Skip to content
Insanimaholiatauruloom-Part-II

مالی انتظام اور منصوبہ بندی

(Financial Management and Planning)

باب16


آموزشی مقاصد 

  اس باب کے مطالعہ کے بعد طلبا:

  • مالی انتظام کا تصور اور اس کا مفہوم سمجھ سکیں گے۔
  • آمدنی کی مختلف قسموں کے بارے میں جان سکیں گے۔
  • خاندان کا بجٹ بنانے کے اقدامات کی وضاحت کرسکیں گے۔
  • بچت اور سرمایہ کاری کا مفہوم واضح کرسکیں گے۔
  • محفوظ سرمایہ کاری(Sound Investments)کے اصولوں پر گفتگو کرسکیں گے۔

16.1تعارف

(i)  گھر کے حوالے سے مالی انتظام سے مراد گھر میں پیسوں کے استعمال سے ہے۔مالیات سے مراد کسی خاندان کو حاصل ہونے والی وہ تمام آمدنی ہے جس میں تنخواہ ،اجرت، کرایہ، سود،ڈیویڈینڈ (Dividend)، بونس،ریٹائرمنٹ سے حاصل ہونے والے فائدے اور آمدنی کی تمام دیگر قسمیں شامل ہیں۔ آمدنی کی ان تمام قسموں کی منصوبہ بندی،ان پرکنٹرول اور ان کے استعمال کی قدر پیمائی (Evaluation)کو مالی انتظام کہاجاتا ہے۔مالی انتظام کا مقصد خاندان کوایسے وسائل کا استعمال کر کے زیادہ سے زیادہ تسکین فراہم کرنا ہے۔

مالی وسائل کے بدلے حاصل ہونے والی زندگی کا معیار صرف اس بات پر منحصر نہیں ہے کہ آمدنی کتنی ہے بلکہ اس سلسلے میں آمدنی کی باقاعدگی اور اس کی پائیداری یا استحکام بھی بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔اسی لیے پیسے کے استعمال کی مہارت حاصل کرنا بہت اہم ہے۔اس باب میں خاندان کی آمدنی کی قسموں،آمدنی کے انتظام اور خاندان کا بجٹ بنانے کے معاملات سے بحث کی جائے گی۔

(ii)  مالی منصوبہ بندی مالی انتظام کا حصہ ہے۔مالی انتظام کی منصوبہ بندی کے مرحلے کے لیے عام طور پر بجٹ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ خاندان کا بجٹ بناتے وقت یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ خاندان کی آمدنی کا استعمال اس طرح کیا جائے کہ خاندان کے ہر فرد کی موجودہ تمام ضروریات پوری ہوسکیں بلکہ خاندان کے مستقبل کے مقاصد کو بھی دھیان میں رکھا جاسکے۔اس طرح خاندان اپنے وسائل کا بہترین استعمال کر کے اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں۔اس کے علاوہ مالی منصوبہ بندی سے غیر ضروری کاموں پر پیسے ضائع ہونے میں   کمی آتی۔ اس طرح خاندان اپنی آمدنی کے ایک حصے کی بچت کرتے ہیں جسے آئندہ استعمال میں لیا جاسکتا ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ خاندان اپنے مالی منصوبوں پر نظر رکھیں اور وقتاً فوقتاً ان کا جائزہ لیتے رہیں۔مالی منصوبہ بندی کی کامیابی کے لیے ضروری ہے خاندان کے افراد اپنے آپ کو اس کاپابند کریں۔

مالی انتظام ،جو کچھ ا ٓپ کے پاس ہے(وسائل )اس کا استعمال کر کے جو کچھ آپ چاہتے ہیں(مقاصد) سے حاصل کرنے میں مدد کرتا ہے۔خاندانی وسائل وہ وسائل ہیں جو کسی خاص وقت پر کسی فرد یا خاندان کودست یاب ہوتے ہیں،اورجو خاندان کو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔خاندانی وسائل میں انسانی وسائل مثلاً علم، مہارت، صحت،وقت اور توانائی،مادی وسائل مثلاً گھر ،پیسہ اور سرمایہ،اجتماعی وسائل مثلاًلائبریری ،پارک،اجتماعی مراکز(Community Centres)، اسپتال وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ان کا انتظام اچھے ڈھنگ سے کیا جائے۔

ایک معاشرتی اکائی ہونے کے باعث خاندان ایک صارفی اکائی ہے اور اس کا مقصد خاندان کے افراد کی بہبود کے لیے خاندان کی مالیات کا انتظام کرنا ہے۔پیسہ خاندان کا ایک اہم وسیلہ ہے۔کافی پیسے کے بغیر کوئی خاندان آرام دہ زندگی نہیں گزار سکتا ہے۔موجودہ ضروریات اور مستقبل کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے پیسے کا مؤثر انتظام کرنا ایک ایسی مہارت ہے جسے سیکھنا پڑتا ہے۔لہٰذا آئیے پہلے ہم یہ دیکھیں کہ خاندان کی آمدنی سے ہم کیا سمجھتے ہیں۔

  16.2خاندان کی آمدنی(Family income)

خاندان کی آمدنی سے مراد کسی خاص عرصے کے دوران تمام افراد خاندان کی ہر قسم کی اور ہر ذریعے سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدنی ہے۔یہ آمدنی سالانہ،ماہانہ،ہفتہ وار یا یومیہ ہوسکتی ہے۔سرکاری مقاصد کے لیے،آمدنی کو ایک مالی سال میں سالانہ آمدنی کے طور پر شمار کیا جاتا ہے۔یہ مالی سال عام طور پر یکم اپریل سے   اگلے سال کے31مارچ تک ہوتا ہے۔

آمدنی کی درج ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں:

  • اجرتیں
  • تنخواہ
  • کاروبار سے ہونے والا منافع
  • کمیشن
  • جائیداد کا کرایہ
  • نقد قرضوں پر سود
  • ڈیویڈینڈ
  • پینشن
  • تحفے
  • تصنیف و تالیف کے لیے حاصل ہونے والی رقم(Royalty)
  • بخشش اور عطیات(Tips and Donations)
  • بونس
  • رعایتیں(Subsidies)،خیرات وغیرہ۔

سرگرمی1

’ابلاغی ٹیکنالوجی - زحمت یا رحمت‘عنوان پر اپنی کلاس میں گروپ مباحثے میں حصہ لیجیے۔

خاندان کی آمدنی کی قسمیں (Types of family income)  

خاندان کی آمدنی تین قسموں کی ہوتی ہے۔

حقیقی آمدنی

نفسیاتی آمدنی

پیسہ کی آمدنی


8

خاندان کی مختلف آمدنیوں کی تفصیل میں جانے سے پہلے، آئیے یہ سمجھ لیں کہ پیسہ (Money)کیا ہے اوراس کے کام کیا ہیں ۔   پیسے کے دو اہم ترین کام ہیں:

  • یہ تبادلے کا ذریعہ ہے
  • قدر کی پیمائش

اس طرح’’ہر وہ چیزپیسہ ہے جو عام حالات میں اشیائے صَرف یا سامان کے تبادلے میں قابل قبول ہو اورجس کے مطابق دیگر چیزوں کی قدر(value)متعین کی جائے۔

  پیسے کی ا ہمیت(Importance of money)  

  • پیسہ تبادلے کے ذریعے کے طور پر کام آتا ہے۔اس سے استفادے میں لگنے والے وقت کی مشکلات سے نجات مل جاتی ہے۔
  • پیسہ قدر کے معیار (Standard of value)کا کام کرتا ہے یعنی یہ ایک مشترک قدر (Common Denominator)ہے جس کے ذریعے تمام دوسر ی چیزوں کی قدر ظاہر کی جاتی ہے۔
  • یہ موخر ادائیگیوں (Deferred Payments)کے معیار کے طور پر کام کرتا ہے اوربچت اور سرمایہ کاری میں آسانی پیدا کرتا ہے ،جو سرمایہ سازی (Capital Formation)کی بنیاد ہوتی ہیں اور جن کے نتیجے میں زندگی کا معیار بہتر ہوتا ہے۔
  • پیسے کا ذخیرہ لمبی مدت تک برقرار رہتا ہے۔ اس پیداوار میں سرمایہ کاری کے لیے پیسہ جمع کرنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے اورخاندان کے معیار زندگی میں بھی بہتر ی آتی ہے۔

(a)نقدآمدنی(Money Income):یہ آمدنی وہ قوت خرید ہے جو   پیسے کی شکل میں حاصل ہوتی ہے ۔یہ پیسہ ایک مقررہ مدت تک خاندان کی ملکیت رہتا ہے۔ پیسہ اجرت، تنخواہ، بونس، کمیشن ، کرائے، ڈیویڈینڈ، سود، ریٹائرمنٹ کی آمدنی، رایلٹیوں (Royalties)اور ان دیگر بھتّوں (Allowances) کی شکل میں خاندان کے کسی بھی فردکو حاصل ہوسکتاہے۔پیسہ روزہ مرہ استعمال کے لیے ضروری سامان اور خدمات(Goods and servies)حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کا ایک حصہ اکثر بعد میں استعمال کی جاسکنے والی بچت میں بدل جاتا ہے۔


سرگرمی2

ہر ماہ اپنے خاندان کو حاصل ہونے والی آمدنی کے تمام ذرائع کی نشان دہی کیجیے۔


پیسہ حاصل ہونے کا تواتر اور اس کی صورتیں مختلف خاندانوںمیں مختلف ہوتی ہیں۔مثال کے طور پردیہی علاقوں کے لوگوں کا خاص پیشہ زراعت ہوتا ہے۔ کسان کی آمدنی مستقل یا باقاعدہ نہیں ہوتی بلکہ فصل فروخت ہونے پر منحصر ہوتی ہے جو سال میں دوبار (یعنی خریف اور ربیع کے موسم میں)ہوسکتی ہے۔اس کے برخلاف ،نوکری پیشہ لوگوں کی آمدنی ماہ بہ ماہ ہوتی رہتی ہے۔

(b) حقیقی آمدنی(Real income)کی تعریف ماہرین اقتصادیات نے اس طرح کی ہے کہ یہ کسی خاص عرصے کے دوران انسانی ضرورتوں اور خواہشوں کی تسکین کے لیے دست یاب چیزوں اور خدمات پرمشتمل ہوتی ہے۔

اس تعریف کے تین اہم نکات ہیں،یعنی

  • حقیقی آمدنی چیزوں اور خدمات کی مسلسل فراہمی کا نام ہے۔یہ جامد نہیں۔
  • یہ اس سامان اور ان خدمات پر مشتمل ہوتی ہے جن کی فراہمی پیسے کے ذریعہ ممکن ہو اور نہ بھی ہو،مثلاً اپنی زمین کی پیداوار،کنبہ کی اپنی خدمات۔
  • یہ وقت کے ایک خاص عرصے میں ہوتی ہے۔یہ مدت ایک ماہ یا ایک سال ہوسکتی ہے ۔

حقیقی آمدنی دو قسم کی ہوتی ہے۔براہ ِراست آمدنی اور بالواسطہ آمدنی

1۔براہِ راست آمدنی:یہ آمدنی اس سامان اور خدمات پر مشتمل ہوتی ہے جو پیسے کا استعمال کیے بغیر افراد خانہ کو حاصل ہوتی ہیں۔مثلاً وہ خدمات جو افراد خانہ انجام دیتے ہیں جیسے کھانا پکانا،کپڑے دھونا،سینا پرونا،کچن گارڈن کی دیکھ بھال وغیرہ۔وہ مکان جس کی پوری قیمت ادا کردی گئی ہو اور اجتماعی سہولتیں مثلاً پارک،سڑکیں،لائبریری وغیرہ بھی براہ راست آمدنی کے تحت آتی ہیں۔

2۔بالواسطہ آمدنی: مادّی چیزیں اور خدمات جو کوئی ذریعۂ مبادلہ(Means of exchange)، جسے عام طور پر پیسہ کہا جاتا ہے ،حاصل ہونے کے بعد ہی کسی خاندان کودست یاب ہوں۔مثلاً اچھی سبزیاں خریدنے کے لیے پیسے کا استعمال کیوں کہ ان کے انتخاب میں ہوشیاری اور صلاحیت استعمال ہوتی ہے۔

(c)نفسیاتی آمدنی :وہ تسکین ہے جوچیزوں اور خدمات کی ملکیت اور استعمال کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔اس کی تعریف اس طرح بھی کی جاسکتی ہے کہ یہ وہ تسکین ہے جو حقیقی آمدنی سے حاصل ہوتی ہے۔نفسیاتی آمدنی کی پیمائش پیسوں کے ذریعے نہیں کی جاسکتی ۔یہ ایک نظرنہ آنے والی آمدنی ہے ۔یہ غیر حقیقی اور داخلی ہوتی ہے اور زندگی کے معیار کے لحاظ سے بہت اہم ہوتی ہے۔

  16.3آمدنی کا انتظام (Income Management)

آمدنی کے انتظام کی تعریف آمدنی کی تمام قسموں کی منصوبہ بندی،ان پر قابو رکھنے اورقدر پیمائی کے طور پر کی جاسکتی ہے۔ اس کا مقصد دست یاب وسائل سے زیادہ سے زیادہ تسکین حاصل کرناہے۔

سرگرمی 3

اپنے خاندان کے مختلف براہ راست وسائل کی نشان دہی کیجیے۔


کن ہی دو خاندانوں کودیکھیے۔ان کی آمدنیاں یکساں بھی ہوں لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ   ان کی ضروریات اورخواہشات یکساں نہ ہوں۔اسی لیے ہر خاندان کو اپنے مقاصد، ضروریات اور خواہشات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے اخراجات کا منصوبہ بنانا چاہیے۔آمدنی کے مؤثراور سودمند انتظام کے لیے ضروری ہے کہ خاندان تمام دست یاب وسائل سے واقف ہوں اور ان کا تجزیہ کرسکیں۔

16.4   بجٹ   (Budget)

  پیسے کے استعمال کے لیے بجٹ سازی، منصوبہ بندی کی سب سے زیادہ عام تدبیر ہے۔بجٹ آئندہ اخراجات کا منصوبہ ہوتا ہے۔بجٹ روپے پیسے سے متعلق انتظام کے عمل کا پہلا قدم ہے۔بجٹ کی کامیابی مندرجہ ذیل باتوں پر منحصر ہے:

  • اس کی حقیقت پسندی اور لچک داری۔
  • ان لوگوں سے اس کی مطابقت جس کے لیے بنایا گیا ہے۔
  • پیسے کے استعمال پر قابو رکھنا اور بعد میں کی جانے والی قدر پیمائی۔

خاندان کے بجٹ میں خاندان کی ماہانہ یا سالانہ آمدنی اور اخراجات کی تفصیل شامل ہوتی ہے ۔اس میں ماہانہ یا سالانہ عرصے کے دوران حاصل ہونے والی آمدنی کے ذرائع درج کیے جاتے ہیں اور اخراجات کی مدیں بھی شامل ہوتی ہیں،مثلاً غذا، لباس، مکان، تفریح،سفر،تعلیم ،صحت اور دوائیں اوربچت وغیرہ۔

بجٹ سازی کے اقدامات(Steps in making a budget)

بجٹ سازی میں مندرجہ ذیل پانچ اقدامات خاص ہیں:

(i)  مجوزہ بجٹ کی منصوبہ بندی میں افراد خاندان کے لیے مطلوبہ سازو سامان اور خدمات کی فہرست تیار کیجیے ۔اشیااور خدمات کی درجہ بندی ایک ساتھ کیجیے۔اس میں مندرجہ ذیل درجہ بندی مدد گار ہوسکتی ہے:

  • غذائیں اور ان کی لاگت
  • مکان
  •   گھریلو ضرورتیں۔ایندھن،سہولتیں
  • تعلیم
  • نقل وحمل  
  • لباس  
  • آمدنی ٹیکس
  • طبّی سہولتیں
  • ذاتی اخراجات۔
  • متفرقات۔تفریحات،مکان کی آرائش۔
  • آئندہ کے لیے بندوبست:بچت،ریٹائرمنٹ

(ii)  ہر درجہ بندی اور مجموعی طور پر سارے بجٹ میں شامل تمام مطلوبہ چیزوں کی لاگت کا تخمینہ لگائیے۔تخمینہ لگانے میں بازار کے عمومی رجحانات کو ذہن میں رکھنا لازمی ہے ۔مثال کے طورپر اگر قیمتوں میں اضافے کا رجحان ہے تو بجٹ میں رعایت رکھنی چاہیے۔

(iii)  مجموعی متوقع آمدمنی کا تخمینہ لگائیے۔آمدنی کی دو عنوانات کے تحت درجہ بندی مفید ہوگی:یقینی آمدنی اور امکانی آمدنی۔ بجٹ   میں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ تمام ضروریات یقینی آمدنی میں سے پوری ہوسکیں اور ایسی چیزوں کی ضرورتیں جو اچھی تو ہوں لیکن ضروری نہ ہوںامکانی آمدنی سے پوری کی جائیں۔

(iv) متوقع آمدنی اور اخراجات میں توازن پیدا کیجیے۔کبھی کبھی اخراجات، آمدنی سے زیادہ ہوتے ہیں۔ایسی صورت حال کو متوازن بنانے کے دو طریقے ہیں۔یاتو آمدنی بڑھائی جائے(مثلاًزیادہ کام کر کے)یا پھر اخراجات کم کیے جائیں (مثلاً سیروتفریح میں کمی کر کے یا تہواروں پر خرچ کم کر کے)۔

(v) منصوبوں کی جانچ کیجیے،یہ دیکھنے کے لیے کہ ان کی کامیابی کے لیے مناسب حالات موجود ہیں۔درج ذیل عوامل کی روشنی میں منصوبوں کی جانچ کی جاسکتی ہے۔

  • خاندان کی ضروریات کی تکمیل ہوگئی ہے۔
  • بجٹ میں ہنگامی ضروریات کا خیال رکھا گیا ہے۔ہنگامی حالات کے لیے ایک مشترکہ فنڈ الگ رکھاجاسکتا ہے۔
  • بِلوں یا قرضوں کی ادائیگی یقینی ہو گئی۔
  • قومی اور بین الاقوامی حالات کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔مثلاً بین الاقوامی اقتصادی بحران۔
  • خاندان کے طویل مدتی مقاصد کی شناخت کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔

خاندانی بجٹ کی منصوبہ بندی کے فوائد

(Advantages of planning family budgets)

  • منصوبہ بندی کرکے خاندان اپنی آمدنی کے استعمال کا جائزہ لے سکتا ہے۔
  • مختلف زمروں کے لیے مختص کی گئی رقوم کا مجموعی آمدنی کے تعلق سے اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
  • بجٹ خاندانوں کو زیادہ اہم مقاصد کو پہلے حاصل کرنے کے لیے آمدنی کا استعمال کرنے میں مددکرتا ہے۔منصوبے کے بغیر خرچ کرنے سے اکثر آمدنی برباد ہوتی ہے۔
  • جب خاندان کے افراد خاندان کے طویل مدتی مقاصد کے پیش نظر اخراجات کے بارے میں معقول انداز سے فیصلے کرتے ہیں تو ان کے غیر ضروری باتوں سے متاثر ہونے کا امکان کم ہوجاتا ہے۔

16.5مالی ا نتظام میں نظم وضبط(Control in money management)

منصوبہ بندی کے بعدپیسے کے انتظام کا اگلا مرحلہ نظم وضبط کا ہے۔مالی انتظام میں نظم وضبط عام طور پر دو قسم کا ہوتا ہے:ایک تو اس بات کی جانچ کہ منصوبہ کس طرح آگے بڑھ رہا ہے اورضرورت کے مطابق رد وبدل کی   جاسکتی ہے۔

یہ جانچ بہت اہم ہے کیوں کہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ منصوبے کس طرح کام کررہے ہیں اور کہاں کہاں ردوبدل کی ضرورت ہے۔جانچ دو طرح کی ہوتی ہے۔

(i) ذہنی اور میکانیکی جانچ:ذہنی جانچ عموماً، مختص کی گئی رقوم کو حقیقی اخراجات سے متعلق مختلف اکائیوں میں تقسیم کرکے کی جاتی ہے۔مثال کے طور پر ایک ہزار -(1000 روپے )کی رقم کسی طالب علم کو بڑی معلوم ہوسکتی ہے لیکن جب اسے معلوم ہوگا کہ اس رقم سے ایک جوڑی جوتے، تہوارکے لیے کپڑے اور ساتھ ہی کچھ کتابیں خریدنی ہیں تو ظاہر ہے وہ اس رقم کے پیش نظر ان چیزوں کے انتخاب اور قیمت کے معاملے میں بہت محتاط رہے گا۔اس طرح ذہنی جانچ میں فرد واضح طور پر یہ دیکھتا ہے کہ ایک طے شدہ رقم سے کیاکیا خریدا جاسکتا ہے۔

میکانیکی جانچ (Mechanical Check)میں آپ ایک مخصوص رقم کسی خاص مد کے لیے نقد الگ کرلیتے ہیں، مثلاً بہت سی خانہ دار خواتین غذائی سامان کی خریداری کے لیے کچھ رقم کسی پرس وغیرہ میں الگ رکھ لیتی ہیں اور کھانے پینے کے تمام اخراجات اسی رقم سے پورے کیے جاتے ہیں۔یہ قسم جتنی تیزی سے کم ہوتی ہے اس سے خرچ کی رفتار کا اندازہ ہوجاتا ہے۔

(ii)  یاد داشتیں اور کھاتے (Records and Accounts):یاد داشتیں اور کھاتے اخراجات کی مدوں کو ظاہر کرتے ہیں۔یاد داشتیں بالکل غیر رسمی بھی ہوسکتی ہیں جیسے روزکا تحریری حساب لکھنا یا رسیدیں سنبھال کر رکھنا، یا پھر رسمی اور تفصیلی کھاتوں پر مشتمل ہوسکتی ہیں۔کسی خاندان کے لیے،ان یادداشتوں کا مقصد اس بات کو یاد رکھنا ہوتا ہے کہ کس مد میں کتنی رقم خرچ کی گئی اور یہ خرچ اس کے لیے مختص رقم کے مطابق تھا یا نہیں۔

سرگرمی4

ایسے طریقوں کی نشان دہی کیجیے جن سے آپ کا خاندان اپنے اخراجات کا حساب رکھتاہے۔


خاندان کے لیے یاد داشتیں رکھنے کے فوائد (Advantags of records)

  • ماہانہ اخراجات کا موازنہ خرچ کے منصوبے سے کیا جاسکتا ہے۔اس سے ہمیں یہ معلوم ہوجائے گا کہ زیادہ اخراجات سے بچنے کے لیے کہاں کہاں بچت کی جاسکتی ہے۔
  • اس سے ان مدوں اور ذیلی مدوں کی نشان دہی میں مدد ملے گی جن میں خرچ بہت زیادہ یا بہت کم ہے۔نتیجتاً اس سےآئندہ بہتر بجٹ بنانے میں بھی مدد ملے گی۔
  • یاد داشتوں کی حفاظت کے کچھ طریقے ایسے ہیں جن میں بلوں اور رسیدوں کو سنبھال کر رکھا جاتاہے۔اس طرح کوئی خریدا گیاسامان یا حاصل کی گئی کوئی خدمت تسلی بخش نہ ہو تواس کے لیے کی گئی ادائیگی کا ثبوت فوری طور پر مل جاتا ہے۔

یاد داشت رکھنے کا ایک سادہ طریقہ کاغذکے ایک ورق کا استعمال ہے۔

اخراجات کی یادداشت کاغذ کے ایک ورق پر محفوظ رکھی جاتی ہے(دیکھیے شکل1)۔

  رد وبدل(Adjustment):منصوبے   کو صحیح راہ پر رکھنے کے لیے اس میں ردوبدل بہت ضروری ہوتا ہے۔ مطابقت کی ضرورت تب پیش آتی ہے جب خاندان کو کسی ایسی صورت حال کا سامنا ہوتا ہے جس پر اس کا قابو نہ ہو جیسے ہنگامی حالات، غیرمنصوبہ بند خریداری،یابجٹ نظررکھنے میں کوتاہی جس سے خاندان کو منصوبے اور ان پر عمل در آمد میں آنے والے فرق کی وجہ معلوم نہ ہوسکے۔

  قدر پیمائی (Evaluation)مالی انتظام کا آخری مرحلہ قدر پیمائی کاہے۔اخراجات سے حاصل ہونے والی تسلی بجٹ کی کامیابی طے کرنے کے لیے سب سے اہم ذریعہ ہے۔مالی انتظام کے ٹھیک ہونے کا اندازہ خصوصی مقاصد کے حصول مثلاًخرچ کی جانے والی رقم کی صحیح قیمت حاصل کرنا،واجب الادا   بِلوں کی ادائیگی کے قابل ہونا،مستقبل کے لیے وسائل کی فراہمی اور خاندان کی معاشی حالت میں سدھار وغیرہ کی روشنی میں کیا جاتاہے۔

     اخراجات کی یادداشتیں کاغذ کے ایک ،دو یا کئی ورقوں (Multiple sheets)پر محفوظ کی جاسکتی ہیں۔یہ ایک سیدھا سادہ طریقہ ہے۔ورق کو کسی دروازے یا الماری وغیرہ کی پشت پر بھی چسپاں کیا جاسکتا ہے جس کے ساتھ ایک پنسل بھی آسانی کے لیے لٹکتی ہو۔اگر چہ ایک ورق کے مقابلے،دو یا زیادہ ورقوں کا استعمال زیادہ مناسب ہے، پھر بھی اگر صرف ایک ورق کو ڈھنگ سے استعمال کیا جائے تو اس میں بھی تمام ضروری معلومات سما سکتی ہیں۔درج ذیل مثال پر غور کیجیے

اکتوبر2008کے لیے یک ورقی طریقہ
مد         مختص کی گئی رقم    خرچ کی گئی رقم   میزان
1۔   غذا
اجناس اور دیگر گھریلو ضروری سامان
دودھ
پھل؍سبزی
گوشت؍مرغ وغیرہ کا
باہر کھانا کھانا
ْْْ2 ۔   مکان سے متعلق اخراجات
کرایہ
مرمت
قرض  
3۔   لباس
بچوں کے لباس
بڑوں کے لباس
اسکول یونیفارم
4 ۔   تعلیم
فیس
  کاپیاں
  کتابیں
5۔ طبّی سہولتیں
6۔   دیگر

شکل :1 ایک ورقی طریقہ (Single Sheet Method)

خاندان کی آمدنی اور منصوبہ بندی،نگرانی اور قدر پیمائی کے ذریعے اس کے انتظام کے بارے میں معلومات حاصل کرلینے کے بعد، ہمیں اچھی طرح اندازہ ہوگیا ہے کہ اپنے وسائل کا بہتر سے بہتر استعمال کرنے کے لیے ہمیں کن کن چیزوں کی ضرورت ہے۔اسی لیے ہمارا اگلا قدم بچت اور پیسے کی سرمایہ کاری کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ہے، تاکہ اس سرمایے کا بہتر استعمال کیا جاسکے۔

16.6    بچت   (Savings)

بچت کا مطلب پیسے اور دیگر وسائل کا ایک حصہ آئندہ استعمال یا پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے الگ رکھنا ہے۔ بچت کسی بھی خاندان کے لیے بہت اہم ہوتی ہے۔اس سے آئندہ ضروریات کی تکمیل ہوسکتی ہے۔بچت کسی بھی معیشت کی بقا اور نمو کے لیے بھی بہت اہم ہوتی ہے کیوں کہ بچت سے ہی سرمایہ(Capital)پیدا ہوتا ہے اور اس میں اضافہ ہوتا ہے۔ایسا اس وقت ہوتا ہے جب بچت کی رقم تجارت میں لگائی جاتی ہے یا بینکوں اور مالی اداروں میں جمع کی جاتی ہے جو لوگوں کی بچت کی رقوم میں پیداواری مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

خاندان کی بچت جمع کی گئی رقوم کی اہلیت اور بچت کرنے کی خواہش پر منحصرہوتی ہے۔بچت کرنے کی اہلیت فی کس آمدنی پر منحصر ہے۔کم آمدنی والے خاندان کے مقابلے زیادہ آمدنی والے خاندانوں میں بچت کی زیادہ سکت ہوتی ہے کیوں کہ کم آمدنی والے لوگوں کے پاس بنیادی ضرورتوں پر خرچ کرنے کے بعد تھوڑا ہی بچ پاتا ہے۔بچت کی خواہش یا بچت کے لیے آمادگی ایک تو خاندان کے طویل مدتی مقاصد پر موقوف ہوتی ہے اور دوسرے اس بات پر کہ وہ آنے والے دنوں کے لیے موجودہ آرام و آسائش کو قربان کر نے کی کتنی ہمت کرپاتے ہیں۔

پیسہ بچانا آسان نہیں ہے۔اس کے لیے افراد خانہ میں نظم و ضبط،منصوبہ بندی،تعاون اورسخت جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن اس میں شک نہیں کہ خاندان کے تحفظ اور اس کی خوشیوں کے لیے پیسے کی بچت ضروری ہے ۔ فقط بچانے کے لیے بچت کرنا بے کار ہے۔بچت بامعنی تبھی ہے جب یہ منصوبہ بند ہو اور افراد خانہ کو اس کا شعور بھی ہو اور اس کے علاوہ مستقبل میں اس کا استعمال کیے جانے کی سمجھ بھی ہو۔

16.7    سرمایہ کاری   (Investment)

زر یعنی پیسے کو مزید پیداوار کے لیے استعمال کرنا سرمایہ کاری ہے۔اگر بچت کو ساڑی کے پلو میں باندھ کر یا کسی گھڑے میں محفوظ کر کے چھپا لیا جائے تو اس سے سرمایہ کاری کے نتائج نہیں بر آمد ہوں گے۔سرمایہ کاری کا مطلب بچت کو اقتصادی لحاظ سے فائدے مند طریقے سے استعمال کرنا ہے۔سرمایہ کاری دوقسم کے اثاثوں (Assets) میں ہوسکتی ہے ۔ مادّی اثاثے (Physical Assets)اور مالی اثاثے (Financial Assets)۔اگر بچت کو بینکوں،ڈاک خانوں یا مالی اداروں میں حصص(Shares) ، سکیورٹیوں (Securities) اور بیمہ پالیسیوں میں لگایا جاتا ہے تو اس سے مالی اثاثوں کی تشکیل ہوتی ہے۔ان اثاثوں سے خاندان کو مالی تحفظ حاصل ہوتا ہے اور یہ اقتصادی لحاظ سے نفع بخش   ہوتے ہیں۔

سرگرمی 5

بچت اور سرمایہ کاری کے ان مختلف طور طریقوں کی نشان دہی کیجیے جن کا استعمال آپ کا خاندان کررہا ہے۔


مادی اثاثوں کی تشکیل کے لیے بچت کا استعمال ہے، بچت کو زمین جائیداد،مکان،سونا اورپائیدار گھریلو سازوسامان  خریدنے میں استعمال کیا جائے۔اس قسم کی بچت نفع بخش نہیں ہوتی اور نہ ہی اس سے سرمایے کی تشکیل ہوتی ہے،حالاں کہ ان سے مستقبل میں طویل مدتی منافع ہوسکتا ہے۔

محفوظ سرمایہ کاری کے اصول

(Principles underlying sound investments)

خاندان ساری زندگی بچت کرکے جمع کرتے رہتے ہیں۔یہ بچت سمجھ داری کے ساتھ استعمال کی جانی چاہیے تاکہ اس سے خاندان کو اچھا منافع ہو اور یہ بھی اطمینان رہے کہ یہ سرمایہ محفوظ ہے اوربہ وقتِ ضرورت دست یاب ہوجائے گا۔

ذیل میں ہم ان اصولوں پر گفتگو کریں گے جومحفوظ سرمایہ کاری میں کام کرتے ہیں۔

(i)  اصل رقم کا تحفظ(Safety of the Principal Amount) اصل رقم محفوظ رہنی چاہیے۔ اس کے محفوظ رہنے پر ہی سود یا منافع حاصل ہوگا۔یہ اصل رقم محفوظ سرمایہ کاری کے لیے اہم ترین بنیاد ہے۔ اس کے تحفظ کی ضمانت درج ذیل طریقوں سے حاصل ہوسکتی ہے۔

سرکاری اور نجی دونوں ہی سیکٹروں کی سکیورٹیزمثلاً نیشنل سیونگز سرٹیفکیٹ) (National Savings Certificate،پبلک پراویڈینٹ فنڈ(Public Provident Fund-PPF)،کسان وکاس پترا(Kisan Vikas Patra) اور بینکوں میں فکسڈ ڈیپازٹ۔

  • مختلف علاقوں کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری۔
  • مختلف کمپنیوں کے حصص(Shares) اورہنڈیوں(Bonds)کی خریداری۔
  • سکیورٹیزکی بازار ساکھ کا مطالعہ۔
  • خریدی گئی سکیورٹیز کی قسموں میں رد وبدل۔زرعی زمین،جائیداد،حصص،بانڈ،فکسڈڈیپازٹ وغیرہ۔
  • تجارتی معاملات کی سمجھ۔

(ii) منافع کی معقول شرح: عام طور پر کسی بھی سرمایہ کاری میں منافع کی شرح جتنی زیادہ ہوگی اس میں جوکھم بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا یعنی اصل رقم کی حفاظت اورمنافع کی شرح میں معکوس رشتہ   ہے۔کچھ لوگوں، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جن کی آمدنی کا ذریعہ ہی سرمایہ کاری ہے،آمد نی کی باقاعدگی سرمایہ کاری سے ہونے والے زیادہ مگر غیر مستقل فائدے سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔اس بات کا تعین در اصل سکیورٹیز کے انتخاب سے ہے۔اسی لیے سرمایہ کاری سے پہلے مختلف اسکیموں اور متبادلوں کے منافع کی شرح اور اس سے وابستہ جوکھم کا موازنہ کرلینا ضروری ہوتا ہے۔

(iii) اثاثوں کی سیالیت:اس کا مطلب ہے سکیورٹیوں کی قدروقیمت کم کیے بغیر انھیں نقد رقم میں تبدیل کرسکنے کی اہلیت۔سرمایہ کاری جتنی زیادہ سیال ہوگی،اس کی قیمت اتنی ہی زیادہ ہوگی یعنی سرمایہ کار کا منافع اتنا ہی کم ہوگا۔اس طرح آمدنی اور سیالیت میں ایک توازن ہونا چاہیے۔

(iv) عالمی حالات کے اثرات کی سمجھ:تجارتی رجحانات میں تبدیلیاں مطلوبہ تحفظ ، اس کی آسان فراہمی اور اس کی فراہمی کے طریقۂ انتخاب کو متاثر کرتی ہیں۔طویل مدتی تجارتی رجحانات کے پیشِ نظر خاندان کو چاہیے کہ وہ پوری معیشت پر اپنی بچت کے اثرات کو سمجھے۔تجارتی اداروں کے مختلف مراحل میں سرمایہ کاری کے لیے آمادگی یا غیر آمادگی، ان مراحل کی نوعیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔

(v)   آسان دست یابی اورسہولت: سرمایہ کاری کے دائروں کا انتخاب کرتے وقت، اس کی کامیابی کے لیے ضروری معلومات حاصل کرنا لازمی ہے۔خاندان ایسی سرمایہ کاری بھی کرسکتا ہے جس کے نتیجے میں صرف اس وجہ سے نقصان ہوجائے کہ اس نے ان مسائل کو ٹھیک سے نہیں سمجھا تھا جو حاصل کردہ جائیداد یا سکیورٹی کے انتظام (Management) میں پیش آسکتے ہیں۔

(vi) مطلوبہ اشیاکے لیے سرمایہ کاری: اس خاندان کے لیے کسی بھی سرمایہ کاری کی میعاد پوری ہونے (Maturation) کی تاریخ بہت اہم ہوتی ہے جس کی سرمایہ کاری کا مقصد مستقبل کی ضروریات کے لیے رقوم مہیا کرنا ہوتا ہے۔اسی لیے سرمایہ کاری کے وقت،خاندان کو اتنی ہی مدت کی سکیورٹیز خریدنی چاہیےجن کی میعاد خاندان کی آئندہ کسی ضرورت مثلاً بچوں کی اعلا تعلیم کے وقت پوری ہو۔

(vii )    ٹیکس کی بچت :سرمایہ کاری ایسی جگہ کرنی چاہیے جن سے ٹیکس میں بچت ہو۔ٹیکس سے بچنے کے لیے انکم ٹیکس ایکٹ میں دی گئی سہولتوںکا استعمال کرنا چاہیے۔بیمہ پالیسیوں اور ملازمین کے پراویڈینٹ فنڈ،PPFوغیرہ میں سرمایہ کاری سے ٹیکسوں میں کچھ چھوٹ خود بہ خود حاصل ہوجاتی ہے۔

(viii)   مابعد سرمایہ کاری خدمات:سرمایہ کاری کی نوعیت کا انتخاب کرتے وقت خریدار کا تحفظ یا خریدار کو مہیا کی جانے والی خدمات بھی اہم فیصلہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ صارفین سے متعلق بہتر خدمات میں سکیورٹیز کی آسانی کے ساتھ نقدی میں تبدیلی ،رابطہ کا ری کا اچھا نیٹ ورک،سود اور ڈویڈینڈ وغیرہ سے متعلق کاغذات کی بروقت روانگی،سرمایہ کاری کی میعاد پوری ہونے کے بعد صارف کو پالیسیوں اور شرح سود وغیر ہ میں تبدیلیوں سے مطلع کرنا شامل ہے۔ایک صارف دوست کمپنی جب جب اور جیسے جیسے ضرورت ہوتی ہے اپنے سرمایہ کاروں کو مدد اور تحفظ فراہم کرتی ہے۔

(ix)   عرصہ:کسی بھی سرمایہ کاری کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے اس کی محفوظ مدت کو ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے۔سرمایہ کاری کی مدت جتنی طویل ہوگی منافع کی شرح بھی اسی قدر زیادہ ہوگی۔مثال کے طورپربیشتر مقررہ مدت کی اسکیموں میں قلیل مدتی ڈیپازٹوں کے مقابلے طویل مدتی ڈیپازٹوں میں سود کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔اس طرح سرمایہ کار کو انتظار کی ایک طویل مدت کے ساتھ زیادہ منافع اور قلیل مدت کے ساتھ نسبتاً کم منافع کے درمیان انتخاب کرنا ہے۔اس انتخاب میں خاندان کی ضرورتوں کا بڑا دخل ہوتا ہے۔

(x) استعداد: کسی بھی شخص کو اپنی استعداد کے مطابق ہی سرمایہ کاری کرنی چاہیے تاکہ غیر ضروری مشکلات سے بچاجاسکے۔موجودہ ضرورتوں کو آئندہ ضرورتوں اور تحفظ کے ساتھ متوازن رکھنا بہت اہم بات ہے۔

سرگرمی6

اپنے پڑوس کے کسی بینک میں جائیے اور وہاں صارفین سے متعلق مختلف سہولتوں،سرمایہ کاری اور بچت کی اسکیموں کے بارے میںمعلومات فراہم کیجیے۔


16.9 بچت اور سرمایہ کاری کے دائرے

(Savings and investment avenues)

ذیل میں بچت اور سرمایہ کاری کے لیے کچھ منتخب زمرے دیے جارہے ہیں۔یہ سب کسی بھی ہندوستانی صارف کو دست یاب ہیں۔

  • ڈاک خانہ
  • بینک
  • یونٹ ٹرسٹ آف انڈیا(UTI)
  • نیشنل سیونگ اسکیم(National Savings Scheme)
  • میوچول فنڈ
  • پراویڈینٹ فنڈ
  • پبلک پراویڈینٹ فنڈ
  • چِٹ فنڈ(Chit fund)
  • نیشنل سیونگز سرٹیفیکیٹس
  • زندگی بیمہ اور طبی بیمہ
  • حصص اور ڈبینچرس(Debentures)
  • پینشن اسکیمیں
  • بانڈ
  • سونا،مکان،زمین

  16.10   قرض   (Credit)  

اس کے باوجود کہ خاندان اپنی نقد آمدنی(Money Income)کی بچت اور ان کی سرمایہ کاری کرتے ہیں،ان کو اپنی ضروریات اور ذمے داریوں کی تکمیل کے لیے کبھی کبھی قرض لینا پڑتا ہے۔دوسرے لفظوں میں خاندان ایسی چیزوں اور خدمات کا فائد ہ اٹھانے کے لیے قرض لیتے ہیں جس کی قیمت اتنی زیادہ ہوتی ہے انھیں فوری طور پرحاصل نہیں کیا جاسکتا ۔ قرض کے لیے انگریزی لفظ (Credit) لاطینی لفظ کریڈو(CREDO)سے آیا ہے جس کے معنی ہیں’میں یقین کرتا ہوں‘۔ قرض کا مطلب ہے کسی خاص وقت پیسہ،سامان یا خدمات کا حاصل کرنا اور آئندہ کسی وقت ان کی ادائیگی کردینا۔درحقیقت یہ ایک موخر ادائیگی(Postponed Payment) کی صورت ہے اور یہ ایک ایسی سہولت ہے جس میں ہم اکثر زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں۔ قرض کی سہولت کے استعمال سے خریداری کی قوت بڑھ جاتی ہے اور اس طرح نقد رقم کے مقابلے زیادہ سامان اور خدمات کی فراہمی ممکن ہوجاتی ہے۔خاندانوں کے لیے قرض کی نوعیت اور اس کے طریق کار کو سمجھنا ضروری ہے کیوں کہ ادھار لی گئی رقم اور اس پر لگنے والے سود کی ادائیگی بہرحال کرنی ہوتی ہے۔

قرض کی ضرورت

خاندان اپنی ضروریات پوری کرنے اور ذمے داریاں انجام دینے کے لیے قرض کی سہولت کا استعمال کرتے ہیں۔یہ ضرورت حقیقی بھی ہوسکتی ہے اور خیالی بھی ۔اگر خریداری کرنے سے پہلے کسی چیز یا سامان کی قیمت بہت زیادہ معلوم ہوتی ہے تو خاندان اسے فوراًحاصل کرنے کے لیے قر ض لیتے ہیں۔اس طرح خریدی گئی چیزکی لاگت کو ایک طویل مدت پر پھیلادیا جاتا ہے اور خاندان اس مدت کے دوران اس چیز کا استعمال بھی کرسکتا ہے۔قرض لینے کا دوسرا سبب یہ ہے کہ خاندان ہنگامی حالات جیسے اپنے کسی فرد کی بیماری کا سامنا بھی کرسکتا ہے۔خاندان، بچوں کی شادی یا موت کی رسوم انجام دینے کے لیے بھی قرض لیتے ہیں۔ خاندان خود کفیل ہو تو وہ ہنگامی حالات میں پورے اعتماد کے ساتھ قرض کا سہارا لیتا ہے۔

  قرض دینے والا(Lender)اس وقت قرض دیتا ہے جب اس کو یقین ہوتا ہے کہ قرض دار یعنی قرض لینے والا (Borrower)قرض ادا کردے گا۔قرض دہندہ بینک بھی ہوسکتا ہے یا کوئی اور مالیاتی ادارہ بھی۔افراد یا خاندانوں کو قرض دینے کے فیصلے میں چار پہلو بہت اہم ہوتے ہیں۔ان پہلوؤں کو4cبھی کہا جاتا ہے۔یہ چاروں پہلو حسب ذیل ہیں:

قرض کے چار پہلو(4C)

  کردار(Character)کا مطلب ہے کہ طے شدہ شرطوں کے مطابق قرض ادا کرنے کی خواہش اورارادہ،اس میں قرض دار کے لیے کتنا ہی نقصان ا ور پریشانی کیوں نہ ہو۔

استطاعت (Capacity): استعداد کا مطلب ہے قرض ادا کرنے کی ذمے داری وقت آنے پر پوری کرنے کی اہلیت۔ عام طورپر استطاعت، آمدنی پر موقوف ہوتی ہے۔یہ سمجھ لینا بہت اہم ہے کہ قرض ادا کرنے کی، کسی خاندان کی استطاعت،اس کی مجموعی آمدنی پر اتنی منحصر نہیں ہوتی جتنی اس رقم پر جو ضروری اخراجات سے بچ جاتی ہے۔کسی خاندان کی آمد و خرچ کے درمیان جو فرق ہوتا ہے اسی سے اس خاندان کی قرض واپس کرنے کی استطاعت متعین ہوتی ہے۔

سرمایہ(Capital):سرمایے کا مطلب ہے خالص دولت(Net worth)وہ تمام چیزیں جو کسی خاندان کی ملکیت ہوں اور وہ تمام ذمے داریاں جو خاندان کو انجام دینی ہوں، ان کے درمیان فرق کا تعین خاندان کا سرمایہ کرتا ہے۔سرمایے کی موجودگی قرض خواہ(Lender)کو تحفظ کا احساس فراہم کرتا ہے کیوں کہ اگر خاندان کی آمدنی قرض کی واپسی کے لیے ناکافی ہو تووہ اس کی کمی کوپورا کرنے کے لیے اپنی اس رقم کا استعمال کرسکتا ہے جس کی سرمایہ کاری کی گئی ہو۔

ضمانت (Collateral):اس کا مطلب وہ مخصوص اثاثہ ہے جو کسی قرض کی ضمانت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔عام طور سے یہ اثاثہ قرض دینے والے کے پاس رہتا ہے،اس مفاہمت کے ساتھ کہ اگر قرض دارمعاہدے کے مطابق قرض ادا نہیں کرپاتا تو قرض دہندہ ضمانت کے طور پر رکھے گئے اثاثے کو فروخت کر کے اپنی رقم حاصل کرلے گا۔

تجارتی بینک،کوآپریٹیو بینک،زراعتی بینک اور کریڈٹ یونین وغیرہ قرض حاصل کرنے کے خاص ذرائع ہیں۔کوئی بھی شخص خود امدادی گروپوں سے بھی قرض لے سکتا ہے جن کا وہ رکن ہو۔خود امدادی گروپوں کے ممبر ہرماہ کچھ رقم جمع کرتے ہیں اور اس طرح ایک بڑی رقم جمع ہوجاتی ہے ۔اس رقم سے ضرورت مند ممبر کو اس کی ضرورت اور ان کی ادائیگی کی صلاحیت کے مطابق قرض دے دیا جاتا ہے۔ایسے گروپوں کے ممبر ایک دوسرے سے شنا سا ہوتے ہیں اور اسی لیے کسی ضمانت کی ضرورت نہیں ہوتی اور شرح سود بھی برائے نام ہوتی ہے۔

خاندان کے لیے قرض لینے سے پہلے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف اس تسکین پر غور کرے جو حاصل کیے گئے کسی سامان یا خدمت سے ملنے والی ہے بلکہ اسے اس بات پر بھی نظر رکھنی چاہیے کہ آگے چل کر قرض واپس کرنے کی وجہ سے خاندان کے بجٹ پر کیا اثرات پڑسکتے ہیں۔قرض لینے میں یہ طے کرنا بھی شامل ہے کہ اسے کب استعمال کیا جائے اور کب اس کا استعمال ضرورت سے زیادہ کیا جارہا ہے۔قرض تبھی مفید ہوتا ہے جب تک اس کا استعمال اس کی لاگت اور اس کے فائدے کے لحاظ سے کیا جائے۔

قرض کی سہولت کا اندھا دھند استعمال کرنا خاندان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ہر خاندان کی پہلی کوشش ہونی چاہیے کہ قرض لینے سے بچا جائے لیکن ضروری ہی ہو تو پھر کم سے کم قیمت پر حاصل کیا جائے۔

ہم اس باب کو اس بات پرختم کرتے ہیں کہ پیسے اور دیگر مالی وسائل میں کئی گنا اضافہ کیاجاسکتا ہے، اگراس باب میں مذکور کچھ اقدامات کو اختیار کیا جائے ۔خاندان کے بالغ افراد کو اکثر بہت سی چیزوں پر دھیان دینا پڑتا ہے جن میں گھرمیں استعمال ہونے والے لباس بھی شامل ہیں۔ درحقیقت کپڑوں کی دیکھ ریکھ بچپن سے ہی شروع ہونی چاہیے۔اگلے باب میں ہم اسی بارے میں پڑھیں گے۔

کلیدی اصطلاحات

مالی انتظام(Financial Management)،مالی منصوبہ بندی(Financial Planning)،مالی نقدآمدنی(Mony Income) ،حقیقی آمدنی(Real Income)، نفسیاتی آمدنی(Psychic Income)،خاندان کا بجٹ(Family Budget)،بچت(Savings)،سرمایہ کاری(Investments) ، قرض(Credit)

نظرثانی کی مشقیں

1۔    بتائیے کہ درج ذیل بیانات’ صحیح‘ ہیں یا’ غلط‘۔………………………

(i)    بجٹ مالی انتظام کا پہلا قدم ہے۔صحیح ؍غلط………………………

(ii)    پیسہ چیزوں کے تبادلے کا ذریعہ ہے۔صحیح؍غلط……………………

(iii)   تجارت اور تحائف سے حاصل ہونے والا منافع آمدنی کی ایک صورت ہے۔صحیح؍غلط…………

(iv)   بجٹ تیار کرنے سے پہلے لاگت کا تخمینہ لگایا جائے اور پھر سامان اور خدمات کی فہرست تیار کی جائے۔صحیح ؍غلط……....

(v)   مادّی اثاثوں کی بچت معاشی لحاظ سے فائدے مندہوتی ہے۔

صحیح ؍غلط……………

(vi)   حفاظتی اصول کے تحت سب سے اہم چیز تجارت کے دور(Cycle)کا رجحان ہے۔صحیح؍غلط………

(vii)   سرمایہ کاری کرتے وقت اس کے عرصے کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔

صحیح ؍غلط………

(viii) قرض کے چار پہلو(4cs)کردار(Character)استطاعت (Capacity)سرمایہ (Capital)اور ضمانت(Collateral)ہیں۔

(ix)   کسی کام کی نوعیت اس کے محفوظ ہونے کے لحاظ سے اہم نہیں ہوتی۔

صحیح ؍غلط……………

سوالات برائے نظر ثانی

(i)    مالی انتظام سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟

(ii)      آمدنی کی مختلف قسموں سے بحث کیجیے؟

(iii)    بجٹ سازی کے اقدامات بیان کیجیے؟

(iv)    مالی انتظام کو کس طرح قابو میں رکھا جاسکتا ہے؟

(v)    محفوظ سرمایہ کاری کے اصولوں سے بحث کیجیے؟

  عملی کام   16

مالی انتظام اور منصوبہ بندی

اسکول کی تقریبات کے لیے بجٹ بنائیے۔ہر عنوان کے تحت ایک مثال دے دی گئی ہے۔


طلبا کی تعداد: 30

اساتذہ کی تعداد: 05


نمبر شمار   مد

لاگت( روپے میں)        

مقام ،انتظامات



سجاوٹ



a) پھول 100.00


b)



c)



d)



e)


         عبوری میزان     
غذا



a)          مٹھائیاں (تبرّک)
  200.00

b)



c)



d)


عبوری میزان     
اسٹیشنری




a) رنگین کاغذ
200.00


b)



c)



d)


عبوری میزان     
متفرقات




a) آمدورفت



b) ملبوسات



c) تحفے



d)



e)



f)


عبوری میزان      
   کل میزان      

نوٹ:استعمال میں نہ آنے والی مدوں کو حذف کردیجیے۔