اسمٰعیل میرٹھی
(1844 - 1917)
محمد اسمٰعیل نام ، اسمٰعیل تخلص تھا ، میرٹھ میں پیداہوئے ۔ اس دور کے رواج کے مطابق انھوں نے ابتدائی تعلیم گھر پر مکمل کی ۔ میرٹھی کے ایک عالم ، رحیم بیگ سے فارسی زبان کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔ انگریزی زبان میں بھی مہارت حاصل کر کے انجینئیرنگ کا کور س پاس کیا ۔ قوم کے بچوں کی تعلیم میں دلچسپی کی وجہ سے انھوں نے معلمی کا پیشہ اختیار کیا ۔ اپنے عہد کے اہم شاعروں مثلاً حالی اور شبلی کی طر ح مولوی اسمٰعیل میرٹھی نے بھی اپنی شاعری کو بڑوں اور بچوں دونوں کے لیے تعلیم و تربیت کا ذریعہ بنایا اور درسی کتابیں بھی لکھیں ۔ انھوں نے سادہ اورسلیس زبان میں اردو سکھانے کے ساٹھ ان کتابوں میں اخلاقی موضوعات کو اس خوبی سے شامل کیا کہ پڑھنے والے تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کے زیور سے بھی آراستہ ہوسکیں ۔ اسمٰعیل میرٹہی نے ایسی کئی نظمیں لکھی ہیں جو صرف بچوں کے لیے ہیں اور ہر عہد میں ان کی معنویت اور افادیت بر قرار رہی ہے ۔ اسمٰعیل میرٹھی کا کلام ’’ کلیات اسمٰعیل ‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے ۔
آب زُلال
دکھاؤ کچھ طبیعت کی روانی
جو دانا ہو تو سمجھو کیا ہے پانی
یہ مل کر دو ہواؤں سے بنا ہے
گِرہ کُھل جائے تو فوراً ہوا ہے
نظر ڈھونڈے مگر کچھ بھی نہ پائے
زباں چکھے مزہ ہر گز نہ آئے
ہواؤں میں لگایا خوب پھندا
انوکھا ہے تری قدرت کا دھندا
نہیں مشکل اگر تیری رضا ہو
ہَوا پانی ہو اور پانی ہوا ہو
مزاج اس کو دیاہے نرم کیسا
جگہ جیسی ملے بن جائے ویسا
نہیں کرتا جگہ کی کچھ شکایت
طبیعت میں رسائی ہے نہایت
نہیں کر تا کسی برتن سے کھٹ پٹ
ہر اک سانچے میں ڈھل جاتا ہے جھٹ پٹ
نہ ہو صدمے سے ہرگز ریزہ ریزہ
نہ ہو زخمی اگر لگ جائے نیزہ
نہ اس کو تیر سے تلوار سے خوف
نہ اُس کو توپ کی بھر مار سے خوف
تواضع سے سدا پستی میں بہنا
جفا سہنا مگر ہموار رہنا
نہیں ہے سرکشی سے کچھ سروکار
نہ دیکھوں کے کبھی تم اُس کا انبار
خزانہ گر بلندی پر نہ ہوتا
تو فوارے سے وہ باہر نہ ہوتا
جو ہلکا ہو اُسے سر پر اُٹھائے
جو بھاری ہو اُسے غوطہ کھِلائے
نہ جلتا ہے نہ گلتا ہے نہ سڑتا
نِرا پانی نہیں ہر گز بگڑتا
کسی عنوان سے ہوگا نہ نابود
وہی پانی کا پانی دودھ کا دودھ
لگے گرمی تو اُڑ جائے ہوا پر
پڑے سردی تو بن جاتا ہے پتھر
ہَوا میں کے غائب ہو نظر سے
کبھی اوپر سے بادل بن کے برسے
ہوا پرچڑھ کے پہنچے سیکڑوں کوس
کبھی اولا کبھی پالا کبھی اوس
گُہر ہے بھاپ ہے پانی ہے یا برف
کئی صیغوں میں ہے ایک اصل کی صرف
اُسی کے دم سے دنیا میں تَری ہے
اُسی کی چاہ سے کھیتی ہر ی ہے
پھلوں میں پھول میں ہر پنکھڑی میں
ہر ایک ٹہنی میں ہر بوٹی جڑی میں
ہر اک ریشے میں اُس کی رسائی
غذا ہے جڑ سے کونپل تک چڑھائی
پَھلوں کا ہے اُسی سے تازہ چہرہ
اُسی کے سر پہ ہے پھولوں کا سہرا
اُسی کو پی کے جیتے ہیں سب انساں
اُسی سے تازہ دم ہیں سارے حیواں
یہی معدے کو پہنچاتا رسد ہے
یہی تخلیق میں کرتا مدد ہے
عمارت کا بسایا اُس نے کھیڑا
تجارت کا کیا ہے پار بیڑا
زراعت اس کی موروثی اسامی
صانعت کے بھی اوزاروں کا حامی
کہیں ساگر کہیں کھاڑی کہیں جھیل
کہیں جمنا کہیں گنگا کہیں نیل
یہی پہلے زمیں پر مو ج زن تھا
نہ میداں تھا نہ پربت تھا نہ بن تھا
زمیں پوشیدہ تھی اُس کے بغل میں
نہ تھا کچھ فرق جل میں اور تھل
نہ بستی تھی نہ ٹاپوٗ تھا کہیں پر
اُسی کا دَور دورہ تھا زمیں پر
مگر دنیا میں یکسانی کہاں ہے
جو اَب دیکھو تو وہ پانی کہاں ہے
یہاں ہر چیز ہے کروٹ بدلتی
ہر ایک حالت ہے چڑھتی اور ڈھلتی
کوئی شے ہو، ہوا ہو یا ہو پانی
سبھی کو ہے بڑھاپا اور جوانی
رہا باقی نہ وہ پانی کا ریلا
اُسے خشکی نے پستی میں دھکیلا
زمیں آہستہ آہستہ چوس
چھُپائے مال کو جس طرح کنجوس
تر ی کا جب دامن ہوگیا چاک
تو خشکی نے اُڑائی جا بہ جا خاک
پہاڑ اُبھرے ہوئے میداں پیدا
ہوئے میداں میں نخلستان پیدا
تری کا گو ابھی پلہ ہے بھاری
لڑائی ہے مگر دونوں میں جاری
کیا کرتے ہیں دونوں کاٹ اور چھانٹ
چلی جاتی ہے باہم لاگ اور ڈانٹ
تَری ہر دم چلی جاتی ہے اٹتی
کبھی خشکی بھی ہے کیا پلٹتی
تَری کا تین چوتھائی میں ہے راج
تو خُشکی ایک چوتھائی میں ہے آج
نہیں چلتی تری کی سینہ زوری
زمیں اِک روز رہ جائے گی کوری
پہن رکھا تھا جب آبی لبادہ
مٹاپا بھی زمیں کا تھا زیادہ
مگر اب دن بہ دن چڑھتی ہے خُشکی
تری گھٹتی ہے اور بڑھتی ہے خُشکی
کمی بیشی نہیں آتی نظر کچھ
بہت عمروں میں ہوتا ہے اثر کچھ
(اسمٰعیل میرٹھی )
سوالات
1 پانی کے سدا پستی میں بہنے کی شاعر نے کیا وجہ بیان کی ہے ؟
2 پانی کے پتھر بن جانے سے کیا مراد ہے ؟
3 جب کہیں پستی اور ٹاپو نہیں تھے تو زمین پر کس کا دور دورہ تھا ؟
4 زمین کے تین چوتھائی حصے میں کس کا راج ہے ؟
5 شاعر نے ’’ آب ِزُلال‘‘ کی کیا خوبیاں بیان کی ہیں ؟