Skip to content
Insanimaholiatauruloom-Part-II

ابلاغ کے پہلو

(Perspectives in Communication)

باب18


آموزشی مقاصد 

  اس باب کے مطالعہ کے بعد طلبا:

  •      ابلاغ کا مفہوم اور اس کی سرگرمیوں کو جان سکیں گے۔
  •      ابلاغ پر عمر ،تعلیم،صنف، ثقافتی پس منظر اورنئے علوم کے پھیلاؤ کے اثرات کاتجزیہ کرسکیں گے۔

18.1تعارف

آپ نے پچھلے ابواب میں ابلاغ کے اہم پہلوؤں کے بارے میں پڑھا ہے۔موجودہ معلومات کے عہد میں ابلاغ سب کے لیے ایک وسیع عمل ہے۔یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں مرسل (Sender)اور وصول کنندہ(Receiver)دونوں شامل ہوتے ہیں۔ مرسل پیغام کوکسی مقصد سے ارسال کرتا ہے۔اسی طرح وصول کنندہ پیغام کو اپنی اہلیت یا اپنے نقطۂ نظر کے مطابق وصول کرتاہے۔ابلاغ کا عمل اس وقت مکمل ہوتا ہے جب مرسل کے مقاصد یا ارادے وصول کنندہ کی صلاحیت سے مطابقت رکھتے ہوں۔اگر مرسل اور وصول کنندہ کے خیالات میں موافقت ہے تو ایک مشترکہ معنی حاصل ہوجاتے ہیں۔مرسل اور وصول کنندہ کے تناظر،پیغام کی مؤثر قبولیت کو طے کرتے ہیں۔

ایسے بہت سے عوامل ہیں جو ابلاغ کے مختلف پہلوؤں کا تعین کرتے ہیں۔یہ عوامل ہیں:عمر،تعلیم،صنف،ثقافتی پس منظر اور ابلاغ کے مواقع کی سہولتیں۔آئیے ہم دیکھیں کہ یہ تمام عوامل ابلاغ پر کس طرح اثرانداز ہوتے ہیں۔

   عمر(Age)  

عمر ابلاغ پر اثر انداز ہوتی ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ،انسان میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ایک تبدیلی تو فکری یا تصوراتی(Ideational)ہوتی ہے جس کا تعلق خیالات سے ہے اور دوسری ساختیاتی (Structural)اور مادّی (Material) ہوتی ہے۔فکری تبدیلیوں کا تعلق ہمارے خیالات(Ideas) میں آنے والی تبدیلیوں سے ہوتاہے۔مثال کے طور پر زندگی اور مستقبل کے معاملات کے بارے میں ،ایک 18سال کےنوجوان جو ابھی اپنی آئندہ زندگی کے بارے میں سوچ رہا ہے اور ایک ایسے چالیس سالہ ایگزیکٹو کے خیالات میں فرق ہوگاجس کی زندگی کا رُخ طے ہوچکا ہے۔اسی طرح کسی ایسے 55سالہ شخص کے خیالات بالکل مختلف ہوں گے جس کا کیرئر (Career)اب ختم ہونے والا ہے۔ساختیاتی تبدیلیوں کا تعلق وقوفی افعال میں فعلیاتی اور عمر سے وابستہ تبدیلیوں سے ہے۔عمر بہت سی   صلاحیتوں پر اثرانداز ہوتی ہے ۔متاثر ہونے والی ان صلاحیتوں یا قوتوں میں سب سے پہلی قوت بصارت(Vision) ہے۔دیگر قوتیں بھی کم ہونے لگتی ہیں۔البتہ کچھ قوّتوں میں زوال آہستہ اور کچھ میں تیز ہوتا ہے۔اس طرح ابلاغ کا طریقہ اور مواد عمر سے متاثر ہوتا ہے اور اسی کے مطابق پیغامات کی تبدیلی اور تطبیق (Adjustment) کی جاتی ہے۔آئیے ذرا عمر رسیدہ لوگوں کی مثال لیتے ہیں۔عمر زیادہ ہوجانے کے بعدسننے میں دقّت پیش آنے لگتی ہے۔مثال کے طور پر شور والے ماحول میں ( ایسا ریستوراں میں جہاں موسیقی زور سے چل رہی ہو)ایسے لوگوں کو یہ سمجھنے میں پریشانی ہوتی ہے کہ کون بول رہا ہے اور کیا کہاجارہاہے۔نوجوانوں کو اس قسم کی دقتیں پیش نہیں آتیں۔اس کے علاوہ ابلاغ کا انداز اور الفاظ کا انتخاب بھی عمر کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔

مادّی تبدیلیاں:مادّی تبدیلیوں سے مراد وہ تبدیلیاں ہیں جو ابلاغ کے سازوسامان کے استعمال میں پیش آتی ہیں۔مثال کے طور پر کوئی نوجوان موسیقی سننے کے لیے موبائل فون کا استعمال پسند کرتا ہے،یا وہ اس کو انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کرلیتا ہے جب کہ کسی بالغ شخص کو ریکارڈ پلیئر یا سی ڈی پلیئر سے موسیقی سننے میں آسانی محسوس ہوسکتی ہے۔دیہی علاقوں کا عمر رسیدہ شخص ریڈیو سننے کو ترجیح دے گا۔نئی نسل کے لوگ بڑی عمر کے لوگوں کے مقابلے زیادہ آسانی سے ابلاغ کے سازوسامان کا استعمال کرتے ہیں۔اس طرح نئی اور پرانی نسل کے لوگوں کا ابلاغ، عمر سے متاثرہو تا ہے اوراسی طرح ان کے درمیان ابلاغ میں بھی عمر ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔

سرگرمی 1

آپ کچھ ایسے الفاظ یا فقرے سوچیے جو آپ گھر پر عام طور پر استعمال کرتے ہیں اور آپ کے والدین ان کو ناپسند کرتے ہیں۔ان کا اعتراض کیا ہوتا ہے؟


  تعلیم(Education)  

تعلیم ذہن کے افق کو وسیع کرتی ہے۔یہ غور و فکر کرنے کی صلاحیت اور معلومات کے استعمال کی اہلیت کی نشو و نما کرتی ہے،معلومات تک دسترس فراہم کرتی ہے اور لوگوں کوکیرئر کے لیے تیار کرتی ہے۔ان تمام باتوں سے کسی شخص کے ابلاغ کی صلاحیت اور وسعت میں اضافہ ہوتا ہے۔ تعلیم یافتہ شخص اپنے خیالات کا اظہار زیادہ مؤثر طریقے سے کرسکتا ہے اور اگر مخاطَب بھی اتنا پڑھا لکھا ہے تو ان کے درمیان ابلاغ بہت خوش اسلوبی سے ممکن ہوتا ہے۔مثال کے طور پر جب کوئی ٹیچرکسی دوسرے ٹیچر کو کسی تصورکے بارے میں سمجھا تاہے تو ایک طالب علم کو وہی بات سمجھانے کے مقابلے میں اس ٹیچر سے اس کی گفتگو کا معیار بلند ہوگا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ طلبااور ان کے استادوں کی تعلیمی سطح میں بہت فرق ہوتا ہے۔اسی طرح عالمی حرارت(Global Warming)،پیڑوں کی کٹائی (Deforestation)، فصلوں پرکیڑے مار دواؤں(Pesticides)کے اثرات اورتغذیاتی عناصر پر گرمی کے اثرات وغیرہ تصورات ، جو کسانوں،ماہرین صحت ،گھر چلانے والوں اور افسروں وغیرہ کو سمجھائے جاتے ہیں ان سب کے لیے الگ الگ لفظیات ،معلومات،طریقۂ ابلاغ اور حکمت عملی کا انتخاب کیا جاتا ہے جو ان کی ذہنی استعداد کے مطابق ہو۔

ثقافت(Culture)  

ثقافت ایک پیچیدہ صورت حال ہے جس میں معلومات،عقائد،ہنر،قوانین،اخلاق، رسوم و روایات،زبان اور دیگر بہت سی معاملات شامل ہیں۔جب ہم ابلاغ اور کلچر کے درمیان رشتے کی بات کرتے ہیں تو اس میں ابلاغ کا پورا منظر نامہ جیسے زبان،غیر لفظی ابلاغ،رسوم،اقدار اور زمان و مکان کے تمام تصورات شامل ہوتے ہیں۔

دنیا میں مختلف ثقافتیں پائی جاتی ہیں۔ایک ہی ملک میں بھی کئی ثقافتیں ہوسکتی ہیں ۔ثقافت کا فرق طرزِزندگی اور دوسرے افراد سے توقعات میں فرق اورامتیاز سے پیدا ہوتا ہے۔ہم اکثر محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں ان لوگوں کے ساتھ ابلاغ میں دقت پیش آتی ہے جن کا تعلق کسی دوسری ثقافت سے ہوتا ہے۔ثقافتی اختلافات سے بہتر واقفیت اور نا معلوم اختلافات کے بہتر شعور کے ذریعے ایسے بہت سے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں جو بین ثقافتی (Cross Cultural)ابلاغ کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ تجارت میں بھی ثقافت کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ملاقاتوں،چھٹیوں،پابندیِ وقت،آداب اور زبان کے استعمال کے معاملے میں بھی بہت سے ثقافتی اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ایک ہی ثقافت کے لوگوں کی زبان ،رسوم،نظامِ اقدار اور غذائی عادتیں وغیرہ سے متعلق تجربات یکساں ہوتے ہیں اور اسی لیے ان کے درمیان ابلاغ آسان ہوتا ہے۔مثال کے طور پر ہندوستانی لوگ اپنی روز مرہ زندگی میں اپنے اہل خاندان اور اپنے دوستوں کے ساتھ معاملات میں زبان سے لفظ’شکریہ‘ادا نہ کریں پھر بھی آواز کے اتار چڑھاؤ اور چہرے کے تاثرات سے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ شکر گزاری کے جذبے کا اظہار کررہے ہیں۔ مغربی ثقافتوں میں زبان سے شکریہ ادا نہ کرنا بدتہذیبی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ایک دوسری مثال طرزِ تخاطب کی ہے۔ہندوستان میں تخاطب کا طرز مراتب کے لحاظ سے متعین ہوتا ہے۔چنانچہ’آپ‘اور’تم‘ کا استعمال مخاطَب کے مرتبے کے لحاظ سے کیا جاتا ہے۔بہت سے مغربی کلچروں میں کسی شخص کی عمر اور اس کے مرتبے سے قطع نظر اپنے سے بڑی عمر کے لوگوں کو بھی ان کا پہلا نام لے کر مخاطب کیا جاتا ہے اور یہ بات اس سماج میں قابل قبول ہے۔دل چسپ بات یہ ہے کہ انگریزی زبان میں’آپ ‘اور’تم‘میں فرق ظاہر کرنے والے الفاظ موجود نہیں ہیں۔

سرگرمی2

اپنی زبان کے کوئی پانچ الفاظ منتخب کیجیے اور کالج کے دو طالب علموں اور دو بوڑھے لوگوں سے ان کے معنی بتانے کی درخواست کیجیے۔ان کی فہم میں جو مشابہتیں اور جو اختلافات نظر آئیں انھیں قلم بند کیجیے۔

  ایسی ہی ایک مثال وقت کے تصور کی بھی ہے۔ہندوستان میں اگر آپ کسی کو رات کے کھانے کے لیے بلاتے ہیں تو وہ یہ سمجھے گا کہ 8بجے کے بعد کسی بھی و قت پہنچا جاسکتا ہے۔یہی نہیں، خود دعوت دینے والا بھی،اس کا مطلب 8بجے کے آس پاس ہی سمجھتا ہے۔لیکن بیشتر مغربی ملکوں ،مثلاً جاپان، میں دیے گئے وقت کی پابندی ضروری سمجھی جاتی ہے۔وہاں در حقیقت وقت کی پابندی نہ کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے اور اگر کوئی ملازم اپنے دفتر یا کارخانے میں وقت پر نہیں آتا تو اس ملازم کی کار گزاری رپورٹ میں منفی رائے زنی بھی کی جاسکتی ہے۔

صنف(Gender)

مرداور عورت کے درمیان فرق حیاتیاتی(Biological)بھی ہے اور سماجی (Social)بھی۔ صنفی فرق کا حیاتیاتی اسباب پر مبنی ہونا آج بھی ترقیاتی نفسیات(Developmental Psychology)کے علم میں زبردست بحث کا موضوع ہے ۔بہر حال یہ رجحانات حیاتیاتی ہوں یا سماجی،اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مردوں اور عورتوں کے درمیان فرق موجود ہیں۔صنف اورثقافت میں بعض ایسی باتیں مشترک ہیں جن میں دونوں یعنی صنف اورثقافت کے درمیان امتیاز کرنا ممکن نہیں ۔اگر چہ صنف سے متعلق باتیں بالکل روایتی ہیں اورثقافت ان باتوں کے اظہار میں تنوع پیدا کرتی ہے۔اسی طرح تہذیبی پس منظر اور سماجی تاریخ کو سمجھے بغیرابلاغ میں صنفی اختلافات کو سمجھنا نسبتاً نا ممکن ہے۔کچھ تہذیبوں میں عورتوں اور مردوںکو سکھایا جاتا ہے کہ وہ اپنا اظہار ایک دوسرے سے مختلف انداز سے کریں۔مثال کے طورر پرعورتوں کی اس بات کے لیے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ سماجی اتفاق رائے کا زیادہ لحاظ رکھیں اور چیزوں اور رشتوں کا خیال رکھنے پر زیادہ توجہ دیں،سماجی امور میں شرکت اور خود سے وابستہ افراد کی پرورش اور نگہ داشت میں حصہ لیں، جب کہ مردوں سے یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ وہ معلومات ،مسابقت (Competitiveness) اور مسائل کے حل تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کریں۔

نئے علوم کا پھیلاؤ(Exposure to new knowledge)

نئے نئے سافٹ ویئروں اور نئی ٹکنالوجیوں کے پھیلاؤ اور ان تک عام لوگوں کی پہنچ کے سبب ،لوگوں کواطلاعتی اور ابلاغی ٹکنالوجیوں کے طویل مدتی، سماجی اور اقتصادی مضمرات سے عملی واقفیت حاصل ہوتی ہے۔اب دفتروں ، پیداوار ،ٹیلی کمیونی کیشن اور رابطہ پیدا کرنے والے الیکٹرانک نیٹ ورکوں میں خود کاری(Automation)کا دور دورہ ہے۔آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ ابلاغی ٹکنالوجی کی ترقی سے اطلاعی انتظام جیسے نئے نئے شعبے وجود میں آگئے ہیں۔ اب جب کہ جدید ٹکنالوجی تک دستر س آسان ہے ، کام کے انداز،معاملات کے حصول اور خیالات میں اشتراک سے متعلق طرز فکر بدل چکا ہے ۔مثال کے طور پر انٹر نیٹ کی آسانی کی وجہ سے اب اسکول کے طالب علم ،اپنے پروجیکٹ کا کام آسانی سے کرلیتے ہیں اورتفویض شدہ کام انجام دینے کے بارے میں ان کا اندازِ فکر بدل چکا ہے ۔اب لوگ دفتروں میں ای میل کے ذریعے پیغامات بھیجتے اور وصول کرتے ہیں۔دنیا کے کسی بھی خطے کے لوگوں کے ساتھ مختلف امور پر تبادلۂ خیال آسان ہوچکا ہے ۔انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات حاصل کرنا اور ان کا تبادلہ کرنااس کی ایک مثال ہے۔اب اگر کسی استادکو یومِ اساتذہ پر، جو 5ستمبر کوہوتا ہے، مضمون لکھناہو تو وہ اس میں عمومی باتیں نہیں لکھے گا۔اس کے بجائے وہ انٹرنیٹ پر معلومات تلاش کرے گاجس سے اسے معلوم ہوگا کہ ’یومِ اساتذہ‘۔مختلف ملکوں میں مختلف طریقوں سے منایا جاتا ہے۔اس طرح انٹرنیٹ کی مدد سے وہ ایک دل چسپ اور معلوماتی مضمون لکھ سکے گا۔آج کے( 10سال کی عمر تک کے) وہ بچے جو نیشنل جیوگریفک National Geographic اورانیمل پلینٹAnimal Planetوغیرہ ٹی وی چینل دیکھتے ہیں ان کو جانوروں،ان کی عادتوں اور ان کی زندگی کے بارے میں خاص معلومات ہوتی ہے۔پانی کی بربادی،ماحولیاتی تباہی (Environment Degradation)اور حفظانِ صحت وغیرہ کے مسائل سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے مختلف قسم کے میڈیا کو مؤثر طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔اب جیسا کہ آپ نے محسوس کرلیا ہوگا،ابلاغ کے نئے نئے امکانات پیدا ہورہے ہیں اور معلومات اور علوم میں اضافہ ہورہا ہے۔

اب ہم ’انسانی ماحولیات اور علوم خاندان داری،سے متعلق اس درسی کتاب‘کے اختتام پر پہنچ رہے ہیں۔آخری باب کے مطالعے کے بعد توقع ہے کہ آپ لوگوں کے ان حقوق اور فرائض پر گفتگو کرسکیں گے جن کے نتیجے میں نہ صرف   اپنی ذات کو بلکہ خاندان اور سماج کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔

سرگرمی3

  ذیل میں چند صورتیں درج ہیں۔ان کا مطالعہ کیجیے اور ان عوامل کی نشان دہی کیجیے جو مرسل اور وصول کنندہ دونوں کی الگ الگ طرز عمل کا سبب بنتے ہیں۔

1۔فلم کی تعریف و تحسین کلاس میں ٹیچر نے شیام بینگل کی ہندی فلم’ہری بھری‘کو اچھے سنیما کی مثال کے طورپر منتخب کیا،طلبا اس سے متفق نہ تھے۔انھیں فلم ’’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘‘پسند تھی۔ایسا کیوں تھا؟

2۔کسی خاندان کوہفتے کے آخری دن پکنک پر جانا تھا۔نوجوان لڑکے چاہتے تھے کہ کسی قریبی ہل اسٹیشن پر جایا جائے جب کہ دادی دادا کا خیال تھا کہ کسی تاریخی یا مذہبی مقام کا پروگرام بنایا جائے۔ چھٹی کے د ن کی اس پکنک کے بارے میں بچوں اور دادی دادا کے خیالات میں اختلاف کیوں تھا؟

3۔دسویں کلاس کی طالبہ نندا کلاس میں اپنے ٹیچر جناب پاٹھک کو بہت غور سے سن رہی تھی۔اچانک وہ بول پڑی’’سر‘‘آپ کا پیچ ڈھیلا ہے‘‘۔

ساری کلاس ٹھٹھّے مار کے ہنس پڑی۔

جناب پاٹھک نے کہا’’مجھے بات اچھی نہیں لگی۔کیا تمھیں آداب نہیں معلوم؟‘‘

ظاہر ہے ٹیچر کو غصہ آگیا تھامگرننداکی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ٹیچر اور طلبا کے رد عمل میں فرق کیوں ہے؟ ٹیچر نے اسے بلایا اور اس سے اس سلسلے میں وضاحت چاہی۔

نندا:سر،آپ کے چشمے کا پیچ ڈھیلا ہے۔میں نے سوچا کہ آپ کو بتادوں ورنہ چشمے کے شیشے گر کر ٹوٹ جاتے۔

جناب پاٹھک:اوہ،میں یہ بات نہیں سمجھ سکا۔ٹھیک ہے یہ بات بتانے کے لیے تمھاراشکریہ ۔

پوری کلاس اس جواب سے خوش ہوگئی اور سب نے چین کی سانس لی کہ ٹیچر کے ساتھ کوئی شرارت نہیں کی گئی تھی۔ٹیچر نے بھی فوراً اپنا چشمہ چیک کیا اور اس کا پیچ کس دیا۔

سوال :اوپر کی مثال میں نندا اور جناب پاٹھک کے تناظر (Perspective)میں اختلاف تھا اور اسی وجہ سے غلط فہمی پیدا ہوگئی تھی۔ان دونوں کے تناظرمیں کیا فرق تھا؟

کلیدی اصطلاحات

تناظر(Perspective)،ابلاغ(Communication)،رپورٹ ٹاک(Report talk)،باہمی گفتگو (Rapport talk)،ثقافت(Culture)۔

سوالات برائے نظر ثانی

ابلاغ میں تناظروں کے تعین میں ثقافت کا کیا کردار ہے؟

ابلاغ کے عمل میں عمر،صنف اور تعلیم کس طرح اثر اندازہوتے ہیں؟

حوالے کے لیے ویب سائٹ

http://www.aging.utoronto.ca/node/95