Skip to content
Riyazee-001


باب 4

ریاضی کے امالی اصول                                           

(PRINCIPLE OF MATHEMATICS INDUCTION)

∴ تجزیہ اور طبیعات اپنے  اہم  ترین اہم ترین انکشافات کے لیے اس  مفید ذریعہ کا مرہون منت ہے جو امالہ (Introduction)کے نام سے جانا جاتا ہے۔ٹیوٹن اپنی بانو میل تھیورم اور آفاقی نقل کے اصول کے لیے بھی اسی  کا ممنون تھا۔ لیپلاس(LAPLACE)∴


4.1تعارف (Introduction)

ریاضی ایک سوچ میں معلوماتی وجوہات کا بہت بڑا ہاتھ ہے، ایک غیر اصولی اور معلوماتی وجوہات کی مثال سائنسی سوچ کے مطالعہ سے لی گئی ہیں، جو ایک دلیل (Argument) تین بیانوں میں دی گئی ہے ۔ 
(a) سقراطSocratesایک آدمی ہے ۔
(b) سبھی آدمیوں کو مرنا ہے، اسلئے 
(c) سقراط کو بھی مرنا ہے۔
01

اگر بیانات (a) اور (b) درست ہیں، تو (c) کی سچائی ثابت ہوتی ہے، اس معمولی مثال کو ریاضیاتی بنانے کیلئے ہم اس طرح لکھ سکتے ہیں۔
(i)
8، 2 سے تقسیم ہوتا ہے۔
(ii) کوئی بھی عدد جو 2 سے تقسیم ہوتا ہے جفت عدد ہے۔ اسلئے 
(iii)
 8 ایک جفت عدد ہے۔
اس لئے کھوج کو ایک خاص انداز میں اس طرح بھی کہتے ہیں: ایک بیان کو دیکر اسے ثابت کرنا انداز لگانا یا ریاضی میں ایک تھیورم (Theorem)کہلاتی ہے۔ کھوج کے صحیح اقدام اٹھائے جاتے ہیں اور ایکProof یاتو مل جاتا ہے یا نہیں۔ اس طرح معلوماتی طریقہ ایک عام مسئلہ سے خاص مسئلہ کی طرف لے جاتاہے۔
معلومات کے برعکس امالی سوچ ہر مسئلہ پر مبنی ہوتی ہے اور پھر پر ایک مسئلہ کے بارے میں غور و فکر کر کے ایک اندازہ لگا یا جاتا ہے۔ ریاضی میں اس کا استعمال بہت زیادہ ہے اور سائنسی سوچ میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جہاں data کو جمع کیا اور توڑا جانا ہے۔ اسلئے آسان زبان میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ امالہ کا مطلب ہے خاص مسئلہ یا اصلیت سے عام کی طرف بڑھنا۔ 
الجبرا یا ریاضی کی دوسری شاخوں میں بہت سے ایسے نتائج یا بیانات ہیں جنھیں ہم 'n' کا استعمال کر کے لکھتے ہیں جہاں n' 'ایک مثبت صحیح عدد ہے۔ اس طرح کے بیانات کو ثابت کرنے کیلئے ایک اچھا اور موزوں اصول جو یہاں استعمال کیا گیا ہے ، ایک خاص طریقہ پر مبنی ہے جسے ہم ریاضی کی امالی اصول کہتے ہیں۔

4.2  دلچسپی پیداکرنا (Motivation)

ریاضی میں ہم ایک مکمل امالہ کی شکل کا استعمال کرتے ہیں جسے ہم ریاضی کا امالہ کہتے ہیں۔ ریاضی کے امالہ کا بنیادی اصول سمجھنے کے لیے مان لیجئے مستطیل پتلے ٹائیلوں کا ایک سیٹ ایک طرف رکھا ہے جیسا کہ شکل 4.1 میں دکھا یا گیا ہے۔
02
شکل 4.1 

جب ہم پہلے ٹائیل کو ایک خاص طرف دھکیلتے ہیں تو سبھی ٹائیل گرجاتے ہیں، مکمل طریقے سے یقین دہانی کیلئے کہ سبھی ٹائیل گرجائیں گے، یہ جاننا ضروری ہے کہ
 (a) پہلا ٹائیل گر گیا ، اور 
(b) اس وقوع (event) میں کہ کوئی بھی ٹائیل گرتا ہے تو اس کے بعد کا بھی ہر حال میں گرے گا۔
یہ ریاضی کی امالہ کا  underlying Principle ہے۔
ہم یہ جانتے ہیں کہ طبعی اعداد کا سیٹ ، حقیقی اعداد کا ایک خاص مرتب ذیلی سیٹ ہے۔ اصلیت میں R'N کا سب سے چھوٹا ذیلی سیٹ ہے جو ایک امالی سیٹ ہے۔ اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ R کوئی بھی ماتحت سیٹ جو کہ ایک امالی سیٹ ہے N اس میں موجود ہے۔

وضاحت 

مان لیجئے ہم مثبت صحیح اعداد 3،2،1،..... ،nجوڑ کا فار مولہ معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے وہ فار مولہ جو 1+2+3 کی قیمت دے جب n=3 ہو ، قیمت1+2+3+4 جبn=4 ہو اور اسی طرح آگے بڑھے اور مان لیجئے ہمیں کسی طرح سے یہ یقین ہوجائے کہ 
فارمولہ03 صحیح فار مولہ ہے۔
حقیقت میں یہ فار مولہ کس طرح ثابت ہوا؟ اصلیت میں ہم اس بیان کی جانچn کی مثبت صحیح قیمتیں لے کر کریں گے جتنی ہم چائیں گے، لیکن اس طریقہ سے n کی تمام قیمتیں ثابت نہیں کی جاسکتی ہیں۔ یہاں یہ درکار ہے کہ کسی طرح کازنجیری تعامل (chain reaction) ہو جس کا یہ نتیجہ ہو کہ اگر یہ فارمولہ ایک خاص مثبت صحیح عدد کیلئے ثابت ہو گیا ہے تو یہ اس سے اگلے مثبت صحیح عدد کیلئے بھی ہوگا۔ اور اس سے اگلے مثبت صحیح عدد کیلئے بھی ہوگا اور automatically یہ فارمو لہ لامحدود اعداد کیلئے بھی ہوگا۔

4.3  اصول(The Principle of Mathematical Induction)

مان لیجئے کوئی بیان (P(nدیا گیا ہے جو طبعی عدد n پر مبنی ہے اس طرح
(i)   بیان n=1 کیلئے صحیح ہے  (i.e  P(1 صحیح ہے اور 
 (ii)  اگر بیان n = k کیلئے صحیح ہے ( جہاں کو ئی مثبت صحیح عدد ہے)  اس طرح بیان n = k + 1 کیلئے بھی درست ہے
.P(k)i.e کی سچائی کا مطلب ہے (P(k + 1 کی سچائی
اس لئے (P(n تمام صحیح اعداد کے لئے درست ہے۔
حقیقت میں(i) ایک معمولی بیان ہے، کچھ اس طریقہ کے حالات بھی ہوں گے جب ۔۔n>=4 کیلئے بیان درست ہوگا۔ اگر اقدام n=4 (i)سے شروع ہو اور ہم اس نتیجہ کو n = 4 رکھ کر ثابت کریں P(4). i.e.
پراپرٹی(ii) حالات پر مبنی پراپرٹی ہے، اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ دیا ہوا بیان n = kکے لئے درست ہے، تب یہ n=k+1 کیلئے بھی درست ہوگا۔ تو یہ ثابت کر نے کیلئے کہ یہ پراپرٹی صحیح ہے ہمیں صرف Conditional proposition کو ثابت کرنا ہوگا۔
’’ اگر بیان n = k کیلئے درست ہے، تو یہ n = k = 1 کیلئے بھی درست ہوگا۔
اسے کبھی کبھی امالہ کا قدم بھی کہا جاتا ہے۔ امالہ کے قدم میں یہ مان لینا کہ یہ بیان  n = k  کے لئے درست ہے امالہ کا مفروضہ (Inductive hypotesis) کہلاتا ہے ۔
مثال کے طور پر ریاضی میں لگاتار اس فارمولے کی کھوج کی جاتی ہے جو اس طریقہ میں موزوں ہو۔
06
یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ پہلے دو طبعی طاق اعداد کا جوڑ دوسرے طبعی عدد کے مربع کے برابر ہے، پہلے تین طبعی طاق اعداد کا جوڑ، تیسرے طبعی عدد کے مربع کے برابر ہے وغیرہ، اس طرح اس طریقہ سے ہمیں ملتا ہے
07
اس طرح پہلے ’n‘  طبعی طاق اعداد کا جوڑ ’n‘ کے مربع کے برابر ہے۔
ہمیں لکھنا ہے
08
ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ P(n) سبھی nکیلئے درست ہے۔
ریاضی کے امالہ (Mathematical Induction)میں اسے ثابت کرنے کیلئے سب سے پہلا قدمP(1)کو صحیح ثابت کرنا ہے۔ اس قدم کو بنیادی قدم کہتے ہیںعام طور پر09 اس کا مطلب P(I) صحیح ہے۔ دوسرے قدم کو Inductive Step کہتے ہیں یہاںہم یہ مان لیتے ہیں کہ (P(k کسی مثبت صحیح عدد 'K' کیلئے درست ہے اور ہمیں اس کی ضرورت ہوتی ہے کہ ہم(P(k + 1 کو بھی صحیح ثابت کریں۔
کیونکہ( P(k صحیح ہے ۔ ہمارے پاس ہے۔
010
(1)کا استعمال کرنے پر)
اس لئے (P(k+1 صحیح ہے اور Inductive proof اب مکمل ہے ۔
اس لئے (P(n تمام طبعی اعداد 'n'کیلئے درست ہے۔

مثال 1

 سبھی 011ثابت کیجئے۔
012

حل

  مان لیا دیا ہوا بیان (P(n ہے۔اس لئے،
013
مان لیجئے (P(kکسی مثبت صحیح عدد ’k‘ کیلئے درست ہے۔
014
اب ہم یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ P(k + 1) بھی درست ہے۔ اب ہمارے پاس ہے
015
016
اس لئے (P(k + 1صحیح ہے، جبکہ P(k) درست ہو۔ 
اس لئے ریاضی کے امالی اصول سے بیان (P(n تمام طبعی اعداد N کیلئے درست ہے۔

مثال 2

 ثابت کیجئے کہ تمام مثبت صحیح اعداد ’n‘ کیلئے2n>n

حل

   مان لیجئے P(n):2">n" 
017
مان لیجئے (P(k تمام مثبت صحیح اعداد kکیلئے درست ہے 
018
اب ہم یہ ثابت کریں گے (P(k + 1 درست ہے جبکہ (P(k درست ہے 
(i) کو دو نوں طرف 2 سے ضرب کرنے پر ، ہمیں حاصل ہوتا ہے۔
019
اس لئے (P(k + 1درست ہے جبکہ (P(k درست ہے۔ اسلئے ریاضی کے امالی اصول سے بیان (P(n سبھی طبعی اعداد 'n' کیلئے درست ہے۔

مثال 3 

 تمام n≥1 کیلئے ثابت کیجئے
020
021
ہم یہ نوٹ کرتے ہیں کہ022: جو صحیح ہے ، اسلئے n = 1 کیلئے (P(n درست ہے۔
مان لیجئے کسی بھی طبعی اعداد k کیلئے (P(k درست ہے 
اس سے ملتا ہے 023
ہمیں یہ ثابت کرنے کی ضرورت ہے (P(k + 1 درست ہے جب کہ (P(k بھی درست ہو۔ہمارے پاس ہے
024
اس لئے (P(k + 1 درست ہے جبکہ (P(k درست ہے، اس لئے ریاضی کی امالی اصول سے (P(n تمام طبعی اعداد کے لئے درست ہے۔

مثال 4  

تمام مثبت صحیح اعداد’n‘ کیلئے ثابت کیجئے کہ025سے تقسیم ہوتاہے۔

حل

    ہم لکھتے ہیں 026 سے تقسیم ہوتا ہے 
ہم نوٹ کرتے ہیں کہ
027 جو کہ 4 سے تقسیم ہوتا ہے۔ اسلئے n = 1 کیلئے (P(n درست ہے۔ 
مان لیجئے کسی طبعی عدد k  کیلئے (P(k درست ہے۔ 
028
اب ہماری یہ خواہش ہے کہ ہم یہ ثابت کریں کہ (P(k + 1 درست ہے جبکہ (P(k درست ہے 
029
ہم آخری لائن سے یہ دیکھتے ہیں کہ030  سے تقسیم ہوتا ہے۔ اس لئے (P(k + 1 درست ہے، جبکہ (P(k درست ہے۔ اس لئے ریاضی کے امالی اصول کا بیان تمام مثبت صحیح اعداد کیلئے درست ہے۔

مثال5

  تمام طبعی اعداد’n‘ کیلئے ثابت کیجئے031

حل

  مان لیا (P(nایک دیا ہوا بیان ہے۔
032
ہم یہ نوٹ کرلیں کہ n = 1 کیلئے (P(n درست ہے۔ کیونکہ 033 کیلئے
مان لیجئے034صحیح ہے۔
ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ (P(k + 1صحیح ہے x>-1کیلئے جہاں (P(k صحیح ہے۔(2)...     
تماثل کو دیکھئے 035
دیا ہوا ہے036کو استعمال کر کے ہمارے پاس ہے۔
037
یہاںk ایک طبعی عدد ہے اور x2≥0  اس لئے  x2≥0اس لئے
  039
اور اس طرح ہمیں ملتا ہے
040
اس لئے بیان (2)  وجود میں آگیا ہے۔ اس طرح تمام طبعی اعداد کیلئے (P(n درست ہے ، ریاضی کے امالی اصول کی وجہ سے۔

مثال 6  

ثابت کیجئے 041 سے تقسیم ہوتا ہے تمام n≥1کیلئے 

حل

    مان لیجئے، بیان (P(n اس طرح defineہوتا ہے۔
042سے تقسیم ہوتا ہے۔
ہم یہ نوٹ کرلیں کہ (P(n)یح ہے n = 1 کیلئے کیونکہ
043 جو کہ 24 سے تقسیم ہوتا ہے۔
مان لیجئے (P(kدرست ہے
044
اب ہماری یہ خواہش ہے کہ ہم یہ ثابت کریں کہ (P(k + 1 صحیح ہے جب کہ (P(k صحیح ہے۔
ہمارے پاس ہے
045
[(کیوں؟)4 کا ضرب ہے046
047
rکوئی طبعی عدد ہے 048
دی ہوئی (expression q(2کی دائیں طرف049سے تقسیم ہوتی ہے۔اس لئے (P(k + 1 درست ہی جبکہ (P(k درست ہو۔
اس لئے ریاضی کی امالی اصول کی روح سے (P(n تمام∋N کیلئے درست ہے 

مثال 7

   ثابت کیجئے کہ
050

حل

        مان لیجئے (P(n دیا ہوا بیان ہے 
051
ہم یہ نوٹ کرلیں کہ n = 1کیلئے  (P(nدرست ہے کیونکہ 052
مان لیجئے کہ (P(k صحیح ہے 
053
اب ہم یہ ثابت کریں گے کہ (P(k + 1 درست ہے جبکہ (P(k درست ہے 
ہمارے پاس ہے 
054
055
اس لئے (P (k + 1بھی صحیح ہے جبکہ (P(k صحیح ہو۔ اس لئے ریاضی کے امالی اصول کی روح سے تمام n∈N کیلئے(P(n درست ہے۔

مثال 8 

 ریاضی کے امالی اصول کی روح سے قوت نما کا اصول ثابت کیجئے۔
056

حل  

مان لیجئے(P(n دیا ہوا بیان ہے۔
057
ہم یہ نوٹ کرلیں کہ n=1 کیلئے (P(n درست ہے۔ کیونکہ 058
مان لیجئے (P(k درست ہے
059
ہم اب یہ ثابت کریں گے کہ (P(k + 1درست ہے جبکہ (P(k درست ہو 
اب ہمارے پاس ہے
060
اس لئے (P(k + 1بھی درست ہے جبکہ (P(k درست ہے۔ اس لئے ریاضی کے امالی اصول کی روح سے تمام n∈N   کیلئے (P(n درست ہے۔

مشق4.1 

تمام n∈N کیلئے مندرجہ ذیل کو ریاضی کے امالی اصول کا استعمال کرکے ثابت کیجئے۔
061
062
063



خلاصہ (Summary)

ریاضی کی سوچ کا تمام دار و مدار معلوماتی وجوہا ت پر مبنی ہے۔ معلومات کے برعکس امالی وجوہات مختلف Cases پر کام کرنے اور اس بات کا اندازہ لگانے کے ہر ایک Case کو بخوبی دیکھ لیا گیا ہے پر مبنی ہے۔ اس لئے آسان زبان میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ امالہ کا مطلب ہے ایک خاص Case یا حقیقت عام کی طرف جانا۔
بہت بڑی تعداد میںریاضی کے بیانوں کو ثابت کرنے کے لئے ریاضی کے امالی اصول ایک بہت بڑا اوزار ہیں۔ اس طرح کا ہر بیان (P(n سے ملاہوا ہے یہ مان لیا جا تا ہے جہاں 'n' ایک مثبت صحیح عدد ہے ۔جس کیلئے n = 1کے صحیح ہونے کو دیکھا جاتا ہے۔ پھر (P(k کی سچائی کو مان کر جہاں k ایک مثبت عدد ہے (P(k + 1 کی سچائی کو ثابت کیا جاتا ہے۔


خلاصہ (Summary)

ریاضی کے دوسرے طریقوں اور تصورات کی طرح ریاضی کے امالہ کا ثبوت کسی ایک فرد کی ایجاد نہیں ہے نہ ہی یہ کسی خاص لمحہ میں ہوا۔ بنیادی طور پر ریاضی کے امالہ کا اصول Pythagoreans کو معلوم تھا۔
ریاضی کے امالہ کا اصول کا سہرا فرانسیسی ریاضی داں Blaise Pascal کے سر بند ھتا ہے۔
نام امالہ کا استعمال انگریزی ریاضی داں John Wallis نے کیا بعد میں یہ اصول bionomial theorem کو ثابت کرنے کیلئے کیا گیا۔
De. Morganنے ریاضی کے میدان میں بہت accomplishment دیں، وہ پہلا آدمی تھا جس نے ریاضی کے امالہ کو نام دیا اور اس کی تعریف بیان کی۔ 
اور De.Morgan اصول کو ریاضی کے سلسلہ کیConvergence دیکھنے کیلئےdevelope کیا۔
۔۔۔۔۔ صریح ۔۔۔۔۔۔ کے بیان کو مان کر طبعی اعداد کی خصوصیات کو پیش کرنے کا بیڑا اٹھا یا جسے ہم اب Peano's Axioms کہتے ہیں۔ ریاضی کے امالی کا اصول  Axiom Peamos کے دوبارہ دیئے گئے بیان میں سے ایک ہے۔