باب12
تغذیہ، صحت اور سلامتی
(Nutrition, Health and well-being)
آموزشی مقاصد
اس باب کے مطالعہ کے بعد طلبا
- نشوونماکے مختلف مراحل میں بچوں کی تغذیاتی ضرورتوں کو بیان کر سکیں گے۔
- بچوں کے لیے متواز ن خوراکوں کی منصوبہ بندی کے بارے میں رائے دے سکیں گے۔
- بچوں کی غذائی عادتوں کے بارے میں بتا سکیں گے۔
- بچوں کے تغذیے اور صحت سے متعلق اہم مسائل کی نشان دہی کر سکیں گے۔
- متعدی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے بارے میں بتاسکیں گے۔
12.1تعارف
غذا اور تغذیے کے بارے میں آپ اس سے پہلے پانچویں باب میں پڑھ چکے ہیں۔ پچھلے باب میں آپ نے بچوں کی بقا ، نمواور نشو ونما کے بارے میں بھی پڑھا ہے۔ یہاں ہم مختصر طور پر چنداہم نکات کا دوبارہ ذکر کریں گے۔ ہماری خوراک غذاؤں پر مشتمل ہوتی ہے۔ تغذیہ ’’کام کرنے والی غذا‘‘ کا عمل ہے یعنی ایک ایسا عمل جس کے ذریعے ہم تغذیاتی عناصر حاصل کرتے ہیں جوبیماریوں کا مقابلہ کرنے اور ہماری سلامتی کا وسیلہ ہوتے ہیں۔ تغذیے کے بارے میں غور کرتے ہوئے، غذاؤں کی نوعیت کوسمجھنے اور یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ کون سی غذائیں کون کون سے تغذیاتی عناصر فراہم کرتی ہیں۔
آئیے اب ہم بچوں کے تغذیے، صحت اورسلامتی کے امور پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ بچوں کی نمو مسلسل جاری رہتی ہے اور ان کی تغذیاتی ضرورتیں اس بات پر منحصر ہوتی ہیں کہ ان کی نمو کی رفتار کیا ہے، ان کاوزن کیا ہے اور ان کی نشوونما کے ہر مرحلے میں تغذیاتی عناصر کتنے مؤثرطور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ چوں کہ بچوں کی جسمانی اور ذہنی نمو بہت تیزی سے ہوتی ہے، اس لیے اس مرحلے میں تغذیے کی کمی سے زندگی بھرکا جسمانی بگاڑ اور معذوریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ اس کے برخلاف، اگر تغذیے کی فراہمی مناسب ہوتو بچوں کی مکمل نشو ونما یقینی ہوجا تی ہے۔ اسی لیے ہمیں تمام غذائی گروپوں کی مختلف غذاؤں کا استعمال کرتے ہوئے ان کے درمیان توازن رکھنے کا سلیقہ بھی آنا چاہیے۔ عام طور پر یہ سمجھاجاتا ہے کہ بہتر تغذیے کے اثرات کا اظہار بچوں کے قد اور وزن سے ہوتا ہے لیکن در حقیقت مؤثرتغذیہ بچوں کی مکمل صحت و سلامتی کو یقینی بنانے کا ضامن ہوتاہے۔ مناسب تغذیہ درج ذیل امور میں مددگار ہوتا ہے:
- جسم کے تمام نظاموں اوراعضا کے افعال
- سوچنے سمجھنے کی صلاحیت
- بیماریوں سے لڑنے اورصحت کو بحال کرنے کی جسم کی اہلیت
- توانائی میں اضافہ
- خوش گوار اور مثبت طرزِعمل
12.2شیر خوارگی کے دوران (پیدائش سے 12ماہ تک)تغذیہ، صحت اور سلامتی
(Nutrition, Health and Well-Being Druing Infancy (Birth-12 Months)
تیزی کے ساتھ نمو شیر خوارگی کے زمانے کی خصوصیت ہے ، خاص طور پر ابتدائی شیرخوارگی (پیدائش سے چھ ماہ تک) کے دوران تبدیلیاں شدید تر ہوتی ہیں۔ شیر خوار بچوں کو،سخت محنت کرنے والے بالغوں کے مقابلے میں، ہر دو کلو گرام جسمانی وزن کے لیے دوگنی کیلوریوں کی ضرورت ہوتی ہے۔اس ضرورت کومناسب غذا کے ذریعے پورا کیا جا سکتا ہے۔ توانائی کے علاوہ، بچوں کی حسب ذیل ضروریات بھی ہوتی ہیں:
کیا آپ جانتے ہیں؟
بچوں میں—
- وزن -چھ ماہ میں دو گنا اور ایک سال میں تین گنا ہو جاتا ہے۔
- قد-پیدائش کے وقت 55-50سینٹی میٹر ہوتا ہے ایک سال میں بڑھ کر 75سینٹی میٹر ہو جاتا ہے۔
- سر کا گھیرا اور سینے کی چوڑائی دونوں بڑھ جاتے ہیں۔
پروٹین— ہڈیوں اور عضلات کی تیز نموکے لیے۔
کیلشیم—ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے۔
لوہا— خون کی مقدار میں اضافے کے لیے۔
شیر خوار بچوں کی غذائی ضروریات
(Dietary requirements of infants)
شیر خوار بچے کم یا زیادہ دودھ پی کراپنی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ ان بچوں کی غذائی ضروریات ،ماں کے دودھ اوراس کی تکمیل کرنے والی غذاؤں سے پوری ہوتی ہیں۔
مجوزہ تغذیاتی عناصر کا تعین ماں کے دودھ میں شامل تغذیہ بخش عناصر کی بنیاد پرکیاجاتاہے ۔ اچھی غذائیں لینے والی ماں کا850ملی لیٹر دودھ پہلے چار سے چھ ماہ تک بچے کو تمام تغذیاتی اجزا فراہم کرسکتا ہے۔ماں کی خوراک اچھی ہو تو بچے کی نشو و نما بھی ٹھیک ہوتی ہے ۔اسی لیے ماں کو ایسی غذا لینی چاہیے جس میں پروٹین، کیلشیم اورآئرن خوب پایا جاتا ہو۔ اس کے علاوہ اس کو مناسب مقدار میں رقیق چیزیں مثلاً دودھ، سوپ،پھلوں کا رس اور پانی کافی مقدار میں پینا چاہیے تاکہ وہ غذائی قلت کا شکار نہ ہو۔
| جدول 1: شیر خوار بچوں کے لیے تغذیاتی عناصر |
||
| آئی سی ایم آر کے ذریعے تجویز کردہ | ||
| تغذیاتی عناصر | پیدائش سے چھ ماہ تک |
6سے 12ماہ تک |
| توانائی (کلوکیلوری) (Kcal) | (108) فی کلو گرام وزن | 98فی کلو گرام وزن |
| پروٹین (گرام)(gm) | 2.05/فی کلوگرام وزن | 1.65فی کلوگرام وزن |
| کیلشیم(ملی گرام)(mg)۔ | 500 | 500 |
| وٹامن ’اے‘ ریٹی نول(Retinol)(µg)۔ یا بیٹا کیروٹین (µg)۔(Beta Carotene)۔ |
350 1200 |
350 1200 |
| تھائی مین (Thiamine)۔ | 55؍فی کلو گرام وزن۔ |
50؍فی کلو گرام وزن |
| نائی سین ث(Niacin)۔ | 710؍فی کلو گرام وزن | 650؍فی کلو گرام وزن |
| تھائی مین (µg)(Thiamine)۔ | 55؍فی کلوگرام وزن | 60؍فی کلوگرام وزن |
| پائری ڈاگزین (Pyridoxine)(mg) | 0.1 | 0.4 |
| ایسکاربک ایسڈ (mg)۔ (Ascorbic Acid) | 25 | 25 |
| فولک ایسڈ (µg)۔(Folic Acid) | 25 | 25 |
| وٹامن بی12 (µg) | 0.2 | 0.2 |
انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ(آئی سی ایم آر)
ماں کا دودھ(Breast feeding)
ماں کا دودھ نوزائیدہ بچے کے لیے قدرت کا عطیہ ہے۔ اس میں تمام ضروری تغذیاتی عناصر ہوتے ہیں جو بہت آسانی سے جسم میں جذب ہو جاتے ہیں۔ عالمی صحت تنظیم (WHO)بھی چاہتی ہے کہ چھ ماہ تک کے بچوں کو صرف ماں کا دودھ پلایا جائے۔ ماں کا دودھ پینے کے زمانے میں بچے کو پانی کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ۔ پیدائش کے بعد ہی بچوں کو ماں کے دودھ کی عادت ڈال دینی چاہیے۔ زچگی کے بعد دو تین دن تک ماں کے دودھ میں پیلے رنگ کا ایک رقیق مادہ شامل ہوتاہے جسے کولوسٹرم (Colostrum) کہا جاتا ہے۔ کولوسٹرم بچوں کو ضرور پلایا جانا چاہیے کیوں کہ اس میں سمّیت کش مادے یا اینٹی باڈیز(Antibodies)ہوتے ہیں اور یہ بچے کو جراثیم زدگی یا انفیکشن(Infection) سے بچاتا ہے۔

ماں کے دودھ کے فوائد
- ماں کا دودھ شیرخوار بچوں کی تغذیاتی ضرورتوں کوپورا کرنے کے لیے ہی خاص ہوتا ہے۔
- ماں کے دودھ میں تمام تغذیاتی عناصر مطلوبہ شکل اور تناسب میں موجود ہوتے ہیں (مثلاً اس میں موجود چربی سیال شکل (Emulsified)میں رہتی ہے)۔ اس میں پروٹین کی مقدار کم ہوتی ہے جس سے گردوں پر کم دباؤ پڑتا ہے اور وٹامن سی ضائع نہیں ہوتا ۔
- ماں کا دودھ، پلانے اور بچوں کے لیے پینے میں آسان اور صاف ستھرا ہوتا ہے۔ ماں کا دودھ ہر وقت اور مناسب درجۂ حرارت پر موجود رہتا ہے۔
- ماں کا دودھ بچوں کو آنتوں، سینے اور پیشاب کے انفیکشن سے بچاتا ہے کیوں کہ اس میں موجود اینٹی باڈیزبچے کو فطری طور پر بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہیں۔ یہ دودھ ایلرجین (Allergens)سے بھی پاک ہوتا ہے۔
- اپنا دودھ پلانے سے مائیں بھی سینے اوربچے دانی(Ovary) کے کینسر سے محفوظ رہتی ہیں اور ان کی ہڈیاں بھی کمزورنہیں ہوپاتیں۔
- ماں کے دودھ پلانے سے ماں اوربچے کے درمیان صحت مندانہ اور خوش گوار جذباتی رشتہ قائم ہونے میں مدد ملتی ہے۔
شیرخواروں کوخوب معلوم ہوتا ہے کہ ان کو کب اور کتنا دودھ چاہیے، اس لیے دودھ تبھی پلانا چاہیے جب بچہ بھوکا ہو۔ البتہ جب شیر خوار ایک ماہ کا ہو جائے تو دودھ پلانے کے وقفوں میں باقاعدگی پیدا کر دینی چاہیے۔
چند کم لاگت تکمیلی غذائیں
- ہندوستانی کثیر المقاصد آٹا(Indian Multipurpose Flour)۔کم چکنائی والا مونگ پھلی کا آٹا اور بنگالی چنا(75:25)
- مالٹ فوڈ۔جَو، کم چکنائی والا مونگ پھلی کا آٹا اور بنگالی چنا(4:4:2)
- بالاہار-ثابت گیہوں، مونگ پھلی اور بنگالی چنے کا آٹا (7:2:2)
- وِن فوڈ-باجرہ، ہرے چنے کی دال، مونگ پھلی اور گڑ(5:2:2:2)
- پوشَک- اناج(گیہوں؍مکئی؍چاول؍جوار) دال(چنا؍ہرا چنا) مونگ پھلی اورگڑ(4:2:1:2)
- اموتھم۔ چاول، راگی، بنگالی چنا اور تل، مونگ پھلی کا آٹا اورگڑ (1.5:1.5:1.5:2.5:2.5)
- امریتھم۔ گیہوں، بنگالی چنا، سویا اور مونگ پھلی کا آٹا اورچقندرکی شکر(4:2:1:1:2)
یہ ساری غذائیں مقامی طور پر دست یاب اناجوں سے تیار ہوتی ہیں اور پھر انھیں طے شدہ تناسب میں ملایا جاتا ہے۔ پھر ان میں وٹامن اور کیلشیم کی آمیزش کی جاتی ہے۔ یہ سب بہت مقوی چیزیں ہیں اور ان کو گھر میں بہ آسانی تیار کیا جا سکتا ہے۔
پیدائشی طور پر کم وزن بچوں کی غذا
(Feeding the low birth weight infant)
آپ کو معلوم ہوگا کہ بعض بچوں کا وزن پیدائشی طورپر کم ہوتا ہے۔ جس بچے کا وزن پیدائش کے وقت 2.5کلو گرام سے کم ہوتا ہے اس کو کم وزن کہا جاتا ہے۔ ایسے بچوں کو دودھ پینے یا نگلنے میں دشواری ہوتی ہے۔ ان کی ہاضمے کی قوت بھی کم ہوتی ہے کیوں کہ ان کا معدہ اور آنتیں چھوٹی ہوتی ہیں۔ لیکن ان کو کیلوریز کی ضرورت نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ ماں کے دودھ میں امینو ایسڈ(Amino Acid)، کیلوریز، چربی اور سوڈیم جیسے ضروری عناصر موجود ہوتے ہیں۔ اس دودھ سے بچوں کی ضروریات پوری ہو جاتی ہیں۔ ماں کے دودھ کی جراثیم کش microbial) (Anti- خاصیت بچوں کو انفیکشن سے محفوظ رکھتی ہے۔
ماں کا دودھ بلاشبہ کم وزن بچوں کے لیے بہترین غذا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ، بچوں کو وٹامنوں، کیلشیم، فاسفورس اور لوہے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان کی نمو پائیدار ہوسکے۔ اگر بچے کا وزن اطمینان بخش طورپر نہیں بڑ ھ رہا ہے تو پھر معاون غذائیں دی جاسکتی ہیں۔
تکمیلی غذائیں (Complementary Foods)
تکمیلی غذائیں دینے سے مرادبچوں کوماں کے دودھ کے ساتھ ساتھ دیگر غذائیں دینا ہے۔اس طرح جو غذائیں دی جاتی ہیں انھیں تکمیلی غذائیں کہا جاتا ہے۔ ان غذاؤں کو چھ ماہ کی عمر سے شروع کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ تکمیلی غذائیں دیتے ہوئے، دودھ پلانے کی بوتلوں اور برتنوں کو صاف ستھرا رکھاجائے تاکہ بچہ جراثیم سے محفوظ رہے۔
بچوں کی تغذیاتی ضرورتوں کوپوراکرنے کے لیے، تکمیلی غذاؤں کو کیلوریوں سے بھر پور ہونا چاہیے اور کم از کم 10فی صد توانائی پروٹینوں کے ذریعے فراہم کی جانی چاہیے۔
تکمیلی غذاؤں کی قسمیں
(1)رقیق تکمیلی غذائیں
(i)دودھ،3:1کے تناسب سےابلا ہواپانی ملاکر۔چند ہفتوں بعد بغیرپانی ملا دودھ
(ii)تُرش پھلوں کا رس (Citrous)،
4ماہ کی عمر میں5ملی لیٹر، ایک سال کی عمر میں 85ملی لیٹر تک
(iii)سوپ:سبزیوں اور دالوں کا سوپ5-4ماہ کی عمر میں، ایک سال کی عمر تک کم پکا سوپ، نمک اور پیاز کے ساتھ
(2) 5-6ماہ کی عمر سے دی جانے والی نیم رقیق تکمیلی غذائیں
(i)خوب پکاکر مسلی گئی سبزیاں
(ii)والیں اوراناج۔اچھی طرح الگ الگ یا ایک ساتھ پکے ہوئے۔ دودھ اور شکر بھی ملائی جاسکتی ہے۔
(iii)سات ماہ میں انڈے کی زردی،شروع میں آدھا چمچہ اورایک سال پر پورے انڈے کی زردی
(iv)خوب پکاہوا قیمہ اور مچھلی، سال پوراہونے کے قریب شروع کیا جائے
(3)10ماہ سے ایک سال تک کے بچوں کے لیے ٹھوس غذائیں، جب دانت نکلنے لگتے ہیں
(i)الگ الگ مقدار میں ملاکر پکائی گئی دالیں، اناج اور قیمہ
(ii)کچی سلاد اورپھل، ٹونگنے کے لیے

جدول2: تکمیلی غذاؤں کی قسمیں
تکمیلی غذاؤں کے لیے ہدایاتGuidelines for complementary feeding
- ایک وقت میں ایک ہی غذا شروع کی جائے۔
- شروع میں،غذائیں کم مقدار میں دی جائیں اور پھردھیرے دھیرے بڑھائی جائیں۔
- بچہ کوئی خاص چیزکھانا نہ چاہے تو اسے جبراً نہ کھلایا جائے ۔اس کی جگہ کوئی اور چیز دی جائے اور ناپسندیدہ غذا بعد میں دینے کی کوشش کی جائے۔
- چھوٹے بچوں کو مسالے دار اور تلی ہوئی چیزیں نہ کھلائی جائیں۔
- ہر قسم کی غذائیں کھانے کی ترغیب دی جائے اور ذاتی ناپسند کا اظہار نہ کیا جائے۔
- نئی غذاؤں کوقابلِ قبول بنانے کے لیے طرح طرح کی غذاؤں کا ہونا بہت ضروری ہے۔
سرگرمی1
اپنے والدین؍دادا دادی؍چچی وغیرہ سے اپنے علاقے کی روایتی تکمیلی غذاؤں کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے۔ آپ کے خیال میں کیا یہ غذائیں تغذیہ بخش (Nutritious)ہیں؟ جواب دلائل کے ساتھ لکھیے۔
مامونیت(Immunisation)
اچھی صحت و سلامتی صرف اچھے تغذیے پر ہی موقوف نہیں ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بچوں کو مختلف بیماریوں سے بچانے میں مامونیت کا بھی بڑا کردار ہے۔
آپ جاننا چاہیں گے کہ مامونیت بچوں کو بیماریوں سے کیسے بچاتی ہے۔مامونیت ایک ٹیکے (Vaccine) کی شکل میں کام کرتی ہے جوکسی غیر متحرک بیکٹریا؍ وائرس؍سمّیت کے جرثومے سے بنایا جاتاہے۔ ٹیکے بچوں کو لگائے جاتے ہیں تو وہ بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ چوں کہ یہ غیر متحرک ہوتا ہے اس لیے یہ انفیکشن پیدانہیں کرتا بلکہ خون کے سفید خلیوں کوجراثیم کش مادّے (Antibodies) پیدا کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ جراثیم(Germs)بچے کے جسمانی نظام (System)پر حملہ کرتے ہیں تو یہ مادّے انھیں ختم کردیتے ہیں۔
| جدول 3:قومی مامونیت پروگرام | ||
| (آئی سی ایم آرکا تجویزکردہ) | ||
| بچے کی عمر | ٹیکہ | |
| پیدائش کے فوراًبعد | بی سی جی(BCG1) | |
| 6 ہفتے | اوپی وی2(OPV2)،ڈی پی ٹی3(DPT3)ہیپے ٹائٹس بی(Hepatitis B) | |
| 10 ہفتے |
او پی وی(OPV)،ڈی پی ٹی(DPT)،ہیپے ٹائٹس بی (Hepatitis B) | |
| 14ہفتے |
او پی وی(OPV)،ڈی پی ٹی(DPT)،ہیپے ٹائٹس بی (Hepatitis B) | |
| 9-12 ماہ میں | خسرہ (Measles) | |
1۔ بی سی جی(BCG):بیسیلس کامیٹ گوئیرین(Bacillus Calmette-Guerin)(ٹی بی کا ٹیکہ)
2۔ او پی وی(OPV)اور ل پولیو ویکسین) (OPV- Oral Polio Vaccine(پولیو ٹیکہ)
3۔ ڈی پی ٹی(DPT)ڈفتھیریا،پرٹوسس اور ٹٹنس
(DPT- Diptheria, Pertusis and Tetanus)
ماخذ: نیشنل ایمیونائزیشن شیڈول، ڈبلیوایچ او۔انڈیا
شیر خواروں اوربچوں میں صحت اور تغذیے کے عام مسائل
(Common health and nutrition problems in infants and young children)
حصہ اول کے دسویں باب میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ غذائی قلت اور انفیکشن کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے۔ در حقیقت غذائی قلت ایک قومی مسئلہ ہے۔ یہ مختلف عوامل مثلاً عورتوں کی ناخواندگی ، غریبی،بچوں کی تغذیاتی ضروریات سے ناواقفیت اور صحت خدمات تک رسائی نہ ہونے( خاص طورپردیہی اورقبائلی علاقوں میں)کا نتیجہ ہوتاہے۔
اگر بچے کو ماں کا دودھ کافی مقدار میں نہیں ملتا تو وہ غذائی قلت کا شکار ہونے لگتا ہے اور ایسا اس وقت تک ہوتا رہتا ہے جب تک بچے گھر میں استعمال ہونے والی غذاؤں کا بھر پور استعمال شروع نہیں کر دیتے۔ اس دوران شیر خوار بچوں میں اسہال (Diarrhoea)کا مرض بہت عام ہوتا ہے۔ اسہال کے نتیجے میں جسم میں پانی اوربرق پاشوں یا الکٹرولائٹس (Electrolytes) کی کمی ہو جاتی ہے۔ یہ بیماری بچوں کی شر ح اموات میں اضافے کا ایک بڑا سبب ہے۔ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ تغذیاتی عوامل ٹی بی کا اہم سبب ہوتے ہیں،خاص طور پر غذائی قلت سے شکار لوگوں میں۔ پرائمری ہرپیز سمپلکس(Primary Herpes Simplex)ایک اور چھوت کی بیماری ہے جو غذائی قلت سے متاثر بچوں کوہوسکتی ہے۔
اس مرحلے میں، اگر شیر خوار بچے کو ماں کے دودھ کے سوا دیگر غذائیں بھی دی جاتی ہیں اور اگر ان تکمیلی غذاؤں سےبھی اس کی تمام تر تغذیاتی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں تو وہ غذائی قلت سے ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ہم ذیل میں شیر خوار بچوں کو تغذیے کی قلت سے ہونے والی بیماریوں کا ذکر کرتے ہیں:
- پروٹین توانائی غذائی قلت:(Protein Energy Malnutrition)PEM۔ا س سے نمو میں کمی آتی ہے اورانفیکشن ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں اسہال اور پانی کی کمی جیسے امراض پیدا ہوتے ہیں۔
- اینمیا(قلت خون):یہ مرض لوہے کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
- تغذیاتی نابینائی:وٹامن’’اے‘‘کی کمی کے باعث ہوتی ہے۔
- سوکھا(Rickets)اور آسٹوپینیا(Osteopenia):ہڈیوں کی یہ بیماریاں وٹامن ڈی اور کیلشیم کی قلت کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
- گھینگا(Goitre)(جس میں تھائی رائڈ غدودبڑھ جاتے ہیں):آیوڈین کی قلت کے سبب ہوتا ہے
ہم پچھلے باب میں چھوت کی بیماریوں(Communicable diseases)پر تغذیے کے بیشتر اہم اثرات کا بیان کرچکے ہیں ۔چھوت کی چھ خطرناک بیماریوں یعنی پولیو،خناق یا ڈفتھیریا(Diphtheria)،ٹی بی،کالی کھانسی (Pertusis)، خسرہ اورٹٹنس(Tetanus) کے سبب بچوں کی شرحِ اموات اور بیماریوں میں اضافہ ہوتا ہے،خاص طور پر ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملکوں میں شرحِ اموات میں اضافے کا سبب کم عمری میں بیماری کا حملہ ہے۔صورتِ حال اس وقت اور خراب ہوجاتی ہے جب بچہ انفیکشن اورغذائی قلت دونوں کا شکار ہوجاتا ہے۔عمر کے پہلے سال کے مختلف مراحل میں ہی ٹیکے لگوانے سے بچوں کو چھوت کی بیماریوں سے مقابلہ کرنے کے لیے ضروری تاحیات مامونیت (Immunity) حاصل ہوجاتی ہے۔
دیہی اور قبائلی علاقوں میں ، صحت کے مراکز تک رسائی نہ ہونے،آب وہوا،بعض مقامی رسوم ورواج،علاج کے روایتی اور غیرمجرّب طریقے جیسے عوامل کے سبب بچوں کے متعدی بیماریوں سے متاثر ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے لوگوں کو ملاوٹی غذاؤں کے نقصانات،صفائی ستھرائی کی خراب صورتِ حال ،شخصی حفظانِ صحت کی طرف سے لاپروائی اور ان باتوں کے بیماریوں کا سبب ہونے کے بارے میں معلومات فراہم کرنا ضروری ہے۔
اپنی پیش رفت کی جانچ کیجیے
- ڈی پی ٹی(DPT)اوپی وی(OPV)اور بی سی جی(BCG)کے ٹیکے کس لیے ہوتے ہیں؟
- اسہال کے نتیجے میں پانی کی کمی کیوں ہوجاتی ہے؟
- شیرخواربچوں کو تغذیے کی قلت سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچانے کے لیے ماں کی صحت اور تغذیہ کیوں اہم ہے؟
- تکمیلی غذاؤںکی زمرہ بندی کیجیے۔
12.3 پری اسکول بچوں کا تغذیہ اور ان کی صحت و سلامتی(1-6سال)
(Nutrition, health and well-being of preschool children,1-6 years)
جیسا کہ آپ جانتے ہیں ،پری اسکول عمر کے بچے بہت توانا،فعال اورپُرجوش ہوتے ہیں۔شیر خوارگی کے دوران نمو کی تیز رفتاری نسبتاً کم ہوجاتی ہے لیکن اب بھی بچہ بہت فعال ہوتا ہے اوراس کی جسمانی،ذہنی اور نفسیاتی نموجاری رہتی ہے۔
بچے پری اسکول عمر میں کھانا کھانے ، چبانے اورنگلنے کے طریقے سیکھتے ہیں ۔اسی لیے یہ بچوں کو صحت بخش کھانوں اور ہلکے ناشتوں(Snacks) سے واقف کرانے کا سب سے اچھا وقت ہے۔اس زمانے میں بچوںمیں پیدا ہونے والی کھانے پینے کی اچھی عادتیں بعد کی زندگی میں ان کے کھانے پینے کے طریقوں کو متاثر کرتی ہیں۔
پری اسکول بچوں کی تغذیاتی ضروریات
(Nutritional needs of preschool children)
پری اسکول بچوں کی بنیادی تغذیاتی ضروریات دیگر افراد خانہ جیسی ہی ہوتی ہیں۔لیکن ان کی بعض ضروریات،عمر،قد،وزن، صحت مندی اور فعالیت کے پیش نظر دوسروں سے الگ بھی ہوتی ہیں۔بچوں کی نمو اور نشوونما کے لیے بہت زیادہ تو انائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
| جدول4:پری اسکول بچوں کے لیے مجوزہ تغذیاتی عناصر | ||
| (آئی سی ایم ا ٓرکے تجویز کردہ) | ||
| تغذیاتی عناصر | عمر:1 سے 3 سال | عمر:4 سے 6 سال |
| توانائی (کلوکیلوری۔kcal) | 1240 | 1690 |
| پروٹین (گرامg) | 22 | 30 |
| چربی | 25 | 25 |
| کیلشیم(ملی گرامmg) | 400 | 400 |
| لوہا (mg) | 12 | 18 |
| وٹامن:ریٹینول(Retinol)(µg) | 400 | 400 |
| ( یا)بیٹا کیروٹین ( Beta-carotene) (µg) | 1600 | 1600 |
| تھائی مین (mg) | 0.6 | 0.9 |
| ریبوفلیوین(Riboflavin) (mg) | 0.7 | 1.0 |
| نائی سین (Niacin)(mg) | 8 | 11 |
| وٹامن سی(mg) | 40 | 40 |
| پائری ڈاگزین(Pyridoxine(mg) | 0.9 | 0.9 |
| فولک ایسڈ(Floic Acid)(mg) | 40 | 40 |
| وٹامن بی12(µg) | 0.2-1 | 0.2-1 |
یہ بات بھی دھیان دینے کی ہے کہ بنیادی نقصانات(Basal losses)
اورزائداحتیاجات ( additional requirements)کی وجہ سے الگ الگ بچوں کی ضروریات الگ الگ ہوتی ہیں۔
پری اسکول بچوں کے لیے صحت بخش تغذیے کے رہنما اصول
(Guidelines for health eating for preschoolers)
ہم جانتے ہیں کہ شروع سے ہی، بچوں میں بہت سی دیگر عادتوں کی طرح کھانے پینے کی اچھی عادتیں پیدا کرنا بھی بہت ضروری ہے۔بچوں کو یہ بتانے کے لیے کہ’’ صحت بخش کھانا کھانا ،صحت مند طرزِزندگی کا حصہ ہے‘‘،ہم درج ذیل تجاویز پر عمل کرسکتے ہیں:
- گھرکے سارے لوگوں کا ایک ساتھ کھانا کھانابہتر ہے۔گھروالوں کے ساتھ خو ش گواراور پُرلطف ماحول میں کھانا کھانابچوں کے لیے مددگار ہوتا ہے۔بچے گھروالوں کی کھانے پینے کی عادتوں کی نقل کرتے ہیں اور انھیں کو اپنا لیتے ہیں۔
- بچوں کو مختلف قسم کی غذائیں ان کی عمر کے مطابق مقدار میں دی جانی چاہئیں۔بچوں کو یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ پلیٹ کا سارا کھانا ختم کرنا ضروری ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ انھیں پلیٹ کا سارا کھانا ختم کرنے کے لیے پورا وقت بھی دیا جانا چاہیے ۔
- کھانے اور ناشتے کے اوقات میں باقاعدگی ہونی چاہیے تاکہ بچوںکو اچھی طرح بھوک لگ سکے۔
- بچوں کی پسندیدہ غذاؤں کے ساتھ ساتھ دستر خوان پر نئے کھانے بھی ہونے چاہئیں۔کھانے میں دل چسپی پیدا کرنے کے لیے بھاری،ہلکے اور خوش رنگ کھانوں کے درمیان توازن رکھنا چاہیے۔
- کھانے ایسے ہونے چاہئیں جنھیں بچے آسانی سے کھاسکیں،مثلاً چھوٹی سینڈوچ،چپاتی رول،چھوٹے سموسے، اڈلی، ثابت پھل اور خوب ابلے ہوئے انڈے۔
- بچوں کو ایک جگہ بیٹھا کر کھانا کھلانا چاہیے نہ کہ اس وقت جب وہ چل پھر رہے ہوں۔بچے آرام سے کھانا کھاسکیں اس کے لیے بیٹھنے کا صحیح بندوبست ہونا چاہیے۔
- سب سے اہم بات یہ ہے کہ کھانے سے پہلے بچے آرام کرلیں۔تھکاہوا بچہ ممکن ہے کھانے میں دل چسپی نہ لے۔
- بچوں کو کھاناکھانے اور سارا کھانا ختم کرنے کے لیے نہ توکوئی لالچ دی جانی چاہیے ،نہ سزا۔یہ بات صحت بخش غذائی عادتیں ڈالنے کی کوششوں کو نقصان پہنچاسکتی ہے۔
پری اسکول بچوں کے لیے متوازن خوراک کی منصوبہ بندی
(Planning balanced meals for preschool children)
ایک فعال پری اسکول عمر کے بچے کی توانائی کی ضرورت بعض بڑی عمر کی عورتوں کے برابر ہوسکتی ہے ۔اس لیے ہمیں بچوں کے کیلوریوں کے استعمال پر پابندی نہیں لگانی چاہیے۔ اگربچے کو اس کی سرگرمی اورنمو کی رفتار کے پیش نظر متوازن اور تغذیہ بخش غذا سے محروم رکھا گیا تو وہ بالغ ہو کر مکمل قدوقامت حاصل کرنے کے جینیاتی امکانات کو بروئے کار نہیں لا سکے گا۔اس سے اس کی صحت بھی متاثر ہوگی۔اگر بچوں کی غذا میں پروٹین،وٹامن’اے‘اور لوہے کی کمی ہو تو وہ بالترتیب پروٹین توانائی غذائی قلت) (PEM،زیروف تھیلمیا(Xerophthalmia)، وٹامن‘اے‘کی کمی اور خون کی قلت کے شکار ہوجاتے ہیں۔آیوڈین کی کمی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی روک تھام کے لیے بہترین طریقہ آیوڈین آمیزنمک کا استعمال ہے۔
پری اسکولی بچوں کی خوراک کے تین پہلو بہت اہم ہیں:
- کھانوں کی ساخت،ذائقے،خوش بو اور رنگ میں تنوع۔اس سے بچوں میں تغذیہ بخش غذائیں لینے کا شوق پیدا ہوگا اورطرح طرح کی غذاؤں سے ان کی واقفیت بڑھے گی۔
- مرکب کا ربو ہائیڈ ریٹ، ہلکے پروٹینوں اور ضروری چربیوں کا توازن۔
- مٹھائیوں،آئس کریم،مرغّن فاسٹ فوڈ اور بہت باریک آٹے کے استعمال میں اعتدال۔
کیا آپ کو وہ پانچ غذائی گروپ یاد ہیں جن کے بارے میں آپ نے حصہ اول کے تیسرے باب میں پڑھا تھا۔آئی سی ایم آر (ICMR)نے جوپانچ غذائی گروپ تجویز کیے ہیں ان کی مدد سے ہماری تجویز کردہ غذاؤں کے مطابق متوازن خوراک کی منصوبہ بندی کی جاسکتی ہے۔روزانہ خوراک کی منصوبہ بندی کرتے وقت،ہر گروپ کی غذاؤں کا انتخاب ضروری ہے۔ اس منصوبہ بندی کو زیادہ سہولت بخش بنانے کی غرض سے،آئی سی ایم آرنے مختلف عمر وں کے لیے خوراکیں تجویز کی ہیں۔پری اسکول بچوں کی متوازن خوراک میں شامل مختلف غذائی گروپوں کی مقدار معلوم کرنے کے لیے جدول 5 ملا حظہ کیجیے۔
جدول5:پری اسکول بچوں کے لیے متوازن خوراک
آئی سی ایم آر کی تجویز کردہ
| نمبر شمار | غذائی گروپ | مقدار(گرام) 1-3سال |
6-4سال |
| 1- | اناج،اور جوار باجرا | 120 | 210 |
| 2- | دالیں | 30 | 45 |
| 3- | دودھ(ملی لیٹر) | 500 | 500 |
| 4- | پھل اور سبزیاں،آلو، گاجر، مولی وغیرہ ہری پتیوں والی سبزیاں دیگر سبزیاں پھل |
50 50 50 100 |
100 50 50 100 |
| 5- | شکر | 25 | 30 |
| چربی/تیل(ظاہری) | 20 | 25 |
اب ہم پری اسکول بچوں کے لیے تین کھانوں اور دو ناشتوں کی منصوبہ بندی کرسکتے ہیں۔آپ کو لفظ ناشتوں پر کچھ حیرت ہوسکتی ہے؟ چھوٹے بچوں کے لیے، تین وقت کے کھانوں میں تمام ضروری تغذیہ حاصل کرپانا مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے کھانوں کے درمیان صحت بخش ہلکے ناشتے ضروری ہیں تاکہ بچوں کو تمام ضروری کیلوریاں اورتغذیاتی عناصر فراہم ہوسکیں۔اس کے علاوہ یہ بھی کہ ناشتے میں نئی غذائیں بھی شروع کرائی جاسکتی ہیں۔ناشتے کا سامان اسکول لے جانے کے لیے بھی مناسب ہوتاہے۔
آئیے ہم ایک ایسی صورت حال پر غور کرتے ہیں جس میں ہمیں کسی پری اسکول بچے کے لیے ناشتہ اور کھانا تیار کرنا ہے۔اپرنا ایک کام کرنے والی ماں ہے اور اس کا رگھونام کا ایک چار سالہ بٹیا ہے۔اپرنا رگھوکے لیے درج ذیل کھانے تیار کرتی ہے ۔

صبح کا ناشتہ(Breakfast):دودھ میں پکاہوا گیہوں کا دلیہ ،تین بادام،پانچ چھ کشمش اور ایک سیب کے ساتھ۔
اسکول کا ناشتہ(School Tiffin):مسلا ہوا ابلا انڈا ،گھسی ہوئی گاجر اورچٹنی کے ساتھ دوسینڈوچ اور پینے کے لیے پھل کا رس۔
دوپہر کا کھانا (Lunch):(جو اپرنا اپنے بچے کے لیے تیار کر کے چھوڑ گئی ہے)پالک چاول،دہی، ابلے چنے اور ٹماٹر کی چاٹ۔
شام کے ناشتے کے لیے ماں نے اپنے بچے کے لیے مِلک شیک،بچے کی پسند کے کسی ناشتے اوراچھی مقدار میں مونگ پھلی کے دانوں کا انتخاب کیا۔
رات کے کھانے میں ماں نے دال؍مرغ کا گوشت،چپاتی اور ایک موسمی سبزی رکھی۔
اپنے پری اسکول بچے کو متوازن خوراک دینے کے لیے اپرنا کی ان کوششوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
دیہات کے بچوں کو جو ناشتہ دیا جاتا ہے ان میں مُرکّو(Murukku) ،لڈو،اُپما،مٹّھی اور چُروتوChurutu) ( وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔چوں کہ یہ سب روایتی کھانے ہیں اس لیے خاصے تغذیہ بخش ہوتے ہیں لیکن ان میں روغن اور شکر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔دیہی بچوں کی شدید سرگرمیاں زیادہ توانائی مانگتی ہیں، اس لیے اس قسم کا ناشتہ ان بچوں کی کیلوریوں کی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔
کم لاگت کے ناشتے کی کچھ مثالیں
(Some example of low cost snacks)
—سویابین کی دال اور سورج مکھی پھول کے بیجوں کومساوی مقدارمیں پیس کر ملایا جائے اور پھرا س میں خمیر اٹھایا جائے۔
—میٹھی چِکّی)ـ(Chikki(مونگ پھلی کی روایتی چکی) ہندوستان کے دیہی اور نیم دیہی علاقوں میں بہت مقبول ہے۔
—دیسی غذائیں جیسے چاول،لوبھیا،چنے اورسدا بہار کے آٹے اورگڑ کو تیل میں برابر برابر مقدار میں ملا کر کئی طرح کے ناشتے تیار کیے جاسکتے ہیں۔
—سندل(Sundal)،پیاسم(Payasam)،ڈھوکلا اور اُپما بہت مقبول ناشتے ہیں۔
—موسمی اور مقامی طور پر دست یاب سبزیوں سے تیار شدہ سوپ۔ کھانے سے بچی ہوئی سبزیاں،دالیں اور اناج بھی اس میں ملائے جاسکتے ہیں۔
—مسالے دار سینکے ہوئے آلو۔
—پاستا(Pasta)مثلاً نوڈل یا میکرونی، پنیر او رسبزیوں کے ساتھ۔
— چاول،گیہوں یا مکئی کے آٹے سے تیار شدہ چیوڑا،موسمی سبزیوں اور چٹنی کے ساتھ ۔
سرگرمی2
اگرآپ سے ایک چار سالہ بچے کی صبح 10 بجے سے شام 6بجے تک دیکھ بھال کرنے کو کہا جائے تو آپ متوازن خوراک کے پیش نظر بچے کے کھانے اور ناشتے میں کیا چیز یں تیار رکھیں گے۔
خصوصی ضروریات والے بچوں کی غذا
(Feeding children with special needs)
خصوصی ضرورتیں رکھنے والے بچوں کے کھانے پینے کا انتظام کرنے میں اکثر دشواریاں پیش آتی ہیں۔ایسے بچوں کو غذا اور دیگر تغذیاتی وسائل فراہم کرتے ہوئے تین اہم پہلوؤں کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔
مشاہدہ:کھانا کھانے کے دوران بچے کے رویے اور کھانے پینے کے معاملے میں ان کی پیش رفت پر نگاہ رکھیے۔ کھانے کو سنبھال کر منہ تک لے جانے کی ان کی صلاحیت ، پسندیدہ غذاؤں اور بعض غذاؤں سے بے رغبتی وغیرہ کا غور سے مشاہدہ کیجیے۔ان بچوں کو ایسی عادتیں ڈالنے میں مدد دیجیے جن سے وہ مناسب تغذیہ حاصل کرسکیں اور ہنسی خوشی کھانا کھائیں۔
کھانا کھانے کا سلیقہ پیدا کرنا:اگر بچوں میں کسی قسم کی معذوری ہوتی ہے تو ان کو کھانے میں وقت زیادہ لگتا ہے۔انھیں اکثر کھانے میں محنت کرنی پڑتی ہے اور وہ خود کھانا برباد بھی کردیتے ہیں۔جب وہ کھانا کھانا سیکھ رہے ہوں توخوش مزاجی کے ساتھ ان کی مدد کیجیے تاکہ ان میں کھانے کا شوق پیدا ہو اوروہ اس سے دور نہ بھاگیں۔
دھیان رکھیے کہ کھانے کے وقت بچہ آرام سے بیٹھے۔اگروہ خود کھا سکتا ہے تو آپ اس کو اپنے ہاتھوں سے کھلانے کی کوشش نہ کیجیے۔
بچے کو خود سے کھانے میں مدد کیجیے۔
بچہ جیسے جیسے بڑا ہوتاجائے اس کو مختلف قسم کے کھانوں کی عادت ڈالیے۔ضرورت ہو تو امدادی آلات بھی فراہم کیجیے۔اس بات پر دھیان دیجیے کہ بچہ کیا کھانا چاہتا ہے،کہاں کھانا چاہتا ہے اور کھانا چاہتا بھی ہے یا نہیں۔کھانے کے اوقات میں باقاعدگی لائیے۔
خصوصی خوراک: بعض بچوں کی صلاحیتوں کے لحاظ سے ان کی خوراک اورکھانا کھانے کے معمولات میں تبدیلی کرنی پڑتی ہے۔اسپاسٹک(Spastic) بچوں کو بعض چیزیں کھانے میں دشواری ہوتی ہے۔پتلے رقیق کھانوں کو گاڑھا اور خشک اور نیم ٹھوس کھانوں کے چھوٹے ٹکڑے کیے جاسکتے ہیں یا نرم بنایا جاسکتا ہے تاکہ بچے انھیں آسانی سے کھاسکیں۔ضرورت پڑنے پرکھانے کی نلکی کا بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
معذور بچوں میں موٹا ہوجانے کا رجحان ہوتا ہے ۔اس سے بھی کھانا کھانے میں دشواری ہوتی ہے۔جن بچوں کوآٹزم (Autism)ہو، ان کا ذائقہ اور سونگھنے کی حِس تبدیل ہو جاتی ہے اور اس کے اثرات غذاؤں کی پسند یانا پسند پر پڑتے ہیں۔ان کی پسند ،نا پسند کے مطابق خوراک میں چکنائی کی مقدار میں اضافہ ،رقیق چیزوں کی مقدار میں کمی،زاید چکنائی،محدود مقدار میں رقیق چیزوں یا ایسی ہی دیگر تبدیلیوں کی ضرورت پیش آسکتی ہے ۔
خصوصی ضروریات والے بچے کو جن غذاؤں سے ایلرجی(Allergy) ہو انھیں اس کے کھانے میں شامل نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ ان غذاؤں سے اسے نقصان پہنچ سکتا ہے۔
مامونیت(Immunisation)
اس عمر میں چھوت کی بیماریوں سے مقابلہ کرنے کے لیے کچھ اور ٹیکے بھی لگائے جانے ضروری ہیں۔ذیل میں جدول 6 دیکھیے اور دھیان دیجیے کہ اب پری اسکول بچے کو ڈی پی ٹی(DPT)اور او پی وی(OPV)کی تقویتی خوراک) (BoosterDoseکے علاوہ ایم ایم آر(MMR)اور ٹائیفائڈ کے ٹیکے بھی لگائے جانے ہیں۔
| جدول 6 : پری اسکول بچوں کے ٹیکوں کا پروگرام(Immunisation Schedule) | |
| بچے کی عمر | ٹیکہ |
| 15-18ماہ | ایم ایم آر(MMR)،(خسرہ(Measles)،ممپس(Mumps)، روبیلا (Rubella)کے لیے) |
| 16ماہ سے 2سال تک | ڈی پی ٹی(DPT)اور اوپی وی(OPV)کی تقویتی خوراکیں |
| 2سال | ٹائیفائڈ کا ٹیکہ |
| 5سال | ڈی ٹی(DT) |
| 10-16سال | ٹیٹنس ٹاکسائڈ (ٹی ٹی)(Tetanus Toxoid) (TT) |
| 36,30,24,18ماہ | وٹامن’اے‘(قطرے) |
اپنی پیش رفت کی جانچ کیجیے
1۔ چار سالہ بچے کو کتنے کلوکیلوری؍توانائی کی ضرورت ہوتی ہے؟
2۔پری اسکول بچوں کی غذا میں آیوڈین،لوہے،کیلشیم اور پروٹین کی کیا اہمیت ہے؟
3۔ پری اسکول بچوں کی خوراک کی منصوبہ بندی کے وقت کون سے تین پہلوؤں کونظر میں رکھنا ضروری ہے؟
4۔پری اسکول بچوں کی خوراک میں ناشتوں کی کیا اہمیت ہے؟
5۔ایم ایم آرٹیکہ کس لیے ہوتا ہے؟
12.4اسکولی بچوں(7-12سال)کی صحت ،تغذیہ اور سلامتی
(Health, nutrition and well-being of school -age children (7-12 Years)
اس عمر میں بچے جسمانی طور پر بہت فعال اور سرگرم ہوتے ہیں۔ چھوت کی بیماریاں اس دوران کم ہوتی ہیں۔ بچے اب کافی طاقت ور ہوجاتے ہیں۔آپ نے غور کیا ہوگا کہ اس عمر میں نمو کاعمل ذرا سست رفتار ہوجاتا ہے۔جسمانی تبدیلیاں اب بہ تدریج ہوتی ہیں،خاص طور پر 9 سے10سال اور اس سے بڑی عمر کے بچوں میں،جب لڑکوں اور لڑکیوں کی نمو کے انداز مختلف ہوجاتے ہیں۔
اسکولی بچوں کی تغذیاتی ضرورتیں
(Nutritional requirement of school children)
اگرچہ یہ بچے کی نمو میں کمی کازمانہ ہے، پھر بھی اس دوران بچے کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوجاتاہے۔اس لیے اس کی توانائی کو برقراررکھنابہت اہم ہوتاہے۔ نوسال کی عمر تک لڑکوں اورلڑکیوں کی تغذیاتی ضروریات یکساں رہتی ہیں۔اس کے بعد لڑکوں اورلڑکیوں کی بعض تغذیاتی ضروریات میں فرق آجاتاہے۔ لڑکیوں کی توانائی کی ضروریات تقریباً لڑکوں جیسی ہی رہتی ہیں لیکن ہڈیوں کی نمو اور پہلے حیض کی تیاری کے لیے ان کو پروٹین، لوہے اورکیلشیم کی زیادہ ضرورت پیش آتی ہے۔ دس سے بارہ سال کے لڑکوں کو نو بلوغت کے دوران نمو کے عمل میں شدت آجانے کے پیش نظر،توانائی کا محفوظ ذخیرہ برقرار رکھنے کے لیے زیادہ کیلوریاں درکار ہوتی ہیں۔
| جدول7:اسکولی بچوں(12-7سال)کے لیے تغذیاتی وسائل (آئی سی ایم آر کے ذریعے تجویز کردہ) |
|||
| عمر (برسوں میں) | |||
| تغذیاتی عناصر | 7-9 | 10-12 |
|
| لڑکے | لڑکیاں | ||
| توانائی (کلو کیلوری) | 1950 | 2190 | 1790 |
| پروٹین(گرام) | 41 | 54 | 57 |
| چربی(گرام) | 25 | 22 | 22 |
| کیلشیم(ملی گرام) |
400 | 600 | 600 |
| لوہا(گرام) |
26 | 34 | 19 |
| وٹامن ’اے‘ ریٹی نول(µg)یا بی کیروٹین(µg) |
600 2400 |
600 2400 |
600 2400 |
| تھائی مین( ملی گرام) |
1.0 | 1.1 | 1.0 |
| ریبوفلیوین(ملی گرا م ) |
1.2 | 1.3 | 1.2 |
| پائری ڈاگزین(ملی گرام) |
1.6 | 1.6 | 1.6 |
| فولک ایسڈ(µg) |
60 | 70 | 70 |
| ایسکا ربک ایسڈ(ملی گرام) |
40 | 40 | 40 |
| وٹامن بی12(ملی گرام) |
0.2-1 |
0.2-1 |
0.2-1 |
| نائی سین(ملی گرام) |
13 | 15 | 13 |
اسکولی بچوں کے لیے خوراک کی منصوبہ بندی
(Planning diets school-age children)
پری اسکول بچوں کی خوراک کی منصوبہ بندی کے تمام پہلوؤں اوررہنما اصولوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو اسکول جانے کی عمرتک بچوں میں کھانا کھانے کا ایک خاص قرینہ پیدا ہونے لگتا ہے۔ لیکن اسکول جانے والے بچوں کے لیے متوازن خوراک کی منصوبہ بندی کے بعض اور پہلو بھی ہیں۔ہم ان پہلوؤں پر مختصر اً گفتگو کریں گے۔
کھانوں کی مختلف قسمیں: ہم جانتے ہیں کہ بچے کو ہرروز جتنے تغذیاتی عناصر کی ضرورت ہوتی ہے وہ کسی ایک غذا سے ہی حاصل نہیں ہوسکتے۔اس لیے مختلف قسم کی غذاؤں کا استعمال ضروری ہے۔اس سے کھانوں کی پسندیدگی میں بھی اضافہ ہوگا۔

اچھے تغذیے پر توجہ:ہم جانتے ہیں کہ اس عمر میں بچو ں کو پروٹین ،کیلشیم ،لوہے اور آیوڈین کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔بچوں کو شوق دلانا چاہیے کہ وہ پھل،سبزیاںاور سالم اناج کھائیں۔سبزیوں اور پھلوں سے بچوں کی خوراک میں اہم تغذیاتی عناصر کی مقدار بڑھ جاتی ہے اورسالم اناجوں سے دل کے امراض اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کا اندیشہ کم ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ اس سے پہلے بتایا جا چکا ہے، آیوڈین ملا نمک، آیوڈین کی کمی دور کرنے کا سب سے آسان طریقہ ہے۔
شکر،نمک اورثقیل چربی کا محدود استعمال :آپ جانتے ہیں کہ اسکول جانے والے بچوں کی نشو و نما کی رفتار کم ہوجاتی ہے۔چربی کی کیلوریز کا تناسب کیلوریزکی مجموعی مقدار کے 20فی صد تک ہی رکھیے۔ چربی اور شکرکی زیادہ مقدار والی خوراک سے موٹاپے اور متعلقہ بیماریوں کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے ۔زیادہ شکر والی غذائیں دانتوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ سوڈیم (Sodium) کا زیادہ استعمال بلڈپریشر بڑھاتا ہے جس سے دل کا دورہ ،گردے اور دل کی بیماریاں ہوسکتی ہیں۔کیا آپ جانتے ہیں کہ آج کل چھوٹے بچے بھی ذیابیطس اور بلڈ پریشر کے شکار ہورہے ہیں؟
صبح کے ناشتے پرتوجہ: صبح کا ناشتہ ایک خصوصی کھانا ہے۔اس میں پروٹین اور توانائی زیادہ ہونی چاہیے۔ بچے کورات بھر بھوکا رہنے کے بعد صبح کا ناشتہ کبھی چھوڑنے نہ دیجیے۔صبح کا ناشتہ نہ کرنے سے اس کی جسمانی اور ذہنی کارکردگی پر برا اثر پڑے گا اور کیلوریوں اورتغذیے کے نقصان کی تلافی دن بھر نہ ہوسکے گی۔
خوراک کی منصوبہ بندی میں بچوںکی شرکت: بچے بڑے ہونے لگیں تو خوراک کی منصوبہ بندی میں انھیں بھی شریک کیا جانا چاہیے۔اس سے انھیں صحت بخش غذاؤں سے دل چسپی پیدا ہوگی۔امریتا کا 8سال کا بیٹا اور 10سال کی بیٹی ہے۔وہ ان سے ان کی پسند کے کھانوں کے انتخاب اورمتوازن خوراک کی منصوبہ بندی کے بارے میں بات چیت کرتی ہے۔وہ خریداری کے لیے جاتی ہے تو انھیں بھی ساتھ لے جاتی ہے اورانھیں بتا تی رہتی ہے کہ کھانے کا سامان خریدتے وقت کن کن باتوں کا دھیان رکھنا ضروری ہے۔کیا آپ یہ نہیں سمجھتے کہ وہ اس طرح تغذیہ بخش کھانوں کو بچوں کے لیے پُرکشش بنا رہی ہے؟اس کے علاوہ یہ بھی کہ بچوں کوعمر کے لحاظ سے مناسب کھانے پکانے اور پروسنے کا کام بھی سکھایا جانا چاہیے۔اس سے بچے غذاؤں کے بارے میں مثبت انداز سے سوچنے پر مائل ہوتے ہیں۔
متوازن کھانے کی منصوبہ بندی سے متعلق رہنما اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ،اسکولی بچوں سے متعلق آئی سی ایم آرکی مجوزہ غذاؤں کی مقدار جدول 8میں دیکھی جاسکتی ہے۔
جدول8:اسکول جانے والے بچوں کی متوازن خوراک(آئی سی ایم آر)
| نمبرشمار | غذائی گروپ | مقدار(گرام) | ||
| 7-9سال | 10-12سال لڑکے |
لڑکیاں | ||
| 1- | اناج اور جوار،باجرہ | 270 | 330 | 270 |
| 2- | دالیں اور پھلیاں | 60 | 60 | 60 |
| 3- | دودھ اوراس سے بنی چیزیں | 500 | 500 | 500 |
| 4- | سبزیاں اورپھل آلو،مولی،گاجر وغیرہ ہرے پتوں والی سبزیاں دیگرسبزیاں |
100 100 100 100 |
100 100 100 100 |
100 100 100 100 |
| 5- | شکر چربی |
30 25 |
30 25 |

امریتا اپنے اسکول جانے والے بچوں کو تین متوازن خوراکیں اور دو صحت مند ناشتے دینے پرخصوصی توجہ دیتی ہے۔آئیے دیکھتے ہیں کہ آج اس نے اپنے بچوں کے لیے کیا کھانے پکائے ہیں؟آپ اس منصوبے کو خود بھی آزماسکتے ہیں۔
—صبح کا ناشتہ:دودھ اور کارن فلیک (Cornflakes)، سوجی کا اُپما،ایک سیب اور کوئی موسمی پھل
—اسکول کا ناشتہ:بیٹی کے لیے انڈے بھرا سینڈوچ اور بیٹے کے لیے پنیربھرا سینڈوچ (بیٹے کو انڈے سے ایلرجی ہے)اورپھل کا رس۔
—دوپہر کا کھانا:سبزی پلاؤ، ٹماٹر ،کھیرے کی سلاد اورلسّی
—شام کا ناشتہ:ابلے آلو اور انکر نکلی(Sprout) مونگ کی چاٹ
—رات کاکھانا:بنگالی چنے کی دال یامرغ کا سالن،اوکر ااور پیازکی سبزی،چپاتی اور کچی سلاد۔
جنوبی ہندکے دیہی علاقوں میں صبح کے ناشتے میں اُپما (کیلے کے ساتھ)،پوتو(Pootu) (چنے کے سالن یا کیلے کے ساتھ)،اڈلی یا ڈوسا (سانبھر؍ناریل کی چٹنی کے ساتھ)،یااپّم(Appams)(آلو؍مرغ کے سالن کے ساتھ)شامل ہوتا ہے، جب کہ شمالی ہندکے دیہی علاقوں میں پراٹھے اور لسّی یا آلوپوری کا استعمال عام ہے۔ چاول کے آٹے سے بنی کوئی چیز جس میں سیتا پھل کے قتلے بھرے ہوں اورجسے پسے ہوئے میوؤں کے ساتھ کھایاجائے یا چاول کے آٹے سے بنے سیوبھی ناشتے کی چیزوں میں شامل ہیں۔مُرُکّو بھی ایک اور ایسا ہی ناشتہ ہے جو بڑے بچوں کو دیا جاسکتا ہے۔قبائلی علاقوں میں ایسی غذاؤں پر زور دیا جاتا ہے جو جنگل سے حاصل ہوتی ہیں جیسے میوے، بیریاں اور دیگر پھل ؍پھول۔ دن اور رات کے کھانوں میں چپاتیاں،چاول،دالیں اور سبزیاںشامل کی جاسکتی ہیں۔
سرگرمی 3
مان لیجیے کہ آپ کی ایک9 سالہ بہن اور11سالہ بھائی ہے اور دونوں سبزی خور ہیں۔آپ ان کے ناشتے اور رات کے کھانے کے لیے کیا تیار کریں گی۔
پری اسکول اور اسکولی بچوں کی خوراک پر اثر انداز ہونے والے عوامل
(Factors that influence diet intake of preschool-age and school-age children)
بچوں کے کھانوں کی تیاری اور منصوبہ بندی کے باوجود ،ممکن ہے کہ انھیں بعض اہم تغذیاتی اجزا حاصل نہ ہو پائیں۔کیا آپ جانتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟اس کی وجہ یہ ہے کہ اس عمر کے بچوں میں کھانے کی عادتیں ترقی پارہی ہوتی ہیں اور بہت سے عوامل ان کی ان عادتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔آئیے ہم ان عوامل پر غور کرتے ہیں۔
گھر کا ماحول: عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ جن گھروں میں بچوں کے لیے ماں باپ کا رویہ حوصلہ افزا ہوتا ہے وہاں بچے جامع انداز سے نشوونما پاتے ہیں۔ہم عام طور پر دیکھتے ہیں کہ گھرکے لوگ ہی ارادی یا غیرارادی طور پر اسکولی بچوں کی غذائی ترجیحات اور غذائی طور طریقوں کو متعین کرنے میں مددگار ہوتے ہیں ۔اس لیے والدین کو چاہیے کہ تغذیے کے بارے میں مناسب اور ضروری معلومات حاصل کریں اور ان معلومات کو بچوں کے لیے خوراک کی منصوبہ بندی میں استعمال کریں۔آرام دہ اور خوش گوار ماحول میں ایک ساتھ کھانا کھانا،کھانے کی اچھی عادتیں ڈالنے اور تغذیہ بخش خوراک حاصل کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔
میڈیا:ٹی وی کے اشتہارات اور بچوں کے پسندیدہ فلم اسٹار، جو مختلف مصنوعات کی تشہیر کرتے ہیں ، بچوں پر گہرا اثرڈالتے ہیں۔زیادہ ٹی وی دیکھنا،زیادہ آزادی حاصل ہونا اور اس سب سے بڑھ کر اشتہارات کے پُرکشش فقرے اس عمر کے بچوں پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔اشتہارات سے متاثر ہو کر بچے ایسی غذاؤں پر اصرار کرنے لگتے ہیں جن میں فائبر کی مقدار کم اور شکر ،چربی اور سوڈیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ۔ اسی طرح، تہواروں کے موقع پر ایسی غذاؤں کی جاذب نظر نمائش جن کو چٹ پٹا بنانے کے لیے نقصان دہ اجزاشامل کیے جاتے ہیں بچوں کو باقاعدہ خوراکوں کے درمیان باربار الّم غلّم چیزیں کھانے پر مائل کرتی ہے، جس کے نتیجے میں باقاعدہ کھانے کی خواہش کم ہوجاتی ہے۔گھر کا بہتر ماحول اس صورت حال سے نمٹنے میں مددگارہوسکتا ہے۔
ہم عمردوست: جب بچہ اسکول میں داخل ہوتا ہے تو وہ والدین کے بجائے دوستوں سے زیادہ متاثر ہونے لگتا ہے۔اس طرح اب دوستوں کے اثر سے،اسے گھرکے کھانوں کے بجائے باہر کے کھانے زیادہ پسند آنے لگتے ہیں۔اس عمر کے بچے، مناسب تغذیہ حاصل کرنے کے معاملے میں، ان غذاؤں پر منحصر نہیں رہتے جو ان کے لیے ضروری ہیں بلکہ ان غذاؤں کی طرف راغب ہوتے ہیں جو ان کے دوست کھاتے ہیں۔بچے عام طور پر اپنے دوستوں کے ساتھ خوب کھاتے پیتے ہیں ۔ان کو اسکول کے لیے جو ناشتہ دیا جاتا ہے اسے اکثر وبیشتر ختم کر لیتے ہیں۔بچے اپنے دوستوں کے ساتھ ایسی نئی نئی غذائیں بھی کھالیتے ہیں جنھیں وہ بہ صورت دیگر نہیں کھاتے۔دوستوں کا حلقہ پری اسکول بچوں میں کھانے کی اچھی عادتیں ڈالنے میں بہت مددگار ہوتا ہے۔
سماجی اور ثقافتی اثرات: ہر علاقے کی مخصوص غذائیں اور ذائقے ہوتے ہیں۔گھر کے لوگ بچوں کو بھی عموماً وہی کھانے کھلاتے ہیں جو وہ خود کھاتے ہیں۔گھروالوں کے ساتھ کھانا کھانے سے، بچے اپنے علاقے کی مخصوص غذاؤں کے ساتھ ساتھ دوسرے علاقوں کی غذاؤں کو بھی پسند کرنے لگتے ہیں ۔مثلاً شمالی ہند کے بچے جنوبی ہند کے کھانے(جیسے اڈلی اور ڈوسا)شوق سے کھاتے ہیں اور اسی طرح جنوبی ریاستوں کے بچے شمالی ہند کے پراٹھے اور راجما چاول کے مزے لیتے ہیں۔
وقت پر بھوک نہ لگنا:آپ دیکھتے ہوں گے کہ بچے ایک وقت خوب کھانا کھاتے ہیں اور دوسرے وقت کھانے سے بالکل انکار کردیتے ہیں۔اس سے پریشان نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ یہ وقتی رویے ہیں اور اگر لالچ دینے، سزایاسختی کے ذریعے ان رویوں کو شدید تر نہ کیا جائے تو ان پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
صحت بخش عادتیں (Healthy habits)
اب آپ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اچھی صحت جسمانی اور جذباتی سلامتی پر مشتمل ہوتی ہے۔ کھانے میں مناسب تغذیاتی اجزا کی موجودگی کے علاوہ اسکولی بچوںمیں صحت بخش عادتیں پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔
- سمجھ داری سے کھاناکھانے کی عادتیں : اس عمر میں بچے اکثر چیونگ گم چباتے ہوئے ٹی وی سے چپکے رہتے ہیں اور کوئی جسمانی کام نہیں کرتے۔رادھا نے اپنی ذہانت کا استعمال کر کے اس صورت حال سے بچنے کا ایک نیا حل نکالا ہے۔وہ ایسے موقعوں کے لیے،پھلوں اورسبزیوں کی سلاد، خشک میوؤں،ابلے چنے،انکر والے اناج ،سلادکے پتوں ،بھاپ میں پکے گاجروں ، پھلیوں،توفو(Tofu)یا پنیر کے ٹکڑوں کے ساتھ تیار کر کے اور ان کو کریم وغیرہ سے اچھی طرح سجاکر بچوں کے آگے رکھ دیتی ہے۔وہ کہتی ہے کہ وہ ان چیزوں میں رد و بدل کرتی رہتی ہے اور ان کے خیالی نام بھی رکھ دیتی ہے۔
- جسمانی سرگرمی کی حوصلہ افزائی : کھانے کی صحت بخش عادتوں اور جسمانی سرگرمی کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ 45سے60منٹ کی معتدل جسمانی محنت خاصی صحت بخش ہوتی ہے۔ٹیلی ویژن دیکھنے کا وقت کم کیا جانا چاہیے اور اس کے بجائے کھیل کود کی حوصلہ افزائی کی جا نی چاہیے۔بچوں کو اس بات کا شوق بھی دلائیے کہ وہ اسکول کی غیر نصابی سرگرمیوں اوردیگر سماجی سرگرمیوںمیں حصہ لیں۔والدین کو بھی چاہیے کہ وہ سرگرم طرزِزندگی اور صحت بخش غذائی عادتوں کی مثال بنیں۔
- صاف ستھری غذا: بچوں کی تربیت اس طرح کی جانی چاہیے کہ وہ صاف ستھرے ماحول میں کھاناکھائیں۔جو کھانے کھائے جائیں ان کو استعمال سے پہلے صاف اور جراثیم وغیرہ سے پاک کرلیا جائے۔بچے، کھانے سے پہلے ہاتھوں، پھلوں اور سبزیوں کو دھوئیں۔ کانتا کھانے کی چیزیں دھونے،کاٹنے اور پکانے کے کام میں اپنے بچوں کو بھی لگالیتی ہے اور سارے کام اپنی نگرانی میں کراتی ہے۔ان بچوں کو صاف ستھرے ماحول میں کھانا تیار کرنے اور کھانے کی عادت پڑچکی ہے۔
- کھانے کی مقدار پرقابو : 9-12 سال کے بچوں کو اندازہ ہوتا ہے کہ ان کو کتنی بھوک لگی ہے۔ اگر وہ کھاناکھا نا نہیں چاہتے تو ان پر اس کے لیے دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے۔اگر وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کا پیٹ بھرا ہوا ہے تو انھیں کھانے پر مجبورکرنا ان کے ساتھ زیادتی ہوگی۔کھاناکھلانے کومحبت کے اظہار کا ذریعہ نہیں بنایا جاناچاہیے۔اس کے علاوہ یہ بھی کہ اگر بچہ تندرست ہے تو اس کا کسی وقت کھانا نہ کھانا کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔ لیکن ایسا نہ ہو کہ کھانانہ کھانا عادت بن جائے۔
اسکولی عمر کے بچوں کے صحت اور تغذیے کے امور
(Health and nutrition issues of school-age children)
پابندی سے ٹیکے لگوانے اورتغذیہ بخش غذائیں فراہم کرنے کا خیال رکھنے کی،والدین کی کوششوں کے نتیجے، میں اب بچے موسمی نزلہ زکام سے مقابلہ کرنے کے قابل ہوگئے ہیں۔
آپ جانتے ہیں کہ آج کل موٹاپے کی وجہ سے بچوں کی صحت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ بڑھتا جارہا ہے۔اس کی بڑی وجہ ایسی مرغن غذاؤں کا استعمال ہے جن میں نمک زیادہ اورفائبر کم ہوتا ہے ۔اس کے علاوہ مشروبات میں شکر زیادہ ہوتی ہے ۔غیر سرگرم طرزِزندگی نے اس صورت حال کو مزید ابتر کردیا ہے ۔یہ شکایت ہمارے سماج کے خوش حال طبقات کے بچوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔
اب سے پہلے ،بچوں میں ٹائپ 2ذیابیطس اور ہائپر ٹینشن(Hypertension)کی شکایت کبھی کبھی ہی نظر آتی تھی مگر آج کل عام ہوتی جارہی ہے۔بچوں میں بڑھتا موٹا پا (Obesity)ان بیماریوں کا اہم سبب ہے۔
تغذیے کی قلت آج بھی کم آمدنی والے لوگوں کے بچوںکی صحت کے لیے سخت نقصان کاباعث ہے ۔غریب گھروں کے بچے خالی پیٹ اسکول چلے جاتے ہیں ۔ اسکول میں ایسے غذائی قلت کے شکار بچوں کی کارکردگی اچھی نہیں رہتی۔ ایسے بچے بیماری اور موت دونوں ہی کے خطروں کی زد میں رہتے ہیں۔
حکومت کی مِڈ ڈے میل اسکیم(ایم ڈی ایم ایس)پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے اسکولی بچوں کو دوپہر کا کھانا مفت مہیا کراتی ہے۔اس اسکیم کے بہت اچھے نتائج بر آمد ہوئے ہیں۔اساتذہ کی رپورٹوں کے مطابق اس کی وجہ سے کلاس رو م میں بچوں کی کا رکردگی اور ان کی توجہ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔اس سے نہ صرف اسکولوں میں بچوں کی تعداد بڑھی ہے بلکہ ترکِ اسکول (Drop out)کی شرح میں بھی کمی آئی ہے۔ایم ڈی ایم ایس سے لڑکیوں کی حاضری بھی بڑھی ہے اور اس طرح تعلیم کے معاملے میں لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان فرق کم ہوا ہے۔
ہم اپنے ملک میں تغذیے کی قلت اورافراط دونوں ہی مسئلوں سے دو چار ہیں۔اس لیے اگرہم صحت بخش تغذیے کے فوائد کادائرہ بڑھاتے رہیں توآگے چل کر اس کے اچھے نتائج بر آمد ہوں گے۔اس کے علاوہ ’اسکول صحت‘ پروگراموں سے بھی، جن کے تحت مفت طبی جانچ اور علاج فراہم کیاجاتا ہے ،بچوں کی مجموعی صحت وسلامتی کو فروغ ملے گا۔
بچوں کی جامع نشو ونما کے لیے، ان کی اچھی نگہ داشت اور معیاری تعلیم ضروری ہے۔اس موضوع پر ہم اگلے باب میں گفتگو کریں گے۔
کلیدی اصطلاحات اور ان کے معنی
تکمیلی تغذیہ(Complementary Feeding): بچوں کی خوراک میں ماں کے دودھ کے علاوہ دیگر غذاؤں کی شمولیت۔
تغذیے کی خرابی(Malnutrition):اس سے قلتِ تغذیہ اورافراط ِتغذیہ دونوںمراد ہیں ۔تغذیے کی قلت میں تغذیاتی عناصر کی کمی اور تغذیے کی افراط میں تغذیاتی عناصر کا زیادہ ہونا جسم کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔
موٹا پا(Obesity): زیادہ چربی جمع ہونے کے نتیجے میں جسم کا وزن معمول سے زیادہ ہو جاتا ہے۔موٹاپا،جسم کے استحالاتی عمل(Metabolism) اور جسمانی سرگرمیوں کے لیے ضرورت سے زیادہ کیلوریوں کا استعمال کرنے سے ہوتاہے۔
ہائپرٹینشن:ہائی بلڈپریشر
ذیابیطس:جسم میں انسولین(Insulin) کی کمی،جس سے خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور پیشاب میں شکر آنے لگتی ہے۔
سوالات برائے نظرثانی
1۔ہمیں اسکولی بچوں کی خوراک میں ثقیل چربیوں(Saturated Fats)،زیادہ شکر اور زیادہ نمک کا استعمال کیوں کم کرنا چاہیے؟
2۔کھانوں کے انتخاب میں بچوں کو شریک کرنے سے خوراک کوصحت بخش بنانے میں کیا مدد ملتی ہے؟
3۔بچوں کے موٹاپے میں اضافہ ہورہا ہے۔وجہ بتائیے؟
4۔مڈڈے میل اسکیم سے بچوں کی صحت اور ان کی اسکولی کارکردگی میں کس طرح بہتری آتی ہے؟
مجوزہ سرگرمیاں
(a) آپ اپنے آبائی گاؤں یا کسی اور گاؤں گئے ہیں۔وہاں آپ دیکھتے ہیں کہ بچے غذائی قلت کے شکار ہیں اور اس کے نتیجے میں انھیں مختلف بیماریاں ہوگئی ہیں۔اگر آپ کو ان بچوں کے والدین سے بات چیت کرنے کا موقع ملے تو آپ مندرجہ ذیل امور کے بارے میں کیا کہیں گے:
(i) بچوں کو بیماریوں سے بچانے کے لیے مناسب تغذیے کا کردار؟
(ii) چھوٹے بچوں کے لیے غذاؤں کا انتخاب؟
(iii) متعدی بیماریاں اور ٹیکوں کی اہمیت؟
(iv) پری اسکول زمانے میں ٹیکہ کاری پروگرام؟
(b) آپ کے پڑوس میں کسی دوسال کے بچے کو بار بار اسہال کامرض ہوجاتا ہے۔آپ اپنے پڑوسی کو درج ذیل امور کے بارے میں معلومات فراہم کیجیے:
- شیر خوار بچوں کی تغذیاتی ضروریات۔
- بچے کی صحت اور اس کی نشو ونماکے لیے ماں کے دودھ کے سوا کوئی اور دودھ نہ دینے کی اہمیت۔
- کم قیمت تکمیلی غذائیں اور مقامی طور پر دست یاب غذائی اشیا سے ان کی تیاری۔
(c) اسکولی عمر کے بچوں کو صحت بخش کھانا کھانے کا عادی بنانے کی کوششوں کے بارے میں بتائیے ۔
(d) خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوںکو تغذیے کے معاملے میں مدد دینے کے لیے کن امور کا خیال رکھنا ضروری ہے:
(i) مشاہدہ
(ii)جسمانی سرگرمی
(iii)کھانا کھانے کی صلاحیت پیدا کرنا
(iv)کھانوں کی مختلف قسمیں(Variety)
(v)خصوصی خوراک(Special diets)
(e)بچے جو غذائیں کھاتے ہیں ان پر گھر،میڈیا اورہم عمر دوستوں کے کیا اثرات مرتب ہیں؟

