13
منظوم ترجمہ
ایک زبان کے تقریر ی یا تحریری خیالات کو دوسری زبان میں اس قواعد و اصول کے مطابق تبدیل کرنے کو ترجمہ کہتے ہیں ۔ ترجمہ نہ صرف معاشرتی ، معاشی ، مذہبی اور سیاسی لحاظ سے سود مند ہوا ہے بلکہ مختلف زبانوں کے ادب کے تراجم سے ان زبانوں کے افراد کی باطنی کیفیات کو بھی کسی حدت تک سمجھا جا سکتا ہے ۔ کسی زبان کی نثری تحریر کا بالکل درست ترجمہ مشکل ہی سے کیا جاسکتا ہے لیکن نظم یا شاعری کا شاعری میں ترجمہ اس سے بھی مشکل تر امر ہے ۔ کیونکہ شعر کاشعر میں ترجمہ کر تے ہوئے زیر ترجمہ شعر کے نہ صرف موضوع بلکہ اس کی زبان کی مختلف معنوی سطحوں کا بھی خاص خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے ۔ تاکہ وہ تر جمے کی زبان میں پوری طرح ادکی جاسکیں ۔
اردو کے ابتدا عہد میں فارسی ، عربی اور سنسکر ت سے اردو میں ترجمے کیے گئے ۔ سترہوں اور اٹھارھویں صدی میں اردو نثر و نظم میں ترجمے کی کئی مثالیں موجود ہیں ۔ انیسویں صدی میں فورٹ ولیم کالج ارو دلی کالج سے ترجموں کو مزید فروغ حاصل ہوا ۔1903 میں انجمن ترقی اردو کا قیام عمل میں آیا جس کے تحت یوروپین زبانوں ، عربی فارسی اور سنسکر ت سے کئی کتابیں ترجمہ ہوئیں ۔ 1921 میں وحید الدین سلیم نے 146 وضع اصطلاحات 145 نام کی کتاب لکھی جو ترجمے کے سلسلے میں بڑ ی معاون ثابت ہوئی ۔ دارالترجمہ عثمانیہ ، حیدرآباد کے تحت مختلف درجات کی تقریباً ساڑھے چار سو کتابیں اردو میں ترجمہ کی گئیں ۔ اردو میں منظوم ترجمہ کرنے والوں میں قلق میرٹھی ، علی حید نظم طباطبائی ، میر جعفر علی خاں اثر ، حفیظ جالندھیری ، فیض احمد فیض ، احسن لکھنوی و غیرہ کے نام نمایاں ہیں ۔
بھر تری ہری
ہندوستان میں ایک ساتھ اتنی زبانوں کا چلن ہے کہ اسے زبانوں کی تجر بہ گاہ کہاجاتا ہے ۔ سنسکر ت ہماری قدیم ترین زبانوں میں ہے ۔ ہندوستانی زبانوں کے سیاق میں سنسکرت کو ’’ زبان کی ماں ‘‘ کہا گیا ہے ۔ قدیم سنسکر ت ادب کے بہت سے شاہکاروں کا تر جمہ ہندوستان کی اور دنیا کی مختلف زبانوں میں کیا جا چکا ہے ۔ اردو میں بھی سنسکرت سے ترجمے کیے گئے ہیں ، کالی داس ، امرو ، بھرتری ہری ، دامودر گپت کی تخلیقات کے ترجمے اردو میں خاصے معروف ہیں ۔ بھرتری ہری کے عہد اور حالات زندگی سے متعلق اختلاف رائے پایا جاتا ہے ۔ کہاجاتا ہے کہ وہ اجین کے راجا تھے لیکن دنیا کے حالات سے تنگ آکر انھوں نے حکومت سے منھ موڑ لیا اور گیان دھیان کے ساتھ فکر سخن میں مصروف ہوگئے ۔ علم لسان پر بھی انھوں نے بہت کام کیا ہے ۔ ان کا شمار سنسکر ت کے عظیم شاعروں میں ہوتا ہے ۔ ان کے ایک شلوک کا اردو ترجمہ علامہ اقبال نے ’’ بال جبریل ‘‘ میں کیا تھا۔
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیر ے کا جکر
مردِ ناداں پر کلام ِ نر م و نازک بے اثر
اقبال کے ’جاوید نامہ‘ میں بھرتری ہری پردو نظمیں شامل ہیں ۔ اثر لکھنوی نے بھرتری ہری کے پانچ شلوکوں کا تر جمہ اردو میں رنگ بسنت کے نام سے کیا تھا ۔ چودھری جے کر شن حبیب ؔ ، تلوک چند محروم ، یو سف ناظم اور عبدالستار دلوی نے بھی بھرتری ہری کے ترجمے کیے ہیں ۔ کئی صدیاں گزر جانے کے بعد بھی بھرتری ہری کے کلام سے دل چسپی برقرار ہے ۔ پرتاپ گڑھ کے معروف شاعر و ادیب امتیاز الدین خاں نے بھرتری ہری کے شلوکوں کے منظوم ترجمے کیے ہیں ، جو اتر پردیش اردو اکیڈمی کی طرف سے شائع ہوئے ہیں ۔ اگلے صفحہ میں نیتی شتک کے کچھ منظوم ترجمے دیے جارہے ہیں ۔
کم علم تھا تو خود کو سمجھتا تھا دیدہ ور
مغرور فیل مست کی صورت تھا بے بصر
جب سے ہوں اہلِ علم کی صحبت سے فیض یاب
اُترا بخار، جہل پہ اپنے ہے اب نظر
ہاتھی ہوا بدمست تو انکُش مارا
ڈنڈے سے کیا گھوڑے گدھے کو سیدھا
ہر روگ کا مِل جائے گا دنیا میں علاج
دانستہ حماقت کی نہیں کوئی دوا
آجائے گا سنگار سے کیا روپ میں نکھار ؟
کیاپھول گوندھ لو تو چمک جائے زلفِ تار؟
دنیا کی ہر نمود و نمائش کو ہے فنا
ہوتی ہے بس زبانِ مہذب سدا بہار
علم کے زیور سے قائم آدمی کی شان ہے
دولتِ محفوظ ہے ، ہر عیش کا سامان ہے
گیان ، راجہ ہے ، رشی ہے ، دیوتا ،بھگوان
گیا ن سے محروم انساں واقعی حیوان ہے
بدلتی کائنات میں کوئی جیے کوئی مرے
وہ زندگی ہے زندگی جوغیر کا بھلا کر ے
جہانِ بے ثبات میں اُسے ثبات ہے کہ جو
سماج کے لیے جیے ، سماج کے لیے مرے
ہے حق پرستوں کا ہر دم شعار
مصیبت سے لڑتے ہیں مرادانہ وار
کسی کا وہ احسان لیتے نہیں
نہ مانگین کسی سے وہ ہر گز اُدھار
جس کی تو نگری میں نہیں تمکنت کا نام
غمگیں نہ کرسکے گا اُسے غم کا اژدہام
گر بحث ہوتو بزم میں منطق سے سر خرو
باطل سے جنگ ہوتو ہے شمشیرِ بے نیام
تشدد ، نہ حرص و ہوس سے ہو کام
کرو بے کسوں کی مدد صبح و شام
ہراک فرد و ملت کے ہو خیر خواہ
سبھی مذہبوں کا کرو احترام
حق پرستوں نے کبھی چھوڑی نہ حق کی رہ گزر
دشمن باطل مصیبت میں رہے بیباک تر
بے نوائی میں بھی ان کو ہیچ تھے لعل وگہر
دھار پر تلوار کی چلنا رہا ان کا ہنر
اک بوند گر کے تپتے توے پرہوئی فنا
اک بوند جاکے سیپ میں موتی ہے بے بہا
اک بوند سے ہے پھول کے چہرے پہ آب و تاب
صحبت جُدا جدا تھی تو قسمت جدا جدا
دودھ سے پانی کی ہو جاتی ہے یاری پیاری
آتی ہے پانی میں بھی دودھ کی رنگت ساری
دودھ کھَولا ہے تو پانی ہی جلا ہے پہلے
یوں ہی اچھوں میں ہواکرتی ہے اچھی یاری
فکر و گفتار ہو کہ ہو کردار
خدمت خلق سے ہے ان کا وقار
خوبیاں غیر کی بڑھا کے کہیں
ایسے دنیا میں لوگ ہیں دو چار
ہمت مردانہ ہے انسانِ اعلیٰ کا شعار
دوقدم چل جو ہمت ہاردے ، ہے بے وقار
غم کے طوفان و حوادث کی اسے پروا نہیں
کھینچ لاتا ہے وہ کشتی قلزم خونیں کے پار
تحسین کریں اہلِ نظر یا تنقید
انبار لگے زر کا کہ تنگی ہو شدید
آتی ہو ابھی موت کہ صدیوں ٹل جائے
ہر حال میں کرتے رہو حق کی تائید
اللہ کے ذکر سے نہ غافل ہونا
ہر حال میں نیکیوں پہ عامل ہونا
باطل سے گریزا رہے اور حق کے قریب
آساں اسے ہوجائے گا کامل ہونا
( بھر تری ہری، مترجم امتیاز الدین خاں )
سوالا ت
1 اترا بخار ، جہل پہ اپنے ہے اب نظر
یہاں پر بخار اترنے سے شاعر کی کیا مراد ہے ؟
2 دنیا میں کسی روگ کی کوئی دوا نہیں ملتی ؟
3 شاعر کے نزدیک کیا چیز سدا بہار ہے ؟
4 سماج کے لیے جیے اور سماج کے لیے مرنے سے شاعر کی کیا مراد ہے ؟
5 شاعر نے حق پرستوں کی کیا خصوصیت بتائی ہیں ۔ تفصیل سے لکھیے ۔
6 تلواروں کی دھار پر چلنے سے کیا مراد ہے ؟
7 بوند کے مختلف انجام کو شاعر نے کس طرح بیان کیا ہے ؟
8 اچھوں میں اچھی یاری ہوتی ہے اس بات کو شاعر نے کس طرح سمجھایا ہے ؟
9 خدمت خلق کا وقار کن باتوں سے قائم ہے ؟
10 اعلیٰ انسان کا شعار کیا ہے ؟
11 انسان کو کامل بنانے میں شاعر نے کیا مشورہ دیا ہے ؟
12 عظمت کردار کے لیے کیا کیا ضرور ی ہے ؟