1
نظم
نظم کے معنی ’’ انتظام، تر تیب یا آرائش ‘‘ کے ہیں ۔ عام اور وسیع مفہوم میں یہ لفظ نثر کے مدّمقابل کے طور پر استعمال ہوتا ہے ۔ اس سے مراد پوری شاعری ہوتی ہے ۔ اس میں وہ تمام اصناف اور اسالیب شامل ہوتے ہیں جو ہیئت کے اعتبار سے نثر نہیں ہیں ۔ اصطلاحی معنوں میں غزل کے علاوہ تمام اصناف میں کی جانے والی شاعری کو ’’ نظم ‘‘ کہتے ہیں ۔
عامل خیال یہ ہے کہ نظم کا ایک مر کزی خیال ہوتا ہے جس کے گِر د پوری نظم کا تانا بانا بُنا جاتا ہے ۔ خیال کے تدریجی ارتقا کو بھی نظم کی ایک خصوصیت کہا گیا ہے ۔ طویل نظموں میں یہ ارتقا واضح ہوتا ہے ۔ جب کہ مختصر نظموں میں یہ ارتقا واضح نہیں ہوتا ہے اور اکثر و بیشتر ایک تاثر کی شکل میں ابھر تا ہے ۔
نظم کے لیے نہ تو ہیئت کی کوئی قیت ہے اور نہ موضوعات کی ۔ چنانچہ اردو میں غزل اور مثنوی کی ہیئت میں ، مختلف قسم کے بندوں پر مشتمل نظمیں اور آزاد و معرّا معرّا نظمیں بھی لکھی گئی ہیں ۔ اس طر ح کوئی بھی موضوع نظم کا موضوع ہوسکتا ۔
ہیئت کے اعتبار سے نظم کی چار قسمیں ہوسکتی ہے :
1 پابند نظم
ایسی نظم جس میں بحر کے استعمال اور قافیوں کی ترکیب میں مقر رہ اصولوں کی پابندی کی گئی ہو ، پابند نظم کہلاتی ہے ۔ نئے انداز کی ایسی نظمیں بھی ،جن کے بندوں کی ساخت مروجہ ہیئتوں سے مختلف ہو یا جن کے مصرعوں میں قافیوں کی ترتیب مروجہ اصولوں کے مطابق نہ ہو، لیکن ان کے تمام مصرعے برابر ہوں اور ان کے قافیے کا کوئی نہ کوئی التزام ضرور پایا جائے ، پابند نظم کہلاتی ہے ۔
2 نظم معرا
ایسی نظم جس کے تمام مصرعے برابر ہوں مگر ان میں قافیے کی پابندی نہ ہو، نظم معرّا کہلاتی ہے ۔ کچھ لوگوں نے اسے نظم عاری بھی کہاہے ۔ آج کل اسے نظم معرا ہی کہاجاتاہے ۔
3 آزاد نظم
ایسی نظم جس میں قافیے اورردیف کی پابندی نہیں ہو تی اور اس کے ارکانِ بحر کم یا زیادہ ہوتے ہیں ، جس کی وجہ سے اس کے مصرعے چھوٹے بڑے ہوسکتے ہیں ، آزاد نظم کہلاتی ہے ۔
4 نثر ی نظم
نثر ی نظم چھوٹی بڑی نثر سطروں پر مشتمل ہوتی ہے ۔ اس میں نہ تو ردیف اور قافیے کی پابندی ہوتی ہے اور نہ ہی بحر اور وزن کی ۔