا ۔
  • رٹنے کے ذریعے آموزش (Rote Learning): نظموں، پہاڑوں، سورتوں یا اشلوکوں کو یاد کرنا ۔ 
  • حرکی آموزش (Moter Learning):جیسے ڈرائیونگ، ٹائپنگ ، سلائی ، سائیکلنگ، تیراکی وغیرہ۔ 
  • تصور مرکوز آموزش(Concept Learning): جیسے قومی جھنڈا ، آزادی ، جذبہ وغیرہ۔ 
  • مسائل کا حل (Problem Solving): جیسے ریاضی کے سوال، معمے، بھیڑ والی سڑک پار کرنا وغیرہ۔ 

10D.2  تعلیم(Education)

اسی صفحے پر دی گئی شکل کو دیکھیے اور درج ذیل سوالوں کے جواب دیجیے۔ آپ کے روزمرّہ کے تجربے میں تعلیم کا مطلب ہے :


24
a.  موٹی موٹی کتابیں پڑھنا اور ان کو یاد کرلینا ؟
           ہاں                  نہیں                     کبھی کبھی 
b.  کوئی ایسی چیز جو کسی رسمی نظام میں طے شدہ نصاب کے تحت پڑھائی جاتی ہو 
        ہاں                      نہیں                  کبھی کبھی 
c.  نئے تصورا ت کا حصول ؟
        ہاں                        نہیں                  کبھی کبھی 
d.  اپنی صلاحیتوں کا ادارک ؟
        ہاں                           نہیں               کبھی کبھی 
اس حصّے میں ہم دیکھیں گے کہ تعلیم کس طرح انسانی ماحولیات یعنی خاندان ، اسکول، برادری اورسماج کی تفہیم میں مددگار ہوتی ہے۔ تعلیم ہمارے جسمانی ، وجدانی، جذباتی ، ادراکی اور ماورائی تجربات کے ذریعے دنیا کی تفہیم کو آسان بناتی ہے۔ یہ انسان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتی ہے۔ تعلیم مختلف طریقوں سے ، چاہے وہ رسمی ہوں یا غیر رسمی ، دی جاسکتی ہے۔ رسمی تعلیم باقاعدہ تدریس کے ذریعے ہوتی ہے۔ روزمرہ زندگی کے غیر ساختہ ماحول میں نسبتاً تھوڑے سے وسائل استعمال کرکے دی جاسکتی ہے۔ یہ سمجھ لینا بہت ضروری ہے کہ تدریس اسی وقت سود مندہوگی جب سیکھنے کا عمل بھی شامل ہو۔ آموزش ایسا عمل ہے جس میں طالب علم خود سیکھتا ہے ، اسے سیکھنے پر مجبور نہیں کیا جاتا ، یہ ایسی چیز نہیں ہے جو طالب علم کے ساتھ زبردستی کی جائے ۔ 
گیارھویں جماعت کے طالب ہونے کے ناطے آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ تعلیم کی جن سرگرمیوں کا ذکر بھی کیا گیا ان کا تعلق آپ کی تعلیم سے ہی ہے۔ اسکول میں آپ رسمی تعلیم حاصل کرلیتے ہیں حالاں کہ آپ کی آموزش اور آپ کی تعلیم اسکول سے باہر بھی کچھ ہوتی ہے۔ ذیل میں دی گئی شکل ادارہ جاتی (Institution-based)تعلیم کے مختلف اجزا کا ایک گریفک (Graphic)اظہار ہے ۔ 

تعلیم   
سیکھنے والا 
(بالغ یا بچہ یا مرد یا عورت /شہری یادیہی )  
 نصاب (مواد /موضوعات /زبان )
آموزشی ماحول اور دیگر مادی نظام 
استاد /مدرس /تربیت کار (راحت رساں )
تحقیقاتی سر گرمیاں  
توسیعی سرگرمیاں

pic4

شکل 1:تعلیم کے اجزا 

تعلیم اور خاندان (Education and the Family)

آپ نے اکائی IIA میں ’خاندان‘ کے باب میں پڑھا ہے کہ بچے کے اسکول جانے سے پہلے خاندان، سماجی میل جول (Socialisation) سکھانے کا کام شروع کردیتا ہے  یہ سلسلہ اس وقت بھی جاری رہتا ہے جب بچہ مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہوتا ہے ۔ بچے کو خاندان میں رہنے سہنے کے طور طریقوں ، خاندان کی قدروں ، عقیدوں اور رویوں کے بارے میں سکھانا یا تعلیم دینا بھی سماجی میل جول میں شامل ہے ۔ اس طرح بچہ نہ صرف خاندان کی زبان بولنا سیکھ لیتا ہے بلکہ یہ بھی سیکھتا ہے کہ گھر آنے والے ملاقاتیوں کے ساتھ کس طرح برتاؤ کیا جاتا ہے یا یہ کہ والدین اور دیگر افراد کو ناخوش نہیں کرنا چاہیے ۔ 
اب سوال یہ ہے کہ خاندان ، خاندان کے مسائل اور ضروریات کی تفہیم کے سلسلے میں تعلیم کیا کردار ادا کرتی ہے ؟ شکل 1میں آپ نے دیکھا کہ تمام رسمی تعلیم میں کچھ موضوعات ہوتے ہیں جن کو نصاب کہا جاتا ہے۔ تعلیم کے مختلف مراحل ہیں ۔ ابتدائی سے اعلا تعلیم تک ایسے بہت سے سبق یا مضمون پڑھائے جاتے ہیں جن سے آپ کو خاندان کے بارے میں معلوم حاصل ہوتی ہیں۔ ابتدائی درجات ہی میں جب آپ نے پہلا مضمون لکھا تھا اور خاندان کی پہلی تصویر بنائی تھی تو خاندان کے بارے میں آپ کا تصور کافی وسیع ہوچکا تھا۔ تبھی سے سماجی علوم کے نصاب کے ذریعے دنیا بھر میں موجود خاندانوں کے تنوع کے بارے میں آپ کو نئی نئی معلوم حاصل ہوتی رہی ہیں۔ سماجیات(Sociology)جیسے مضامین اور اب ’انسانی ماحولیات اور علوم خان داری‘ نے اس شعبے میں آپ کے علم میں مزید اضافہ کیا ہے۔ اس طرح ہم یہ جان چکے ہیں یہ جان چکے ہیں کہ دنیا میں بہت سے شہری، دیہی اور قبائلی خاندان ہیں جن کی اپنی ضروریات اور اپنے تجربات ہیں ۔ 

222222222222222222222222

 سرگرمی 1

وہ زمانہ یا دکیجیے جب آپ نے پہلی بار ’’میرا خاندان‘‘پر مضمون لکھا تھا۔ اگر اس مضمون پر آج آپ کچھ لکھیں گے تو کن پانچ باتوں پر توجہ دیں گے ؟
1----------------------------------------------------------------------------
2----------------------------------------------------------------------------
3----------------------------------------------------------------------------
4----------------------------------------------------------------------------
5----------------------------------------------------------------------------

تعلیم اور اسکول(Education and the Schol)

آپ میں سے بیشتر لوگ تعلیم کو سب سے پہلے اسکول سے جوڑتے ہیں ۔ اکائی IIA کے ایک باب میں آپ نے رشتوں کی تشکیل کے سلسلے میں اسکول کی اہمیت کے بارے میں پڑھا ہے ۔ موجودہ زمانے میں اسکول، بچوں کو پہلی جماعت سے بارھویں تک رسمی تعلیم مہیا کرانے کا ایک اہم ادارہ ہے۔ ملک کے بہت سے حصوں میں پر اسکول (Preschool )کے گروپ بھی رسمی تعلیم سے وابستہ ہوتے ہیں۔۔ بہت سے تعلیمی نظاموں میں دسویں جماعت کے بعد گیارھویں اور بارھویں درجات کی تعلیم پوری کرنے کے لیے طلبا کو کسی کالج میں داخلہ لینا ہوتا ہے ۔ ہم نے رسمی تعلیم کی اصطلاح کئی بار استعمال کی ہے ۔ طالب غیر رسمی طریقے سے بھی تعلیم حاصل کرسکتا ہے۔ رسمی اور غیر رسمی تعلیم میں کیا فرق ہے ؟ ان دونوں کی کیا معنویت ہے؟
(a)رسمی تعلیم (Formal Education):رسمی تعلیم، درس وتدریس کا ایک باقاعدہ نظام ہے۔ یہ تعلیم حکومت اور حکومت کے منظور شدہ غیر سرکاری اداروں میں دی جاتی ہے۔ اس طرح اسکولوں ، کالج، یونیورسٹیاں ، تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیمی ادارے رسمی تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ رسمی تعلیم کے تمام اداروں میں کچھ خصوصیات مشتر ک ہوتی ہیں۔ یہ خصوصیا حسب ذیل ہیں :
٭  ایک زمانے سے رسمی تعلیم کی درجہ بندی چلی آرہی ہے جو ابتدائی تعلیم سے شروع ہوکر اعلا ثانوی درجے اور پھر یونیورسٹی سطح پر ثلاثی یا اعلا تعلیم تک پہنچتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اعلا سطح پر پہنچنے کے لیے اس سے پہلے کے درجات کی تعلیم رسمی طو رپر مکمل کرنا لازمی ہے۔ 
٭  نصاب تعلیم پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے ۔ اس میں لچک یہ ہوتی ہے کہ استاد کلا س روم میں اپنے اپنے انداز سے پڑھاتے ہیں۔ تعلیم کی کسی بھی سطح یا کسی بھی درجے میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے طلبا کے مقاصد مشترک ہیں۔ 
٭  تعلیمی سال کے دوران اور نصاب تعلیم کے مکمل ہونے پر تمام طلبا کا امتحان ہوتا ہے ۔ امتحان میں کامیابی پر ان کو سرٹیفکٹ، ڈپلومایا ڈگری دی جاتی ہے۔ 

333333333333333333333333333333333333333333333333333333333333

غیر رسمی تعلیم(Non-formal Education): ہندوستان میں بہت سے بچے ایسے ہیں جو مختلف وجوہات کی بنا پر اسکول نہیں جاپاتے ہیں۔ آپ ان کے بارے میں اکائی III کے باب نگہ داشت اور تعلیم (Care and Education) میں تفصیل سے پڑھیں گے۔ ایسے بالغ لوگ بھی ہیں جو بچپن میں اسکول نہ جاسکے اور اپنی تعلیم مکمل نہ کرسکے ۔ غیر تعلیم کا نظام ایسے ہی لوگوں کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ 
اس طرح غیر رسمی تعلیم ایک ایسی باقاعدہ تعلیمی سرگرمی ہے جوتعلیم کے رسمی سانچے کے دائرہ کار سے باہر انجام پاتی ہے۔ گلی کوچوں میں بے کار گھومنے والے اور کام کرنے والے بچوں کے لیے تعلیم کے غیر رسمی مراکز اور بڑی عمر والوں کے لیے تعلیم بالغان کے پروگرام موجود ہیں۔ اگر چہ یہاں بھی تعلیم کا مقصد وہی علم کا حصل اور مہارتوں کا فروغ ہے لیکن غیر رسمی تعلیم کی کچھ الگ خصوصیات بھی ہیں جو حسب ذیل ہیں:
٭  غیر رسمی تعلیم میں چوں کہ طلبا کی عمروں میں فرق ہوتا ہے اور ان کے تعلیمی مقاصد اور سابقہ تجربات بھی الگ ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ نظام درجہ بندی کے معاملے میں سخت نہیں ہوتا۔ 
٭  یہاں تدریس ’’طلبا پر مرکوز ‘‘ ہوتی ہے اور اس میں طلبا ہی کے تناظر کو اہمیت دی جاتی ہے ۔ 
٭  اس میں اساتذہ صرف مددگار یا معاون کے طور پر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں اور جو نصاب تعلیم پڑھایاجاتا ہے وہ طلبا کی ضروریات پر مبنی ہوتا ہے۔ 
٭  مقامی کوشش کرنے اور اپنی مدد آپ کرنے والے حلقوں کو لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پروگرام منظم کرنے میں مدد دی جاتی ہے۔ 
اس نظام کے تحت طلبا کو اسناد (Certificates) دی جاتی ہیں۔ البتہ ڈپلومایا ڈگری نہیں دی جاتی ہے ۔ 

سرگرمی 2

اپنے اسکول کے علاوہ اپنے علاقے کے رسمی تعلیم کے کسی ایک سرکاری اور ایک نجی اسکول کے نام بتائیے ۔ 
1----------------------------------------------------------------------------
2----------------------------------------------------------------------------
پتا لگائیے کہ کیا آپ کے شہر ، گاؤں یاقصبے میں غیر رسمی تعلیم کا بھی کوئی مرکز ہے۔ اس کا نام بھی لکھیے۔ 

تعلیم ، برادری اور سماج (Education, Community and Society)

بچوں ، نوجوانوں اور بالغوں کو جو بھی تعلیم دی جاتی ہے، اس کا مقصد بالآخر آس پاس کے لوگوں اور بڑے پیمانے پر سماج کی ترقی میں مدد کرنا ہے۔ تعلیمی عمل کے ذریعے علم کے ذریعے ، علم ،شخصی ترقی اور مہارتوں کا حصول لوگوں کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ قومی تعمیر میں حصہ لیں اور عالمی سطح پر انسانی ترقی میںتعاون دے سکیں۔
اگر آپ تعلیم کے اجزا سے متعلق شکل 1دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ توسیعی سرگرمیاں (Extension activites)تعلیم کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ اگلے حصے میں ہم توسیعی تعلیم اور برادریوں کی ترقی کے لیے اس کی معنویت پر گفتگو کریں گے ۔

10D.3  توسیع (Extension)

آموزش یا سیکھنے کے علاوہ تعلیم کے تین اہم عمل ہیں:

  • تحقیق کے ذریعے علم کا فروغ 
  • تدریس کے ذریعے علم کا فروغ 
  • علم کو عمل لانا اور توسیع کے ذریعے اس کا استعمال کرنا ۔


جس طرح تعلیم اور توسیع کے درمیان گہرا تعلق ہے ۔ تحقیق، طریقۂ تریبت ، ابلاغ اور ٹکنالوجی ، غیر سرکاری تنظیموں (NGO)کی تحریک اور سرکاری اقدامات کے ذڑیعے آج توسیعی سرگرمیاں قومی ترقی کایک ذریعہ بن چکی ہے۔ 

توسیع اور توسیعی علم (Extension and Extension Educaiton)

توسیع کا مطلب علم کو معلوم سے نامعلوم کی طرف لے جانا ہے ۔ یہ علم اور تجربات کے اشتراک کا ایک دو طرفہ عمل ہے جو فرد اور برادری کی ترقی کے لیے افراد اور گروپوں کو تیار کرکے حرکت میں لاتاہے۔ مثال کے طور پر لوگوں کی خدمت میں مصروف گرام سیوک اور گرام سیو کائیں لوگوں کے مسائل کو توسیعی افسروں یا تعلیمی اداروں تک لے جاتی ہیں۔ اس کے بعد ان مسائل پر بلا ک کی سطح پر غو روفکر ہوتا ہے اور حل ہونے کے بعدان کا فائدہ لوگوں پہنچتا ہے۔ 
توسیعی تعلیم ایک مکمل شعبۂ علم ہے جس کا اپنا فلسفہ ، مقاصد ، اصول ، طریقۂ کار اور تکنیکیں ہیں جن سے لوگوں کی ترقی اور توسیع سے وابستہ لوگوں کا واقف ہونا ضرور ی ہے۔ جب علم اور آموزش کو عمل میں لایا جاتا ہے اور اس کا دائرہ لوگوں تک وسیع ہوتاہے تو اس کو توسیعی علم کہا جاتا ہے۔ 
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ شعبہ سماجی مصلحین کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ سماجی مصلحین نے تجربات کے ذریعے دیہی زندگی کی تعمیر نو کے لیے بڑی کوششیں کی ہیں۔ 

کچھ مثالیں دیکھیے:

1۔  مہاتما گاندھی نے 1920 میں بنیاد ی تعلیم مہیا کرانے اور خود کفالت (ـSelf- sufficiency) پیدا کرنے کے لیے مہاراشٹر میں سیوا گرام کی تحریک شروع کی ہے۔ 
 مزید معلومات کے لیے دیکھیے ، ویب سائٹ htt://wardha.nic.in/sevagram.asp
2۔  رابندر ناتھ ٹیگور نے 1921 میں بنگال میں شانتی نکیتین قائم کیا تاکہ گاؤں کے لوگ خود اپنے مسائل حل کرسکیں۔ بعد میں یہیں ایک مکمل یونیورسٹی ’وشوبھارتی یونیورسٹی‘ کے نام سے           وجود میں آئی ۔ 
مزید معلومات کے لیے ویب سائٹ htt://www.wb.in/websitbg/shanti.html

توسیعی تعلیم کے اصول (Priciples of extension education)

(i) مفادات اور ضرورت کا اصول (Principle of interest and Need ):توسیع کاکام لوگوں کی ضروریات پر مبنی ہوتا ہے۔ چوں کہ ہر فرد ، ہرگاؤں ، ہربلاک اور ہر ریاست کی ضرورتیں اور مفادات الگ الگ ہیں ، اس لیے سب لوگوں کے لیے ایک ہی پروگرام نہیں ہوسکتا۔ 
(ii) تہذیبی فرق کا اصول (Principle of Cultural difference): جن لوگوں کے لیے یاجن لوگوں کے ساتھ یہ توسیع کا کام کرنا ہے ان کے تہذیبی پس منظر کو دھیان میں رکھنا توسیعی تعلیم کے لیے ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ توسیع سے متعلق کارکن کے لیے ضروری ہے کہ کوئی بھی توسیعی پروگرام شروع کرنے سے پہلے ان لوگوں کے علم کی سطح ، ان کی مہارتوں ، طور طریقوں ، رسم ورواج اور عقائد واقدار کے بارے میں واقفیت حاصل کرے۔ 
(iii) شرکت اصول(Principle of Participation): توسیع ان لوگوں کی مدد کرتی ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔ اچھی توسیع کا مقصد یہ ہوتاہے کہ دیہی اور شہری خاندانوں کو پہلے سے یہ طے شدہ حل دینے کے بجائے ان کی اس طرح مدد کی جائے کہ وہ اپنے مسائل خود حل کرسکیں۔
(iv) مطابقت پذیری کا اصول (Principle of adaptability): توسیع کے پروگرام کو لچک دار ہونا چاہیے تاکہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق جب بھی ضرورت ہو تو ان میں تبدیلیاں کی جاسکیں۔ 
(v) بنیادی سطح پر تنظیم(The Grassroots of oraganisation)توسیع کا کام مقامی برادری کی سرپرستی میںہونا چاہیے۔ مقامی حلقوں کو منظم کرنے کا مقصد نئے کاموں یا نئے پروگراموں کی قدر وقیمت کا مظاہرہ کرناہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان پروگراموں کی قبول کرنے کی طرف مائل ہوں اور ان میں شرکت کریں۔ 
(vi) قیادت کا اصول (The leadeship Principle): توسیع کے کام میں بیشتر مقامی قیادت سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ مقامی رہنماؤں پر لوگوں کو زیادہ اعتماد ہوتا ہے اور اسی لیے ان کی نشان دہی اور تربیت ضروری ہے تاکہ برادری کے لوگ کسی مزاحمت کے بغیر نئے خیالات کو قبول کرلیں۔ 
(vii) مجموعی خاندان کا اصول(The whole family principle): اگر خاندان کے تمام مردوں ، عورتوں ، بچوں اور تمام جوان لوگوں کو ساتھ لیا جائے تو توسیع کے کام میں کامیابی کے زیادہ مواقع ہوں گے۔ 
(Viii) باہمی تعاون(Principle of Co-operation): توسیع امداد باہمی کا نام ہے ۔ یہ ایک مشترکہ اور جمہوری سرگرمی ہے جس میں لو گ اپنے گاؤں، بلاک اور ریاستی حکام کے ساتھ مل کر کسی مشترکہ مقصد کے لیے ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔ 
(ix) تشفی کا اصول (Princple of satisfaction):توسیعی تدریس(Extension teaching) کی کوششوں کا ماحصل وہ تشفی ہے جو مسائل کے حل ، ضرورتوں کی تکمیل ،نئی مہارتوں کے حصول یا طرز عمل میں کسی نئی تبدیلی کی شکل میں شرکا (Participants)کو میسر آتی ہے ۔ 
(X) قدر پیمائی کا اصول (The Evaluation Princple):توسیع سائنسی طریقوں پر مبنی ہوتی ہے اور اس کو مسلسل چانچتے رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیے گئے کام کے کارگر ہونے کا اندازہ ان تبدیلیوں کی شکل میں کیا جاتا ہے جو لوگوں کے علم ، مہارتوں ، طرز عمل میں ظاہر ہوتی ہیں انھیں محض مادی نشانے حاصل کرکے نہیں جانچا جاتا ۔ مثال کے طور پر جب کوئی گرام سیو کا عورتوں کو پولیو سے بچپنے کے بارے میں بتاتی ہے تو بعد میں اس بات کی چانچ بھی کی جاتی ہے کہ اس کے نتیجے میں پولیوکے واقعات میں کمی آئی یا نہیں ۔ 

توسیعی تدریس کے طریقے (Extension Teching Methods)

توسیع کے کام کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے یہں۔ یہ حسب ذیل ہیں:
(i) کھیتوں اور گھروں پر ملاقات (Farm and home visits):اس کا مطلب ہے توسیعی کا رکن کی افراد یا خاندان کے اراکین سے براہ راست بات چیت ۔ اس سے معلومات کا تبادلہ ہوتا ہے اور مسائل سے واقفیت ہوتی ہے۔ 
(ii) نتیجے کا مظاہرہ (Result Demonstration):نتیجے کا مظاہرہ تجویز کردہ کاموں کے فائدوں اور مقامی حالات میں ان کے استعمال یا اطلاق (Appicability)کو ظاہر کرنے کے لیے کی جانے والی تعلیمی جانچ ہے۔ یہ طریقہ کچھ کاموں جیسے کیمیائیکھاد ، کیڑے ماردواؤں اور کھیتی باڑی میں بیجوں کی زیادہ پیدا وار دینے والی قسموں کے استعمال کی افادیت دکھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ 
(iii) طریق کار کا مظاہرہ(Method Demonstration):یہ طریقہ عمومی یا کچھ کچھ کام کو کرنے کی تکنیک بنانے کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔ مثلاپودوں کی کیاری تیار کرنا، کیڑے مار پھپھوند مار (Fungicides)دواؤں سے بیجوں کی حفاظت کرنا ، تھوڑے تھوڑے فاصلے سے بوائی کرنا ، مٹی کا نمونہ لینا اور پھل دار درختوں کی قلم لگانا وغیرہ۔ 
( iv) گروپ مباحثے(Group discussions): توسیعی کارکن، آبادی کی کثرت کے پیش نظر انفرادی طور پر ہر کسان سے رابطہ قائم نہیں کرسکتے ۔ البتہ ان سے گروپ کی شکل میں رابطہ کرنا ممکن ہے اور آسان بھی۔ اس طریقے کو گروپ مباحثہ کا نام دیا جاتا ہے۔ 
(v) نمائشیں(Exhibitions):معلومات ، حقیقی نمونوں ، ماڈلوں ، پوسٹروں ، تصویروں، اور چارٹوں وغیرہ کو باقاعدہ طور پر اور منطقی ترتیب سے دکھانا نمائش ہے۔ جن چیزوں کی نمائش مقصود ہوتی ہے ان کے بارے میں لوگوں کی دل چسپی بڑھانے کے لیے نمائش کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ نمائشوں کا اہتمام مختلف موضوعات جیسے کسی ماڈل گاؤں کی پلاننگ یا آب پاشی کے جدید طریقوں کے مظاہرے وغیرہ کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ 
(vi) عام جلسے (General meetings): عام طو رپر آئندہ کوئی قدم اٹھانے اور لوگوں کو معلومات فراہم کرنے کے لیے جلسے منعقد کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طورپرکسی قومی تیوہار یا ’ون مہوتسو‘ کو منانے کے لیے لوگوں کو تیار کرنا ۔ 
(vii) مہمیں(Campaingns):لوگوں کی توجہ کسی خاص مسئلے  جیسے چوہوں پر قابو پانے ، گاؤں میں صفائی رکھنے ، پودوں کی حفاظت کرنے ، ربیع کی فضل بڑھانے یا خاندانی منصوبہ بندی پر عمل کرانے وغیرہ پر مبذول کرانے کے لیے مہمیں چلائی جاتی ہیں۔ ان سے عوام میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور لوگ کسی بھی پروگرام میں جوش خروش کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔
(viii) دوروں اور کھیتوں پر جانا (Tours and field visits): نئی چیزوں ، نئی مہارتوں اور نئے اوزاروں وغیرہ کے بہتر نتائج کسانوں کو دکھانے اور پھر ان کو اوزاروں کے استعمال کی رغبت دلانے کے لیے  ان کے پاس جانا بہت سود مند ہوتا ہے۔ اس سے نئے نئے شعبوں میں چیزوں کی فراہمی ، ان کی افادیت اور ان کے اطلاق کے بارے میں کسانوں کے خیالات میں تبدیلی آتی ہے۔ 
(ix) سمعی وبصری امدادی وسائل کا استعمال (Use of Audio-Visual Aids)جیسے:
٭  مطبوعہ مواد: اس میں پڑھے لکھے لوگوں کو معلومات فراہم کرنے کے لیے اخبارات ، رسائل ، خبرنامے، کتابچے، فولڈر اور پمفلٹ وغیرہ کا استعمال کیا جاتاہے۔ 
٭  ریڈیو: یہ ابلاغ کا عوامی ذریعہ ہے اور بہت کم خرچ پر اور ایک متعین وقت میں لوگوں کی بڑی تعداد تک پہنچ سکتاہے۔ 
٭  ٹیلی وژن : ٹی وی ابلاغ کا سب سے طاقت ور ذریعہ ہے۔ اس میں سننے کے ساتھ دیکھنے کا اثر بھی ہوتاہے۔ یہ ہرقسم کی معلومات کی اشاعت کے لیے بہت موزوں اور مفید ہے۔ 
٭ فلمیں(Motion Pictures of Movies): فلمیں لوگوں میں دل چسپی پیدا کرنے کا ایک موثر زریعہ ہیں ، کیوں کہ فلموں میں دیکھنا ، سننا اور عمل تینوں شامل ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ اصل زندگی کے تجربے بھی فلموں میں دکھائے جاتے ہیں۔ 

دیہی روزگار کی فراہمی اور دیگر اسکیمیں 

(Some of the Rural Employment Grnration and other schemes)

دیہی اور شہری علاقوں میں لوگوں کے معیار زندگی کو بہتربنانے کے لیے حکومت نے بہت سی اسکیمیں تیار کی ہیں۔ ان اسکیمون کے بارے میں معلومات سے بھی بیداری آئے گی ۔ ذیل میں کچھ اسکیموں کا بیان کیا گی اہے۔ 
1. سورن جینتی گرام سور روز گار یوجنا (SGSY): یہ پروگرام اپریل 1999میں شروع کیا گیا تھا۔ اس پروگرام میں آپ خود روزگاری کے تمام پہلو جیسے غریبوں کے ’’اپنی مدد آپ‘‘ گروپوں کی تشکیل ، ان کی تربیت ، فرض ٹکنالوجی ، بنیادی ڈھانچہ اور مارکٹنگ شامل ہیں۔ 
ایس جی ایس وائی (SGSY) کا مقصد دیہات کے غریب لوگوں کو پائدار آمدنی مہیا کرانا ہے۔ اس پروگرام کے تحت دیہی علاقوں میں بڑی تعداد میں ایسے چھوٹے پیمانے کے روزگار پیدا کرنا ہے جو غریبوں کی صلاحیت کے مطابق ہوں ۔ امید کی جاتی ہے کہ ایس جی ایس آئی کے تحت جن خاندانوں کی مدد کی جائے گی وہ خطِ افلاس سے اوپر پہنچ جائیں گے۔ 
2. جواہر گرام سمردھی یوجنا (JGSY): ٰیہ پرانی جواہر روزگار یوجنا کی ایک نئی اور جامع شکل ہے۔ اس کا مقصد غریبوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ یہ اسکیم پہلی اپریل 1999میں شروع کی گئی تھی۔ اس کا بنیادی مقصد گاؤں کی سطح پر دیہی برادری کے لیے ایک ایسے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل کرنا ہے جو مانگ (Demands)پر مبنی ہو۔ اس میں پائدار روزگار کے لیے مواقع پیدا کرسکیں۔ اس کا ثانوی مقصد دیہی علاقوں کے بے روزگار غریبوں کے لیے زائد روزگار پیدا کرنا ہے۔ 
3. ایم پی مقامی ایریا ڈیولپمنٹ پروگرام ( MP LOcal Area Development Programme): ایم ایل اے ڈی پی (MPLADP) پروگرام مرکزی سیکٹر کی ایک اسکیم کی شکل میں دسمبر 1993 میں شروع کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ارکان اپنی پسندکی ایسی اسکیموں کو لاگو کرسکیں جو ترقیاتی ہونے کے ساتھ ساتھ اسی مقصد کے رہنما اصولوں کے مطابق مقامی ضرورتوں پر مبنی ہوں۔ 
اس اسکیم کے تحت جو کام کیے جاسکتے ہیں ان میں اسکولوں ، ہوسٹلوں ، لائبریریوں کے لیے عمارت بنانا اور بزرگوں نیز معذوروں کے لیے رین بسیروں کی تعمیر، سڑکوں ، زمین دوز نالیوں ، پلوں ، عوامی آب پاشی اورگندے پانی کی نکاسی کی سہولتوں وغیرہ کی تعمیر بھی شامل ہے۔ 

درج ذیل مخفف کے پورےنام بتائیے :

1۔ ایس جی ایس وائی (SGSY)__________________________________________________________________________________
2ََََ۔ جے جی ایس وائی (JGSY)___________________________________________________________________________________
3َََ۔ ایم پی ایل اے ڈی پی (MPLADP)____________________________________________________________________________
ُٓٓاپنے علاقے کے ایک اور توسیعی پروگرام کا پتہ لگائیے اور اس کا نام ذیل میں لکھیے۔ 
____________________________________________________________________________________________________

مزید معلومات کے لیے دیکھیے ویب سائٹ 

http:www.krishiworld.com/html/agri  --- extension-edul.html

گروپ کے لیے کام: 6 سے 10طلبا کے گروپ بنائیے۔ ہر گروپ مطالعے کے لیے ایک الگ موضوع اور ایک الگ ٹارگیٹ گروپ کا انتخاب کرے۔ 
1۔ درج ذیل گروپوں میں سے کسی ایک کے لیے کھیتی باڑی ، ٹکنالوجی ، صحت اور حفظان صحت میں سے کسی ایک عنوان کا انتخاب کیجیے۔ 
  •  کسی شہری جھونپڑپٹی کی نوجوان لڑکیاں
  • 20-30سال کے شہری جوان
  • 20-30سال کے دیہی جوان
  • شہری/دیہی ابتدائی اسکول کے طلبا کے والدین
  • آپ کے ہم جماعت
  • مارکٹنگ مینجمنٹ کے ترتیب یافتہ جن کا تقرر دیہات میں ہوا ہے۔ 
  • خانہ دار خواتین (Housewives)
  • برسر روزگار خواتین (Wokring women)
2۔   ان میں سے ہر ایک کے لیے کسی نامناسب موضوع کا انتکاب کیجیے۔ 
3۔   منتخب گروپوں کو موضوع پڑھانے کے لیے کسی توسیع طریقے (Extenstion Method)کا انتخاب کیجیے۔ 
4۔   آپ نے جو عنوان، جو موضوع اور جو توسیعی طریق کار پسند کیا ہے اس کی وجوہات بیان کیجیے۔ 

بنیادی سطح پر توسیعی سرگرمیوں میں شامل ہونے کاایک نمایاں فائدہ یہ ہے کہ اس سے اپنے ملک کے ثقافتی ورثے (Cultural Herigate) کے بارے میں معلوم حاصل کرنے کے مواقع حاصل ہوجاتے ہیں۔ ہندوستان کا ثقافتی ورثہ بہت شان دار اور متنوع ہے۔ اگلے باب میں ہم اسی ورثے سے متعلق ایک شعبے یعنی کپڑوں کی وارثت کے بارے میں پڑھیں گے۔ 

کلیدی اصطلاحات :

آموزش(Learning)، تعلیم (Education)، غیر رسمی(Non-fromarl Education)، توسیعی تعلیم(Extension Education)، دیہی روزگار فراہمی اسکیمیں(Rural Employment Generating Schemes)

سوالات برائے نظر ثانی 

1۔   آموزش کی اصطلاح اور اس کی قسموں کی وضاحت کیجیے۔ 

2۔   تعلیم کے کوئی تین اجزا بیان کیجیے ۔ 
3۔   رسمی اور غیر رسمی تعلیم کے درمیان فرق واضح کیجیے۔ 
4۔   توسیعی تعلیم سے آپ کیا سمجھتے ہیں ؟ اس کے اصولوں کا تذکرہ کیجیے۔ 
5۔   درج ذیل کی صورتِ حال کے لیے دو سب سے مناسب توسیعی طریقِ کار کو منتخب کیجیے اور انھیں بیان کیجیے ( استاد کی رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے)۔ 
(a)   بچیوں کے لیے تعلیم کو مقبول بنانا۔ 
                    یا 
(b)   گھر کے کام کاج میں شریک مردوں کی اہمیت ۔


باب-10


E-ہندوستان میں کپڑا سازی کی روایات 

 (Textile Traditions in India)

آموزشی مقاصد

اس سیکشن کے مطالعے کے بعد طلبا :
٭  ہندوستان میں ہزاروں سال سے تیار کیے جانے والے کپڑوں کی مختلف قسموں کی شناخت کرسکیں۔ 
٭  سوت، ریشم اوراون کے کپڑوں سے متعلق شعبوں کی نشان دہی کرسکیں گے۔ 
٭  رنگا (Dyeing)کے تصور اور کپڑوں کی رنگائی کو بیان کرسکیں گے ۔ 
٭  ملک کے مختلف حصوں میں کی جانے والے زردوزی (Embroidery)کے کام کی امتیازی خصوصیات کی وضاحت کرسکیں گے۔ 
٭ ہماری سماجی ، ثقافتی اور اقتصادی زندگی میں کپڑا سازی کی مروجہ روایات کی بحث پر بحث کرسکیں گے۔ 

10E.1   تعارف (Introducation)

اس سے پہلے والے باب ’روزہ مرہ استعمال کے کپڑے ‘ میں آپ ہندوستان میں تیار کیے جانے والے طرح طرح کے کپڑوں اوران کے استعمال کے بارے میں پڑھ چکے لییں۔ کیا کبھی آپ نے سوچا کہ یہ کپڑے کس طرح وجود میں اائے اور کس طرح ہندوستان کا ایک اہم ورثہ شمار ہونے لگے۔ اگر آپ کسی میوزیم یا عجائب گھر میں گئے ہوں تو آپ نے وہاں کسی حصے میں کپڑوں اور ملبوسات کی نمائش بھی دیکھی ہوگی۔ آپ نے یہ بھی محسوس کیا ہوگا کہ اس حصے میں شامل چیزوں کی تعداد بہت کم ہے اور پھر یہ چیزیں دیگرچیزوں کے مقابلے زیادہ پرانی بھی نہیں ہیں ۔ دراصل اس کی وجہ یہ ہے کہ ہڈی ، پتھر یادھات وغیرہ کے مقابلے کپرے جلد خراب ہوجاتے ہیں۔ اس کے باوجود قدیم مجسموں اور دیواروں پر بنی انسانی شکل کے ملبوس ہونے سے واضح ہوجاتا ہے کہ انسان بیس ہزار سال پہلے بھی کپڑا سازی کا فن جانتا تھا۔ قدیم ادب اور غاروں اور عمارتوں کی دیواروں پر بنے مصوّ ری کے نمونوں سے بھی ہمیں کپڑوں کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہے۔
کپڑاسازی سے متعلق خام مال قدیم زمانے سے ہی انسانوں کے لیے باعث حیرت اور تہذیب کا ایک ضروری حصہ رہا ہے۔ سبھی قدیم تہذیبوں کے لوگوں نے اپنے علاقے میں پائے جانے والے خام مال کو استعمال کرکے مختلف تکنیکوں اور ٹکنالوجیوں کو ترقی دی۔ ان لوگوں نے اپنے جداگانہ اور ممتاز ڈیزائن بنائے اور ڈیزائنوں والی مصنوعات کے بڑے پیمانے پر پیداوار کی۔ 

10E.2  ہندوستان میں کپڑا سازی کا تاریخی تناظر 

(Historical Perspective in India)

ہندوستان میں نفیس کپڑوں کی پیدا وار کا سلسلہ اتنا ہی قدیم ہے جتنی ہندوستان کی تہذیب ۔ رگ وید اور اپنشدوں میں کائنات کی تخلیق کے بیان میں کپڑے کو ایک علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ ان تحریروں میں کائنات کو’’دیوتاؤں کا بُنا ہوا کپڑا‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ روئے زمین پر روشنی اور تاریکی پیدا کرنے والے دن اور رات کو کرگھے کی چرخی کی حرکت سے مثال دی گئی ہے۔ 
کپڑے کی ’بنائی قدیم ترین دست کاریوں میں شامل ہے اور نفیس کپڑے کی پیداوار ابتدائی زمانے سے ہوتی چلی آئی ہے۔ کپرے کے ٹکڑے ، پکائی ہوئی مٹیکی بنی تکلیاں ، کانسے کی سوئیاں ، جوموہن جوداڑوں کی کھدائی کے دوران ملی ہیں، اس بات کی گواہ ہیں کہ ہندوستان میں کتائی ، بُنائی، رنگائی اور زردوزی کی روایت کم ازکم 5000سال پرانی ہے۔ قدیم ترین تہذیبوں میں سب سے پہلے ہندوستان میں رنگ کی دریافت ہوئی کپڑوں ، خاص طور پر سوتی کپڑوں پر ان کے استعمال کی تکنیک کو بھی پہلی بار یہیں ترقی دی گئی ہے۔ رنگے اورچھپے ہوئے سوتی کپڑے دوسرے ملکوں کو برآمد کیے جاتے تھے۔ یہ کپڑے اپنے گہرے رنگوں کے لیے مشہور تھے۔ کلاسیکی ادب (یونانی اور لاطینی) میں ان کے بارے میں ایسے مقولے موجود ہیں کہ’’ ہندوستانی کپڑوں کا رنگ دانش کی طرح پائدار ہوتا ہے۔‘‘
تحریری تاریخ کے ہردور میں ہندوستان کے سوتی ، ریشمی اور اونی کپڑوں کی عمدگی کے ستائشی حوالے موجود ہیں۔ یہ کپڑے اپنی عمدگی اور بُنائی، پکی رنگا ئی ، چھپائی اور زردوزی کے ذریعے بنائی جانے والی ڈیزائنوں کی وجہ سے مشہور تھے۔ اسی لیے یہ کپڑے جلد ہی تجارت کا بہت سود مند ذریعہ بن گئے ، ان سے سیاسی تعلقات کو فروغ دینے میں مدد ملی اور ان کے زیر اثر دیگر ملکوں میں بھی ایسی ہیں صنعتوں کا قیام عمل میں آیا ۔ پندرھویں صدی تک ہندوستان کپڑے برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا تھا۔ یوروپی ملکوں کی طرف سے مختلف ایسٹ انڈیا کمپنیوں کے قیام کا عمل بھی ہندوستان سے ہی تعلق رکھتا تھا۔ 

10E.3  تین خاص ریشے   (The Three Main Fibre)

روایتی طور پر ہندوستانی کپڑے کی پیداوار تین خاص ریشوں سے متعلق ہے۔ یہ تین ریشے ہیں کپاس ، ریشم اور اون ۔ آئیے ہم ان کی اہمیت پر گفتگوکرتے ہیں۔ 

کپاس (Cotton)

ہندوستان کپاس کا گڑھ ہے۔ کپاس کی کاشت اور بُنائی میں اس کا استعمال ماقبل تاریخ سے ہی چلا آرہا ہے۔ یہاں کی ایجاد کی جانے والی کتائی اوربنائی کی تکنیکوں سے ایسے کپڑے تیار کیے گئے جنھیں ان کی انتہائی لطافت اور آرائش کی وجہ سے شہرت حاصل ہوئی۔ کپاس نے ہندوستان سے نکل کر تمام دنیا میں رواج پایا ۔ قدیم بابل کے علاقے میں کھدائل سے حاصل ہونے والے آثار اور ہڑپہ کی مہروں سے معلوم ہوتا ہے کہ کپاس ان دنوں تجارتی سامان کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔جب رومیوں اوریونانیوں نے کپاس کو دیکھا تو کہا کہ یہ پیڑوں پر اگنے والی اون ہے۔ 

سوت کی بُنائی نے بہت سی کہانیوں کو جنم دیا ہے۔ ڈھاکہ میں ( جواب بنگلا دیش میں ہے ) ایک بہت نفیس کپڑا----- ململ خاص یا شاہی ململ(Royal Muslim) بنتا تھا۔ یہ اتنا باریک اور عمدہ ہوتا تھا کہ بہ مشکل ہی نظر آتا تھا، اور اسی لیے اس کے نام بھی شاعرانہ تھے، مثلاً’بافت ہوا‘’آبررواں‘یا شبنم وغیرہ۔ جامدانی یامنقش ململ جو بنگال اور شمالی ہند کے بعض حصوں میں تیار کیا جاتا تھا ، ہندوستانی بُنکروں کی نفیس ترین بروکیڈ مصنوعات میں شامل ہے ۔ 

عام بُنائی کے دوران بھراؤ یا بانے کے تار، ایک خاص ترتیب میںتانے کے تار کے اوپر نیچے چلتے ہیں لیکن جب بروکیڈکے ڈیزائن ریشم، سورت ، یا سونے یا چاندنی (Gold/silver )کے تاروں سے بنے جاتے ہیںتو ان تاروں کو بُنائی کے درمیان آر پار پیوست کردیا جاتا ہے ۔ ان بروکیڈوں کو ان میں استعمال شدہ ریشے کے لحاظ سے سوتی بروکیڈ (Cotton brocade) ریشمی بروکیڈیا ’زری‘ (دھاتی تار)بروکیڈ کہاجاتا ہے۔ 

سوتی کپڑے کو بنانے کی مہارت کے علاوہ، ہندوستانی بُنکروں کی ایک ممتاز خصوصیت سوتی کپڑوں پر شوخ اور پکے رنگوں سے نقش ونگار بنانا بھی رہی ہے۔ ہندوستان، 17ویں صدی تک ، سوتی کپڑے رنگنے کے پیچیدہ کیمیائی عمل میں مہارت رکھنے والا تنہا ملک تھا ۔ اس عمل کا مقصد سوتی کپڑے کور نگنا ہی نہیں تھا بلکہ یہ رنگ گہرے اور پائیدار بھی ہوتے تھے۔ ہندوستانی چھینٹ کے کپڑوں( چھپے ہوئے سوتی کپڑے) نے ایک زمانے میں یورپ کے فیشن بازار میں انقلاب پیدا کردیا تھا۔ ہندوستانی دست کاروں کو ’’ساری دنیا کے استاد رنگ ریزوں ‘‘ خطاب دیا گیا ہے۔ 
سوتی کپڑا سارے ہندوستانی میں بنا جاتا ہے ۔ آج بھی بہت سی جگہوں پر انتہائی نفیس سوت کا تا اور بنُا جاتا ہے ۔ البتہ بڑ ے پیمانے پر بُنا جانے والا سوتی کپڑا تھوڑ ا موٹا ہوتا ہے ۔ یہ کپڑا کئی ڈیزائنوں او رمختلف رنگوں میں تیار ہوتا ہے جس کا استعمال ملک کے مختلف حصوں میں کیا جاتا ہے۔ 

ریشم (Silk)

ہندوستان میں ریشمی کپڑے قدیم زمانے سے بنتے آئے ہیں ۔ ہم نے گذشتہ سبق میں پڑھا ہے کہ ریشم کی شروعات سب سے پہلے چین میں ہوئی۔ لیکن ہندوستان میں بھ ریشم کا استعمال ضروری ہوتا رہا ہوگا ۔ ریشم کی بُنائی کا تذکرہ تیسری صدی ق م سے ملتا ہے اور وقت بھی ہندوستانی رشم اور چینی ریشم میں امتیاز کیا جاتاتھا۔ سلطنتوں کی راجدھانیوں ، مقدس شہروں اور تجارتی مرکزوں میں اور ان کے اطراف ریشم کی بُنائی کے مرکز قائم ہوئے ہیں ۔ بنکروں کے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا سلسلہ شروع ہوا تو ریشم کی بنائی کے نئے مرکز قائم ہونے لگے۔ ہمارے ملک کے مختلف علاقے ریشم کی بُنائی کے خصوصی اسالیب کے مشہور ہیں۔ یہ اہم مراکز حسب ذیل : 
وارانسی: اتر پریش کا شہروارانسی ریشم کی بُنائی کے ایک خاص طرز کی روایت کا حامل ہے ۔ وہاں کی سب سے مشہور پیدا وار بروکیڈ یاکم خواب ہے۔ اس کا نام کمخواب دراصل اس کی شان وشوکت ، زیب وزینت اور کپڑے کی اونچی لاگت کا آئینہ دار ہے ۔ کم خواب کا مطلب ایسا کپڑا ہے جسے کوئی خواب میں بھی دیکھ سکے ۔ 
مغربی بنگال: مغربی بنگال اپنی روایتی ریشم کی بُنائی کے لیے مشہور ہے۔ یہاں کے بُنکر جامدانی بننے والے کرگھوں جیسے کرگھے استعمال کرکے ریشمی بروکیڈ والی ساڑی(Brocade Sari)بُنتے ہیں۔ اس ساڑی کو ’بالو چر بوٹے دار ‘کہاجاتا ہے۔ یہ طرز بالوچر سے شروع ہوا جو ضلع مرشد آباد میں ایک جگہ کا نام ہے ۔ اب یہ طرز وارنسی میںبھی کامیابی کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے ۔ یہاں بُنے ہوئے سادہ کپڑوں میںر یشم کے بغیر بٹے ہوئے تاروں سے بروکیڈ (Brocade)کا کام کیا جاتا ہے۔ ان ساڑیوں کی اہم ترین خصوصیت ان کا پلو ہوتا ہے۔ ان ساڑیوں پر نادر قسم کے نقش ونگار بنے ہوتے ہیںجن میں قدیم مذہبی قصوں ، شاہی دربار کے مناظر ، گھریلوزندگی یا سفر سے متعلق منظروں مثلاً گھوڑ سواروں اور پالکیوں کو دکھایاجاتا ہے۔ کناروں او رپلّوؤں پر عموماً آج جیسی شکلیں بنی ہوتی ہیں۔
گجرات: گجرات کے کم خواب کا اپنا اگل انداز ہے۔ بھڑوچ اور کیمبے میں نہایت نفیس کپڑے تیار ہوتے تھے جو ہندوستانی حکمرانوں کے درباروں میں بہت مقبول تھے ۔ احمد آباد ’اشاولی‘ ساڑیاں اپنے خوب صورت بروکیڈ حاشیوں اور پلّوؤں کے لیے بہت مشور ہیں۔ ان کی زمین پر سونے اور چاندنی کے تاروں کا گھنا کام ہوتا ہے جن میں رنگین دھاگوں سے نقش ونگار بُنے ہوتے ہیں۔ اس سے کپڑے پر چمک آجاتی ہے۔ ان نقوش میں انسانوں ، جانوروں اور پرندوں کی تصویریں بھی کثر ت سے ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسی تصویریں گجرات کی لو ک روایت کا لازمی حصہ ہیں۔ 
کنچی پورم:  تمل ناڈو میں کنچی پورم قدیم زمانے سے ہی جنوبی ہند کی بروکیڈ بُنائی کا مشہور مرکز رہاہے۔ یہاں کی روایتی ساڑیوں میں پرندوں او رجانوروں کی تصویریں ہوتی ہیں اور ان کے پلو پر بروکیڈ کاگھنا کام ہوتا ہے۔ سرخ ،ارغوانی ، نارنجی، زرد ، سبز وار نیلے گہرے رنگ جنوبی ہند کے کپڑوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔ 
پیتھن:  مہاراشٹر میں اورنگ آباد کے نزدیک دریائے گوداوری کے کنارے واقع پیتھن علاقہ دکن کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ ایک خاص قسم کی ریشمی ساڑی کے لیے مشہور ہے جن کے حاشیوں اورنقش ونگار پر سونے کی پچی کاری ہوتی ہے۔ پیتھن کی مشجّر بُنائی (Tapestry weave)، آرائشی بُنائی کی قدیم ترین تکنیک ہے جو سنہری تاروں سے بُنے گئے کپڑے کے لیے مشہور ہے۔ جھلملا تے سنہری پس منظر میں ، لال ، گلابی اور ارغوانی رنگوں کے مختلف نقش ونگار (بیل بوٹے، شجر زندگی، کلیاں اور پھولدار حاشیے) جواہرات کی طرح چمکتے ہیں۔ 

مشجّر بُنائی میں بھراؤ یا بانے کے غیر مسلسل تاروں کا طریقہ اپنایا جاتا ہے اور مختلف رنگوں والے دھاگے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ کپڑے کی سیدھی اور الٹی دونوں سطحیں ایک جیسی لگتی ہیں۔ 

سورت ، احمد آباد، آگرہ، دہلی ، برہان پور ، تروچر اپلّی اور تھنجاوڑ / زری بروکیڈ بنائی کے مشہور قدیم روایتی مراکز ہیں۔ 


28

29

اون (Wool)

اون کی پیداوار زیادہ تر ٹھنڈے علاقوں جیسے ہماچل پردیش، لداخ، جموں وکشمیر اور اتردیش کی پہاڑیوں ، مغربی بنگال کی پہاڑیوں بعض شمال مشرقی ریاستوں ، پنجاب ، راجستھان، او روسطی ومغربی ہند کے کچھ مقامات میں ہوتی ہے۔ 
ہندوستان میں بھیڑوں کے علاوہ کچھ مخصوص جانوروں (پہاڑی بکرا ، خرگوش اور اونٹ ) کے بال بھی اون بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اون سے متعلق قدیم ترین تذکروں میں پہاڑی بکروں اور کچھ ہرن جیسے جانوروں سے حاصل شدہ بہت باریک بالوں کا حوالہ ملتا ہے۔ 
گیارھویں صد کے کشمیر ی ادب سے اس وقت کے مختلف رنگوں والے اونی کپڑوں کا پتا چلتا ہے۔ چودھویں صدی سے، ایرانی اثرات  کے تحت ، شالوں کی پیداوار شروع ہوئی ۔ اس شالوں میں پیچیدہ نقش ونگار اور طرح طرح کے رنگوں والی پیچیدہ مشّجر بُنائی کا استعمال ملتا ہے۔ بہترین شالیں’ پشمینہ ‘ اور ’ شاہ توش‘ کی ہوتی ہیں جو پہاڑی بکروں کے بال ہوتے ہیں۔ اس فن کو فروغ دینے کا سہرا مغل بادشاہوں کے سر ہے۔ کشمیری شالیں اب دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ اٹھارھویں صدی سے، چھپے ہوئے سوتی کپڑوں کی طرح ان کا شالوں کو بھی بڑی تعداد میں برآمد کیا جانے لگا ۔ بعد میں ان شالوں میں زردوزی (Embroidery)کا کام بھی شامل ہوگیا ہے۔ شالوں کے نقش ونگار کشمیر کی قدرتی خوب صورتی کی عکاسی کرتے ہیں ۔ ان شالوں پر آم کا موتف (Motif)جس کو ’پیسلے‘ (Paisley)کہاجاتا ہے بے شمار نگوں اور شکلوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ 
کہاجاتا ہے کہ ’ جامہ وار ‘ شالوں کو اکبر نے متعارف کرایا ۔ یہ شالیں بہت بڑی ہوتی تھیں جنھیں عام لباس کی طرح بھی استعمال کیاجاسکتا ہے۔ آپ نے میوزیم یا کتابوں میں ایسی تصویریں دیکھی ہوں گی جن میں مغل بادشاہوں کو پیچیدہ نقش ونگار والے چوغے پہنے دکھا یا گیا ہو۔ 

ہماچل پر دیش کی شالوں میں اکثر گوشہ دار اقلیدسی نقش ونگار بُنے ہوتے ہیں جو سیدھے افقی خطوط ، گولوں یا دھاریوں کی شکل میں ہوتے ہیں۔ ایک دونقش عمودی شکل میں بھی ہوسکتے ہیں۔ وادی ِ کلّو شالوں اور بعض دیگر اونی کپڑوں جیسے ’پٹّوں ‘ اور ’دو ہرو‘ (مردوں کی چادریں) کی بُنائی کے لیے مشہور ہے۔ 
ادھر ایک عرصے بعض اور مقامات پر بھی شالوں کی بُنائی نے اہمیت اختیار کرلی ہے ۔ اس سلسلے میں پنجاب کے امرتسر اور لدھیانہ شہر اور اتراکھنڈ اورگجرات جیسی ریاستیں خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔ 

10E.4 رنگائی (Dyeing)

ہم پہلے ہی پڑھ چکے ہیں کہ ہندوستان میں رنگائی کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ انیسویں صدی کے وسط سے پہلے تک رنگائی کا سامان فقط قدری ذرائع سے حاصل کیاجاتا ہے۔ رنگائی کا یہ سامان بیشتر پیڑ پودوں کی چھال ، پتیوں ، پھولوں ، جڑوں اور بیجوں سے حاصل کیا جاتا تھا۔ کچھ کپڑوں اور معدنیات سے بھی رنگ حاصل ہوتا ہے۔ رنگائی کے قدیم نمونوں کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کے لوگوں کو ہمیشہ سے رنگائی کے کیمیائی عمل اور ان کے استعمال کی تکنیکوں کا بڑا گہرا علم تھا، جس سے وہ پکے رنگوں والے کپڑوں کی پیداوار کے لیے تھے۔ 

رنگائی روک کپڑے (Resist Dyed Fabrics)

رنگوں سے ڈیزائن بنانے کا سب سے پرانا طریقہ’رنگائی روک‘ تکنیک ہے۔ رنگائی میں کمال حاصل کرنے کے بعد یہ بات سوچی گئی کہ اگر کپڑے کے بعض حصوں کو رنگ جذب کرنے سے روک دیا جائے تو اس کے اصل رنگ باقی رہیں گے اور ڈیزائن تیار ہوجائے گی ۔ ’رنگائی ورک‘ کے سامان میں دھاگہ ، کپڑے کے ٹکرے یا پھر مٹی اور موم جیسی چیزیں شامل ہوسکتی ہیں جو رنگوں کو جذب ہونے سے روکتی ہیں۔ رنگائی روک کا سب سے عام طریقہ ’دھاگے سے باندھنا ‘ ہے۔ ہندوستان میں تیار کیے جانے والے ٹائی اور ڈائی (Tie and Dye)کپڑوں کی دوشکلیں ہیں۔ ایک ’’کپڑے کی ٹائی اور ڈائی ‘‘ اور دوسرے دھاگے کی ٹائی اور ڈائی ‘‘ ۔ دونوں ہی صورتوں میں اس حصے کو دھاگے سے کس کر باندھ دیا جاتا ہے جس پر ڈیزائن بنانا مقصود ہو او رپھر رنگا ئی کی جاتی ہے ۔ رنگائی کے دوران ، بندھے ہوئے حصوں پر ، کپڑے کی زمین ، پر اصل رنگ برقرار رہتے ہیں۔ خشک ہوجانے پر بندھے ہوئے کچھ حصوں کو کھول دیا جاتا ہے اور کچھ حصوں کو پھر باندھ کر رنگائی کی جاتی ہے۔ مزید رنگوں کے لیے اس عمل کا دہرایا جاسکتاہے جس سے ہلکے رنگ شوخ ہوجاتے ہیں۔ 
(i)’ٹائی اور ڈائی‘ کی ایک مذہبی اہمیت بھی ہے۔ ہندوؤں میں کسی بھی مذہبی تقریب سے پہلے کلائی پر جو دھاگہ باندھ کر نقش ونگار پیدا کیے جاتے ہیں۔ بندھیج بھی ’ ٹائی اور ڈائی ‘‘ کا ایک مخصوص ڈیزائن ہے جس کے نقوش میںبے شمار بُنکیاں (Dots)ہوتی ہیں۔ ایک اور قسم لہریے کی ہے جس کے نقش ونگار ٹیڑھی دھاریوں کی شکل کے ہوتے ہیں۔ گجرات اور راجستھان اس قسم کے کپڑوں کے گڑھ ہیں۔ 
(ii)دھاگے کی ٹائی اورڈائی : دھاگے کی ٹائی اورڈائی ، ڈیزائن دار کپڑوں کو بنانے کا ایک پیچیدہ عمل ہے۔ ایسے کپڑوں کو ایکات (Ikat) کپڑے کہا جاتا ہے۔ یہ کپڑے جس تکنیک سے تیار کیے جاتے ہیں اس میں تانے یابانے کے تاروں کو یا دونوں کو بُنائی سے پہلے ہی رنگ دیا جاتا ہے۔ یہ کپڑے جس تکنیک سے تیار کیے جاتے ہیں اس میں تانے یا بانے کے تاروں کو یا دونوں کو بُنائی سے پہلے ہی رنگ دیا جاتا ہے۔ اس طرح جب کپڑا بُنا جاتا ہے تو اس پر خصوصی نقش ونگار ابھر آتے ہیں۔ یہ نقش ونگار دھاگوں کے رنگے ہوئے حصوں پر منحصر ہوتے ہیں۔ اگر صرف تانے یا بانے کا کوئی ایک تارٹائی کے ذریعے رنگا گیا ہے تو اسے اکیلا ایکاٹ (Single Ikat ) ) کہتے ہیں اور اگر اسی طرح دونوں تاروں کو باندھ کر رنگا گیا ہے تو اسے مخلوط ایکات ( جس میں دونوں تار جداگانہ نقوش بناتے ہیں) یا دوہرا ایکات (جس میں ایک متحدہ نقش ابھرتا ہے ) کہا جاتا ہے۔
ایکات کاری گرنہ صرف رنگائی کے ماہر ہوتے ہیں بلکہ ان کو بُنائی کی تکنیکی معلومات بھی ہوتی ہے، جس کپڑے اور جس ڈیزائن کی تیاری مقصود ہے اس کے لیے تانے اور بانے کے مطلوبہ تاروں کا حساب لگایا جاتا ہے ۔ دھاگوں کو باندھنے اور پھر رنگائی کے بعد بُننے کے لیے بڑی مہارت درکار ہوتی ہے تاکہ تانے اور بانے کے تاروں کی آمیزش سے ڈیزائن تیار کیا جاسکے۔ 

30

31


گجرات ایکاتت بُنائی کی شاندار روایت کا امین ہے ۔ ’ پٹو لا‘ ریشم کی بنائی ہوئی دہرے ایکات کی سب سے رنگین ساڑی ہے۔ ضلع مہسانا کاپاٹن علاقہ ان ساڑیوں کی پیدوار کا بڑا مرکز ہے۔ ان ساڑیوں پر اقلیدسی (Geometrical) نقش ونگار کے علاوہ، جن پرمقامی فن تعمیر کے نمایاں اثرات ہوتے ہیں، پھولوں ، چڑیوں ، جانوروں اورناچتی ہوئی گڑیوں کے نقش ونگار بھی عام ہیں۔ عموماً لال، پیلا ، ہرا ،کالا اور سفید رنگ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ رنگ ایک دوسرے میںپیوست ہوجاتے یہں جس سے خاکہ بگڑتا نہیں ہے۔ 
اڑیسہ میں بھی ایکات ساڑیاں اور دیگ ریشمی اورسوتی کپڑے تیار ہوتے ہیں۔ یہاں اس عمل کو ’’بندھا‘‘ کہاجاتا ہے،چاہے یہ اکیلا ایکات ہویا مخلوط ۔ پٹولا کے مقابلے میں ڈیزائن زیادہ نرم اور ختم ہوتی ہے ۔ یہاں ڈیزائنوں کی ایک خصوصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ بانے کا ایک اضافی تاربھی چھوٹے تصویری ڈیزائنوں میں بُنا ہوا ہوتا ہے ۔ 
آندھرا پردیش کے پوچم پلی اور چیرالہ علاقے میں سوتی ایکات کپڑے تیار ہوتے ہیں جنھیں ’تیلیارومال‘کہانا جاتا ہے ۔ یہ کپڑے 75-90 سینٹی میڑ کے چوکور ٹکڑے ہوتے ہیں جو عام طور پر جوڑے (Pair) کی شکل میں بُنے جاتے ہیں۔ موٹے کپڑوں سے لنگیاں، کاندھے پرڈالنے والے رومال یا ماہی گیروں کے لنگوت بنتے ہیں جب کہ باریک کپڑوں سے دوپٹے یا نقاب بنائے جاتے ہیں۔ 

10E.5 زردویزی (Emproidery)


کپڑے پر ریشم ، سوت ، سونے یا چاندی کے تاروں سے آرائش یا کڑھائی کا فن زردوزی کہلاتا ہے۔ اس میں سوئی یا سوئی جیسا کہ کوئی آلہ استعمال کیا جاتا ہے۔ زردوزی ایک قدیم دست کاری ہے جسے سوئی سے کی جانے والی مصوری کہاجاسکتاہے۔ زردوزی کاکام دنیا کے بہت سے حصوںمیں ہوتا ہے ۔ ہندوستان میں بھی یہ کام بہت قدیم زمانے سے ہوتا آیا ہے اور ایسے شواہد موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ زردوزی پورے ملک میں اس طرح رائج تھی کہ 
٭اسے تمام سماجی اور اقتصادی سطحوں پر خانہ بدوش چرواہوں سے لے کر شاہی گھرانوں کے افراد تک میں مقبولیت تھی۔ 
٭یہ کام ہر قسم کے کپڑے پر کیا جاتا تھا جن میں موٹے سوتی کپڑے ، اونٹ کے بالوں سے لے کر نہایت عمدہ ریشمی کپڑے اور پشمینے شامل تھے۔ 
٭اس میں سوت ، اون ، ریشم یازری اور اس کے ساتھ ہی کوڑیوں ، شیسے اورآئینے کے ٹکڑوں ، موتیوں ، جواہرات اور سکوں جیسے ہرقسم کے سامان اور دھاگوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ 
٭اسے مختلف چیزیں جیسے شخصی لباس ، گھریلو استعمال کی چیزیں ، گھروں کی سجاوٹ کا سامان ، مذہبی نذر ونیا ز اور مویشیوں اور جانوروں کی آرائش کا سامان بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ 
زردو زی کو عام طور پر ایک گھریلو دست کاری اور ایسا پیشہ سمجھاجاتا ہے جسے عورتیں خالی وقت میں لباسوں اور گھریلو کپڑوں کوسجانے کے لیے انجام دیتی ہیں۔ تاہم ہمارے ملک اور دنیا کے بعض اور حصوں میں زردوزی کی بعض مصنوعات کی تجارت بھی ہوتی ہے۔ آئیے زردوزی کی بعض طرزوں پر ایک نظر ڈالیں جن کی پیداوار آج کل تجارتی پیمانے پر ہورہی ہے ۔ 

پھُل کاری (Phulkari)

پھُلکاری پنجاب کی زردوزی کا فن ہے ۔ یہ اصطلاح زردوزی کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے اور اس چادر یا شال کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے جس پر اس قسم کی زردوزی کا کام کیا گیا ہو۔ پھُلکاری کا مطلب ہے پھولوں کا کام یا پھولوں کی کیاری ۔ ایک اور اصطلاح ’باغ‘ کا بھی یہی مفہوم ہے۔ پھُلکاری خاص طور پر ایک گھریلو دست کاری تھی جسے لڑکیاں او رخواتین بناتی تھیں او رکبھی کبھی ان کی دیکھ ریکھ میں ملازمائیں بھی بنا لیا کرتی تھیں ۔ زردوزی کا کام کچے اور غیر بٹے ریشم (جسے ’پت‘ کہتے ہیں) سے موٹے سوتی (کھدر)کے کپڑوں پر کیا جاتا ہے۔ ’باغ ‘کی گھنی زردوزی میں ، کپڑا زردوزی سے اتنا ڈھک جاتا ہے کہ کپڑے کا بنیادی رنگ بس الٹی ہی دکھائی دیتا ہے۔ روایتی طور پر یہ زردوزی شادہ کی تقریبات سے تعلق رکھتی تھی اور نانیاں اپنی نواسیوں کے لیے یادادیاں اپنی بہوؤں کے لیے ’باغ‘ بنایا کرتی تھیں۔ 

کسوتی (Kasuti)

کسوتی لفظ کرناٹک کی زردوزی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ لفظ کسوتی (Kasuti)فارسی لفظ ’کشیدہ‘ سے ماخوذ ہے جس کے معنی کڑھائی کے ہیں۔ پھلکاری کی طرح یہ بھی ایک گھریلو دست کاری ہے جسے عورتیں انجام دیتی تھیں۔ یہ زردوزی کی نازت ترین شکل ہے۔ اس میں زردوزی کے دھاگے کپڑے کی بُنائی کے نمونے پر ہی چلتے ہیں۔ کسوتی ریشمی کپڑوں ریشمی دھاگوں کی باریک لڑیوں سے تیار کی جاتی ہے ۔اس میں جو رنگ استعمال ہوتے ہیں وہ بھی کپڑے کی زمین سے میل کھاتے ہیں۔ اس کے نقش ونگار علاقے کے مندروں کے فن تعمیر سے متاثر نظر آتے ہیں۔ 

کانتھا (kantha)

بنگال کی کانتھا کشید ہ کاری پرانی سوتی ساڑیوں یا دھوتیوں کی تین چار تہوں پر مشتمل بنیاد پر کی جاتی ہے۔ یہ زردوزی لحاظ یا رضائی میں ڈورے ڈالنے جیسا کام ہے۔ اس طرح جو چیز بنتی ہے اسے بھی کانتھا کہتے ہیں۔ اس قسم کی زردوزی پھٹی ساڑیوں کی مضبوطی کے لیے رفوگری سے شروع ہوئی ہوگی لیکن اب اس سلائی کے ٹانکے کپڑے پر بنی شکلوں کو بھرنے کے کام آتے ہیں۔ کانتھا کی اصل زمین سفید ہوتی ہے جس پر مختلف رنگ کے دھاگوں سے زردوزی کی جاتی ہے۔ یہ دھاگے اصل میں پرانی ساڑیوں کے کناروں سے نکالے جاتے تھے۔ کانتھا سے جو چیزیں بنتی ہیں وہ چھوٹے سائز کی کنگھے دانیوں اور پرسوں (Purses) سے لے کر مختلف سائز کی شالوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ کانتھا کی مذہبی اہمیت بھی ہے ۔ کیوں کہ ان کو مذہبی مقامات پر پیش کی جانے والی نذر کے طور پر یا پھر دیگر خصوصی مواقع پر استعمال کیا کیا جاتا ہے۔ 

32
ٹائی اور ڈائی فیبرک

33
پھل کاری امبرائڈری 

کشیدہ کاری (Kashida kari)

کشیدہ ایک عمومی اصطلاح ہے جو کشمیر کی کشیدہ کاری یا زردوزی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ ’ سوزنی‘ اور ’ زلک دوزی‘ کشمیر کی دواہم زردوزیاں ہیں۔ کشمیر اون کا گڑھ ہے ، اسی لیے وہاں اونی کپڑوں پر زردوزی کی جاتی ہے، جن میں نفیس قسم کی شالوں سے لے کر فیزن جیسے درمیانی موٹائی کے لبادے اورموٹے نمدے جو فرش کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، شامل ہیں۔ 
شالوں اور نفیس اونی کپڑوں پر جو زردوزی ہوتی تھی وہ شاید ابتدا میں ان نقائض کی مرمت کے لیے کی جاتی ہوگی جو بُنائی کے دوران پیدا ہوجاتے تھے۔ بعد میں کئی رنگوں والے بُنائی کے نقش ونگار بنائے جانے لگے جن میں چین کی زردوزی کے طرزوں (جیسے ساٹن کی بخیہ اور چھوٹی بڑی بخیوں) کا اضافہ ہوا ۔ سوزنی زردوزی میں وہ تمام کشیدہ کاری شامل ہے جو کپڑے کی سطح سے ہم آہنگ اور کپڑے کے دونوں طرف یکساں ہوتی ہے۔ یہ زردوزی ریشم کے دھاگوں سے کی جاتی ہے جن کے الگ الگ رنگ ہوتے ہیں اور ان سے بنائے گئے ڈیزائن قدرتی معلوم ہوتے ہیں۔ 

بُنائی کے لیے استعمال کی جانے والی طُغراسازی کی تکنیک میں کبھی کبھی معمولی اصلاحات اور تبدیلیوں کی ضرورت پڑتی تھی۔ یہ کام زردوزی کی طرح بُنائی کے نمونے کو دوہراکر کیا جاتا تھا جسے بُنائی کے نمونے کی رفو گری کہتے تھے۔ اس لیے کشمیر کے زردوزی کرنے والو ں کو آج بھی رفو گر کہا جاتا ہے۔ 

’زلک دوزی ‘پیچ دار ٹانکوں کی زردوزی ہے جو ’آری‘سے کی جاتی ہے۔ آری ایک ایسا ہُک ہوتا ہے جیسا موچی استعمال کرتے ہیں ۔ ابتدا میں اس طریقے کو خاص طور پر نمدوں پر استعمال کیا جاتاتھا لیکن اب اسے ہر قسم کے کپڑوں اور شالوں پر استعمال کیاجاتا ہے ۔ مذکورہ تمام بالا زردوزیوں کے برخلاف ، کشمیری زردوزی ایک تجارتی سرگرمی ہے جسے مرد کرتے ہیں اور اس کی مصنوعات بڑے پیمانے پر خریدی جاتی ہے۔ 

چکن کار (Chinkan kari)

اترپردیشن کی چکن کاری ایک ایسی زردوزی ہے جس کا استعمال شروع سے ہی تجارتی مقاصد کے لیے کیا جاتا رہا ہے۔ اگر چہ اس کا بنیادی کام خواتین کرتی ہیں لیکن اس کے ماہر فن کار اور انتظام کا خاص طور پر مرد ہیں۔ لکھنو ٔ کو اس کا کام کا خاص مرکز سمجھا جاتا ہے۔ شروع میں یہ کام سفید کپڑے پر سفید دھاگے سے کیا جاتھا ۔ اس میں کپڑے کی الٹی طرف کشیدہ کاری کے ذریعے کڑھائی کے ٹانکوں سے نقوش ابھارے جاتے ہیں ۔ اس کی خصوصیت اس کی جالی دار سطح ہوتی ہے جو زردوزی کے ذریعے کپرے کے دھاگوں کی کس کر بنائی جاتی ہے۔ اس کی تیسری خصوصیت وہ نقش ونگار ہیں جو ٹانکوں میں گرہ لگا کر پیدا کیے جاتے ہیں۔ یہ گرہیں چاول یا باجرے کے دانوں کے مشابہ ہوتی ہیں۔ ادھر ایک عرصے سے اس کام میں زری کے دھاگے ، چھوٹے چھوٹے موتی دانے اور چمک دار ستارے بھی نظر آتے ہیں جن کو ڈیزائن میں شامل کرلیا گیا ہے ۔ چوں کہ یہ ایک تجارتی سرگرمی ہے اس لیے اس کے ڈیزائن اور اس کے طرز فیشن کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ 
بدلتے رہتے ہیں۔ 

گجرا ت کی زردوزی کی ثروت مند روایت 

(Gujrat has a very rich tradition in embroidery)

گجرات بنیادی طو پر خانہ بدوش قبیلوں کی سرزمین ہے۔ یہ قبیلے مختلف ثقافتی روایات سے ثقافتی روایات سے متعلق ڈیزائنوں اور تکنیکوں کی آمیزش کرتے رہے ہیں۔ یہاں کی زردوزی زندگی کے تما پہلوؤں کو محیط ہے۔ دروازوں کی سجاوٹ تورن(Torans)یا ’پچی پتی‘سے کی جاتی ہے ، دیواریں ، چکلوں، یا چندرواس‘ سے سجائی جاتی ہیں اور گنیش کی مورتیاں نصب کی جاتی ہیں۔ ( سب چیزیں خانہ بدوشوں کے طرز زندگی میں اہم ہیں)۔ مردوں ، عورتوں اوربچوں کے لباس مختلف قبائلی انداز میں سجائے جاتے ہیں او ر اسی طرح اس کے مویشیوں ، گھوڑوں اور ہاتھیوں کے غلاف بھی تیار کیے جاتے ہیں۔ کئی زردوزیاں قبیلوں کے نام پر ہیں جیسے’ مہاجن‘، ’رباری‘ ، ’موچی‘ ، ’بھرت‘، ’کانبی بھرت‘اور سندھی‘۔ ان میں بیشتر بہت شوخ او ربھڑکیلے رنگ استعمال کیے جاتے ہیں ۔ 
گجرات کی پارہ دوزی (Applique work) کا اپنا الگ الگ انداز ہے۔ یہ ایک طرح کی پیوند کاری ہے۔ اس میں مختلف ڈیزائن کے کپڑوں کے ٹکڑوں کو مختلف سائز اور مختلف شکلوں میں کاٹ لیا جاتا ہے اور انھیں ایک سادہ کپڑے پر سی لیا جاتا ہے ۔ ان کا استعمال گھر میں استعمال ہونے والے کپڑوں کے لیے ہوتا ہے۔ 
سوراشٹر کچھ کَچھ میں موتیوں(Beads) کاکام بھی بہت اہم فن ہے۔ یہ زردوزی کاکام نہیں ہے بلکہ دھاگوں کے ایک جامل میں مختلف رنگوں کے دانے پرودیے جاتے ہیں۔ اس سے برتنوں کے غلاف، پردے اور پرس وغیرہ بنائے جاتے ہیں۔ 
گجرات سے راجستھان کی نزدیکی اور خود راجستھان میں قبائلی آبادی کی موجودگی کے سبب ان دونوں ریاستوں کی زردوزی کے فن میں بڑی یکسانیت ہے۔ البتہ تصویریں اور ان کے رنگ مختلف قبائل میں مختلف ہوتے ہیں۔ اس طرح ان کے استعمال کے مواقع بھی الگ الگ ہوتے ہیں۔

چمبا رول (Chamba mals)

ہماچل پردیش کی سابق پہاڑی ریاست ’چمبا رومال‘ خاص مہمانوں یا اہم شخصیتوں کو پیش کیے جانے والے تحفوں کی تھالیوں پرڈھکے جاتے تھے۔ ان رومالوں پر دیو دیوتاؤں کی ویسی ہی تصویر یں ہوتی ہیں جیسی ’پہاڑی‘ مصوّری کے نمونوں پر نظر آتی ہیں۔ ان میں باہر باہر رواں سلائی ہوتی ہے اور دھاگوں کے ذریعے صورتیں ابھاری جاتی ہیں۔ سب سے اچھی تصویریں وہ ہوتی ہیں جو کپڑے کے دونوں طرف نظر آتی ہیں۔ 


34
کسوتی امبورڈیری 
چکن کاری امبورڈیری 

35
کامنتھا امبورڈیری 
چکلا 
چکن کاری 

10.E.6  ماحصل (Conclusion)

ہندوستان کے خوب صورت ملبوسات اپنے حسن اور فن کاری کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ مسلسل حملوں ، ہجرتوں ، سیاسی اتھل پتھل اور بہت سے دیگر نشیب وفراز نے ہندوستان کے کپڑاسازی کے فن کو بہت زرخیز بنا دیا ہے۔ آج ہندوستانی ملبوسات کی زرخیزی اور تنوع یہاں مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے بقائے باہم کی قدیم روایت کی مرہون منت ہے۔ 
ہندوستان کے بعض خطوں میں کپڑا سازی کی روایات بہت پرانی ہیں۔ ان روایات کا تعلق مختلف قسم کے ریشوں، سوت، ریشم اور اون ، سے بھی ہے اور کپڑا سازی کے مختلف مراحل ---کتائی ، بُنائی ، رنگائی، چھپائی اور تزئین کاری ---- سے بھی ۔ وقت کے ساتھ، کپڑے کی پیداوار کے مراکز میں رنگ، ڈیزائن، آرائش اورکپڑوں کی مخصوص مصنوعات کے استعمال کے خود اپنے طریقے وضع کیے گئے ۔ ہماری سماجی اور معاشی زندگی میں ایسے مراکز کی اہمیت اب بھی باقی ہے جہاں صرف مذہبی اور دیگر سماجی رسوم سے وابستہ کپڑوں کی ہی پیداوار نہیں ہوتی بلکہ عصری ضروریات کا خیال رکھنے والی مصنوعات بھی تیار کی جاتی ہیں۔ یہ مراکز مختلف قسموں کے کپڑے بنانے اور روایتی کپڑوں کا متبادل استعمال تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ اب محض چند منتخب کپڑوں کی پیداوار کے بجائے بڑے پیمانے پر کپڑوں کی پیدا وار پر توجہ دی جارہی ہے۔ 
ہندوستانی کپڑا سازی کی تقریباً تمام روایات آج بھی باقی ہیں۔ البتہ نئے نئے ڈیزائنوں کی ترقی کی وجہ سے قدیم روایات میں اورچمک دمک آگئی ہے۔ بہت سی سرکاری اور غیر سرکاری تنظیمیں اورکئی تعلیمی ادارے کپڑا سازی کی روایات کے تحفظ اورانھیں نئی زندگی دینے کے لیے مشترکہ طور پر کام کررہے ہیں۔ 

کلیدی اصطلاحات 

بروکیڈ (Brocdade)، ململ ، جامدانی، کم خواب، شال ، ٹیپسری (Tapestry)’ٹائی اورڈائی‘(Tie and Dye)، ایکات(Ikat)، پٹولا، زردوزی(Embroidery)، پھل کاری ، کشیدہ کاری، چکن کاری

سوالات برائے نظر ثانی

1۔   ہندوستان کی کپڑا سازی کے فن کی قدامت کے بارے میں کن تاریخی مآخذ سے معلوما ت حاصل کی جاسکتی ہے ؟
2۔   سوتی کپڑوں کی وہ کون سی دو خصوصیات ہیں جنھوں نے ہندوستانی کپڑوں کودنیا بھر میں مشہور کردیا ؟
3۔   سلک بروکیڈ کی بُنائی سے متعلق شعبوں کے نام بتائیے۔ ہر ایک کی اہم خصوصیات بھی لکھیے۔ 
4۔   ہندوستانیوں کو دنیا کا استاد رنگ ریز کیوں کہا جاتا ہے ؟
5۔   آپ درج ذیل اصطلاحات کے ساتھ کن چیزوں کو وابستہ کریں گے ؟
            پھلکاری ، کسوتی ، کشیدہ کاری ، کانتھا اور چکن کاری 

عملی کام 11

ہندوستان میں کپڑا سازی کی روایات 

موضوع: علاقے میں موجود کپڑا سازی کے روایتی فن /دست کاری سے متعلق معلومات کی فراہمی 
کام: کسی منتخب علاقے میں پائی جانے والے کپڑا سازی کے روایتی فن اور دست کاری سے متعلق معلومات اور تصویروں کی فہرست تیار کرنا۔ 
عملی کام کا مقصد : ہندوستانی دست کاری اور اس کے لاکھوں دست کار، روایتی علم اوردیسی ٹکنالوجیوں کا نہایت وسیع اور اہم وسیلہ ہیں۔ اس سے طلبا کو ہندوستان کی دست کاری کی روایات کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اس طرح وہ متعلقہ معلومات حاصل کرسکیں گے اور ان میں کپڑا سازی کی مختلف روایات کو بروئے کار لانے کی صلاحیت پیدا ہوگی۔ اس سے دیہی اور شہری نوجوانوں کے درمیان رابطے بھی بڑھیں گے۔ 
عملی کام کا طریقِ کار :  اپنے علاقے کے نزدیک ہونے والی کسی نمائش ، دست کاری کے میلے یا میوزیم جا کر کپڑا سازی صنعت کی ابتدا/ تاریخ ، مختلف کپڑوں، تکنیکوں ، رنگ ، ڈیزائن اور دست کاری کی مصنوعات کے بارے میں معلومات جمع کیجیے۔ جمع کی گئی معلومات کو فولڈ ریا کیٹ لاگ کی شکل میں پیش کیجیے۔ 
دست کاری کا تعلق کٹائی، بنائی، رنگائی، چھپائی یا کڑھائی جیسے کپڑا سازی کے مختلف طریقوں سے ہوسکتاہے۔ 

انسانی ماحولیات اور علوم خاندان داری 

گیارھویں اور بارھویں جماعت کے لیے نصاب 

جواز 

انسانی ماحولیات اور علوم خاندان داری(HEPS)جسے پہلے ہوم سائنس کہاجا تا تھا ، کا نصاب این سی ای آرٹی کے ’’قومی دریاست کا خاکہ ک2005‘‘ کے اصولوں کو پیش نظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ روایتی طور پر ہوم سائنس کا شعبہ پانچ موضوعات کا احاطہ کرتا ہے جن کے نام ہیں ، غذا اور تغذیہ، فروغِ انسانی اور مطالعات خاندان داری، کپڑے اورملبوسات ، وسائل کاانتظام اور مواصلات اور توسیع ۔ ان تمام شعبوں کا اپنا مخصوص مواد ہے اورمخصوص مرکز ِ توجہ ہے جو ہندوستان کے سماجی وثقافتی تناظر میں فرد اور خاندان سے متعلق مطالعات میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ نیا نصاب اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ وہ کئی صورتوں میں اس شعبے کے روایتی خاکے کی حدود کو توڑ نے میں کامیاب ہوا ہے۔ نئے تصورات کے مطابق اس شعبے کے مختلف میدانوں کے درمیان حائل سرحدیں ختم کردی گئی ہیں۔ ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ تاکہ طلبا میں گھر اور سماج میں زندگی کی مجموعی تفہیم کی صلاحیت پیدا کی جاسکے۔ اس بات کی خصوصی کوشش کی گئی ہے کہ گھر اور سماج میں ہر طالب علم کی زندگی کے تئیں احترام کے جذبے کی ترسیل ہوسکے اورنصاب کو مختلف تناظرات میں رہنے والے لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے مناسب بنا کر یہ کام کیا گیا ہے۔ ان میں ایسے لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل ہیں جو بے گھر ہیں۔ اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا ہے کہ سبھی یونٹ اپنے مواد کے اعتبار سے حصے داری، مساوات اور اجتماعیت کے نمایاں اصولوں پر پورے اتریں۔ ان میں صنفی حساسیت، دیہی ۔ شہری۔ قبائلی مقامات ذات، طبقہ ، روایتی اورجدید دونوں اثرات کے قدر کے تعلق سے تنوع اور تکثیریت کا احترام، سماجی سروکار قومی علامات پر احساس تفاخر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نئے طریقہ کار کے تحت ایسی جامع کوشش کی گئی ہے کہ سائنس اورسوشل سائنس کے دیگرمضامین کے درمیان حائل اختلافات کودور کرکے اسکول میں آموزش کو مربوط کیا جائے۔ 
عملی کاموں کی اختراعی اور اصلی خصوصیت ہے اور وہ ایسی نئی تکنیک اور اطلاق سے استفادے کے عکاس ہیں۔ جن سے زندہ حقائق کے ساتھ ضروری وابستگی کو استحکام حاصل ہوگا۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ عملی زندگی کے تجربے سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ عملی کاموں کی تشکیل اس طرح کی گئی ہے کہ ان سے تنقیدی غوروفکر کو فروغ ملے۔ مزید یہ کہ بندھی ٹکی صنفی حیثیتوں پر بحث سے پرہیز کرنے کی شعوری کوشش کی گئی اور اس طرح تجربات کو لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے زیادہ بامعنی اور قابل شمولیت بنایا گیا ہے ۔ عملی کاموں کو خاندان اور سماج میں دست یاب وسائل کوذہن میں رکھتے ہوئے ہی کرانا ضروری ہے ۔ 
کورس میں مدت زندگی کی طریقہ کار کے تحت گیارھویں جماعت میں نشوونما پر مبنی خاکہ اختیار کیا گیا ہے جو نو بلوغت سے شروع ہوتاہے۔ یہ نشو ونما کا وہ مرحلہ ہے جس سے طلبہ گزررہے ہیں۔ کسی شخص کی خود اپنی نشوونما کے ہر مرحلے سے آغاز دلچسپی کا سبب ہوگا اور طلبا میں یہ صلاحیت پیدا ہوگی کہ وہ ان جسمانی اور جذباتی تبدیلیوں کو پہچاننے کی صلاحیت پیدا ہوگی جن سے وہ گزررہے ہیں۔ اس کے بعد بچپن اور بلوغت کا مطالعہ ہے۔ ہر یونٹ میں مسائل اور سروکار کے تعلق سے بات کی گئی ہے ، ساتھ ہی ساتھ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ضروری سرگرمیوں اور وسائل پر بھی توجہ دی گئی ہے ۔ 
گیارھویں جماعت کے لیے ’فرد اور خاندان‘ اور ’ ’گھر ‘‘پر توجہ مرکوز کی گئی ہے تاکہ انفرادی زندگیوں اور سماجی تفاعل کی حرکیات کی تفہیم ہوسکے۔ اس طریقۂ کار کو اختیار کرنے کی منطق یہ ہے کہ اس سے نو بلوغت کے مرحلے میں طلبا کو خاندان کے تناظر میں خود سمجھنے میں مدد ملے گی جو اس کے برعکس وسیع تر ہندوستانی سماجی وثقافتی تناظر میں پوشیدہ ہے۔ 
بارھویں جماعت کے لیے فرد کی پوری زندگی میں عمر کے لحاظ سے ’’کام اور پیشوں‘‘ پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ اس تناظر میں کام کو ایک لازمی انسانی سرگرمی تصورکیا گیا ہے جوافراد ، خاندان اور سماج کی ترقی اور استحکام میں مددگارہوتی ہے ۔ اس کی قدروقیمت کا تعلق محض اقتصادی پہلوؤں سے نہیں ہے۔ کام، روزگار اورپیشوں کی اہمیت اور ان کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں طلبا کی مدد کی جائے گی۔ اس تصوّر کی تفہیم کے لیے طلبہ کو ایچ ای ایف ایس کے متعلقہ شعبوں میں زندگی کی مہارتیں اور کام کی مہارتیں سکھائی جائیں گی۔ اس سے بنیادی مہارتوں کی تحصیل اور ان جدید ترین پیشہ وارانہ مہارتوں سے واقفیت میں آسانی ہوگی جن کی ضرورت کورس میں مہارت بہم میں بیان کردہ منتخب شعبوں میں اختصاص کے لیے ہوتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ مہارتیں طالب کی نچی سماجی زندگی کے لیے کار آمد ہوں گی نیز مستقبل میں کسی کیرئیر کے انتخاب کے سلسلے میں طالب علم کو آگے بڑھانے کا ذریعہ ثابت ہوں گی۔ 

مقاصد 

انسانی ماحولیات اور علوم خاندان داری (HEFS)نصاب اس لیے وضع کیا گیا ہے کہ طالب علموں میں یہ صلاحیت پیدا کی جاسکے کہ وہ :
1۔   خاندان اور سماج کے تعلق سے اپنی شخصیت کی تفہیم کرسکیں۔ 
2۔   ایک کارآمد فرد کے طور پر اور اپنے خاندان، برادری او رسماج کے ایک رکن کے طور پر اپنے کردار اور اپنی ذمے داریوں کی تفہیم کرسکیں۔ 
3۔   مختلف شعبوں کے تعلق سے آموزش کو مربوط کرسکیں اور دیگرتعلیمی مضامین کے ساتھ ان کا تعلق قائم کرسکیں۔ 
4۔   حساسیت پیدا کرسکیں اور اشتراک عملی اور تنوع کا تنقیدی تجزیہ کرسکیں۔ 
5۔   ماہرانہ پیشوں کے لیے ایچ ای ایف ایس کے الگ الگ شعبوں کی تحسین کرسکیں۔