8
شاد عارفی
(1900 - 1964)
شاد عارفی کا وطن رام پور ( یوپی ) تھا ۔ ان کا پہلا مجموعہ ’’ سماج ‘‘ 1946 میں شائع ہوا ۔ کچھ اپنی افتاد طبع کے باعث ، کچھ حالات کی خرابی کے نتیجے میں ، شاد عارفی نے شاعری کا جواسلوب اختیار کیا اس میں تیکھے پن ، طنز اور تلخی کے عناصر بہت نمایاں ہیں ۔ رام پور کی معاشرتی زندگی میں جاگیر دارا نہ قدروں اور روایتوں کا رنگ بہت گہرے تھے ۔ شاد عارفی نے اپنے ماحول اور گردو پیش کو ناقدانہ نظروں سے دیکھا ۔ اپنی کئی نظموں میں انھوں نے سامنتی اور جاگیر دارانہ اندز زندگی کا مذاق اڑایا ہے ۔ غربت کی زندگی اور ناقدری کے احساس نے ان کے مزاج کی کڑواہٹ میں مزید اضافہ کیا ۔ یوں بھی شاد عارفی ایک کھلا ذہن رکھنے والا صاف گو انسان تھے ۔ اشعار میں بھی کھری کھری باتیں کی ہیں ۔ امیروں اور رئیسوں کی زندگی کو طنزاور تمسخر کا نشانہ بنایا ہے ۔ ان کی ایک نظم ’’ ابھی جبل پور جل رہا ہے ‘‘ جبل پور ، مدھیہ پردیش کے فرقہ وارانہ فسادات پر بہت مشہور ہوئی ہے ۔ غزل میں ان کا رنگ یگانہ سے مماثل ہے ۔ اس میں شگفتگی اور لطافت سے زیادہ کھردرا پن ، بے تکلفی اور طنز میں نمایاں ہیں ۔ لیکن اپنے کھرے پن ، ناہمواری اور نثریت کے باعث شاد کی غزل ایک نئے جمالیاتی ذائقے کا پتہ دیتی ہے ۔ نئی غزل کے اولین نشانات جن کے شاعروں کے یہاں ملتے ہیں ، ان میں شاد کا نام بھی شامل ہے ۔ زندگی سے ان کا رشتہ ہمیشہ حریفانہ رہا ۔ زندگی کی طرح ان کی شاعری میں بھی مزاحمت کا عنصر بہت واضح ہے ۔ ان کے مجموعے ’’ شوخی تحریر‘‘ اور ’’ سفینہ چاہیے ‘‘ جدید نظم و غزل کے نمائندہ مجموعوں میں شامل ہیں ۔
رخصت ہوئی سہیلی
رخصت ہوئی سہیلی
سنسان ہے اٹریا
ویران ہے حویلی
رخصت ہوئی سہیلی
جھولا پڑا ہے سوٗنا
غم ہوگیا ہے دوٗنا
جاتی ہے آج گھر سے
پچپن کی ساتھ کھیلی
رخصت ہوئی سہیلی
گیندے پہ ہے اداسی
جوہی پڑی ہے پیاسی
حسرت سے دیکھتی ہے
چپکی کھڑی چنبیلی
رخصت ہوئی سہیلی
پنچھی ہے بے ٹھکانہ
ڈالے گا کون دانہ
طوطا ہے دل شکستہ
مینا ہوئی اکیلی
رخصت ہوئی سہیلی
اے دل تری دہائی
ہوتی ہے وہ پرائی
ممتا نے جس کی خاطر
بپتا ہزا ر جھیلی
رخصت ہوئی سہیلی
ماں باپ کی دلاری
دلہن بنی ہے پیاری
اللہ راس لائے
مہندی رچی ہتھیلی
رخصت ہوئی سہیلی
کیا خوب یہ گھڑی ہے
ہر آنکھ رو پڑی ہے
تو نے تو اے دلہنیا
سکھیوں کی جان لے لی
رخصت ہوئی سہیلی
(شاد عارفی )
سوالات
1 گیت کا عنوان کس بات کی طرف اشارہ کرررہا ہے ؟
2 سہیلی کے رخصت ہونے سے گھر اور ماحول پر کیا کیفیت طاری ہے ؟
3 اللہ راس لائے
مہندی رچی ہتھیلی
ان دونوں مصرعوں میں شاعر دلہن کو کیا دعا دے رہا ہے
4 کیا خوب یہ گھڑی ہے
ہر آنکھ رو پڑی ہے
یہاں پر رونے کے ساتھ ’’ خوب ‘‘ کا لفظ کس صورت حال کی عکاسی کررہا ہے ؟