12
سلام مچھلی شہری
(1921 - 1973)
قصبہ مچھلی شہر ، ضلع جون پور ، اتر پردیش کے رہنے والے تھے ۔ آزمائشوں سے بھری ہوئی زندگی گزاری ۔ الہ آبادیونیورسٹی کی لائبریری میں ایک معمولی سی ملازمت سے عمل زندگی شروع کی ۔ بعد میں آل آنڈیا ریڈیو سے وابستہ ہوگئے اور دلی کو اپنا گھر بنا لیا ۔ آل انڈیا کی اردو سروس سے بحیثیت پرڈیوسر وابستہ تھے۔ ان کی طبیعت میں ایک خاص طرح کی وارفتگی تھی ۔ اپنی رومانی نظموں میں انھوں نے جدت طرازی کی بہت اچھی مثالیں پیش کی ہیں ۔گفتگو کے اندازاور ڈرامائی عناصر کے برجستہ استعمال سے انھوں نے اپنی بعض نظموں کو افسانے کی طرح دلچسپ بنادیا ہے ۔ ان کے تخلیقی مزاج میں اپج بہت تھی ۔ انھوں نے شعری اظہار کے نت نئے راستے نکالے اور نظم میں ہیئت کے کئی تجربے کیے ۔ نئی نظم کے اچھے شاعروں میں شمار کیے جاتے تھے ۔ ’ میرے نغمے ‘ ،’پائل ‘ اور’ وسعتیں ‘ ان کے مقبول و مشہور مجموعے ہیں ۔ سلام مچھلی شہری کے گیت بھی بہت خوبصورت ہیں ۔
سلام مچھلی شہری کو حکومت ہند نے ان کے ادبی و شعر ی خدمات کے اعتراف میں ’’ پدم شری ‘‘ کے اعزاز سے نوازا۔ ان کا انتقال دلی میں ہوا اور وہ یہیں مدفون ہیں ۔
گیتوں کے ہرا گوندھوں گی
گیتوں کے ہرواگوندھوں گی
ہاں سندر کومل گیتوں کے
کچھ نازک کلیاں لاؤں گی
اور ان تاروں کو بلاؤں گی
اوشا کے گلابی ڈورے میں
آشا کے پھول پروؤں گی
گیتوں کے ہروا گوندھوں گی
ہا ں سندر کومل گیتوں کے
سنتی ہوں ساجن آئے ہیں
جذبات مرے تھرائے ہیں
ان پریم کی نازک لہروں پر
میں اپنی نیا چھوڑوںگی
گیتوں کے ہروا گوندھوں گی
ہاں سندر کومل گیتوں گے
(سلام مچھلی شہری )
سوالات
1 ’’آشا کے پھول پروؤں گی ‘‘ کا کیا مطلب ہے ؟
2 ساجن کے آنے پرشاعر نے عورت کی کیا کیفیت بیان کی ہے ؟