Skip to content
11-Khayaban-e-Urdu-001

11

  احسان دانش 

(1914 - 1982)

 احسان دانش اردو میں شاعر ِ مزدور کے لقب سے جانے جاتے ہیں ۔ وہ کاندھلہ ، اتر پردیش کے رہنے والے تھے ۔ ان کے خاندان کی مالی حالت بہت خراب تھی اس لیے ان کی تعلیم بہت معمولی ہوئی ۔ لیکن مطالعے کا شوق ان میں بچپن سے تھا ۔ وہ دن بھرمحنت مزدوری کرتے تھے ۔ فرصت کے اوقات میں شعرو ادب سے متعلق کتابوں کا مطالعہ کر تے تھے ۔ اور بہت جلد وہ شعربھی کہنے لگے ۔ آواز اچھی پائی تھی ، اس لیے مشاعروں میں بہت جلد مقبول ہوگئے ۔ انھوں نے زندگی کا بڑا حصہ لاہور میں گزرارا ، اور آہستہ آہستہ اپنے وقت کے ممتاز استادوں میں شمار ہونے لگے ۔ انھوں نے کتابوں کی ایک دکان کھول لی تھی ۔ اس سے معاش بھی حاصل کرتے تھے اور وقت بھی اچھا گزر تا تھا ۔ 
احسان دانش کی نظموں میں غریب طبقوں کی زندگ کا عکس نمایا ں ہے ۔ انھوں نے مزدوروں پر بھی بہت سے نظمیں کہیں ۔ انداز میں جذباتیت کا رنگ غالب ہے ۔ ’نوائے کارگر ‘ ، ’چراغاں ‘ اور ’آتش خاموش‘ ان کے مشہور مجموعے ہیں ۔ ان کی زبان بالعموم سہل اور رواں ہے ۔ ہندی بول چال کے لفظوں کو بہت خوبصورتی سے برتتے ہیں ۔ کچھ گیت ہندی بھاشا میں بھی لکھے ہیں ۔ ان کی رومانی نظمیں بہت پسند کی جاتی تھیں ۔ ان میں ’صبح بنارس‘ اور ’بیتے ہوئے دن ‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ 

11-Khayaban-e-Urdu-001


 پریت ہے من کا روگ 


پریت ہے من کا روگ 
سکھی ری 
پریت ہے من کا روگ 
انگ ہے اگنی ، نین پانی 
بولت ہیں سب وِش کی بانی
ویوگ میں بیتی جات جوانی 
اَتی کٹھن سنجوگ 
سکھی ری 
پر یت من کا روگ 
دھرتی چپ آکاش اندھیرا
روٹھ گیو، رَتین سے سویرا 
برہن کا من ، دکھ کا ڈیرا 
چھایو جگ میں سوگ 
سکھی ری 
پریت ہے من کا روگ 
چھب دِکھلا جا کرشن مراری 
درس کے پیاسے ہیں نرناری 
کھائی ہے ایسی پریم کٹاری 
ویاکُل ہیں سب لوگ 
سکھی ری
پریت ہے من کا روگ 

(احسان دانش )


سوالات 

1 شاعر نے پریت کو من کا روگ کیوں کہا ہے ؟
2 راتوں سے سویرا روٹھ جانے سے شاعری کی کیا مراد ہے ؟
3 شاعر کرشن مُرار ی کے درشن کی ضرورت کیوں محسوس کرتا ہے ؟