Skip to content
11-Khayaban-e-Urdu-001


15

 شاہنامہ ٔ اسلام 

 حفیظ جالندھری اردو کے معروف نظم گو شاعر تھے ۔ ان کی شاعر کا بہت نمایاں وصف اس کی غنائیت ہے ۔ انھوں نے نظموں اور غزلوں کے علاوہ گیت بھی بڑی تعداد میں لکھے ہیں ۔ ان گیتوں میں غنائیت اور موسیقی کا عنصر انھیں انتہائی پرکشش اور مؤثر بنادیتا ہے ۔
 حفیظ جالندھری کا شاہنامہ اسلام اردو کی سب سے طویل اور مقبول نظموں میں شمار کیا جاتا ہے ۔اس کا موازنہ فردوسی کے شاہنامے سے تو نہیں کیا جاسکتا کیونکہ شاہنامہ ٔ فردوسی رزمیہ شاعری کا شاہکار ہے ۔ حفیظ جالندھری نے اس میں اسلام کی تاریخ بیان کی ہے ۔ نظم کا بیشتر حصہ بیانیہ ہے اور واقعہ نگاری کا اچھا نمونہ ہے ۔ کچھ حصوں میں جذبات نگاری کی بھی بہت اچھی مثالیں ملتی ہیں ۔ 
 یہاں شاہنامۂ اسلام کی دوسری جلد کا ایک نمائندہ اقتباس دیا جارہا ہے ۔اس میں حفیظ جالندھری نے صحرا کی زبان سے ایک تشنہ لب قافلے کے استقبال یا خیر مقدم کے جذبات کی ترجمانی کی ہے ۔ واقعہ نگاری اور بیانیہ انداز کے ساتھ ساتھ ان اشعار میں جذبے کا بہت لطیف اظہار بھی ملتا ہے ۔ 
11-Khayaban-e-Urdu-001

 حفیظ جالندھری 

(1900 - 1982)
 عبد الحفیظ نام اور حفیظ تخلص تھا ۔ پنجاب کے ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے ۔ تعلیم بھی وہیں حاصل کی ۔ وہ مولانا گرامی کے شاگر د تھے اور فارسی و اردو میں اچھی دستگاہ رکھتے تھے ۔ حفیظ جالندھری نے کئی اہم جریدوں اورسالوں کی ادارت کی ۔ 1938 میں انھوں نے یوروپ کا سفر کیا اور وہاں قیام کے دوران ’’ افرنگ کی دنیا ‘‘ اور ’’ اپنے وطن میں سب کچھ ہے پیارے ‘‘ مشہور نظمیں کہیں ۔ چھوٹی بحروں اورسادہ لفظوں میں گیت اور نظمیں لکھنا حفیظ کا خاص انداز ہے ۔ 
حفیظ جالندھری کا شمار اردو کے معروف شاعروں میں ہوتا ہے ۔ ’’ نغمہ ٔزار ‘‘ ، ’’ سوز و ساز‘‘ اور ’’تلخابہ شیریں ‘‘ ان کے کلام کے اہم مجموعے ہیں ۔ 
حفیظ کا شاہکار ’’ شاہنامہ ٔ اسلام ‘‘ ہے جو چار جلدوں پر مشتمل ہے ۔ ’’ شاہنامہ ٔ اسلام ‘‘ بیانیہ شاعری کی اچھی مثال ہے ۔
11-Khayaban-e-Urdu-001

 

صحر ا کی دعا 

یہ تشنہ لب جماعت جب یہاں پر رک گئی آکر 
دعا کی دامن ِ صحرا نے دونوں ہاتھ پھیلا کر 
کہ اے صحر ا کو آتش ناک چہر ہ بخشنے والے 
رخِ خورشید کو کرنوں کا سہرا بخشنے والے
ازل کے دن سے اب تک بھاڑ میں بھنتا رہا ہوں میں 
صدائے رعد و باراں دور سے سنتا رہا ہوں میں
ہوا ہوں جب سے پیدا ، جان پانی کو ترستی ہے 
 مرے سینے کے اوپر آگ کی بدلی برستی ہے 
میں سمجھا تھا مقدر ہوچکی ہے دھوپ کی سختی 
مری قسمت میں لکھی جاچکی ہے سوختہ بختی 
بنایا رفتہ رفتہ سخت میں نے بھی مزاج اپنا 
لیا ہر آبلہ پا سے زبر دستی خراج اپنا 
خبر کیا تھی الٰہی ایک دن ایسا بھی آئے گا 
کہ تیرا ساقیِ کوثر یہاں تشر یف لائے گا 
اگر یہ بات پہلے سے مجھے معلوم ہوجاتی 
مرے دل کی کدروت خود بخود معدوم ہوجاتی 
خبر کیا تھی یہاں تیرے نمازی آکے ٹھہریں گے 
شہید آرام فرمائیں گے ، غازی آکے ٹھہریں گے
خبر کیا تھی ملے گی یہ سعادت میرے دامن کو 
 بنایا جائے گا فرشِ عبادت میرے دامن کو 
خبر ہوتی تو میں شبنم کے قطرے جمع کر رکھتا 
چھُپا کر ایک گوشہ میں مصفا حوض بھر رکھتا 
وہ پانی ان مقدس مہمانوں کو پلادیتا 
میں اپنی تشنگی دیدارِ حضرت سے بجھالیتا
مرے سر پر سے گذرا نوح کے طوفان کا پانی
تاسف ہے کہ مجھ سے ہوگئی اس وقت نادانی
اگر رکھتا میں اس پانی کی تھوڑی سے خبرداری 
تو ہوجاتا مری آنکھوں سے چشموں کی طرح جاری 
یہ ستر اونٹ دو گھوڑے یہاں سیراب ہوجاتے 
 مجاہد بھی وضوکرتے ، نہاتے ، غسل فرماتے 
 حضورِ ساقیِ کوثر مر ی کچھ لاج رہ جاتی 
مری عزت مری شرمِ عقیدت آج رہ جاتی 
ترے محبوب کے پیاے قدم اس خاک پر آئے 
 الٰہی حکم دے سورج کو اب آتش نہ برسائے 
 اگر اب مرے دامن سے ہوائے گرم آئے گی 
تو مجھ کو رحمت للعالمین سے شر م آئے گی 
جلیل الشان مہمانوں کا صدقہ مہربانی کر 
عطا بہرِ وضو ان کے لیے تھوڑا سا پانی کر 
برائے چند ساعت ابر باراں بھیج دے یارب 
بہاراں بھیج دے یارب بہاراں بھیج دے یا رب 

(حفیظ جالندھری )


سوالات 

  صحرا نے اپنے مقدر کی شکایت کن لفظوں میں کی ہے تفصیل سے لکھیے ؟
یہاں ساقیِ کوثر سے کیا مراد ہے ؟
صحرا یہ بات کیوں کہہ رہا ہے کہ ’’ میرے دل کی کدورت خود بخود معدوم ہوجاتی ‘‘ ؟
صحرا اپنی کس نادانی پر تاسف کا اظہار کررہا ہے اورکیوں ؟
آتش نہ برسانے سے شاعری کی کیا مراد ہے ؟
آخرمیں شاعر کس بات کی دعا کررہا ہے ؟