Skip to content
11-Khayaban-e-Urdu-001

5

 علی سردار جعفری 

(1913 - 2000)

سید علی سردار جعفری بلرام پور ، ضلع گونڈہ، اتر پردیش میں پیدا ہوئے ۔ لکھنؤ ، دہلی اور علی گڑھ میں تعلیم حاصل کی ۔ طالب علمی کے زمانے سے ہی ترقی پسندتحریک میں شامل ہوگئے ۔ لکھنؤ سے ایک رسالہ ’’ نیا ادب ‘‘ نکالا ۔ ممبئی میں مستقل سکونت اختیار کی اور وہیں ان کا انتقال ہوا ۔
 سردار جعفری کی شاعری میں سیاسی ، قومی شعور ، قوت اور توانائی ، امنگ اور عوامی مسائل کی عکاسی ملتی ہے اورانسان کی دوستی کے جذبات بھی نمایاں ہیں ۔ انھوں نے ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی ۔ طبقاتی کشمکش ان کی نظموں کا خاص موضوع ہے ۔ ’نئی دنیا کو سلام ‘،’خون کی لیکیر‘،’ایشیا جاگ اُٹھا‘ ،’ امن کا ستارہ‘ ، ’ پتھر کی دیوار ‘ اور ’ایک خواب اور ‘ ان کے شعری مجموعے ہیں ۔ نثر میں بھی ان کی کئی کتابیں ہیں ۔ ان میں ’ تر قی پسند ادب ‘ ،’ لکھنؤ کی پانچ راتیں ‘ اور ’ پیغمبران سخن‘ معروف ہیں ۔ 
 سردار جعفری کی نظم ’اردو‘ بہت سے اردو اداروں میں ترانے کو طور پرگائی جاتی ہے ۔ اس نظم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں اپنے وطن کی سرزمین سے اردو کے رشتے کو نمایاں کیا گیا ہے ۔ اردو کے لسانی ماحول اور اردو کلچر کی وسیع المشربی اور رواداری کے عناصر کی نشاندہی بہت خوبصورتی کے ساتھ کی گئی ہے ۔ اردو نے ہندوستان کے موسموں ، مناظر ، تاریخی روایات ارو ہندوستان کے صوفیوں سنتوں کی بانی سے ہمیشہ فیض اٹھایا ہے ۔ سردار جعفری کی یہ نظم اس پورے تجربے کا احاطہ بھی بہت دل آویز انداز میں کرتی ہے ۔

11-Khayaban-e-Urdu-001

 اردو 

ہماری پیاری زبان اردو 
ہمارے نغموں کی جان اردو
حسین دل کش جوان اردو 
زبان وہ ، دُھل کے جس کو گنگا کے جل سے پاکیزگی ملی ہے 
اودوھ کی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے جس کے دل کی کلی کھِلی ہے 
جو شعرو نغمہ کے خُلد زاروں میں آج کوئل سی کوکتی ہے 

اِسی زباں میں ہمارے بچپن نے ماؤں سے لوریاں سنی ہیں 
جوان ہوکر اسی زباں میں کہانیاں عشق کی کہی ہیں
اسی زباں  کے چمکتے ہیروں سے علم کی جھولیاں بھری ہیں 

اسی زباں سے وطن کے ہونٹوں نے نعرۂ انقلاب پایا
اسی سے انگریز حکمرانوں نے خودسری کا جواب پایا 
اسی سے میری جواں تمنا نے شاعری کا رَباب پایا 

یہ اپنے نغمات ِ پُر اثر سے دلوں کو بیدار کر چکی ہے 
یہ اپنے نعروں کی فوج سے دشمنوں پہ یلغار کرچکی ہے 
ستم گروں کی ستم گری پر ہزارہا وار کر چکی ہے 
یہ وہ زباں ہے کہ جس نے زنداں کی تیرگی میں دیے جلائے ہیں 
یہ وہ زباں ہے کہ جس کے شعلوں سے جل گئے پھانسیوں کے سائے 
فرازِ دارو رسن سے بھی ہم نے سرفروشی کے گیت گائے 

چلے ہیں گنگ و جمن کی وادی میں ہم ہوائے بہار بن کر 
ہمالیہ سے اتر رہے ہیں ترانۂ آبشار بن کر 
رواں ہیں ہندوستاں کی رگ رگ میں خون کی سُرخ دھار بن کر 
 
ہماری پیاری زبان اردو 
ہماری نغموں کی جان اردو
حسین دل کش جوان اردو 

(علی سردار جعفری )

سوالات 

 1 پہلے بند میں شاعر نے اردو کے ساتھ اپنے عشق کا اظہار کس طرح کیا ہے ؟
2 بچپن ، جوانی اور علم و آگہی کی منزلوں میں اردو کس کس طرح ہمارے ساتھ رہی ہے ؟
3 تحریک آزادی میں اردو کا کیا رول رہا ہے ؟
4 ہندوستان کی زینت ہندوستانیوں سے ہے …اس حقیقت کا اظہا ر شاعر نے نظم کے تین مصرعوں میں کیا ہے ، وہ تین مصرعے کونسے ہیں ؟