Skip to content
Insanimaholiatauruloom-Part-II

انفرادی ذمے داریاں اور حقوق

(Individual Responsibilities And Rights)

باب19


آموزشی مقاصد 

  اس باب کے مطالعہ کے بعد طلبا:    

  • ذمے داریوں اور حقوق کے باہمی رشتے پر اظہار خیال کر سکیں گے۔
  • اپنی ذات، خاندان، برادری اور سماج کے وسیع ترمفاد کے تئیں اپنی ذمے داریوں کا تجزیہ کرسکیں گے۔
  • ۔

    19.1تعارف

    آپ نے زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق لوگوں کے حقوق اورذمے داریوں کے بارے میں پڑھا ہوگا۔آئیے ہم مختصر طور پر انھیں دہرائیں ۔

    تمام لوگوں کو زندگی، آزادی،سلامتی،مساوات اور وقار کے ساتھ رہنے کا حق حاصل ہے۔ ذات،نسل، رنگ، صنف، قومیت، جائے پیدائش،شہری یا دیہاتی ہونے کے فرق یا سماجی اور اقتصادی پس منظروں سے قطع نظر تمام مردوں، عورتوں، جوانوں اور بچوں کوان حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔یہ حقوق انفرادی یا اجتماعی طاقت یا باہمی مذاکرات اور باہمی تعاون کے ذریعے تحریری یا غیر تحریری سماجی معاہدوں کی شکل میں نافذ ہیں۔

    حقوق اور آزادی کا وجود خلا میں یا صرف یقین کی بنیاد پر نہیں ہوسکتا۔آزادانہ طور پر حاصل کیے گئے حقوق اور آزادی کاانحصار ان لوگوں پرہے جو ان حقوق کوپہچانیں اور ان کے نفاذ میں مدد گار ہوں۔انسانوں کے درمیان باہمی عزت و احترام اور ایک دوسرے کی اہمیت کا اعتراف بہت اہم بھی ہے اور ہر طرح کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک بنیادی اصول بھی۔ حقوق اور ذمے داریاں ایک دوسرے کا منطقی نتیجہ ہیں۔

    مہاتماگاندھی کا کہنا ہے:’’میں نے اپنی ان پڑھ مگردانش مند ماں سے سیکھا ہے کہ تمام حقوق کا استحقاق اور تحفظ اپنے فرائض کو اچھی طرح انجام دینے سے ہی ممکن ہے۔‘‘

    ہر حق ایک جوابی ذمے داری کو جنم دیتا ہے۔موجودہ زمانے میں ہم اپنے حقوق کے بارے میں زیاد سے زیادہ باخبر ہوتے جارہے ہیں اور یہ ایک مثبت تبدیلی ہے۔بہت سی غیر سرکاری تنظیمیں(NGO)لوگوں کو یہ بتانے میں لگی ہوئی ہیں کہ ان کے حقوق کیا ہیں اور وہ اپنے حقوق کس طرح منواسکتے ہیں۔لہٰذا جس طرح ہم اپنے حقوق سے آگاہ ہیں اسی طرح ہمیں اپنی ذمے داریوں یا فرائض کے بارے میں بھی حساس اور باخبر ہونے کی ضرورت ہے۔

    سرگرمی1

    مندرجہ ذیل خیال پر فکر انگیز مباحثہ کیجیے :

    ’’یہ بات میرے لیے ہمیشہ ایک معمہ رہی کہ لوگ اپنے ہی جیسے انسانوں پر فخر کا احساس کیسے کرسکتے ہیں‘‘۔مہاتماگاندھی

    بالغ لوگوں کے انفرادی حقوق ہمیشہ ذمے داریوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ۔اگر کوئی شخص اپنی ضروریات،اپنے مفادات،تحفظ،احساسات،خواہشات اور اپنی ذات کی قدر کرتا ہے اور ان کو پہچانتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ اس کی زندگی کے ہر شعبے کی حفاظت اور نگہ داشت ہو تواس کے لیے یہ بھی لازمی ہے کہ وہ دوسروں کے لیے ایسا ہی رویہ اختیار کرے۔چوں کہ اگرحقوق عموماً اور انسانی حقوق خصوصاً انسان کی بعض لازمی اور بنیادی ضروریات کا ماحصل ہیں تو ذمے داریاں کسی فرد کی وہ مخلصانہ کوششیں ہیں جو اپنے اور دوسروں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کی جاتی ہیں۔اپنی ذمے داریوں کوبہ حسن وخوبی انجام دے کر کوئی بھی شخص بہ حیثیت انسان اپنے ہی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔حقوق اور فرائض ایک ہی سکّے کے دو رخ ہیں۔مثال کے طور پر ایک نوبالغ شخص کی   ذمے داری ہے کہ وہ خود کو تعلیم سے آراستہ کرے اور اپنے جسم اوردماغ کی صحت کا خیال رکھے جس سے نہ صرف اس کی اپنی بلکہ سارے گھروالوں کی زندگی کے معیار میں اضافہ ہوگا۔

      اپنے حقوق پر اصرار کرنا بہت اہم ہے لیکن یہ بات بھی کم اہمیت کی حامل نہیں کہ ایسا کرتے ہوئے دوسروں کے حقوق پامال نہ ہوں۔مثال کے طور پر شادی بیاہ اور تہواروں کے موقعوں پر موسیقی کا استعمال کرنا ہر فرد کا حق ہے لیکن رات کے وقت پُر شور موسیقی    آس پاس کے لوگوں کے لیے تکلیف دہ ہوسکتی ہے اور اس سے رات میں سکون سے رہنے کا ان کا حق پا مال ہو سکتا ہے۔کیا آپ اس بات سے متفق ہیں؟کیا آپ کے ذہن میں ایسی کچھ اورمثالیں بھی ہیں جب آپ کے حقوق کا دوسرے لوگوں کے حقوق کے ساتھ تصادم ہواہو۔ایسی صورتوں میں مصالحت کس طرح ہوسکتی ہے؟

    ذمے داری کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جب آپ کسی دوسرے کے حق کو پامال ہوتا دیکھیں تو مداخلت کریں۔مثلاً اگر آپ یہ دیکھتے ہیں کہ کچھ لڑکے سڑک پر کسی لڑکی کو پریشان کررہے ہیں اور وہ لڑکی ان کی اس حرکت پر احتجاج بھی کررہی ہے تو آپ کیا کریں گے؟

    ذیل میں شکل 1کو دیکھیے اور اپنی زندگی کے موجودہ مرحلے کی ذمے داریوں پراظہارخیال کیجیے ۔


    بالغ فرد کی ذمے داریاں


    خوداپنے تئیں ذمے داری

    • کسی عمل کی سچائی کا پتا لگانے کے لیے مخلصانہ اور ایمان دارانہ کوشش کرنا۔
    • توہمات اور غلط تصورات سے چھٹکارا پانا۔
    • اعلا اخلاقی اقدار کو فروغ دینا اور انفرادی کردار کی اصلاح کرنا۔
    • اچھا ذریعۂ معاش حاصل کرنے کی صلاحیت کو فروغ دینے کے لیے مہارتیں پیدا کرنا۔
    • آئندہ نسل کا خیال رکھتے ہوئے اپنی گزر بسر میں اخراجات پر قابو رکھنا۔
    • سبھی ذاتوں ، نسلوں، زبانوں، ثقافتوں اور مذاہب کے لوگوں کے لیے افہام وتفہیم اور احترام کے جذبے کو فروغ دینا۔

    خاندان کے تئیں ذمے داری

    • گھر والوں اور بچوں کی مالی،جسمانی اور جذباتی مدد کرنا
    • اپنے آپ کو بہتر تعلیم یافتہ اورباخبر بنانا اور بچوں کو  اچھی تعلیم دلانا ۔
    • بچوںمیں اچھی انسانی اقدار کوفروغ دینا۔
    • خاندانی رشتوں کو مضبوط بنانا جس میں بہ حیثیت انسان ہر فرد کے حقوق کی پاس داری کی جائے۔
    • قناعت پسند اور پیار بھرے خاندانی ماحول کو فروغ دینا اور اسے برقرار رکھنا۔

    ذاتی: کچھ اصول


    اپنی برادری یا اپنے سماج کے تئیں ذمے داری: عالمی تہذیب کی پائیدارترقی کے تناظر میں

    • قوم،معاشرے اور خاندان کے لیے وفادار رہنا۔
    • تمام انسانوں کی خدمت کی فہم کو فروغ دینایعنی غریبوں ،ضرورت مندوں ،معذوروں،بوڑھوں اور یتیموں کی   فلاح و بہبودمیں تعاون دینا۔
    • عالمی برادری اور شہریت کے شعور کو فروغ دینا۔
    • اس بات کی شعوری کوشش کرنا کہ کسی کا اپنا عمل دوسروں کے حقوق کو پامال نہ کرے۔
    • عالمی ہم آہنگی ،اتحاد اور امن میں تعاون دینا۔
    • تمام ذاتوں،نسلوں،زبانوں ،ثقافتوں اور مذاہب کے مردوں،عورتوں اور بچوں کے مساوی حقوق کوفروغ دینے کی کوشش   کرنا۔
    • ماحولیاتی مسائل کے لیے اپنی ذمے داریوں کو یقینی بنانا۔

    شکل 1: ایک بالغ فرد کی ذمے داریاں  


    19.2   کیاہر فرد کے حقوق اور ذمے داریاں الگ الگ ہوتی ہیں؟

    (Do responsibilities and rights differ from individual to individual)

    مختلف حالات میں حقوق اور ان سے متعلق ذمے داریوں کی فہرست بہت طویل ہے۔یہ حقوق اور ذمے داریاںملکی اور بین الاقوامی ایجنسیوں،حکومت اور شہریوں،مالک اور ملازموں،استاد اور طلبا،والدین اور بچوں ،مردوں اور عورتوں،ڈاکٹر اور مریض،صارف اور پیدا کار(Producer)یا خدمات فراہم کرنے والوں،شوہر اور بیوی اور ایسے ہی بہت سے دوسرے لوگوں کے درمیان ہوسکتی ہیں۔ہر رشتے میں دونوں فریقوں کی ذمے داریاں مختلف ہوتی ہیں۔یہی معاملہ حقوق کا بھی ہے۔کسی بھی خاندان میں حقوق اور فرائض کی انجام دہی دو طرفہ ہوتی ہے۔البتہ ان معاملات میں ثقافتی طور طریقوں،عقائد، نظام مراتب اورہرفرد کی صنفی خصوصیات کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔مثال کے طور پر بڑے بھائی کی ذمے داریاں اور حقوق اکثر چھوٹی بہن کے حقوق اور فرائض سے الگ الگ ہوتے ہیں۔کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ثقافتی طور طریقے اور رسمیں انفرادی حقوق کی راہ میں حائل ہوجاتی ہیں یاان میں ٹکراؤ ہوجاتا ہے۔ مثلاًہندوستانی خاندانوں میں لوگ اس بات کے سختی سے قائل ہوتے ہیں کہ لڑکوں کے لیے اپنی شریکِ حیات کے انتخاب میں والدین کی منظوری حاصل کرنا لازمی ہے۔لیکن اگر والدین اس ساتھی کو قبول نہ کریں جسے ان کے بالغ بیٹے یابالغ بیٹی نے شادی کے لیے پسند کیا ہے تو کیا صورت حال ہوگی؟ایسے میں اس لڑکے یا لڑکی کو کیا کرنا چاہیے؟ان حالات میں اپنی پسند کا شریکِ حیات چننے کے معاملے میں کسی فرد کے حقوق کا کیا ہوگا؟

    سرگرمی2

    ایسے دو افراد یا دوگروپوں کا انتخاب کیجیے جو باقاعدگی کے ساتھ ایک دوسرے سے مل کر کام کرنا چاہتے ہوں۔ان کے حقوق اور فرائض کا ایک خاکہ بھی تیار کیجیے۔

    19.3   حقوق کے تحفظ اور احساسِ ذمے داری کے فروغ کا طریقہ

    (How to protect rights and promote the sense of responsibility)

    ہم اپنی زندگی میں مختلف مرحلوں اور صورتوں سے گزرتے ہیں جن کے مطابق ہماری ذمے داریاں اور حقوق بھی بدلتے جاتے ہیں۔ظاہرہے کہ شیر خوار یا نوزائیدہ بچوں پر کوئی ذمے دار ی عائد نہیں ہوتی لیکن انھیں سارے انسانی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ فرد کی نشو ونما کے ساتھ ساتھ اس کی ذمے داریاں بھی شروع ہوتی جاتی ہیں۔ بچوں کو شروع ہی سے ذمے داریاں سپرد کرنا بہت ضروری ہے تاکہ وہ اپنے حقوق پر اصرار کے ساتھ ساتھ اپنی ذمے داری کی اہمیت بھی سمجھ سکیں۔اس طرح وہ وقت کے ساتھ ساتھ خاندان اور سماج کا فرد ہونے کے ناطے اپنی ذمے داریوںکوانجام دینے کے بھی قابل ہوسکیں گے۔

    جیسا کہ ہم اس کتاب کے پہلے حصے ’عالمی سماج میں رہنا اور کام کرنا‘میں پڑھ چکے ہیں، فرد کے معیارِزندگی پر اس کے خاندان ، پڑوس، برادری اور سماج کا، جس میں کوئی فرد نشو ونماپاتا ہے، مختلف ماحولیاتی حالات اثر انداز ہوتے ہیں۔جیساکہ دنیا کے دیگر معاشرے میں ہوتا ہے۔  مواصلاتی ،ٹکنالوجی کی ترقی سے ہم ان مسائل اور مشکلات سے واقف ہوگئے ہیں جن کا تجربہ ہمارے ملک یا دنیا کے مختلف حصوں کے لوگوں کوہوتا ہے۔ مثال کے طور پر2008میں ہم نے دیکھا ہے کہ بہار میں سیلاب سے گاؤں کے گاؤں بہہ گئے اورلوگ بے گھر اوربے سہارا ہوگئے۔ایسی قدرتی آفات کے دوران اکثر غذا ،کپڑوں یا پیسے کی شکل میں امداد کے لیے اپیلیں کی جاتی ہیں۔بعض اوقات غیرسرکاری تنظیمیں یا اخبارات (مثلاً ٹائمز آف انڈیا)اورنیوزچینل(جیسے این ڈی ٹی وی)امدادی مہم چلاتے ہیں۔ایسے اقدامات پر ہمارا رد عمل کیا ہوتا ہے؟کیا یہ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم اس میں ہر ممکن تعاون دیں؟

    سرگرمی3

    درج ذیل صورت حال کو پڑھیے اور مباحثہ کیجیے :

    پشپا 15سال کی ہے۔اس کا باپ مزدوری کرتا ہے اور ماں کئی گھروں میں کام کرنے جاتی ہے۔دونوں ہی دن کے بیشتر حصے میں گھر سے باہر رہتے ہیں ۔شام کو پشپاصفائی اورکپڑوں پر پریس کرنے کے لیے دو گھنٹے کے لیے پڑوس میں کسی کے گھر جاتی ہے۔وہ پڑھنا چاہتی ہے لیکن اسکول نہیں جاسکتی کیوں کہ وہ گھر کی سب سے بڑی لڑکی ہے۔اسی لیے اسے دن بھر اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال کے لیے گھر پررہنا پڑتا ہے۔

    استاد کو چاہیے کہ در ج ذیل سوالات پر مباحثے کے لیے طلبا کی رہنمائی کرے۔

    سوالات  

    • کیا خاندان کے لیے روزی روٹی کما نے میں والدین کی مدد کرنا ،بچہ مزدوری(Child labour)ہے؟
    • کیا ایسی صورت میں پشپا کے حقوق پامال ہورہے ہیں؟کون سے حقوق پامال ہورہے ہیں؟
    • پشپا کے والدین کی ذمے داریوں کے بارے میں آپ کاکیا خیال ہے؟
    • خاندان کے لیے پشپا کی ذمے داریوں کے بارے میں آپ کاکیا خیال ہے؟

    کلیدی اصطلاحات

    حقوق (Rights)،فرائض(Duties)،ذمے داریاں(Respon Scbilities)

      سوالات برائے نظر ثانی

    1۔ (a) خاندان(b)پڑوس یا برادری (c )اور سماج کے فرد کی حیثیت سے اپنی پانچ ذمے داریاں بیان کیجیے۔

    2۔حقوق اور ذمے داریوں کے درمیان رشتے کی وضاحت کیجیے۔


    انسانی حقوق کا سفر

    یہ ہزاروں سال کا احاطہ کرتا ہے اورتحریر شدہ تاریخ کے پورے عرصے میں مذہبی،ثقافتی،فلسفیانہ اور قانونی تبدیلیوں کا عکاس ہے۔کئی قدیم دستاویز وں اور بعد کے زمانوں کے مذاہب اور فلسفوں میں ایسے مختلف تصورات ملتے ہیں جن کو حقوق انسانی سے تعبیر کیا جاسکتاہے۔ انسانی حقوق سے متعلق بیشتر جدید قوانین اور انسانی حقوق کی تعبیرات حالیہ برسوں میں ہی وضع کی گئی ہیں۔

    ان میں سے بعض قابل ذکر دستاویزات اور اعلانات حسب ذیل ہیں:

    • 539ق م کا سائرس سلنڈر(Cyrus Cylinder)۔یہ ایرانی بادشاہ سائرس کا اعلامیہ ہے جونو بابلی(Neo-Babylanion) سلطنت فتح کرنے کے بعد پیش کیا گیا تھا۔
    • اشوک کے فرمان جو272اور231ق م کے درمیان ہندوستان کے راجا اشوک نے جاری کیے تھے ۔
    • میثاق مدینہ۔یہ622عیسوی کا تحریری معاہدہ ہے جسے حضرت محمدؐ نے یثرب (جو بعد میں مدینہ کہلایا)کے قبیلوں اور خاندانوں اور مسلمانوں ،یہودیوں اور کافروں کے درمیان کیا تھا،اور اسے ایک آئین کی حیثیت حاصل ہے ۔
    • 1215کا انگلش میگناکارٹا(Magna Carta)۔یہ خاص طور پر انگریزی قانون کی تاریخ میں اہمیت رکھتا ہے اور اسی لیے آج کے بین الاقوامی قانون اور آئینی قانون میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔
    • 1689 کابرٹش بل آف رائٹس تاج برطانیہ کی جانشینی کے تصفیے اور رعایا کی آزادیوں اور حقوق کے اعلان کا قانون۔ اس بل نے مملکتِ متحدہ (United kingdom)میں حکومت کے استبدادی اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا۔
    • اٹھارھویں صدی میں امریکہ (1776)اور فرانس(1789)میں دو اہم انقلاب ہوئے جن کے نتیجے میں امریکی   اعلامیہ آزادی (United States Declaration of Independence)اور فرانس کے انسانوں اور شہریوں کے حقوق کے اعلامیے(Declaration of the Rights of Man and of the citizen)کو منظوری حاصل ہوئی۔
    • 1776 کا حقوق کا ورجینیااعلامیہ (The Virginia Declaration o(Rights)اس نے بہت سے بنیاد حقوق اور آزادیوں کی بنیاد ڈالی۔
    • 26 اگست 1789کو فرانس کی قومی اسمبلی نے شہریوں اور انسانوں کے حقوق کے اعلامیے (Declaration of the Rights of Man and the Citizen)کومنظوری دی۔

    •   ریڈکراس کی بین الاقوامی کمیٹی،1864کے لائبر کوڈ(Lieber Code) اورپہلے جنیوا کنوینشن،1864 نے بین الاقومی انسان دوستی کی بنیاد ڈالی جس میں مزید پیش رفت دونوں عالمی جنگوں کے درمیان ہوئی۔   
    • پہلی عالمی جنگ کے بعد،1919 میں معاہدہ ٔ ورسیلہTreaty of versailles سے متعلق مذاکرات کے دوران انجمن اقوام(League of Nations)کا قیام عمل میں آیا۔ترکِ اسلحہ اجتماعی سلامتی کے ذریعے جنگوں کی روک تھام،مذاکرات کے ذریعے ملکوں کے تنازعات کا تصفیہ،ڈپلومیسی اور عالمی فلاح و بہبود انجمن اقوام کے کچھ اہم مقاصد تھے۔اس کے منشور میں یہ دفعہ بھی شامل تھی کہ جو حقوق بعد میں انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ (Universal Declaration of Human Rights)میں شامل کیے گئے ان کو فروغ دیا جائے۔
    • 1945 کے یالٹا(Yalta) کانفرنس میں لیگ کی جگہ ایک نئی تنظیم قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔دوسری عالمی جنگ کے بعد1945میں تنظیم اقوام متحدہ کا منشورپیش کیا گیا۔
    • انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ(Universal Declaration of Human Rights)1948کی دستاویز اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون(International Bill of Human Rights) بشمول بین الاقوامی سماجی اور سیاسی حقوق کی قرار داد(ICCPR)اور بین ا لاقوامی سماجی ،معاشی اور  ثقافتی قرار داد
    (International Covenant of Social, Economic and Cultural Rights)(ICSECR) ۔

    عملی کام19

      بلوغت کا مطالعہ   (Study of Adulthood)  

    موضوع: درج ذیل امور سے متعلق 35سے60سال کی عمر کے ایک بالغ مرد اور ایک بالغ عورت کا مطالعہ کیجئے۔

             (i)  صحت اور بیماری

            (ii)  جسمانی محنت اور وقت کی منصوبہ بندی

          (iii)  خوراک کے متعلق رویہ

          (iv)  مسائل کا مقابلہ

            (v)  میڈیا کی دست یابی اور ترجیحات

    کام:

       1۔35سے60سال کی عمروالے کسی مرد اور عورت کا انتخاب کیجیے۔

       2۔ان سے مندرجہ بالا امور کے سلسلے میں سوالات کر کے معلومات حاصل کیجیے۔

       3۔ان کے جوابات میں جو مشابہتیں اور اختلافات ہوں ان کا تجزیہ کیجیے اور پتا لگانے کی کوشش کیجیے کہ ان کے  

               جوابات میں اختلافات کی وجہ عمر کا فرق ہے یا صنف ۔

    عملی کام کی انجام دہی:مندرجہ بالا دو لوگوں کا انتخاب کر کے(یہ لوگ آپ کے خاندان یا پڑوس کے بھی ہوسکتے ہیں)ان سے مندرجہ ذیل سوالات کیجیے۔

    A۔   صحت اور بیماری سے متعلق سوالات  

    1۔گزشتہ چند برسوں میں کیا آپ کو صحت یا بیماری سے متعلق کوئی مشکل پیش آئی؟

       2۔ آپ نے کیا علاج کیا؟آپ نے طبی مددلی یا گھر یلو علاج کیا؟

       3۔کیا بیماری میں آپ نے خاندان کے کسی فرد یا کسی پڑوسی کا سہارا لیا یا خودہی سب انتظام کیا۔

       4۔ خود کو صحت مند رکھنے کے لیے آپ کیا کرتے ہیں؟

       5۔کیا آپ نے صحت کا بیمہ کرایا ہے؟

    جسمانی سرگرمی اورانتظام سے متعلق سوالات

      1۔اپنے دن بھر کے معمولات کو مختصر طور پر بتائیے۔(اس سوال کے جواب سے ہی آپ کواگلے سوالات کا اشارہ مل جائے گا۔آپ یہ پتا لگانے کی کوشش کیجیے کہ  وہ شخص دن کے دوران کتنا سرگرم رہتا ہے)

       2۔جو کام آپ کو کرنے ہوتے ہیں ان کو انجام دینے کے لیے آپ کیا طریقے اختیار کرتے ہیں؟کیا آپ مخصوص اوقات میں مخصوص سرگرمیاں انجام دیتے ہیں؟کیا ایک جیسے کاموں کو آپ ایک جگہ اور ایک ساتھ انجام دیتے ہیں۔(اس جواب سے آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ شخص اپنا وقت کن کاموں میں خرچ  کرتا ہے)

    غذائی طرز عمل سے متعلق سوالات

       1۔آپ کون سی غذائیں کھانا پسند کرتے ہیں؟

       2۔کیا کوئی غذا آپ کو نا پسند ہے؟

       3۔کیا کچھ غذائیں مذہبی ،سماجی و جوہات کی بنا پر آپ کے خاندان میں استعمال نہیں ہوتیں؟

       4۔آپ کے غذائی طرز عمل پر کون کون سی باتیں اثر انداز ہوتی ہیں؟

    چیلنجوں کا مقابلہ کرنے سے متعلق سوالات

                ہم میں سے ہر شخص کو اپنی زندگی میں کسی نہ کسی چیلنج کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

       1۔کیا آپ کسی ایسی دشوار صورت حال کے بارے میں بتاسکتے ہیں جس کا آپ کو سامنا کرنا پڑا ہو؟

       2۔ اس صورت حال سے گزرنے کے دوران آپ کے کیا جذبات تھے؟

       3۔آپ نے اس صورت حال کا مقابلہ کیسے کیا؟کیا آپ نے اس صورت حال کا مقابلہ تنہا کیا یا خاندان کے دیگر افراد نے آپ کی مدد کی؟

       4۔کیا آپ کے خیال میں آپ نے اس حالت کا مقابلہ کرنے کے لیے جو کچھ کیا آپ اس سے مختلف طور پر بھی نمٹ سکتے تھے؟

    میڈیا کی سہولت اور ترجیحات سے متعلق سوالات

       1۔دیکھنے یا پڑھنے کے لیے کون سا ذریعۂ ابلاغ (Media) آپ کے پاس موجود ہے۔ اخبارات،ریڈیو،ٹیلی ویژن یافلم

       2۔آپ کس میڈیا کوپسند کرتے ہیں اور کیوں؟

       3۔آپ اپنے پسندیدہ میڈیا کے کون سے پروگرام دیکھنا ؍پڑھنا پسند کرتے ہیں؟

       4۔اپنا پسندیدہ میڈیا آپ کب دیکھتے؍پڑھتے ہیں؟

               مندرجہ بالا پہلوؤں میں سے ہر ایک کے بارے میں درج ذیل جدول کی مدد سے اپنی معلومات کے نتائج لکھیے۔

    صحت اور بیماری

    نمبر شمار صحت کی پریشانی؍ بیماری کیا علاج  کیا بیماری سے نمٹنے کے لیے انتظام خود کیا
    یا دوسروں کی مددلی
    صحت کی دیکھ بھال کے  اقداماتصحت کا  بیمہ
    بالغ عورت  



    بالغ مرد




      جسمانی محنت اوروقت کی منصوبہ بندی

    جسمانی محنت اور وقت کی منصوبہ بندی: بالغ عورت

    سرگرمی              
    وقت( گھنٹوں میں)


















    جسمانی سرگرمی اوروقت کی منصوبہ بندی:    بالغ مرد

    سرگرمی              
    وقت( گھنٹوں میں)



















    جن اصولوں کا آپ نے مطالعہ کیا ہے ان کی بنیاد پر وقت کی منصوبہ بندی کی تدبیروں پر تبصرہ کیجیے۔

    بالغ عورت

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بالغ مرد

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    غذائی رویہ

    نمبر شمار پسندیدہ غذائیں نا پسندیدہ غذائیں مذہبی یا سماجی و جوہات کی بنا پر متروک غذائیں
    غذائی طرز عمل پر اثر انداز ہونے والے عوامل
    بالغ عورت  



    بالغ مرد





    چیلنجوں کا مقابلہ

    ذیل میں دی گئی جگہ میں کسی ایک مشکل صورت حال اور اس کا مقابلہ کرنے کی تدبیروں کابیان کیجیے جن کا دو بالغ افراد کو سامنا کرنا پڑا ہو۔

    بالغ عورت

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بالغ مرد

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      میڈیا کی سہولت اور ترجیحات

    نمبر شمار میڈیا جن تک رسائی حاصل ہے پسندیدہ میڈیا پسندیدہ پروگرام؍اشیا؍کالم وغیرہ
    میڈیا کو پڑھنے؍دیکھنے کا وقت
    بالغ عورت  



    بالغ مرد




      معمہ    (Crossword   Puzzle)

      عزیز طلبا!

    آپ نے ان ابواب میں کئی نئی اصطلاحات اور تصورات کے بارے میں پڑھا۔اب ہم ایک کھیل کھیلتے ہیں۔یہ کھیل تفریح اورلطف کے لیے ہوگا۔ دوسرے صفحہ پر دیے گئے اشاروں کو پڑھ کر ذیل میں دیے گئے معمے کے جواب بھر یے۔ایک سوال حل کردیا گیا ہے۔

    5


    اشارے

    بائیں سے دائیں

    1۔والدین،ان کے بچوں اور دیگرگھروالوں پر مشتمل گروپ

    3۔امینو ا یسڈ پر مشتمل ایک لازمی تغذیاتی عنصر

    6۔وہ زمانہ یا عمر جس میں آدمی پہلی بار جنسی تولید کے قابل ہوتاہے۔

    8۔دوبارہ بنایا گیا نیم مصنوعی(Semi-Synthetic)ریشہ

    9۔دیہی زندگی کی یااس سے متعلق

    10۔ابتدائی بچپن کا زمانہ

    12۔عمل یا معلومات کی بنیاد پر کچھ کرنے کی صلاحیت

    14۔تغذیاتی پروٹین سے بھر پور غذا

    16۔افراد اور ماحول کے درمیان تعلق کا مطالعہ کرنے والاعلم

    18۔دھاگے کو دہرا کر کے کپڑا بنانے کا عمل

    20۔شہری زندگی کی یا اس سے متعلق

    23۔تغذیہ فراہم کرنے والی چیز

    24۔نباتی یا حیوانی چربی سے تیار شدہ چپچپا سیال  

    25۔خوداپنے بارے میں کسی فرد کا خیال

    اوپر سے نیچے

    2۔ملبوسات،خصوصاً جو اوپرسے پہنے جاتے ہیں

    3۔کسی خاندان میں بچوں کی پرورش کا عمل

    4 ۔فردکی لازمی ضروریات

    5۔کسی دوسرے کے ساتھ خصوصی،جذباتی لگاؤ  

    7۔علم فراہم کرنے کا عمل  

    11۔فوری توانائی فراہم کرنے والی ایک میٹھی غذا

    13۔ٹیلی ویژن،ریڈیو جیسے ابلاغ کے ذرائع

    15۔صحت مند ہونے کی حالت

    17۔بچپن سے بلوغت تک کازمانہ

    19۔محبت،عزت کے اظہار یا کسی تقریب کی یاد گار کے طور پر کسی شخص کو کوئی چیز پیش کر نے کا عمل

    21 ۔متبادل ایندھن کی ایک قسم

    22۔ایک عام مصنوعی ریشہ

    جوابات

    بائیں سے دائیں

    1.Family,3.Protein,6.Puberty,8.Rayon,9.Rural,10.Infancy,12.Skill,

    14.Egg,16.Ecology,18.Knitting,20.Urban,23.Nutrient,24.Oils,25.Self-concept

    اوپر سے نیچے  

    2.Apparel,18.Parenting,4.Need,5.Attachment,7.Education,11.Sugar,

    13.Media,15.Wellness,17.Youth,19.Gift,21.Biogas,22.Nylon


    مزید مطالعے کے لیے حوالے کی کتابیں

    (REFERENCES FOR FURTHER READING)

    Chattopadhyay, K.1985.Handicrafts of India, Council for Cultural Relations.      New Delhi.

    Chisti, R.K., and Jain, R. 2000. Handcrafted Indian   textiles. Roli Books.New Delhi.

    Damhorst,ML,Miller,K.A.and Michelman, S.O.2001.The Meanings of Dress. Fairchild Pub.New York.

    D'Souza,N.1998.Fabric Care. New Age Inernational Pvt.Ltd.New Delhi.

    Ghosh, G.K. and Ghosh, Shukla 1983. Indian Textiles.Rinehart and   Winston. New York.

    Gupta, C.B.2004.Management: Concepts and Practices(5th ed.).Sultan Chand & Sons.New Delhi.

    Harnold, K.H.2001, Essentials of Management: Tata McGraw Hill. New Delhi.

    Joseph, M.L. 1986. Introductory Textile Science. Rinehart and Winston.New York

    Joshi, S.A. 1992. Nutrition and Dietetics. Tata McGraw Hill. New Delhi.

    Kumar, K.J.2008.Mass Communication in India. Jaico Publishing House Mumbai.

    Mahan, K.L. and Escott, S.S. 2008.Krause's Food and Nutrition Therapy(12th ed.) Elsevier Science, Boston.

    Mangal,S.K.2004.Advanced Educational Psychology.Prentice Hall. New Delhi.

    Mishra, G,. and Dalal, A.K.(Eds.).2001.New Directions in Indian Psychology:Vol.1. Social Psychology, Sage, New Delhi.

    Mudambi,S.R..and Rajagopal, M.V.2001.Fundamentals of Foods and Nutrition. New   Age International Pvt.,Ltd.New Delhi.

    Pandey,I.M.2007. Financial Management. (9th ed.).Vikas Publishing House,New Delhi.

    Pankajam,G.2001. Extension Third Dimension of Education. Gyan Publishing House.New Delhi.

    Rao Raja, S.T.2000. Planning of   Residential Buildings. Standard   Distributors, New Delhi.

    Saraswathi, T.S.1999.Culture, Socialisation and Human Development, Sage, New Delhi.

    Sawhney,H.K,.and Mital,M.2007,Family Finance and Consumer studies. Elite Publishing House.New Delhi.

    Sharma,D.2003.Childhood, Family and Socio-cultural Change in

    India. Reinterpreting the Inner World.OUP. New Delhi.

    Sharma, N.2009.Understanding Adolescence. National Book Trust.New Delhi.

    Srivastava,A.K.1998.Child Development Adolescence:An Indian Perspective,   NCERT New Delhi.

    Sturm,M.M,.and Grieser,E.H.1962,Guide to Modern Clothing. McGraw Hill.New York.

    Vidyasagar, P.V.1998. Handbook of Textiles. Mittal Publication   New Delhi.

    Wadhwa,A,.and Sharma,S.2003.Nutrition in the community.Elite Publication New Delhi.

    Yadava,J.S,. and Mathur, P.1998.Issues in Mass Communication,the Basic Concepts.Vol.1.Kanishka Publication New Delhi.