Skip to content
11-Khayaban-e-Urdu-001

9

 اختر شیرانی 

 (1905 - 1948) 

 داؤد کا خاں نام ، اختر تخلص ، مشہور محقق حافظ محمود شیرانی کے بیٹے تھے ۔ ٹونک میں پیدا ہوئے ۔تعلیم و تربیت لاہور میں ہوئی ۔ یہاں ان کے والد اورینٹل کالج لاہور میں استاد تھے ۔ اختر شیرانی نے لاہور کے کئی مشہور ادبی رسائل ’’ ہمایوں ‘‘ ، ’’ خیالستان ‘‘ ، ’’شاہکار‘‘ اور ’’ انتخاب ‘‘ میں ادارتی فرائض انجام دیے ۔ عین جوانی میں انتقال ہوا ۔
 اختر شیرانی نے غزلیں بھی کہیں اور نظمیں بھی ۔ لیکن وہ اپنی عشقیہ نظموں کے باعث زیادہ مشہور ہوئے ۔ وہ حسن و عشق کے لطیف جذبات مترنم انداز میں اور عاشق کے واردات قلبی کی پر اثر انداز میں بیان کرتے ہیں ۔ اسی لیے ا ن کے یہاں حسن پرستی اور سر مستی ہے ۔ اختر کی رومانیت خواب و خیال سے زیادہ ہماری اپنی دھرتی اور اس کے حسن کے ارد گرد گھومتی ہے اس لیے مانوس معلوم ہوتی ہے ۔ اختر نے گیتوں کے علاوہ سانیٹ بھی لکھے ۔ ان کی نظموں کا دوسرا موضوع حب الوطنی ہے ۔ ان کی نظمیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی محبت اور وطن کی خاطر کسی بھی قربانی کے لیے تیار ہیں ۔
 ’’ پھولوں کے گیت ‘‘ ، ’’ شعرستان‘‘ ،’’ صبح بہار‘‘ ، ’’نغمہ حرم‘‘ ، ’’ طیورِ آوارہ ‘‘ ، ’’ اخترستان ‘‘،’’ لالہ طور ‘‘ ،’’ شہہ رو ‘‘ ارو ’’ شبستان ‘‘ ان کے شعری مجموعے ہیں ۔  
 
11-Khayaban-e-Urdu-001


 روگ کا راگ 

 انھیں جی سے میں کیسے بھلاؤں سکھی 
مرے جی کو آکے لبھا ہی گئے 
مر ے من میں درد بسا ہی گئے
مجھے پریت کا روگ لگاہی گئے 

کیے میں نے ہزار جتن 
 کہ بچا رہے پریت کے آگ سے من 
مرے من میں ابھار کے اپنی لگن
 وہ لگاو کی آگ لگا ہی گئے

بڑے سکھ سے یہ بیتے تھے چودہ برس
کبھی میں نے پیا نہ تھا پریم کا رس
مری آنکھوں کو شیام دِکھا کے درس 
میرے ہِردے میں چاہ بسا ہی گئے

 کبھی سپنوں کی چھاؤں میں سوئی نہ تھی
کبھی بھول کے دُکھ سے میں روئی نہ تھی 
مجھے پریم کے سپنے دکھاہی گئے 
مجھے پریت کے دُکھ سے رلا ہی گئے 

رہے رات کی رات ، سدھار گئے 
مجھے سپنا سمجھ کے بسار گئے 
میں تھی ہار ، گلے سے اُتا ر گئے 
میں دیا تھی جسے وہ بُجھا ہی گئے

 سکھی کوئلیں ساؤنی گائیں گی پھر
نئی کلیاں بھی چھاؤنی چھائیں گی پھر
مرے چین کی راتیں نہ آیئں گی پھر 
جنھیں نین کے نیر مٹا ہی گئے

میرے جی میں تھی ، بات چُھپائے رکھوں 
سکھی چاہ کو من میں دبائے رکھوں 
اُنھیں دیکھ کے آنسو جو آہی گئے 
مری چاہ کا بھید وہ پاہی گئے

(اختر شیرانی ) 


سوالات 

1 من میں درد بسانے سے شاعر کی کیا مراد ہے ؟
2 گلے سے ہار اتارنے ، اور دیا بجھا نے کاکیا مفہوم ہے ؟
3 من کی چھپی ہوئی بات کس طرح ظاہر ہوگئی ؟