تمام جان دار اپنے بچوں کی نگہ داشت کرتے ہیں ۔لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ انسانوں کے بچے سب سے زیادہ مدت تک اپنے بڑوں پر منحصر رہتے ہیں؟بڑوںکی نگہ داشت پربچوں کے انحصار(Dependency)کی مدت اور دماغ کے سائز اور پیچیدگی کے درمیان ربط(Correlation)پایا جاتاہے۔انسانی دماغ بہت پیچیدہ ہوتا ہے اور وہ حیاتیاتی ارتقا (Biological Evolution) کے طیف(Spectrum)کی بلند ترین انتہا کو پیش کرتا ہے۔
اس حصّے میں ہم پڑھیں گے کہ بچپن کے دوران نگہ داشت اور تعلیم کیوں ضروری ہیں؟ہم نگہ داشت اور تعلیم کے مفہوم پر بھی غور کریں گے۔آپ جانتے ہیں کہ بچپن کے زمانے کو شیر خوارگی (پیدائش سے 2سال تک )،ابتدائی بچپن(6-2سال)اور درمیانی بچپن(11-7سال)میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ہم اس حصّے میں اس موضوع پر اظہارِ خیال کے لیے شیر خوارگی اور ابتدائی بچپن دونوں زمانوں کو ایک ہی مانیں گے۔درمیانی بچپن پر ہم الگ سے گفتگو کریں گے۔
13.2 شیرخوارگی اور ابتدائی بچپن کی عمر
(Infancy And Early Childhood Years)
ابتدائی چھ برسوں کی اہمیت
(The significance of the six years)
ساری دنیا میں ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کسی بھی فرد کی زندگی میں شیر خوارگی اور ابتدائی بچپن کا زمانہ کئی طرح سے بہت اہم اور نازک ہوتا ہے۔مزید آگے بڑھنے سے پہلے کیا آپ اس موضوع پر کچھ اظہار خیال کرنا پسند کریں گے کہ ایسا کیوں ہے؟اپنے خیالات کو درج ذیل خانے میں قلم بند کیجیے اور پھر ان کا موازنہ ذیل میں دی گئی توضیحات سے کیجیے۔
یہاں اپنے خیالات کا اظہار کیجیے
اولاً تو یہ کہ ان برسوں کے دوران تمام دائروں میں نشوونما کی شرح سب سے زیادہ تیز ہوتی ہے۔
نشوونما کے ان مختلف دائروں کی فہرست بنائیے جو آپ پہلے پڑھ چکے ہیں۔
آپ جانتے ہیں کہ دماغ ان تمام دائروں میں نشوونما کے عمل کو کنٹرول کرتاہے اوردماغی نمو (Brain Grwth) کی شرح زندگی کے پہلے دوبرسوں میں سب سے زیادہ ہوتی ہے۔دماغ کی نشوونما پر جو تحقیق ہوئی ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ پیدائش کے وقت اگرچہ ایسے تمام خلیے (Cells)موجود ہوتے ہیں جن کی انسانی دماغ کو ضرورت ہوتی ہے،لیکن ان دماغی خلیوں کے درمیان عصبی انسلاکات(ynaptic Connections)پہلے دوبرسوں کے درمیان ہی بہت تیزی سے تشکیل پاتے ہیں۔تحقیق سے پتا چلاہے کہ یہ انسلاکات جتنے زیادہ ہوں گے اس فرد کی کارکردگی اتنی ہی بہتر ہوگی۔ دماغی نشوونما کی تیز شرح کے سبب سے ہی نشوونماکے مختلف دائروں میں پہلے چھ سال کی مدت بہت اہم ہے۔اس اہم مدت(Critical Period) سے ہماری مراد وہ زمانہ ہے جس کے دوران کسی خاص دائرے میں نشوونما خوش گوار اور ناخوش گوار تجربات کے لحاظ سے خاص طور پر حساس ہوتا ہے۔ناخوش گوار تجربات جیسے ناکافی غذا،غیر صحت بخش رہائشی ماحول ،صحت کی مناسب دیکھ بھال کی کمی،بیماری،محبت اور پرداخت کی کمی،نگہ داشت کی کمی،محرک تجربات کی کمی اور بڑوں کے ساتھ تفاعل کی کمی نشوونما میں کافی حد تک رکاوٹ پیدا کرسکتی ہے۔
اس کے برخلاف خوش گوار تجربات سے نشوونما کو تقویت ملتی ہے اور اس میں اضافہ ہوتاہے۔کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ خوش گوار تجربات کا کیا مطلب ہے؟ ایسا ماحول جس میں بچہ خوش گوار تجربات سے دوچار ہو اس کوتحریک دینے والا،بھرپور یا آسودہ ماحول کہا جاتا ہے۔ جب کہ ایسا ماحول جس میں بچے کے تجربات ناخوش گوار ہوں اس کومحرومی کا ماحول کہا جاتا ہے یعنی ایسا ماحول جو بچے کے لیے دشواریاں پیدا کردیتا ہے۔اس اہم عرصے کے دوران ناخوش گوار تجربات کا اثر کبھی کبھی ناقابل رجعت (Irreversible) ہوتا ہے۔بہ الفاظ دیگر ان ناخوش گوار تجربات سے بچوں کے نشوونما کو جو نقصان پہنچتا ہے اس کا ازالہ نہیں ہوپاتا ہے چاہے آئندہ زندگی میں اس کے تجربات مثبت ہی کیوں نہ ہوں۔اس محرومی کے اندیشے کی وجہ سے یہ بات بہت اہم ہے کہ بچے کو نقصان پہنچانے والے تجربات کم سے کم ہوں۔اس لیے ابتدائی بچپن کا عرصہ نشوونما کے لحاظ سے نازک عرصہ کہلاتا ہے۔
شکل نمبر1میں دماغی خلیوں کے درمیان عصبی انسلاکات کوآسودہ ماحول اورمحرومی کے ماحول کے تناظر میں دکھایاگیاہے۔
(ماخذ:
/http://www.brainwabe.org.nz
-stages-brain-development
from-before-birth-to-18)
شکل 2میں دماغی نشوونما کے مختلف پہلوؤں اور ان کے بعض افعال کے نازک عرصوںکو دکھا یا گیا ہے۔مثال کے طور پر اس شکل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر چہ دونوں آنکھوں کی بینائی،جذباتی کنٹرول اور زبان کی نشوونما کا عمل پانچ سال کی عمر تک چلتا ہے لیکن اس کا نازک عرصہ،پیدائش سے دو سال کے درمیان ہی ہوتا ہے۔
دوچشمی
جذباتی انضباط
عادتی ردعمل
ہم عمری سماجی مہارت
زبان
علامت
وقوفی مہارت
اضافی صلاحیت
اہم عرصہ جاتی پیش رفت
اہم عرصہ
(شکل نمبر2ماخذ)
(Reaching out to the child,HDS,World Bank,2004)
اگرچہ نشوونما اور آموزش کا سلسلہ زندگی بھر چلتا رہتاہے لیکن بچہ پہلے چھ سال کی مختصر مدت میں جتنی مختلف النوع صلاحیتیں ، مہارتیں اور استعداد حاصل کرلیتا ہے اتنی عمر کے کسی اور حصے میں نہیں کرتا۔آپ ذرا کسی نومولود بچے کا تصور کیجیے جو اپنی بقا کے لیے بڑوں پر منحصر ہے۔ وہ کس طرح چھ سال کا ایک فعال اور متلاشی بچہ بن جاتا ہے جو اپنی بہت سی ضروریات کی دیکھ بھال خود کرلیتا ہے،دوسروں کے ساتھ گفتگو کرتا ہے اور رشتوں کو فروغ دیتا ہے اوران سب چیزوں کو حقیقی سمجھتا ہے۔اسی عرصے میں بچہ بہت سی صلاحیتیں (Competencies)پیدا کرلیتا ہے جو اگر رہ گئیں تو بعد میں حاصل نہیں ہو پا تیں اور اگر حاصل بھی ہوتی ہیں تو مشکل کے ساتھ۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگرچہ ابتدائی چھ سال نشوونما کے لحاظ سے بہت اہم سال ہیں جن میں مضرتجربات کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں،ان برسوں کے دوران بچے میں مقاومت(Resilence)کی زبردست قوت ہوتی ہے۔اس طرح اگر ابتدائی برسوں میں بچہ ناخوش گوار تجربات سے دوچار رہا ہے اور بعد میں اس کے تجربات خوش گوار ہوگئے ہیں تو مشکل سے ہی سہی پھر بھی کسی حد تک وہ منفی تجربات کے اثرات سے ا بھر سکتا ہے۔اسے سمجھنے کے لیے ہم بولنا سیکھنے کی مثال لیتے ہیں۔بچہ پہلا لفظ تقریباً ایک سال پوراہونے پرادا کرتا ہے لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ زبان کی نشوونما ایک سال کی عمر سے شروع ہوجاتی ہے؟نہیں۔زبان کی نشوونمابچے کی پیدائش سے ہی شروع ہوجاتی ہے جب وہ دوسروں کوبولتے ہوئے سنتا ہے اورسنی گئی تمام آوازوں میں معنی و مفہوم پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔تقریباً نو مہینے کی عمر میں بچہ تکراری آواز یں نکالنے لگتا ہے جسے ببلانا(Babbling)کہتے ہیں۔آپ نے چھوٹے بچوں کو بابا، ماما کہتے سنا ہوگا۔اس ببلانے کے عمل کے بعد ہی بچہ پہلا لفظ بولتا ہے۔دیکھا یہ گیا ہے کہ جو بچے سن نہیں سکتے وہ بھی سننے کی صلاحیت رکھنے والے بچوں کی عمر میں ببلانے لگتے ہیں ، لیکن جو بچے سن نہیں سکتے ہیں ان کی ببلاہٹ کم ہوتی جاتی ہے اور ان کے بولنے میں تاخیر ہوجاتی ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بولی جانے والی زبان ہی نہیں سن پاتے—وہ نہ اپنی ببلاہٹ سن پاتے ہیں اورنہ دوسروں کی بولی۔اگربچے میں سماعت سے محروم ہونے کا پتا نہ چل پائے اوراس کو سماعت کا امدادی سامان مہیا نہ کرایا جائے تو وہ بولنا نہیں سیکھ پاتا۔اگربعد میں سمعی آلہ مہیا بھی کرادیاجائے تو ایسے بچے کوبولنے میں مدد کے لیے بڑی کوششیں کرنی پڑیں گی بمقابلہ ان بچوں کے جن کو سمعی آلہ جلدی مہیا کرادیاگیا ہو۔اس طرح لسانی آوازوں کی بازیافت(Feed back)کی غیر موجودگی ظاہرکرتی ہے کہ سماعت کا یہ تجربہ بچوںمیں بولنے کی نشوونماکے لیے کتنا اہم ہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ ابتدائی چند برسوں کے تجربات بعد کے طرز عمل کی تشکیل کرتے ہیں اور اس پر بڑی حدتک اثر انداز بھی ہوتے ہیں ۔ہمارے بہت سے رویے، غور وفکر کے طریقے اوربرتاؤ، زندگی کے ابتدائی برسوں کے تجربات سے ہی مربوط ہوتے ہیں۔
نگہ داشت اور تعلیم کا مفہوم(Meaning of care and education)
جب آپ کسی چھ سال کے بچے کی نگہ داشت اور تعلیم کے بارے میں سوچتے ہیں تو آپ کے ذہن میں کون کو ن سی سرگرمیاں آتی ہیں؟آگے بڑھنے سے پہلے درج ذیل خانے میں اپنے خیالات لکھیے۔
تعلیم سے ہم کیا سمجھتے ہیں ؟عام طور پرہم لوگ تعلیم سے اسکول میں پڑھنا مراد لیتے ہیں ۔لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ جب ہم اسکول یا کالج جانا چھوڑدیتے ہیں تو تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے یا جب تک بچہ اسکول نہیں جاتا اس کی کوئی تعلیم ہی نہیں ہوتی؟ایسا نہیں ہے۔تعلیم صرف اداروں میں رسمی آموزش کا نام نہیں ہے بلکہ گھر پر بچے کی ابتدائی عمر سے ہی شروع ہوجاتی ہے اور ساری عمر چلتی رہتی ہے۔البتہ ہماری نشوونما کے ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے تک ہماری تعلیم کی نوعیت یا تعلیم کی جگہ بدلتی رہتی ہے۔ہم بچے کی تین بنیادی ضرورتوں کے حوالے سے نگہ داشت اور تعلیم کا مفہوم واضح کرچکے ہیں۔بچوں کی بہترنشوونما کے لیے ان تینوں ضروریات کی تکمیل ضروری ہے۔ہم اب اسی پر گفتگو کریں گے۔
(i) جسمانی نگہ داشت کی ضرورت(Need for physical care):جسمانی نگہ داشت کی ضرورت تو ظاہر ہے اور ہم میں سے اکثر لوگ اس کو خوب سمجھتے ہیں۔ شیر خواروں اورابتدائی بچپن کے بچوں کو بقا،نمو اورنشوونما کے لیے تحفظ، غذا اور صحت کی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے ۔نشوونما کے لیے یہ بنیادی ضرورتیں یا شرطیں ہیں ۔بچوں کی ضروریات کوپورا کرنا، انھیں تحریک دینے اور ان کی پرورش کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے۔اگر بچے میں کوئی معذوری ہوتی ہے مثلاً بچہ دیکھ نہیں سکتا یا سن نہیں سکتا یا چل نہیں سکتا یا پھر دیگر ہم عمر بچوں کے مقابلے اس کے وقوفی اعمال کی سطح کم ہے تو ایسے بچوں کی نگہ داشت کی ضروریات کی تکمیل ،ان کی معذوری کے لحاظ سے ہی ہونی چاہیے۔اس طرح بچوں کی جسمانی نگہ داشت کی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ اہل خانہ کو بچے کی معذوری کے سبب پیدا ہونے والے خصوصی حالات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔مثال کے طور پر جو لوگ دیکھ سکتے ہیں وہ چیزوں اور اشخاص کو دیکھ کر پہچان لیتے ہیں اور یہ سب کچھ خودبہ خود اور اس طرح ہوجاتا ہے کہ ہم کو اس کا پتا بھی نہیں چلتا۔لیکن جن بچوں کو دیکھنے میں دشواری ہوتو اہل خانہ کو چاہیے کہ ایسے بچوں کو ان کے دیگر حواس (چھونے،سننے،سونگھنے اور چکھنے)کا استعمال کر کے سکھانے میں شعوری طور پرکوششیں کریں۔اس طرح بچے کی تحریک حاصل کرنے کی ضرورت کس طرح پوری ہوگی اس کا انحصار اس کی بصارت سے محروم ہونے پرہے؟ہم ان ضرورتوں کو تفصیل سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
(ii) تحریک دینے کی ضرورت(Need for stimulation): بچوں میں زندگی کے ابتدائی دنوں سے ہی تجسس اور اشتیاق کا مادہ ہوتا ہے اور وہ دوسروں سے ملنے اور بات چیت کرنے کے خوا ہش مند رہتے ہیں اور جو واقعات ان کے آس پاس ہورہے ہیں ان کو سمجھنا چاہتے ہیں۔وہ چیزوں کا پتا لگانے اور ان کو سمجھنے میں لطف لیتے ہیں۔یہی وہ طریقہ ہے جس سے وہ سیکھتے رہتے ہیں ۔زندگی کے کسی بھی دوسرے مرحلے میں چیزوں کی دریافت کا جذبہ اتنا شدید نہیں ہوتا جتنا ابتدائی برسوں میں۔جب ہم شیر خوار بچوں سے بولتے ہیں، ان کے لیے گاتے ہیں یا ان کے ساتھ کھیلتے ہیں تو ہم ان کو اس بات کے لیے تحریک دیتے ہیں کہ وہ آس پاس کی دنیا کے بارے میں سوچیں ، سمجھیں اور اس کی وجہ جانیں۔
اس طرح تحریک دینے کا مطلب یہ ہے کہ ہم بچوں کو مختلف قسم کے تجربات کے مواقع فراہم کریں جو ان کے لیے با معنی اور ان کی نشوونما کی ضرورت کے مطابق ہوں۔ان تجربات کے ذریعے بچہ اپنے آس پاس کی چیزوں اور لوگوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی سمجھ کی تعمیر کرتا ہے۔مکمل وقوفی نشوونما کے لیے چیزوں کی کھوج اور ان کا انکشاف ایک اہم شرط ہے۔لفظ ’تعمیر‘کا مفہوم یہ ہے کہ بچہ سرگرم شرکت کر کے خوداپنی سمجھ پیدا کرتا ہے۔یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جوکوئی بچوں کو سکھا سکے جب تک وہ خود سیکھنے کی کوشش نہ کریں۔درحقیقت ،بچہ جن باتوں کو بامعنی پاتا ہے وہ اس کی نشوونما کے ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں جانے پر بدل جاتی ہیں۔اس کے علاوہ بچے کو یہ ضرورت ہوتی ہے کہ بالغ لوگ تجربات کو سمجھنے میں اس کی مدد کریں اورنشوونما کی موجودہ سطح کے مطابق نئے اور چیلنج آمیز تجربات سے اس کو روشنا س کرائیں۔
سرگرمی1
مذکورہ بالا اقتباس میں ہم نے آپ کو کچھ تصورات سے متعارف کرایا ہے اور کچھ ایسی اصطلاحات کا استعمال کیا ہے جن کو آپ صرف اس وقت سمجھ سکتے ہیں جب آپ خود بچوں کا مشاہدہ کریں۔اسی لیے مشغلہ 1کے ایک حصے کے طور پر آپ کو تین کام کرنے ہیں تاکہ آپ ان تصورات کو سمجھ سکیں جن کے بارے میں آپ پڑھ رہے ہیں۔
(a) جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بیان کیا، بچے تلاش کرنے اور نئی باتوں کا پتا لگانے میں خوشی محسو س کرتے ہیں اور اس طرح وہ چیزوں کے بارے میں سیکھتے ہیں۔ایک سے چھ سال کے کسی ایسے بچے کو دیکھیے جو اپنی پسند کا کوئی کام کررہاہو۔آپ کے خیال میں بچہ اپنے اس کام سے کیا سیکھ رہا ہے؟اس کام سے کس دائرے میں نشوونما کو تقویت مل رہی ہے؟اپنے مشاہدات اور اپنی دریافت شدہ معلومات کے بارے میں اپنے استاد اور ساتھیوں سے گفتگو کیجیے۔
(b) دو ایسے بچوں کو دیکھیے جو کسی کام میں مشغول ہوں ۔ان میں ایک دوسال کا بچہ ہو اور دوسرا پانچ سال کا۔آپ کے خیال میں کیا انھوں نے اپنے کام کو بامعنی پایا؟کیا مشکل اور پیچیدہ ہونے کے لحاظ سے ان دونوں کے کام میں کچھ فرق تھا؟کیا آپ کا خیال ہے کہ دوسال کے بچے نے پانچ سال والے بچے کے کام سے اور پانچ سال کے بچے نے دوسال والے بچے کے کام سے لطف لیا ہوگا ؟کیا انھوں نے اپنے کام کو بامعنی پایا ہوگا؟اپنے خیال کی وجہ بھی بتائیے۔
(c) ایک چھ سال کے بچے کا مشاہدہ کیجیے جو کسی بڑے (ماں،باپ یا اور کوئی بالغ شخص)کے ساتھ کسی کام میں لگا ہو۔اس مشغلے کو بیان کیجیے جس میں بچہ مصروف ہے اور وضاحت کیجیے کہ بڑے شخص نے تجربات کی تفہیم میں بچے کی کس طرح مدد کی اور کس طرح اس کو نئے تجربات سے روشناس کرایا۔
(iii)پرورش کی ضرورت(Need for Nurturance):محبت اور پرورش نشوونماکی اساس ہیں۔نشوونمابچے کو کھلانے پلانے، اس کی صحت کی ضروریات کا خیال رکھنے، اس کو تحریک فراہم کرنے اور اس کو تجربات سے روشناس کرانے کے میکا نیکی عمل کا نتیجہ نہیں ہے۔اگر بچے کی محبت اور قلبی تعلق کی ضرورت کا خیال نہ رکھا گیا اور اگر وہ اپنے آس پاس کے بالغ لوگوں کے ساتھ سرگرم،قابل اعتماد اور محبت آمیزرشتوں کو فروغ نہ دے سکا تو وہ خود کو جذباتی طورپر محفوظ محسوس نہیں کرے گا ۔اس میں خود اعتمادی اور خود شناسی کی کمی ہوگی۔ان امورکی وجہ سے تمام دائروں میں اس کی نشوونما رک سکتی ہے۔آپ نے’’ خود (Self)‘‘ والے باب میں پڑھا ہوگا کہ ایک شیر خوار جب اپنی عمر کے پہلے ہی سال میں لگاتاربڑوں کی محبت اور شفقت محسوس کرتا ہے تو اس میں اعتماد کا احساس فروغ پاتا ہے۔یہ دیکھا گیا ہے کہ جب بچہ خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے اورنگہ داشت کرنے والوں پر بھروسا کرتا ہے تو زیادہ تلاش وجستجو کرتا ہے اور اس طرح وہ زیادہ سیکھتا ہے۔اگر اس میں دوسروں پر بھروسا پیدانہیں ہوتا تو وہ نئی حالتوں کے بارے میں اندیشوں کا شکار رہتا ہے اورچیزوں کو جاننا سمجھنا چھوڑدیتا ہے اور اپنی دیکھ بھال کرنے والوں سے چپٹا رہتا ہے۔یہ رویہ بچے کی آموزش کے راستے میں رکاوٹ بنتا ہے۔اسی طرح بچے کی یہ بھی ایک ضرورت ہے کہ وہ بااختیاربنے ، کسی کام کو خود شروع کرے اور کام کو خود انجام دے۔ابتدائی اور درمیانی بچپن کے زمانے میں(جیسا کہ اوپر ’’خود‘‘کے باب میں مذکور ہوا)یہ رویے اپنے بارے میں مثبت تصور کو ترقی دینے کے لیے ضروری ہیں۔
سرگرمی 2
ہم آموزش کے عمل میں اکثر جذبات کے کردار کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔آپ خود اپنے تجربات پر غور کیجیے اور کسی ایسی صورت حال کو یاد کیجیے جب آپ کی آموزش پر کام کی پیچیدگی سے زیادہ کسی خاص جذباتی حالت،مثلاً خوف یا شرمندگی کا اثر ہوا ہو۔اس بات سے آپ بچوں کی آموزش میں محبت اور پرورش کی اہمیت کو سمجھ سکیں گے۔
(iv) ابتدائی بچپن کی نگہ داشت اور تعلیم کی ضرورت کو پورا کرنا:(Meeting the needs through early childhood care and education):ہم بحث و مباحثہ کی غرض سے ان ضروریات کے بارے میں الگ الگ گفتگو کرچکے ہیں۔لیکن یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ بچوں کی ان تمام ضروریات کا ایک ساتھ پورا کرناان کی مکمل نشوونما کے لیے ضروری ہے۔کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہونا چاہیے؟ایسا اس لیے ہے کہ نشوونما مختلف دائروں میں کافی حدتک باہم مربوط ہوتی ہے ،خاص طور پر ابتدائی بچپن کے دوران ۔بہ الفاظ دیگر ایک دائرے میں نشوونما دوسرے دائروں کی نشوونما کو متاثر کرتی ہے اور ان سے متاثر بھی ہوتی ہے۔بچے کی نشو و نما ایک مکمل فرد کی حیثیت سے ہوتی ہے اور اگر نشوونما کے کسی ایک دائرے میں بھی بچہ محرومی کا شکار ہوتا ہے تو اس سے نشوونما کے دوسرے پہلو بھی ضرور متاثر ہوں گے۔عصبی انسلاکات(Synaptic Connections)کی تشکیل (جن کا ذکر ہم سابقہ باب میں کرچکے ہیں)مناسب تغذیہ،موذی اور خطرناک بیماریوں سے بچاؤ اور جذباتی طور پر محفوظ ماحول میں تحریک دینے والے آموزش پر منحصر ہوتی ہے۔
ابتدائی برسوں میں جسمانی،وقوفی،لسانی،جذباتی اور سماجی نشوونما کے درمیان باہمی ربط زیادہ ہونے کی وجہ سے ہم نگہ داشت اور تعلیم کی بات یک جا طورپر ’’ابتدائی بچپن کی نگہ داشت اورتعلیم‘‘ (ECCE)کے طور پر کرتے ہیں ۔ ECCEجسمانی دیکھ بھال،تحریک دینے اور پرورش کا مجموعہ ہے جو بچے کو ابتدائی عمر میں فراہم ہونا چاہیے۔عمر کے پہلے چھ سال کے دوران تعلیم کو اسکول کے مضامین یا شعبوں کے اعتبار سے نہیں سمجھنا چاہیے جیسا کہ ہم اپنی اسکولی زندگی میں کرتے ہیں۔بلکہ در اصل تعلیم سے مراد وہ تجربات ہیں جو بچوں کی جسمانی، حرکی،سماجی جذباتی ،وقوفی اور لسانی نشوونما کو فروغ دینے میں مددگار ہوتے ہیں۔ہمECCE تجربات کی اور ان کی نوعیت پر اسی باب میں آگے چل کر گفتگو کریں گے۔
ECCEکون مہیا کراتا ہے؟(Who provides ECCE)
پہلے ہم اس بات پرغور کریں کہ بچوں کو ECCEکون مہیا کراتا ہے؟ملک میں حکومت،نجی ادارے ، رضاکار سیکٹر (غیرسرکاری تنظیمیں) ای سی سی ای(ECCE) مہیا کراتی ہیں۔یہ خدمات شیر خواروں کی نگہ داشت کے مراکز (Creches)اور پری اسکول سینٹروں کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں جونرسری اسکول،کنڈرگارٹن،کھیل اسکول،آنگن واڑی اور بال واڑی وغیرہ ناموں سے جانے جاتے ہیں۔فرق یہ ہے کہ شیر خواروں کی نگہ داشت کے مراکز پیدائش سے3 سال تک کے بچوں کو ECCEمہیا کراتے ہیں جب کہ پری اسکول سینٹر5-3 سال کی عمر والے بچوں کو یہ خدمات مہیا کراتے ہیں۔
ECCE خدمات کیوں مہیا کرائی جاتی ہیں؟
( ?Why Provide ECCE service)
بہت سے اسباب ہیں جن کی بنا پر بچوں کی نمو اور ان کی نشوونما پر مناسب دھیان دینے کے لیے ان خدمات کی ضرورت پڑتی ہے۔
اولاً،یہ کہ ہمارے ملک میں تمام بچوں کونمو کرنے کے لیے مناسب ماحول نہیں ملتا ۔بہت سے بچے غربت زدہ حالات میں رہتے ہیں اور ان کو غذا،صحت اور حفظان صحت جیسی ضروری سہولتیں بھی میسر نہیں ہوتیں۔ایسی صورت حال میںECCEخدمات سے بچوں کے تغذیے اور صحت کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے میں مدد ملتی ہے۔تین سال تک کے بچوں کو تحریک Stimulation) (ملتی ہے اور اس کے علاوہ 6-3سال کی عمر کے بچوں کو پری اسکول تعلیم بھی حاصل ہے۔
ECCEخدمات فراہم کرنے کا ایک دوسرا سبب یہ بھی ہے کہ تمام سماجی اور اقتصادی طبقات کی عورتیں بڑی تعداد میں اپنی روزی روٹی کمانے کے لیے گھر سے باہر کام کاج کرتی ہیں اور اس طرح اکثر گھر وں کے لوگ بچوں کی دیکھ بھال کرنے کے لیے موجود نہیں رہتے۔ ایسے خاندان کے لیے دوسرے متبادل بھی موجود ہیں جیسے :
- بچے کو دن بھر کے لیے خاندان کے کسی فرد یا کسی دوست کے پاس چھوڑا جاسکتا ہے۔
- ماں بچے کو اپنے ساتھ کام پر لے جاسکتی ہے۔
- بچے کو گھر پر ہی کسی آیا کے پاس چھوڑا جاسکتا ہے۔
- بچے کو گھر پر بڑے بچوں کے پاس چھوڑا جاسکتا ہے۔
بہرحال ،ان تمام متبادل صورتوں کی حدود ہیں۔آیا رکھنے پر خاصا خرچ آتا ہے جب کہ کم اور درمیانی آمدنی والے طبقات کریش(Creche) کا خرچ برداشت نہیں کرسکتے ۔ماں کا بچے کو کام کاج کی جگہ اپنے ساتھ لے جانا اسی وقت مناسب ہوسکتا ہے جب وہاں کریش کی سہولتیں دستیاب ہوں۔اگر یہ سہولتیں دست یاب نہ ہوں تو کام کاج کی جگہ یاماحول بچے کے لیے نا مناسب یا خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔آپ نے بہت سے بچوں کو دیکھا ہوگا جو تعمیرات کے مقامات پر کھیلتے پھرتے ہیں اور ان کے والدین وہاں محنت مزدوری کرتے ہیں ۔کیا آپ کے خیال میں ان بچوں کے لیے یہ ماحول محفوظ ہے؟صرف تحریک دینے اور نگہ داشت کے پہلو سے ہی غور کریں؟یہاں اگر بچے کو دوسرے بچوں کا ساتھ مل رہا ہے تو وہ بھی خودبچے کی حفاظت کی قیمت پر ہے۔ہمارے ملک میں بہت سی عورتوں کے پاس اس کے سواکوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ بچے کو اپنے ساتھ لے جائیں، اس لیے کہ کریشوں (Creches)کی تعداد بہت ناکافی ہے۔اوپر جو پہلے متبادل کا تذکرہ ہوا وہ اسی وقت ممکن ہے جب گھر پر کچھ بالغ افراد موجود رہیں۔شہروں میں تو خاندان اکثروحدانی (Nuclear)ہوتے ہیں—جن میں ماں اور باپ دونوں نوکری پر چلے جاتے ہیں اور گھر پر بچے کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں رہتا۔کم آمدنی والے سماجی طبقوں کے گھروں میں بالغ افراد اکثر کام کاج پر چلے جاتے ہیں۔چوتھا متبادل یعنی چھوٹے بچوں کو بڑے بچوں کے پاس—عام طور پر لڑکی کے پاس—چھوڑ دینے کا ہے اور کم آمدنی اور کم سماجی حیثیت والے خاندان اسی پر انحصار بھی کرتے ہیں۔ لیکن اس کی وجہ سے بڑے بچے اسکول جانے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ایسے میں تنہا ایسا متبادل جس میں سبھی کا فائدہ ہو بچے کے لیے کریش کی خدمات کا حصول ہے۔
ECCEخدمات مہیا کرانے کے لیے تیسرا سبب یہ ہے کہ گھر کے بہترین ماحول میں بھی بچوں کو کھیل کود اور دیگر بچوں کے ساتھ رہنے کی ایسی سہولتیں حاصل نہیں ہوپاتیں جو کسی پری اسکول سینٹر میں فراہم ہوسکتی ہیں۔ان سنٹروںمیں بچوں کو ایک دوسرے سے بات چیت کرنے کے مواقع بھی حاصل ہوتے ہیں اور وہ اجتماعی سرگرمیوں میں بھی حصہ لے سکتے ہیں۔اس طرح بچے ایسے ماحول میں ایک دوسرے سے سیکھ سکتے ہیں ،ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو سمجھ سکتے ہیں اور یگانگت اور رحم دلی جیسی آفاقی اقدارکا شعور حاصل کر سکتے ہیں۔
ECCEخدمات مہیا کرانے کا چوتھا سبب وہ طویل مدتی اور مختصر مدتی فوائد ہیں جوECCE کے پروگراموں سے بچوں کو حاصل ہوتے ہیں۔اچھے ECCE پروگراموں سے بچے تعلیمی اور سماجی دونوںطرح سے پری اسکولی تعلیم کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔کیا آپ کو معلوم ہے کہ تعلیمی تیاری اور سماجی تیاری کی اصطلاحات کا کیا مفہوم ہے؟تعلیمی تیاری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم ECCE سینٹر پر بچے کو پڑھنا لکھنا سکھاتے ہیں بلکہ اس بچے کو اسکول جانے کے لیے ضروری مہارتوں کو فروغ دے کر رسمی تعلیم کے لیے تیار کرنا ہے۔ایک نئے ماحول سے شناسائی،وہاں کے نظام الاوقات کو قبول کرنا اور اس میں شرکت کرنا اس تیاری کی کچھ مثالیں ہیں۔سماجی تیاری کا مطلب یہ ہے کہ پری اسکول زمانے کے تجربات دیگر بچوں اور بڑوں کے ساتھ تعلق پیدا کرنے میں بچے کی مدد کرتے ہیں اور اس سے پرائمری اسکول میں ماحول سے مطابقت(Adjusment) پیداکرنے میں مدد ملتی ہے۔یہ پایا گیا ہے کہ جن بچوں نے ECCE پروگراموں میں شرکت کی ہے ان میں ترکِ تعلیم کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ اسی طرح ان میں جرائم کی طرف میلان بھی کم ہوتا ہے اور نشے کی لت لگنے کے امکانات بھی کم ہوجاتے ہیں۔اسی طرح ان کا ذہن پیداواری(Productive)بن جاتا ہے اور وہ خاندان کی آمدنی اور ملک کی معاشی ترقی میں بھی مددگار ہوتے ہیں۔اس طرح ECCEفراہم کرنے کے اس چوتھے سبب کو بچوں کے فروغ سے متعلق سرمایہ کاری سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
ابتدائی بچپن کے پروگراموں میں شرکت کے حوالے سے پانچواں اور شاید سب سے اہم سبب یہ ہے کہ ہر انسان کو زندہ رہنے اور صحت مند اور خوش گوار ماحول میں نشو و نما پانے کا حق ہے تاکہ اس کی تمام بالقوۃ صلاحیتیں بروئے کار آسکیں۔ اس کو انسانی ترقی کاصحیح تناظر (Right Perspective)کہا جاتا ہے۔
سرگرمی 3
آپ اپنے پڑوس کے پانچ خاندانوں(یا اپنے گھر) کا سروے کیجیے جن میں ماں اور باپ دونوں ہی کام کرتے ہوں اور جن کا چھ سال سے کم عمر کا بچہ ہو۔دیکھیے کہ ایسے خاندان میں بچے کی دیکھ بھال کا کیا انتظام کیا گیا ہے؟
ECCE کی نوعیت (The nature of ECCE)
جیسا کہ اوپرذکر کیا گیا،ای سی سی ای صحت،تغذیہ،تحریک دینے اور پری اسکول تعلیم جیسے امور پر توجہ مرکوز کرتی ہے تاکہ بچے کی مکمل نشو و نما ہوسکے۔صحت سے متعلق امور میں طبی جانچ،ٹیکہ پروگرام،بہتر علاج کے لیے خدمات (Referral services) اور بیماریوں کا علاج وغیرہ شامل ہیں۔تغذیے کے امور میں،مڈڈے میل اور معاون و ٹامنوں کی شکل میں معاون غذاؤں کی فراہمی شامل ہے۔تحریک دینے(Stimulation)اور پری اسکول تعلیم سے متعلق امور میں ایسے مناسب اور مفید تجربات کی فراہمی شامل ہے جو مختلف دائرے میں نشوونماکو فروغ دیتے ہیں۔یہ تجربات بچوں کو ان کی سرگرمیوں اور کھیل کود کے ذریعے مہیا کیے جائیں نہ کہ رسمی تعلیم کے ذریعے۔ بچے کھیل کھیل میں سیکھتے ہیں اور ان سرگرمیوں میں مشغول ہوتے ہیں جو ا ن کی عمر اور نشوونما کے مراحل کے لیے مناسب ہوتے ہیں۔
بچوں کی آموزش اسکولی مضامین کے تنگ دائرے میں نہیں ہوتی بلکہ آموزش اور نشوونما کا ایک دوسرے سے گہرارشتہ ہے اوراکثر سرگرمیاں اور مشاغل جونشوونما کے کسی ایک پہلو پر اثر انداز ہوتے ہیں وہ دوسرے پہلوؤں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ہم اس بات کو ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔نظم یا گیت وغیرہ کا گانا ایک ایسی مشترکہ سرگرمی ہے جو والدین اپنے بچوں کے ساتھ اسی وقت سے انجام دینے لگتے ہیں جب بچہ چند مہینے کا ہوتا ہے۔نظمیں پری اسکول مراکز میں نصاب کا ایک لازمی حصہ ہوتی ہیں۔اس سرگرمی سے بچے کی لسانی نشوونما میں مدد ملتی ہے ۔ وہ نظمیں گاتا ہے اور دوسروں کو گاتے ہوئے سنتا بھی ہے ۔ بچے کے والدین اور پری اسکول اساتذہ نظموں میں بیان کی گئی چیزوں،واقعات اور تصورات کے بارے میں بات کرتے ہیں تو اس سے بچے کی وقوفی نشوونما میں مدد ملتی ہے ۔جب بڑے گیت گانے کے خوش گوار عمل میں بچوں کو شریک کرتے ہیں تو اس سے بچوں کی سماجی اور جذباتی نشوونما میں مدد ملتی ہے اور اس کے علاوہ ایک ساتھ کسی کام کو انجام دینے کے نتیجے میں بچوں اور بڑوں دونوں کو لطف حاصل ہوتا ہے۔اگر نظم ایکشن کے ساتھ گائی جائے تو اس سے بچوں کی جسمانی اور حرکی نشوونما بھی ہوتی ہے ۔پہلے تین سال کے دوران حرکی سرگرمیاں (stimulation Activities)اور6-3سال کی عمر کے دوران پری اسکول تعلیم کھیل کود، آرٹ،نظموں کو حرکات و سکنات کے ساتھ پڑھنے اور بچے کی فعال شرکت پر مبنی ہونی چاہیے۔
13.3 درمیانی بچپن کے دوران نگہ داشت اور تعلیم
(Care and education during middle childhood years)
درمیانی بچپن وہ عمر ہے جب بچہ ابتدائی تعلیم حاصل کرتا ہے۔ابتدائی تعلیم کا مقصد بچے میں بنیادی خواندگی اورگننے کی بنیادی مہارتوں کو فروغ دینا ہے کیوں کہ دونوں چیزیں ثانوی سطح پر سیکھنے کے عمل کی بنیاد کا کام کرتی ہیں ۔آزادی کی چھ دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ہمارا ملک تمام بچوں کی ابتدائی تعلیم کا نشانہ حاصل نہیں کرسکا ہے۔پہلی سے پانچویں کلاس تک 53.3فی صد لڑکے اور46.7فی صد لڑکیاں اسکول میں داخلہ لیتی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ابتدائی درجات میں لڑکوں کی تعداد لڑکیوں سے زیادہ ہے۔ ہر100لڑکوں کے مقابلے میں صرف 87لڑکیاں اسکول جاتی ہیں۔ترک تعلیم کی شرح 25.47فی صد ہے(ماخذ: منتخب تعلیمی اعدادوشمار،وزارت فروغ و سائل انسانی ،حکومت ہند،06-2005)۔ابتدائی اسکول میں داخلہ لینے کے بعد بھی بہت سے بچے پانچ سال پورے کرنے سے پہلے ہی اسکول چھوڑدیتے ہیں۔اس طرح ابتدائی اسکولوں میں داخلہ لینے والے تمام بچے ابتدائی تعلیم پوری نہیں کرپاتے۔اب حکومت نے ابتدائی تعلیم کو عام کرنے کے لیے ایک مہم شروع کی ہے ۔اس مہم کے ذریعے ابتدائی اسکول میں بچوں کے داخلے اور داخلے کے بعد ان کو اسکول میں برقرار رکھنے کے لیے مسلسل کوششیں کی جارہی ہیں۔آپ نے اس مہم کے اشتہارات ٹیلی ویژن اور اخبارات میں دیکھے ہوں گے۔کیا آپ کو اس مہم کانام یا دہے؟ اس مہم کا نام ہے’ سرو شکشا ابھیان‘۔خصوصی ترغیبات اور کوششیں اس بات کی طرف کی جارہی ہیں کہ لڑکیوں کو اسکول تک لایا جاسکے کیوں کہ عام طور پر لڑکیوں کو ہی گھر کا کام کرنے یا چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال کرنے کے لیے اسکول جانے سے روک دیا جاتا ہے۔
کیا آپ ایسی کچھ وجوہ بتاسکتے ہیں کہ ہم ابتدائی تعلیم کو عام کیوں نہ کریں۔اپناجواب درج ذیل خانے میں لکھیے اور اپنے جوابوں کا ایک دوسرے کے جوابوں سے موازنہ کیجیے۔
ابتدائی تعلیم میں بچوں کی دشواریاں
(Difficulties in children's primary education)
ہندوستان میں چھوٹے بچوں کی تعلیم کے حالات میں شروع سے ہی خاصا فرق موجود رہا ہے۔بچوں کی ایک بڑی تعداددرج ذیل اسباب کی بناپر اسکولی تعلیم حاصل نہیں کرپاتی۔
پہلا سبب یہ ہے کہ بہت سے خاندانوں کا تعلق نچلے سماجی و معاشی طبقات سے ہے۔ان میں روزی روٹی کمانے کے لیے گھروالوں کو بچوں کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور اس طرح جیسے ہی بچے ذرا بڑے ہوتے ہیں تو ان کو آمدنی کے کاموں میں یا پھر گھر کے کام کاج میں لگادیا جاتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگربچوں کو اسکول بھیج بھی دیا جاتا ہے تو فصل کی کٹائی یا بوائی کے وقت ان کو اسکول نہیں جانے دیا جاتا کیوں کہ گھر کے کام کاج میں ان کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اسکولوں میں گرمیوں یا سردیوں کی چھٹیاں فصلوں کی بوائی اور کٹائی وغیرہ کے زمانے سے کوئی مطابقت نہیں رکھتیں۔
تیسرے یہ ہے کہ اسکول کا نصابِ تعلیم بچوں کی حقیقی زندگی سے دور ہوتا ہے اور بچہ اس کوبامعنی نہیں سمجھتا۔کبھی کبھی تو جو سبق پڑھائے جاتے ہیں وہ بچے کے تجربات سے میل نہیں کھاتے۔ بچے جن مختلف جغرافیائی اور ثقافتی ماحول میں رہتے ہیں ان کے مسائل اور معاملات پر اس تعلیم میں کوئی توجہ نہیں دی جاتی ۔جب بچے دیکھتے ہیں کہ ان کی تعلیم ان کی موجودہ یا آئندہ زندگی کے لیے کوئی معنویت نہیں رکھتی تو وہ اسکول چھوڑدیتے ہیں یا گھر والے خود بچوں کواسکول سے اٹھا لیتے ہیں۔
چوتھی بات یہ ہے کہ اسکولوںمیں بنیادی سہولتوں کی کمی ہوتی ہے،مثلاً ٹوائلٹ کی ناکافی سہولتیں اور گھر سے اسکولوں کی دوری ایسے امور ہیں اسکول میں جوبچوں کی حاضری میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
پانچویں یہ ہے کہ بہت سے معذور بچے مختلف وجوہات کی بنا پر اسکول میں داخلہ نہیں لے پاتے۔اس کا ایک اہم سبب یہ ہے کہ ہمارے ملک کے اسکولوں میں وہ سازوسامان نہیں ہوتا جو معذور بچوں کے لیے ضروری ہے اور اسی وجہ سے ایسے بچوں کو اسکول میں داخلہ دینے میں تردد ہوتا ہے۔ اس طرح معذور بچے اپنی عمر کے دیگر بچوں کے ساتھ تعلیم حاصل نہیں کرپاتے۔معذور بچوں کے لیے خصوصی اسکول تو موجود ہیں لیکن ضرورت کے لحاظ سے ان کی تعداد بہت کم ہے اور ایسے بیشتر اسکول شہری اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔اس کے علاوہ یہ بات بھی شدت سے محسوس کی جاتی ہے کہ معذور بچے الگ اسکولوں میں نہیں بلکہ انھیں اسکولوں میں تعلیم حاصل کریں جن میں دیگر بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔بہ الفاظ دیگر تعلیمی نظام اپنی نوعیت کے اعتبار سے محتوی (Inclusive)یعنی سب کو ساتھ لے کر چلنے والا ہو۔لیکن اس تصورکو حقیقت کا روپ دینے کے لیے اساتذہ کی تربیت کرنی ہوگی اور تعلیمی نظام کومختلف سطحوں پر تمام ضروری وسائل فراہم کرنے ہوں گے تاکہ بچوں کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔اس کام کی رفتار بہت سست ہے اور اس کو بار آور ہونے میں وقت لگے گا ۔
ابتدائی تعلیم کی نوعیت
(The nature of primary education)
ECCE کے بارے میں گفتگو کرتے وقت ہم یہ بتا چکے ہیں کہ بچے منفعل یا غیر فعال نہیں ہوتے کہ جو معلومات ان کودی جائیں انھیں وہ جذب کرلیں، بلکہ مختلف لوگوں سے ملنے جلنے میں یا مختلف حالات سے دوچار ہونے کے دوران وہ اپنا علم خود پیدا کرتے ہیں۔اسی لیے ابتدائی برسوں میں تعلیم ایسی ہونی چاہیے جس کے تحت بچے سرگرمیوں کی مدد سے علم حاصل کریں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ تعلیم اتنی لچک دار ہو کہ ہمارے ملک کے بچوں کے مختلف النوع سماجی،ثقافتی،معاشی اور لسانی ماحول سے مطابقت پیدا کرسکے۔ابتدائی تعلیم کے پہلے برسوں—پہلی اور دوسری کلاس — کا نصاب عملی سرگرمی پر مبنی ہونا چاہیے تاکہ ماقبل اسکول برسوں کے طریقۂ تدریس سے اس کاتعلق باقی رہے ۔اس سے بچے کو ابتدائی اسکول کے نئے اور نامانوس ماحول سے ہم آہنگ ہونے میں مدد ملے گی۔
بہر صورت ECCEکے معاملے میں بھی’کیا ہونا چاہیے‘اور’ کیا ہے‘کے درمیان کافی فرق پایا جاتاہے۔پچھلی چنددہائیوں میں، حکومت اور غیر حکومتی تنظیموں نے ایسی کوششیں کی ہیں جن سے تعلیم کے میدان میں اس فرق کو دور کیا گیا ہے۔ماہرینِ تعلیم نے بہت سے اختراعی اورنئی راہیں تلاش کرنے والے اقدامات بھی کیے ہیں۔2005میں این سی ای آرٹی کا تیار کردہ قومی درسیات کا خاکہ بھی ایک ایسا ہی دور رس نتائج پیدا کرنے والا قدم ہے۔اگرچہ این سی ای آر ٹی یہ کام ہر پانچ سال میں انجام دیتی ہے،لیکن اس اختراعی قدم نے ایسی نظری بنیادیں(Theoretical foundations) فراہم کردی ہیں جن پر مثالی تعلیم کی عمارت تعمیر کی جاسکتی ہے۔اس میں وہ رہ نما اصول بیان کیے گئے ہیں جن کی مدد سے درسی کتابیں تیار کرنے والے ماہرین تعلیمی مواد اس انداز میں پیش کریں کہ بچے کتابوں میںشامل معلومات کو خاموش تماشائی کی طرح قبول کرنے کے بجائے اپنے علم کی تشکیل خودکرسکیں۔
اگلے باب میں ہم ’تعلیم ‘کے موضوع کوچھوڑ کر بچوں کے کپڑوں کے دل چسپ موضوع کا ذکرکریں گے ۔ آپ کو یہ جان کر تعجب ہوگا کہ ہمارے لباس ہمارے کتنے کام آتے ہیں۔اس کے لیے ’ہمارے ملبوسات‘ کے باب کا مطالعہ کیجیے۔
کلیدی اصطلاحات اور ان کی تشریح
(Key terms and their meaning)
اہم حساس ادوار(Critical/Sensitive Periods):وہ دور جن میں کسی خاص دائرے میں نشوونما کا عمل پسندیدہ یا نا پسندیدہ تجربات کے حوالے سے بہت حساس ہوتا ہے۔
اعتماد(Trust):یہ احساس کہ ماحول ایک محفوظ اور سلامتی کی جگہ ہے جہاں ہماری ضروریات پوری ہوجائیں گی۔یہ احساس بچے میں پہلے پانچ برسوں کے دوران اس وقت فروغ پاتا ہے جب بچے کو مسلسل توجہ اور محبت ملتی رہتی ہے۔ چیزوں کی جستجو اور ماحول کے معاملات میں فعال شرکت سے، بچے دنیا اور دنیا کی چیزوں کو سمجھتے ہیں اور اپنی سمجھ کی تشکیل کرتے ہیں۔
تحریک دینا(Stimulation):بچوں کو ایسے تجربات سے روشنا س کرانا جو ان کے لیے بامعنی ہوں اور ان کی عمر یعنی ان کی نشوونما کی حالت سے ہم آ ہنگ ہوں۔ان تجربات میں چیزوں کے بارے میں ان کی جستجو یا دریافت اور آس پاس کے ماحول میں ہونے والے واقعات میں ان کی فعال شرکت شامل ہے۔اس سے بچے میں دنیا کی سمجھ پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنے آس پاس کے لوگوں اور چیزوں کے بارے میں سیکھتا ہے یا اپنی سمجھ کی تشکیل کرتا ہے۔
ای سی سی ای(ECCE):بچوں کی ہمہ جہتی نشوونما کو یقینی بنانے کے لیے اس کو مہیا کرائی جانے والی نگہ داشت، تحریک اور پرداخت کا مجموعہ ہے۔
معذور بچے(Children with disability):جو بچے ذہنی،بصری یا سمعی اعتبار سے معذور ہیں یاجنھیں دیگر اعضا کا استعمال کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔بیشتر معاملات میں ایسے بچے دوسرے بچوں کی طرح ہی ہوتے ہیں۔
سرگرمی(activity) اور تجربے (experinent)سے وابستہ نصاب:بچوں کے نصابِ تعلیم میں ایسی سرگرمیاں شامل کرنا جس سے انھیں اپنے بارے میں غور وفکر کرنے اور تلاش و جستجو کرنے کے لیے تحریک پیدا ہو۔
سوالات برائے نظر ثانی
1۔فرد کی زندگی میں شیر خوارگی اور ابتدائی بچپن کو زندگی کا سب سے اہم اور سب سے حساس زمانہ کیوں کہا جاتا ہے؟
2۔نشوونما کے دوران اہم یاحساس ادوار سے کیا مراد ہے؟
3۔اپنے ملک میں ای سی سی ای خدمات مہیا کرانے کی ضرورت کیوں ہے؟
4۔بچے کی بنیادی ضروریات مثالوں کے ساتھ بیان کیجیے۔ان بنیادی ضروریات کو پورا کرنا اہم کیوں ہے؟
5۔’ابتدائی بچپن کی نگہ داشت اور تعلیم‘(ECCE) کی اصطلاح کا کیا مفہوم ہے؟بچے کی بنیادی ضرورتیں ای سی سی ای کی خدمات کے ذریعے کس طرح پوری ہوتی ہیں؟
6۔کن اسباب کی بنا پر ہمارا ملک ابتدائی تعلیم کو عام نہیں کرسکا؟
7۔’’سروشکشا ابھیان ‘‘کیا ہے؟
عملی کام 13
نگہ داشت اور تعلیمA-
موضوع: پڑوس کے دو بچوں کا مشاہدہ کر کے ان کی سرگرمیوں اور رویوں کے بارے میں رپورٹ تیار کرنا۔
کام: 1۔ پیدائش سے 10سال کی عمر کے دو بچوں کاالگ الگ ایک گھنٹے تک مشاہدہ۔
2۔ ان کی سرگرمیوں اور ان کے رویوں کو قلم بند کرنا۔
3۔ رپورٹ تیار کرنا۔
عملی کام کا مقصد:ہم اپنے آس پاس بچوں کو دیکھتے ہیں مگر یہ سوچنے کی زحمت کم ہی کرتے ہیں کہ مختلف عمر والے بچے ایک دوسرے سے کن باتوں میں مختلف ہوتے ہیں اور ان میں کون سی باتیں مشترک ہوتی ہیں۔ہم مختلف واقعات اور حالات کو بچوں کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش بھی شاید ہی کبھی کرتے ہوں۔اس عملی کام کی مدد سے آپ تھوڑی دیر کے لیے بچوں کی دنیا میں چلیں گے اور یہ دیکھ سکیں گے کہ بچوں کی د ل چسپیاں کیا ہیں،ان کے سوچنے کا ڈھنگ کیا ہے اور مختلف حالات میں ان کا ردِّ عمل کیا ہوتا ہے۔
عملی کام پر عمل در آمد
1۔اپنے پڑوس کے دو بچوں کا پتا لگائیے جن کا آپ آسانی سے مشاہد ہ کرسکیں اور جو آپ کی موجودگی میں شرم یا جھجک محسوس نہ کریں۔
2۔دن کا کوئی ایسا وقت طے کر لیجیے جب آپ کو ان کا مشاہدہ کرنا آسان ہو اوروہ گھر یا باہر اپنی سرگرمیوں میں لگے ہوں۔
3۔اپنے ساتھ ایک نوٹ بک رکھیے اور ایک گھنٹے تک دونوں بچوں کی سرگرمیوں کو الگ الگ قلم بند کر لیجیے۔ڈائری میں مختصر نوٹ لکھیے جسے آپ بعد میں بڑھاسکیں۔
4۔بچے کی سرگرمیوں کو قلم بند کرنے کے لیے درج ذیل نمونے کا استعمال کیجیے۔
بچے کا نام ....................
عمر .......................
جنس ........................
سرگرمی
سرگرمی کا موضوع:مثلاً کھانا ،کھیلنا۔
سرگرمی کا وقت—منٹوں میں
سرگرمی میں شامل لوگ— جوسرگرمی کا حصہ ہوں۔
سرگرمی کا بیان— بچے نے اوراس کے ساتھ دوسروں نے اس سرگرمی کے دوران کیا کیا؟
سرگرمی کے دوران بچے کا رویہ
ایک گھنٹے کے دوران ہر بچے کی سرگرمیوں کو درج بالا نمونے کے مطابق قلم بند کرلیجیے۔
5۔ دو بچوں کی سرگرمیوں اور طرز عمل کی نوعیت کا موازنہ کیجیے۔ان کا تجزیہ درج ذیل نکات کی بنیاد پر کیجیے۔
—کیا بچوں کی سرگرمیوں کا وقفہ مختلف تھا؟
—کیا بچوں کی سرگرمی کی نوعیت مختلف تھی؟
—کیا بچوں نے ایک ہی طرح کی سرگرمی پر مختلف طرز عمل اور مختلف رد عمل کا اظہار کیا؟
—کیا یہ فرق اور یہ مشابہتیں بچوں کی عمر اور جنس کی وجہ سے تھیں؟
عملی کام 14
نگہ داشت اور تعلیم ۔B
موضوع: ابتدائی برسوں کے دوران بچے کی نگہ داشت اورمختلف صنفوں کے درمیان مماثلتوں اور فرق کے بارے میں ہندوستان کے مختلف حصوں سے متعلق معلومات جمع کرنا۔
کام:1۔ ہندوستان کے تین علاقوں سے بچوں کی نگہ داشت سے متعلق معلومات جمع کرنا۔
2۔ مختلف علاقوں میں بچے کی نگہ داشت کے فرق کا تجزیہ کرنا۔
3۔ بچے کی صنف کی بنیاد پر اس کی نگہ داشت کے فرق کا تجزیہ کرنا۔
عملی کام کا مقصد:ہر گھر میں بچے ہوتے ہیں، لیکن بد قسمتی سے ملک کے بہت سے حصوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ لڑکے کی پیدائش کو لڑکی کی پیدائش پر ترجیح دی جاتی ہے۔اس سے لڑکیوں کی نگہ داشت ،صحت ،تغذیے اور تعلیم جیسے امور میں امتیاز برتا جاتا ہے جس کی وجہ سے لڑکیوں کے ساتھ نا انصافی ہوتی ہے ۔بچوں کی نگہ داشت کے بارے میں مختلف امور کے علم سے آپ کو بچیوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک سے واقف ہونے میں مدد ملے گی اورآپ ان امتیازات کو ممکن حد تک دور کر سکیں گے۔
عملی کام پر عمل درآمد
1۔ہندوستان کے مختلف علاقوں کے تین ایسے خاندانوں کی نشا ن دہی کیجیے جن میں کم ازکم ایک خاندان لڑکی والااوردوسرا لڑکے والا ہو۔یہ خاندان اس بات پر بھی راضی ہوں کہ آپ ان کے ساتھ کچھ وقت گزار یں اور آپ کو بچوں کی پرورش اور نگہ داشت کے بارے میں معلومات فراہم کرسکیں۔
2۔ہر خاندان کے ساتھ دو تین گھنٹے گزاریے اور ان کے بچوں کی تعلیم،تغذیے اور صحت سے متعلق امور کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے۔اچھا یہ ہے کہ ماں یا دادی سے ضروربات کیجیے۔ذیل میں کچھ سوالات درج ہیں جو آپ پوچھ سکتے ہیں ۔
- آپ کی برادری میں بچے کی پیدائش کا جشن کیسے منایا جاتا ہے؟کیا لڑکوں اور لڑکیوں کے جشن مختلف قسم کے ہوتے ہیں؟
- نومولود بچے کو کھلانے پلانے سے متعلق کیا طور طریقے ہیں؟
- بچے کی پیدائش کے پہلے سال میں کون کون سی تقریبات مختلف مہینوں میں منعقدکی جاتی ہیں؟کیا لڑکے اور لڑکیوں کے لیے مختلف تقریبات ہوتی ہیں؟
- بچے کی پیدائش کے پہلے سال میں بچے کی نشوونما کے ساتھ خوراک اور تغذیے کا طریقہ کس طرح تبدیل ہوتا ہے؟ کیا لڑکے اور لڑکیوں کو مختلف خوراک دی جاتی ہے؟
- بچہ بیمار ہوتا ہے تو آپ لوگ کیا کرتے ہیں؟گھریلو دوائیں دیتے ہیں، ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں یا کسی مقامی علاج معالجہ کرنے والے کے پاس جاتے ہیں؟
- بچے کے لیے کیسے کھلونے خریدے جاتے ہیں؟
- بچے کو اسکول کب بھیجا جاتا ہے؟
یہ کچھ مثالیں ہیں۔آپ ایسے ہی اور سوالات بھی پوچھ سکتے ہیں
3۔درج ذیل خاکے کا استعمال کر کے اپنی معلومات کو یہاں قلم بند کیجیے۔
| بچے کی نگہ داشت سے متعلق طور طریقے |
لڑکی |
لڑکا |
| صحت |
|
|
| تغذیہ |
|
|
| تعلیم |
|
|
تجزیہ— اس سے لڑکی اور لڑکے دونوں کے بارے میں نگہ داشت کے طور طریقوںکی مشابہتوں اورفرق دونوں کا پتا چل جائے گا۔