7
گیت
جو نظمیں اکیلے یا کئی لوگوں کے ساتھ گانے کے لیے لکھی یا بنائی جائیں اور جن کی زبان سادہ ہو اور جن میں روزمرہ کی مقامی زندگی کا ذکر ہو انھیں گیت کہاجاتا ہے ۔ گیت کے موضوعات بہت سے ہوسکتے ہیں ۔ ہمار ے گیتوں کا تعلق موسموں ، فصلوں اور مختلف رسموں سے ہوتا ہے ۔شادی بیاہ کے گیت بہت مقبول ہیں ۔ زبان اور آہنگ کے اعتبار سے گیت میں دل کے تاروں کو چھولینے والی کیفیت ہوتی ہے او ر اس کے بول عام طور پرسادہ ہوتے ہیں ۔ گیت صرف لکھے اور پڑھے ہی نہیں جاتے رہے ہیں بلکہ وہ سینہ بہ سینہ ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل بھی ہوتے رہے ہیں ۔ گیت کی فضا رومان پرور ہوتی ہے اور گیت کی یہ ترنگ ایسے تمام موضوعات میں برقرار رہتی ہے جن کا وہ احاطہ کرتا ہے ۔ موسموں کے رنگ ، پیار کی تر نگ ، زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ، الجھنیں اور معاشرے کے مختلف روپ ، یہ تمام چیزیں مل کر گیت کی ست رنگی دھنک بناتے ہیں ۔ گیت شاید شاعری کی وہ واحد صنف ہے جس کو پڑھنے یا سمجھنے کے لیے لغت کی ضرورت کم سے کم پڑتی ہے ۔
دوسری زبانوں کی طرح اردو میں بھی ایسے بے شمار گیت ہیں جو زبان زد عام ہیں اور جن کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ ان کے لکھنے والے کون تھے ۔ تاہم ایک صنف شاعری کے طور پر اردو میں باقاعد ہ گیت نگاری کی بھی ایک تاریخ رہی ہے ۔ اردو کے گیت نگاروں میں عظمت اللہ خاں ، حفیظ جالندھری ، آغاحشر، بہزاد لکھنوی ، آرزو لکھنوی، اخترشیرانی ، شاد عارفی ، احسان دانش ، میراجی ، مخدوم ، سلام مچھلی شہری ،راجہ مہدی علی خاں ، مختار صدیقی ، قتیل شفائی ، عبدالحمید عدم ، جمیل الدین عالی ، عمیق حنفی ، ندا فاضلی اور زبیر رضوی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں ۔
محمد عظمت اللہ خاں
(1887 - 1940)
محمد عظمت اللہ خاں دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان دہلی کے ممتاز گھرانوں میں شمار کیا جاتا تھا ۔ ان کے ننھیالی بزرگ شاہانِ مغلیہ کے خاص مقربین میں تھے ۔ اس بنا پر انھیں ’’ خان ‘‘ کا خاندانی خطاب عطا ہوا تھا ۔ وہ ایک ذہین اور ہونہار طالب علم تھے ۔ فلسفہ ، نفسیات اور سیاسیات ان کی دلچسپی کے خاص مضمون تھے ۔ انھیں اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان پر بھی عبور حاصل تھا ۔ ان کی نثر دہلی کی ٹھیٹھ اردو میں ہوتی تھی لیکن شاعری میں انھوں نے اپنی الگ راہ نکالی ۔ شاعری میں بھی گیت انھیں زیادہ پسند تھے ۔ ان کی شاعری کی ایک خصوصیت اس کا سریلا پن ہے ۔ انھوں نے اپنے گیتوں اور نظموں کے مجموعے کا نام بھی ’’ سریلے بول‘‘ ہی رکھا ۔ دہلی کے زمانہ قیام میں انھوں نے باقاعدہ ہندی بھی سیکھی تھی اور کہا جاتا ہے کہ انھوں نے کچھ دن سنسکرت کے ایک پنڈت کی صحبت سے بھی فیض حاصل کیا ۔ اردو ہندی لفظوں اور بحروں کا استعمال عظمت اللہ خاں کے اثر سے مقبول ہوا ۔ مولوی عبد الحق نے جنوری 1926 کے رسالہ م’’اردو ‘‘ میں محمد عظمت اللہ خاں کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا ’’ محمد عظمت اللہ خاں نے اردو میں ایک نئی راہ نکالی ہے ۔ ایک تو انھوں نے ہندی بحریں اختیار کی ہیں دوسرے ہند الفاظ کا بڑی خوبی سے استعمال کیا ہے تیسرے ہمارے معاشرے کی خوب تصویر کھینچی ہے ۔‘‘
پیارا پیا را گھر اپنا
وہ چین کہاں اپنے گھرکا وہ بات کہاں اپنے گھر کی پیارا پیارا گھر اپنا
وہ راج کہاں اپنے گھر کا وہ رات کہاں اپنے گھر کی آنکھوں کا تارا گھر اپنا
سکھ چین اگر دنیا میں ہے اپنے ہی گھر میں ملتا ہے سکھ کا سہارا گھر اپنا
دکھ درد کی گر کوئی دوا ہے اپنے ہی گھر کی سیوا ہے دکھ کا مداواگھر اپنا
وہ گھر والی سند ر چترا گھر کی سیوا کر نے والی دل کا دلاسا گھر اپنا
آرام ہمیں دینے والی آپ مصیبت بھر نے والی جان سے پیارا گھر اپنا
آنکھوں کے تارے لاڈلے گھر کے سب مل کر گھر سر پہ اٹھا تے دودھوں نہایا گھر اپنا
ہنستے ہنساتے روٹھتے منتے سنتے کہانی سوتے سلاتے بسابسایا گھر اپنا
ہم پر جان چھڑکنے والا وہ پروان چڑھانے والا پالنے والا گھر اپنا
وہ بلوان بنانے والا وہ انسان بنانے والا ڈھالنے والا گھر اپنا
جڑ بنیاد وطن کی گھر ہے وطن گھروں کا اپنے گھر ہے اپنے گھروں کا گھر اپنا
اپنے گھر پہ نثار وطن ہے اور وطن کے صدقے گھر ہے وطن کا شیدا گھر اپنا
وطن کی چاہت اپنے گھر سے وطن کی طاقت اپنے گھر سے وطن کا پیارا گھر اپنا
وطن کی دولت اپنے گھر سے وطن کی عزت اپنے گھر سے راج دلارا گھر اپنا
(محمد عظمت اللہ خاں )
سوالات
1 اپنے ہی گہر کی سیوا کو دکھ درد کی دواکیوں کہا گیا ہے
2 گھر دل کا دلا سا اور جان سے پیا را ہوتا ہے ۔ اس بات کے لیے شاعر نے کیا دلیل دی ہے ؟
3 گھر سر پہ اٹھا نے کا کیا مطلب ہے ؟
4 وطن کی چاہت اور عزت اپنے گھر سے کیوں ہے ؟