Skip to content
11-Khayaban-e-Urdu-001

14

  منظوم ڈراما 

 ’منظوم ڈرا ما‘ اس ڈرامے کو کہتے ہیں جو نظم کی صورت میں لکھا گیا ہو ۔ اس میں کردار ہمیشہ شعری پیرائے میں ہی مکالمہ ادا کرتا ہے یعنی منظوم ڈرامے میں پوری گفتگو شاعری میں ہوتی ہے ۔ ڈرامہ نگار کے لیے ضروری ہوتا تھا اسے شاعری کے اسرار روموز کا علم ہو، ساتھ ہی ڈراما کے فن پر بھی مضبوط گرفت ہو۔ اردو میں ڈرامے کی ابتدا منظوم ڈرامے سے ہوئی ۔ واجد علی شاہ نے اپنی مثنویوں کو ڈرامے کی صورت میں اسٹیج پر پیش کیا ، اس کے بعد رہس کھیلا ارو پھر رادھا کنہیا کا قصہ ۔ یہ تمام منظوم صورت میں ہی پیش کیے گئے ۔ امانت لکھنوی نے ’ اندر سبھا ‘ کو بھی منظوم ڈرامے کی شکل میں ہی پیش کیا جو بے حد مقبول ہوا ۔ اس کے بعد کئی اندر سبھائیں لکھی گئیں جو منظوم ڈرامے کی شکل میں ہی تھیں ۔ اندر سبھا کی تقلید میں ڈراما ناگر سبھا لکھا گیا جومنظوم ڈراماہی تھا ۔ پارسی تھئیٹر کے ذریعہ پیش کیے جانے والے ڈراموں میں بیشتر منظوم ڈرامے ہوتے تھے ۔ حتی کہ اُس زمانے میں ڈراما نگار ہونے کا ایک پیمانہ شاعر ہونا بھی قرار پایا ۔
 آگے چل کر منظوم ڈرامے کو پیش کرتے ہوئے رقص وموسیقی کا سہارا لیا گیا ۔ اس سے نہ صرف ڈرامے پر اثر ہوتے تھے بلکہ عوام کی دلچسپی بھی برقرار رہتی تھی ۔ پہلے پہل تو منظوم مکالمے بلند آواز میں ادا کیے جاتے تھے لیکن بعد میں موسیقی کی مدد سے گاکر پیش کیے جانے لگے ۔ رفتہ رفتہ منظوم ڈرامے نے ’اوپیرا ‘ کی شکل اختیار کرلی ۔ اوپیرا کو رقص و سرود کے ذریعہ پیش کیا جاتا ہے ۔ اس کے اندر موسیقی کا تسلسل ٹوٹتا نہیں ہے ۔ 
11-Khayaban-e-Urdu-001

امانت لکھنوی 

(1815 - 1858)
سید آغاحسن نام ، امانت تخلص تھا ۔وہ لکھنؤ میں پیدا ہوئے اوروہیں رہ کر تعلیم حاصل کی ۔ ان کے بزرگ ایران سے ہندوستان آئے تھے ۔ ان کے جد اعلیٰ سید علی رضوی ، مشہد مقدس میں حضر ت امام رضا کے روضے کے نگراں تھے ۔ ایک مرض کے نتیجے میں امانت لکھنوی کی زبان بندہوگئی ۔ انھوں نے زیارت کی غرض سے عراق کا سفر کیا ۔کہاجاتا ہے کہ ایک دن امام حسن کے روضے پر دعا مانگ رہے تھے کہ ان کی زبان ، جو تقریباً دس برس سے بند تھی ، خود بہ خود کھُل گئی ، مگر لکنت باقی رہی ۔
 امانت لکھنوی نے پندرہ برس کی عمر سے شعر گوئی کا آغاز کیا ۔ ابتدا میں چند نوحے اور سلام کہے پھر غزل گوئی کی جان مائل ہوگئے ۔ امانت کے بیٹے لطافت نے ان کا کلام یکجا کرکے ’ خزائن الفصاحت ‘ کے تاریخی نام سے شائع کیا ۔ 
امانت لکھنوی نے استسقا کے مرض میں مبتلا ہوکر چوالیس برس کی عمر میں انتقال کیا ۔ آغا باقر کے امام باڑے کے قریب مسافرخانے میں دفن کیے گئے ۔ 
11-Khayaban-e-Urdu-001

 اندر سبھا 

 فن موسیقی کی سرپرستی ہندوستان کے راجاؤ ں اور بادشاہوں کا معمول تھا ۔ اودھ کے نوابوں نے بھی اس روایت کو قائم رکھا ۔ اودھ کے آخر ی تاجدار واجد علی شاہ نے اپنے زمانے میں رقص و موسیقی کے سب سے بڑے سرپرست تھے ۔ ان کے دور میں ڈراما لکھنے اور اسے شاہی محفلوں میں دکھانے کا رواج بہت مقبول ہوا ۔ انھیں محفلوں سے متاثر ہوکر سید آغا حسن امانت لکھنوی نے ’ اندر سبھا ‘ کے نام سے ایک منظوم ڈراما لکھا ۔
 امانت کی ’ اندر سبھا ‘ پہلا عوامی ڈرا ما ہے جسے غیر معمولی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی ۔ جہاں کہیں اسٹیج کیا جاتا تھا ، تماشائی ، دور دور سے بڑی تعداد میں اسے دیکھنے پہنچتے تھے ۔ بہت سی پیشہ ور ناٹک منڈلیاں قائم ہوگئی تھی جو دیہاتوں ، قصبوں اور شہر وں میں اجرت پراندر سبھا کھیل دکھاتی تھیں ۔ 
 اندر سبھا کا کھیل بعض جزئیات میں قدیم ہندوستانی ناٹک سے ، بعض میں قدیم یونانی ڈرامے سے اور بعض میں ہندو ستا ن کے الزابیتھ کے ڈرامے سے مشابہ ہے ۔ قدیم ہندوستانی ڈرامے میں اسٹیج پرصرف پچھلا پردہ پڑا رہتا تھا ۔ اندر سبھا میں بھی مقام کا تصور پیدا کرنے والی کوئی چیز نہیں ہوتی تھی ۔ کسی کردار کا اپنا پارٹ ادا کرکے تماشائیوں سے ذرا الگ ہٹ جانا اور دوسرے کردار کے سامنے آکر اپنا کام کرنا سین بدل جانے کے برا بر تھا ۔ جب اس طرح خیالی طور پر سین بدل جاتا تھا تو وہی جگہ جو ابھی کچھ تھی اب کچھ اور بن جاتی تھی ۔ مثلا وہی جگہ جو ابھی اندر کی سبھا تھی اب سبز پری کا باغ بن گئی ۔ 
 اس منظم ڈرا مے میں کل آٹھ کردار ہیں ۔ یوں تو ہر کردار دلچسپ ہے لیکن راجہ اندر اور سبز پری کے کرداروں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔ یہی وہ کردار ہیں جن کے سبب ڈرامے میں تشویش ، حرکت ، کشمکش اور دلچسپی پیدا ہوتی ہے ۔ 
(تلخیص مقدمہ : سید مسعود حسن رضوی ادیب ؔ) 
 امانت کی اندر سبھا اردو میں اوپیرا (Opera) کا اولین نمونہ ہے ۔ اسے ہم منظوم ڈراما بھی کہہ سکتے ہیں جسے رقص و موسیقی کی مدد سے اسٹیج پر پیش کیا جاتا ہے ۔ اردو میں اسٹیج ڈرامے کی روایت کے باقاعدہ آغاز سے پہلے اندر سبھا کی مقبولیت نے ایک پس منظر تیار کردیا تھا ۔ اندر سبھا کی روایت سے بعد کے ڈراما نگار وں نے بھی فائد ہ اٹھایا ۔ اردومیں اوپیرا  کی روایت بتدریج ترقی کرتی رہی ، نئے پرانے بہت سے شاعروں نے آپیرا یا غنائیے لکھے جن میں تمثیلوں اور تاریخی واقعات پر مبنی کھیل بھی اسٹیج کیے جاتے رہے ہیں ۔

آمد راجا اندر کی بیچ سبھا کے 

 سبھا میں دوستو اندر کی آمد امد ہے 
پری جمالوں کے افسر کی آمد آمد ہے 
خو شی ہے چہچہے لاز ہیں صورتِ بلبل 
 اب اس چمن میں گلِ تر کی آمد آمد ہے 
زمیں پہ آئیں گی راجہ کے ساتھ اب پریاں 
ستاروں کی ، مہ انوار کی آمد آمد ہے 
غضب کا گانا ہے اور ناچ ہے قیامت کا 
بہار فتنہ ٔ محشر کی آمد آمد ہے 
بیان راجہ کی آمد کا کیا کروں استادؔ
جگر کی جان کا دلبر کی آمد آمد ہے 

 چوبولا اپنے حسب ِ حال زبانی 

راجہ ہوں میں قوم کا اور اندر میرا نام 
بن پریوں کی دید کے نہیں مجھے آرام
سنورے میرے دیورے دل کو نہیں قرار
جلدی میرے واسطے سبھا کروتیار

آمد پکھراج پری کی بیچ سبھا کے 

محفل راجہ میں پکھراج پری آتی ہے 
 سارے معشوقوں کی سرتاج پری آتی ہے 
اس کا سایہ نہ کبھی خواب میں دیکھا ہوگا 
آدمی زادوں میں وہ آج پری آتی ہے 

شعر خوانی اپنے حسب ِ حال زبان پکھرا ج پری کی 

گاتی ہوں میں اور ناچ سداکام ہے میرا 
آفاق میں پکھراج پری نام ہے میرا
استاد کو دیتی ہوں دعائیں دل و جا ں سے 
یہ کام جہاں میں سحرو شام ہے میرا 

غزل بسنت کی زبانی پکھراج پری کی فصل بہار میں 

ہیں جلوۂ تن سے درو دیوار بسنتی 
پوشاک جو پہنے ہے مرا یار بسنتی 
کیا فصل بہاری نے شگوفے ہیں کھلائے 
 معشوق ہیں پھرتے سر بازار بسنتی 
 گیندا ہے کھِلا باغ میں میدان میں سرسوں 
صحرا وہ بسنتی ہے یہ گلزار بسنتی 

درخواست نیلم پری کی زبانی راجا اندر کی 

خوب رجھایا ناچ کے گاکے 
پاس مرے اب بیٹھ تو آکے
خوش ہوئی تجھ سے ساری محفل 
 اب ہے نیلم پری کی باری 
لاؤ نیلم پری کو

 شعر خوانی حسب ِ حال اپنے زبانی نیلم پری کی 

حوروں کے ہوش اڑتے ہیں اڑنے کی شان پر 
نیلم پری ہے نام مرا آسمان پر 
اللہ کے کرم سے زمانے میں ہے عروج 
جُھکتا ہے سرفلک کا مرے آستان پر 
 

چھند زبانی نیلم پری بیچ سبھا کے 

میں چیری سر کار کی اور تم راجوں کے راج 
گانا مجھ معشوق کا سنو غور سے آج 
سنو غور سے آج مرا  راجا جی گانا 
ناچ کی چھل بل دیکھ کر دیکھو بتلانا 

چھند زبان نیلم پری کی بیچ سبھا کے 

 آئی ہوں میں دور سے چیزیں کرکے یاد 
مجرا میرا دیکھ کر کرو میرا دل شاد 
کرو مرا دل شاد کہ میں جی کھول کے گاؤں 
گاکے ناچ کے آج ہنر اپنا دکھلاؤں 

فقرے لال پری کی درخواست میں زبانی راجا اندر کی 

دکھا چکی تو کر تب سارے 
پہلو میں اب بیٹھ ہمارے 
کیا سبھا میں تونے نام 
اب ہے لال پری کاکام 
لاؤ لال پری کو 

آمد لال پری کی بیچ سبھا کے 

سبھا میں لال پری کی سواری آتی ہے 
جمانے رنگ اب اندر کی پیاری آتی ہے 
شفق میں آئے گا جھرمٹ نظر ستاروں کا 
پہن کے سرخ وہ پوشاک پیاری آتی ہے 

شعر خوانی زبان لال پری کی بیچ سبھا کے 

انساں کا کام حُسن پہ میرے تمام ہے 
جوڑا ہے سرخ ، لال پری میرا نام ہے 
یاقوت زرخرید ہے سرکا ر کا مری 
نوکر عقیق لعلِ بدخشاں غلام ہے 

چھند زبانی لال پری کی بیچ سبھا کے 

بیٹھی تھی میں قاف جو جوڑا پہنے لال 
یہاں بلا کر آپ نے بڑھوایا اقبال 
بڑھا دیا اقبال کہ یاں مجھ کو بلوایا
سماں سبھا کا آج بہت دن بعد دکھایا

غزل ساون زبانی لال پری کی ساون کی فصل میں 

دل کو مر غوب ہے جوٹھنڈی ہوا ساون کی 
مانگتی ہوں میں سدا حق سے دعا ساون کی 
یادآتا ہے وہ سبزہ وہ گھٹا ساون کی 
شکل دکھلائے کہیں جلد خدا ساون کی 

آمد سبزپری کی بیچ سبھا کے 

 آتی نئے انداز سے اب سبزپری ہے 
لب سرخ ہیں پر سبز ہیں پوشک ہر ی ہے 
 فیروزہ اسے دیکھ کے کھاجاتا ہے ہیرا 
چہرے میں زمرد سے سوا جلوہ گری ہے 
 جن اس سے خجالت کے سبب اُڑ نہیں سکتے 
پریوں کو سدا شرم سے بے بال و پر ی ہے 
زیورکی ہے کیا شان چھریرے سے بدن پر 
اک شاخ ہے نازک کہ شگوفوں سے بھری ہے 

چوبولا زبان سبز پری کی 

 راجا جی تو سوگئے دیا نہ کچھ انعام 
جاتی ہوں میں باغ میں یہاں مرا کیا کام 
سن رے کالے دیو رے تو مری ایک بات 
آتی تھی راجا کے گھر میں جوآج کی رات 
شہزادہ اک بام پر سوتا تھا نادان 
جوبن اس کے دیکھ کر نکلی میری جان
دل میرا لگتا نہیں محفل کے درمیان 
 قالب میرا ہے یہاں وہاں ہے میری جان 
اس کو گر تو لا اُٹھا جلدی جا کر یار 
لونڈی میں ہوجاؤں گی تری بے تکرار 

جواب کالے دیو کا طرف سبز پری کے 

گھر میں راجا کے ہے تو پریوں کی سردار 
تجھ سے کرسکتا نہیں ہر گز میں انکار 
تیری خاطر ہے مجھے سب سے یہا ں سوا 
پتا بتا معشوق کا لاؤں ابھی اٹھا

 جاگنا شہزادہ کا نیند سے اور کہنا گھبرا کر 

کوٹھا میرا کیا ہوا چھوٗٹا کدھر مکاں 
سویا تھا میں کس جگہ آیا ہائے کہاں 
 نہ وہ میرے لوگ ہیں نہ وہ میری جا 
خواب یہ میں ہوں دیکھتا جاگ رہا ہوں یا 

 کہنا سبز پری کا شہزادے کا ہاتھ تھام کے 

 دیکھو تم میری طرف گھر کا مت لو نام 
 لونڈی مجھ کو جان کر کرو یہاں آرام 
جو ہونا تھا سو ہوا جانے دو بس خیر 
چلو پھرو کھاؤ پیو کرو باغ کی سیر 
بتلاؤ اب حسب نسب اور تم اپنا نام 
رہتے ہو کس کام میں ہوگا کہاں قیام 

جواب شہزادہ گلفام کا 

محلوں میں رہتا ہوں میں عیش ہے میرا کام 
شہزادہ ہوں ہند کا نام مرا گلفام 

چغلی کھانا لال دیوکا راجا اندر سے مثنوی میں 

مہاراج کو حق رکھے شاد کام 
نئی عرض ہے آج کرتا غلام 
میں کھاتا تھا اس دم چمن کی ہوا 
حقیقت وہ دیکھی کہ ہوش اڑ گیا 
شجر ہے پرانا جوشمشاد کا 
گزر واں ہے اک آدمی زاد کا 
نہیں کرتی اصلا مری عقل کام 
وہ انسان ہے یا کہ ماہِ تمام 
اُسے کون لایا یہاں اپنے ساتھ 
اسی فکر میں کب سے مَلتا ہوں ہاتھ 

 پوچھنا راجا اندر کالال دیو سے غضب ناک ہوکر 

 ارے دیو تو ہے یہ کیا بک رہا 
 مرے باغ میں کام انساں کا کیا 
ہوا کس طرح یاں بشر کا گذر 
پرندوں کے دہشت سے جلتے ہیں پر
قدم رکھ سکے جن کی کیا جان ہے 
فرشتوں کی یاں عقل حیران ہے 
 کسی دیو سے آشنائی نہ ہو 
پری کوئی ساتھ اپنے لائی نہ ہو 
اسے کھینچ لا پاس میرے شتاب 
 کہ غصے سے ہے حال میرا خراب 

لانا لال دیو کا گلفام کو کھینچ کر رو برو راجا اندر کے اور عرض کرنا 

حضوری میں حاضر ہے یہ شعلہ خو 
مہاراج صاحب نگہ رو برو 
بجا آپ کا حکم لایا غلام 
چمن میں پہنچ کر کیا اپنا کام 

پوچھنا راجا اندر کا گلفام سے سبب داخل ہونے کا پرستان میں 

ارے کون ہے تو ترا کیا ہے نام 
سبھا تو نے کی میری برہم تمام 
تجھے لایا یاں کون اے بدصفات 
بیاں مجھ سے کر جلد یہ واردات 

عرض کرنا گلفام کا راجا اندر سے عالمِ ہراس میں ہاتھ جوڑ کر 

کہوں کی فلک کا ستایا ہوں میں 
یہاں کھیل کر جی پہ آیا ہوں 

 کہنا راجا اندر کا لال دیو سے واسطے قید گلفام کے اور نکلو انا سبز پری کو اکھاڑے سے پر نوچ کر 

ارے دیو کر قصد بیداد کا 
پکڑ ہاتھ اس آدمی زاد کا 
کنواں وہ جو ہے قاف میں پر خطر 
ابھی اس میں جاکر اسے قید کر 
پری سبز جو ہے یہ آگے کھڑی 
خطا کی ہے اس بیسوا نے بڑی 
سوتو نوچ کر اس کے پر اور بال 
 اکھاڑے سے میرے ابھی دے نکال 
اڑاتی پھرے خاک یہ کو بہ کو 
نہ آئے ہمارے کبھی رو بہ رو
 

 آنا سبز پر ی کا جوگن بن کے پرستان میں 

 جوگن آتی ہے پری بن کے پرستان کے بیچ 
سمرنیں ہاتھوں میں مند رے ہیں پڑے کان کے بیچ 
ٍسرپہ انڈوا ہے رکھے منھ پہ رمائے ہے بھبھوت 
سیلیاں ڈالے ہے گردن میں گریبان کے بیچ 

حاضر کرنا کالے دیو کا جوگن کو سبھا میں اور عرض کرنا راجا اندر سے 

مہاراج کیجیے ادھر اب نگاہ 
یہ جوگن ہے حاضر بحالِ تباہ 
ملا کس خرابی سے اس کا نشاں 
ہوا میں پرستاں میں ہر سو رواں 

دیکھنا راجا اندر کا طرف جوگن کے اور دریافت کرنا حال جوگ کا 

اری جوگن ارے درد کی مبتلا 
فقیروں کا کیوں بھیس تو نے کیا 
فدا کس پہ ہے کس پہ شیدا ہے تو 
کوئی آدمی ہے پری یا ہے تو 

جواب جوگن در د آمیز طرف راجا اندر کے اورعرض حال کرنا 

مہاراج پوچھو نہ جوگن کا حال 
فقیروں کال دل درد سے ہے نڈھال 
مرا مجھ سے معشوق ہے چھٹ گیا 
مرا راج اس دیس میں لٹ گیا 

ٹھمری گانا جوگن کا سامنے راجا اندر بیچ دُھن بھیرویں کے 

 کہا گیو گیاّں شہزاہ جانی پیارا 
دل تڑپے رے ہمارا 
کہاں گیو
وا کا پتا کہوں لاگت ناہیں 
ڈھونڈھ پھری بن سارا 
کہاں گیو 

گلوری دینا راجا اندر کا جوگن کو محظوظ ہوکر اور جواب دنیا جوگن کا نثر میں 

پان لے کے کیا کروں ، کسی سبزہ رنگ کا دھیان ہے ۔ ہڈیاں چونا ہیں ، بدن دھان پان ہے ۔ عشق لہو پی پی کے رنگ لیا ہے ۔ فراق نے قتل کا بیڑا اٹھایا ہے ۔ گلوری لیے مجھے کیا تکتا ہے ۔ فقیروں کا منھ کون کیل سکتا ہے ۔ 

 ہار دینا راج اندر کا جوگن کو پھر جواب دنیاجوگن کا اور ہار نہ لینا 

ہار نہ لوں گی ، دل کو خار ہے 
اپنا گل عذار گلے کا ہار ہو تو بہار ہے 

پھر غزل گانا جوگن کا بیچ دُھن بھیرویں کے 

 دل کو چین اک دم تہ چرخِ کہن ملتا نہیں 
 وہ مرا گلفام وہ گل پیر ہن ملتا نہیں 
کس طرح صرصر مرے گل کواڑا کر لے گئی
گلشنِ عالم میں وہ رشکِ چمن ملتا نہیں

رومال دینا راجا اندر کا جوگن کو خوش ہوکر پھر جواب دینا جوگن کا ذو معنی میں 

رومال انھیں دیجئے جو تنگ دست ہیں ۔ فقیر اپنی کملی میں مست ہیں ۔ عشق کی گرمی نے مارا ہے ۔
پشمینے سے کنارا ہے ۔ راجا کے دور میں پلے سے آئی ہوں ۔ جومانگوں سو پاؤں ۔

اقرار کرنا راجا اندر کا جوگن سے 

مانگ کیا مانگتی ہے 

غزل گانا جوگن کا طلب گلفام میں 

ہوتا ہے کوئی آن میں اب کام ہمارا 
انعام میں دیجئے ہمیں گلفام ہمارا 
اب چاہ سے یوسف کو نکلواؤ ہمارے 
گھُٹتا ہے اندھیرے میں دل آرام ہمارا 

پہنچاننا راجا اندر کا سبز پری کو اور طلب کرنا لال دیو کےواسطے خلاصی گلفام کے 

اے لال دیو اس طرف جلد آ
بڑا مجھ کو جوگن نے دھوکا دیا 
بناوٹ کی تھی ساری جادو گر ی 
نہیں آدمی سبز ہے یہ پری 

ملنا گلفام کا سبز پری کو اور گفت و شنید حال ایام فراق کی آپس میں سوال سبز پری کا 

قہر تھا ہجر قیامت تھی جدائی تیری 
میرے خالق نے مجھے شکل دکھائی تیری 

 جواب شہزادے کا 

خاک ہے منھ پہ ملی بال ہیں سر کے بکھرے 
ہائے اس عشق نے کیا شکل بنائی تیری 

جواب سبز پری کا 

مجھ پہ ہونا تھا جو کچھ ہوگیا اس کا نہیں غم
ہوگئی قیدِ مصیبت سے رہائی تیری
 

جواب شہزادے کا 

تومرے آگے نکالی تھی گئی نوچ کے پر
راجا تک پھر ہوئی کس طرح رسائی تیری 

جواب سبز پری کا 

بن کے جوگن ہوئی اندر کی سبھا میں داخل 
پھریہاں چاہ مجھے کھینچ کے لائی تیری 

جواب شہزادے کا 

کہہ کے راجا سے مجھے کس نے تجھے دلوایا 
 دشمنِ جاں تھی میری جان جدائی تیری 

جواب سبز پری کا 

ہے تمنا یہ میرے دل کہ اب حشر تلک 
فضل استاد سے دیکھوں نہ جدائی تیر

 مبارک باد گانا سبز پری کا گلفام سے ہم بغل ہوکر ساتھ سب پریوں کے 

شادی جلوہ گلفام مبارک ہووے 
عیش و عشرت کا سر انجام مبارک ہووے 
بعدمدت کے حسینوں کا نصیبا جاگا 
فرش رحمت پہ اب آرام  مبارک ہووے
سر و قمر ی کو سزاوار ہو بلبل کو گل
ہم کو یہ سروِ گل اندام مبارک ہووے
تخت پر ہم کو مبارک ہو جہاں میں پھرنا 
غیر کو گردش ایا م مبارک ہووے 
ہوچکے عشق میں بدنام بڑی مدت تک 
اب زمانے میں ہمیں نام مبارک ہووے 
جعل سازوں کے نہ پھندے میں پھنسے طائر دل 
گیسوؤں کا ہمیں اب دام مبار ک ہووے 
حوریں جنت کو مبار ک ہوں فلک کو تارے 
 باغ کو گل ہمیں گلفام مبارک ہووے 
 چھینے شہزاد ے کو اب راجانہ ہم سے استا د
یہ امانت سحر و شام مبارک ہووے

(امانت لکھنوی ) 


سوالات 

1 اندر سبھا میں ڈراموں سے مماثلت کے کیا پہلو نکلتے ہیں؟
2 اوپیرا (Opera) کی تعریف کیا ہے اور اردو کا پہلا منظوم ڈراما کون سا ہے ؟
3 راجہ کی محفل میں پکھراج پری کی آمد کا حال اپنے الفاظ میں لکھیے ۔
4 اندر سبھا میں سبز پری کی آمد کا نقشہ کس طر ح کھینچا گیا ہے ؟
5 شہزادہ گلفام کو کیا سزا دی گئی اور کیوں ؟