10
میراجی
(1912 - 1949)
میراجی کا اصلی نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا ۔ وہ ایک کشمیر ی خاندان میں گوجر نوالہ (اب پاکستان ) میں پیداہوئے ۔ ان کا زیادہ وقت لاہور ، دلی اور ممبئی میں گزرا ۔ ممبئی میں ہی ان کا انتقال ہوا ۔ وہ انتہائی ذہین انسان تھے ۔ مطالعے کا انھیں بہت شوق تھا ، اس لیے انھوں نے مختلف زبانوں کی شاعری کا مطالعہ کیا ، تراجم کیے اور مضامین لکھے ۔ وہ لاہور کی ایک مشہور ادبی انجمن ’حلقہ ارباب ذوق ‘ کے بانیوں میں تھے ، جس نے بہت سے ذہنوں کو متاثر کیا اور شاعری میں جدید رجحانات کو فروغ دیا ۔ انھوں نے اخترالایمان کے ساتھ مل کر رسالہ ’ خیال ‘ نکالا جس کے چند ہی شمارے شائع ہوسکے ۔ میراجی کی نظموں کے کئی مجموعے مثلا ’میراجی کی نظمیں ‘ اور گیتوں کا مجموعہ ’ گیت ہی گیت ‘ ان کی زندگی میں شائع ہوئے ۔ ایک مجموعہ ’ پابند نظمیں ‘ اور انتخاب ’ تین رنگ ‘ بعد میں شائع ہوئے ۔ بہت بعد میں پاکستان سے ’ کلیات میراجی ‘ (مر تبہ جمیل جالبی ) اور ’ باقیات میراجی ‘ (مر تبہ شیما مجید) شائع ہوئے ۔ نثر میں دو کتابیں ’ مشرق و مغرب کے نغمے ‘ اور ’ اس نظم میں ‘ معروف ہیں ۔
جدید تنقید میں بھی میرا جی کا نام بہت بلند ہے ۔ انھوں نے نظم کا تجزیہ لکھنے کی ایک نئی رسم ک فروغ دیا ۔ ہندوستان اور یوروپ کے نئے پرانے شاعروں پر بہت اچھے مضامین لکھے ۔ میراجی کی بہت سی شاعری میں جنسی خیالات اور تجربات پیش کیے گئے ہیں ۔
اک بستی جان پہچانی ……
اک بستی جانی پہچانی، یہ دُھن تو ہے بہت پرانی
دل میں ہے دھیان ہمارے
نیلے منڈل کے تارے
اور چندر جوت کے دھارے
سب گائیں میٹھی بانی
اک بستی جانی پہچانی، یہ دُھن تو ہے بہت پرانی
دل کو ہے رس کا بندھن
اس اُجلی رات کا جو بن
آکاش کا اونچا آنگن
ظاہر میں ہے لافانی
اک بستی جانی پہچانی، یہ دُھن تو ہے بہت پرانی
تو آئی میں بھی آیا،
دونوں نے قول نبھایا ،
لیکن ہر بات ہے مایا ،
جگ کی ہر بات ہے فانی ،
سب فانی ، فانی ۔فانی ۔ یہ دھن بھی ہے بہت پرانی
(میراجی )
سوالات
1 جانی پہچانی بستی سے شاعر کی کیا مراد ہے ؟
2 ظاہر میں ہے لافانی ، اس مصرع میں شاعر کا اشارہ کس طرف ہے ؟
3 گیت کے آخر ی تین مصرعوں میں شاعر نے کیا کہا ہے ؟
جیون ایک مداری پیارے …
جیون ایک مداری پیارے کھول رکھی ہے پٹاری
کبھی تو دکھ کا ناگ نکالے پل میں اسے چھپالے
کبھی ہنسائے کبھی رلائے بین بجا کر سب کو رِجھائے
اس کی ریت انوکھی ، نیاری ، جیون ایک مداری
کبھی نراشا کبھی ہے آشا پل پل نیا تماشا
کبھی کہے ہر کام بنے گا جگ میں تیرا نام بنے گا
بنے دیالو ہتیا چاری، جیون ایک مداری
جب چاہے دے جائے دھوکا اس کو کس نے روکا
تو بھی بیٹھ کے دیکھ تماشا ، کبھی نراشا کبھی آشا
پت جھڑ میں بھی کھلی پھلواری ، جیون ایک مداری
آئے ہنسی مٹ جائے آنسو اس میں ایسا جادو
بندر ناچے قلندر ناچے سب کے من کا مندر ناچے
جھوم کے ناچے ہر سنساری ، جیون ایک مداری
(میراجی )
سوالات
اس گیت میں شاعر زندگی کو کس چیز سے تعبیر کررہا ہے ؟
شاعر نے اس گیت میں جیون کے کون کون سے روپ بیان کیے ہیں ؟
اس گیت میں شاعر نے کون کون سی متضاد کیفیتوں کا ذکر کیا ہے ؟
تیسرے بند میں شاعر نے آشا اور نراشا کی مثال کس سے دی ہے ؟
یوں ہی جوت جلے گی ، مورکھ
یوں ہی جوت جلے گی ، مورکھ
اندھیارے میں جاگا اجالا
سکھ کی کرن ہے دکھ کا بھالا
یوں ہی ساگر لہرائے
من گائے گا
یوں ہی ناؤ چلے گی مورکھ
بھاؤ کئی ہیں رنگ اکہرا
انت پہل کا ناتا گہرا
پل پل جیون بڑھتا جائے
من سمجھا ئے
سن لے بات پھلے کی مورکھ
پوری ہوگی من کی آشا
کیوں یہ چنتا کیوں یہ نراشا
ہری بھری کب ہوگی کیاری
یہ پھلواری
پھولے گی نہ پھلے گی مورکھ
سوچ سمجھ یہ بات گیا ن کی
لہریں لاکھوں ایک ہی دھیان کی
ایک ہی مورت نئے رنگ سے
نئے ڈھنگ سے
دھیرے دھیرے ڈھلے گی ، مورکھ
(میراجی )
سوالات
1 اندھیرے میں اجالا اور سکھ کے ساتھ دُکھ کا ذکر کرکے شاعر نے کیا پیغام دیا ہے ؟
2 من کی آشا پوری ہونے کے بارے میں شاعر نے کس طرح امیددلائی ہے ؟
3 ’مورکھ ‘ کسے کہا گیا ہے ؟
تنہا ، سب سے دور ، اکیلی
تنہا ، سب سے دور ، اکیلی
دُکھیا دل لے کر ہے بیٹھی
رادھا…………
بات نہیں سنتی وہ کسی کی
اپنی سوچوں میں ڈوبی
رادھا ……………
سوریہ کے گھونگٹ بادل کالے
ہر دم بس ان کو ہی دیکھے
رادھا ……………
میں ہوں پجارن جوگیا پہلے
’بھوگ نہیں ہے ‘‘ بس یہ بولے
رادھا ……………
لو وہ اس نے جوڑا کھولا کاندھوں پر گیس لٹکائے
جب کالے بادلوں کو دیکھا دل میں دھیان کسی کا لائے
اب دیکھے آکاش کو رادھا اور اس نے بازو پھیلائے
رادھا ………………
کس نے سنی ہے بات ادھور ی ایک پہیلی کو بجھائے ؟
مو ر کی گردن نیلی کالی دیر تلک وہ دیکھتی جائے
آؤ اس کا بھید بتائیں
آؤ پہیلی ہم ہی بجھائیں
ہم نے ان باتوں سے جانا دھیان لیے ہے شام سندر
رادھا………………
(چنڈی داس ،تر جمہ میراجی )
سوالا ت
1 رادھا اپنی سوچوں میں ڈوب کر کیا دیکھ رہی ہے ؟
2 کالے بادلوں کو دیکھ کر رادھا کوکس کا دھیان آیا ؟
3 کن باتو ں سے معلوم ہورہا ہے کہ رادھا کے دھیان میں شیام سندر ہے ؟