سرور جہان آبادی
(1873 -1910)
درگا سہائے سرور ، جہاں آباد ، ضلع پیلی بھیت کے رہنے والے تھے ۔ سرور کے والدمنشی پیارے لال طبابت کے کرتے تھے۔ گھر میں فارسی اور اردو کا چرچا تھا ۔ لڑکپن ہی سے شعر وسخن کی طرف مائل ہوگئے ۔ ’ادیب ‘ اور ’مخزن ‘ میں ان کا کلام نمایاں طور پر شائع ہوتا تھا ۔ عین جوانی میں بیوی کا انتقال ہوگیا۔ ایک سال کا اکلوتا بیٹا تھا ۔ وہ بھی داغ مفارقت دے گیا ۔ ان صدمات کا ان کے دل و دماغ پر شدید اثرہوا ۔ ہر وقت غمزدہ ر ہنے لگے ۔ بالآخر سینتیس سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
سرور جہان آبادی اٹھتے بیٹھتے شاعری میں مگن رہتے تھے ۔ انھوں نے اگرچہ غزلیں بھی کہی ہیں ، لیکن نظم گو کی حیثیت سے زیادہ مشہور ہیں ۔ سچے وطن پرست تھے ، وطنی اور قومی موضوعات پر ڈوب کر لکھا ہے ۔ ان کے یہاں ہندوستان کی مٹی اور ماحول کا گہرا احساس ہے ۔ ان کی شعری فضا میں گنگا ، جمنا ، کوئل ، بھونرا ، پدمنی ، دمینتی ، ہنس وغیر کے ذکر سے خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے ۔ وہ وطن کا تصور ماں کی حیثیت سے کرتے ہیں ۔ ان کی شاعری میں ایک تو ہندوستانی بو باس اور وطن سے محبت کی کیفیت ہے ، دوسرے غم نا کی احساس ہے جو گہری درد مندی میں ڈھل جاتا ہے ۔انھوں نے حُسنِ فطر ت پر بھی بہت اچھی نظمیں لکھی ہیں ۔ ’’ جامِ سرور ‘‘ اور ’’ خم خانہ ٔ سرو ر‘‘ ان کی شاعری کے مجموعے ہیں ۔
مادر وطن
واہ! یہ جاں بخش پانی، یہ ہوائے خوش گوار
یہ تر و شاداب و شیریں میوہ ہائے خوش گوار
ٹھنڈی ٹھنڈی عِطر میں ڈوبی ہوئی باد جنوب
سبز کھیتوں کی ہوائیں اور یہ میدانوں کی دوٗب
ظلِ شفقت ہو ترا اے مادر مشفق دراز
خاک پر کیا کیا تِری تیرے مکینوں کو ہے ناز
اف! یہ تیری چاندنی راتوں کے منظر خوش نما
واہ! یہ اشجار، یہ پھولوں کے زیور خوش نما
سوتبسم تیرے انداز تکلم پر نثار
دل کو کرتی ہیں تری دل کش صدائیں بے قرار
سر زمینِ عیش ہے اے مادرِ دل سوز تو
آروزوؤں کی ہے بزم انبساط افروز تو
تو جوانوں کی ہے ہمت ، دلیروں کی سپر
کانپتے ہیں دشمنوں کے تیری ہیبت سے جگر
نورِ دانش تو، فروغ جلوہ ایما ں ہے تو
دل ہے تو ، سرمایہ صبرو شکیبِ جاں ہے تو
تیرا دیواستھان دیوی دل کے کاشانے میں ہے
تیری تصویرِ مقدس ہر صنم خانے میں ہے
سرسوتی کا روپ ہے ، دُرگا کا ہے اوتار تو
نظق و دانش کی ہے دیوی ، مادر غم خوار تو
واہ یہ سندر چھب تری، یہ سانولی صورت تری
دل کے مندِر کی ہے زینت موہنی مورت تری
یہ تبسم ہائے شیریں ، یہ ادائے دل نواز
واہ! یہ شفقت بھر ی تیری صدائے دل نواز
سبزہ خود رو کا گہوارہ ہے تیری سرزمیں
تختہ خلد بریں ہے تیری خوش منظر زمیں
پاک گنگا جل سے ہے بڑھ کر ترا آبِ طہور
تیرے پاکیزہ ثمر ہیں میوۂ شاخ سرور
آسماں کے نور کی ہے جلوہ گاہ ناز تو
خلد کی ہے پاک دیوی، مادر دم ساز تو
(سرور جہان آبادی )
سوالات
1 نظم کے پہلے بند میں شاعر وطن کی کن کن چیزوں کی تعریف کررہاہے ؟
2 مادر وطن کو آرزوؤں کی بزمِ انبساط کیوں کہا گیاہے ؟
3 مادرِ وطن کو قوتِ بازو اور غم خوار کہنے سے شاعری کی کیا مراد ہے ؟
4 شاعر کو وطن کا جلوہ کہاں کہاں نظر آتا ہے ؟
5 نظم کے آخری بند کا مفہوم اپنے الفاظ میں لکھیے۔