Skip to content
Insanimaholiatauruloom-Part-II



بقا،نمو اور نشوونما

(Survival, growth and  Development)

باب11


آموزشی مقاصد  

  اس باب کے مطالعہ کے بعد طلبا ·

  • بقا،نمو اور نشو و نما کے تصورات کی وضاحت کر سکیں گے۔ 

  • نمواور صحت کے درمیان تعلق کا تجزیہ کر سکیں گے۔
  • بچپن کے مختلف مرحلوں کی خصوصیات بیان کر سکیں گے۔
  • نشوونما کے اہم مراحل کی وضاحت کر سکیں گے۔  
  • بچپن کے مختلف ادوار میں نشوونما کا جائزہ لے سکیں گے۔

11.1بقا کا مفہوم   (The Meaning of Survival)

لفظ بقاکے بہت سے معنی ہیں۔ لیکن عام طور پر اس لفظ کا تعلق ’زندہ رہنے‘ اور ’زندگی کے ضروری افعال انجام دینے‘سے ہے۔ جب بچوں کو نگہ داشت، ضروری غذا اور بیماری پیدا کرنے والے عضویوں سے تحفظ حاصل ہوتا ہے تو وہ زندہ رہتے ہیں اور بنیادی افعال انجام دینے کے قابل بھی ہوتے ہیں۔ اگر وہ تغذیے کی کمی یا کسی انفیکشن کے شکار ہوجاتے ہیں تو پھر انھیں ان ’حملوں‘ پر قابو پانے کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کی بقا کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔ اگر بچوں کا تعلق کم آمدنی والے خاندانوں سے ہے تو انھیں زائدغذا مہیا کرانا ضروری ہوتا ہے جس میں تغذیاتی عناصرمناسب مقدار اور تناسب میں شامل ہوں۔ اس کے علاوہ شیر خوارگی اور بچپن کے دوران ہونے والی مہلک بیماریوں جیسے تپ دِق، کالی کھانسی، خناق(Diphtheria)، پولیو اور ٹٹنس(Tetanus)وغیرہ کے ٹیکے لگانا بھی ضروری ہے۔ ملیریا اور نمونیا جیسی بیماریاں بھی بچوں کی زندگی کے لیے بڑا خطرہ ہوتی ہیں۔
  یونیسیف کی 2007کی رپورٹ کے مطابق تمام دنیا میں تقریباً 9کروڑ 20لاکھ پیداہونے والے بچے اپنے پانچویں یومِ پیدائش سے پہلے ہی فوت ہوجاتے ہیں۔ ان میں سے 30لاکھ بچوں کا تعلق دنیا کے اس حصے سے ہے جس میں ہم رہتے ہیں یعنی جنوبی ایشیا۔ ان میں سے بیشتر بچے ترقی پذیر ملکوں میں رہتے ہیں اور ایسی بیماری یا بیماریوں سے فوت ہوتے ہیں جن کی بہ آسانی روک تھام اور علاج ممکن ہے۔ مثلاًاینٹی بایوٹک دواؤں سے نمونیا کا یا نمک اور چینی کے سادہ گھول سے دستوں کا علاج۔ ان میں سے ایک تہائی اموات کا سبب قلتِ تغذیہ(Malnutrition) ہوتی ہے۔ساری دنیا میں پانچ سال سے کم عمر میں فوت ہونے والے17      فی صد بچے یا ہر سال تقریباً0 2لاکھ بچے دستوں سے متعلق بیماریوں سے فوت ہوتے ہیں۔ اس طرح یہ بیماریاں ساری دنیا میں بچوںکی موت کادوسرا سب سے بڑا سبب ہیں۔  
بچوں کی اموات کا بڑا گہرا تعلق غریبی سے ہے۔ شیر خواروں اور بچوں کی بقا میں پیش رفت غریب ملکوں میں زیادہ سست روی سے ہوتی ہے۔ یہی صورت حال دولت مند ملکوں کے غریب ترین لوگوں کے ساتھ بھی ہے۔ صحت عامہ خدمات،مثلاً صاف پانی اورصفائی کی فراہمی(Sanitation) میں بہتری بہت ضروری ہے۔ تعلیم اور خاص طور پر لڑکیوں اور ماؤں کی تعلیم بھی بچوں کی زندگی بچا سکتی ہے۔ آمدنی میں اضافے سے بھی بڑی مدد ملے گی لیکن جب تک اس بات کو یقینی بنانے کی کوششوں میں اضافہ نہیں کیا جاتا کہ یہ خدمات ان لوگوں کو فراہم ہوں جنھیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ،اس سلسلے میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی۔صحت سے متعلق ضروری خدمات میسر کرانے کے لیے بڑے پیمانے پر کوشش نہیں کی جاتی، اس مقصد کوحاصل کرنا مشکل ہے۔ بچے کی نمو مناسب طور پر اس وقت شروع ہوتی ہے جب اس کے ماحول میں تمام لازمی اشیا مناسب مقدار میں موجود ہوں۔ بچے کے محض زندہ رہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کی نمو بھی ٹھیک ہو رہی ہے۔  
در حقیقت ایسی حالتوں میں بچوں کی نمو پوری طرح رک بھی سکتی ہے۔ اس کونمو کا فقدان(Growth Failure)کہا جاتا ہے۔ آئیے ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ بچے نمو کیسے کرتے ہیں۔

11.2نمو اورنشو و نما   (Growth and Development)  

ہم نے اس کتاب میں نمو اور نشو و نما کے الفاظ کا بار بار استعمال کیا ہے۔ کیا ان دونوں لفظوں کا مفہوم ایک ہی ہے یا یہ الگ الگ ہیں؟ ان دونوں کا مفہوم تھوڑا مختلف ہے۔ نمو (Growth) کا تعلق ، سائز اور مقدار (Quantity)سے ہے یعنی وہ جسمانی تبدیلیاں ہیں جن کی پیمائش کی جا سکتی ہے۔ اس کے بر خلاف نشوونما (Development)سے مراد کیفیت (Quality) کی تبدیلیوں یعنی وزن،قد اور داخلی اعضا کے سائز میں اضافے سے ہے۔ لیکن نمو صرف ہمارے جسمانی قد میں ہی نہیں ہوتی۔ اگر ایسا ہوتا توکوئی نومولود،بیس سال کی عمر میں بھی ایک بڑا بچہ ہی نظرآتا۔ قد بڑھنے کے ساتھ ہی جسم کے اعضا کی شکل، پیچیدگی اور ان کے افعال میں بھی تبدیلی آتی ہے۔ اس طرح بچہ اپنا سر اٹھانا شروع کر دیتا ہے، بستر پر لڑھکنے لگتا ہے، پھر بیٹھنا شروع کرتا ہے، گھٹنوں پر چلتا ہے، پھر چلنا سیکھ لیتا ہے اور بھاگنے بھی لگتا ہے۔ یہ ساری تبدیلیاں کیفیاتی (qualitative) ہیں۔ ان تمام کیفیاتی تبدیلیوں کے اندر ایک مقداری تبدیلی(Quantitative change)بھی ہوتی ہے۔ اس طرح جب بچہ بیٹھنے لگتا ہے تو وہ خاصی دیر تک گرے بغیر بیٹھا رہ سکتا ہے، جب بچہ دوڑنے لگتا ہے تو تیز اور پھر اور زیادہ تیزدوڑنے لگتا ہے۔  
PIC_1
شکل1: عمر کے لحاظ سے بچوں کا قد

ماخذ: عالمی صحت تنظیم (WHO) سے لیا گیا۔

اوپر دی گئی تصویر دیکھیے۔ اس میں عمر کے لحاظ سے بچے کا قددکھایا گیا ہے۔
یہ بات تو واضح ہے کہ جب بچہ شیر خوارگی کے زمانے سے پری اسکول سطح تک پہنچتا ہے تو اس کا قد بھی بڑھ جاتا ہے اور وزن بھی۔ اس کے علاوہ جسم کے مختلف حصوںمثلاًسر اور سینے کے تناسب(Proportions)میں بھی تبدیلیاں آجاتی ہیں۔ لیکن کیا صرف یہی کچھ ہوتا ہے؟ نہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ان جسمانی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ،جسم کے اعضا کا سائز بھی لگاتا ربڑھتا ہے اور ان کے کام کرنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ یہ عمل پری اسکول سطح پر رک نہیں جاتا بلکہ اسکول کے پورے زمانے اور پھر نوبلوغت تک چلتا رہتا ہے، یہاں تک کہ بچے کا جسم بالغ ہو کر اپنی جسمانی ساخت اور کام کرنے کی صلاحیت حاصل کرلیتا ہے۔
نشو و نما کا تعلق خاص طور پر جسمانی تبدیلیوں سے ہے لیکن نشوونما بہ یک وقت بہت سے پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔ بچے میں سوچنے کی صلاحیتیں پیدا ہوتی ہیں،{ OL 1165 } وہ لوگوں کے ساتھ رشتے بناتاہے، اپنے جذبوں کو سمجھتا اور ان کو پورا کرنے

سرگرمی 1

کیا مندرجہ ذیل تبدیلیوں کونشوونما کہا جاسکتا ہے؟
  • چلنے سے دوڑنے تک
  • یہ فیصلہ کرنا کہ کون سی فلم دیکھی جائے یا نوبلوغت کے دوران میں کون سا پیشہ اختیار کیا جائے
        اپنے جوابات کی وجہ بھی بتائیے اور اپنے کلاس کے ساتھیوں کے ساتھ ان پر گفتگو کیجیے۔


  { OL 1165 }کے لیے اہتمام کرتا ہے اور بتدریج پیچیدہ جملے بولنے لگتا ہے۔اس طرح نشوونماکثیر جہتی (Multifaceted) ہوتا ہے۔ ہم نشوونما کی تعریف اس طرح بیان کر سکتے ہیں : ’’یہ وقت کے ساتھ ساتھ جسمانی ساختوں، نفسیاتی خصوصیات، رویوں اور سوچنے کے طریقوں کا ایک ترتیب وار اظہار ہےجوزندگی کے تقاضوں کے موافق ہوتا ہے‘‘۔ یہ تبدیلیاںتدریجی (Progressive) ہوتی ہیں اور ایک خاص مدت تک باقی رہتی ہیں۔ تدریجی کا مطلب یہ ہے کہ ان تبدیلیوں کے نتیجے   
میں بچہ ایسی مہارتیں اور صلاحیتیں حاصل کر لیتا ہے جو اس کی سابقہ مہارتوں اور صلاحیتوں کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ،تیز تر اور زیادہ موثر ہوتی ہیں۔’ترتیب وار‘ کا مطلب یہ ہے کہ نشوونما میں ایک ترتیب بھی ہوتی ہے۔ ہرنشوونما اپنے سابقہ مرحلے کے بعد ہوتی ہے، اس سے پہلے نہیں ہو سکتی۔ ان تبدیلیوں کو نشوونما کی صورت تبھی حاصل ہوتی ہے جب وہ خاصے طویل عرصے تک برقرار رہیں۔ جب کوئی شیر خوار بھوک سے روتا ہے تو یہ اس کے طرزعمل (Behaviour)میں ایک تبدیلی کا اشاریہ ہے لیکن جیسے ہی بچے کو غذا دے دی جاتی ہے، وہ رونا بند کر دیتا ہے۔ رونے کا یہ عمل ایک ذرا دیر کے لیے ہوتا ہے۔ اس لیے اس مختصر تبدیلی کونشوونما نہیں کہا جاسکتا۔

11.3    نشوونما کے دائرے   (Areas of Development)  

آئیے نشوونما کے دائروں کی تعریف کرتے ہیں۔اگرچہ ہم ہمیشہ ایک جامع شخص کی حیثیت سے رہتے ہیں لیکن سائنسی مطالعے کے مقصد سے ہم نشوونما کے مختلف پہلوؤں کو الگ کر کے دیکھتے ہیں۔ کسی فرد کی زندگی میں نشوونما کی مختلف صورتوں کو اس طرح تقسیم کیا جاسکتا ہے:جسمانی نشوونما، حر کی نشوونما(Motor Development)، حسّی نشوونما(Sensory Development) وقوفی نشوونما، (Cognitive Development )لسانی نشوونما، سماجی ،جذباتی اور شخصی نشوونما۔
جسمانی نشوونما سے مرادوہ تبدیلیاں ہیں  جوماں کے پیٹ میں رہنے کے دوران ہی جسم سائز،اس کے مختلف حصوں کی ساخت اور ان کے تناسب میں پیدا ہوتی ہیں۔
حرکی نشوونما کا تعلق جسم کی ان حرکات پر قابو پانے سے ہے جس سے جسم کے مختلف حصوں کے درمیان باہمی ربط میں اضافہ ہوتا ہے۔ جسمانی نشو و نما سے جسم بڑھتا ہے جب کہ حرکی نشوونما جسم کی حرکات کو موثر اورہموار بناتا ہے اور ان پر قابو رکھتا ہے۔ جسم کے عضلات کی حرکت پر قابو پانے سے ہی مختلف حرکات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ حرکی نشوونما دو قسم کی ہوتی ہے۔ وسیع تر حرکی نشوونما(Gross motor development)کا تعلق جسم کے بڑے عضلات(Muscles)جیسے کندھوں، ران، اوپری بازو، نچلا بازو، پیٹ اور کمر وغیرہ پر قابو پانے سے ہے۔ ان پر قابو پا کر ہم بیٹھ سکتے ہیں، جھک سکتے ہیں، چل سکتے ہیں اور اپنے بازوؤں کو ہلا سکتے ہیں۔ لطیف حرکی نشوونما (Fine motor development)کا مطلب ہے جسم کے چھوٹے عضلات جیسے کلائیوں، انگلیوں اور انگوٹھوں وغیرہ پر قابورکھناجس کے نتیجے میں ہم لکھ سکتے ہیں، کتاب کے اوراق پلٹ سکتے ہیں،سلائی اور بُنائی کر سکتے ہیں۔
وقوفی نشوونما کا مطلب ہے بچے کے اندر ولادت کے وقت سے ہی سوچنے کی صلاحیتوں کا ظہور۔ جب بچہ دو سال کا ہو جاتا ہے تو اس کے سوچنے کے طریقے کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ سوچنے کے انداز میں یہ تبدیلیاں ہماری ذہنی ساختوں اوراپنے تجربات کے بارے میں ہماری فہم میں تبدیلیوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اس کو وقوفی نشوونما کہا جاتا ہے۔ اس بات کو ایک مثال سے سمجھیے: ایک شیرخوار بچے کے آگے سے کوئی چیز ہٹا دیجیے تو اس کا رویہ ایسا ہوگا جیسے اب اس چیز کا کوئی وجود ہی نہیں ہے لیکن اپنی عمر کے دوسرے سال کے دوسرے حصے میں بچہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اگرچہ کوئی چیز اس کی نظروں کے سامنے نہیں ہے لیکن پھربھی موجود ہے۔
حسّی نشوونما کا مطلب ہے دیکھنے، سننے، سونگھنے، چھونے اور چکھنے کی حسّی قوتوں میں ترقی۔پیدائش کے وقت بھی بچے کی

   سرگرمی 2

مندرجہ ذیل میں سے ہر ایک تبدیلی نشوونما کے کس دائرے کی نمائندہ ہے؟
  • باہمی اشترا ک کے لیے آموزش
  • گِننے کی آموزش
  • جملوں کا صحیح استعمال
  • دوڑنے کے قابل ہونا
  • قدکا بڑھنا
  • غصے پر قابو پانا
  • قینچی کا استعمال کرنا
  • آواز کی طرف متوجہ ہونا

  حسّی قوتیں اچھی خاصی ترقی یافتہ ہوتی ہیں۔ عمر کے ساتھ ان کی مزید ترقی ہوتی ہے اور زیادہ بہتری آتی ہے۔ مثال کے طور پرایک نومولود بچہ ان چہروں یا چیزوں پر اپنی نظر اچھی طرح مرکوز کر سکتا ہے جواس سے آٹھ انچ دور ہوں۔ دھیرے دھیرے اس کی بصری قوتیں فروغ پاتی ہیں اور اس کی آنکھوں کو دور اور قریب کی چیزوں پر مرکوزہونے کے قابل بنا دیتی ہیں۔

لسانی نشوونما سے مراد وہ تبدیلیاں ہیں جو بچے میں، جو پیدائش کے وقت صرف رو سکتا تھا،دوسروں کی باتیں سمجھنے اور مرکب جملے بولنے کی صلاحیت پیدا کر دیتی ہیں۔

سماجی نشوونما کا تعلق  ان صلاحیتوں کے فروغ سے ہے جو کسی فرد کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ سماج کی توقعات کے مطابق برتاؤ کر سکے۔

  اور لوگوں کے ساتھ تعلقات قائم اور برقرار رکھ سکے۔
جذباتی نشوونما کا تعلق جذبات پیدا ہونے اور ان کے اظہار کے سماجی طور پر قابل قبول طریقے سیکھنے سے ہے۔ شخصی نشوونما’دائرۂ ذات‘
(Domain of self) سے متعلق ہے جس میں اس کے خیال کا ارتقا شامل ہے کہ کوئی فرد کون ہے؟ اس کی ذاتی صلاحیتیں اور مہارتیں کیا ہیں اور آگے چل کر وہ کیا ہونا چاہتا ہے۔
اگرچہ یہ سارے دائرے (شخصی، وقوفی، سماجی وغیرہ) الگ الگ بیان کیے گئے ہیں لیکن در حقیقت کسی بھی حقیقی صورت حال میں یہ ایک فرد کی زندگی کی مختلف جہات ہیں اور ان کو ایسا ہی سمجھنا بھی چاہیے۔ مثال کے طور پر ، کسی سائیکل سیکھنے والے بچے (جسمانی نشوونما) کے بعض جذباتی معاملات (خوف یا جوش و خروش) بھی ہوتے ہیں اور سائیکل چلانا سکھاتے وقت ان کو دھیان میں رکھنا ضروری ہے۔
نمو اورنشو و نما کے لیے بہتر تغذیے کی بہت اہمیت ہے۔ جب بچے اسکول جانے کی عمرکو پہنچتے ہیں تو ان کی تغذیاتی ضرورتیں بڑھ جاتی ہیں۔ درحقیقت دس سال کی عمر سے ہی لڑکے اور لڑکیوں کی تغذیاتی ضرورتوں میں فرق آجاتا ہے۔  
بچپن کے مراحل کی زمرہ بندی کئی طرح سے کی جاتی ہے جن میں ایک طریقہ تغذیاتی ضرورتوں پر بھی مبنی ہے۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (ICMR) نے اسی طریقے کی سفارش کی ہے۔ اس طریقے پر مبنی بچپن کی زمرہ بندی اس طرح ہوسکتی ہے۔  
  • شیر خوارگی : پیدائش سے 6ماہ، اور 6سے 12ماہ تک
  • پری اسکول عمر: 1سے3سا ل اور4سے6سال
  • اسکولی عمر:7سے 9سال اور 10سے 12سال
یہ بات دل چسپی سے خالی نہیں کہ 9سال کی عمر تک لڑکوں اور لڑکیوں کی تغذیاتی ضرورتیں یکساں رہتی ہیں۔ عمر کے دسویں سال تک لڑکے اور لڑکیوں کی تغذیاتی ضرورتوں میں فرق آ جاتا ہے۔
آئیے اب نمو اور صحت کے درمیان رشتے کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ معمول کی نمو اچھی صحت کی علامت ہے لیکن معمول کی نمو بجائے خوداچھی صحت کے لیے کافی نہیں ہے۔ بہت سے وسائل اور حالات ،مثلاً گھرمیں تعلیمی اور جسمانی فروغ کے لیے مناسب ترغیبی ماحول کی موجودگی نشوونما کی اہم منازل طے کرنے کے لیے لازمی ہیں۔لیکن یہاں وسائل اور حالات سے کیا مراد ہے؟ جیسا کہ ہم اوپر بیان کرچکے ہیں ان میں ایک توترغیبی ماحول(Stimulating environment)شامل ہے، دوسرے، مناسب مقدار میں ماں کا دودھ فراہم ہونا، محفوظ اورصاف ستھرا ماحول،مناسب صحت خدمات او ر ماؤں کا بیڑی سگریٹ اور شراب نوشی سے پرہیز وغیرہ بھی ان وسائل اورحالات میں شامل ہیں۔ دوسرے لفظوں میں صحت سے وابستہ تمام عملی صلاحیتوں کے حصول کے لیے معمول کی نمو ایک ضروری شرط ہے لیکن اس کے لیے محض نمو ہی کافی نہیں ہے۔
تحقیقی مطالعات سے ثابت ہوچکا ہے کہ پہلے پانچ سال میں تمام بچوں کی نمو یکساں طور پرہوتی ہے بشرطیکہ ان کی عضویاتی (Physiological) ضرورتیں پوری ہوتی رہیں اور ان کا ماحول ان کی صحت مند انہ نشوونما کے لیے سازگار ہو۔ ماحولی’ حملوں‘ مثلاً جراثیم زدگی، یا اچھی غذا اور غذا کی صحیح مقدار کی کمی وغیرہ سے نمو پر برا اثر پڑتا ہے اور اس کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔ یہ پایا گیا ہے کہ ہندوستان میں خوش حال گھروں کے بچوں کی نمو ترقی یافتہ ملکوں کے بچوں کی طرح ہی ہوتی ہے، خاص طور پر جب والدین کی تعلیمی سطح بھی اونچی ہو۔  
بچوں کی نمو پر نظر رکھنے کے لیے دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر نمو کے چارٹ‘ کا استعمال ہوتا ہے۔ معمول کی نمو سے متعلق چارٹ کے خم (Curve)مسلسل اوپر کی طرف اٹھتاہے لیکن اگر کہیں کوئی خرابی آ جاتی ہے تو اس خم میں خلل آ جاتا ہے۔ایسے میں یہ خم چپٹا ہو جاتا ہے یا پھر اس کا رخ نیچے کی طرف ہو جاتا ہے۔نشو و نما کے خم کا درج ذیل صورتوں میں کیا مطلب ہے:
  • چپٹاکرنا(flattening)
  • اوپرکی سمت(an upward direction)
  • نیچے کی سمت(a downward direction)

سرگرمی3

PIC_2
اوپر دی گئی شکل میں ایک معمول کی نمو کا خم دکھایا گیا ہے۔ اب درج ذیل سوالوں کے جواب دیجیے۔  
کسی بچے کو شدیداسہال ہوا ہے۔اس کا نمو کے خم پر کیا اثر ہوگا؟  
قلت تغذیہ کے شکار بچے کو دوماہ تک اچھی غذا دی جائے تو اس کی نمو کے خم میں کیا تبدیلی آئے گی؟

خم کے چپٹے ہوجانے سے ظاہر ہوتاہے کہ نمو رک گئی ہے۔ اس کے اوپر اٹھنے کا مطلب ہے کہ نمو جاری ہے۔ اوراس کے نیچے کی طرف جانے کا مطلب ہے کہ بچہ صحت مندنمو سے پیچھے ہوتا جا رہا ہے۔ اگر اس بچے کو زائد غذا ملے اور اسے لاحق انفیکشن کا علاج کر دیا جائے تونمو میں اضافے کا رجحان پھرنظر آنے لگے گا۔

11.4 ارتقا کے مراحل(Satages in Development)

اس باب کے پچھلے حصے میں ابھی تک آپ نے تغذیاتی ضرورتوں کی بنیاد پر انسان کی پوری عمر کی زمرہ بندی کرنے کے ایک طریقے کے بارے میں پڑھا ہے۔ بچے کی نشوونما کے پیش نظر،پوری عمر کی زمرہ بندی نشوونما کے مراحل کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اس اصطلاح سے مراد وہ خصوصی صلاحیتیں اور مہارتیں ہیں جو بیشتر بچے ایک مخصوص عمر میں حاصل کر لیتے ہیں۔ پھر اِن ہی صلاحیتوں اور مہارتوں کی بنیاد پر یہ طے کیاجاتا ہے کہ آیا کسی بچے کی نشوونما اس کی عمر کے مطابق ہو رہی ہے یا نہیں؟ان کونشوونما کا اصول بھی کہا جا سکتا ہے۔ نشوونما کے ہردائرے میں بعض مراحل ہوتے ہیں۔یہ بات اس باب میں آگے چل کر واضح ہوگی۔
کسی انسان کی عمر کو پانچ مراحل میں تقسیم کیاجاسکتا ہے: شیر خوارگی (پیدائش سے لے کر دو سال تک)، ابتدائی بچپن یا پری اسکول عمر (2سے 6سال تک)، درمیانی بچپن(7سال سے 11سال تک)، نوبلوغت (11سے18سال تک)اور بلوغت (Adulthood)  
18سال اور اس کے بعد ۔
اسی باب میں آپ مزید پڑھیں گے کہ ان مرحلوں کے دوران مختلف پہلوؤں یادائروں(Domains)میں نشوونما کا عمل کس طرح ہوتا ہے۔ جسمانی نشوونما اور لسانی نشوونما(language development)اِن دائروں کی دو مثالیں ہیں۔مختلف دائروں میں نشوونما کے عمل کو بیان کرنے سے پہلے ہم مختصر طور پرایک ماہ کے بچے کے بارے میں گفتگو کریں گے کیوں کہ یہ بہت خاص مرحلہ ہوتا ہے۔

ایک ماہ کانومولود(Neonate)

  یہ اصطلاح اس نومولودبچے کے لیے استعمال ہوتی ہے جو اپنی عمر کے پہلے مہینے میں ہو۔ ہم نومولود بچوں کو بالکل بیچارہ اور بے بس سمجھتے ہیں۔ یہ تو سچ ہے کہ وہ پوری طرح بڑوں پر منحصر ہوتے ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ان میں اپنے آپ کو اپنے ماحول کے مطابق ڈھالنے کی بڑی صلاحیتیں ہوتی ہیں، اور ہمارے تصور سے کچھ زیادہ ہی باشعور ہوتے ہیں۔  

(i) غیر اختیاری عمل(Reflexes):نومولود بچوں کی بعض حرکات غیر اختیاری ہوتی ہیں جو ان میں حرکی قوتیں (Motor capabilities)پیدا ہونے سے پہلے تک ان کی بقا اور ماحول کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ یہ غیر اختیاری حرکات سادہ اورسیکھے بغیر اپنے آپ ہونے والے رد عمل کی شکلوں میں ہوتی ہیں جو کسی بیرونی محرک (Stimulation) کے جواب میں بروئے کار آتے ہیں۔ ان غیر اختیاری حرکات کے لیے اعلا دماغی سرگرمی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ بغیر سوچے اور خود بہ خودہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر جب کوئی چیز آپ کی آنکھوں کو چھو جاتی ہے تو آپ خود بہ خود آنکھ کی حفاظت کے لیے پلک چھپکاتے ہیں۔ نومولود بچوں میں کچھ اور بھی غیر اختیاری عمل ہوتے ہیں مثلاًپستان چوسنے کا غیر اختیاری عمل(Sucking Reflex) کی مدد سے اس کو غذا ملتی ہے، یا مثلاً اخراجی غیر اختیاری عمل جس سے بچے کو پیشاب اور پاخانہ کرنے میں مدد ملتی ہے۔

(ii) حسّی قوتیں(Sensory capabilities): پیدائش کے وقت دیکھنے کی حس سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہوتی ہے۔ نومولود بچہ روشنی اوراندھیرے کے درمیان امتیاز کر سکتا ہے اورسرگرمی کے ساتھ روشنی کی تلاش میں رہتا ہے۔ وہ   ہلتی ہوئی چیز کے ساتھ نظریں گھما تا ہے اور جب کوئی چیز آٹھ انچ کے فاصلے پر ہو تو اس پر بہت اچھی طرح نظریں مرکوز کر سکتا ہے۔ شیر خوار بچوں میں انسانی چہرے پر نظر یں جمانے کی فطری صلاحیت ہوتی ہے۔

نومولود بچے آواز پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہیں اور کسی بھی دوسری آواز کے مقابلے انسانی آواز پر زیادہ رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ وہ بنیادی ذائقوں—میٹھا، کھٹا، نمکین اور تلخ— کے درمیان فرق کر سکتے ہیں۔ وہ چھونے پر بھی رد عمل کا اظہار کرتے ہیں اور اچھی بری بو میں بھی امتیاز کر سکتے ہیں ۔ وہ بدبو کی طرف سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ نومولود دن بھر میں 16سے18گھنٹے، مرحلے وارسوتے ہیں اور جب و ہ جاگ جاتے اور چوکنا ہوتے ہیں تو اپنے چاروں طرف دیکھتے ہیں اور جب ان کی دیکھ بھال کرنے والے ان سے تفاعل (Interaction) کرتے ہیں توخوش ہوتے ہیں۔

رونا(Crying):نومولودبچے رو کر اپنی ضرورتوں کا اظہار کرتے ہیں۔ بھوک، غصہ، درد اور بے چینی وغیرہ کے اظہار کے لیے ان کے رونے کی نوعیت بھی الگ الگ ہوتی ہے اور ان کی دیکھ بھال کرنے والے عام طور پر ان کے رونے کی وجہ سمجھ لیتے ہیں۔  

11.5مختلف مراحل کے دوران نشوونما (Development across satges)

اب ہم پڑھیں گے کہ انسانی زندگی کے پہلے چار مرحلوں—یعنی شیر خوارگی، ابتدائی بچپن، درمیانی بچپن اور نوبلوغت— کے دوران نشوونما کیسے ہوتی ہے۔

جسمانی اور حرکی نشوونما   (Physical and motor development)

(i) وزن اورقد میں اضافہ :وزن اورقد میں سب سے زیادہ ڈرامائی اضافہ ولادت سے پہلے والے عرصے میں ہوتا ہے۔ اس دوران ایک واحدخلیے والا عضویہ نشو و نما پاکر تقریباً   20انچ لمبا اور تقریباً 2.5سے 3کلوگرام وزن والا جنین بن جاتا ہے۔ تیز ترین   نشو و نما کا دوسرا دور شیر خوارگی کا ہوتا ہے۔ جب بچہ 6ماہ کا ہو جاتا ہے تو اس کا وزن دوگنا ہو جاتا ہے اور جب وہ ایک سال کا ہوتا ہے تو پیدائش کے وزن کے مقابلے اس کا وزن تین گنا ہو جاتا ہے۔ اکثر بچے ایک سال کے ہونے پر 8سے 9کلو گرام کے ہو جاتے ہیں۔  

جدول1:عمر کے مطابق وزن
عمر کی حد لڑکیاں(کلوگرام) لڑکے(کلوگرام)
0-2سال 3.2-11.5 3.3-12.2
 2-5سال 11.7-18.2 12.4-18.3
5-6سال 18.3-20.2 18.5-20.5
6-7سال 20.3-22.4 20.7-22.9
7-8سال 22.6-25.0 23.1-25.4
8-9سال 25.3-28.2 25.6-28.1
9-10سال 31.9-28.5
28.3-31.2
0-2سال 11.5-3.2
12.2-3.3
  2-5سال 18.2-11.7 18.3-12.4
  5-6سال 20.2-18-3 20.5-18.5
6-7سال 22.4-20.3 22.9-20.7
7-8سال 25.0-22.6 25.4-23.1
8-9سال 28.2-25.3 28.1-25.6
9-10سال 31.9-28.5 31.2-28.3
اب،اپنے استاد کی مدد سے 19سال کی عمر تک کا ایک جدول بنائیے۔


جدول 2:عمر کے مطابق قد
عمر کی حد لڑکیاں (سینٹی میٹر) لڑکے(سینٹی میٹر)
2-5سال 85.7-109.4 87.1-110.0
5-8سال 109.6-126.6 110.3-127.3
8-11سال 127.0-145.0 127.7-143-1
11-14سال 145.5-159.8 143.6-163-2
14-17سال 160.9-163.2 163.7-175.2
17-19سال 162.9-163.2 175.3-176.5
   جدول 2:عمر کے مطابق قد
عمر کی حد لڑکیاں (سینٹی میٹر) لڑکے(سینٹی میٹر)
2-5سال 109.4-85.7 110.0-87.1
5-8سال 126.6-109.6 127.3-110.3
8-11سال 145.0-127.0 143.1-127.7
  11-14سال                                    159.8-145.5 163.2-143.6
14-17سال                                      162.9-160.0 175.2-163.7
17-19سال                                     163.2-162.9 176.5-175.3


ذ ریعہ:پیدائش سے5سال کی عمر سے متعلق چائلڈ گروتھ ریفر نس2006اور5سے 19سال کے بچوں سے متعلق ڈبلوایچ او(WHO) گروتھ ریفرنس کے اعداد و شمار۔ یہ امید کی جاتی ہے کہ مطلوبہ صحت اور تغذیاتی شرائط کے تحت یہ وزن اور لمبائی حاصل ہو جائے گی۔چھ ملکوں کے بچوں کو مذکورہ بالا معیاروں پرجانچا گیا تاکہ مذکورہ   بالا معیار کو حاصل کیاجاسکے۔ ان چھ ملکوںمیں ہندوستان بھی تھا۔

(ii)حرکی نشوونما (Motor development):وسیع تر حر کی نشوونما   (Gross Motor Development) (بازوؤں اور ٹانگوں کا استعمال) لطیف حر کی مہارتوں (مثلاً ایک ہاتھ میں گلاس وغیرہ پکڑنا)کی نشوونما سے پہلے ہوتا ہے۔ یہاں ہم پہلے وسیع تر حر کی مہارتوں کی نشوونما کی منازل (Milestones)کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ہر منزل کے حصول کی ایک خاص عمر ہوتی ہے، اس کا کوئی خاص مہینہ طے نہیں ہوتا۔ اس کامطلب یہ ہے کہ نشوونما کی شرح مختلف بچوں میں مختلف ہوتی ہے۔ اسی لیے یہ طے نہیں کیاجا سکتا کہ کوئی خاص منزل کب حاصل ہوگی۔ اگر کوئی بچہ متوقع عمر میں ایک سے زیادہ منزلیں حاصل نہیں کر پاتا تویہ تشویش کا باعث ہوسکتا ہے۔ بچپن کے پہلے دس سالوں میں اہم حرکی منزلیں ذیل کی جدول میں درج ہیں۔

جدول 3: حر کی نشوونما کی منزلیں
نمبر شمار عمر منزل کی نوعیت
1 پیدائش سے3 ماہ تک

  • سر کا اٹھانا اور سر کا ٹھہرانا
2 نومولود
  • نومولود بچے ایک طرف سے دوسری طرف تھوڑاسا سر ہلا سکتے ہیں
3 1ماہ 
  • وہ اپنا سر اٹھا سکتے ہیں
4 2ماہ
  • وہ پیٹ کے بل لیٹ کر اپنا سینہ اٹھا سکتے ہیں
5  3ماہ
  • بچے کا سر ٹھہرنے لگتا ہے۔ یہ اس کی نشوونما کی اہم منزل ہے۔اگر بچہ چھ ماہ میں ایسانہیں کرپاتا تو اس کی نشوونما دھیمی رفتار سے ہورہی ہے۔ 
6 6-4ماہ
  • ·وہ سیدھے سے الٹا(پیٹھ کے بل) اور الٹے سے سیدھا(پیٹ کے بل)ہو سکتا ہے
7 6-8ماہ
  •  کسی بڑے کی ٹیک لگا کر یا کسی پیٹیوں والی سیٹ پر بیٹھ سکتا ہے
  •  کسی ٹیک کے بغیر بھی بیٹھ سکتا ہے
8 8-9ماہ
  • ·گھٹنوں کے بل چل سکتا ہے۔ کچھ بچے گھٹنوں کے بل نہیں چلتے ہیں بلکہ جبوہ بیٹھنے کے قابل ہو جاتے ہیں تو براہ راست چلنا شروع کر دیتے ہیں
9 10-11ماہ
  • ·بیٹھنے کی حالت سے اٹھنے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ تھوڑی دیر کے لیے آزادانہ طورپر کھڑے بھی ہوجاتے ہیں
10 12-18ماہ
  • ·چلنا؛ شروع میں بچے کی چال مستحکم نہیں ہوتی لیکن رفتہ رفتہ مستحکم ہو جاتی ہے
  •  دوڑنا؛ جب بچہ چلنا سیکھ لیتا ہے تو وہ دوڑناشروع کر دیتا ہے اور اکثر گرتا ہے ۔ دوسال کی عمر میں جب توازن پیدا ہو جاتا ہے تووہ زیادہ تال میل کے ساتھ اور بار بارگرے بغیر دوڑ سکتا ہے
11 18-24ماہ
  • ·سیڑھیاں چڑھ سکتا ہے۔ اگر کوئی اس کا ہاتھ تھام لے تو ہر سیڑھی پر ایک قدم رکھکر زینہ یا سیڑھیاں چڑھ سکتا ہے
12 2سال
  • پیچھے کی طرف چل سکتا ہے۔ ڈھال پر اتر سکتا ہے، سیڑھی چڑھ سکتا ہے
  • ·کسی نیچے چبوترے سے دونوں پیروں کی مدد سے کود سکتا ہے
13 3سال
  • ایک پاؤں پر توازن برقرار کر سکتا ہے
  • بڑی گیندپر لات مار سکتا ہے
  • گیند پھینک سکتا ہے اور پکڑ سکتا ہے
14 3-4سال
  •  بڑوں کی طرح کسی چیز کے سہارے ایک کے بعد ایک قدم رکھ کر سیڑھیاںچڑ ھ سکتا ہے
15 5سال
  • کودنا اور تین پہیوں والی سائیکل چلانا
16 6سال
  • اچھے تال میل کے ساتھ اچھلنا، کودنا اور چڑھنا
17 7سال
  •  سائیکل چلانا اور اس کو توازن میں رکھنا
18 8-10سال
  • اب اس میں توازن، تال میل اور طاقت آگئی ہے جس سے وہ مختلف کھیلوںاور جمناسٹک میں شرکت کر سکتا ہے
جدول 3: حر کی نشوونما کی منزلیں

نمبر شمار عمر منزل کی نوعیت

پیدائش سے3 ماہ تک      ·سر کا اٹھانا اور سر کا ٹھہرانا
            نومولود                                    ·نومولود بچے ایک طرف سے دوسری طرف تھوڑاسا سر ہلا سکتے ہیں
1ماہ                                               ·وہ اپنا سر اٹھا سکتے ہیں
2ماہ ·وہ پیٹ کے بل لیٹ کر اپنا سینہ اٹھا سکتے ہیں
5۔                                  3ماہ                ·بچے کا سر ٹھہرنے لگتا ہے۔ یہ اس کی نشوونما کی اہم منزل ہے۔اگر بچہ  
چھ ماہ میں ایسانہیں کرپاتا تو اس کی نشوونما دھیمی رفتار سے ہورہی ہے۔
6-4ماہ ·وہ سیدھے سے الٹا(پیٹھ کے بل) اور الٹے سے سیدھا(پیٹ کے بل)ہو سکتا ہے
8-6ماہ · کسی بڑے کی ٹیک لگا کر یا کسی پیٹیوں والی سیٹ پر بیٹھ سکتا ہے
   · کسی ٹیک کے بغیر بھی بیٹھ سکتا ہے
9-8ماہ ·گھٹنوں کے بل چل سکتا ہے۔ کچھ بچے گھٹنوں کے بل نہیں چلتے ہیں بلکہ جب وہ بیٹھنے کے قابل ہو جاتے ہیں تو براہ راست چلنا شروع کر دیتے ہیں۔
11-10ماہ ·بیٹھنے کی حالت سے اٹھنے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ تھوڑی دیر کے لیے آزادانہ طور پر کھڑے بھی ہوجاتے ہیں
10۔ 18-12ماہ      ·چلنا؛ شروع میں بچے کی چال مستحکم نہیں ہوتی لیکن رفتہ رفتہ مستحکم ہو جاتی ہے
· دوڑنا؛ جب بچہ چلنا سیکھ لیتا ہے تو وہ دوڑناشروع کر دیتا ہے اور اکثر گرتا ہے ۔ دو سال کی عمر میں جب توازن پیدا ہو جاتا ہے تووہ زیادہ تال میل کے ساتھ اور بار بار گرے بغیر دوڑ سکتا ہے
11۔ 24-18ماہ ·سیڑھیاں چڑھ سکتا ہے۔ اگر کوئی اس کا ہاتھ تھام لے تو ہر سیڑھی پر ایک قدم رکھ کر زینہ یا سیڑھیاں چڑھ سکتا ہے  
12۔ 2سال    ·پیچھے کی طرف چل سکتا ہے۔ ڈھال پر اتر سکتا ہے، سیڑھی چڑھ سکتا ہے
·کسی نیچے چبوترے سے دونوں پیروں کی مدد سے کود سکتا ہے
13۔ 3سال ·ایک پاؤں پر توازن برقرار کر سکتا ہے
·بڑی گیندپر لات مار سکتا ہے
·گیند پھینک سکتا ہے اور پکڑ سکتا ہے
14۔         4-3سال · بڑوں کی طرح کسی چیز کے سہارے ایک کے بعد ایک قدم رکھ کر سیڑھیاں چڑ ھ سکتا ہے
15۔ 5سال ·کودنا اور تین پہیوں والی سائیکل چلانا
16۔ 6سال ·اچھے تال میل کے ساتھ اچھلنا، کودنا اور چڑھنا
17۔ 7سال · سائیکل چلانا اور اس کو توازن میں رکھنا
18۔ 10-8سال ·اب اس میں توازن، تال میل اور طاقت آگئی ہے جس سے وہ مختلف کھیلوں اور جمناسٹک میں شرکت کر سکتا ہے

لسانی نشوونما   (Language Development)  

جان داروں کی بہت سی ایسی انواع ہیں جن میں ایک ابلاغی نظام موجود ہوتا ہے۔ کیا آپ ایسے جان داروں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ ابلاغ کرتے ہیں اور اپنے اس طریقے کو سمجھتے بھی ہیں۔ کسی شہد کی مکھی کابھنبھنانا دوسری مکھیوں کو بتادیتا ہے کہ غذا کہاں اور کتنی دور ہے اور دشمن کہاں ہے۔ چڑیاں بھی اپنی خصوصی چہچہاہٹ اور آوازوں سے یہ بتا دیتی ہیں کہ وہ کس پیڑ یا جھاڑی پربیٹھی ہیں۔ ایسے میں انسانوں کی زبان کی خصوصیت کیاہے؟ کیایہ زبان بھی ابلاغ کا ذریعہ نہیں ہے؟ انسانوں کے علاوہ تمام جان داروں کا ابلاغ پیدائشی ہوتا ہے یعنی ان کا ابلاغ کسی تجربے سے متاثر نہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف انسان کے بچے میں زبان سیکھنے کی فطری صلاحیت ہوتی ہے۔ اس کے علا وہ انسان کی آموزش پر ماحول کے اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں اور وہ لاتعداد خود ساختہ(original)جملے بناسکتاہے۔ یہاں خود ساختہ وہ عمل ہے جو تقلیدی یا پیدائشی نہ ہو بلکہ فرد کی ذاتی کوشش ہو۔ انسان واقعات اور اشیا کا بیان کسی دوسرے وقت اور دوسری جگہ بھی کر سکتا ہے۔  

سرگرمی 4

  ایک ایسے 2سالہ بچے اور اس کے والدین کا پتا لگائیے جو آپ کے پڑوس میں رہتے ہوں اور ان کی آپسی گفتگو کو غور سے سنیے۔ اگر ممکن ہو تو ان کی باتوں کو لکھ بھی لیجیے۔ دھیان دیجیے کہ بچے نے کیا کہااور کیا بچے نے اس بات کو دہرایا جو اس کے ماں باپ میں سے کسی نے کہی تھی یا بچے نے خود ساختہ جملے بولے۔ اگر ہو سکے تو ایک ایسے بچے کا بھی پتا لگائیے جو اور چھوٹا ہو اور جس نے ابھی بولنا سیکھا ہو۔ اس کی باتوں کو غور سے سنیے۔ کیا بچے نے اپنے خود ساختہ جملے بولے یا اس نے اپنے والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کی باتوں کودہرایا؟

تمام بچوں میں ،وہ کوئی بھی زبان بولتے ہوں،زبان کی نشوونما یکساں مرحلوں اوریکساں ترتیب میں ہوتی ہے۔عمر کے پہلے سال میں جب بچے الفاظ ادانہیں کر سکتے، جو آوازیں نکالتے ہیں ان کو ’ماقبل لسانی‘ (Pre-linguistic) آوازیں کہتے ہیں۔ ان آوازوں میں رونا، غوں غاں کرنا اوربے معنی آوازیں نکالنا شامل ہے ۔تقریباً دوسال پورے ہوتے ہوتے بچہ ابتدائی الفاظ سیکھ لیتا ہے اور اس کے بعد زبان کی نشوونما تیزی سے ہوتی ہے اور نوبلوغت تک وہ زبان کے استعمال میں ماہر ہوجاتا ہے۔ البتہ الفاظ کا ذخیرہ تمام عمربڑھتا رہتا ہے۔ زبان سے متعلق ایک اہم پہلو یہ ہے کہ بچے میں پہلے ہی دن سے بولنے سے زیادہ سمجھنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ تفہیم(حاصل ہونے والی زبان)کا عمل زبان کے استعمال (اظہاری زبان)سے پہلے ہوتا ہے۔  

لسانی نشوونما کے مراحل

(Stages in Development of language)

(i)   بچے   کے   ابلاغ   کی پہلی شکل رونا ہے۔ یہ رونا فطری یا پیدائشی ہوتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ بچے کو رونا سکھایا نہیں جاتا۔ پہلے ماہ کے دوران یہی وہ پہلی آواز ہوتی ہے جو بچہ نکالتا ہے۔ بچہ روتا ہے تو بڑوں اور بڑے بچوں میں ایک عضویاتی رد عمل
(Physiolgical response)
پیدا ہوتا ہے جس سے وہ بچے کی پریشانی دورکرنے کے لیے اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ بچے کا رونااس کی مختلف ضروریات کا پتا دیتا ہے۔ بچہ اپنی مختلف جسمانی ضرورتوں—بھوک، درد، بیماری—کے اظہار کے لیے مختلف طریقوں سے روتا ہے۔
دوسرے مہینے میں بچے غوں غاں کرنے لگتے ہیں۔یہ بھی فطری ہے۔ بچے حروف علت(Vowels) جیسی آوازیں— اووو—آآ—وغیرہ نکالتے ہیں۔یہ آوازیں بچے اس وقت نکالتے ہیں جب وہ مطمئن اور خوش ہوتے ہیں۔جب بچہ غوں غاں کرتا ہے تو والدین باتیں کرکے، مسکرا کے یا بچوں کی سی آوازیں نکال کر اس کا جواب دیتے ہیں اور پھربچے کے دوبارہ غوں غاںکرنے کے منتظر رہتے ہیں۔ اس طرح ایسا لگتا ہے جیسے بچہ اور والدین باتیں کر رہے ہوں۔تقریباً8ماہ کا ہو جانے پربچے کی غوں غاں کی آوازیں نمایاں طورپرکم ہو جاتی ہیں اور 9ماہ کا ہونے پر بچہ بے معنی آوازیں نکالنا شروع کر دیتا ہے۔  
(ii) بچوں کی بے معنی آوازوں(Babbling) میں حروف صحیح (Consonants) کثرت سے ہوتے ہیں جیسے دا، ما، پا۔بچہ ان آوازوںکو ملاکر ادا کرتا ہے تو ان سے دادا، ماما جیسی آوازیں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ یہ آوازیں انسانی بولی جیسی ہی لگتی ہیں۔ بچہ تمام انسانی زبانوں میں موجودتمام آوازیں اداکر سکتا ہے۔ وہ ایسی آوازیں بھی ادا کر سکتا ہے جو جرمن یا افریقی زبانوں میں استعمال ہوتی ہیں اور جن کو اس نے کبھی سنا بھی نہیں ۔ ایک بہرا بچہ بھی غوں غاںکی آوازیں نکال سکتا ہے۔ حالاں کہ وہ دوسروں کو بولتے ہوئے سن ہی نہیں سکتا ہے۔ یہ دونوں حقیقتیں ثابت کرتی ہیں کہ بے معنی آوازیں نکالنا فطری ہے۔ بہرحال بچہ جن آوازوں کواپنے ماحول میں نہیں سنتا ان کو رفتہ رفتہ چھوڑتا جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زبان کی آموزش میں ماحول کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔  
بچہ تقریباً پہلی سال گرہ کے آس پاس پہلا لفظ بولتا ہے۔ ہمیں یہ کیسے معلوم ہوتا ہے کہ بچے نے جو آواز نکالی ہے وہ لفظ ہے۔ ہم یہ مان لیتے ہیں کہ یہ لفظ ہے کیوں کہ بچہ اس کو ایک ہی معنی کے لیے لگاتا ر استعمال کرتا ہے۔ شروع میں الفاظ مختصر ہوتے ہیں جن میں ایک یا دورکن کلمہ(syllables)ہوتے ہیں جیسے پاپا، امّاں، ٹاٹا، ماما وغیرہ۔ اٹھارھویں ماہ تک بچہ تقریباً دو درجن الفاظ ادا کرنے لگتا ہے۔ لیکن اس زمانے تک بچہ تمام اشارے (commands)اور بہت سے لفظوں کو سمجھنے لگتا ہے۔ دو سال کی عمر تک بچہ تقریباً ڈھائی سو الفاظ جان جاتا ہے اور اس کے بعد ہر سال سیکڑوں الفاظ کا اضافہ ہو تا رہتا ہے۔ دوسرے یوم پیدائش پر بچہ دو لفظی ’جملے‘ بولنے کے لیے الفاظ کو ملانا شروع کر دیتا ہے۔ بچوں کے بولے ہوئے اولین الفاظ لوگوں، جانوروں اور چیزوں کے نام ہوتے ہیں یعنی اسما، کسی کام کو ظاہرکرنے والے الفاظ (بائی ، بائی) اور اظہاری الفاظ(نہ، سلام)۔کبھی کبھی بچہ ایسی چیزوں اور ایسے کاموں کے لیے بھی جن کے لیے اس نے الفاظ نہ سنے ہوں، کسی لفظ کا استعمال کرتا ہے۔  
بچوں کے ایک لفظی یا دو لفظی بولوں کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ ان سے وہ پورا مفہوم ادا ہو جاتا ہے جو مکمل جملوں سے اداہوتا ہے۔ اس طرح جب بچہ ماں کو دیکھتا ہے اور ـ’ممی‘ کہتا ہے تو اس پس منظر میں اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ’’میں ممی کے پاس جانا چاہتا ہوں‘‘ یا ’’میری ممی وہاں ہیں‘‘یا کوئی اور دیگر مفہوم۔ یہ سادہ ایک لفظی یا دو لفظی جملے جن سے پورا مفہوم ادا ہو جاتا ہے ’ٹیلی گرافک زبان‘ (Telegraphic speech)کی مثالیں ہیں۔  
دو سے تین سال کی عمر میں بچے نحوی لحاظ سے درست جملے استعمال کرنے لگتے ہیں اور ان کے جملوں کی ساخت میں وہ الفاظ بھی شامل ہونے لگتے ہیں جو ’ٹیلی گرافک زبان‘ میں نہیں تھے یعنی حروف عطف، ملکیت ظاہر کرنے والے لفظ وغیرہ۔
چار سال کی عمر میں بچے کی زبان خوب مستحکم ہو جاتی ہے۔ اب بچے دیرتک بات چیت کر سکتے ہیں، سوال پوچھ سکتے ہیں اورگھما پھرا کرباتیں کرنے کا انداز بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ چھ سال کی عمر میں ان کا ذخیرۂ الفاظ تقریباً 10,000 ہو جاتا ہے۔ 7 سے 9سال کی عمر میں بچے یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ لفظوں کے کئی معنی ہوتے ہیں۔ وہ ایسے چٹکلوں اور معمّوں سے بھی لطف اندوز ہونے لگتے ہیں جو زبان پر مبنی ہوتے ہیں۔  

سرگرمی5

کسی دو سالہ بچے سے بات کیجیے یا باتیں کرتے ہوئے دیکھیے۔ جو جملے بچہ بول رہا ہے ان کو لکھ لیجیے۔ کیا وہ دو لفظی جملے تھے یا مکمل جملے ۔ اگر وہ دو لفظی جملے تھے تو آپ نے یہ کیسے سمجھا کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے؟

سماجی اور جذباتی نشوونما   (Socio-emotional development)

(i) ابتدائی رشتے اور جذبات

(The early relationships and Emotions)

آپ نے دیکھا ہوگا کہ شیر خوار بچے اور ان کی دیکھ بھال کرنے والے ایک دوسرے سے وابستہ ہوتے ہیں۔ یہ رشتے کس طرح قائم ہوتے ہیں؟  

     سرگرمی6

آپ کے خیال میں یہ کون سے طرزعمل ہو سکتے ہیں؟ اپنے جوابات لکھیے اور ہماری آگے کی بحث سے ان کا موازنہ کیجیے۔

  
یہ بات حیرت انگیز ہے کہ بچہ پہلے ہی دن سے ایساطرزِ عمل اختیار کرتا ہے جس پر دیکھ بھال کرنے والے لوگ متوقع سماجی اور جذباتی رد عمل ظاہرکرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بڑوں کا طرزِ عمل بھی ایساہوتا ہے جس سے بچہ ان کی طرف مائل ہوتا ہے۔ اس طرح بچوں اور ان کی دیکھ بھال کرنے والوں کے طرزِ عمل کچھ ایسے ہوتے ہیں جن سے باہمی تفاعل میں مدد ملتی ہے اور باہمی تعلق کو فروغ ملتا ہے۔

(a)وابستگی کی تشکیل

1۔بچوں کی خبر گیری کرنے والے بچوں سے بہت قریبی جسمانی قربت رکھتے ہیں۔ ہم بچوں کے کھانے پینے اور دیگر ضروریات کے لیے ہی نہیں بلکہ محض دل خوش کرنے کے لیے بھی انھیں گود میں لیتے ہیں۔ بچوں کو جسمانی تعلق یا رابطے کی فطری ضرورت ہوتی ہے اور جب خبر گیری کرنے والے بچوں کو گود میں لیتے ہیں تو بچوں کی یہ ضرورت پوری کرتے ہیں۔
2۔بڑے بڑے بچے جب شیر خوار بچوں سے بات کرتے ہیں تو ایک خاص قسم کی زبان کا استعمال کرتے ہیں۔ اسے مادرانہ زبان (Motherese) کہا جاتا ہے۔اس میں بہت چھوٹے چھوٹے جملے، سادہ الفاظ، آواز کا خاص قسم کا اتار چڑھاؤ اور بے معنی آوازیں شامل ہوتی ہیں۔ ایسی باتوں سے بچے خوش ہوتے ہیں اور اپنی غوں غاں کے ذریعے جواب بھی دیتے ہیں۔
3۔ہم بچوں کو دیکھ کر مسکراتے ہیں اور ہمیں مسکراتا دیکھ کر بچے بھی مسکراتے ہیں اورغوں غاں بھی کرتے ہیں۔
4۔بچوں کی خبر گیری کرنے والے یا والدین بچوں کو غور سے دیکھتے ہیں اور اس طرح ان کے اور بچوں کے درمیان ایک قسم کا رابطہ پیدا ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کو اس طرح غور سے دیکھنا، دونوں کے درمیان تعلق کو مستحکم کرنے کے لیے بہت اہم اور سماجی و جذباتی تفاعل کی پہلی شکل ہوتی ہے۔
5۔جب دیکھ بھال کرنے والے لوگ چھوٹے بچوں سے بات کرتے ہیں تو اپنے چہرے کے تاثرات کو بڑھا چڑھا دیتے ہیں۔ اس طرح بچے مختلف جذباتی تاثرات میں امتیاز کرنا سیکھ لیتے ہیں۔  
6۔بچوں سے کھیلتے وقت ان کی دیکھ بھال کرنے والوں کی حرکات میں اور گفتگو میں ایک طرح کی لے پیدا ہو جاتی ہے۔ ہم اپناسَر ایک طرف سے دوسری طرف ہلاتے ہیں اور پھر اس کو آگے کر لیتے ہیں۔ ہم جو آوازیں نکالتے ہیں یا حرکتیں کرتے ہیں— مثلاً ادھراُدھر جھولتے یا ڈولتے ہیں۔ان سے بچے خوش ہوتے ہیں۔
7۔جب بچہ ذرا بڑا ہو جاتا ہے تو بڑے ان کے ساتھ آسان کھیل کھیلتے ہیں۔ آنکھ مچولی تمام معاشروں میں سب سے عام کھیل ہے۔
8۔جب بڑے، بچوں سے کھیلتے ہیں تو بچے بھی ان سے تعلق قائم کرنے کے لیے نئی نئی حرکتیں کرتے ہیں ۔ جب بچہ بے چینی سے روتاہے تو ماں بھاگی بھاگی آتی ہے ۔ جب بچے غوں غاں کرتے ہیں ،مسکراتے ہیں اور خود اپنی ہی حرکتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں تو دیکھ بھال رکھنے والوں میں بچوں کے تحفظ کا احساس بڑھ جاتا ہے۔  
والدین یا دیگر خبر گیری کرنے والے بار بار بچوں کو کھلاتے پلاتے ہیں، نہلاتے ہیں، ان کے کپڑے بدلتے ہیں اور ان کو خوش رکھنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔یہ سارے کام دن میں کئی بار کیے جاتے ہیں۔ اس سے ان کے درمیان وابستگی بڑھ جاتی ہے۔ چوں کہ اکثر حالات میں مائیں ہی بنیادی طور پر بچے کی دیکھ بھال کرتی ہیں اس لیے بچہ ان سے زیادہ وابستہ ہوتا ہے۔ ماں سے رشتہ پہلا سماجی رشتہ ہے۔  
اگر ماں کے ساتھ تعلق میں گرم جوشی اور خوش گواری نہیں ہوگی تو بچے میں جھنجھلاہٹ پیدا ہو سکتی ہے، اور وہ بے چین اور چڑچڑاہوسکتا ہے۔ ایسی صورت میں، اگر اس کی جسمانی ضروریات پوری بھی ہو جائیں تو بڑوں کے ساتھ اس کا تعلق ادھورا رہے گا یعنی بچہ مناسب وابستگی یا تعلق پیدا نہیں کر سکے گا۔ بہر حال اگر بعد میں اسے بہتر اور خوش گوار ماحول میّسر آجائے اور محبت کرنے والے اور اچھی طرح پالنے پوسنے والے مل جائیں تو اس صورت حال میں تبدیلی آجاتی ہے۔
محفوظ وابستگی یا تعلق کی تشکیل زندگی کے پہلے سال میں نشوونما کا اہم ترین عمل ہے۔ کسی بالغ فرد کے ساتھ محفوظ رشتے قائم ہونا ہی بچے میں لوگوں پر اعتماد کا احساس پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے۔تحفظ کا احساس رکھنے والا بچہ کم روتا ہے، اپنے دیکھ بھال کرنے والوں کے ساتھ تعاون کرتا ہے، خوف کی وجہ سے ہر وقت اپنی دیکھ بھال کرنے والے سے چپٹا نہیں رہتا اور اپنے آس پاس کی چیزوں کوجاننے کی کوشش کرتا ہے۔ پری اسکول کے دنوں میں ایسا بچہ جذباتی طور پر پُرجوش، سماجی طور پر پختہ، ساتھیوں میں مقبول، پُرتجسس اور خود پر اعتماد کرنے والا ہوتا ہے۔  
اب تک ہم نے بچے کی اپنی ماں کے ساتھ وابستگی اور تعلق رکھنے کی بات کی ہے۔ والد کے ساتھ اس کی وابستگی کیسی ہوتی ہے؟ ہمارے سماج میں کام کی ایک روایتی تقسیم رہی ہے۔ یعنی ہوتا یہ ہے کہ باپ روزی روٹی کمانے والا ہوتا ہے اور دن کے اکثر حصے میں گھر سے باہر رہتا ہے، جب کہ ماں اپنابیشتر وقت بچے کے ساتھ گزارتی ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ بچے اپنے والد سے وابستہ نہیں ہوتے؟پھر ان خاندانوں میں کیا ہوتا ہے جہاں ماں کام کرتی ہے اور گھنٹوں تک گھر سے باہر رہتی ہے؟ تحقیقی مطالعات سے پتا چلاہے کہ بچے کے ساتھ تعلق قائم رکھنے میں بچے کے ساتھ گزارے جانے والے وقت کی مدت اہم نہیں ہے بلکہ اہم یہ ہے کہ بالغ لوگ بچے کے ساتھ گزارے جانے والے وقت کے دوران کیا کرتے ہیں۔
آپ نے دیکھا ہوگا کہ جو باپ اورملازمت پیشہ مائیں اپنے بچوں کے ساتھ نسبتاً کم وقت گزارتی ہیں جب وہ گھر پر موجود ہوں تو بچے ان کی توجہ چاہتے ہیں۔ اسی لیے، ماں؍باپ کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کی کیفیت بڑی حد تک بچے اور ماں؍باپ کے درمیان وابستگی اور تعلق کی نوعیت کا تعین کرتی ہے۔  
اولین ایک یا دولوگوں کے ساتھ مضبوط تعلق قائم ہونے کے بعد، بچے خاندان کے دوسرے لوگوں ،خاص طور پر ان لوگوں کے ساتھ اپنی وابستگی پیدا کرتے ہیں جو ان کے ساتھ ربط میں آتے ہیں۔ اگر بچہ کسی ڈے کئیر سینٹر(Day care Centure)میں جاتا ہے جہاں اس کی اچھی دیکھ بھال ہوتی ہے ، جہاں وہ کھیلتا ہے اور آرام کرتا ہے تو وہاں دیکھ بھال کرنے والوں کے ساتھ اس کے رشتے مثبت ہوتے ہیں۔  
(b) بچو ں کے جذبات:چھوٹے بچوں کے جذبات کے بارے میں محققین کے درمیان خاص بحث جاری رہی ہے کیوں کہ ہم بچے کے چہرے کے تاثرات اور اس کے جذبات کے درمیان کو ٹھیک ٹھیک نہیں جان سکتے۔ پھر بھی بچوں میں خوشی، بے چینی، غصے اور شدید برہمی جیسے جذبے ہوتے ہیں۔دھیرے دھیرے بچوںمیں خوشی، دل چسپی، تجسس، غم، افسردگی اور خوف جیسے طرح طرح کے جذبے ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ تقریباً چھ ماہ کی عمر میں بچہ اجنبیوں سے خوف کا اظہار کرنے لگتا ہے اورجب کوئی اجنبی پاس آتا ہے تو بچہ پریشان ہو جاتا ہے اور رونے لگتا ہے۔ ایسا اس وجہ سے ہوتا ہے کہ جب بچہ نامانوس چہروں سے خوف زدہ ہوتا ہے تو وہ ان کو پہچاننے کی صلاحیت پیدا کر لیتا ہے۔ اس صورت کو’ اجنبیوں کا خوف‘
  (Stranger Anxiety)
کہتے ہیں۔ یہ صورت 8سے 12ماہ کی عمر کے دوران اپنے عروج پر ہوتی ہے اور عمر کے 15سے 18ماہ کے درمیان غائب ہو جاتی ہے۔   ’’اجنبیوں کا خوف‘ ‘ ظاہر ہونے کے کچھ ہی دن بعد بچے میں ’جدائی کاخوف‘(Separation Anxiety) یعنی یہ خوف پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی دیکھ بھال کرنے والوں سے جدا نہ ہو جائے۔ جب ماں نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے توبچہ پریشان ہو جاتا ہے۔ یہ پریشانی 12سے 18ماہ کی عمر میں اپنے عروج پر ہوتی ہے اور عمر کے 20سے 24ماہ میں ختم ہو جاتی ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ بچے تمام حالات میں یکساں طور پر چوکنا اور چوکس نہیں ہوتے۔ یہ بات ان کے سابقہ تجربات، افتاد طبع اور آس پاس کے لوگوں کے مزاج پر منحصر ہوتی ہے۔

(ii)بچوں کی پرورش سے متعلق والدین کاطرز عمل(Parents'child rearing practices)

والدین بچوں کو پال پوس کر بڑا کرتے ہیں تو اس عمل کوبچوں کی پرورش کہا جاتا ہے۔ والدین بچوں کی پرورش کس طرح کرتے ہیں اس کا بچوں کی شخصیت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ ہم وہی طرز عمل اپناتے ہیں جنھیں ہماری برادری اور سماج مناسب سمجھتا ہے۔ ہم یہ باتیں اپنے والدین اور آس پاس کے دیگر لوگوں سے براہ راست یا پھر دوسروں کے عمل اور طور طریقوں سے بالواسطہ طور پر سیکھتے ہیں۔ وہ عمل جس کے ذریعے بچے مختلف طرزِ عمل، مہارتیں، اقدار، عقیدے اور معیار اخذ کرتے ہیں اسے سماجی ربط سازی (Socialisation)کہتے ہیں۔ سماجی ربط سازی کے مقاصد— یعنی یہ کہ ہم بچوں کو کیا سکھانا چاہتے ہیں، مختلف معاشروں اور مختلف خاندانوں میں الگ الگ ہوتے ہیں۔  

بچوں کے ساتھ ماں باپ کو کتنی محبت اور کتنا لگاؤ ہے اور و ہ ان کے ساتھ کتنی گرم جوشی سے پیش آتے ہیں، اس معاملے میں سب والدین ایک جیسے نہیں ہوتے۔ ’گرم جوشی‘ اور ’سرد مہری‘ ایک ہی عمل کے دو سرے (Ends)ہیں اور والدین اس عمل کے مختلف نقطوں پررہتے ہیں۔ بچوں کے طرز عمل کے تعلق سے بعض والدین پابندی پسند(Restrictive) ہوتے ہیں اور کچھ روادار(Permissive)۔ پابندی پسند والدین پابندیاں عائد کرتے ہیں اور اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھتے ہیں۔ روادار قسم کے والدین زیادہ پابندیاں عائد نہیں کرتے ہیں اور اپنے بچوں کو خود فیصلہ کرنے کی چھوٹ دیتے ہیں۔ اس طرح بچوں کی پرورش کے سلسلے میں والدین کا پابندی پسند اور روادار ہونا بھی ایک اہم پہلو ہے۔  
بچوں کی پرورش کے طریقوں کی زمرہ بندی نظم و ضبط (Discipline)کی ان تدابیر کی بنیاد پر بھی کی جاتی ہے جنھیں والدین استعمال کرتے ہیں۔ بچوں میں نظم و ضبط پیدا کرنے کے لیے بعض والدین اپنے بچوں کو ان کے کاموں کے نتائج کے بارے میں سمجھاتے ہیں اور اس طرح ان کو نا مناسب کاموں سے باز رکھتے ہیں۔ ایسے والدین نظم و ضبط کے بارے میں بہت سخت ہوتے ہیں لیکن بچوں کے ساتھ محبت اور نرمی سے بھی پیش آتے ہیں۔ اس کو ’’محبت رخی طریقِ نظم و ضبط‘‘ (Affection oriented Discipline Approach)کہا جاتا ہے۔ ا س کے برخلاف،بعض والدین اپنے بچوں کے کسی خاص طرزعمل کو روکنے کے لیے حکم دینے کا طریقہ اپناتے ہیں اور اس سلسلے میں نہ انھیں سمجھاتے ہیں نہ کوئی وجہ بتاتے ہیں۔وہ ان کو دھمکاتے ہیں اور جسمانی سزا دینے کا طریقہ بھی اختیار کرتے ہیں۔ اس کو تحکم رخی طریق نظم وضبط (Power-Oriented Disciplining Approach) کہتے ہیں۔  
اس سلسلے میں ایک عمومی بات یہ ہے کہ والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والوں کو اپنے آپ کو ان اچھی باتوں کا نمونہ بنا کر پیش کرنا چاہیے جن کی وہ بچوں سے توقع کرتے ہیں۔ جب والدین بچے میں نظم وضبط پیدا کرنے کے لیے سزا کا استعمال نہیں کریں گے، خاص طور پر جسمانی سزا نہیں دیں گے اور اس کے بجائے اچھی باتیں بتانے اور سمجھانے کی کوشش کریں گے تو ان کوششوں سے بچوں کی ہمہ جہت شخصیت کی تشکیل میں مدد ملے گی ۔

سرگرمی7

آپ کو اپنے خاندا ن میں بعض والدین کو دیکھنے کا موقع ملا ہوگا اور آپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ وہ بچوں کے ساتھ کیا برتاؤ کرتے ہیں۔ آپ نے جوکچھ اس باب میں پڑھا ہے اور والدین کا بچوں کے ساتھ جو سلوک دیکھا ہے کیا ان دونوں میں کوئی ربط ہے؟ اپنی رائے لکھیے۔ اپنی کلاس میں 5-4طلبا کے گروپ بنا لیجیے اور اپنے مشاہدات پر ایک دوسرے کے ساتھ گفتگو کیجیے۔

(iii)بھائی بہنوں اور دوستوں کے ساتھ رشتے:

ہمارے ملک کے اکثر گھروں میں ایک سے زیادہ بچے ہوتے ہیں اور اکثر صورتوں میں بڑا بچہ یا بڑی بچی چھوٹوں کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ بھائی بہن ایک دوسرے کی نشوونما پر بڑی حدتک اثر انداز ہوتے ہیں۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ بچے کے اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ رشتے، ماں باپ کے ساتھ ان کے رشتوں سے کس طرح مختلف ہوتے ہیں؟ بھائی بہن عمر میں ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں اور اس لیے ان کے درمیان رشتے والدین سے رشتوں کے مقابلے میں زیادہ برابری کے، دوستانہ اور جمہوری ہوتے ہیں۔ ساتھ ساتھ کھیلنے اور ایک دوسرے پراعتماد اور شرکت کرنے کے دوران بھائی بہنوں کے درمیان مثبت تعلقات انھیں جذباتی سہارا دیتے ہیں جس سے   بچوں کی نشوونمامیں مدد ملتی ہے۔بڑے بھائی یا بڑی بہن کا طرز عمل چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے معیار بن جاتا ہے اور وہ اس کی تقلید کرتے ہیں۔ پھر بھی، بہن بھائیوں کے رشتوں میں بھی ٹکراؤ، مقابلہ آرائی، رقابت،حسد اور ایک دوسرے پر حاوی ہونے کے جذبے موجود ہوتے ہیں اور ان کے درمیان بہتر تعلق پیدا کرنے میں والدین کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔  

جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا ہے ،اس کے دوست(Peers)بہت اہم ہوتے جاتے ہیں۔ ہم نے اکائی IIمیں باب ’’اسکول کے دوست اور اساتذہ‘‘ میں دوستوں کے ساتھ معاملات کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ یار دوستوں میں کچھ قریبی دوست ہوتے ہیں کچھ اتنے قریبی نہیں ہوتے۔ بچہ جن ہم عمر ساتھیوں کے ساتھ کھیلتا ہے، لڑتا جھگڑتاہے،اور راز کی باتیں کرتا ہے ان سے دوستی اس کی سماجی اور جذباتی نشوونما میں معاون ہوتی ہے۔  

سرگرمی8

اگر آپ کا کوئی بھائی؍ بہن ہے تو اس کی دو خوبیاں تحریر کیجیے۔
1۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کو آپ کی کون سی باتیں پسند ہیں؟کوئی دوباتیں بیان کیجیے۔
1۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وقوفی نشوونما      (Cognitive Development)   

وقوفی نشوونماکا مطلب ہے بچوں کے سوچنے کے عمل کی نشوونما۔’وقوف‘ یعنی سوچنے کا تعلق اس بات سے ہے کہ ہم اپنے اطراف کی دنیا کو کس طرح جانتے ہیں، معلومات کس طرح حاصل کرتے ہیں اور کس طرح انھیں پیش کرتے ہیں اور کس طرح ہم اپنے اطراف کی دنیا کو بیان کرتے ہیں۔ آئیے پہلے ہم اس بات پر غور کرتے ہیں کہ ’’سوچنے ‘‘ میں کون کون سے ذہنی عمل (Mental Processes)شامل ہیں۔
ہم ذائقوں، رنگوں، شکلوں، جاندار اور غیر جاندار چیزوں اور خوردنی اور غیرخوردنی اشیا کے درمیان (جن کی فہرست میں آپ اضافہ کر سکتے ہیں) فرق یا امتیاز کر لیتے ہیں۔
2۔ہم اپنے جذبات کو بعض تجربات سے ،بعض لوگوں کو کسی خاص قسم کے طرزعمل سے، کسی خاص موسم کو کسی خاص مہینے سے اوربعض خاص چیزوں کو بعض خاص لوگوں سے وابستہ کرتے ہیں۔  
3۔ہمارے اکثر کام کسی ارادے اور کسی مقصد کے تحت ہوتے ہیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہم جوکچھ کرتے ہیں اس کا اثر بھی ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم علت و معلول(Cause-effect)کے درمیان رشتوں کو سمجھتے ہیں۔
4۔جس راستے سے آپ اسکول جا رہے ہیں اگر اس میں کوئی رکاوٹ ہے تو آپ اسکول پہنچنے کے لیے دوسرا راستہ اختیار کر لیتے ہیں یا پھر کسی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کوئی متبادل طریق ِکار استعمال کرتے ہیں ۔ اس طرح آپ مسائل حل کرنے کی صلاحیت کا اظہار کرتے ہیں۔
ہم یاد رکھتے ہیں ، نقل کرتے ہیں، معاملات کے اسباب کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، چیزوں ، تجربات اور احساسات   کے درمیان رشتوں کو سمجھتے ہیں، مفروضہ حالتوں کے بار ے میں سوچنے اور ان کا سبب جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے علاوہ تجریدی فکر کی صلاحیت ہوتی ہے۔ (یعنی ہم ان خیالات اور تصورات پر بھی غور کرتے ہیں جن کا کوئی مادّی وجود نہیں ہے جیسے جذبات و خیالات)۔
یہ تمام ذہنی اعمال ہماری سوچ کا حصہ ہیں اور وقوفی نشوونما کا مطالعہ انھیں ذہنی اعمال کی نشوونماکا مطالعہ ہے جو بچے کی پیدائش سے ہی شروع ہو جاتے ہیں۔  
ژاں پیازے(Jean Piaget)نے بچے کی پیدائش سے لے کرسن بلوغ تک وقوف کی نشوونما کے مراحل کا تفصیلی مطالعہ کیا ہے۔ اس کے مطابق بچوں میں وقوفی اعمال کی نشوونما منظم ترتیب سے یا مرحلے وار ہوتی ہے۔ بعض بچے کسی خاص عمر میں دوسرے بچوں سے آگے یا زیادہ ترقی یافتہ ہوتے ہیں لیکن نشوونما کی ترتیب عام طور پر نہیں بدلتی۔ پیازے کے مطابق وقوفی نشوونما چار مرحلوں سے گزرتی ہے۔یہ چارمرحلے ہیں۔ حسّی حرکی مرحلہ(Sensori-Motor)، ماقبل عمل مرحلہ(Pre-operational) ، ٹھوس عمل کا مرحلہ(Concrete operational)اور رسمی عمل کا مرحلہ(Formal operational)۔ اس حصّے میں ہم بچے کے سوچنے کے عمل سے متعلق مختلف پہلوؤں اور اس میں ہونے والی ان تبدیلیوں کا مطالعہ کریں گے جو ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے تک رونما ہوتی ہیں۔
(a)حسّی حرکی   نشوونماکا یہ مرحلہ پیدائش سے لے کر دو سال کی عمر تک چلتا ہے۔ اس عرصے میں بچے اپنے حواس اور اپنی حرکی صلاحیتوں (سرگرمیوں) کے ذریعے دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں—اسی لیے اس کو حسی حرکی نشوونما کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ اس طرح بچے دنیا کو اس بنیاد پر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی حرکات و سکنات کا چیزوں اور لوگوں پر کیا اثر پڑتا ہے اور وہ انھیں کیسی لگتی ہیں؟ ایک لڑکی کسی کھلونے کو اس طرح پہچانتی ہے کہ وہ (کھلونا)اس کی آنکھوں کو کیسا لگتا ہے، یا اسے چھونے پر کیسا محسوس ہوتا ہے(حسّی معلومات)یا یہ کہ وہ اس کو پھینک سکتی ہے، اس پر ٹھوکر مار سکتی ہے، اس کودھکیل سکتی ہے اور اس کو زمین پرپٹخ سکتی ہے( حرکی عمل)۔ وہ ابھی ان باتوں کو نہیں سمجھتی کہ اس کے خواص کیا ہیں—وہ سخت ہے، نرم ہے، لکڑی کا بنا ہے یا دھات کا، چھوٹا ہے یا بڑا، ہلکا ہے یا بھاری وغیرہ—یہ سب تصورات ہیں اور بچہ ابھی ان کو نہیں سمجھتا۔
بچے میں بہت سی غیر اختیاری حرکات(Reflexes)ہوتی ہیں،جیسے ماں کا دودھ پینے کاعمل۔ دو ماہ کی عمر کے بچے اپنے اطراف کی چیزوں میں دل چسپی لینے لگتے ہیں۔ تین ماہ میں وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ دوسروں کے عمل کس بات کا اشارہ ہیں۔ مثلاً   بچہ ماں کی کچھ حرکات و سکنات کی بنا پر جو وہ دودھ پلانے کے وقت کرتی ہے، یہ سمجھ لیتا ہے کہ ماں اب دودھ پلائے گی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ بچوں میں حافظے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ 4سے 8ماہ کی عمر میں بچہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کے عمل کا اثر بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جب وہ ہوا میں ٹانگیں چلاتا ہے تو گیند ہلتی ہے اور جب وہ کسی چیز کو گراتا ہے تو آواز پیدا ہوتی ہے۔ یہ علت و معلول کے رشتے کو سمجھنے کی شروعات ہوتی ہے۔ 8سے 12ماہ کے دوران بچوں کی سرگرمیوں میں ارادہ شامل ہونے لگتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ کس کام کا کیا اثر ہوگا اور کون سا کام کس صورت میں مناسب ہوگا۔
12سے 18ماہ کی عمر میں بچہ ہر کام کے لیے طرح طرح کی کوششیں کرنے لگتا ہے۔ وہ مختلف نتائج حاصل کرنے کے لیے اپنے کاموں کومختلف انداز سے انجام دیتا ہے۔مثال کے طور پرکوئی بچہ یہ دیکھنے کے لیے کھلونے کو بار بار پھینکتا رہتا ہے کہ کھلونا کتنی دور جاتا ہے یا مختلف اونچائی سے پھینکنے سے زمین پر اس کے گرنے کی آواز میں کیا فرق پڑتا ہے۔ 18سے 24ماہ کے درمیان ایک اہم تبدیلی رونما ہوتی ہے—بچہ واقعات،چیزوں اور لوگوں کی ذہنی طور پر تصویر کشی کرنے لگتا ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے ذہن میں کسی خیال کی شکل یا تصویر بنا سکتا ہے۔ اس کو ذہنی نمائندگی(Mental Representation)کہا جاتا ہے۔

سرگرمی9

  کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ یہ طرز عمل کیا ہیں؟ اپنا جواب لکھیے اور ہماری مندرجہ ذیل گفتگو سے اس کا موازنہ کیجیے

درج بالابحث کی بنیاد پر کیا آپ یہ نہیں کہیں گے کہ بچے میں ذہانت اور سوچنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔

(b)ماقبل عمل مرحلہ 2سے 7سال: اس مرحلے اور اس سے پہلے کے مرحلے میں اہم فرق یہ ہے کہ اس مرحلے کے دوران بچہ تصورات(Concepts)قائم کرنا شروع کر دیتا ہے۔اس میں شکل، جگہ، سائز، وقت، فاصلہ، رفتار، تعداد، رنگ، علاقہ، حجم، وزن، جاندار ، غیر جاندار، لمبائی، درجۂ حرارت اور در حقیقت ہر اس چیز کا ابتدائی تصور (Preliminary Concept) پیدا ہوجاتاہے جسے وہ اپنے آس پاس کے ماحول میں دیکھتا ہے۔ کوئی تین سال کی عمر میں بچہ پہلے پہل دوچیزوں کے درمیان چھوٹی ؍بڑی کا تصور قائم کرتا ہے۔ تقریباً چار سال کی عمرمیں اگر اس کو تین چیزیں دی جائیں تو وہ سب سے بڑی اور سب سے چھوٹی کو سمجھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ البتہ 6سال کی عمر میں بھی اگر آپ اس کو پانچ تیلیاں دے دیں اور اس سے کہیں کہ وہ لمبائی کے لحاظ سے ان کو بڑھتی ہوئی ترتیب میں لگا دے تو وہ الجھن میں پڑجائے گا۔ ایسا اس لیے ہوگا کہ وہ بہت سی چیزوں پر بیک وقت غور نہیں کر سکتا اور ان کے سائز کا فرق نہیں سمجھ سکتا۔یہ صلاحیت بچپن کے درمیانی برسوں میں پیدا ہوتی ہے۔

اسی طرح اعداد کے تصور کا معاملہ ہے۔ بچہ ایک دم سے ایک دو تین اوراس کے آگے تک کے اعداد کا تصورنہیں کر سکتا۔ تین سال کا بچہ 10تک کی گنتی کو دہرا سکتا ہے لیکن اگر آپ اس سے یہ کہیں کہ پتھر وں کے ڈھیر میں سے چھ پتھر اٹھا لے تو وہ غلطی کر سکتا ہے۔ اعداد کا تصور قائم کرنے سے پہلے بچہ کم اور زیادہ، ایک اور بہت، کوئی نہیں اور بہت؍ایک سے زیادہ، ایک سے کم، اور برابر کے تصورات قائم کرتا ہے اور پھر بہ تدریج تین، چار ، پانچ اور زیادہ چیزوں کو گن پاتا ہے۔
اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ ماقبل عمل(Pre-operational) کی اصطلاح کا کیا مطلب ہے ،تو ہم پری اسکول عمر والے بچوں کے سوچنے کی صلاحیت کواچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ وقوفی نشوونما میں لفظ عمل (Operation)کے خصوصی معنی ہیں۔اس سے مراد’’ وہ ذہنی عمل ہے جن میں چیزیں بدل جاتی ہیں یا ان کی شکل بدل جا تی ہے اور وہ دوبارہ اپنی اصلی حالت پر لوٹ آتی ہیں‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ’کوئی عمل‘ قابلِ رجعت(Reversible) ہے۔ مثال کے طور پر جب آپ مٹی کے کسی گولے کو چپٹا کر دیتے ہیں تو ذہنی طور پر آپ اس کو دوبارہ مٹی کے گولے کی شکل میں بھی لا سکتے ہیں کیوںکہ آپ جانتے ہیں کہ گول اور چپٹی دونو ں ہی شکلوں میں مٹی کی مقدار ایک ہی ہے۔ ظاہر ہے کہ آپ یہی کہیں گے۔ لیکن جب آپ صرف پانچ سال کے ہیں تو اس وقت یہ بات آپ کے لیے اتنی سیدھی سادی اور واضح نہیں ہوگی۔ پری اسکول عمر والے بچے کی سوچ ماقبل عمل (Pre-operational)کہلاتی ہے کیوں کہ اس وقت بچہ ذہنی طور پر کسی عمل کو الٹ(Reverse)نہیں سکتا اور وہ اس صورت حال میں موجود منطق کو سمجھنے کے بجائے جو کچھ دیکھتا ہے اسی کو تسلیم کرلیتا ہے۔ آئیے ہم پری اسکول عمر والے بچوں کی سوچنے کی صلاحیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

(i) تحفظ(Conservation):اس اصطلاح کا مطلب یہ سمجھ لینے کا اہل ہو جانا ہے کہ بعض چیزوں کی مقدار ان کی شکل بدل جانے پر یا ان کے ایک برتن سے دوسرے برتن میں منتقل ہو جانے پر بھی وہی رہتی ہے۔ مثال کے طورپر مساوی قطر اور لمبائی کے دو گلاس لیجیے اور ان میں کسی یکساں سطح تک پانی بھریے۔ پھر کسی پری اسکول عمر والے بچے کے سامنے ان میں سے ایک گلاس کے پانی کو کسی تیسرے تنگ گلاس میں ڈالیے۔ اب ظاہر ہے کہ تنگ گلاس میں پانی کی سطح اونچی ہو جائے گی۔ ایک پری اسکول بچہ یہ کہے گا کہ تنگ گلاس میں پانی زیادہ ہے کیوں کہ پانی کی سطح اونچی ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ بچہ تحفظ کے تصورکو نہیں سمجھتا۔ یہ بھی سچ ہے کہ جن حالتوں سے بچہ مانوس ہے وہاں وہ تحفظ کو سمجھتا ہے اور جن صورتوں سے وہ واقف نہیں ہے ان میں تحفظ کو نہیں سمجھتا۔ مثال کے طور پر 4-3سال کا کوئی بچہ روزی روٹی کمانے کے لیے لیمن سوڈا تیار کرنے میں روزانہ اپنے باپ کی مدد کرتا ہے تو وہ اس بات پر کسی الجھن کا شکار نہیں ہوگا کہ جب سوڈا بوتل سے گلاس میں انڈیلا جاتا ہے تو اس کی مقدار بڑھ جاتی ہے کیوں کہ یہ اس کا ہر روز کا تجربہ ہے۔ جب بچہ 7-6سال کا ہو جاتا ہے تو وہ تحفظ کے تصور کو سمجھنے لگتا ہے۔ ہم اس کا مطالعہ اگلے مرحلے میں کریں گے۔

(ii) ترتیب کاری (Seriation): اس اصطلاح کا مطلب ہے چیزوں کو کسی ترتیبی نظام میں رکھنا۔ مثلاً مختلف سائز کی پانچ پینسلوں کو بڑی سے چھوٹی یا چھوٹی سے بڑی ترتیب میں لگانا اس کی ایک عام سی مثال ہے۔ ممکن ہے کوئی پری اسکول عمر کا بچہ تین پینسلوں کو صحیح ترتیب سے لگا دے لیکن چوتھی پینسل کی ترتیب میں شبہے میں پڑ جائے اور پانچویں پینسل لگاہی نہ پائے۔

(iii)  دوسرے شخص کے تناظر کو سمجھنا

(Taking another Person's Perspective)

اس مرحلے میں بچہ صورتِ حال کے کسی ایک پہلو پر توجہ مرکوز کر لیتا ہے اور چیزوں کو دوسروں کے تناظر سے نہیں سمجھ پاتا۔ مثلاً اگر آپ کسی گیند کو کسی ایسی جگہ چھپا دیں جہاں وہ بچے کو نظر نہ آئے لیکن کمرے کی مخالف سمت میں موجود شخص کو نظر آ جائے تو بچہ   یہ نہیں سمجھ سکتاکہ دوسرا شخص گیند دیکھ سکتا ہے۔ کوئی پری اسکول عمر کا بچہ یہ مان لیتا ہے کہ دوسرے لوگ کسی صورتِ حال کو اسی طرح دیکھتے ہیں جس طرح وہ خود دیکھتا ہے۔ بچے کی اس سوچ کو ’’خود مرکوزیت‘‘ (Egocentrism) کہتے ہیں۔ البتہ جیسے جیسے پری اسکول عمر ختم ہوتی جاتی ہے بچہ صورتِ حال کو دوسروں کے تناظر سے بھی دیکھنے کا اہل ہو تاجاتا ہے۔

(iv) اینی مزم(Animism): اس مرحلے میں بچے کی سوچ کی ایک اور دل چسپ خصوصیت یہ ہے کہ بچے ہر چیز کو جاندار سمجھ لیتے ہیں۔ اسے اینی مزم کہتے ہیں۔ جب ہم بچوں سے، بولنے والے پیڑوں اور بادلوں کی بات کرتے ہیں تو وہ ان باتوں کو سچ مان لیتے ہیں۔ ان مثالوں سے یہ ظاہر ہو تا ہے کہ بچے ’’اچانک‘‘ سوچنا شروع نہیں کردیتے۔ سوچنے کا عمل، حواس اور ذہن کے درمیان بڑھتے ہوئے ربط کے ذریعے ذہنی صلاحیتوں کے بہ تدریج فروغ کا نام ہے۔

(c) ٹھوس عملی مرحلہ7سے 11سال:یہ مرحلہ درمیانی بچپن کے مرحلے سے تعلق رکھتا ہے۔ اب بچہ کیے گئے کاموں (Performed actions) کو ذہنی طورپر الٹ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ،ماقبل عمل کے مرحلے کے بچے کے برخلاف، جو صرف ایک وقت میں کسی ایک جہت پر ہی توجہ مرکوز کر سکتا ہے،ٹھوس عملی مرحلے میں بچہ کسی ایک وقت میں صورت حال کے مختلف پہلوؤں پر توجہ مرکوز کر سکتا ہے۔ اس طرح بچہ تحفظ(Conservation) کے تصورکو بھی سمجھ سکتا ہے اور کسی بھی صورت حال میں کسی بھی چیز کو ترتیب میں لگا سکتا ہے—دوسرے گلاس میں پانی انڈیلنے والی سابقہ مثال میں اب بچہ یہ سمجھ سکتا ہے کہ چوڑے گلاس سے پتلے گلاس میں پانی انڈیلنے پر پانی کی مقدار نہیں بدلے گی کیوں کہ اس میں کسی بھی چیز کا اضافہ نہیں ہوا ہے۔

اس مرحلے میں بچے ’خود مرکوز‘(Less egocentric)ہوتے ہیں۔ اب وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ایک ہی واقعے کو مختلف لوگ احوال اور اقدار کے مختلف ہونے کی وجہ سے، مختلف طریقوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ اس سمجھ سے عام طور پر جذبات کی نشوونما میں اور خاص طور پرہمدردی اورذہنی ہم آہنگی کے جذبات کی نشوونما میں مدد ملتی ہے۔
  اس عمر میں آنے کے بعد بچے میں ’اعداد کا ایک پائدار تصور‘ (Stable number concept)ترقی پاتا ہے اور بچہ سمجھ لیتا ہے کہ کوئی عدد کتنی مقدار کو واضح کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اب وہ گننے میں بھی غلطی نہیں کرتا۔ اب بچہ سمجھتا ہے کہ ایک ہی چیز کا تعلق مختلف زمروں سے ہو سکتا ہے ۔ اس طرح وہ گٹھلی دار پھل اوربغیرگٹھلی والے پھلوں کو الگ الگ زمروں میں رکھ سکتاہے۔ اسی طرح سردیوں میں پیدا ہونے والے پھلوں اور گرمیوں میں پیدا ہونے والے پھلوں کو بھی زمرہ بند کیا جا سکتا ہے۔ پھلوں کی زمرہ بندی ان کے مزے یاذائقے کی بنیادپر بھی ہو سکتی ہے۔ اس طرح ایک ہی پھل اپنی زمرہ بندی کے معیار کی بنیاد پر مختلف مجموعوں سے متعلق ہو سکتا ہے۔ اس قسم کی زمرہ بندی کی صلاحیت بڑے ہونے پر منطقی نشوونما کی طرف لے جاتی ہے۔

سرگرمی10

   آپ نے اب تک جو کچھ پڑھا اس کی بنیاد پر دو بچوں سے بات کیجیے، جن میں ایک ماقبل عمل کے مرحلے میں ہو اور دوسرا ٹھوس عمل کے مرحلے میں۔ ان میں سے ایک کے ساتھ ’تحفظ‘ اور دوسرے کے ساتھ ترتیب (Seriation)کے تجربات کو دہرائیے۔ نتیجہ بھی لکھیے۔

(d) رسمی اعمال کا مرحلہ11سے18سال: 11سے 12سال کی عمر میں بچہ اس مرحلے میں داخل ہوتاہے۔ دراصل اب اس کا بچپن نہیں رہا بلکہ نوبلوغت کا مرحلہ شروع ہوگیا ہے۔ آپ سب اب رسمی اعمال کے اہم مرحلے میں ہیں۔ اس مرحلے کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ نوبالغوں کی سوچ صرف ٹھوس؍مادی واقعات، چیزوں اور صورتِ حال تک ہی محدود نہیں ہوتی بلکہ ان میں خیالات پیدا ہونے لگتے ہیں یادوسرے لفظوں میں، تجریدی سوچ (Abstract Thinking) کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے۔ بچے نے اس سے پہلے والے مرحلے میں ہی سوچ کی تقلیب (Reversibility) کی صلاحیت حاصل کرلی تھی اور   اب وہ نوبالغ ہونے پر اپنی اس صلاحیت کا اطلاق خیالات پر بھی کرسکتے ہیں اور متعدد امکانات کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ کسی موضوع پرابتدا سے انجام تک اور پھر اس کی الٹی بحث کر سکتے ہیں۔نوبالغ مفروضات کی دنیا بھی دریافت کرلیتے ہیں،ایسی دنیا جس کا کوئی وجود نہیں مگر ممکن ہوسکتا ہے اور پھر وہ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ ایسا ہوجائے تو کیا ہوگا۔۔۔؟ مفروضاتی سوچ (Hypothetical   thinking)کی اسی خوبی کی وجہ سے نوبالغوں میں انوکھے خیالات یا خیالی منصوبے —جیسے دنیا کو بدل ڈالنے کا خیال—جنم لیتے ہیں۔ نوبالغوں کی سوچ عینیاتی — (idealistic) اور خیالی(Utopian) ہوتی ہے۔ وہ اپنے اور دوسرے لوگوں کے بارے میں مثالی تصورات یا خیال قائم کر لیتے ہیں۔ وہ دنیا کو بہتر بنانے کے لیے اس کو بدل دینے کا خواب دیکھتے ہیں اور بڑوں کی سست روی کو دیکھ کر بے چین ہو جاتے ہیں۔

نوبالغوں کی سوچ زیادہ منطقی ہو جاتی ہے، ان کا استدلال زیادہ منظم ہوجاتا ہے اور وہ مسائل کو حل کرنے کے زیادہ اہل ہو جاتے ہیں۔ آزمائشی تجربات کے ذریعے سیکھنے(Trial and error learning)کا سہارا لینے کے بجائے وہ کسی عمل کے دیگر امکانات کے بارے میں سوچتے ہیں۔ سوچنے کے اس طریقے کو ’’مفروضی استخراجی استدلال‘‘ (Hypothetico-deductive reasoning)کہتے ہیں۔
نوبالغ بچے اپنے خیالات کو جانچنے پرکھنے کے زیادہ اہل ہو جاتے ہیں اور وہ اپنی ہی سوچ   کے بارے میں بھی غور کرسکتے ہیں۔ اسے ماورائی فکر (Meta-thinking)کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے کچھ خیالات یوں ہیں: ’’میں اس طرح ہی کیوں سوچتا ہوں؟‘‘، ’’آج میں اپنے کل کے خیالات پر دوبارہ غور کرنا چاہتا ہوں‘‘۔ نوبالغوں کی سوچ کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ وہ ’خیالی مخاطَب(Imaginary audience)پیدا کر لیتے ہیں اور اپنے بارے میں ذاتی توہمات کا ایک سلسلہ قائم کر لیتے ہیں۔ ’خیالی مخاطب‘ کا مطلب یہ ہے کہ نوبالغ بچے یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے لوگ ہمیشہ ان کو دیکھتے رہتے ہیں اور ان کے ہر ایک عمل پر نظر رکھتے ہیں۔اس کے نتیجے میں نوبالغ بچے اپنی ظاہری شکل و صورت کے بارے میں بہت محتاط اور فکر مند رہتے ہیں۔ ذاتی توہمات کا مطلب یہ ہے کہ نوبالغوں کو محسوس ہوتا ہے کہ جس تکلیف یاجذبات سے وہ دوچار ہیں اس سے کوئی اور دوچار نہیں کیوں کہ وہ دوسرے تمام لوگوں سے الگ اور یکتا ہے۔
اس موقعے پر آپ اس بحث کو یاد کیجیے جو آپ نے اکائی 1 کے پہلے حصے میں ’’خود کی نشوونما‘‘کے بارے میں پڑھی تھی۔ کیا آپ کو نوبالغوں کی سوچنے کی صلاحیت اورنوبلوغت کے دوران خود کے احساس اور خود شناسی کی تشکیل میں کوئی مماثلت نظر آتی ہے؟ شناخت کے جس بحران سے کوئی نوبالغ دوچار ہوتا ہے وہ رسمی عمل(Formal operation)کے مرحلے میں اس کی سوچنے کی صلاحیت کاہی نتیجہ ہوتا ہے۔
اس باب سے آپ کو بچپن کے زمانے میں بچوں کی نمو اور ان کی نشوونما کی خصوصیات اور نشو ونما کے دوران اچھے تغذیے کی اہمیت معلوم ہوئی۔آئندہ باب میں اس موضوع پر تفصیلی گفتگو ہوگی کہ تغذیے کے رہنما اصولوں پر عمل کر کے بچوں کی صحت اورسلامتی کو کس طرح برقرار رکھا جا سکتا ہے؟

کلیدی اصطلاحات اور ان کے معنی(Key terms with meaning)

نشوونما(Development): بچے کی پیدائش کے وقت سے ہی مختلف دائروں(Domains)میں ہونے والی منظم اور ترتیب وار تبدیلیاں۔ یہ تبدیلیاں کیفیاتی اور کمّیاتی (Qualitative and Quantitative) دونوں قسم کی ہوتی ہیں اور اِن ہی تبدیلیوں کے نتیجے میں عمل کی پیچیدگی (Complexity in functioning)میں اضافہ ہوتا ہے۔

وابستگی(Attachment): انسیت اورمحبت کا وہ تعلق جو پہلے سال میں شیر خوار بچوں اور ان کی دیکھ بھال کرنے والے بالغ لوگوں کے درمیان استوار ہوتاہے ۔ بیشتر حالات میں یہ بالغ فرد ماں ہوتی ہے۔

تعلق(Bonding):بچے اور بالغ فردکے درمیان وابستگی ۔

بچوں کی پرورش کے طریقے(Child Rearing Practices): وہ طریقے جو والدین بچوں کو پالنے پوسنے اور انھیں کو بہتر اور پسندیدہ اطوار و اقدار سکھانے کے لیے اختیار کرتے ہیں۔  

روادار والدین(Permissive Parents): جو والدین اپنے بچوں پر کم پابندیاں عائدکرتے ہیں اور ان کو خود اپنے فیصلے کرنے کی آزادی دیتے ہیں۔

پابندی پسند والدین(Restrictive Parents): جو والدین اپنے بچوں پر زیادہ پابندی لگاتے ہیں اورسخت ہوتے ہیں اور بچوں کو اپنی پسند کے مطابق کام کرنے کی آزادی بہت کم دیتے ہیں ۔

خود مرکوزیت(Egocentrism): یہ مفروضہ کہ ہر شخص کسی صورت حال کو ہماری ہی طرح دیکھتا اور سوچتا ہے یا یہ کہ جس طرح ہم سوچتے ہیں دوسرے بھی ویسے ہی سوچتے ہیں۔

تجریدی سوچ(Abstract thinking): ان حالات یا چیزوں کے بارے میں سوچنے کی صلاحیت جو اس وقت واقع نہ ہورہی ہوں یا موجود نہ ہوں۔

ماورائی فکر(Meta-thinking):خود اپنی طرزِ فکر کے بارے میں غور کرنا، یہ جائزہ لینا کہ میں ایساکیوں سوچتا ہوں، اپنی سوچ کے عمل کے بارے میں سوچنا۔


سوالات برائے نظر ثانی

1۔نمو اورنشو ونما کے درمیان امتیاز کیجیے۔ مثالوں کے ذریعے نشو ونما کے مختلف دائروں کی تعریف کیجیے۔
2۔بچے کی پیدائش سے لے کر بلوغت تک اس کی صحت مندانہ نشو ونما کے فروغ کے لیے کن حالات اور وسائل کی ضرورت ہوتی ہے؟
3۔کیا آپ یہ کہیں گے کہ کوئی نومولود بچہ (Neonate)بے بس ہوتا ہے؟ اپنے جواب کے دلائل بھی دیجیے۔
4۔پیدائش سے لے کر دس سال کی عمر تک حرکی نشو ونما(Motor Development)کی ترتیب بیان کیجیے۔
5۔وضاحت کیجیے کہ عمر کے پہلے سال میں بچہ اپنی ماں ؍دیکھ بھال کرنے والوں سے کس طرح وابستگی قائم کرتا ہے؟
6۔بچوں میں نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے محبت آمیز طریقے اورتحکم آمیز طریقے کے درمیان فرق واضح کیجیے۔ آپ کے خیال میں کون سا طریقہ بہتر ہے اور کیوں؟
یا
بچوں کی پرورش کے وہ کون سے طریقے ہیں جو بچوں کی ہمہ جہت شخصیت کے فروغ میں معاون ہو سکتے ہیں؟
7۔وقوفی نشوونما کے درج ذیل مرحلوں میں سے ہر مرحلے کی اہم خصوصیات بیان کیجیے؟
·حسّی حرکی مرحلہ (Sensor-motor stage)
·ماقبل عمل مرحلہ(Pre-operational stage)
·ٹھوس عملی مرحلہ(Concrete operational stage)
·رسمی عملی مرحلہ(Formal operational stage)

پریکٹیکل12

بقا،نمو اورنشوونما

موضوع:    بچوں کے کسی ادارے یا ان کے لیے منعقدہ کسی پروگرام میں جائیے اور وہاں ہونے والی سرگرمیاں دیکھیے۔

مشغلہ:    1 ۔   بچوں سے متعلق کسی پروگرام یا ان کے کسی ادارے میں جائیے۔(سرکاری؍غیر سرکاری تنظیم)

     2۔   پروگرام یاادارے کی سرگرمیاں دیکھیے۔
   3۔   اپنے مشاہدات پر مبنی ایک رپورٹ تیار کیجیے۔

عملی کام کا مقصد:ملک بھر میں بہت سے ایسے ادارے ہیں جنھیں یا توحکومت چلاتی ہے یا غیر حکومتی تنظیمیں ۔ یہ ادارے اپنی برادری میں بچوں کے لیے مختلف سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ یہ ادارے صحت، تعلیم، تغذیہ اور تفریح سے متعلق مختلف پروگرام ترتیب دیتے ہیں۔ ہر ادارے یا تنظیم کے اپنے مخصوص مقاصد ہوتے ہیں۔ یہ تنظیمیں یہ بات پہلے سے ہی طے کرلیتی ہیں کہ انھیں کس عمر سے کس عمر تک کے بچوں کے لیے کون سی خدمات انجام دینی ہیں اور بچوں کی عمر کا تعین مقصد کے پیش نظر کیا جاتا ہے۔ اس عملی کام کے ذریعے آپ اپنی برادری کی ایک ایسی ہی تنظیم کی سرگرمیوں سے واقف ہوں گے۔

عملی کام پر عمل درآمد

1۔10طلبا کے گروپ بنائیے اور اپنے استاد کی مدد سے اپنی برادری میں کسی تنظیم کی طرف سے بچوں کے لیے چلائے جانے والے پروگرام کا پتا لگائیے۔ آپ کے استاد آپ کے لیے اس تنظیم کے پروگراموں میں ایک یا دو دن کی شرکت کی اجازت حاصل کرنے میں بھی آپ کی مدد کریں گے۔ آپ اس پروگرام میں شرکت کے لیے اپنے اسکول کے پرنسپل کا اجازت نامہ بھی لے کر جائیں تاکہ تنظیم کے کارکن آپ کو پروگرام میں شرکت کی اجازت دے دیں۔ (اگر پروگرام یاادارہ بڑا ہو تو پوری کلاس بھی اس میں شرکت کر سکتی ہے)
2۔اس ادارے یاپروگرام میں شرکت سے پہلے اس ادارے؍تنظیم کی سرگرمیوں کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کر لیجیے۔ اس سے وہاں پروگرام دیکھنے کے سلسلے میں آپ کے ذہن میں ایک تصور قائم ہو جائے گا کہ کیا دیکھنااور کیاکرناہے۔ پھر وہاں کے کارکنوں سے ان سرگرمیوں کے بارے میں آپ کو سوالات پوچھنے میں بھی مدد مل جائے گی۔
3۔ایک نوٹ بک اپنے ساتھ رکھیے تاکہ اس دور ے کے دوران آپ اپنے مشاہدات قلم بند کر سکیں۔
4۔اپنے اس دورے کے دوران آپ درج ذیل نکات کے بارے میں معلومات فراہم کر سکتے ہیں:
—پروگرام؍تنظیم کا نام: تنظیم حکومتی ہے یا غیر حکومتی
—تنظیم؍پروگرام کے عمومی اور خصوصی مقاصد
—ادارے یا پروگرام میں کس عمر کے بچوں کو شامل کیا گیا ہے؟
—پروگرام؍ادارے کی سرگرمیاں کیا کیا ہیں؟
—تنظیم میں کام کرنے والے کون لوگ ہیں اور ان کی کیا ذمے داریاں ہیں؟
—تنظیم کے مالی وسائل کیا ہیں؟
یہ ساری معلومات تنظیم کے کارکنوں سے بات چیت کر کے یا پھر تنظیم کے تیار کردہ کسی کتابچے وغیرہ کی مدد سے حاصل ہو سکتی ہیں۔
تنظیم کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے ساتھ یہ بھی دیکھیے کہ ان سرگرمیوں کو کس طرح انجام دیاگیاہے۔ مثال کے طور پر اگر تنظیم ابتدائی بچپن سے متعلق تعلیمی خدمات مہیا کراتی ہے تو کم از کم ایک گھنٹے تک یہ دیکھیے کہ پری اسکول ٹیچر یا آنگن واڑی کا رکن بچوں کے ساتھ ان سرگرمیوں کو کس طرح انجام دیتاہے؟ یااگر صحت کے بارے میں کچھ جانچ کرائی جا رہی ہے تو وہاں بیٹھیے اور دیکھیے کہ یہ پروگرام کس طرح چلایا جاتا ہے۔ یہ یاد رکھیے کہ جو پروگرام بھی چل رہے ہیں ان میں آپ کو دخل اندازی نہیں کرنی ہے۔
5۔اپنے اس دورے کے بارے میں تقریباً چار صفحے کی ایک رپورٹ تیار کیجیے اور ہم نے اوپر چوتھے نمبر پر جو مختلف پہلو بیان کیے ہیں ان کے تحت معلومات فراہم کیجیے۔ آپ کی رپورٹ کے آخری حصے کا عنوان’ ’نتیجہ‘‘ ہونا چاہیے۔’’ نتیجہ‘‘ عنوان کے تحت آپ تنظیم؍پروگرام اور اس کی سرگرمیوں کے بارے میں اپنی رائے لکھیے۔

زاید سرگرمی

بقا،نمو اور نشوونما

درج ذیل اقتباس کو غور سے پڑھیے اور اس میں جن مسائل پر گفتگو کی گئی ہے ان پر اپنی کلاس کے دو تین ساتھیوں کے ساتھ بات چیت کیجیے۔ اس کے بعد آخر میں دیے گئے سوالوں کے جواب دیجیے۔
انسانی ترقیاتی اشاریہ یا (Human Development Index)HDI جو مندرجہ ذیل نکات پر مشتمل ہوتا ہے:
  • متوقع عمر(Life Expectancy)
  • خواندگی(Literacy)
  • تعلیمی اکتساب(Educational attainment)اور
  • فی کس مجموعی ملکی پیداوار(GDP per Capita)
اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام (United Nations Development Programme)کے مطابق انسانی ترقی(Human Development)لوگوں کے لیے ترقی کے امکانات کی ترجیحات کو وسیع تر کرنے اور ان کو تعلیم، صحت، آمدنی اورروزگار وغیرہ کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کا عمل ہے۔ انسانی ترقیاتی اشاریہ کا استعمال بنیادی طورپر انسانی ترقی کی سطح کے اعتبار سے ملکوں کی زمرہ بندی کے لیے ہے۔ اس زمرہ بندی کے تحت اس بات کا تعین کرنابھی شامل ہوتا ہے کہ کوئی ملک ترقی یافتہ ہے ،ترقی پذیر ہے یا غیر ترقی یافتہ؟
اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام (UNDP)کے مطابق انسانی ترقی، ترقی کا ایک ایساتصور ہے جو صرف قومی آمدنی کے بڑھنے یا گھٹنے تک محدودنہیں ہے۔ اس کاتعلق ایک ایسے ماحول کو پیدا کرنے سے ہے جس میں لوگ اپنی تمام صلاحیتوں کو فروغ دے سکیں اور اپنے مفادات اور اپنی ضروریات کے مطابق ایک مفید اور تخلیقی زندگی گزار سکیں۔ دراصل قوموں کا اصل سرمایہ لوگ ہوتے ہیں۔ اس طرح، ترقی کا تعلق لوگوں کے ترقیاتی امکانات کو وسیع تر کرنے سے ہے تاکہ وہ اپنی مرضی کی زندگی گزارسکیں۔ اس لیے ترقی صرف اقتصادی نمو کا نام نہیں ہے۔ اقتصادی نمو محض لوگوں کے ترقیاتی امکانات کو وسیع تر کرنے کا ذریعہ ہے۔
ان امکانات کو وسیع تر کرنے کے لیے لوگوں کی صلاحیت سازی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ انسانی صلاحیتوں میں ایسے تمام امکانات شامل ہیں کہ لوگ کیا کرسکتے ہیں اور کیا بن سکتے ہیں۔ طویل اور صحت مند زندگی ،علم کا حصول، بہتر معیار زندگی کے لیے ضروری وسائل کی دست یابی اورسماجی زندگی میں بھر پور شرکت کی اہلیت انسانی ترقی کے لیے بنیادی صلاحیتیں ہیں۔ ان کے بغیر نہ تو بہت سے امکانات روشن ہوسکتے ہیں اور نہ ہی بہت سے مواقع حاصل ہوسکتے ہیں۔
اب ہم ان اصطلاحات کا مفہوم سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جنھیں ہم انسانی ترقیاتی اشاریہ کے حوالے سے بیان کر چکے ہیں۔

متوقع عمر(Life Expectancy):یہ پیدائش کے وقت متوقع عمر کے برسوں کی اوسط تعداد ہے۔ خواندگی کی روایتی تعریف لکھنے اور پڑھنے کی اہلیت یا لکھنے، پڑھنے، سننے اور بولنے کے لیے زبان کا استعمال کرنے کی اہلیت کی بنیاد پر کی جاتی رہی ہے۔موجودہ تناظرمیں خواندگی کا مطلب لکھنے اور پڑھنے کی ایسی صلاحیت سے ہے جس کے ذریعے دوسروں سے بات چیت یا پھر لکھنے پڑھنے کے ایسے معیار کے حصول سے ہے جس سے کوئی شخص پڑھے لکھے لوگوں کی باتیں سمجھ سکے اور اظہارِ خیال کے قابل ہوجائے اور اس طرح سماج کاحصّہ بن سکے۔

تعلیمی اکتساب کی اصطلاح کو اعداد و شمار کے ماہرین، تعلیم کے اس بلند ترین معیار کے لیے استعمال کرتے ہیں جسے کوئی شخص حاصل کر لیتا ہے۔

مجموعی ملکی پیداوار(GDP)یامجموعی ملکی آمدنی(GDI)کسی ملک کی معیشت کے لیے قومی آمدنی یاقومی پیداوار کی پیمائش کا ایک ذریعہ ہے۔مجموعی ملکی پیداوار (GDP)ایک خاص عرصے میں کسی ملک میں پیداہونے والی تمام مصنوعات اور خدمات کی بازار کے مطابق طے شدہ قدرو قیمت ہے۔ (اس عرصے سے عام طور پر ایک کلینڈر سال مراد ہوتا ہے)۔مجموعی ملکی پیداوار کا مطلب کسی خاص عرصے کے دوران کسی ملک میں پیدا کی جانے والی تمام مصنوعات اور خدمات کے ہر پیداوار ی مرحلے(عبوری مرحلوں)پر جوڑی جانے والی قدر کی مجموعی صورت بھی ہے جسے پیسے کی قدر میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔

ترقی یافتہ ملک کی اصطلاح ان ملکوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جن کی معیشت (Economy) ترقی یافتہ ہے اور اس معیشت میں صنعت کے ٹریشری(tertiary)اورکو ارٹرنری (Quaternary)سیکٹر کا غلبہ ہوتا ہے۔ جن ملکوں پر یہ تعریف صادق نہیں آتی ان کو ترقی پذیر ملک کہا جاتا ہے۔ معیشت کاٹریشری سیکٹر (جسے سروس سیکٹر یا سروس انڈسٹری بھی کہا جاتا ہے) تین اقتصادی سکیٹروں میں سے ایک ہے۔ دیگر سیکٹروں میں ایک ثانوی سیکٹر (تقریباً مینوفیکچرنگ) ہے اور ایک ابتدائی سیکٹر (کان کنی، زراعت اور ماہی گیر ی) ہے۔ کبھی کبھی ایک فاضل سیکٹر ’’کوارٹرنری سیکٹر‘‘ کی بات بھی کی جاتی ہے۔ (جوعموماً ٹریشری سیکٹر سے ہی متعلق ہے)  
  اقتصادی ترقی کی اس سطح کو عموماً زیادہ فی کس آمدنی اوربہتر انسانی ترقیاتی اشاریے کی صورت میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ جن ملکوں کی فی کس مجموعی ملکی پیداوار زیادہ ہوتی ہے انھیں ترقی یافتہ ملک کہاجاتا ہے۔ پھر بھی اگر کسی ملک کے ’ترقی یافتہ‘ ہونے کی حیثیت صرف فی کس جی ڈی پی کی بنیاد پر متعین کی جائے تو یہ اندازہ غلط بھی ہوسکتا ہے۔
عام طورپر ترقی پذیر ان ملکوں کو کہا جاتا ہے جن کا صنعتی نظام آبادی کے لحاظ سے ترقی یافتہ نہیں ہوتا اورجہاں معیارِ زندگی عام حالات میں پست یا درمیانی ہوتا ہے۔ آبادی میں اضافے کی زیادہ شرح اور کم آمدنی میں بڑا گہرا تعلق ہے۔
  انسانی ترقیاتی اشاریے سے انسانی ترقی کی تین جہتوں کا پیمانہ فراہم ہوتا ہے جس میں لمبی اور صحت مند زندگی (جس کو متوقع عمر سے ناپا جاتا ہے)، تعلیم یافتہ ہونا (جسے بالغوں کی خواندگی اور ابتدائی، ثانوی اور اعلا تعلیم میں داخلے سے ناپا جاتا ہے) اوربہتر معیارِ زندگی (جسے مساوی قوت خرید(PPP) اور آمدنی سے ناپا جاتا ہے)شامل ہے۔ یہ اشاریہ کسی بھی لحاظ سے انسانی ترقی کا جامع پیمانہ نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اس میں صنف یا آمدنی کی نابرابری جیسے اہم اشاریے شامل نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں انسانی حقوق یا سیاسی آزادی کے احترام وغیرہ کے نا قابلِ پیمائش اشاریے بھی شامل نہیں ہیں۔ صرف انسانی ترقی اور آمدنی اورسلامتی کے درمیان پیچیدہ رشتے کو دیکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔  
 UNDPکے مطابق  2005 میں ہندوستان سے متعلق انسانی ترقیاتی اشاریہ
 0.619تھا۔ اس کے مطابق 177ملکوں میں سے ہندوستان کا 128واں نمبر تھاجیسا کہ جدول 1میں دیا گیا ہے۔  
جدول1:ہندوستان کا انسانی ترقیاتی اشاریہ (2005)
ایچ ڈی آئی قدر پیدائش کے وقت متوقع عمر(برسوں میں) شرح تعلیم بالغان(فی صد، 15سال اور زیادہ) ابتدائی،ثانوی اور اعلا تعلیم کی سطحوں پر داخلے کی شرح(فی صد) فی کس جی ڈی پی داخلی(فی کس پی پی پی، ڈالر میں)
آئس لینڈ(0.968) 1-جاپان(82.3) 1-جارجیا(100.0) 1-آسٹریلیا(113.0) لگزم برگ(60,228)
126-مراکش(0.646) 123-پاکستان(64.6) 112-روانڈا(64.9) 120.-نامیبیا(64.7) 115-عرب جمہوریۂ شام (3,808)
127-استوائی گنی
()0.646
124-کوموروس
(64.1)
113-ملاوی
(64.1)
121-ویت نام
(63.9)
116-نکاراگوا
(3,674)
128-ہندوستان
(0.619)
125-ہندوستان
(63.7)
114-ہندوستان
(61.0)
122-ہندوستان
(63.8)
117-ہندوستان
(3,430)
129-جزیرہ سولومن
لاؤ(0.602)
126-موریتانیہ
(63.7)
115-سوڈان
(60.9)
123-وانوآتو
(63.4)
118-ہنڈورس
(3,365)
130-عوامی جمہوریہ 
لاؤ(0.601)
127-عوامی جمہوریہ 
لاؤ(63.2)
116-بروندی
(59.3)
124-ملاوی
(63.1)
119-جارجیا
(3,365)
177-سیارالیون
(0.336)
177-زامبیا
(40.5)
139-برکینافاسو
(23.6)
172-نائیجر
(22.7)
174-ملاوی
(667)


4

اب درج ذیل سوالوں کے جواب دیجیے:

آپ ’انسانی ترقی‘ کے تصور کو کس طرح بیان کریں گے؟
آپ کسی ترقی پذیر ملک کی تعریف کیسے بیان کریں گے؟ ہندوستان کس طرح ایک ترقی پذیر ملک ہے؟
جدول I میں دیے گئے انسانی ترقیاتی اشاریہ(HDI)میں شامل پیمانوں کی بنیاد پر ہندوستان کے مقام کا دوسرے ملکوں سے موازنہ کیجیے؟
جدول1میں مذکور اشاریوں کے مطابق ہندوستان کا درجہ متعین کیجیے ۔ کس پیمانے کی بنیاد پر ہندوستان کا مقام سب سے نیچا ہے؟ کس پیمانے کے حساب سے ہندوستان کا درجہ سب سے اوپرہے؟