
کپڑوں کی نگہ داشت اور رکھ رکھاؤ
(Care and Maintenance of F abrics)
باب17
آموزشی کی مقاصد
اس باب کے مطالعہ کے بعد طلبا:
- مختلف قسم کے کپڑوں کی نگہ داشت اور رکھ رکھاؤ کے پہلوؤں کو سمجھ سکیں گے۔
- مختلف قسم کے داغ دھبوں کو صاف کرنے کے طریقوں سے واقف ہوسکیں گے۔
- کپڑوں کی دھلائی کے طریق کار کی نشان دہی کرسکیں گے۔
- دھلائی میں پانی ،صابن اور ڈیٹرجینٹ کے کردار کوبیان کرسکیں گے۔
- کپڑوں کے خواص کے حوالے سے ان کی نگہ داشت اور استعمال کو بیان کرسکیں گے۔
17.1تعارف
کپڑوں کی اہمیت کے بارے میں آپ پچھلے ابواب میں پڑھ چکے ہیں۔کپڑے انسانوں اور ان کے ارد گردکے ماحول کی حفاظت اور ان کے حسن میں اضافہ کرتے ہیں۔کپڑے کی مختلف مصنوعات مثلاً ملبوسات،آرائشی سامان یا گھروں میں استعمال ہونے والے دیگرکپڑوں کی دیکھ بھال اور رکھ رکھاؤ بہت اہم ہے۔کپڑے کی مصنوعات کے انتخاب اور خریداری بڑی حد تک ان کے رنگ،بناوٹ،معیار اور افادیت پر مبنی ہوتی ہے۔اسی لیے یہ بات بہت اہم ہے کہ کپڑے کی خصوصیات دیرتک باقی رہیں۔
نگہ داشت اور رکھ رکھاؤ میں درج ذیل امور شامل ہیں
·کپڑے کو کسی بھی نقصان سے محفوظ رکھنا
·اس کی شکل وصورت کو برقرار رکھنا
— اس کے رنگ کو نقصان پہنچائے بغیر دھبوں اور گندگی کو دور کرنا
— کپڑے کی چمک اور بناوٹ کی خصوصیات مثلاً نرمی،تازگی اور کرارا پن باقی رکھنا
— کپڑے کو سلوٹوں سے بچانایاشکن(Crease)کو باقی رکھنایاسلوٹوں کودور کرنا اور جہاں ضرورت ہو وہاںشکنوں
میں اضافہ کرنا
17.2 مرمت (Mending)
کپڑ ے کو دورانِ استعمال یا کسی حادثے سے ہونے والے نقصان سے محفوظ رکھنے کے عمل کو عام طورپر ’مرمت‘کہاجاتا ہے۔اس عمل میں درج ذیل امور شامل ہیں۔
— کٹے پھٹے حصوں اور سوراخوں کی مرمت
— بٹن،ربن،جھالر یا فیتے اور نفیس بیلوں وغیرہ کی تبدیلی
— سیونوں اورحاشیوں کی دوبارہ سلائی
یہ سارے کام فوراً کرلینے چاہئیں۔ کپڑوں کے بہتر رکھ رکھاؤ کے لیے یہ بھی بہت ضروری ہے کہ یہ سارے کام دھلائی سے پہلے کیے جائیں کیوں کہ دھونے کے دوران پڑنے والے دباؤ سے کپڑوں کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
17.3 دھلائی(Laundry)
کپڑوںکو صاف ستھرا رکھنے کے لیے انھیں دھونا اور ان کوسلوٹوں سے پاک رکھنے کے لیے ان پر استری کرنا کپڑوں کی روزمرہ کی نگہ داشت میں شامل ہے۔بہت سے کپڑوں کے اتفاقی داغ دھبوں کو صاف کرنے ،باربار دھوئے جانے سے پیدا ہونے والے پیلے پن اور بدرنگی کودور کرنے اور ان کی تازگی اور کرارے پن کو برقرار رکھنے کے لیے خصوصی تدبیروں کی ضرورت پڑتی ہے۔دھلائی میں داغ دھبوں کو دور کرنا،کپڑوں کودھونے کے لیے تیار کرنا، کپڑوں کی گندگی دور کرنا،ظاہری شکل کو(نیل اور کلف دے کر)خوش نما بنانا اور آخر میں استری کرنا شامل ہے۔
داغ دھبوںکی صفائی(Stain Removal)
داغ دھبے وہ غیر ضروری نشان یا رنگ ہیں جو دیگر چیزوں کے قریب آنے یا اس کے جذب ہوجانے سے کپڑے پر لگ جاتے ہیں۔کبھی کبھی یہ دھبے عام دھلائی سے دور نہیں ہوتے اور ان کے لیے خصوصی تدابیر کی ضرورت ہوتی ہے۔
دھبوں کو دور کرنے کی صحیح تدبیرکے بارے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پہلے دھبوں کی شناخت کی جائے۔ دھبوں کو ان کے رنگ،بو کی بنیاد پر اورانھیں چھوکر پہچانا جاسکتا ہے۔ان داغ دھبوں کو درج ذیل زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
(i) نباتاتی دھبے: چائے ،کافی،پھلوں اور سبزیوں کے دھبے۔یہ دھبے تیزابی ہوتے ہیں اور ان کو کسی قلوی سیال
(Alkaline medium)سے دور کیا جاسکتا ہے۔
(ii)جسمانی اجزا کے دھبے: خون، دودھ، گوشت، انڈے وغیرہ کے داغ ان میں پروٹین ہوتا ہے اور انھیں صرف ٹھنڈے پانی میں ڈیٹر جینٹ سے صاف کیا جاسکتا ہے۔
(iii)تیل کے دھبے: تیل،گھی،مکھن وغیرہ کے داغ۔ان دھبوں کو گریس کے محللّوں (Solvents)اور جاذبوں (Absorbents)کے ذریعے صاف کیا جاسکتا ہے۔
(iv)معدنی دھبے: روشنائی، زنگ، تارکول، دوا وغیرہ کے داغ۔ان دھبوں کو پہلے تیزابی سیال میں اور پھر قلوی سیال میں دھویا جائے۔کپڑے کی ساخت کی مناسبت سے یہ دھبے ہلکے قلوی سیالوں یا تیزاب سے صاف کیے جاسکتے ہیں۔
(v)ڈائی بلیڈنگ:(Dye bleeding): دوسرے کپڑوں کا چھوٹا ہوا رنگ۔ان داغوں کو کپڑے کی نوعیت کے لحاظ سے قلوی سیالوں یا تیزابوں سے صاف کیا جاسکتا ہے۔
داغ دھبوں کی صفائی-قابل غور باتیں
- دھبہ سب سے زیادہ آسانی سے ا س وقت صاف ہوتا ہے جب وہ تازہ ہوتا ہے۔
- پہلے دھبے کی شناخت کیجیے اور پھر اس کو صاف کرنے کا صحیح طریقہ استعمال کیجیے۔
- نامعلوم دھبوں کے لیے پہلے آسان طریقہ استعمال کیجیے اور پھر پیچیدہ۔
- ہلکے کیمیائی مادوں(Chemicals)کاباربار استعمال تیز مادوں کا ایک بار استعمال کرنے سے بہتر ہے۔
- دھبوں کو دور کر کے تمام کپڑوں کو صابن کے محلول میں دھو ڈالیے تاکہ کیمیائی مادوں کے تمام اثرات دور ہوجائیں۔
- کپڑوں کودھوپ میں سکھائیے کیوں کہ دھوپ فطری بلیچ(Bleach)کا کام کرتی ہے۔
- نازک کپڑوں کے لیے کیمیائی مادوںکو پہلے کپڑے کے تھوڑے سے حصے پر لگایئے ۔اگر اس سے کپڑے کو نقصان پہنچے تو اس کا استعمال مت کیجیے۔
(i) دھبے دور کرنے کے طریقے
(a) کھرچنا: دھبوں کی ابھری ہوئی سطح کو آہستگی سے کند چاقو کی مدد سے کھرچ دیجیے۔
(b) ڈبو کر نکالنا: دھبے والے کپڑے کو کسی کیمیائی سیال میں ڈبوئیے، ملیے اور صاف کیجیے۔
(c) اسپنجنگ(Sponging): دھبے لگے حصے کو کسی چپٹی سطح پر رکھیے ۔اس کے نیچے بلاٹنگ پیپر یا سوختہ(جاذب)رکھیے اور کیمیائی سیال کو دھبے والے حصے پر اسپنج سے لگائیے۔ اس طرح سوختہ اسے چوس لے گا۔
(d) بوندیں ٹپکانے کا طریقہ: کپڑے کے دھبے والے حصے کو ایک پیالے کے اوپر منڈھ (Stretch)دیجیے اور اس پرڈراپر کے ذریعے کیمیکل ٹپکائیے۔
(ii) دھبے دور کرنے والی چیزیں اور کیمیکل: دھبے دور کرنے کے لیے استعمال ہونے والے مختلف کیمیکل اورچیزوں کا استعمال سیال شکل میں کرنااور ان کے استعمال کے لیے ضروری ہدایات پر بھی عمل کرنا چاہیے۔ان چیزوں کو درج ذیل زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
(a) گریز(Grease) محلل:تارپین کا تیل،مٹی کا تیل،سفید پٹرول،میتھائی لٹیڈ اسپرٹ،(Methylated Spirit)ایسیٹوں(Acetone)،کاربن ٹٹر اکلورائڈ
(Carbon tetra chloride)۔
(b) گریز جاذب(Grease absorbent):بران(Bran)ریہہ(Fuller's earth)ٹالکم پاؤڈر،اسٹارچ،فرپینچ چاک
(c) املسی فائر(Emulsifier):صابن ،ڈیٹرجینٹ
(d) تیزابی مادے(Acidic):ایسٹیک ایسڈ(Acetic acid)(سرکہ)،آگزیلک ایسڈ(Oxialic acid)،لیمو،ٹماٹرپھٹا دودھ،دہی
(e) الکلی:امونیا(Ammonia)،بوریکس،کھانے کا سوڑا
(f) بلیچنگ ایجنٹ(Bleaching agents)
- آگزی ڈائزنگ بلیچ( Oxidising bleaches):دھوپ،سوڈیم ہائپوکلورائٹ(Javelle water)،سوڈیم پربوریٹ(Sodium perborate)،ہائیڈروجن پرآکسائڈ(Hydrogen peroxide)۔
- ری ڈیو سنگ بلیچ (Reducing bleaches):سوڈیم ہائیڈ رو سلفیٹ(Sodium Hydrosulphate)،سوڈیم بائی سلفیٹ(Sodium bisulphate)،سوڈیم تھایوسلفیٹ (Sodium thiosulphate)۔
| جدول:1 سوتی کپڑوں کے عام داغ دھبے اور ان کو دور کرنے کے طریقے | |
| داغ | دورکرنے کا طریقہ |
| چپکنے؍چپکانے والے ٹیپ |
|
| خون |
|
| بال پوائنٹ قلم |
|
| موم بتی کا موم |
|
| چیونگ گم(Chewing gum) |
|
| چاکلیٹ سالن (ہلدی اور روغن) |
|
| انڈا |
|
| پھل اورسبزیاں |
|
| گریز(Grease) |
|
| روشنائی |
|
| آئس کریم |
|
| لپ اسٹک |
|
| دوائیں |
|
| پھپھوندی |
|
| دودھ یا کریم |
|
| پینٹ یا پالش |
|
| زنگ |
|
| جلنے کا نشان |
|
·
·
نوٹ:(a) یہ سفید سوتی کپڑوں کے داغ دھبے صاف کرنے کے طریقے ہیں۔ان چیزوں کو دیگر کپڑوں یا رنگین مصنوعات پر استعمال کرتے وقت مناسب احتیاط لازمی ہے۔
(b) دھبوں کی صفائی دھلائی سے پہلے کی جانی چاہیے۔ دھلائی کرنے کے دوران کیمکلز کے جو بھی نشان رہ گئے ہوں ان کو صاف کردینا چاہیے۔
گندگی کی صفائی کا طریقہ
(Removal of dirt – the cleaning process)
گندگی سے مراد کپڑوں میں جم جانے والی گریز،میل کچیل اور دھول سے ہے۔گندگی کی دو قسمیں ہیں:ایک گندگی وہ ہے جو اوپری طور پر کپڑے پر نظر آتی ہے۔اسے صاف کرنا آسان ہوتا ہے۔دوسری گندگی وہ ہے جو پسینے یا گریز وغیرہ کے ذریعے کپڑے میں جم جاتی ہے۔جو گندگی اوپری ہوتی ہے اس کو برش کر کے یا جھاڑکر صاف کیا جاسکتا ہے۔ایسی گندگی کپڑے کو پانی میں بھگو کر بھی صاف کی جاسکتی ہے ۔البتہ گریز وغیرہ کے داغ دور کرنے کے لیے کیمیائی مادوں کی ضرورت ہوتی ہے۔گریز کے داغ دور کرنے کے تین خاص طریقے ہیں۔ محللوں (Solvents) جاذبوں(Absorbents)اورایملسی فائروں(Emulsifiers)کا استعمال۔ جب محللوں یا جاذبوں کا استعمال کر کے صفائی کی جاتی ہے تو اسے ڈرائی کلیننگ (Dry cleaning)کہتے ہیں۔عام صفائی صابن اورڈیٹرجینٹ کی مدد سے کی جاتی ہے۔اس سے گریز چھوٹے چھوٹے حصّوں میں ٹوٹ جاتی ہے اور پھر اس کو پانی سے دھو دیا جاتا ہے۔
(i) پانی دھلائی کا اہم ترین ذریعہ ہے۔پانی اور کپڑوں میں ایک خاص تعلق ہوتا ہے۔بھگونے کے وقت پانی کپڑے میں سرایت کرجاتا ہے اور کپڑا بھیگ جاتا ہے۔پیڈیسس(Pedesis)یا آبی ذرات کی حرکت کپڑے سے ایسی گندگی کو جس میں چکناہٹ نہ ہو دور کرنے میں مدد کرتی ہے۔اگرکپڑے کو صرف پانی میں دھویا جائے تو ہاتھ یا مشین کے ذریعہ کپڑے کو حرکت دینے سے کچھ اوپری؍باہری گندگی اورمٹی کے ذرات دور ہوجاتے ہیں۔پانی کے درجۂ حرارت میں اضافہ کرنے سے اس کے ذرات کی حرکت بڑھ جاتی ہے۔ایسا کرنا اس وقت اور بھی سود مند ہوتا ہے جب گندگی کثیف(Greasy)ہو۔لیکن صرف پانی سے ہی اس گندگی کو دور نہیں کیا جاسکتا جو پانی میں حل نہ ہو سکے۔پانی میں یہ صلاحیت بھی نہیں ہوتی کہ وہ گندگی کو معلق (Suspended) رکھے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو گندگی ہٹی ہے وہ کپڑے پر دوبارہ جم جاتی ہے۔گندگی کے دوبارہ جمنے کے نتیجے میں کپڑے کو باربار دھونا پڑتا ہے جس سے اس کا رنگ پھیکا پڑجاتا ہے۔
(ii) صابن اور ڈیٹرجینٹ یہ دونوں دھلائی میں استعمال کی جانے والی اہم ترین چیزیں ہیں۔صابن قدرتی تیلوں یا چربیوں اور الکلی(Alkali)کے درمیان ہونے والے تعامل سے بنتا ہے۔اگر الکلی کی مقدار زیادہ ہوگی تو کپڑے پر صابن کا استعمال کرتے وقت الکلی کا اخراج ہوگا۔سنتھیٹک (Synthetic)ڈیٹرجینٹ کیمیائی مادوں سے بنایا جاتا ہے صابن اور ڈیٹرجینٹ دونوں ہی پاؤڈر،کیک ،بار اور سیال شکل میں فروخت ہوتے ہیں۔کس قسم کا صابن یاڈیٹرجینٹ استعمال کیا جائے اس کا انحصار کپڑے ریشے اور کپڑے پر پائی جانے والی گندگی کی قسم اور اس کے رنگ پر ہے۔
صابن اور ڈیٹرجینٹ دونوںکی ایک کیمیائی خاصیت مشترک ہے۔دونوں کا عامل کپڑے کی سطح پر ہوتا ہے۔بہ الفاظ دیگر دونوں پانی کی سطح کا تناؤ کم کرتے ہیں۔اس اثرکو کم کر کے پانی کپڑے میں زیادہ آسانی سے جذب ہوجاتا ہے اور دھبوں اور گندگی کو زیادہ تیزی سے دور کردیتا ہے۔ ڈیٹر جینٹ میں شامل سطح پر عمل کرنے والے مادے اور دیگر عناصر ہٹائی گئی گندگی کے ذرات کو پانی میں معلق رکھتے ہیں اور اس طرح یہ ذرات صاف کپڑے پر دوبارہ نہیں جمتے۔اس سے کپڑوں کا رنگ پھیکانہیں پڑتا ۔
صابن اور ڈیٹر جینٹ میں بھی کچھ فرق ہے۔صابن میں کئی ایسی خصوصیات ہوتی ہیں جن کی وجہ سے وہ ڈیٹر جینٹ کے مقابلے قابل ترجیح ہوتا ہے۔جیسا کہ اس سے پہلے بتایا جاچکا ہے،صابن فطری مصنوعات ہیں اور کھال اور ماحول کے لیے کم نقصان دہ ہوتے ہیں۔صابن پانی میں گھل جاتے ہیں اور ہمارے دریاؤں اور چشموں میں آلودگی پیدا نہیں کرتے۔دوسری طرف، صابن کھارے پانی (Hard water)میں مؤثر نہیں ہوتا۔صابن کی دوسری کمی یہ ہے کہ یہ سنتھیٹک ڈیٹر جینٹ کے مقابلے میں کم طاقت ور ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ اپنی صفائی کی طاقت کھودیتا ہے ۔ڈیٹرجینٹ کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اس سے ہر قسم کی صفائی کا کام لیا جاسکتا ہے اور مختلف قسم کی واشنگ مشینوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
(iii) دھلائی کے طریقے:جب صابن یا ڈیٹر جینٹ کی مدد سے گندگی کے چھوٹے چھوٹے ذرے دور ہوجاتے ہیں تو تھوڑی دیر بعد کپڑے کو نچوڑ کر صاف کردیا جاتا ہے۔کپڑے کے کچھ حصوں میں گندگی چپکی ہوتی ہو۔دھلائی کے طریقے ان دونوں کاموں میں مددگار ہوتے ہیں۔دھلائی کا کیا طریقہ اپنا یاجائے اس کا انحصار کپڑے کے ریشوں،سوت کی قسم ، کپڑے کی بناوٹ، اور دھوئے جانے والے کپڑے کے سائز اور وزن پر ہوتا ہے۔
دھلائی کے طریقوں کی زمرہ بندی درج ذیل ہے
- رگڑ کردھونا (Friction washing)۔
- کچلنا اور نچوڑنا؍بھینچنا۔
- سوکھنا؍جذب کرنا۔
- مشین کے ذریعے دھونا۔
اب ہم ان طریقوں پر تفصیل سے گفتگو کریں گے۔
(a) رگڑنا:یہ سب سے زیادہ مستعمل طریقہ ہے۔ یہ مضبوط کپڑوں مثلاً سوتی کپڑوں کے لیے دھلائی کا مناسب طریقہ ہے۔ یہ ہاتھوں سے کپڑے کے کسی ایک حصے کو دوسرے حصے سے مسلنے کا عمل ہے۔اس کے علاوہ کپڑے کوہتھیلی پر یا کپڑا بڑا ہے تو پٹرے وغیرہ پر رکھ کر برش سے صاف کرنا بھی رگڑنے کے زمرے میں آتا ہے۔نفیس ونازک کپڑوں جیسے ریشم، اون ،روئیں دار یا بال دار کپڑوں یا کڑھائی کے کام والے کپڑوں پر رگڑکا طریقہ استعمال نہیں کیا جاتا۔
(b) کچلنا اور نچوڑنا یا دبا کر پانی نکالنا: جیسا کہ نام ہی سے ظاہر ہے اس طریقے میں کپڑے کی مصنوعات کو صابن کے محلول میں نرمی کے ساتھ ہاتھوں سے رگڑا جاتا ہے۔چوں کہ اس طریقے میں جو دباؤ ڈالاجاتا ہے وہ بہت کم ہوتا ہے اس لیے اس سے کپڑے کی بُناوٹ ،رنگ یا ساخت کو نقصان نہیں پہنچتا۔اس طرح نازک کپڑوں جیسے اون،ریشم،ریان اور رنگین کپڑوں کو دھونے کے لیے اس طریقے کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔بہت زیادہ مٹیالے کپڑوں کے لیے یہ طریقہ مؤثر نہیں ہوتا۔
(c) میل کچیل کھینچنے کے ذریعہ دھلائی: یہ طریقہ تولیوں جیسی چیزوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جہاں برش کا استعمال نہیں کیا جاسکتا یا پھر ایسی مصنوعات کے لیے بھی یہ طریقہ استعمال نہیں ہوتا جنھیں بڑا ہونے کی وجہ سے ہاتھوں سے کچل کر اور نچوڑ کر دھونا مشکل ہو۔اس تکنیک میں دھوئی جانے والی چیز کو ایک ٹب میں صابن کے محلول میں رکھا جاتا ہے اور سکشن واٹر(Suction Water)سے باربار دبا یا اور اٹھا یا جاتا ہے۔دباؤ کی وجہ سے جو خلا پیدا ہوتا ہے اس سے گندگی کے ذرات ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔
(d) مشین سے دھلائی: واشنگ مشین کپڑے دھونے کی ایسی مشین ہے جس سے محنت کی بہت بچت ہوتی ہے ۔یہ خاص طور پر بڑے بڑے اداروں جیسے ہوٹلوں اور اسپتالوں کے لیے بہت مفید ہے۔آج کل بازار میں مختلف کمپنیوں کی بنائی ہوئی مشینیں دست یاب ہیں۔ان سب مشینوں میں ایک ہی اصول کا ر فرما ہوتا ہے ۔ان میں گندگی یا میل کچیل کو ڈھیلا کرنے کے لیے کپڑوں کو حرکت دی جاتی ہے۔ان مشینوں میں دھلائی کے لیے یا تو مشین کے ٹب یا مشین کی مرکزی راڈ کی حرکت سے دباؤ(Pressure)پیدا کیا جاتا ہے۔مشین میں دھلائی کے لیے لگنے والا وقت کپڑے کی نوعیت اور میل کچیل کی مقدار پر منحصر ہوتا ہے۔واشنگ مشین دستی، نیم آٹومیٹک اور مکمل آٹومیٹک بھی ہوسکتی ہے۔
فینشنگ(Finishing)
مشین میں دھونے کے بعد کپڑے کو صاف پانی میں کھنگالنا ضروری ہے۔کپڑے کو اس وقت تک کھنگالاجائے کہ صابن یا ڈیٹرجینٹ کپڑے میں باقی نہ رہے۔اکثر آخری بار کھنگالنے کے دوران کپڑے کی چمک اور تازگی برقرار رکھنے کے لیے کچھ اور کیمیائی مادوں کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔کچھ دیگرکیمیائی مادے کپڑے کی سطح میں کرارا پن اور رونق کا اضافہ کرتے ہیں۔
(i) نیل اور چمک پیداکرنے والی چیزیں : آپ نے دیکھا ہوگا کہ زیادہ استعمال اور باربار کی دھلائی سے سفید سوتی کپڑوں کی سفیدی ختم ہونے لگتی ہے اور ان کا رنگ پیلا پڑنے لگتا ہے۔سنتھیٹک کپڑوں کی بد رنگی بھورے پن پرمائل ہوتی ہے۔
پیلے پن سے مقابلے اور سفیدی برقرار رکھنے کے لیے نیل کا استعمال کیا جانا چاہیے۔ لیکن نیل سے بھورا پن ختم نہیں ہوتا۔نیل باریک پاؤڈرپگمینٹ کی شکل میں اور سیال کیمیکلز ڈائی کی شکل میں بھی بازار میں دست یاب ہے۔آخری بار کھنگالتے وقت نیل کی مناسب مقدار کا استعمال کرنا چاہیے۔ نیل کے پاؤڈر میں تھوڑا پانی ملا کر پیسٹ بنا لیا جائے اور پھر اس میں تھوڑا اورپانی ملایا جائے۔اس محلول کوجلداستعمال کرلیا جائے کیوں کہ رکھے رہنے پر یہ پاؤڈر تلی میں بیٹھ جاتا ہے اوراس سے دھبے پڑسکتے ہیں۔سیال نیل کا استعمال زیادہ آسان ہے اور اس کے نتائج بھی بہتر ہوتے ہیں۔اس بات کا خاص دھیان رکھنا ضروری ہے کہ نیل پوری طرح بھیگے ہوئے کپڑوں میں لگایا جائے مگر پورے کپڑے پانی میں بھیگے ہوں اور اس میں نچوڑنے سے پیدا ہونے والی سلوٹیں نہ ہوں۔کپڑے کو کچھ دیر تک نیل کے محلول میں ہلائیے اور زائد نمی دور کر کے اس کو سکھانے کے لیے رکھ دیجیے۔
چمک پیدا کرنے والے (Optical Brightening)یا روشنی پاش(Fluorescent)کم درجے یا کمزور ڈائی والے ایسے مرکبات (Compounds)ہوتے ہیں جن میں روشنی پاش کی (Fluorescence) خاصیت ہوتی ہے ۔یہ مرکبات چھوٹی ویو لینتھ(Shorter Wave length)پر روشنی کو جذب کرلیتے ہیں اور اس کو طویل تر بڑی ویو لینتھ پر خارج (emit)کر دیتے ہیں۔کسی چمک پیدا کرنے والی چیزوں کا استعمال کپڑے میں تیزقسم کی چمکیلی سفیدی پیدا کردیتا ہے جس سے کپڑے کاپیلا پن اور بھورا پن دونوں دور کیا جاسکتا ہے۔ان مادوں کا استعمال رنگین چھپے ہوئے کپڑوں پر بھی کیا جاسکتا ہے۔ چمک پیدا کرنے والے مادوں کوسفیدی کا (Whiteners )بھی کہا جاتا ہے۔ ان سے رنگ متاثر نہیں ہوتا اور اسی لیے ان میں اور بلیچنگ میں فرق ہوتا ہے۔
(ii) کرارا پن یا کلف کرنے والے مادے(Starches and Stiffening Agents):باربار دھلائی سے کپڑے کو نقصان پہنچتاہے۔اس سے کپڑے کی چمک اور رونق ختم ہوتی جاتی ہے۔کلف لگانے والے مادوں کا استعمال کپڑے میں سختی،صلابت اور چمکیلا پن لانے کے لیے بہت عام ہے۔ان کے استعمال سے نہ صرف کپڑے کی ظاہری شکل بہتر ہوجاتی ہے بلکہ اس سے کپڑے براہ راست میل کچیل کی زد میں بھی نہیں آتے۔کلف استعمال کرنے سے کپڑے کی آئندہ دھلائی بھی آسان ہوجاتی ہے کیوں کہ میل کچیل کپڑے کے بجائے کلف میں چپک جاتا ہے۔
سختی یا کرارا پن لانے والے مادے قدرتی طور پرپودوں یا جانوروں سے حاصل ہوتے ہیں۔ان مادوں میں ا سٹارچ ،ببول کا گوند،سہاگا(Borax)اور جِلیٹن(Gelatin)شامل ہے۔
(a) اسٹارچ گیہوں(میدہ)،چاول،اراروٹ،ٹپیوکا (Tapioca)وغیرہ سے حاصل ہوتا ہے ۔اسٹارچ پاؤڈر کی شکل میں بازار میں دست یاب ہے اور اس کو استعمال کرنے سے پہلے پکانا پڑتا ہے۔کلف کاگاڑھاپن (Consistency) اس کپڑے کی موٹائی کے مطابق ہونا چاہیے جس پراسے استعمال کیا جانا ہے۔کلف کا استعمال صرف سوتی کپڑوں اور لینن (Lenin)پرکیا جاناچاہیے۔ موٹے سوتی کپڑوں کو ہلکاکلف جب کہ باریک کپڑوں کوگاڑھا کلف دیا جاتا ہے۔تجارتی طور پر تیار کیا گیا کلف بازار میں دست یاب ہے اور اس کا استعمال بھی آسان ہے ۔اس کے علاوہ ان کی تیاری کے لیے گرم پانی کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔
(b) ببول کا گوند(Gum Acacia)یا عربی گوند(Gum Arabic)ایک قدرتی گوند ہے جو ببول کے پودے (Acacia)سے حاصل ہوتا ہے۔یہ دانے دار ڈلوں کی شکل میں ملتا ہے۔کلف لگانے والا محلول تیارکرنے کے لیے گوند کو رات بھر پانی میں بھگویا جاتاہے۔اس سے یہ گھل جاتا ہے اور پھر اس کو چھان لیا جاتا ہے جس سے اس کے ڈلے ختم ہوجاتے ہیں۔اس سے صرف ہلکی سختی پیدا ہوتی ہے اور کرارا پن زیادہ ہوتا ہے۔یہ ریشمی کپڑوں،بہت باریک سوتی کپڑوں، رے یان،ریشم اور سوت کی آمیزش سے بنے کپڑوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
(c)جلیٹن (Gelatin):اسے بنا نا اور استعمال کرنا آسان ہوتا ہے لیکن یہ گھریلو طور پر تیارکیے جانے والے کلف کے دیگر مادوں کے مقابلے مہنگی پڑتی ہے۔
(d) سہاگا(Borax): سہاگادر اصل کلف لگانے والا مادہ نہیں ہے لیکن کلف کے محلول میں اس کی تھوڑی سی مقدار سختی پیدا کرنے کے عمل میں مددگار ہوتی ہے۔جب کلف لگانے کے بعد کپڑے پر استری کی جاتی ہے تو سہاگا پگھلتا ہے اور کپڑے کی سطح پر ایک باریک سی جھلی بنا دیتا ہے۔یہ جھلی نمی سے متاثر نہیں ہوتی ہے اور اس طرح مرطوب آب وہوا میں بھی کرارا پن برقرار رکھتی ہے۔
کلف لگانے والے مادوں کو کپڑے کے ریشوں کی نوعیت اور کپڑے کے مخصوص استعمال کے مطابق استعمال کیا جانا چاہیے ۔ذاتی ملبوسات پر اس کا استعمال ذاتی پسند نا پسند پر منحصر ہوتا ہے۔کلف استعمال کرتے وقت اس کے گاڑھے پن (Consistency)کا خیال رکھنا ضروری ہے اور اس بات پر دھیان دینا پڑتا ہے کہ کپڑا پوری طرح بھیگا ہواہومگر اس سے پانی نہ ٹپک رہا ہو۔کپڑے کو کلف کے گھول میں اچھی طرح دبایاجاتا ہے،فاضل کو نچوڑ کرہٹا دیا جاتا ہے اور کپڑے کو سکھا لیا جاتاہے۔گہرے رنگین سوتی کپڑوں کوکلف دیتے وقت کلف کے گھول میں تھوڑی مقدار میں نیل یاچائے کا پانی ملادیا جاتا ہے۔اس سے سفید دھبے نظر نہیں آتے۔
(e) سکھانا:کپڑوں کو دھونے ،نیل اور کلف لگانے کے بعد استری کرنے یا رکھنے سے پہلے ان کو سکھانا پڑتا ہے ۔ کپڑوں کو سکھانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کو الٹا کر کے باہر دھوپ میں لٹکا دیا جائے۔دھوپ میں کپڑے نہ صرف جلد سوکھ جاتے ہیں بلکہ ان کے جراثیم بھی ختم ہوجاتے ہیں۔سفید کپڑوں کے لیے بلیچنگ ایجنٹ کا کام بھی کرتی ہے۔نفیس ریشمی اور اونی کپڑوں کو بہت زیادہ دیر تک دھوپ میں نہیں لٹکانا چاہیے کیوں کہ یہ کپڑے تیز دھوپ سے خراب ہوجاتے ہیں۔ سنتھیٹک فائبر والے کپڑوں (Synthetic fibres)کی طاقت دھوپ میں رکھے جانے سے گھٹ جاتی ہے۔یہ کپڑے دھوپ سے پیلے بھی پڑجاتے ہیں جوختم نہیں ہوتا۔اس لیے بہتر یہ ہے کہ ان کپڑوں کو سایے میں سکھا یا جائے۔
استری (Ironing)
جب آپ اپنے کپڑے دھولیتے ہیں تو آپ دیکھتے ہوں گے کہ کپڑوں پرسلوٹیں آگئی ہیں۔استری کرنے سے یہ سلوٹیں ختم ہوجاتی ہیں اورکپڑے کے وہی موڑ (Creases)رہ جاتے ہیں جنھیں آپ باقی رکھنا چاہتے ہیں۔ اچھی استری کے لیے تین چیزیں ضروری ہیں:زیادہ درجۂ حرارت ،نمی اور دباؤ۔استری کوئلے کی بھی ہوسکتی ہے اور بجلی کی بھی۔کوئلے کی استری سستی ہوتی ہے مگراس کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔حرارت پیداکرنے کے لیے جن کوئلوں کا استعمال کیا جارہا ہے اس سے داغ دھبے بھی پڑسکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس قسم کی استری میں حرارت پرقابو نہیں رکھا جاسکتا ۔استری کا درجۂ حرارت کپڑے کے ریشے کے مطابق ہونا چاہیے۔یہ کام بجلی کی استری سے ہی کیا جاسکتا ہے کیوں کہ اس میں درجۂ حرارت پر قابو رکھا جاسکتا ہے۔اگر بجلی کی فراہمی مسئلہ نہ ہو تو آٹومیٹک بجلی کی استری بہترین ہے۔
استری کے لیے دوسری اہم چیز نمی ہے۔سوکھنے کے بعد کپڑوں میں کچھ نمی بچی رہتی ہے اگرکپڑوں کو سکھانے کے فوراً بعد استری کرلی جائے تو استری کے لیے نمی اپنے آپ مل جاتی ہے۔اگر کپڑے پوری طرح سوکھ گئے ہوں تو آپ ان پر تھوڑا پانی چھڑک سکتے ہیں اور ان کو تولیے میں لپیٹ سکتے ہیں۔اس طرح نمی پورے کپڑے میں بخوبی سرایت کرجائے گی۔پانی کا چھڑ کاؤ کسی اسپرے بوتل سے بھی کیا جاسکتا ہے۔
اچھی استری کے لیے تیسری ضرورت دباؤ کی ہوتی ہے۔یہ دباؤ کپڑوں پراستری کرتے وقت ہاتھوں سے بھی ڈالا جاسکتا ہے۔استری عام طور پر کپڑے کی لمبائی میں کی جاتی ہے ۔ استری کی حرکت سے پھیلنے یا بدشکل ہو سکنے والے کپڑوں، مثال کے طور پرجھالروں وغیرہ کو استری سے صرف دبادیا جانا چاہیے ،ان پر استری نہیں چلانی چاہیے۔دبانے کا مطلب یہ ہے کہ گرم استری کو کپڑے پر کسی ایک جگہ رکھ دیا جائے اور پھر اسے اٹھا کر دوسری جگہ رکھا جائے۔ سلوٹوں،گوٹوں،جیبوں اور پلیٹوںکو ٹھیک کرنے کے لیے بھی دباؤ کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔
استری کرنے کے لیے جو میز استعمال کی جائے وہ گدی دار (Padded) لیکن مضبوط ہو۔اس کی سطح ہموار ہو اور اس کی لمبائی اور سائز اتنی ہونی چاہیے کہ اس پر کام کرنے میں آسانی ہو۔آج کل استری کرنے کے گدے دار بورڈ،بازار میں دست یاب ہیں۔اگر یہ بورڈ دست یاب نہ بھی ہوں تو ہموار سطح پر کسی موٹے کپڑے کی تین چارتہیں کر کے بچھاکر اور استری کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا۔
کپڑوں کو استری کرنے کے بعد یا تو تہہ کر کے رکھ دیا جانا چاہیے یا پھر جگہ کی دست یابی کے مطابق ہینگروں میں لٹکا دیا جانا چاہیے۔ اہم بات یہ ہے کہ ضرورت کے وقت کپڑے تیار حالت میں ملیں۔
ڈرائی کلیننگ (Dry-cleaning)
ڈرائی کلیننگ کا مطلب کپڑوں کو کسی غیرآبی سیال کے ذریعے دھونا ہے۔خشک اور تر محللوں میں اہم فرق یہ ہے کہ ریشے پانی کو جذب کرلیتے ہیں اور اس سے کپڑوں میں سکڑن پیدا ہوسکتی ہے،سلوٹیں پڑسکتی ہیں اور رنگ نکل سکتا ہے۔ اسی لیے ڈرائی کلیننگ نفیس اور نازک کپڑوں کی دھلائی کا محفوظ طریقہ ہے۔ڈرائی کلیننگ کے لیے عام طور سے پر کلوروایتھالین (Perchloro-ethylene) جو ایک پیٹرولیم محلل ہے یا فلورو کاربن(Fluorocarbon) محلل کا استعمال کیا جاتا ہے۔
ڈرائی کلیننگ عام طور پر گھر وں کے بجائے صنعتی اکائیوں میں کی جاتی ہے ۔کپڑوں کوڈرائی کلینر کے ہاں لے جایا جاتا ہے جہاں ان پرپہچان کے لیے ایک ٹیگ (Tag) لگادیا جاتا ہے جس پر خصوصی ہدایات درج ہوتی ہیں۔پہلے کپڑے کا معائنہ کیا جاتاہے پھر اسے دھبے صاف کرنے کے ایک بورڈ پر رکھا جاتا ہے۔پانی میں گھل جانے والے دھبوں اور زیادہ سخت داغوں کو صاف کرنے کے لیے کپڑوں کو اسپاٹ بورڈ پر رکھنا ضروری ہے۔صارف دھبوں کے بارے میں بتادیتے ہیں جس سے کلینر کا کام آسان ہوجاتا ہے اور اس طرح کپڑوں کی بہتر صفائی سے صارف کو بھی تسلی ہوتی ہے۔
ڈرائی کلینر کپڑوں کو صاف کرنے کے علاوہ کچھ اور کام بھی کرتے ہیں جن میں بٹنوں کی تبدیلی،کپڑوں کی چھوٹی موٹی مرمت، کپڑوںکو چھوٹا بڑا کرنا ،پانی کی روک اور دیگر فینشنگ جیسے مستقل کریزیں(Creases)بناناکیڑوں سے حفاظت اور روئیں دار کپڑوں اور چمڑے کی صفائی وغیرہ شامل ہیں۔کچھ ڈرائی کلینر پروں والے تکیوں ، کمبلوں، لحافوں، قالینوں اورپردوں وغیرہ کی صفائی اور ان پر استری وغیرہ بھی کرتے ہیں۔
17.4 کپڑے مصنوعات کی محفوظ ذخیرہ کاری
(Storage of textile products)
ہمارے ملک میں سال بھرایک جیسا موسم یکساں نہیں رہتا۔اسی لیے ہم مختلف موسموں کے مطابق لباس بناتے ہیں۔الگ الگ موسموں کے لیے الگ الگ لباسوں کی ضرورت کے سبب ضروری ہے کہ جن کپڑوں کی کسی خاص موسم میں ضرورت نہیں ہے ان کو حفاظت سے رکھ دیا جائے۔کپڑے کسی بھی طرح کے ہوں، ان کی پیکنگ کرنے اور رکھنے سے پہلے ضروری ہے کہ وہ صاف ستھرے اور خشک ہوں۔اونی کپڑوں کو رکھنے سے پہلے ان کو برش سے اچھی طرح صاف کرنا اور ڈرائی کلین کرایا جانا چاہیے۔اسی طرح ان کے داغ دھبے دور کرنااور اگر وہ کہیں سے پھٹ گئے ہوں تو ان کی مرمت بھی ضروری ہے۔جیبوں کی اندرونی پرت کو باہر نکال دینا چاہیے اور اسی طرح پائنچوں اور آستینوں کوالٹ دینا چاہیے۔ خوب اچھی طرح دیکھ لینا چاہیے تاکہ اس میں دھول،میل کچیل یا کالک وغیرہ باقی نہ رہے۔رکھنے سے پہلے تمام کپڑوں کو جھٹکنا،جھاڑنا،دھونا،استری کرنا اور پھر تہہ کرنا ضروری ہے۔کپڑوں کو الماری یا بڑے صندوق میں رکھنا چاہیے۔تہہ بہ تہہ جمی ہوئی اور تنگ پیکنگ سے کپڑوں کی تہوں میں مستقل شکنیں پڑجاتی ہیں۔کپڑے رکھنے کے لیے منتخب الماریوں کے خانے اور صندوق صاف ستھرے،خشک اورکیڑوں سے محفوظ ہونے چاہئیں۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ پیکنگ بہت ہی کم رطوبت یا نمی والے ماحول میں کرنی چاہیے۔کپڑوں کو حفاظت سے رکھتے وقت مختلف قسم کے کپڑوں کو مختلف قسم کی دیکھ ریکھ کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ الگ الگ کپڑوں کو الگ الگ قسم کے خورد عضویے (Micro organisms)خراب کرتے ہیں۔
17.5کپڑوں کی نگہ داشت پر اثر انداز ہونے والے عناصر
(Factors affecting fabric care)
کپڑوں کا انتخاب ،استعمال اور نگہ داشت مختلف عناصر پر منحصر ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں ریشے کی قسم،دھاگے کی ساخت،کپڑے کی بناوٹ،رنگوں اورفینشنگ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
ہر قسم کے کپڑے کی کچھ انفرادی خصوصیات ہوتی ہیں اور اسی لیے اس کو خصوصی نگہ داشت کی ضرورت ہوتی ہے۔
کپڑوں کے ریشے نگہ داشت کی ضروریات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔جیسا کہ جدول 2میں دکھا یا گیا ہے ۔
| جدول2:ریشوں کے خواص جو کپڑوں کی نگہ داشت پر اثر انداز ہوتے ہیں | ||
| ریشے | خواص | نگہ داشت کی ضروریات |
| سوتی (Cotton & Linen) |
مضبوط ریشہ ،بھیگنے پر زیادہ مضبوط، سخت رگڑ کی برداشت | |
| الکلیوں(Alkalis)سے مزاحمت، تیز ڈیٹر جینٹ سے آسانی کے ساتھ دھل جاتا ہے | ||
| زیادہ درجۂ حرارت برداشت کر سکتا ہے۔ضرورت ہوتو ابالا بھی جاسکتا ہے | ||
| نامیاتی محللوں اور بلیچوں سے مزاحمت، تیزابی چیزیں ریشے کو کمزور کرتی ہیں |
استعمال کیے جانے والے تیزابی کیمیکلز کو کھنگال کر نکال دینا چاہیے اور اس کی تعدیل (Neutral) کردینی چاہیے |
|
| آسانی سے ٹوٹ جاتا ہے۔سلوٹیں نکالنے کے لیے استری کی ضرورت ہوتی ہے |
استری کے لیے کپڑے کو نم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ جل بھی سکتا ہے |
|
| پھپوندیاں حملہ کرسکتی ہیں |
پوری طرح خشک ہونا چاہیے اور بہت کم نمی پر حفاظت کے لیے رکھا جاناچاہیے |
|
| اگر کلف زیادہ لگ جائے تو اس پر کتابی کیڑوں (Silverfish) کا حملہ ہوسکتا ہے |
اگر لمبی مدت کے لیے رکھا جارہا ہے توکلف ہٹا دینا چاہیے |
|
| اون(Wool) |
کمزور ریشہ،بھیگنے پر زیادہ کمزور ہوجاتا ہے۔ |
دھلائی کے دوران نرمی کے ساتھ دھویا جائے |
| الکلی مادوں(Substances) سے جلدخراب ہوجاتا ہے |
تیز ڈیٹر جینٹ اور صابن سے بچانا چاہیے |
|
| ڈرائی کلیننگ کے محلل اور دھبے صاف کرنے والے مادوں کا کوئی ضرر رساں اثر نہیں ہوتا |
بلیچوں کو احتیاط سے استعمال کیا جائے |
|
| دھلائی کے دوران تیز حرکت سے سکڑ جاتے ہیں |
کم سے کم حرکت کے ساتھ ٹھنڈے پانی میں دھوئیے |
|
| اون سے بنی چیزیں دھونے سے پھیل جاتی ہیں اور بد شکل ہوجاتی ہیں |
دھلائی سے پہلے کپڑے کا ایک خاکہ بنالیا جائے اور دھونے کے بعد اس کو اسی خاکے میں پھیلادیا جائے |
|
| اس میں لچک ہوتی ہے اورسلوٹ نہیں پڑتی ہے۔اس میں بغیراستری کے کام چل جاتا ہے |
کپڑے پر براہ راست استری نہ کی جائے۔اگر ضرورت ہوتو اسٹیم پریس کا طریقہ استعمال کیا جائے۔ |
|
| کیڑے خاص طور پر اون کی پروٹین کو نقصان پہنچاتے ہیں |
کپڑوں کی حفاظت کے دوران کیمیکلز کے باربارچھڑکاؤ سے کپڑا نقصان سے بچ جاتا ہے۔ کیڑوں کی روک تھام کے لیے نیفتھلین گولیوں (Nephthalen balls) کا استعمال مؤثر ہوتا ہے۔ |
|
| ریشم(Silk) |
مضبوط ریشہ، بھیگنے سے کمزورہوجاتا ہے،ریشم کی دھلائی میں احتیاط ضروری ہے |
دھوتے وقت صرف ہلکی رگڑ کا استعمال کرنا چاہیے |
| تیز الکلیوں سے نقصان ہوتا ہے۔ فینشنگ کے لیے نا میاتی تیزاب استعمال کیے جاتے ہیں |
دھلائی کے لیے ہلکے ڈیٹر جینٹ استعمال کیے جائیں۔ |
|
| ڈرائی کلیننگ کے محلل اور دھبے صاف کرنے والے مادے ریشم کو نقصان نہیں پہنچاتے |
بلیچوں کا استعمال احتیا ط کے ساتھ کیا جاسکتا ہے |
|
| دھونے پر نہ پھیلتا ہے اور نہ سکڑتا ہے۔درمیانی لچک ہوتی ہے جس کی وجہ سے استعمال کے دوران سکڑجاتا ہے |
استری کی ضرورت ہوتی ہے |
|
| زیادہ گرم استری کا استعمال کیاجائے تو جل جاتا ہے |
کم درجۂ حرارت پر اور نم کرکے استری کی جائے ۔ |
|
| پسینہ بھی کپڑے کو نقصان پہنچاتا ہے |
ڈرائی کلیننگ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ حفاظت سے رکھنے سے قبل ہوامیں رکھنا ضروری ہے۔ |
|
| زیادہ دیر تک دھوپ میں رہے تو کمزور ہوجاتا ہے |
دھوپ میں نہ سکھا یا جائے۔ |
|
| پھپوندی اور بیکٹر یا کے حملوں کا مقابلہ کرتاہے لیکن قالین کیڑے نقصان پہنچاتے ہیں |
اگر مٹی لگی ہو تو اس کو رکھا نہ جائے۔ |
|
| ریان(Rayon) |
بیشتر ریانوںکی مضبوطی نسبتاً کم ہوتی ہے اور ریشوں کے بھیگ جانے پر اور بھی کم ہوجاتی ہے |
دھلائی میں احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ |
| یہ کیمیائی طور پر سوتی کپڑے کی طرح ہوتا ہے لیکن تیز الکلی سے نقصان پہنچ سکتا ہے |
ہلکے ڈیٹر جینٹ اور صابن کا استعمال زیادہ محفوظ ہوتا ہے۔ |
|
| ڈرائی کلیننگ محلل(Solvent)اور دھبے صاف کرنے والے مادوں سے متاثر نہیں ہوتا |
||
| ریان دھلنے پر سکڑتا ہے |
دھلائی میں احتیاط ضروری ہے۔ |
|
| ریان سے بنے کپڑوں میں سلوٹیں پڑنے اور آسانی کے ساتھ پھیل جانے کا امکان رہتا ہے کیوں کہ ان میں لچک اور دوبارہ ابھرنے کی طاقت کم ہوتی ہے۔ |
اس پر استری آسان ہوتی ہے۔ |
|
| پھپوندی اور کتابی کیڑے(Silver fish) ریان کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ سڑن پیدا کرنے والے بیکٹیریاسے ر یا ن کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ |
پوری طرح صاف ستھری اور خشک جگہ اور ماحول میں رکھنا چاہیے۔ |
|
| نائلون(Nylon) |
بہت مضبوط ہوتا ہے ۔بھیگنے پر بھی اپنی مضبوطی برقرار رکھتا ہے۔ |
اس کے لیے کسی خصوصی احتیاط کی ضرورت نہیں ہوتی۔ |
| یہ الکلی سے متاثرنہیں ہوتا لیکن تیزاب اس کے ریشے کو خراب کرسکتے ہیں۔ |
اگرتیزابی کیمیکلز کا استعمال کیا ہے تو ان کو اچھی طرح کھنگال کر باہر نکال دینا چاہیے۔ |
|
| ڈرائی کلیننگ محلل،دھبے صاف کرنے والے مادوں، ڈٹرجینٹ اور بلیچ وغیرہ کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ |
||
| دوسری چیزوں کی میل کچیل جذب کرتا ہے۔ |
اس کو الگ دھونا چاہیے۔ |
|
| پانی جذب نہیں کرتا اور اس لیے جلد سوکھ جاتا ہے۔ |
||
| دھوپ نائلون کونقصان پہنچاتی ہے اور زیادہ عرصے تک دھوپ میں رہنے سے اس کی طاقت کم ہوجاتی ہے۔ |
کھڑکی کے پردوں کے لیے استعمال کرنا مناسب نہیں۔ |
|
| بہت سے کیڑوں اور خورد عضو یوں کا خوب مقابلہ کرتا ہے۔ |
||
| پولیسٹر(Polyester) |
بھیگنے پر پولیسٹر کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ اس کو آسانی سے دھویا جا سکتا ہے۔ |
|
| اس میں لچک اور دوبارہ ابھرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ |
اس کو گرم استری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ |
|
| اس کی سطح پر چھوٹے چھوٹے چکتّے پڑجاتے ہیں جو صاف نہیں ہوتے۔ |
||
| پانی برقرار رکھنے کی صلاحیت بہت کم ہوتی ہے یا پانی کو آسانی سے جذب نہیں کرتا۔ |
گرم آب وہوا میں آرام دہ نہیں ہے۔ |
|
| اگر اس کپڑے پر تیل گرجائے تو صاف نہیں کیا جاسکتا۔ |
تیل والے دھبوں کو احتیاط سے صاف کرنے کی ضرورت ہے۔ |
|
| یہ خورد عضویوں اور کیڑوں سے مقابلہ کرتا ہے۔ |
||
| ایکریلک(Acrylic) |
اس کی مضبوطی سوتی کپڑے جیسی ہوتی ہے۔ |
آسانی سے اور کسی خصوصی احتیاط کے بغیر دھویا جاسکتا ہے۔ |
| اس میں لچک بہت ہوتی ہے اوراسی لیے آسانی سے سلوٹیں نہیں ڑتیں۔ |
||
| اس میں پانی نہیں ٹھہرتا، اسی لیے جلد خشک ہوجاتا ہے۔ |
||
| یہ الکلی اورتیزابوں سے خوب مقابلہ کرتا ہے اور اکثرخشک ڈرائی کلیننگ کے محلل اس کے ریشوں کو نقصان نہیں پہنچاپاتے۔ |
||
| اس کے ریشوں میں دھوپ،ہر قسم کے صابن،سینتھیٹک ڈیٹر جینٹ اور بلیچوں سے مقابلے کی بہت صلاحیت ہوتی ہے ۔کیڑے اس پر اثر انداز نہیں ہوتے۔ |
||
| یہ آگ بہت جلد پکڑتا ہے اور دیگر سنتھیٹک ریشوں کے برعکس مسلسل پگھلتا اور جلتا رہتا ہے |
اس کی احتیاط ضروری ہے۔یہ بچوں کے لیے مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔ | |
دھاگے کی بافت (Yarn Structure)
دھاگے کی بافت(دھاگے کی قسم یا بٹائی) کپڑے کے رکھ رکھاؤ پر اثر ڈالتی ہے۔مثال کے طور پر زیادہ بٹے ہوئے دھاگے سکڑجاتے ہیں اور پیچیدہ(Complex)دھاگے الجھ جاتے ہیں یا ان میں روئیں یا پھوسٹرے پیداہوجاتے ہیں یا وہ گھِس جاتے ہیں۔مخلوط (Blended) دھاگوں کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دونوں ہی دھاگوں کے لیے احتیاط برتنی پڑتی ہے۔اگر پولیسٹرمیں سوت ملا ہوا ہے تو زیادہ گرم پانی کا استعمال نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ یہ سکڑسکتا ہے۔بہرحال اس میں زیادہ سلوٹیں نہیں پڑتیں اور اس پر استری کرنا بھی آسان ہوگا۔
کپڑے کی ساخت (Fabric Construction)
کپڑے کی بُنائی کا رکھ رکھاؤ سے گہرا تعلق ہے۔سادہ اور گھنی بُنائی والے کپڑوں کا رکھ رکھاؤ آسان ہوتا ہے ۔نفیس بُنائی جیسے ساٹن، مخمل یا لمبے بالدار کپڑوں میں دھلائی کے دوران پھو سٹرے نکل آتے ہیں۔بُنے ہوئے (Knitted) کپڑے پھیل جاتے ہیں، بدشکل ہوجاتے ہیں اور پھر ان کی دوبارہ بلاکنگ کی ضرورت پڑتی ہے۔نفیس کپڑوں ،جھالروں ، جالیوں(Nets )نمدوں اور ایسے ہی بے بُنے کپڑوں کی ساتھ نگہ داشت میں احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
رنگ اور فینشنگ (Colour and Finishes)
کپڑوں کی نگہ داشت کے سلسلے میں رنگ کی بہت اہمیت ہے۔ڈائی کیے ہوئے اور چھپے ہوئے کپڑے دھلائی کے دوران رنگ چھوڑسکتے ہیں اورجس سے دوسرے کپڑے خراب ہوسکتے ہیں۔کپڑوں کے رنگ کو، استعمال سے پہلے آزمایا جاسکتا ہے اور استعمال کے وقت بھی مناسب نگہ داشت کی ضرورت ہوتی ہے۔
فینشنگ کے کئی طریقے ایسے ہیں جن سے کپڑوں کا رویہ(Behaviour)بدل جاتا ہے۔ان سے کپڑوں میں سدھار بھی آسکتا ہے اور ان سے مشکلات بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔کچھ فینشنگ ایسی ہوتی ہے جسے ہر دھلائی کے بعد دوبارہ کرنا ضروری ہوتا ہے ۔
اس طرح ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ ریشے کی قسم، دھاگے کی بافت، کپڑے کی بُنت،رنگوں کا استعمال اور فینشنگ کے پہلو کپڑے کی تمام مصنوعات کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ ان سے کپڑوں کی ظاہری شکل وصورت، ان کے آرام دہ ہونے، پائیداری اور رکھ رکھاؤ کی ضروریات بھی متعین ہوتی ہیں۔شکل وصورت ،آرام،پا ئیداری اور رکھ رکھاؤ کی اہمیت ایک اضافی (Relative)چیز ہے۔ہمیں کپڑے کی قدر و قیمت کو ان کے مقصد کے لحاظ سے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور تب ان کے استعمال اور ان کی نگہ داشت کے بارے میں فیصلہ کریں۔
17.6 نگہ داشت کا لیبل (Care Label)
نگہ داشت کا لیبل کپڑوں پرلگایا جانے والا مستقل لیبل ہوتا ہے جس میں باقاعدہ نگہ داشت سے متعلق تمام ضروری معلومات اور ہدایات دی جاتی ہیں۔یہ لیبل کپڑوں پر اس طرح چسپاں یا منسلک کیاجاتا ہے کہ اس کو مصنوعات سے الگ نہیں کیا جاسکتا تاکہ کپڑے کے استعمال میں رہنے تک باقی رہ سکے۔
نگہ داشت کے لیبلوں پردھلائی سے متعلق ہدایات
| دھلائی سے متعلق ہدایات | مفہوم |
89oبرائے 29oC
90-1100برائے
320-43C
1500برائے 60oC
دھلائی کے دور(Wash Cycle)
نازک دور(Delicate cycle)
الگ الگ دھلائی
کپڑے الٹے کرکے دھوئیے
نیم گرم کھنگالیے
ٹھنڈا کھنگالیے
مشین میں مت سکھائیے
نچوڑیے نہیں
ہاتھ سے دھوئیے
مشین کی دھلائی
سکھانا(Drying)
الٹ پلٹ کر کے سکھانا
(Tumble Dry)
ڈراپ ڈرائی (Dripdry)
لائن ڈرائی
فلیٹ ڈرائی(Flat Dry)
سائے میں سکھانا
استری کرنا
بلیچ
ڈرائی کلیننگ
A
P
P
S
|
ٹھنڈا پانی استعمال کیجئے یا مشین کے درجۂحرارت کو ٹھنڈے پانی پر سیٹ کردیجیے۔
نیم گرم پانی استعمال کیجیے یا مشین کے درجۂ حرارت کو نیم گرم پانی پر سیٹ کردیجیے۔
گرم پانی استعمال کیجیے یا مشین کے درجۂ حرارت کو گرم پر سیٹ کردیجیے۔
مشین کے چکروں اوراس کی رفتار کا وقت گھٹا دیجیے۔
یکساں رنگوں کے کپڑے ایک ساتھ دھوئیے۔
دھونے سے پہلے کپڑوں کو الٹا کردیجیے۔
کھنگالنے کے لیے نیم گرم پانی استعمال کیجیے۔
کھنگالنے کے لیے ٹھنڈا پانی استعمال کیجیے۔
کپڑوں کو مشین کے اسپنر(Spinner)میں نہ ڈالیے۔
کپڑوں کو نچوڑنے کے لیے توڑیے موڑیے نہیں۔
ہاتھ سے دھوئیے اوردباکر پانی نکالنے کاطریقہ اپنائیے۔
کپڑے دھونے کے لیے آپ مشین کا استعمال کرسکتے ہیں۔
کپڑوں کو سامنے سے مشین میں ڈالیے(جس میں کپڑے دائیں طرف سے گھومتے ہیں)
پانی نچوڑے بغیر تھوڑی دیر سکھائیے (سنتھیٹک کپڑوں کے لیے)
ڈوری یا تار پر لٹکادیجیے
چپٹی سطح پر بچھاکر سکھائیے(اونی کپڑوں کو)
دھوپ میں نہ سکھائیے(رنگین کپڑوں کو)
استری کا درجۂ حرارت2100C(گرم)پر سیٹ کردیجیے
استری کا درجۂ حرارت1600C(معتدل)پر سیٹ کردیجیے
استری کا درجۂ حرارت1200C(کم)پر سیٹ کردیجیے
استری نہ کیجیے
کلورین بلیچ
بلیچ مت کیجیے۔
سارے محلل استعمال کرسکتے ہیں۔
صرف سفید اسپرٹ یا کلوروا یتھائلین(Choroethylene)سے ڈرائی کلین کیجیے۔
یہ کپڑے ڈرائی کلین کے لیے بھی حساس ہوتے ہیں،اس لیے ڈرائی کلین کرنے میں احتیاط ضروری۔
صرف سفید اسپرٹ استعمال کیجیے۔
ڈرائی کلین نہ کیجیے۔
|



اس کے بعد کے آخری باب میں ابلاغ کی اہمیت پر ایک بار پھر گفتگوکی جائے گی ۔اگلے باب میں ہم آپ کو ان مختلف اسباب کے بارے میں بتائیں گے کہ ابلاغ(Communications) مختلف لوگوں کے لیے مختلف ہوتا ہے۔
کلیدی اصطلاحات
مرمت(Mending)،دھلائی(Laundry)،داغ دھبے دور کرنا(StainRemoving)،پانی (Water)،صابن اور ڈیٹر جینٹ(Soap and Detergent)،ڈرائی کلیننگ،(Dry Cleaning)، رگٹر (Friction) ،سکشن (Suction)دبانا، ملنا اور بھینچنا(Kneading and squeezing)نیل اورکلف(Blues and Starches Starches)،نگہ داشت کا لیبل(Care lable)
سوالات برائے نظر ثانی
1۔ کپڑوں کی نگہ داشت کے مختلف پہلو کیاہیں؟
2۔داغ دھبے،کی تعریف کیجیے ۔دھبوں کی مختلف قسمیں بتائیے اور ان کو دور کرنے کی مختلف تکنیکوں کا بھی ذکر کیجیے۔
3۔کپڑوں کے غیر معلوم دھبوں کو دور کرنے کے اقدامات کے بارے میں بتائیے۔
4۔میل کچیل یا گندگی(Dirt)کیا ہے۔کپڑوں سے میل کچیل دور کرنے کے لیے پانی ،صابن اور ڈیٹر جینٹ مل کر کس طرح کام کرتے ہیں؟
5۔دھلائی کے بعدفینشنگ سے کس طرح کپڑوں کی چمک اور بافتی خصوصیات(Textural Characteristics) میں سدھار آتا ہے؟
6۔ڈرائی کلیننگ کیا ہے؟کون کون سے کپڑے ہیں جن کے لیے ڈرائی کلیننگ ضروری ہے؟
عملی کام 17
کپڑوں کی نگہ داشت
موضوع: کپڑوں کا پکا رنگ
کام: دھلائی کے لیے پکے رنگ کا تجزیہ
پریکٹیکل کا مقصد: اس قسم کی معلومات سے صارف کو یہ جاننے میں مد د ملے گی کہ رنگین کپڑے دھوتے میں کیا احتیاط برتنی چاہیے۔
عملی کام پر عمل در آمد
- رنگین کپڑے اور سفید سوتی کپڑے کے چار چار نمونے لیجیے جن کا ناپ''2=4''ہو۔
- رنگین نمونوں کو سفید نمونوں سے جوڑدیجیے۔اس طرح(''4=4'')چار نمونے(ABCD)تیار ہوں گے۔
- نمونہ Aکوبنیادی نمونے کے طور پر رکھیے اور اسBCDنمونوں کو نیم گرم پانی(400C)میں پہلے سے تیار شدہ% 0.5صابن کے محلول میں ڈالیے۔آہستہ آہستہ ملیے۔
- پانچ منٹ کے بعد کھنگالیے اور سکھالیجیے۔
- نمونہ CاورDپر اس عمل کو دہرائیے،دھوئیے،کھنگالیے اور سکھا لیجیے۔
- اس عمل کونمونہ Dمیں دہرائیے اور اپنے مشاہدات کو قلم بند کرلیجیے۔
مشاہدات
| نمونہ | جانچے گئے نمونوں کے رنگ میں تبدیلی | جوڑے گئے سفید کپڑے کے دھبے |
| A | بنیادی نمونہ | |
| B | ||
| C | ||
| D |
4-5 طلباکا ایک گروپ بنائیے اور دوسرے کپڑوں پر کی گئی آزمائش کی روشنی میں اپنے اپنے مشاہدات کا موازنہ کیجیے۔
عملی کام 18
کپڑوں کی نگہ داشت
موضوع: کپڑوں اور پوشاک کے لیبلوں کا مطالعہ
کام: کپڑوں اور پوشاک پر لگے لیبلوں کے ذریعے دی گئی اطلاعات کا تجزیہ
عملی کام کا مقصد: کپڑے اور لباس یا کپڑے سے بنی دیگر چیزوں کی ظاہری شکل،ان کی نگہ داشت اور ان کی خدمات سے متعلق معلومات صارفوں کے لیے بہت اہم ہوتی ہیں۔ اس لیے یہ معلومات لیبلوں یا چٹوں کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں۔ معلومات پر مبنی لیبل کپڑوں کے کناروں پر چپکا دیے جاتے ہیں ۔ان لیبلوں کے ذریعے صارف کپڑوں کی خاصیت اور ان کوبرتنے کی تمام معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔یہ لیبل ایک خاص مدت تک کپڑوں پر موجود رہتے ہیں ۔
عملی کام پر عمل درآمد : پانچ ایسے سلے کپڑوں پر لگے لیبلوں اور مہروں کے پانچ نمونے جمع کیجیے۔
- ریشوں کی نوعیت،سائز اور استعمال ،دھلائی،استری اور ذخیرہ کرنے سے متعلق ہدایتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے کپڑوں کے لیبلوں کا تجزیہ کیجیے۔
- ریشوں کی نوعیت، دھاگے اور کپڑے کی بناوٹ سے متعلق ہدایات اور ان کے رکھ رکھاؤ وغیرہ کو دھیان میں رکھتے ہوئے لگائی گئی مہروں کا تجزیہ کریے۔