Skip to content
Insanimaholiatauruloom-Part-II

اکائیIV 

سن بلوغ

(Adulthood)

سن بلوغ آنے پر نوبالغ بچے’حقیقی دنیا‘(Real world)میں قدم رکھتے ہیں۔ اب وہ اعلا تعلیم، کام،شادی بیاہ وغیرہ کی ایک دنیا میں داخل ہوتے ہیں اورانھیں خود اپنا کنبہ قائم کرنا ہوتا ہے۔ اس طرح فردکی ذمے داریاں بہت بڑھ جاتی ہیں۔اس اکائی میں آپ ان اہم عوامل کا مطالعہ کریں گے جو کسی بالغ فرد کی زندگی کا معیار متعین کرنے میں مؤثر کردارا دا کرتے ہیں۔یہ عوامل ہیں صحت ،سلامتی(Wellness)،مالی منصوبہ بندی اور انتظام (Management)، گھر اور گھر سے باہر مختلف مواقع پر پہنے جانے والے لباسوں اور کپڑوں کی دیکھ ریکھ اورمختلف موقعوں کے لحاظ سے اپنی بات کہنے یا بات چیت کرنے کی صلاحیت۔یہ اکائی محض اپنی ذات   پر نہیں بلکہ خاندان،گھروالوں اور سماج سے متعلق انفرادی فرائض اورحقوق کے باب پر ختم ہوتی ہے۔


صحت اورسلامتی

(Health and Wellness)


باب15


آموزشی مقاصد  

  اس باب کے مطالعہ کے بعد طلبا:

  • صحت اور تن درستی کی اہمیت سمجھ سکیں گے۔
  • بالغ لوگوں کی صحت سے متعلق مسائل اور چیلنجوں کی وضاحت کرسکیں گے۔
  • سلامتی کے تصور کو بیان کرسکیں گے۔
  • بالغ لوگوں کی اچھی صحت اورسلامتی کو فروغ دینے اور نگہ داشت کرنے کے لیے ضروری اقدامات کا بیان کرسکیں گے ۔

15.1ہندوستان میں صحت کا منظر نامہ(Health Scenario in India)

ہندوستان کے لوگوں کی صحت کے خاکے پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے ہی معلوم ہوسکتا ہے کہ اس سلسلے میں بہتری لانے کی بہت ضرورت ہے۔عالمی صحت تنظیم(WHO) کی رپورٹ2008کے مطابق درج ذیل تفصیلات حاصل ہوتی ہیں:

مجموعی آبادی:1,151,751,000

پیدائش کے وقت متوقع عمر:مردوں کے لیے 62سال،عورتوں کے لیے64سال

پیدائش کے وقت صحت مندی کی متوقع عمر:مردوں کے لیے 53سال اور عورتوں کے لیے 54سال

پانچ سال سے کم عمر میں موت کا امکان(فی ہزار پیدائشوں میں)   :76  

  15سے60سال کے درمیان موت کا امکان(فی ہزارلوگ)276مردوں میں؍203عورتوں میں۔

ماخذ:      عالمی صحت اعداد و شمار برائے سال2008

ہندوستان کی آبادی کی صحت کے بارے میں کچھ اوراشاریے

   امراض چشم:اندھے پن کے 80فی صد واقعات کا سبب بننے والے موتیا بند(Cataract)کے ہرسال3.8ملین معاملات سامنے آتے ہیں۔

  کینسر:2001میں کینسرکے مریضوں کی مجموعی تعداداندازاً 924,790تھی۔اس تعداد کے 2011 تک 1,229,968 اور 2021 تک1,557,800ہوجانے کااندیشہ ہے۔

  امراض قلبـ(Cardiovascular Diseases):دل کا دورہ پڑنے اوردل کی دیگر بیماریوں سے 1990میں اندازاً204ملین موتیں ہوئیں۔شہرکاری(Urbanisation)کے نتیجے میں اس بیماری میں اضافہ ہورہا ہے۔

   ملیریا:ملیریا کے معاملات2001میں2.03ملین تھے لیکن 2021میں ان کے 2.62ملین ہونے کا اندیشہ ہے۔

   ہائپرٹینشن(Hypertension)،ذیابیطس اور گردوں کی بیماریاں:ذہنی تناؤ،طرزِزندگی سے متعلق بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ہندوستان میں ذیابیطس سے متاثر افراد کی تعداد 2001میں40ملین تھی جو 2010میں47ملین ہوسکتی ہے۔ہائپرٹینشن سے متاثر لوگ دیہات اور شہروں میں زیادہ ہیں۔

ماخذ:انویسٹمنٹ انفارمیشن اینڈ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی(ICRT)۔رپورٹ آن انڈین ہیلتھ کیئر اینڈ ٹکنالوجی انفارمیشن فارکاسٹنگ اینڈ اسیسمنٹ کونسل(TIFAC)،ڈپارٹمنٹ آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی(DST)،گورنمنٹ آف انڈیا

ہندوستان میں صحت سے متعلق یہ چونکادینے والے اعداد و شمار اور پھر یہ پیش گوئی’ 2025تک ہر 5ہندوستانیوں میں ایک شخض ذیابیطس کا مریض ہوسکتا ہے‘اس بات کا متقاضی ہے کہ ہر ہندوستانی اپنی صحت اورجسمانی درستی کے بارے میں باخبر ہو۔ذیابیطس کے علاوہ ،دل کے امراض، ہڈی کی کمزوری(Osteoporosis) متعدی اور چھوت سے لگنے والی بیماریاں(جیسے ہیپے ٹائٹس، ٹی بی اور ایڈس وغیرہ)عوامی صحت کے اہم مسائل ہیں جن سے بچاؤ کے لیے زندگی کے ہر مرحلے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اب یہ بات تسلیم کرلی گئی ہے کہ وبائی اور چھوت کی بیماریوں سے ہونے والی موت کی صورت حال میں اب تبدیلی آگئی ہے ۔ اب زیادہ اموات چھوت کی بیماریوں کے بجائے ذیابیطس، دل کے امراض اور کینسرسے ہوتی ہیں۔ماہرین کا اندازہ ہے کہ آنے والے دنوں میں غیر متعدی بیماریوں سے متاثرہ لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوجائے گا اور اسی لیے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ اس صورتِ حال پر ملک گیر اور عالم گیر سطح پر توجہ دی جائے۔یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اس سے پہلے یہ بیماریاں عمر رسیدہ لوگوں کو ہوتی تھیں۔مگر آج یہ بیماریاں نوجوانوں اور نسبتاً کم عمر بالغوںمیں بڑھ رہی ہیں جوبہت تشویش ناک ہے۔تشویش کا ایک اور سبب یہ بھی ہے کہ یہ بیماریاں صرف زیادہ آمدنی والے لوگوں تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ کم آمدنی والے لوگ(خاص طور پر شہری علاقوں کے)بھی ان بیماریوں کی زد میں ہیں۔ماہرینِ صحت کاکہنا ہے کہ ان میں سے بیشتر بیماریاں غیر صحت مند غذاؤں اورجسمانی کام نہ کرنے کے سبب ہوتی ہیں۔

اسی لیے صحت سے متعلق اعلا ترین ادارے، عالمی صحت تنظیم(World Health Organisation)   نے خوراک ، جسمانی کام اور صحت سے متعلق ایک عالمی حکمت عملی کو فروغ دینے کے لیے سفارش کی ہے ۔ حکومتِ ہند بھی صحت کے بڑھتے ہوئے مسائل اور ان سے متعلق امور کے بارے میں اتنی ہی فکر مندہے۔لہٰذا جب یہ بیماریاں بڑھتی ہیں تو حکومت پر(i)متاثرہ لوگوں کو صحت خدمات فراہم کرنے ،(ii)ان لوگوں،ان کے خاندان اور پوری قوم پر پڑنے والے اخراجات(کیوں کہ ایسے لوگوں کی صحت کی دیکھ بھال اور علاج کی سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی ذمے داری ہے)(iii)ایسے لوگوں کی زندگی کے معیا رپر پڑنے والے اثرات اور (IV)لوگوں کی صحت اور ان کے کام کرنے کی عمومی صلاحیت کو برقراررکھنے اور فروغ دینے کے بارے میں زبردست دباؤ پڑتا ہے۔

15.2صحت منداشخاص(Healthy persons)

صحت مند لوگ وہ ہوتے ہیں جو جسمانی طور پر ٹھیک اور فعال ہوں،خوش نظر آتے ہوں،جن میں جراثیم سے مقابلے کی مناسب صلاحیت ہو،جو جلدتھکتے نہ ہوں۔ تحقیق کے ذریعے صحت مند خوراک ،جسمانی سرگرمیوں، صحت عامہ سے متعلق سرکاری کوششوں کے فوائدسامنے آچکے ہیں۔غیر صحت بخش خوراک میں عام طور پر زیادہ توانائی والی غذائیں شامل ہیں جن میں شکراور چربی کی کثرت ہوتی ہے۔ ان غذاؤں میں نمک بھی زیادہ ہوتا ہے۔ایسی غذائیں جب جسم کی ضرورت سے زیادہ مقدار میں استعمال کی جاتی ہیں اوراس کے ساتھ ہی جب ہر عمر کے لوگوں، خاص طورپر نوبالغ اور بالغ لوگ جسمانی محنت کم کرتے ہیں تو غیر متعدی بیماریوں کے بڑھنے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔خوراک اور جسمانی محنت دونوں الگ الگ اورایک ساتھ بھی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔جسمانی حرکت، جسمانی اور ذہنی صحت میں بہتری لانے کا بنیادی وسیلہ ہے۔بیماریوں سے بچاؤ اور لوگوں کو صحت کے معاملات سے باخبر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انھیں ایک بہتر طرزِ زندگی اختیار کرنے کی ترغیب دی جائے۔نوجوانوں اور بالغوں میں امراضِ قلب اور ہائپرٹینشن جیسی بیماریاں ان لوگوں میں زیادہ ہوتی ہیں جو زیادہ وزن والے یا موٹے (Obese) ہوتے ہیں۔ عام طور پر ماہرینِ صحت تغذیاتی صورتِ حال اورغذاؤں سے ہونے والے نقصانات کا پتا لگانے کے لیے جسمانی پیمائش کے اشاریوں (Anthropometric Indicators) کا استعمال کرتے ہیں۔

  جسمانی وزن کا اشاریہ(BMI)(Body Mass Index)ایک عام سا اشاریہ ہے جسے عام طورپر بالغ لوگوں میں کم وزن والے ،زیادہ وزن والے اور موٹے لوگوں کی زمرہ بندی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔اس اشاریے سے بنیادی طورپر یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص کا وزن اس کے قد(یعنی وزن کے مطابق قد)کے مناسب ہے یا نہیں۔اس کی تعریف اب وزن (کلو گرام میں)کو قد(میٹر میں)کے مربع سے تقسیم کرکے مقرر کی جاتی ہے(kg/m2)۔ مثال کے طور پر کوئی بالغ فرد جس کا وزن 70 کلو گرام اورقد 1.75میٹر ہے اس کابی ایم آئی(BMI)22.9ہوگا ۔اس طرح:

بی ایم آئی(70کلو گرام)

22.9=(m2)1.752


عالمی صحت تنظیم نے یہ طے کرنے کے لیے کہ کوئی شخص قلیل الوزن (Underweight)،زائدالوزن (Overweight) یعنی موٹا(Obese)یامعمول کے مطابق(Normal)ہے،چندامتیازی حدود(Cut off Points) مقرر کیے ہیں’(جیسا کہ جدول1میں دکھا گیا گیا ہے)۔اس طرح،اگر کسی شخص کاBMI، 18.5سے کم ہے تو وہ شخص قلیل الوزن (Underweight) ہوگا۔اسی طرح معمول کے وزن، زائد الوزن یا موٹے تینوں زمروں کے لوگوں کے لیے امتیازی حدود اور ان کے ذیلی زمرے دیے گئے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کی کم سے کم قدر (Minimum Value) اور زیادہ سے زیادہ قدر(maximum Value) مقرر ہے۔BMIزیادہ ہے تو صحت کو خطرہ بھی زیادہ ہوگا کیوں کہ جسم میں ایسی کئی متعلقہ تبدیلیاں بھی ہوتی ہیں جو صحت کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ان تبدیلیوں میں چربی یعنی ایڈی پوزٹِشو(Adipose tissue)کی کثرت، گلوکوز کی سطح میں کمی (Decreased glucose tolerance)اور بلڈ کولیسٹرال (BloodCholestrol)   میں آنے والی تبدیلیاں شامل ہیں۔

جدول1:جسمانی وزن کے اشاریے(BMI)کے مطابق کم وزن، زائد الوزن اورموٹے بالغ لوگوں کی بین الاقوامی زمرہ بندی

درجہ بندی (kg/m2)(BMI)جسمانی وزن کا اشاریہ
بنیادی امتیازی حدود زائد امتیازی حدود
قلیل الوزن 18.50> 18.50>
حددرجہ دبلاپن 16.00> 16.00>
اوسط دبلاپن 16.00-16.99 16.00-16.99
معمولی دبلاپن 17.00-18.49 17.00-18.49
معمول کا وزن 18.50-24.99 18.50-22.99
23.00-24.99
زائد الوزن 25.00≤ 25.00≤
موٹاپے سے قبل 25.00-29.99 25.00-27.49
27.50-29.99
موٹاپا 30.00≤ 30.00≤
موٹاپا درجہ1 30.00-34.99 30.00-32.99
32.50-34.99
موٹاپا درجہ11 35.00-39.99 35.00-37.49
37.50-39.99
موٹاپا درجہ111 40.00≤
40.00≤


3

ماخذ:  عالمی صحت تنظیم1995،عالمی صحت تنظیم 2000اور عالمی صحت تنظیم2004سے ماخوذ

جسمانی وزن کے اشاریے کی قدریں(Values)عمرسے متعلق نہیں ہوتیں اور دونوںصنفوں (مرد ،عورت)کے لیے یکساں ہوتی ہیں۔لیکن جینیاتی، نسلی اور قبائلی عوامل کی بنیاد پر مختلف آبادیوں میں ان قدروں میں تھوڑا فرق بھی ممکن ہے۔مختلف نسلوں کے لوگوں کی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ دیگر نسلوں کے مقابلے ایشیائی لوگوں کو دیگر لوگوں کی BMIکے لحاظ سے زیادہ خطرہ لاحق رہتا ہے۔اسی لیے عالمی صحت تنظیم نے درج بالا زمروں کو مزید ذیلی زمروں میں تقسیم کرنے کی ضرورت محسوس کی (جیسا کہ درج بالا جدول کے تیسرے کالم میں دکھا یاگیا ہے)۔

اساتذہ کے لیے ہدایات: طلبا کو بہتر طور پر سمجھانے کے لیے اساتذہ خود بھی اس تصور سے واقف ہوں(براہ کرم اس باب کے آخر میں اساتذہ سے متعلق ہدایات کا مطالعہ کیجیے۔)

بہتر صحت اور مطلوبہ جسمانی وزن برقرار رکھنے کے لیے،ماہرینِ صحت نے مختلف لوگوں اور افراد کے لیے درج ذیل سفارشات کی ہیں۔ان سفارشات پر عمل کرکے توانائی کا توازن اور صحت مند وزن حاصل کیا جاسکتا ہے۔

صحت کو فروغ دینے والی غذا سے متعلق ’کیجیے ‘اور ’مت کیجیے‘

کیجیے

—   پھلوں اور سبزیوں کا استعمال زیادہ کیجیے۔

—   پھلیوں ،ثابت اناج اور گری دار میووں(Nuts)کا استعمال بڑھائیے۔

—   توانائی کے استعمال اور توانائی کے خرچ میں توازن رکھیے۔

—   آیوڈین ملا نمک استعمال کیجیے۔

—   خوب پانی پیجئے

مت کیجیے

—    بہت زیادہ چربی؍روغن(مثلاً ڈبل روٹی پر مکھن اور پراٹھوں پر گھی وغیرہ)کا استعمال نہ کیجیے۔تلی ہوئی غذائیں  

      (جیسے پکوڑے،پوریاں،دانے دار میوے اور سموسے)وغیرہ استعمال نہ کیجیے۔

  —   بہت زیادہ سیراب چربیوں جوکمر ے کے درجۂ حرارت پر جم جائیں)اور مصنوعی چربیوں(Trans fats) (وناسپتی)کا استعمال نہ کیجیے۔

  —   بہت زیادہ نمک(سوڈیم)کا استعمال نہ کیجیے ،چاہے ان کا ذریعہ کوئی بھی ہو،خاص طور پر تیار غذائیں (Processed foods)     

              مثلاً    ویفر،کیچ اپ،چٹنی،بسکٹ،اچار اور پاپڑ وغیرہ ۔

—    پکی ہوئی غذاؤں یا سلاد پر نمک مت چھڑکیے۔

—   مٹھائیوں،چاکلیٹ اور ٹھنڈے مشروبات (Soft drinks)زیادہ استعمال نہ کیجیے۔

15.3تن درستی (Fitness)

صحت کے لیے صرف مناسب اور متوازن غذائیں ہی نہیں بلکہ جسمانی سرگرمی اور تن درستی بھی ضروری ہے۔ ہم بابIIIکی اکائی:Iحصہ Iمیں’ خود کو سمجھنا:نوبلوغت، کے تحت تن درستی کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔یہاں ہماری توجہ سن بلوغ (Adulthood) کے حوالے سے تن درستی پر مرکوز ہوگی۔عمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں کچھ تبدیلیاں رونما ہوتی   ہیں۔ان تبدیلیوں کے نتیجے میں کچھ اور تبدیلیاں بھی ہوتی ہیں جیسے صلاحیتوں اور جسم کی فعالیت میں کمی۔

تن درستی اور زندگی کا ایک خاص روپ باقی رکھنے کے لیے ورزش اور جسمانی محنت بے انتہا ضروری ہیں۔باقاعدہ ورزش سے زائدکیلوریاں خرچ ہوجاتی ہیں اور اس طرح زائد کیلوریوں کے چربی میں تبدیل ہو جانے کا امکان کم ہوجاتا ہے ۔باقاعدہ ورزش سے انسان تن درست رہتا ہے۔ جو لوگ باقاعدہ ورزش کرتے ہیں انھیں ایک عافیت کا احساس رہتا ہے اور انھیں بہترنیند آتی ہے۔ ورزش سے دل اور پھیپھڑے بھی زیادہ مؤثر طور پر کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے دوران خون اور تنفس بھی صحیح رہتاہے۔ہفتے میں کم از کم تین بار20منٹ کی ورزش بہت مفید ہے۔تھوڑے عمر رسیدہ لوگوں کو بھی باقاعدہ ورزش کرنی چاہیے۔اس سے مختلف بیماریوں جیسے موٹاپے ،ہائپرٹینشن اور ذیابیطس وغیرہ کو روکا اورقابو میں رکھا جاسکتا ہے۔نوجوانوں ا ور بالغوں کو حفظ ما تقدم کے طور پر صحت کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے تاکہ بعد میں ان بیماریوں سے بچا جاسکے۔

  سن بلوغ میں ورزش کے فائدے

(i)   ورزش اور بیماری: ورزش سے جسمانی ترکیب(Body composition)میں بہتری آتی ہے۔جس سے استحالہ (Metabolism) اوردل اور پھیپھڑوں کی صحت ٹھیک رہتی ہے،اور اس طرح شدید اور موذی بیماریوں کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ورزش سے قوت برداشت،عضلات کے وزن اور طاقت،چستی اور لچک میں بہتری آتی ہے اور اس طرح معذوری کم ہوتی ہے۔ورزش سے عام بیماریوں کی روک تھام اور ان کے علاج میں مدد ملتی ہے ۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایسی کئی بیماریاں جن کا علاج مشکل ہوتا ہے مثلاً افسردگی (Depression)،بے خوابی (Insomnia)، بطلان جوع (Anorexia)، قبض(Constipation) اور ذہنی صلاحیتوں میں کمی(Cognitive impairment) جواکثر عمر بڑھنے کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں ورزش سے ٹھیک ہوجاتی ہیں۔

باقاعدگی کے ساتھ ورزش کرنے سے کچھ خصوصی نتائج بھی حاصل ہوتے ہیں۔مثلاً:

  • ورزش سے، معذوری کو15سال تک موخر کرنے میں مدد ملتی ہے۔ جولوگ بالکل ورزش نہیں کرتے وہ بھی جب تھوڑی   ورزش شروع کردیتے ہیں تو ان کو خاطر خواہ فوائد ضرور حاصل ہوتے ہیں۔
  • جسم کے نچلے حصے کی ورزش ) (Lower body exercisesسے عمر بڑھنے پر توازن بر قرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
  • جو لوگ کثیر الوزن یا موٹے ہیں ان کو وزن گھٹانے میں مدد ملتی ہے۔
  • ورزش سے جسم کا مطلوبہ وزن برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
  • اس سے بلڈ شوگر کی سطح اور بلڈ پریشرپر قابو رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
  • ورزش سے ہڈیوں کی معدنیاتی کثافت(Bone mineral density)بر قرار رکھنے میں مدد ملتی ہے جس سے   خاص طور سے بڑے لوگوں میں ہڈی ٹوٹنے اور معذوری کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔
  • بازوؤں اور ٹانگوںکی عضلاتی طاقت بڑھانے میں مدد ملتی ہے (چندماہ کی مشق سے ہمارے زیریں اعضا کی طاقت میں اضافہ ہوجاتا ہے)۔
  • ورزشوں کو تین زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
  • سانس بحال کرنے والی؍ایروبک (Aerobic) ورزش۔
  • جسمانی طاقت بڑھانے والی؍مزاحمی(Resistance)ورزش۔
  • جسم میں توازن اور لچک بڑھانے والی(Flexibility) ورزش۔

ان ورزشوں کے فوائد کو ذیل کے خانے میں اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔


ورزش/سرگرمی فوائد
سانس بحال کرنے والی /ایروبک ورزش میں تیزی سے چلنا، سائیکلنگ، تیراکی، فٹ بال،ٹینس،بیڈمنٹن وغیرہ شامل ہیں۔ ان سے قوت برداشت پیداہوتی ہے،تن درستی میں بہتری آتی ہے، وزن کو کم یا قابو میں کرنے میں مدد ملتی ہے،دل اور پھیپھڑوں کے افعال میں بہتری آتی ہے،بلڈ شوگر قابو میں رہتی ہے، قبض دور ہوتاہے، نیند میں بہتری آتی ہے، ذہنی کیفیات مثبت رہتی ہے۔ چند ہفتوں کی باقاعدہ ،کافی سخت ورزش یعنی ہر روز 30منٹ کی ایروبک ورزش سے سدھار نظر آنے لگتاہے۔لیکن ورزش کو چھوڑ دینے پر تن درستی کی سطح میں گراوٹ آجاتی ہے۔
جسمانی طاقت بڑھانے؍ مزاحمی ورزش میں ویٹ لفٹگ، دھکیلنا، قلابازی کھانا،اورجم کے لیے بنائے گئے مخصوص آلات کے ذریعے کی جانے والی ورزشیں شامل ہیں۔ ان سے عضلات کی طاقت اورہڈیوں کے وزن(Mass)میں اضافہ ہوتاہے، جسم کے مضبوط ہونے میں مددملتی ہے اورجسم کی بناوٹ میں سدھار آتاہے۔
توازن؍لچک بڑھانے والی ورزش میں جسم کاپھیلانا،ڈھیلا چھوڑنا،جھکنا جیسے یوگ اور سیڑھیوں پر چڑھنا شامل ہے۔ ان سے عضلات اور جوڑوں کو آسانی سے ہر طرح کی حرکت کرنے میں ملتی ہے۔ان سے جسم کی سختی بھی کم ہوتی ہے۔ جوڑوں میں لچک آتی ہے۔توازن ،لچک اورحرکت کرنے کی اہلیت برقراررہتی ہے۔

5

سرگرمی1

کسی ہیلتھ کلب ، یا Fitnessیا یوگ سینٹر یا جِم(Gym) جائیے اور وہاں کے ٹیچر؍ ٹرینریا ورزش کرنے والوں سے ان ورزشوں کے فوائد معلوم کیجیے ۔

     ہردن میں1440منٹ ہوتے ہیں۔ان میں سے صرف 30منٹ جسمانی کام؍سرگرمی کے لیے فارغ کرلیجیے۔سن بلوغ کو پہنچ کرسلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ورزش کو اپنی روز مرہ زندگی کا معمول بنا لیجیے۔

(ii)ورزش،ذہنی صحت و سلامتی:جسمانی صحت کے فوائد کے علاوہ، ذہنی صحت و سلامتی کے لیے بھی ورزش کے فائدے مند ہونے کے سائنسی ثبوت موجود ہیں اور اس کے بارے میں واقفیت بھی بڑھ رہی ہے۔امریکا کی ڈیوک یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے چار ماہ تک افسردگی (Depression) کے مریضوں کا مطالعہ کیا اور پایا کہ ہفتے میں تین بار 30منٹ تک ورزش کرکے ان میں سے 60فی صد لوگوں نے بغیر کسی دوا کے افسردگی پر قابو پالیا۔ایک اور تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آٹھ آٹھ منٹ کی مختصر ورزش(Work out)،غم زدگی ،ٹینشن   اور غصے کوکم کرنے میں مددگار ہوتی ہے اور صحت مند لوگوںمیں بیماریوں سے مقابلہ کرنے کی طاقت بڑھاتی ہے۔بہت سے لوگوں نے یہ محسوس کیا ہے کہ ورزش سے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے اور الجھن اور تناؤ کم ہوتے ہیں جس سے نفسیاتی صحت و سلامتی میں مددملتی ہے۔اس طرح ورزش کو ہم سلامتی کا احساس پیدا کر نے کی سرگرمی قرار دے سکتے ہیں کیوں کہ ورزش جسمانی اور ذہنی بیماریوں سے بچاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش کوایک سزا سمجھ لینا اس کے فوائد کو روک دینا ہے ۔اس کے برخلاف ورزش سے لطف اندوز ہونے کی ضرورت ہے۔شروع میں ورزش سے جو درد یا بے چینی محسوس ہوتی ہے وہ رفتہ رفتہ غائب ہوجاتی ہے۔ ہندوستان میں یوگ اور دھیان کا استعمال ذہنی صحت وسلامتی حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا رہا ہے۔ یوگ   کے آسنوں سے جسم میں لچک پیدا ہوتی ہے۔تحقیق سے معلوم ہواہے کہ یوگ سے ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر جیسی بیماریوں میں بھی فائدہ ہوتا ہے۔

ورزش کے دوران اور ورزش کے بعد دماغ سے کچھ مادوں(Substances)کا اخراج ہوتا ہے جنھیں اینڈوفین (Endorphins)کہا جاتا ہے۔یہ جسم کے قدرتی درد کُش (Pain killer)مادے ہیں اور ان سے خوشی اور سلامتی کے احساسات میں اضافہ ہوتا ہے۔آج کا طرزِ زندگی، خاص طور پر شہری علاقوں اور بڑے بڑے شہروں میں، بہت تیز رفتار اور بہت تنائو پیدا کرنے والاہے۔اس لیے یہ بات بہت ہی اہم ہے کہ ہر شخص اپنی ذہنی اور جسمانی صحت کاخاص خیال رکھے۔

2002  میں عالمی صحت تنظیم(WHO)نے جسمانی سرگرمی کو ’عالمی یومِ صحت‘کا موضوع قرار دیا تھا۔اسی وقت سے 6؍اپریل کو جسمانی سرگرمی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔یہ عالمی سطح کی ان کو ششوں کی ایک مثال ہے جن کا مقصد پوری دنیا میں جسمانی سرگرمی کے ذریعے صحت کو فروغ دینا ہے۔

15.4سلامتی کیا ہے؟(?What is wellness)

سلامتی بھرپورخیروعافیت(Well-being)کی حالت ہے ۔اس کا مطلب زندگی کے تمام پہلوؤں میں توازن اور ہم آہنگی حاصل کرناہے۔سلامتی، جسمانی ،سماجی،جذباتی،عقلی ،روحانی اور ماحولیاتی صحت کی یک جائی سے حاصل کی جاسکتی ہے۔سلامتی،سرگرم کوششوں اور احتیاطی تدبیروں پر مبنی طرزعمل ہے جس کا مقصد کام کرنے کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت پیدا کرنا ہے۔یہ ایک خاص تصورہے جو صحت و عافیت حاصل کرنے میں آسانیاں پیدا کرنے پر زور دیتا ہے۔یہ تصور انسان کی قوتوں کو مسائل ،ضروریات یا کمزوریوں پر مرکوز کرنے کے بجائے ان کو صحت کے لیے وسائل کی حیثیت سے استعمال کرنے پر زور دیتا ہے۔سلامتی کو فروغ دینے کا مطلب بیماری سے بچاؤ یا ڈاکٹروں اور دواؤں پر انحصار سے نجات پانا ہے۔

سلامتی کا طریق کار صحت کے لیے کس طرح مددگار ہے؟

(How does the wellness approach help)

سلامتی ، بیماری،معذوری،بے چینی اوررنجیدگی کو کم کر کے زندگی کے معیار میں بہتری لاتی ہے۔یہ ان مثبت انسانی قوتوں کو فروغ دینے کے لیے بھی بہت اہم ہے جو نمو اورنشو ونما ،ہم آہنگی اور خیرو عافیت کو بڑھاوا دینے میں مدد کرتی ہیں۔

سلامتی کے طریق کار میں اولین ضرورت یہ ہے کہ فرد اپنی زندگی کے معیار کو بہتر کرنے کی ذمے داری خودقبول کرے۔یہ صحت مند طرزِزندگی اپنانے کے ایک با شعورفیصلے سے شروع ہوتی ہے۔صحت مند طرزِزندگی ہی عافیت اورآسودگی کا ضامن ہے۔

سلامتی ایک انتخاب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہترین صحت حاصل کرنے کا فیصلہ۔

سلامتی ایک طرزِ زندگی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسا طرزِزندگی ہے جو فرد کو مقاصد کے حصول اور بالقوۃ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں مدد دیتا ہے۔

سلامتی ایک عمل(Process)ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فیصلوں اور رویوں کا ایک ایسا سلسلہ ہے جو صحت و عافیت اور خوشی کی طرف لے جاتا ہے۔

سلامتی ایک جامع تصور ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ جسم،ذہن اور روح کی ہم آہنگی پراس خیال کے ساتھ مبنی ہے کہ ہمارے عقائد، خیالات، احساسات اورکام ہر لحاظ سے ہم پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

سلامتی کا مطلب اپنے احوال اور حالات کو خوش دلی سے قبول کرنا ہے۔۔۔یہ اپنی تمام کمزوریوں،قوتوں اور تمام چیلنجوں کو قبول کرنے کا نام ہے۔

سلامتی کے جامع طریق کار کو نیچے دی گئی شکل میں پیش کیاگیا ہے۔یہ شکل ایک صحت مند طرزِزندگی کے تمام پہلوؤں یا خاص دائروں کو واضح کرتی ہے۔

سلامتی

جسمانی
روحانی
پیشہ ورانہ
ماحولیاتی
ذہنی
جذباتی
سماجی

6

شکل:1 صحت مند طرززندگی کے مختلف پہلو

سلامتی کو سمجھنے ،اسے عمل میں لانے اور فروغ دینے کے لیے رہنما اصول تیارکرنے کی کوششیں بتحقیق کا ایک اہم موضوع بن گئی ہیں۔مختلف مطالعوں سے پتا چلا ہے کہ سلامتی اورخیر وعافیت کے لحاظ سے جولوگ اعلا درجے کے ہوتے ہیں ان میں درج ذیل خصوصیات مشترک ہوتی ہیں۔

  • زیادہ عز تِ نفس، مثبت نقطۂ نظر اور مقصد یت کا احساس
  • شخصی ذمے داری اور جواب دہی کا زبردست احساس
  • اچھی حِس مزاح
  • دوسروں کے لیے فکر مندی
  • ماحول کا احترام
  • جسمانی طور پر درست اورجامع صحت مند طرزِزندگی
  • نشے کی لت نہ ہونا
  • زندگی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت
  • مسلسل سیکھتے رہنے کی اہلیت
  • محبت کرنے اور پرورش کرنے کی صلاحیت
  • مؤثراظہار کی اہلیت

سلامتی کی جہات (Dimensions of wellness)

سلامتی پر مبنی طرزِزندگی کا تعلق اچھی جسمانی صحت، جذباتی استحکام،خاندان اور دوستوں کے ساتھ صحت مندانہ روابط،پیداواری صلاحیت اور اپنے کام سے مطمئن ہونے سے ہے۔

سماجی پہلو(Social aspect):اس پہلو میں لوگوں کے ساتھ باہمی انحصار،دوست بنانے اور ان کے ساتھ با معنی ، اطمینان بخش،مسرت افزا اور مضبوط تعلقات استوار کو اہمیت دی جاتی ہے۔سماجی سلامتی اس احساس کو فروغ دیتی ہے کہ ہم صرف اپنے بارے میں سوچنے کے بجائے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں۔اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ دوسروں کے ساتھ ٹکراؤ کی حالت میں رہنے کے بجائے دوسروں اور اپنے ماحول سے اتحاد اور ہم آہنگی کے ساتھ رہنابہتر ہے۔

جسمانی پہلو(Physical aspect):اس کا مطلب ایک ایسے طرزِزندگی کا با شعور انتخاب ہے جومناسب جسمانی سرگرمی،متوازن غذا اور ایک بہتر تن درستی پر مشتمل ہو،جس سے بھر پور جسمانی صحت و عافیت حاصل کرنے اور اسے بر قرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ایسا صحت مندطرزِزندگی اختیار کرنا ،جو عمر کے موجودہ حصے اورآنے والے دنوں میں صحت اور زندگی کا معیار بہتر رکھنے میں مدد گار ہو کر حال اور مستقبل دونوں میں خوش گوار بنادے، بہت اہم ہے۔

ذہنی پہلو(Intellectual Aspect):اس کا تعلق فرد کی تخلیقی اور ذہنی سرگرمیوں سے ہے۔ایک فعال ذہن مجموعی سلامتی کے لیے بہت اہم ہوتاہے۔نئے خیالات کے لیے ذہن کا کھلا رہنا ،تنقیدی غور و فکر،تخلیقی صلاحیت اور تجسس اور نئی مہارتوں پر عبور حاصل کرنے کی آمادگی ذہنی سلامتی کی بنیادیں ہیں۔ایک ایسا شخص جو ذہنی طور پر صحت مند ہو اپنی معلومات وسیع تر کرنے کے لیے تمام دست یاب وسائل کا استعمال کرتا ہے اور دیگر لوگوں کی معاونت سے اپنی مہارتوں کو فروغ دیتا ہے۔بہتر کارکردگی، مسائل حل کرنے کی بہتر صلاحیت ،زیادہ علم اورزندگی میں کامیابی کے بہتر مواقع اس کے کچھ فوائد ہیں۔

پیشہ ورانہ پہلو(Occupational Aspect):پیشہ ورانہ پہلو کا تعلق اس تشفی سے ہے جوکسی شخص کو کام کرنے اور کام کے ذریعے فروغ پانے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس تشفی کا تعلق کام کے بارے میں کسی شخص کے رویوں ،کام کی جہت ، مقاصد اور کام یابی کے احساس سے ہوتا ہے ۔زندگی میں ذاتی اطمینان اور فروغ حاصل کرنے کے لیے کام کے ذریعے ذاتی اطمینان کا حصول ضروری ہے۔اگر آج Employersاپنے کارکنوں کی صحت،عافیت اور پیداواری صلاحیت میں بہتری لانے کو یقینی بنائیں تو اس سے کام کی جگہ پر سلامتی کے ماحول کو فروغ ملتا ہے۔

جذباتی پہلو(Emotional Aspect):جذباتی پہلو کا تعلق اس بات سے ہے کہ کوئی شخص اپنے احساسات کے بارے میں کتنا واقف ہے اور وہ انھیں کتنا قابلِ قبول سمجھتا ہے ۔اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ کوئی شخص اپنے اور زندگی کے بارے میں کس حدتک مثبت اور پر جوش انداز میں سوچتا ہے،اس میں (مثبت اور منفی دونوں)اپنے جذبات کو برتنے اور ان کا اظہار کرنے کی کتنی صلاحیت ہے،وہ تناؤسے کس طرح مقابلہ کرسکتا ہے اور وہ اپنی حدود کاکتنی حقیقت پسندی سے اندازہ کر سکتا ہے۔جذباتی سلامتی،لوگوں کو اپنے تمام جذبات کو جاننے سمجھنے،برتنے اور اظہار دینے کا موقع دیتی ہے۔خاص طور پر سن بلوغ کو پہنچنے کے بعد دل کی بیماریوں یا کینسر جیسی بیماریوں کے اثرات ذہنی صحت پر بھی پڑتے ہیں۔

تناؤ مختلف طریقوں سے فرد کی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے ۔یہ چڑچڑاہٹ ، بے چینی ،سردرد، دل کی بیماری اور شاید کینسرکا بھی سبب ہوسکتا ہے۔تناؤ سے پوری طرح نجات نہیں پائی جاسکتی ۔البتہ یہ ضرورجانا جاسکتا ہے کہ ہم تناؤ کا مقابلہ کس طرح کریں (اسی باب کی شکل 2 ملا حظہ کیجیے)۔صحت کے فروغ کی کوششوں سے مجموعی صحت و عافیت میں مثبت سدھار آسکتا ہے۔

روحانی پہلو(Spiritual Aspect):اس کا تعلق انسانی زندگی بلکہ تمام تر انسانی وجود کے معنی اور مقصد سمجھنے کی مستقل کوششوںسے ہے ۔عام طور پر روحانیت کا تعلق بہتر ذہنی صحت اور زندگی کے بہتر معیار سے ہوتا ہے۔اس سے جسمانی صحت اور طبی معاملات بھی متاثر ہوتے ہیں۔روحانیت جسمانی صحت سے متعلق بہت سے مسائل سے مقابلہ کرنے میں بھی مدد کرتی ہے۔

ماحولیاتی پہلو(Environmental Aspect): ماحولیاتی پہلو کا تعلق انسانوں اور ماحول کے درمیان تفاعل اور ان کے باہمی انحصار سے ہے۔ہماری انفرادی خیرو عافیت میں ماحول کے اہم کردار اور ماحول کو متاثر کرنے والی تمام انسانی سرگرمیوں کے بارے میں واقفیت بہت ضروری ہے۔ماحولیاتی تباہی(Environmental degradation)اور انسانوں کی لائی ہوئی تباہیوں نے قدرتی و سائل کی دست یابی کو خطرے میں ڈال دیا ہے جس کے نتیجے میں ایسی مشکلات پیش آرہی ہیں جو انسانی زندگی کے معیار میں گراوٹ کا سبب بن رہی ہیں۔

مالی پہلو(Financial Aspect):مالی پہلو کا تعلق باشعور فیصلہ کرنے اور اس بات کے سیکھنے سے ہے کہ ہم مالی و سائل کا بندوبست بچت ، سرمایہ کاری اور مستقبل کے لیے ان کی بندی کتنی سمجھ بوجھ کے ساتھ کرتے ہیں۔ پیسے پر مبنی کسی سماج میں( جہاں روپے پیسے کا لین دین بڑے پیمانے پر ہوتا ہے)صحت و عافیت کے حصول کے لیے کافی مالی وسائل  کی ضرورت ہوتی ہے۔ہر شخص کوکڑی محنت کرنی ہوتی ہے اور نہ صرف چھوٹے پیمانے (Micro-level)یعنی فرد اور خاندان کی سطح پر بلکہ بڑے پیمانے (Macro-level)سماجی ،علاقائی،ریاستی اور قومی سطحوں پر بھی کافی مالی وسائل حاصل کرنے کے لیے پیداواریت پر بہت توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

15.5تناؤ اور اس کا مقابلہ(Stress and Coping With Stress)

ہماری روزمرہ کی زندگی میں تناؤ ناگزیر ہے اور ہماری شخصی اور پیشہ ورانہ زندگی میں اس کے مثبت اور منفی دونوں پہلوہوسکتے ہیں۔کچھ تناؤ،بہتر کارکردگی اور زیادہ باصلاحیت ہونے کی تحریک اور توانائی فراہم کرتے ہیں۔تناؤ کا اثر مثبت ہوتوکارگر تناؤ یا ایوسٹریس (Eustress)کہا جاتا ہے اور اگر دباؤ کا اثر جسمانی اور ذہنی صحت اور کارکردگی پر منفی ہو تو اس کومنفی تناؤ (Distress) کہتے ہیں۔ کوئی بھی شخص درج ذیل سرگرمی کے ذریعے اپنے تناؤ کا انداز ہ کرسکتا ہے۔

سرگرمی   2

اپنے آپ سے درج ذیل سوالات کیجیے:

  • کیا میں اکثر خود کو چڑچڑا،الجھن میں مبتلا اور افسردہ محسوس کرتا؍کرتی ہوں؟
  • کیا مجھے بغیر کسی معقول سبب کے تھکن محسوس ہوتی ہے؟
  •   کیا میں بہت زیادہ فکر مند رہتا ؍رہتی ہوں اور اسی فکر مندی کے سبب ،تنائوکا شکار ہوجاتا؍جاتی ہوں اور نتیجتاً سو نہیں پاتا؍پاتی؟
  •   کیا میں اکثر اکتا ہٹ(Fed up)اور بہت بوجھل پن(Over burdened)محسوس کرتا؍کرتی ہوں۔اگر ان میں سے کسی ایک یازیادہ سوالوں کے جواب اثبات میں ہیں تو اس بات کا امکان ہے کہ آپ تنائو میں ہیں۔طویل مدتی تناؤ(پرانا دباؤ)جسم کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور اس سے ہائی بلڈ پریشر ،موٹاپا،دل کا دورہ،قوتِ مدافعت کی کمی وغیرہ ہوسکتی ہے۔

ہر انسان چاہے چھوٹا ہو یا بڑا،مرد ہو یا عورت ،امیر ہو یا غریب،صحت مند ہو یا صحت کی خرابی کاشکار،تناؤ سے مقابلہ کرنے سے متعلق معلومات سے فائدہ حاصل کرسکتا ہے اوراپنی سلامتی اور زندگی کے معیار کو بہترکرسکتا ہے۔تناؤسے مقابلہ کرنے کے   مختلف طریقے ہیں جن کو شکل 2میں دکھا یا گیا ہے۔ایک یا زیادہ طریقے استعمال کرنے کا فیصلہ فرد کی اپنی پسند کا معاملہ ہے۔

دوستوں؍گھر کے لوگوں سے بات چیت
تناؤ کا بندوبست
یوگ
مشاغل
موسیقی
روحانیت
مطالعہ
آرام

7

کل2: تنائو سے مقابلہ کرنے کے آسان طریقے

تحقیقی مطالعے سے معلوم ہواہے کہ جو لوگ خود اپنا خیال رکھتے ہیں اور اپنے طرزِزندگی اور رویوں کی صحیح ترتیب بنالیتے ہیں وہ زیادہ صحت مند اور زیادہ پیداواری صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں ،کام سے کم غیر حاضر ہوتے ہیں اور طبی امداد کی بھی ان کو کم ضرورت پڑتی ہے۔اچھی صحت کے فروغ اور زندگی کے بہترمعیار کے لیے صرف طبی نگہ داشت ہی کافی نہیں بلکہ اس کے لیے خود اپنی مسلسل   نگہ داشت بھی ضروری   ہے۔

BMI(جسمانی وزن کے اشاریے)کی درجہ بندی کے بارے میں اساتذہ کے لیے ہدایات

حالیہ برسوں میں اس بات پر بہت بحث ہوتی رہی ہے کہ کیا مختلف نسلی گروپوں کے لیے مختلف BMIکے امتیازی حدود (Cut-off points)کو مرتب کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ دیکھنے میں آیا ہے کہ  BMIجسمانی چربی کے فی صدتناسب اور جسمانی چربی کی تقسیم کے درمیان تعلق کے لحاظ سے مختلف آبادیوں میں بہت فرق پایا جاتا ہے اور اس لیے 25kg/m2کی امتیازی حد کے نیچے صحت کے لیے خطرات بڑھ جاتے ہیں ۔اس حالت کو عالمی صحت تنظیم کی موجودہ زمرہ بندی میں زائدالوزن قرار دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے ایشیا ئی اورپیسفک(Pacific) ملکوں میں دو کوششیں BMIامتیازی حدود کی تشریح کے لیے کی جاچکی ہیں جن کے نتیجے میں مباحث میں اضافہ ہوا۔ پھر ان مباحث پر روشنی ڈالنے کے لیے عالمی صحت تنظیم نے ایشیائی آبادیوں میںBMIکے معاملے پر غور کرنے کے لیے ماہرین کی ایک کانفرنس منعقد کی (سنگاپور۔8.—11جولائی2002)۔

عالمی صحت تنظیم کی یہ کانفرنس اس نتیجے پر پہنچی کہ زائدالوزن لوگوں کے لیے ٹائپ2ذیابیطس اوردل کی بیماریوں کے زیادہ خطرے والے ایشیائی لوگوں کا تناسب عالمی صحت تنظیم کی موجودہ امتیازی حد(25kg/m2)سے کم BMIپر بھی اچھا خاصا ہے۔پھر بھی ،مشاہدے میں آئے ہوئے خطرے سے متعلق امتیازی حد22kg/m2سے 25kg/m2تک ہوسکتی ہے اور زیادہ خطرے کے لیے یہ(26kg/m2)سے (31kg/m2)تک ہوسکتی ہے۔ اس کانفرنس نے سفارش کی کہ عالمی صحت تنظیم کی موجودہ BMIامتیازی حدود(جدول1)کی بین الاقوامی زمرہ بندی برقرار رہنی چاہیے۔لیکن 32.5,27.5,23 اور37.5    kg/m2 والی امتیازی حدودکا عوامی صحت اقدامات کے لیے بطور پوائنٹس کے اضافہ کردیا جانا چاہیے۔اس لیے سفارش کی گئی کہ دنیا کے تمام ملکوں کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی سطح موازنے میںآسانی پیدا کرنے کے پیش نظر رپورٹنگ کے مقصد سے تمام زمروں (18.5,23.25,27.5,30,32.5 kg/m2) اور کچھ آبادیوں کے لیے40 kg/m2  اور 35,37.5,کا استعمال کریں۔احساس عافیت کے برقرار رکھنے کے بارے میں اس باب میں سن بلوغت کے دوران اچھی صحت کی اہمیت اور احساسِ عافیت برقرار رکھنے کے طریقو ں کے بارے میں مناسب معلومات فراہم کی گئی ہیں۔آپ اس بات سے اتفا ق کریں گے کہ کسی بھی بالغ فرد کے لیے مناسب مالی وسائل کا ہونا صحت و عافیت کا ایک ضروری حصہ ہے۔پھر بھی،صرف پیسہ ہونا ہی کافی نہیں ہے۔پیسے کا استعمال اور اس کے استعمال کی منصوبہ بندی بھی اس وسیلے سے استفادہ کے لیے مساوی طور پر اہم ہے۔یہ تمام مسائل اگلے باب ’مالی انتظام اور منصوبہ بندی‘(Financial Management and Planning)میں زیر بحث آئیں گے۔

کلیدی اصطلاحات اور ان کے معنی

سلامتی(Wellness):سلامتی کا تعلق اچھی جسمانی صحت،جذباتی استحکام،خاندان کے افراد ،دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ صحت مند رشتوں،پیداواری صلاحیت اور کام اور کام کرنے کی جگہ سے متعلق اطمینان کے احساس سے ہے۔

امتیازی حدود:(Cut= off point):وہ اقدار جو وزن یابلڈ کولیسٹرال یا بلڈ گلوکوز وغیرہ کی معمول کی سطحوں کی رینج کو ظاہر کرتی ہیں۔کم سے کم نیچے اور زیادہ سے زیادہ اوپر کی قدر خلاف معمولی(Abnormal)ہوتی ہے۔بہ الفاظ دیگر ایسی قدریں خلاف معمول قدروں کو معمول قدروں سے الگ(Cut off)کردیتی ہیں۔

گلوکوز کی برداشت(Glucose tolerance):انسولین کی مناسب مقدارپیدا کر کے گلوکوزکی کثیر مقدار نتیجتاً بلڈ کے گلوکوز کی کثرت کے تئیں جسم کے رد عمل کی اہلیت۔انسولین گلوکوز کو جسم کے خلیوں میں داخل ہونے میں مدد کرتی ہے اور اس طرح خون میں گلوکوز کی سطح کم ہوجاتی ہے۔جن لوگوں میں ذیابیطس کارجحان ہوتا ہے یا وہ اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں ان میں گلوکوزکی برداشت بہت کم ہوتی ہے۔

  سوالات برائے نظر ثانی

1۔ درج ذیل بیانات کے بارے میں بتائیے کہ یہ غلط ہیں یا صحیح

1۔ آپ کو جسمانی طور پر فعال ہونے کی صرف اسی وقت ضرورت ہے جب آپ کو وزن گھٹانا ہو۔

      صحیح؍غلط

2۔ جسمانی درستی کے لیے ضروری ہے کہ آپ کسی جِم کے ممبر ہوں ،آپ کے پاس خصوصی سازوسامان اور خصوصی لباس ہو۔

صحیح؍غلط

3۔ روزانہ30منٹ کی ورزش کے بغیر تن درستی حاصل نہیں ہوسکتی۔

صحیح؍غلط

4۔ اینڈورفین(Endorphins) وہ کیمیائی اشیا(Substances)ہیں جن کی وجہ سے انسان افسردہ (Depressed) ہوجاتا ہے۔

صحیح؍غلط

2۔   مشقیں

(a)۔اپنے اور دو بالغ افراد(جن میں ایک جوان اور ایک عمر رسیدہ ہو)کےBMIمعلوم کیجیے۔   

(b)’عمر رسیدہ لوگوں کو ورزش کی ضرورت نہیں ہے‘اس عنوان پر ایک گروپ مباحثہ کیجیے۔

(c)کلاس میں مختلف گروپوں کے درمیان درج ذیل بیان کی موافقت یامخالفت میں ایک مباحثہ منعقد کیجیے:’جب کوئی شخص  تن درست ہو تو اس کو اپنی خوراک کے بارے میں کچھ فکر نہیں ہونی چاہیے‘۔

(d)ذاتی ڈائری:کارگرتناؤ(Eustress)اورمنفی تناؤ (Distress)کے درمیان فرق واضح کیجیے۔ایک ہفتے تک اپنے کار گر تناؤاور منفی تناؤکی کیفیت کا ریکارڈ تیار کیجیے۔

3۔ گروپ پروجیکٹ(Group projects)

1۔تن درستی اورسلامتی کی اہمیت ظاہر کرنے کے لیے دل کش پوسٹر تیار کیجیے۔

2۔صحت مند اور تغذیہ بخش ہلکے ناشتے(Snacks)تیار کرنے کی ترکیبیں حاصل کیجیے۔ایسی ترکیبوں کا ایک کتابچہ تیار کیجیے اوراس کے بارے میں لوگوں سے بات چیت کیجیے۔

4۔اسکول کے لیے پروجیکٹ (Projects for School)

1۔ورزش کے فوائد کو فروغ دینے کے لیے ایک پیدل ریلی نکا لیے۔

2۔اسکول کے اساتذہ ،والدین اورلوگوں کو تن درستی اورسلامتی کی اہمیت بتانے کے لیے طلبا کے پوسٹروں کی نمائش کا انعقاد کریں۔

3۔اسکول میں’ عالمی یومِ صحت‘منانے کے لیے’ صحت اور سلامتی‘ کے ہفتے کا اہتمام کیجیے۔