ہمارے ملبوسات
(Our Apparel)
باب14
آموزشی مقاصد
اس باب کے مطالعہ کے بعد طلبا:
- لباس کے مختلف استعمال اور کپڑوں کے انتخاب پر اثر ڈالنے والے عوامل پر گفتگو کرسکیں گے۔
- بچوں کے لیے لباس سازی کی عام ضروریات پر گفتگو کرسکیں گے۔
- مختلف عمر والے بچوں کے لباس کی ضروریات اور ان کی خصوصیات کو سمجھ سکیں گے۔
- معذوربچوں کے لباس کی ضروریات پر گفتگو کرسکیں گے۔
14.1کپڑوں کے استعمال اور کپڑوں کا انتخاب
(Clothing Functions and the Selection of Clothes)
آج جوکپڑے آپ نے پہنے ہیں ان پر غور کیجیے اور یہ سوچیے کہ آپ نے یہ کپڑے کیوں پہنے ہیں؟ہوسکتا ہے اس لباس کے انتخاب میں موسم کا دخل ہویااس سرگرمی کاجو آپ کو اسکول میں انجام دینی ہو یا پھر اس تقریب کی وجہ سے آپ نے یہ لباس پہنا ہو جس میں آپ کو اور آپ کے اہلِ خانہ یا دوستوں کو شرکت کرنی ہے یا پھر ہوسکتا ہے کہ اس انتخاب کا کوئی خاص سبب نہ ہو۔
ہم سب کپڑے پہنتے ہیں اور مختلف قسم کے کپڑے پہنتے ہیں۔آئیے یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ ہم کوئی خاص لباس کیوں منتخب کرتے ہیں؟ اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ دیگر لوگوں کی پسند کے کیا کیا اسباب ہوسکتے ہیں۔
شرم وحیا (Modesty)
کپڑے پہننے کا سب سے اہم سبب شاید یہ ہے کہ لوگ سماج میں کپڑوں کے بغیر ادھر ادھر نہیں جاسکتے۔ہم شرم کی وجہ سے لباس پہنتے ہیں۔آپ شاید جانتے ہوں گے کہ چھوٹے بچوں کو بغیر لباس کے ادھر ادھر گھومنے میں الجھن محسوس نہیں ہوتی۔بچوں کو یہ سکھانا ضروری ہوتا ہے کہ جسم کو ڈھک کر رکھنا چاہیے۔
شرم وحیا کے بارے میں خیالات سماج ہی کے ذریعے تشکیل پاتے ہیں۔ہوسکتا ہے کہ کسی ایک سماج میں جو بات شرم و حیا کا باعث ہے دوسرے کسی سماج میں اس کا باعث نہ ہو۔مثال کے طور پر کچھ معاشروںمیں عورتوں کے سر نہ ڈھکنے کو بے حیائی سمجھا جاتا ہو جب کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کچھ برادریوں میں ٹانگوں کو نہ ڈھکنا بے حیائی سمجھا جاتا ہو۔
تحفظ (Protection)
ہم ماحول سے تحفظ کے لیے بھی کپڑے پہنتے ہیں۔ماحول سے تحفظ کا مطلب سخت موسمی حالات،دھول اور آلودگی سے تحفظ ہے۔ ہم مختلف موسموں کے لحاظ سے اپنے کپڑے بدلتے ہیں۔گرمیوں کے مہینوں میں ہم ہلکے سوتی کپڑے پہنتے ہیں اور سخت دھوپ سے بچنے کے لیے سروں کو بھی ڈھانپتے ہیں جب کہ سردیوں کے مہینوں میں ہم اپنے آپ کو اونی یا موٹے کپڑوں میں لپیٹے رکھتے ہیں۔
کپڑے ہم کو جسمانی نقصان سے بھی بچاتے ہیں۔آگ بجھانے والے کارکن،آگ، دھوئیں اور پانی سے بچنے کے لیے خصوصی کپڑے پہنتے ہیں۔کھیل کود کی بیشتر سرگرمیوں مثلاً فٹ بال ،ہاکی اور کرکٹ وغیرہ کھیلنے کے دوران ایسے کپڑوں کی ضرورت ہوتی ہے جو کھلاڑی کوچوٹ لگنے سے بچاسکیں۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ کھلاڑی اپنے عام لباس کے ساتھ خصوصی تحفظ کے لیے آرم گارڈ(Arm Guard)لیگ گارڈ(Leg guard)اوررسٹ بینڈ(Wrist band)وغیرہ کا بھی استعمال کرتے ہیں۔
سرگرمی1
کیا آپ برسات کے موسم میں استعمال ہونے والے کپڑوں کی نشان دہی کرسکتے ہیں؟اس موسم میں کس قسم کے کپڑوں اور دیگر اشیا کا استعمال ہوتا ہے؟ان سب کی ایک فہرست تیار کیجیے اور اس پر اپنے دوستوں سے گفتگو کیجیے۔
سماجی حیثیت (Status and Prestige)
کپڑے سماجی حیثیت کی بھی علامت ہوتے ہیں۔یہ بات سچ ہے کہ آپ لوگوں کی سماجی اور اقتصادی حیثیت کا اندازہ ان کے لباس سے کرسکتے ہیں۔آپ نے کچھ تاریخی فلموں میں دیکھا ہوگا کہ بادشاہوں اور درباریوں کے لباس عام لوگوں کے لباس سے مختلف ہوتے ہیں۔سماجی حیثیت اور اپنے وقار کا احساس دراصل انسان کی خود شناسی کا حصہ ہے اور لباس ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے اس احساس کی تکمیل بھی ہوتی ہے اور اس کا اظہار بھی۔ہندوستان میں تہواروں اور مختلف خاندانی تقریبات کے مواقع پر لوگ ایسے کپڑے پہنتے ہیں جن سے ان کے سماجی مقام اورمرتبے کا پتا چلتا ہے۔
ان دنوں زیادہ سے زیادہ طرح دار کپڑوں کی مناسب قیمتوں پر دست یابی کی وجہ سے نوجوان بڑی تعداد میں ایسے کپڑے خرید رہے ہیں۔اسی طرح کے اور بھی کپڑے(جیسے ٹی شرٹ،جینس،شلوار،کرتا)ہر عمر اور ہر معاشی سطح کے لوگوں کے لیے مل جاتے ہیں۔ ہر قسم کے کپڑوں کی ہر شخص کے لیے فراہمی سے سماج میں مختلف طبقوں کے درمیان امتیاز ات ختم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے اور جمہوری ملک میں سماجی برابری کی طرف پیش رفت بھی ہوتی ہے۔
آرائش و زیبائش (Adornment)
کیاآپ کے خیال میں لباس صرف اس لیے پہناجاتا ہے کہ آپ جاذب نظر لگتے ہیں؟ہاں،ہم اچھے کپڑے اس لیے بھی پہنتے ہیں کہ اس سے ہماری ظاہری شکل و صورت میں نکھار آتا ہے۔مرد ہویا عورت،جسم کی آرائش اور اس کو خو ب صورت بنانے کی ضرورت کا احساس ایک حقیقت ہے اور یہ بات کسی نہ کسی درجے میں سبھی سماجوں میں پائی جاتی ہے۔کان چھدوانا، ناخنوں پر پالش کرنا ،بال گوندھنا اور ان میں گرہیں لگانا، یہ سب آرائش وزیبائش کے ایسے طریقے ہیں جو آج بھی رائج ہیں۔ زیب و زینت کے کون سے طریقے پسندیدہ ہیں اس کا تعین سماج ہی کرتا ہے۔
آج کل بازار میں طرح طرح کے کپڑے دست یاب ہیں جن میں سے بیشتر کپڑوں کا استعمال لباسوں کے طور پر کیا جاتا ہے۔ پچھلے باب(باب7)میں آپ نے کپڑوں کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں پڑھا تھا، یعنی یہ کہ کوئی کپڑا کس خام مال یا ریشے سے بنا ہے،کپڑے کی قسم کیا ہے اور تیاری کے بعد اس کی چمک دمک کے لیے کیا کیا طریقے استعمال کیے جاتے ہیں ۔آپ اس طرح کپڑوں کے مختلف استعمال اور ان کی حفاظت کی ضرورت کے لحاظ سے کپڑوں کی خصوصیات بیان کرسکتے ہیں۔کپڑوں اور ملبوسات کے انتخاب میں صرف کپڑوں کی مختلف خصوصیات کو ہی پیش نظر نہیں رکھا جاتا بلکہ لباس کے مختلف اسٹائل اوردیگر لوازمات و متعلقات کا بھی دھیان رکھا جاتا ہے۔ہم کپڑے پہننے کے اسباب پر اس سے پہلے گفتگو کرچکے ہیں۔ہم یہاں مختلف عمر کے لوگوں کے لیے کپڑوں کے انتخاب اور ان کی خصوصی ضروریات پر گفتگو کریں گے۔
14.2 ہندوستان میں کپڑوں کے انتخاب پر اثرا نداز ہونے والے عوامل
(Factors Affecting Selection of Clothing in India)
کپڑوں کی ضرورت اور کپڑوں کا انتخاب اس علاقے کی جغرافیائی خصوصیات،آب و ہوا اور موسمی خصوصیات پر منحصر ہوتا ہے۔ اس عمل میں کپڑوں کی آسانی کے ساتھ فراہمی ،ثقافتی اثرات اوراس سے بھی بڑھ کر خاندانی روایات کے اثرات بھی ہوتے ہیں۔ یہاں ہم عمومی طور پر کپڑوں کے انتخاب کو متاثر کرنے والے عوامل کا اختصار کے ساتھ ذکر کریں گے۔
عمر(Age)
کپڑوں کے انتخاب میں عمر ایک اہم عامل ہے جس کا خیال زندگی کے ہر مرحلے پر رکھا جانا چاہیے ۔بچوں کے کپڑے یا ان کے لباس کے انتخاب میں تو اس کی خاص اہمیت ہوتی ہے کیوں کہ بچوں کے کپڑوں کا انتخاب والدین یا گھر کے بڑوں کو کرنا ہوتا ہے۔یہ بات بھی اہم ہے کہ بچے، خاص طور پر شیر خوار بچے کوئی گڑیا گڈے نہیں ہوتے جنھیں بڑے اپنی تسکین کے لیے اپنی مرضی کا لباس پہنائیں اور بناؤ سنگار کریں۔ان کی جسمانی نمو،حرکی نشوونما،لوگوں اور چیزوں سے ان کا تعلق اور ان کی اپنی پسند یدہ سرگرمیوں وغیرہ کا خیال، بچوں کے آرام اور ان کی حفاظت کے نقطۂ نظر سے رکھنا ضروری ہوتا ہے۔جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے ہیں ویسے ویسے خاندان سے باہر کے لوگوں سے ان کا تعلق اور راہ ورسم بھی بڑھتا ہے ۔ اب وہ ان کپڑوں اور لباسوں کے بارے جاننے لگتے ہیں جو دوسرے لوگ پہن رہے ہیں اور یہ بھی کہ دیگر لوگ ان کے کپڑوں کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔بچپن کے درمیانی حصے میں ہم عمروں جیسے کپڑے پہننے کا جذبہ بھی اہم ہوجاتا ہے اور عمربڑھنے کے ساتھ یہ جذبہ بھی بڑھتا جاتا ہے۔کپڑوں اور ملبوسات سے بچوں میں مِلکیت اور قبولیت (Belonging and Acceptance)کا احساس فروغ پاتا ہے۔عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کے لباس میں تبدیلیاں آتی ہیں اور لڑکوں اور لڑکیوں کے لباس میں فرق آجاتا ہے۔نوبلوغت کا زمانہ آتا ہے توجسمانی نمو کی رفتار تیز تر ہونے سے لڑکے اور لڑکیوں کے لباسوں کا فرق اور نمایاں ہوجاتا ہے۔نوبالغ بچے سماجی اور ثقافتی معاملات اور عصری رجحانات اور میلانات کو بھی جانناسمجھنا شروع کردیتے ہیں جس سے کپڑوں کے انتخاب کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔ان کو یہ یقین ہوجاتا ہے کہ سماج میں ان کی قبولیت اور ان کے تعلقات ان کی ظاہری شکل و صورت پر منحصر ہیں جس میں اچھے لباس کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔
آب وہوا اور موسم )ـ(Climate and season
پچھلے حصّے میں آپ نے پڑھاتھاکہ کپڑے پہننے کی ایک اہم وجہ ماحول اور موسم سے تحفظ ہے۔اسی لیے بچوں کے کپڑوں کا انتخاب کرتے وقت یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ وہ آب وہوا کے مطابق ہوں۔سردیوں کے موسم کے لیے کپڑوں کی ضروریات گرمیوں کے موسم کی ضروریات سے مختلف ہوںگی اور اسی طرح زیادہ بارش والے علاقوں میں بھی جہاں کی آب و ہوا زیادہ مرطوب ہوتی ہے کپڑوں کی ضروریات مختلف ہوں گی۔جو لباس سال میں صرف تین چار ماہ تک استعمال میں آتے ہیں ان کی لاگت اور تعداد پر بہت دھیان دینے کی ضرورت ہے۔بڑھتے بچوں کے معاملے میں یہ اور بھی ضروری ہے کیوں کہ اگلے موسم میں کپڑے چھوٹے ہوجاتے ہیں۔
موقع ومحل (Occasion)
لباسوں کا انتخاب بہت حد تک موقع اور وقت پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ہر موقع و محل کے لیے الگ الگ لباسوں کے لیے غیر تحریری اصول اور روایات موجود ہیں۔بیشتر اسکولوں کی یونیفارم مقرر ہوتی ہے اور ان کے ساتھ دیگر چیزیں اور زیورات وغیرہ کو نہ پہننے کے لیے بھی ضابطے مقرر ہوتے ہیں ۔جن اسکولوں میں یونیفارم پہننا لازمی نہیں ہوتا وہاں بہت زیادہ رسمی ، نمائشی لباس بچوں کے لیے نظم ونسق کی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔یار دوست ایسے لباسوں کا مذاق اڑانے لگتے ہیں ۔ ان کی وجہ سے بچے گروپ کی سرگرمیوں میں کھل کر حصہ لینے سے بچنے لگتے ہیں۔
سماجی تقریبات اور پارٹیاں ایسے مواقع ہوتے ہیں جب بچے نفیس لباس پہننا پسند کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی انفرادیت کا اظہار کرسکیں۔خاندانی تقریبات جیسے شادی بیا ہ کے مواقع پر بچّے بھی روایتی طور طریقوں پر عمل کرتے ہوئے مناسب لباس پہنے ہوتے ہیں۔بیشتر سماجوں میں مذہبی یاسماجی رسوم وقت کے ساتھ روایتی طریقوں پر یا پھر کبھی کبھی اصلاح شدہ طور طریقوں پر جاری رہتی ہیں۔لباسوں کے انتخاب کا اثر لباس کے طرز پرہی نہیں،کپڑے کی قسم، اس کی ساخت، رنگ اوردیگر متعلقہ چیزوں پر بھی پڑتا ہے۔حیا اور تحفظ کے لحاظ سے لباس کا انتخاب موقع،سرگرمیوں اور وقت کے مطابق الگ الگ ہوتا ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ صحیح وقت پر صحیح لباس پہناجائے۔
فیشن (Fashion)
فیشن کی اصطلاح سے مراد وہ طرز(Style)ہے جولوگوں کو دل کش لگے ۔بچے بھی مسلسل ٹی ۔وی دیکھتے دیکھتے فیشن پسند ہوجاتے ہیں۔ فیشن ،اہم شخصیات،سماجی یا سیاسی رہ نماؤں، لیڈروں،فلمی ستاروں یا پھر قومی اہمیت کے واقعات سے متاثر ہوتا ہے۔ ملبوسات کے مختلف پہلویعنی کپڑے کی قسم ،رنگ،ڈیزائن اورتراش اور اس کے علاوہ ملبوسات کے دیگر لوازامات (جیسے اسکارف،بیگ ،بیج اور پیٹی وغیرہ)بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔کچھ فیشن ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں لباس کی کچھ بعض خصوصیات پربہت سے زیادہ زو ردیا جاتا ہے یاوہ سماج کے کسی خاص طبقے یا کسی خاص علاقے کے لیے ہوتے ہیں ۔ان فیشنوں کی عمر زیادہ نہیں ہوتی۔یہ فیشن وقتی فیشن (Fads)کہلاتے ہیں ۔بچے اور نوجوان ایسے وقتی فیشنوں سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔
آمدنی (Income)
لباس کے انتخاب میں آمدنی کو بڑا دخل ہوتا ہے ۔آمدنی کے اثرات خریداری کے وقت کیے جانے والے خرچ پر ہی نہیں بلکہ کپڑے کی پائیداری،اس کی نگہ داشت اور رکھ رکھاؤ کی ضروریات اور مختلف مقاصد کے لیے اس کے استعمال پر بھی پڑتے ہیں۔گھر میں بچوں کی تعداد،ان کی عمروں میں فرق اور بچوں کی صنف(لڑکا ؍لڑکی)وغیرہ لباس کے انتخاب کو متاثر کرنے والے مختلف عوامل ہیں۔زیادہ آمدنی والے خاندانوں میں اکثر زیادہ متنوع قسم کے کپڑے ہوتے ہیں جنھیں خصوصی تقریبات کے موقع پر استعمال کیا جاتا ہے۔معمولی یا کم آمدنی والے خاندانوں میں، بڑے بچوں کے کپڑوں کو دوبارہ استعمال کرلیا جاتا ہے یعنی چھوٹے بچے بڑے ہوکرانھیں استعمال کرتے ہیں ۔اس سے ان خاندانوں میں لباسوں پر ہونے والے خرچ میں کمی آجاتی ہے۔
اسکولوں میں تمام بچوں کے لیے یکساں لباس کیوں لازمی ہے اس کی ایک وجہ بچوں کے درمیان سماجی اور اقتصادی فرق کو کم کرنا بھی ہے۔
14.3 لباسوں سے متعلق بچوں کی بنیادی ضرورتوں کو سمجھنا
(Understanding Children's Basic Clothing Needs)
جب بچے بڑے ہونے لگتے ہیں تو وہ اپنے ہم عمروں یابڑوں جیسا بننا چاہتے ہیں جن کو وہ پسند کرتے ہیں۔اس کا ایک طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ان ہی جیسا لباس پہننے لگتے ہیں۔یہ ان کے لیے ایک جذباتی تجربہ ہوتا ہے۔بچوں کے کپڑے ایسے ہونے چاہئیں جو ان کی مختلف سرگرمیوں کے مطابق ہوں۔کپڑوں سے ان کے کھیل کود کی آزادی ختم نہیں ہونی چاہیے جو ان کی جسمانی نمو کے لیے بہت ضروری ہے۔شیرخوارگی سے لے کر نوبلوغت تک لباس سے متعلق بچوں کی ضروریات کا تفصیلی بیان نیچے کیا جاتا ہے۔
آرام (Comfort)
آرام بچوں کی سب سے اہم ضرورت ہے۔بچوں کے کپڑے ایسے ہونے چاہئیں جن سے ان کا لڑھکنا،پیٹ کے بل چلنا،پالتھی مار کر بیٹھنا،چڑھنا ، دوڑنا اور کودنا بغیر کسی رکاوٹ کے ممکن ہو ۔بچے اس خوف کے بغیر کھیل کود سکیں کہ ان کے کپڑے خراب ہوجائیں گے۔تنگ یا چست کپڑے بچوں کو نہیں پہنانے چاہئیں کیوں کہ اس سے ان کی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔یہی نہیں بلکہ ان کے خون کا فطری دوران بھی اس سے متاثر ہوتا ہے۔اسی طرح ایلاسٹک(Elastic) اتنی تنگ نہیں ہونی چاہیے جس سے تکلیف ہونے لگے۔بھاری اورلمبے چوڑے لباسوں کو سنبھالنا بچوں کے لیے مشکل بھی ہوتا ہے اور تکلیف دہ بھی۔ سردی کے موسم میں گرم رہنے کے لیے نائیلون اور ایکری لک(Acrylic)ریشوں کے بنے کم وزنی کپڑوں کا انتخاب کرنا چاہیے ۔چھوٹے بچے بار بار جھکتے اور مڑتے ہیں،اس لیے ان کا لباس ایسا ہو کہ وہ آسانی سے حرکت کرسکیں۔کمر سے لٹکنے والے لباسوں کے مقابلے کا ندھوں سے لٹکنے والے لباس زیادہ آرام دہ ہوتے ہیں۔بچوں کے لباس گردن پر اتنے چوڑے ہونے چاہئیں کہ گلے پر دباؤ نہ پڑے۔اسی طرح ایسی آستینیں جن کے سِرے بندھے ہوں ان سے بچوں کو الجھن ہوتی ہے اور اس سے ان کی حرکت کرنے کی آزادی پر اثر پڑتا ہے۔
اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ لباسوں کا کپڑا ملائم اور پانی کو جذب کرنے والا ہوجو بچوں کی حسّاس جلد کے لیے مناسب ہوتا ہے۔لڑکیوں کی فراکوں کے کلف دار کالر اوراسی طرح لڑکوں کی بھاری کلف دار قمیص ،پہننے میں آرام دہ نہیں ہوتی ۔ بہت لمبے اور بہت چھوٹے لباس دونوں ہی تکلیف دہ ہوتے ہیں۔اس سے بچنے کے لیے ایسے لباسوں کا انتخاب کیجیے جو جسم پر موزوں اور درست ہوں اور جن سے بچوں کی نمو میں رکاوٹ نہ پیدا ہو۔جہاں تک آستینوں کی بات ہے تو تنگ آستینوں کے مقابلے ڈھیلی آستینوں سے بچوں کو زیادہ آزادی ملتی ہے اور وہ نشو ونما کے لیے بھی مناسب ہوتی ہیں۔
حفاظت (Safety)
بچوں کے لباسوں میں آرام اور حفاظت دونوں پہلو ایک ساتھ ہونے چاہئیں۔زیادہ بڑے لباس آرام دہ نہیں ہوتے ہیں اور غیر محفوظ بھی ہوسکتے ہیں۔ڈھیلے ڈھالے لباس( جسم پر ٹھیک آنے والے لباسوں کے مقابلے) جلد اور آسانی سے آگ پکڑسکتے ہیں۔لٹکتے ہوئے پٹکے اور جھالر ٹرائی سائیکل وغیرہ کے چلتے ہوئے حصوں میں اٹک یا الجھ سکتے ہیں۔موٹر گاڑی یا بائک وغیرہ چلانے والے گہرے اور بھورے رنگوں کے مقابلے چمک دار رنگوں کو زیادہ آسانی سے دیکھ لیتے ہیں، اس لیے بہترہے کہ بچوں کے لباسوں کے رنگ کا انتخاب بھی اس بات کو دھیان میں رکھ کرکیا جائے۔بناڈھیلے بٹن اور جھالریں بھی ان شیرخوار بچوں کے لباس میں نہیں ہونی چاہئیں کیوں کہ وہ ہر چیز کو اپنے منہ میں رکھ لیتے ہیں۔
اپنی مدد آپ (Self-help)
اپنے لباس خود پہننے اور اتارنے سے بچوں میں خودکفالت کا احساس پیدا ہوتا ہے ۔بہت سے لباس ایسے ہوتے ہیں کہ بچوں کے لیے انھیں خود سے پہننا یا اتارنا مشکل ہوتا ہے۔دھیان رکھیے کہ یہ بات اس بچے کے لیے جو اپنا لباس خود پہننا اور اتارنا چاہتا ہے ذہنی پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔
اپنی مدد آپ کے سلسلے میں سب سے اہم پہلو لباس کا گریبان ہوتا ہے۔لباس کا گریبان کافی زیادہ یا بڑا ہونا چاہیے تاکہ بچہ آسانی سے لباس پہن بھی سکے اور اتاربھی سکے۔جن لباسوں کے اگلے حصے کھلے ہوتے ہیں ان کو اتارنا اور پہننا آسان ہوتا ہے۔بٹن بھی کافی بڑے ہونے چاہئیں تاکہ بچہ انھیں پکڑ سکے۔لباس کے اگلے اور پچھلے حصے مختلف ہونے چاہئیں تاکہ بچہ آسانی سے الٹے اور سیدھے میں فرق کر سکے۔چھوٹے چٹ پٹ بٹن(Snaps)ہک اور کاج اور کمر یا گردن پر بندھی ہوئی قوسیں(Bows)اور دھاگے کے پھندوں والے چھوٹے بٹن بچوں کے لیے اپنالباس خود پہننے اور اتارنے میں پریشانی کا باعث ہوسکتے ہیں۔
ظاہری شکل و صورت (Appearance)
بچے اپنے لباس کے بارے میں خود اپنا ایک تصور رکھتے ہیں،اس لیے بچوں کو اپنی ترجیحات کے اظہار کا موقع یا آزادی ہونی چاہیے۔چھوٹی عمر میں ہی پسند ناپسند کے اظہار سے بچوں میں لباس کے انتخاب کی اہلیت پیدا ہوتی ہے۔ اوپری کپڑوں کا رنگ چمک دار اور شوخ ہوتو سڑک پر یا کھیل کے میدان میں بچے کو پہچاننا آسان ہوتا ہے۔دھار یاں ایسی ہوں جن سے پسندیدہ نقوش نمایاں ہوں اور غیر پسندیدہ نقوش دب جائیں۔کپڑے کا ڈیزائن بھی بچوں کی جسامت سے ہم آہنگ ہو۔عام طور پر بچوں کے لیے چھوٹی دھاریاں،چھوٹے چارخانے اور نفیس و نازک قسم کے پرنٹ بہت اچھے ہوتے ہیں۔اگرچہ بڑے ڈیزائن بھی اچھے ہوسکتے ہیں لیکن اکثر ان کی وجہ سے چھوٹے بچے کی شخصیت دب سی جاتی ہے۔
نمو کی گنجائش (Allowance for growth)
بچوں کے لباس ایسے ہوں جن سے بچوں کی لباس، نمو،خاص کر قد میں اضافہ آسانی سے اور بے روک ہوسکے۔ مناسب نہیں ہے کہ بچوں کے لیے زیادہ بڑے لباس خریدے جائیں کیوں کہ ایسے لباس نہ آرام دہ ہوتے ہیں نہ محفوظ۔بہتر یہ ہے کہ لباس کا انتخاب بچے کے بڑھتے ہوئے قد کو دھیان میں رکھ کر کیا جائے ۔ایسے لباسوں کا انتخاب کیا جانا چاہیے جو سکڑ نہ جائیں۔پتلونوں میں کناروںکی طرف کف لگائے جاسکتے ہیں تاکہ بعد میں کسی وقت انھیں ٹانگوں کی لمبائی بڑھانے کے لیے کھولاجاسکے۔اسکرٹ میں ایسی پٹیاں (Straps) بھی ضروری ہیں جنھیں سہولت کے مطابق بڑا یا چھوٹا کیا جاسکے۔کشادہ (Raglan) آستین نمو کے لحاظ سے چست آستینوں سے بہتر ہوتی ہے۔کاندھوں کے پاس چنٹیں اور پلیٹیں(Pleats) ہونےسےان کی بڑھتی ہوئی چوڑائی میں رکاوٹ نہیں آتی۔
دیکھ ریکھ میں آسانی (Easy Care)
بچوں کو لباسوں کے گنداہونے کی کوئی الجھن نہ ہو تو وہ بہت خوش رہتے ہیں۔ماؤں کو بھی ایسے لباس اچھے لگتے ہیں جن کی دیکھ بھال آسان ہو یعنی جن کو آسانی سے دھویا جاسکے اور زیادہ استری وغیرہ کرنے کی ضرورت بھی نہ ہو ؟ جن مقامات پر زیادہ زور پڑتا ہے جیسے گھٹنے،جیبوں کے گوشے اور کہنیاں وہ ذرا مضبوط ہونے چاہئیں۔
کپڑے (Fabrics)
بچوں کے لباس بنانے کے لیے ایسے کپڑے مناسب ہوتے ہیں جو ملائم ہوں ، اچھی طرح بُنے گئے ہوں،جن کی دیکھ ریکھ آسان ہو،جو آرام دہ ہوں،جن میں سلوٹیں نہ پڑیں اور جو جلدمیلے نہ ہوں ۔ایسے لباسوں کا استعمال مت کیجیے جن کو ڈرائی کلین کرانا پڑے۔چھپے ہوئے کپڑوں مثلاً،کارڈرائی (Corduroy) اور بافتی کپڑوں(Textured Fabrics)میں سلوٹیں کم پڑتی ہیں اور وہ میلے بھی کم ہوتے ہیں۔سوتی کپڑا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جانے والا کپڑا ہے کیوں کہ یہ دھونے میں آسان ہے اور پہننے میں آرام دہ ہوتا ہے۔اون گرم ہوتا ہے لیکن اس کے رکھ رکھاؤ پر خصوصی توجہ دینی ہوتی ہے۔ اس سے بچوں کی نرم و نازک جِلد میں جلن کا احساس پیداہوسکتا ہے اور اسی لیے اونی کپڑا جسم سے چپکا ہوا نہیں ہوناچاہیے۔پولسٹر(Polyester)،نائیلون اور ایکریلک کپڑے، پہننے میں اچھے ہوتے ہیں اور ان کی دیکھ بھال بھی آسان ہوتی ہے۔بچوں کے لیے خالص پولسٹر کے مقابلے سوت اور پولیسٹرملے ہوئے کپڑے آرام دہ ہوتے ہیں کیوں کہ یہ زیادہ جاذب(Absorbent)ہوتے ہیں۔
سرگرمی2
14.4 بچپن کے مختلف مراحل میں لباسوں کی ضرورت
(Clothing requirements at different childhood stages)
پچھلے حصّے میں ہم نے بچوں کے لباسوں کی عام ضروریات پر گفتگو کی۔بچپن کے ہر مرحلے کی الگ خصوصیات ہوتی ہیں اور لباسوں کے انتخاب میں ان خصوصیات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
شیرخوارگی(پیدائش سے6ماہ تک)(Infancy)
عمر کے ابتدائی مہینوں میں،لباس کی گرمی،ان کا آرام دہ اور حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق ہونا بہت اہم ہوتا ہے۔اس عمر میں بچے صرف محسوس کرتے ہیں ،سوتے ہیں اور پیشاب پاخانہ کرتے ہیں۔اس لیے لباس ان ضرورتوں کے مطابق آرام دہ ہونے چاہئیں۔ایسے لباس سلوائے یا خریدے جائیں جن کا اگلا حصہ نیچے کی طرف کھلا ہوا ہو یا جن میں کھلا حصہ زیادہ ہو تاکہ لباس سَر سے پھسل نہ جائیں۔کھینچنے والی ڈوریوں سے ،خاص طور پروہ جوگر دن کے آس پاس ہوں بچنا چاہیے ،کیوں کہ ڈوریاں گلے میں پھنس سکتی ہیں ۔بند ایسے ہونے چاہئیں جو آسانی سے ہاتھ میں آجائیں اور جن سے بچے کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔بہتر ہے کہ بچوں کے لباس بہت سے ہوں اورا ن کواس طرح تبدیل کیاجاسکے جیسے قمیص اور ڈائپر(Diaper)بدلے جاتے ہیں۔

شکل1:بچوں کے کپڑے
اس عمر میں بچے کی جِلد بہت نازک اور حساس ہوتی ہے اور اسی لیے انھیں بہت ملائم،ہلکے اور پہننے اور اتارنے میں آسان لباس پہنائے جانے چاہئیں۔بچوں کے لیے کلف دار لباس مناسب نہیں ہوتے کیوں کہ ان سے ان کی جِلد پر خراشیں آسکتی ہیں۔ پوری طرح اونی فلالین کے کپڑے بھی سردیوں میں جلد پر خراشیں ڈال سکتے ہیں۔اس لیے بچوں کے لیے مخصوص فلالین کو جو اون اور سوت کو ملا کر بنایا جاتا ہے ترجیح دینی چاہیے۔اس عمر میں بچے بہت تیزی سے بڑھتے ہیں اور اس لیے چھوٹے سائزکے زیادہ لباس خرید لینا مناسب نہیں ہے۔
ڈائپر، شیر خوار بچوں کی اولین اور اہم ترین ضرورت ہے۔ڈائپر نرم،جذب کرنے والے، آسانی سے دھلنے اور جلد سوکھنے والے ہونے چاہئیں۔بہت سے خاندانوں میں گھرکے افراد سوتی ڈائپر بنالیتے ہیں۔ اگر اس کے لیے پرانے سوتی کپڑے کا استعمال کیا جاتا ہے تو اس کو اچھی طرح جراثیم(Infection)سے پاک کرنا ضروری ہے۔ بہت سے لوگ گھر یلو ڈائپر وں کے بدلے بازار میں دستیاب گاز(Guaze)یا پھر برڈز آئی(Birds'eye)ڈائپروں کا استعمال کرتے ہیں۔ مختلف شکلوں کے ڈائپر بازار میں دست یاب ہیں لیکن یہ دھیان رکھنا ضروری ہے کہ ڈائپر بچے کے جسم کے لحاظ سے موزوں ہوں۔

شکل2: بچّوں کے ڈائپرس
تقریباً ہر طرح کی آب و ہوامیں بنیان (Undershirts)پہنے جاتے ہیں جس کا انحصار موسم اورجغرافیائی محلِ وقوع پر ہوتا ہے۔ اس بات پر توجہ دینی بھی ضروری ہے کہ بنیان کس کپڑے سے بنایا گیا ہے ۔گرم آب و ہوا کے لیے سوتی بنیان مناسب ہوتے ہیں۔سردی کے موسم کے لیے ملائم سوت اور اون کی آمیزش والی قمیص (Shirt)مناسب رہتی ہے۔در اصل شرٹ اور ڈائپر شیرخوار بچوں کابنیادی لباس ہیں۔مختلف طرزوں والی ایسی سوتی شرٹوں کو ترجیح دی جانی چاہئیں جنھیں پہنانا اور اتارنا آسان ہو۔
دیہی علاقوں میں دیکھا گیا ہے کہ بچے گھر میں بنے اور استعمال شدہ اشیا سے تیار کردہ سادہ لباس پہنتے ہیں۔
گھٹنوں کے بل چلنے کی عمر(6ماہ سے1سال)(Creeping Age)
یہ وہ عمر ہوتی ہے جب بچے میں کسی سہارے کے بغیر آزادانہ حرکت کرنے کی علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔بچے کسی چیز تک پہنچنے کے لیے اس تک ہاتھ بڑھانے اور اپنی کوشش سے بیٹھنے اور فرنیچر وغیرہ کے کنارے پکڑ کر کھڑے ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ نے محسوس کیا ہوگاکہ ان سرگرمیوں کے دوران بچوں کو تحفظ اور آرام دینے کے لیے لباسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

شکل3:گھٹنوں کے بل چلنے کی عمر کے لیے آرام دہ لباس
اس عمر کے بچوں کے لیے سب سے مناسب لباس رومپر(Romper)اور سن سوٹ(Sunsuit)سے بنے ہوئے ہوتے ہیں۔کپڑے سے بنائے جاتے ہیں۔

شکل4:گھٹنوں کے بل چلنے والے بچوں کے مختلف لباس
ان ملبوسات کا انتخاب کرتے وقت ان کے سائز اور ڈھیلے ہونے کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے تاکہ یہ بچوں کی حرکات میں رکاوٹ نہ بنیں۔اس عمر میں سردی سے بچانے کے لیے ملائم تلے والے جوتوں کا استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ بچوں میں ٹوائلٹ استعمال کرنے کی عادت ڈالنے کے دوران اکثرمخصوص پینٹوں کا استعمال کیا جاتا ہے ۔یہ ایسے کپڑے کی بنی ہوتی ہیں جوکولہوں پرآسانی سے آجاتی ہیں۔
چلنا شروع کرنے کی عمر(1سے2سال)(Toddlerhood)
اگر آپ اس عمر کے بچوں کو غور سے دیکھیں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ یہ بچے بہت چاق و چوبندہوتے ہیں۔ان کو گھر کے اندر اور باہر کھیلنے کی آزادی چاہیے۔وہ سارے کام خود کرنا چاہتے ہیں۔ چلنا شروع کرنے کے بعد وہ جس چیز کو دیکھتے ہیں وہاں تک پہنچنا چاہتے ہیں۔عمر کے اس مرحلے میں جوتے ،بچوں کے لباس کا ایک لازمی حصہ ہو جاتے ہیں۔چھوٹے بچوں کے لیے جوتے اور موزے کی صحیح ناپ پیروں کے آرام اور صحت کے لیے ضروری ہے۔اس عمر میں لباس کے معاملے میں سب سے اہم مسئلہ جوتوں کے انتخاب کا ہوتا ہے۔جب بچہ چلنا شروع کردیتا ہے تو اُسے لچک دار مضبوط تلے والے جوتے پہنانے چاہئیں جن کی موٹائی 1/8انچ ہو۔یہ جوتے یا توبغیر ایڑی کے ہوں یا بہت ہلکی ایڑی والے ہوں اور ان کے انگوٹھے کی طرف کا حصہ بند اورنرم ہو۔
جوتوں کا انتخاب بہت احتیاط سے کیا جانا چاہیے اور یہ خیال بھی رکھا جانا چاہیے کہ جوتے پاؤں میں ٹھیک آئیں۔اگر جوتے پاؤں میں ٹھیک نہیں آئیں گے اور ان کی بناوٹ تکلیف دہ ہوگی تو بچے کی نازک ہڈیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔جوتوں کا انتخاب کر تے وقت ان کی انگوٹھے کی طرف والی جگہ کی لمبائی،چوڑائی اور اونچائی کا خیال رکھنا خاص طور پر ضروری ہے اور یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ ایڑی فٹ ہو۔

شکل 5: جوتوں کی صحیح فٹنگ
جوتے بچوں کے پاؤں میں ٹھیک آتے ہیں تو ا س سے ان کی چلنے ، چڑھنے اور بھاگنے جیسی جسمانی مہارتیں متوازن طور پر فروغ پاتی ہیں۔بچوں کے پاؤں جلد ہی جوتوں سے بڑے ہوجاتے ہیں ۔ اس طرح بار بار جوتے بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے، ورنہ بچوں کو پیروں کی بیماریوں کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
اس عمر کے بچوں کے لیے اوپری پوشاکیں(Overalls)بہت مناسب ہوتی ہیں ۔یہ پوشاکیں ایسی ہونی چاہئیں جن کا نچلا حصہ پھیلا ہوا ہو تاکہ ڈائپر کا استعمال کیا جاسکے۔جب بچے دوسال کے ہوجاتے ہیں تو وہ اپنے لباس خودپہنناچاہتے ہیں۔اس وقت ایسے لباس کا انتخاب ضروری ہے جن کو بچے خود پہن سکیں۔ہم ایسے لباسوں کا ذکر پہلے کرچکے ہیں۔
سرگرمی3
پری اسکول عمر(2سے6سال)(Preschool Age)
دیگر عمر کے بچوں کی طرح ،پری اسکول بچوں کی صحت اور آرام بھی کپڑوں کے انتخاب کے معاملے میں بہت اہم ہوتے ہیں ۔ان بچوں کے لیے کپڑوں کا انتخاب بہت مناسب انداز میں اور احتیاط کے ساتھ کیاجانا چاہیے کیوں کہ یہ بچے کھیلتے زیادہ ہیں اور اس لیے ان کے لبا س بھی زیادہ پھٹتے ہیں۔لہٰذا ان کے لباس ایسے ہونے چاہئیں جو کم پھٹیں۔بچوں کے لباس ہلکے خام مال سے بنے ہونے چاہئیں جنھیں سکڑنے کے عمل سے پہلے ہی گزار لیا گیا ہو اورجن کی نگہ داشت آسان ہو۔پری اسکول بچوں کے لیے سوتی کپڑے زیادہ مناسب رہتے ہیں۔سوتی کپڑے حفظان صحت کے نقطۂ نظر سے بھی اچھے ہوتے ہیں اور ان کو دھونا بھی آسان ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ پانی کو آسانی سے جذب بھی کرلیتے ہیں۔
بازار سے خریدے گئے پری اسکول بچوں کی پوشاکوں کے ڈیزائن ایسے ہونے چاہئیں کہ ان کی دیکھ ریکھ آسانی سے کی جاسکے۔بعض پوشاکوں کے حاشیے ایسے ہوتے ہیں جنھیں دھونا مشکل ہوتا ہے اور جن پر استری بھی مشکل سے ہوپاتی ہے ۔لباس ایسے ہونے چاہئیں کہ باربار دھلنے یا زیادہ استعمال سے خراب نہ ہوں ۔یہ بھی اہم بات ہے کہ بند اور جھالر مضبوطی سے لگے ہوئے ہوں، کپڑے کی سجاوٹ پر استری کر نا آسان ہو اور سیونیں(Seams)چپٹی اور فنشنگ والی ہوں۔

شکل6: پری اسکول بچوں کے ملبوسات
اس عمر کے بچوں کی نموبہت تیز ہوتی ہے اس لیے یہ بات بھی اہم ہے کہ ایسے صرف چند لباس بنائے یا خریدے جائیں جو تمام موقعوں پر اور تمام مقاصد کے لیے استعمال کیے جاسکیں۔جیسا کہ اس سے پہلے والے حصّے میں بیان ہوا۔ مہنگے لباس خریدتے وقت بچوں کی نمو کے پہلوؤں کو پیش نظر رکھا جانا چاہیے۔اس طرح لباس زیادہ دن تک پہننے کے قابل رہیں گے۔
پری اسکول عمر کے بچوں کی،رنگ اور طرز کے بارے میں اپنی الگ پسند اورناپسند ہوتی ہے۔اب وہ کپڑوں کے بارے میں د ل چسپی کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔کپڑوں کے بارے میں بچوں کی پسند یا نا پسند پر ان کی شخصیت کا نمایاں اثر پڑتا ہے۔کچھ لڑکیاں نسوانی طرز کو ترجیح دیتی ہیں اور چُنَّٹوں والی یا جھالروں والی فراکیں پہنتی ہیں۔پری اسکول عمر کے لڑکے اپنے لباس کے بارے میں اتنے باشعور نہیں ہوتے جتنی لڑکیاں ہوتی ہیں۔ البتہ لڑکے بھی دوسرے لڑکوں جیسے لباس پہننا پسند کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے لباس آرام دہ ہوں۔یہ بات عموماً دیکھنے میں آئی ہے کہ عمر کے اس مرحلے میں ،لڑکیوں کولڑکوں کی طرح پینٹ،جینس یا شرٹ پہننے دیا جاتا ہے جب کہ اس کے برعکس لڑکوں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔
لباس کے معاملے میں ہر شخص کی انفرادیت کا احترام ضروری ہے چاہے ،بچے جڑواںہی کیوں نہ ہوں۔ایک جیسی شکل وصورت والے جڑواں بچوں کا لباس بھی اگر وہ نہ چاہیں تو یکساں نہیں ہونا چاہیے۔یہ با ت ضروری ہے کہ پری اسکول بچوں کو بھی لباس خریدتے وقت اپنی پسند کے اظہار کا موقع دیا جائے۔
اپنی مدد آپ کا پہلو بچے اور ماں دونوں ہی کے لیے اہم ہے۔اس سے بچوں میں آزادی اور خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔پری اسکول بچوں کے لباس کی کچھ اور بھی خصوصیات ہونی چاہئیں۔مثلاً یہ کہ ان کا لباس ایک ہی کپڑے کا بنا ہو، جس کا سامنے کا حصہ یا گریبان خوب کھلا ہو،بٹن بڑے بڑے ہوں ،گردن کا حصہ آرام دہ ہو جس میں کالر ہو اور بغل کے حصے بڑے ہوں ۔
مختصر یہ کہ پری اسکول بچوں کے لباس پہننے میں آرام دہ ،نگہ د اشت میں آسان اور استعمال میں پائیدار ہونے چاہئیں تاکہ بچوں کی نمو کی ضروریات پوری ہوسکیں،لباسوں کے رنگ اور ڈیزائن پُرکشش ہوں اور ان سے بچوںمیں خود اعتمادی کو بڑھا وا ملے۔
ابتدائی اسکول کی عمر( 5سے11 سال)
(Elementary school years (5-11 years)
جیسا کہ آپ اس سے پہلے کے باب میں پڑھ چکے ہیں کہ یہ درمیانی بچپن کی عمر ہے۔اس عمر میں جسمانی سرگرمیاں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔اس عمر میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی کھیل کود میں گہری د ل چسپی لیتے ہیں۔بچوں کی سماجی اور جذباتی نشوونما میں کپڑوں کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔

شکل7: پانچ سے آٹھ سال کی عمر کے بچوں کے لیے آرام دہ اور کھیل کود میں معاون لباس
اس عمر میں بچوںمیں اپنی پسند اورنا پسند کا احساس پیدا ہوجاتا ہے اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے ہم عمر بچے ان کو تسلیم اور قبول کریں۔والدین کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اس تبدیلی کو محسوس کریں۔اگر بچے کے لباس اس کے دیگر ہم عمر بچوں کے لباسوں سے بہت زیادہ الگ ہوں توبچے میں کمتری کا احساس پیدا ہوسکتا ہے اور اس کی خود اعتمادی میں کمی آسکتی ہے۔
اس عمر میں بھی لباس کا آرام دہ ہونا ضروری ہے۔اس عمر میں بچے بہت فعال ہوتے ہیں اور ان کو موٹے اورکھردرے قسم کے لباس پسند ہوتے ہیں جوان کے کھیل کود میں گرنے پڑنے سے خراب نہ ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ لڑکیوں کو لڑکوں جیسے لباس بھی پسندہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ نسوانی لباس ہی پسند کریں۔

شکل8: ابتدائی اسکول کی عمر کے بچوں کے لیے آرام دہ کپڑے
اس عمر میں اکثر بچے اپنی پسند کے لباس کا انتخاب کرسکتے ہیں اوراس سلسلے میں ماں باپ کے مشوروں پرناراض بھی ہوسکتے ہیں۔اسکولی بچوں کے لباس کے انتخاب میں فٹنگ ایک اہم پہلو ہے۔بچے اکثر ایسے لباس مسترد کردیتے ہیں جس کی فٹنگ ٹھیک نہ ہو۔بہرحال ،کچھ بچے لباسوں کا انتخاب ان کے طرز بنیاد پر بھی کرتے ہیں ،چاہے وہ طرز آرام دہ نہ ہو۔
بچوں کی جسمانی ضروریات پوری کرنے کے لیے ان کا لباس جاذب(Absorbent)ہونا چاہیے تاکہ اس میں پسینہ جذب ہوسکے۔اس لحاظ سے سوتی کپڑے اور وائل(Voile) وغیر ہ مناسب ترین رہتے ہیں ۔حفاظت، آسان دیکھ بھال ، جسمانی نمو کا عمل اور جسم سے مناسبت جیسے عوامل اسکولی بچوں کے لباس کے معاملے میں بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے چھوٹے بچوں کے معاملے میں۔ ہم گزشتہ باب میں اس پر بحث کرچکے ہیں۔
نوبالغ ( 11سے19 سال)(Adolescents)
نوبلوغت کے زمانے میں،نمو کا عمل بہت تیزہوتا ہے اور جسم کے مختلف اعضا کے نمو کی رفتار الگ ہوتی ہے۔ابتدائی نوبلوغت کے دوران لباسوں کی تعداد کم ہونی چاہیے کیوں کہ اس دور میں نموکی رفتار اتنی تیز ہوتی ہے کہ کپڑے بہت جلد چھوٹے پڑجاتے ہیں۔فٹنگ اورطرز نو بالغوں کے لباس کی اہم خصوصیات ہوتی ہیں۔نوبالغ لڑکے لباسوں کی کوالٹی یا ان کی بناوٹ پر زیادہ دھیان نہیں دیتے۔وہ نہ صرف نئے طرز کے لباس پہنتے ہیں بلکہ وہ نئے نئے طرز پیدا بھی کرتے ہیں۔نوبالغ بچے فیشنوں اور خاص طور پر وقتی فیشنوں (Fads)کے دیوانے ہوتے ہیں۔یہ بچے اپنے لباس پر زیادہ پیسہ خرچ کرنا پسند کرتے ہیں۔یہ اپنی شناخت بنانے کے لیے وہی لباس پہننا پسند کرتے ہیں جوا ن کے ہم عمر بچے پہنتے ہیں یا پھر اپنے رول ماڈلوں(Role models)کی نقل کرتے ہیں۔

شکل9: نوبالغوں کے لیے ملبوسات کے ڈیزائن
کھیل کود یا ورزش کے لیے ایسے لباس اور جوتوں کا انتخاب کرنا چاہیے جو آرام دہ بھی ہوں اورجن سے پاؤں پر نہ کوئی دباؤ پڑے،نہ چھالے پڑیں، نہ موچ آنے کا خطرہ ہو اور نہ ٹانگوں اور ٹخنوں میں چوٹ لگے۔کپڑے ایسے ہوں کہ جنھیں دھونا آسان ہو تاکہ حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل کرنے سے ،جِلد کو جلن اور دانوں سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔لباس کا ڈیزائن اور کپڑے کی بناوٹ ایسی ہو نی چاہیے کہ جسمانی حرکت بہ آسانی ہوسکے ،اور کپڑا پسینے کو جذب کرسکے۔
14.5خصوصی ضروریات والے بچوں کے لباس
(Clothes for children with special needs)
اب آپ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ لباس سے بچوں میں تحفظ کے علاوہ ، خود مختاری اور با صلاحیت ہونے کا احساس بھی پیدا ہوتا ہے۔لباس سماج میں خودسے متعلق تاثرات(Impressions)کو دوسروں تک پہنچانے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔کبھی کبھی جسمانی محرومیوں سے متاثرہ بچوں کو جسمانی حرکت میں دقتیں پیش آتی ہیں لیکن ان میں حصول علم اورنمو کی تمام صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں۔
خصوصی ضروریات والے بچوں کے لیے لباس پہننے اور اتارنے کا معاملہ بہت اہم ہوتا ہے۔ایسے بعض بچے خوداپنے طور پر لباس پہن لیتے ہیں۔اس سے ان کو جذباتی تسکین حاصل ہوتی ہے اور ایک طرح کے فخر کا احساس بھی پیدا ہوتا ہے ۔لیکن اگر کوئی بچہ جسمانی طور پربہت زیادہ محروم ہے یا اس کے اعضا قابو میں نہ ہوں تواُسے کسی نگہ دار کی ضرورت پڑتی ہے اور یہ کام بڑاوقت طلب اور تھکا دینے والا ہوتا ہے۔
خصوصی ضرورتوں والے بچوں کے لباس ان کی محرومی اور ان کی مشکلات کو دھیان میں رکھ کر منتخب کیے جانے چاہئیں ۔ چوں کہ اس سلسلے میں اولین معیار آرام ہے اس لیے گرمیوں کے موسم میں سوتی کپڑوں اورسردیوں کے لیے ویلویٹ،کارڈرائی اور کاٹس وول(سوت+اون)کو ترجیح دی جانی چاہیے۔جن لباسوں کا انتخاب کیا جائے وہ مضبوط ہونے چاہئیں تاکہ بیساکھی ،وہیل چیئر یا دیگر امدادی آلات کے استعمال کی صورت میں رگڑ اور خراش سے محفوظ رہیں۔لباسوں کے منہ اور کھلے حصے ایسے ہوں جن تک آسانی سے ہاتھ پہنچ جائے اور جن کو بند کرنے اور کھولنے کے کسی لباسوںمیں خاص مقامات پرکیلیپروں(Calipers) گور تسموں(Braces) کے لیے مضبوط جوڑ ہونے چاہئیں ۔لباسوں کے کھلے حصے ایسے ہونے چاہئیں جن تک ہاتھ آسانی سے پہنچ جائیں اور جنھیں آسانی سے بند کیا جاسکے۔اسی طرح زنجیروں(Chains)والے زپر(Zipper) اور ویلکرو (Velcro)مناسب رہتے ہیں۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ لباس ایسے ہوں جن کو آسانی سے دھویا جاسکے۔انھیں پہننا اور اتارناآسان ہونا چاہیے۔بہتر ہے اگر گردن کے آس پاس کے حصے کشادہ ہوں،کمر کی بیلٹ الاسٹک والی ہو اور جیبیں سامنے اور کھلی ہوں۔
لباسوں کا خوب صورت اور پُرکشش ہونا بھی بہت اہم ہے۔انھیں دیکھ کر لگنا چاہیے کہ یہ کسی بچے کے لباس ہیں جو اچھی طرح سلے گئے ہوں اور جنھیں پہننا آسان ہو۔کپڑوں کے رنگ اور چھپائی ایسی دل کش ہو کہ خودپہننے والے کو اچھالگے۔ بہترین لباس وہ ہے جو پہننے والے اور نگہ داشت کرنے والے دونوں کی ضروریات کو پورا کرسکے۔
مجموعی طور پر اس باب میں ہم کو یہ بتایا گیا ہے کہ بچوں کی شخصیت کی نشوونما میں لباسوں کی بہت زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ لباس دل کش ، جاذب توجہ اور پہننے میں آسان ہی نہیں بلکہ ماحولیاتی ،سماجی اور ثقافتی اعتبار سے بھی مناسب ہونے چاہئیں۔
اس باب کے اختتام کے ساتھ ہی ’بچپن سے متعلق یہ اکائی بھی مکمل ہوئی۔آپ پہلی دوا کائیوں میں نوبلوغت کے بارے میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ اگلے حصّے یعنی اکائیIVمیں ہم سنِّ بلوغ(Adulthood)کے بارے میں گفتگو کریں گے۔
کلیدی اصطلاحات
ملبوسات (Apparel)،لباس(Clothes)، فیشن (Fashion)، لباس کی ضرورت(Clothing need)،بچپن کے مراحل
(Childhood Stages)،خصوصی ضروریات والے بچے (Children with Special needs)۔
سوالات برائے نظر ثانی
1۔آپ کپڑے کیوں پہنتے ہیں اس کے تین اسباب بتائیے؟
2۔وہ کون سے عوامل ہیں جو بچوں کے لیے لباسوں کے انتخاب پر اثرانداز ہوتے ہیں؟
3۔بچوں کے لباس سے متعلق چار ضرورتیں بیان کیجیے؟
4۔عمر کے ساتھ ساتھ لباسوں سے متعلق بچوں کی ضروریات کیوں بدلتی رہتی ہیں؟شیرخوارگی،پری اسکول اورابتدائی اسکول کی عمرمیں بچوں کے لباسوں کی خصوصیات سے بحث کیجیے ؟
5۔خصوصی ضروریات والے بچوں کے لباسوں کی خصوصیات کیا ہونی چاہئیں؟
عملی کام 15
ہمارے ملبوسات
موضوع: مختلف مواقع کے لیے لباس
کام: 1۔مختلف پیشوں، تقریبات اور مختلف رسوم کی ادائیگی کے لیے استعمال ہونے والے لباسوں کی مختلف قسمیں قلم بند کرنا
2۔ان لباسوں کی اہمیت کا پتا لگانا۔
عملی کام کا مقصد:مختلف پیشوں،تقریبات اور رسوم کی ادائیگی کے مواقع پر مختلف قسم کے لباسوں کی اہمیت کو سمجھانے کے لیے طلبا کی مدد کرنا۔
عملی کام پر عمل درآمد
(A) پیشے سے متعلق
- درج ذیل پیشوں سے متعلق لوگوںکا مشاہدہ کیجیے اور ان سے گفتگو کیجیے
طب (Medicine) دفاع(Defence) ، سرکاری محکمہ (Government Department)، تعمیرات (Construction)یا کوئی اور ۔
- ان کے لباس،لباس کے کپڑے اور ان کے رنگ پر غور کیجیے۔
(B) تقریبات اور رسوم سے متعلق
- درج ذیل میں سے کسی ایک تقریب کے متعلق لوگوں کا مشاہدہ کیجیے اور ان سے بات کیجیے ۔
شادی بیاہ،بچے کی پیدائش،موت،عقیقہ اور نام رکھنے کی رسم۔
- ان کے لباسوں کی قسم،رنگ اور ڈیزائن کے بارے میں اپنے تاثرات کو قلم بند کیجیے۔
(C) لباسوں کے رنگ،ڈیزائن اور بناوٹ کی موزونیت پر ایک رپورٹ تیار کیجیے جس میں مثالوں کے ساتھ ساتھ آپ کی تجاویز بھی ہوں۔