6
اختر الایمان
(1915 - 1995)
اختر الایمان ، نجیب آباد ، ضلع بجنور میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم کے بعد کچھ مدت تک وہ دلی کالج میں زیرِ تعلیم اور دہلی یونی ورسٹی سے بی ۔ اے کیا ۔ شروع میں محکمہ ٔسِول سپلائی میں کام کیا ، کچھ مدت تک آل انڈیا ریڈیو میں رہے ۔ اس کے بعد ممبئی جاکر فلموں سے وابستہ ہوگئے ۔ ان کی نظمو ں کے چھ مجموعے ’گرداب‘ (1943) ، ’تاریک سیارہ‘(1946) ، ایک منظوم تمثیل ’سب رنگ ‘ (1948) ’ آبِ جو ‘ (1959) ، ’ یادیں ‘(1961) ’ بنت لمحات ‘ (1969) ’ نیاآہنگ ‘ (1977) شائع ہوچکے ہیں ۔ ان کا کلیات ’ سروساماں ‘ (1984) میں منظر عام آیا ۔ ان کی خود نوشت کا نام ’ اس آباد خرابے میں ‘ ہے ۔ چوتھے مجموعے ’ یادیں ‘ پر (1962) میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ دیا گیا ۔ اقبال اعزاز کے علاوہ متعدد صوبائی اکادمیوں نے بھی انھیں اعزاز ات اور انعامات سے نوازا۔
اختر الایمان کی نظموں میں ایک فلسفیانہ تجسس کی کیفیت ملتی ہے ۔ نظم نگاری میں انھوں نے اپنی راہ الگ بنائی ہے ۔ نیکی اور بدی کی کش مکش ، وقت کی اہمیت ، خواب اور حقیقت کا تصادم اور انسانی رشتوں کی دھوپ چھاؤں اُن کے پسندیدہ موضوعات ہیں ۔ وہ براہِ راست انداز کے بجائے رمزیہ انداز کے شاعر ہیں ۔ ان کے یہاں خود کلامی اور مکالمے کی کیفیت ملتی ہے ۔ اختر الایمان اردو نظم کے ممتاز شاعر تسلیم کیے جاتے ہیں ۔
ایک لڑکا
دیارِ شرق کی آبادیوں کے اونچے ٹیلوں پر
کبھی آموں کے باغوں میں ، کبھی کھیتوں کی مینڈوں پر
کبھی جھیلوں کے پانی میں ، کبھی بستی کی گلیوں میں
کبھی کچھ نیم عریاں کم سِنوں کی رنگ رلیوں میں
سحر دم جھٹپٹے کے وقت ، راتوں کے اندھیرے میں
کبھی میلوں میں ، ناٹک ٹولیوں میں ، ان کے ڈیرے میں
تعاقب میں کبھی گم تتلیوں کے ، سونی راہوں میں
کبھی ننھے پرندوں کی نہفتہ خواب گاہوں میں
برہنہ پاؤں ، جلتی ریت ، یخ بستہ ہواؤں میں
کبھی ہم سِن حسینوں میں بہت خوش کام دل رفتہ
کبھی پیچاں بگولا ساں ، کبھی جیوٗں چشم خوں بستہ
ہوا میں تیرتا ، خوابوں میں بادل کی طرح اڑتا
پرندوں کی طرح شاخوں میں چھپ کر جھولتا ، مڑتا
مجھے اک لڑکا آوارہ منش آزاد سیلانی
مجھےاک لڑکا ، جیسے تند چشموں کا رواں پانی
نظرآتا ہے یوں لگتا ہے جیسے یہ بلائے جاں
مرا ہمزاد ہے ، ہر گام پر ہر موڑ پر جولاں
اسے ہمراہ پاتا ہوں ، یہ سائے کی طرح میرا
تعاقب کررہا ہے ، جیسے میں مفرور ملزم ہوں
یہ مجھ سے پوچھتا ہے : اختر الایمان تم ہی ہو؟
خدائے عز و جل کی نعمتوں کا معترف ہوں میں
مجھے اقرار ہے ، اس نے زمیں کو ایسے پھیلایا
کہ جیسے بستر کمخواب ہو، دیبا و مخمل ہو
مجھے اقرار ہے ، یہ خیمہ ٔ افلاک کا سایا
اسی کی بخششیں ہیں ، اس نے سورج چاند تاروں کو
فضاؤں میں سنوارا ایک حد فاصل مقرر کی
چٹانیں چیر کر دریا نکالے ، خاک ِ اسفل سے
مری تخلیق کی ، مجھ کو جہاں کی پاسبانی دی
سمندر ، موتیوں ، موٗنگو ں سے ، کانیں لعل و گوہر سے
ہوائیں مست کن خوشبوؤں سے معمور کردی ہیں
وہ حاکم قادرِ مطلق ہے ، یکتا اور دانا ہے
اندھیرے کو اجالے سے جدا کرتا ہے ، خود کو میں
اگر پہنچانتا ہوں ، اس کی رحمت اور سخاوت ہے
اسی نے خسروی دی ہے لئیموں کو ، مجھے نکبت
اسی نے ہرزہ کاروں کو کیا ، دریوزہ گر مجھ کو
مگر جب جب کسی کے سامنے دامن پسارا ہے
یہ لڑکا پوچھتا ہے : اخترالایمان تم ہی ہو؟
معیشت دوسروں کے ہاتھ میں ہے ، میرے قبضے میں
جز ایک ذہنِ رسا کچھ بھی نہیں ، پھر بھی مگر مجھ کو
خر وشِ عمر کے اتمام تک ایک بوجھ اٹھانا ہے
عناصر منتشر ہوجانے ، نبضیں ڈوب جانے تک
نوائے صبح ہو یا نالۂ شب ، کچھ بھی گانا ہے
ظفر مندوں کے آگے رزق کی تحصیل کی خاطر
کبھی اپنا ہی نغمہ ان کا کہہ کر مسکرانا ہے
وہ خامہ سوزی شب بیداریوں کا جو نتیجہ ہے
اسے ایک کھوٹے سکے کی طرح سب کو دکھانا ہے
کبھی جب سوچتا ہوں اپنے بارے میں تو کہتا ہوں
کہ تو ایک آبلہ ہے ، جس کو آخر پھوٹ جانا ہے
غرض گرداں ہوں بادِ صبح گاہی کی طرح لیکن
سحر کی آرزو میں شب کا دامن تھامتا ہوں جب
یہ لڑکا پوچھتا ہے : اختر الایمان تم ہی ہو ؟
یہ لڑکا پوچھتا ہے جب ، تو میں جھلا کے کہتا ہوں
وہ آشفتہ مزاج ، اندوہ پرور ، اضطراب آسا
جسے تم پوچھتے رہتے ہوں ، کب کا مرچکا ظالم
اسے خود اپنے ہاتھوں سےکفن دے کر فریبوں کا
اسی کی آرزوؤں کی لحد میں پھینک آیا ہوں
میں اس لڑکے سے کہتا ہوں : وہ شعلہ مرچکا جس نے
کبھی چاہا تھا ایک خاشاک عالم پھونک ڈالے گا
یہ لڑکا مسکراتا ہے ، یہ آہستہ سے کہتا ہے :
یہ کذب و افترا ہے ، جھوٹ ہے ، دیکھو میں زندہ ہوں
(اخترالایمان )
سوالات
1 لڑکا جب شہری زندگی میں داخل ہوتا ہے تو اس میں کیا تبدیلی آجاتی ہے ؟
2 شہری لڑکا خدا کی کن نعمتوں کا اعتراف کررہا ہے ؟
3 رزق کی تحصیل کی خاطر لڑکا کیا کیا کرتا ہے ؟
4 اس نظم میں شاعر نے اپنی کس کشمکش کا اظہار کیا ہے ؟