باب 11
مخروطی تراشے
(CONIC SECTIONS)
’’ معلومات کا اصل زندگی سے رشتہ(Relation) ہمارے بچوں (شاگردوں)پر بخوبی واضح ہونا چاہئے ۔انھیں یہ بھی سمجھنے کا موقع فراہم کیا جائے کہ دنیا علم (معلومات) کی بدولت کس طرح تغیر پذیر ہو سکی (برٹ رانڈ رسل) (BERTRAND RUSSEL)
11.1تعارف(Introduction)
ہم پچھلے باب 10میں خط کی مساوات کی مختلف شکلوں کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔اس باب میں ہم کچھ منحنیوںمثلاً دائروں ،ناقصوں (Ellipses)مکافی (Parabols)اور زائدہ(Hyperbolas)کے بارے میں پڑھیں گے۔Parabola اور Hyperbolaنام اپولونیس (Appollonius)نے دئے ہیں۔دراصل ان منحنیوں (Curves)کو مخروطی تراشے کہتے ہیں کیونکہ انھیں ایک مستوی (Plane) اور دوہرے قائم دائری مخروطی تقاطع(Intersaction) سے حاصل کیا گیا ہے ۔ان منحنیوں کے استعمال (Application)کا میدان کافی وسیع ہے مثلاً احسامی نظام کی حرکت،دوربین اور اینٹیناکے ڈیزائن (Disign) ریفلیکٹرس (Reflecters)،فلیش لائٹ اور گاڑیوں (Automobiles)کے ہیڈ لائٹس وغیرہ وغیرہ ۔اب ہم اگلے حصہ میں دیکھیں گے کہ کس طرح ایک مستوی (Plane)اور ایک دوہری قائم دائری مخروط کے کاٹنے (Intersaction) میں کتنی طرح کی منحنیاں بنتی ہیں۔

اپولونیس
(262BC-190BC)
11.2مخروط کے تراشے (Sections of a Cone)
مان لیجیے کہ/ایک ساکن راسی خط ہے اور m ایک دوسرا خط ہے جو/کو نقطہ V پر کاٹتاہے اور زاویہ αبناتا ہے (شکل 11.1)

شکل 11.1
فرض کیا کہ خط m کو /کے گرد اس طرح گھومایا جائے کہ زاویہaہمیشہ قائم رہے۔ اس طرح جو سطح وجود میں آتی ہے وہ ایک دوہراقائم دائری مخروط ہے جو بعد میں مخروط کہلاتاہے جو دونوں جانب لا محدود طور پر پھیلا ہوا ہے ۔

نقطہ Vراس(Vertex)،خط/مخروط کا محور (axis)اور گھومنے والا خطmمخروط کا مولد (Generater)کہلاتا ہے۔راسVمخروط کو دو حصوں میں بانٹتا ہے جنھیں ہم نیپس (Nappes)کہتے ہیں۔
اگر ہم ایک مستوی(plane) کا ایک مخروط کا تقاطع(Intersaction)لیں تو اس طرح حاصل شدہ تراشہ(Section) مخروطی تراشہ کہلاتا ہے اس لئے مخروطی تراشے وہ منحنیاں ہیں جو ایک قائم دائری مخروط کو ایک مستوی کے تراشنے(کاٹنے) سے بنتی ہیں۔
ہمیں مختلف طرح کے مخروطی تراشے ملتے ہیں جن کا انحصار تراشنے والی مستوی اور مخروط کے راسی محور کے درمیانی زاویہ پر ہوتا ہے فرض کیا کہ وہ زاویہ βہے جو تراشنے والی مستوی اور مخروط کے راسی محور کے درمیان بنتا ہے ۔(شکل11.3)
مستوی کی یہ تراش (Intersaction)مخروط پر یا تو راس(Vertex)پر یا پھر نیپ کے کسی بھی حصہ پر راس کے نیچے یا راس کے اوپر ہو سکتی ہے۔
11.2.1 دائرہ(Circle)، ناقص (ellipse)، مکافی (parabola) اور زائد (hyperbola)
جب بھی کبھی مستوی مخروط کی نیپ کو (راس کے علاوہ )تراشتی ہے تو درج ذیل حالات پیش آتے ہیں۔
(a) جبaβ=90º تب تراش(saction)ایک دائرہ ہوتی ہے (شکل 11.4)
(b) جبβ<90º>∞ تب تراش ایک ناقض(ellipse)ہوتی ہے (شکل 11.5)
(c) جبβ=∞ تب تراش ایک مکافی(parabola) (شکل 11.6)
مندرجہ بالا تینوں حالات میں، مستوی مکمل طور پر مخروط کی محض ایک ہی نیپ کو ادھر سے ادھر تراشتی ہے
(d) جب
0≤β>∞
تب مستوی مخروط کے دونوں نیپس کو ادھر سے ادھر کاٹتی ہے تب تراش کے منحنی زائد (Parabola) ہوتے ہیں (شکل 11.7)

11.2.2 بگڑے ہوئے مخروطی سیکشن Degenerated conic sections
ایک مستوی مخروط کے راس پر کاٹتی ہے، ہمارے پاس ذیل مختلف کیس ہوتے ہیں۔
(a) جبa<β≤90º
، ت
سیکشن ایک نقطہ ہے (شکل 11.8)
(b) جب
0≤β<a
، تب مستوی میں ایک مخروط کا ایک مولد(generater) موجود ہوتا ہے اور سیکشن ایک سیدھا خط ہوتا ہے (شکل 11.9)یہ مکافی کابگڑا ہوا کیس ہے۔
(c) جب
0≤β<a
تب سیکشن کاٹتی ہوئی سیدھی لائنوں کا ایک جوڑا ہے۔ (شکل 11.10) یہ زائد کا بگڑا ہوا کیس ہے۔
ذیل سیکشنوں میں ہم ان سبھی مخروطی سیکشن کی مساوات حاصل کریں گے جو معیاری (standard) شکل میں ہوں گی اور جیومیٹریائی خصوصیت پر مبنی ہوں گی۔

11.3 دائرہ (Circle)
تعریف1 ایک دائرہ مستوی میں ان تمام نقاط کا سیٹ ہے جواس مستوی میں ایک ساکن نقطہ سے ہم فاصلہ ہوں ۔
ساکن نقطہ دائرہ کا مرکز کہلاتا ہے اور مرکز سے دائرہ پر واقع کسی بھی نقطے کے درمیان کا فاصلہ دائرہ کا نصف قطر کہلاتا ہے۔ (شکل 11.11)
دائرہ کا مرکز مبدا پر ہوتو دائرہ کی مساوات سب سے آسان ہوتی ہے۔ حالانکہ نیچے ہم اس دائرہ کی مساوات نکال رہے ہیں جس میں دائرہ کا مرکز اور نصف قطر دیا گیا ہے۔ (شکل11.12)

شکل11.12 شکل11.11
دائرہ کا مرکز(h,k)۔C اور نصف قطرr دیا گیا ہے۔ مان لیجیے(P(x,yدائرہ پر کوئی بھی نقطہ ہے (شکل 11.12) تب تعریف سے ιCPι=r، فاصلہ کے فارمولے سے ہمارے پاس ہے

یہ دائرہ کی مطلوبہ مساوات جس کا مرکز (h,k) اور نصف قطر
ہے۔
مثا ل 1 اس دائرہ کی مساوات معلوم کرو جس کا مرکز (0,0) پر ہو اور نصف قطر
ہو۔
حل یہاں
اس لیے دائرہ کی مساوات
ہے۔
مثال 2 اس دائرہ کی مساوات معلوم کیجیے جس کا مرکز (3,2 -)اور نصف قطر 4 ہے۔
حل یہاں
ہے۔ اس لیے مطلوبہ دائرہ کی مساوات ہے۔
![]()
مثال3 اس دائرہ کا مرکز اور نصف قطر معلوم کیجیے جس کی مساوات
x2+y2+8x+10y-8=0
ہے۔
حل دی ہوئی مساوات ہے
(x2+8x)+ (y2+10y)=8
اب بریکٹس میں مربعے مکمل کرنے پر ہمیں حاصل ہوتا ہے
(x2+8x+16)+ (y2+10y)=8+16+25
یعنی
(x+4)2 +(y+5)2 =49
یعنی
{x-(-4)}2+{y-(5)}2=72
اس لیے دیے ہوئے دائرہ کا مرکز (5-،4-)ہے اور نصف قطر 7 ہے۔
مثال4 اس دائرہ کی مساوات معلوم کیجیے جو(2-،2) اور(3،4) نقاط سے گزر رہا ہے اور اس کا مرکز خط
پر واقع ہے۔
حل مان لیجیے دائرہ کی مساوات ہے
(x-h)2+ (y-k)2=r2
کیونکہ دائرہ (2-،2) اور (3،4) سے گزر رہا ہے۔ ہمارے پاس ہے
(1)... (2-h)2+ (-2-k)2=r2
(2)... (3-h)2+(4-k)2=r2 اور
ساتھ ہی کیونکہ مرکز خطx+y=2پر واقع ہے، ہمارے پاس ہے
(3)... h+k=2
مساوات (1)، (2) اور (3) کو حل کرنے پر ہمیں حاصل ہوتا ہے
r2=12.58 اورk=1.3,h=0.7
اس طرح مطلوبہ دائرہ کی مساوات ہے
(x-0.7)2 + (y-1.3)2 =12.58
مشق11.1
ذیل 1 تا 5 ہر مشق میں دائرہ کی مساوات معلوم کیجیے جس میں
1 . مرکز (0,2) اور نصف قطر 2 ہے .2 مرکز (–2,3) اور نصف قطر 4 ہے
3. مرکز
اور نصف قطر
ہے .4 مرکز (1,1) اور نصف قطر
ہے
5 . مرکز
اور نصف قطر
ہے
ذیل میں دی گئی مشقوں 6 تا 9 میں دائروں کا مرکز اور نصف قطر معلوم کیجیے۔
6. (x+5)2+(y-3)2=36 7. x2+y2-4x-8y-45=0
8. x2+y2-8x-10y-12=0 8. 2x2+2y2-x=0
10. دائرے کی مساوات معلوم کیجیے جو نقاط (4,1) اور (6,5) سے ہوکر گزر رہا ہے اور جس کا مرکز خط
4x+y=16 پر واقع ہے۔
11. دائرہ کی مساوات معلوم کیجیے جو نقاط (2,3) اور (–1,1) سے ہوکر گزر رہا ہے اور جس کا مرکز خط x-3y-11=0 پر واقع ہے۔
12. دائرہ کی مساوات معلوم کیجیے جس کا نصف قطر 5 اور جس کا مرکز x-axis پر واقع ہے اور جو نقطہ (2,3) سے ہوکر گزر رہا ہے۔
13. دائرہ کی مساوات معلوم کیجیے جو (0,0) سے گزر رہا ہے اورمختص محاور پر مقطوعہ (intercepts)۔a اور b بنارہا ہے۔
.14 دائرہ کی مساوات معلوم کیجیے جس کا مرکز (2,2) ہے اور نقطہ (4,5) سے گزر رہا ہے۔
15 . کیا نقطہ (–2.5,3.5) دائرہx2+y2=25 کے بیرون، اندریا بذات خود دائرہ پر واقع ہے۔
11.4 مکافی (Parabola)
تعریف2 مکافی مستوی میں ان تمام نقاط کا سیٹ ہے جو اس مستوی میں ایک ساکن خط اور ایک ساکن نقطے سے (جو خط پر موجود نہیں ہے) ہم فاصلہ ہوں ۔
ساکن خط مکافی کا ہادی خط (directrix) کہلاتا ہے اور ساکن نقطہ F ماسکہ (Focus) کہلاتا ہے (شکل11.13)۔ ('para' کا مطلب ہے کیلئے اور 'bola' کا مطلب ہے پھینکنا، اس کا مطلب ہے جب آپ ایک گیند کو ہوا میں پھینکتے ہیں توا س وقت بنی شکل۔

نوٹ اگر ساکن نقطہ ساکن خط پر واقع ہے، تب مستوی میں نقاط کا سیٹ، جو ساکن نقطے سے برابر کی دوری پر ہیں اور ساکن خط ساکن نقطے سے سیدھا خط ہے اور ساکن خط پر عود ہے، ہم اس سیدھے خط کو مکافی (Parabola) کی بگڑی ہوئی حالت کہتے ہیں۔
ایک خط جو (Focus) ماسکہ سے ہوکر گزر رہا ہے اور ہادی خط پر عمود ہے پیرابولا کا محو ر یا تشاکل کا محور کہلاتا ہے۔ پیرابولا کا محور کے ساتھ نقطہ تقاطع پیرابولا کا راس(vertax)کہلاتاہے۔(شکل 11.14)
11.14.1 مکافی (پیرا بولا) کی معیاری مساواتیں
Standard equations of parabolaمکافی کی مساوات بہت آسان ہے اگر راس مبدا پر ہو اور تشاکل (Symmetry) کا محور x-axis کے ساتھ ہو یا y-axis کے۔ اس طرح کے چار ممکن مکافی کے مقصدی تعین (orientations) ذیل شکل 11.15 میں (a) تا (d) تک دکھائے گئے ہیں۔


ہم مندرجہ بالا شکل 11.15 (a) میں مکافی (parabola) کے لئے مساوات نکالیں گے جس کا ماسکہ (focus)
0<α,0)a) پر ہے اور ہادی خط (directrix)۔x=-aہے جیسا کہ نیچے دیا گیا ہے۔

مان لیجیے 'F' ماسکہ ہے اور
ہادی خط ہے۔ مان لیجے FM حادی خط پر عمود ہے اور FM کو 0 پر دو برابر حصوں میں کاٹتا ہے۔ MO کو X سے ملائیے۔ مکافی کی تعریف سے، درمیانی نقطہ '0' مکافی پر ہے اور مکافی کا راس کہلاتا ہے۔ '0' کو مبداکے طور پر لیجیے۔ OX کو x-axis اور OY کو اس پر عمود y-axis کی طرح، مان لیجیے ہادی خط سے فوکس کا فاصلہ2a ہے۔ تب، ماسکہ کے مختص(a,0) ہیں اور ہادی خط کی مساواتx+a=0ہے جیسا کہ شکل 11.16 میں ہے۔ مان لیجیے (x,y) ۔Pمکافی پر کوئی نقطہ ہے تاکہ
PF=PB ...۔(1)
جہاں PB ،
پر عمود ہے۔ B کے مختص ہیں(-a,y)۔ فاصلہ کے فارمولے سے ہمارے پاس ہے
![]()
کیونکہ PF=PB ہمارے پاس ہے
![]()
(x-a)2 +y2 =(x+a)2 یعنی
x2-2ax+a2+y2=x2+x2ax+a2 یا
y2=4ax(a>0) یا
اس لیے مکافی پر کوئی بھی نقطہ مطمئن کرتا ہے
(2)... y2=4ax
اس کے برعکس مان لیجئے نقطہ(P(x,yمساوات (2) کو مطمئن کرتا ہے تب

اور اس طرح (x,y)۔Pمکافی پر واقع ہے۔
اس لیے (2) اور (3) سے ہم نے ثابت کردیا ہے کہ مکافی کی مساوات جس میں راس مبدا پر ہو، ماسکہ (focus)۔ (a,0) پر اور ہادی خط
ہے۔
بحث و مباحثہ (Discussion)
مساوات (2) میں کیونکہx,a>0 کی کوئی بھی مثبت قدر ہوسکتی ہے یا صفر لیکن منفی قدر نہیں ہوگی اور مخنی پہلے اور چوتھے رابع (quadrant) میں لامحدود بڑھتا ہے۔ مکافی کا محور مثبت x-axis ہے۔
اسی طرح ہم مکافی کی مساواتیں نکال سکتے ہیں
شکلb) 11.15)جیسا کہy2= – 4ax،
شکلc) 11.15)جیسا کہx2=4ay،
شکلd) 11.15)جیسا کہx2=4ay،
یہ چار مساواتیں مکافیوں کی معیاری مساواتیں (standard equation) کہلاتی ہیں۔
مکافیوں (parabolas) کی معیاری مساواتیں کا ماسکہ ایک مختص محور پر ہے؛ راس مبدا پر اور پھر وہاں سے ہادی خط مختص محور کے متوازی ہے۔ حالانکہ مکافیوں کی مساواتوں کی پڑھائی جس میں مساسکہ کسی بھی نقط پر ہو اور کوئی بھی ایک ہادی خط کی طرح ہو یہاں ہماری حد کے باہر ہے۔
مکافیوں کی معیاری مساواتوں، شکل 11.15 ، ہمارے پاس ذیل مشاہدے (observations) ہیں :
1. مکافی متشاکل (symmetric) ہے مکافی کے محور کے حوالے سے۔ اگر مساوات میں
رکن ہے، تب تشاکل کامحور x-axis کے ساتھ ہے اور اگر مساوات میں
رکن ہیں تب تشاکل کا محور y-axis کے ساتھ ہے۔
2. جب تشاکل محور x-axisکے ساتھ ہو مکافی (parabola)اس طرح کھلتا ہے۔
(a) دائیں طرف اگر xکا ضریب مثبت ہے۔
(b) بائیں طرف اگر xکا ضریب منفی ہے۔
3. جب تشاکل کا محور Y-axisکے ساتھ ہو تو مکافی اس طرح کھلتا ہے۔
(a) اوپر کی طرف اگر yکا ضریب مثبت ہو۔
(b) نیچے کی طرف اگر yکا ضریب منفی ہو۔
11.4.2لیٹس ریکٹم Latus rectum
تعریف 3
مکافی کا لیٹس ریکٹم وہ قطع خط ہے جومکافی کے محور پر فوکس سے گذرنے والا عمود ہے اور جس کے انتہائی نقطے مکافی پر واقع ہیں۔(شکل :11.17)
’’مکافی
(شکل:11.18)کے لیٹس ریکٹم کی لمبائی معلوم کرنا‘‘
مکافی کی تعریف سے AF=AC
لیکن AC=FM=2a
اس لیے AF=2a
اور کیونکہ مکافی x-axisکے ساتھ متشاکل ہے AF=ACاور اس لیے AB=لیٹس ریکٹم کی لمبائی=4a

مثال5 ماسکہ، محور کے مختص معلوم کیجئے، ہادی خط کی مساوات اور مکافی ،y2=8xکا لیٹس ریکٹم معلوم کیجئے؟
حل دی ہوئی مساوات میںy2شامل ہے، اس لیے تشاکل کا محور x-axisکے ساتھ ہے۔
کیونکہ xکا ضریب مثبت ہے اس لیے مکافی دائیں طرف کھلتا ہے۔ دی ہوئی مساوات y2=4axکے ساتھ ملانے پر ہمیںa=2حاصل ہوتا ہے۔
اس لیے مکافی کا ما سکہ (2,0)ہے اور مکافی کے ہادی خط کی مساوت x=-2ہے(شکل ـ:11.19)لیٹس ریکٹم کی لمبائی =4aہے
8=2x4=

مثال6 مکافی کی مساوات معلوم کیجئے جس کا ما سکہ (Focus)(2,0)ہے اور ہادی خطx=-2ہے ۔
حل کیونکہ ماسکہ (2,0)x-axisپر واقع ہے۔ x-aixsبخود مکافی کا محور ہے۔یہاں مکافی کی مساوات یا توy2=4ax کی قسم کی ہے یاy2= –4ax کی۔ کیونکہ ہادی خط x= –2 ہے اور ماسکہ (2,0)ہے، مکافیy2=4ax کی طرح کا ہے جس میںa=2ہے ۔ یہاں مطلوبہ مساوات ہے،
y2=4(2)x=8x
مثال 7
مکافی کی مساوات معلوم کیجئے جس کا راس (0,0)پر ہے اور ماسکہ(0,2)پر ہے۔
حل کیونکہ راس(0,0)پر ہے اور ما سکہ (0,2)پر جو کہ y-axisپر واقع ہے، y-axisمکافی کامحور ہے۔ اس لیے مکافی کی مساوات
x2= - 4ay کی طرح ہے ۔ اس طرح، ہمارے پاس ہے ۔
x2=4(2)y,i.e=x2=8y
مثال8 اس مکافی کی مساوات معلوم کیجئے جو y-axisپر متشاکل ہے، اور نقطہ(2,-3)سے ہو کر گزررہا ہے۔
حل کیونکہ مکافی y-axisکے متشاکل ہے اور اس کار اس مبدا پر ہے، مساوات کی قسم
x2= - 4ay یا x2=4ay
کی طرح کی ہے، جہاں نشان اس بات پر مبنی ہے کہ آیا مکافی اوپر کی طرف کھل رہا ہے یا نیچے کی طرف۔ لیکن مکافی (2,-3)سے ہو کر گزر رہا ہے جو کہ چوتھے ربع میں واقع ہے، یہ نیچے کی طرف کھلنا چاہیئے۔ اس لیے مساوات x2= -4ayکی طرح کی ہے۔
کیونکہ مکافی (2,-3 )سے ہو کر گزر رہا ہے، ہمارے پاس ہے۔

اس لیے مکافی کی مساوات ہے۔

مشق 11.2
1تا 6ذیل ہر مشق میں ، ما سکہ کے مختص ، مکافی کا محور ، ہادی خط کی مساوات اور لیٹس ریکٹم کی لمبائی معلوم کیجئے۔
1. y2 = 12x 2. x2=6y 3. y2= –8x
4. y2 = 16x 5. y2=10x 6. x2= –9y
7تا 12ہر ایک مشق میں مکافی کی وہ مساوات معلوم کیجئے جو دی ہوئی شرائط (conditions)کومطمئن کرے:
7 . فوکس (6,0)؛ ہادی خط
–6=x
8 . فوکس(0,-3)؛ ہادی خطy=3
9 . راس(0,0)؛ فوکس(3,0) 10. راس (0,0)؛ فوکس (2,0–)
11. راس (0,0)نقطہ (2,3)سے ہو کر گزر رہا ہے محور x-axisکے ساتھ ہے۔
12. راس (0,0)نقطہ (5,2)سے ہو کر گزر رہا ہے اور y-axisکے ساتھ متشاکل ہے۔
11.5 ناقص( Ellipse)
تعریف 4 ناقص مستوی میں ان تمام نقاط کا سیٹ ہے جن کے فاصلوں کا مجموعہ یاجوڑ مستوی میں دو ساکن نقاط سے ایک مستقل ہودو مقرر نقاط کو ناقص کاماسکہ (foci،focusکی جمع )کہا جاتا ہے۔ (شکل: 11.20)

مستقل جو ناقص پر ایک نقطے کے دو ساکن نقطوں کے فاصلوں کا جوڑ ہے ہمیشہ دو ساکن نقاط کے درمیان فاصلہ سے زیادہ ہوتا ہے ۔
قطعہ خط کا درمیانی نقطہ جو ماسکہ(Foci)کو ملا رہا ہے ناقص کامرکز (Center)کہلاتا ہے۔ ناقص کے ماسکہ سے گزر نے والا قطعہ اکبر محور (major axis)کہلاتا ہے اور قطعہ خط جومرکزسے گزر رہا ہے اور اکبر محورپر عمود ہے اصغر محور (minor axis)کہلاتا ہے۔ اکبر محور کے آخری نقاط (end points)ناقص کے راس (Vertices)کہلاتے ہیں۔ (شکل: 11.21)

ہم اکبر محور کی لمبائی کو 2aسے ظاہر کرتے ہیں۔ اصغر محور کی لمبائی کو 2bسے اور ماسکہ (Foci)کے درمیان فاصلے کو 2c سے۔ اس طرح نصف اکبر محور کی لمبائی aہے اور اور نصف اصغر محور کی لمبائی 'b'ہے (شکل: 11.22)
11.5.1نصف اکبر محور، نصف اصغر محور اور ناقص کے فوکس کامرکز سے فاصلہ کے درمیان رشتہ(شکل:11.23 )Relationship between semi-major axis, semi-minor axis and the distance of the focus from the center of the ellipse (Fig. 11.23)

اکبر محور (major-axis)کے سرے پر ایک نقطہ Pلیجئے۔
نقطہ Pسے ماسکہ (Foci)کے فاصلوں کا حاصل جمع یہ ہے۔
F1P+F2P=F1O+P+F2P
F1P=F1O+OP (کیونکہ)
=c+a+a+ – c=2a
اصغر محور(minor axis)کے ایک سرے پر نقطہ Qلیجئے ۔ نقطہ Qسے ماسکہ (Foci)کے فاصلوں کا حاصل جمع یہ ہے۔

کیونکہ دونوں Pاور Qناقص پر واقع ہیں۔
ناقص (ellipse)کی تعریف سے، ہمارے پاس ہے۔

11.5.2ناقص کے مخصوص حالات Special cases of an ellipse
اوپر حاصل کی گئی مساوات
c2=a2–b2
میں، اگر ہم 'a'کو مقرر
رکھیں اور cکو غیر مقرر 0تا aتک، نتیجتاً حاصل شدہ ناقصوں
(ellipses)کی شکل بھی غیر مقرر ہو گی۔
کیس(i)جب c=0، دونوں ماسکہ(Foci)ایک ساتھ مل جائیں
ناقص مبدا کے ساتھ اورa2=b2س طرح
a=bاور اس طرح آگے ناقص ایک دائرہ بن جائے گا۔(شکل: 11.24) اس طرح دائرہ، ناقص کا ایک خاص کیس ہے جو کہ سیکشن 11.3میں لیا گیا ہے۔
کیس (ii) جبc=a، تبb=0ہے۔ ناقص یہ قطعہF¹F²
میں سکڑ جاتا ہے جس میں دونوں ماسکہ (Foci)کو ملانے پر بنتا ہے (شکل:11.25)

11.5.3 خروج مرکزEccentricity
تعریف 5 ایک ناقص کا خروج مرکز (Eccentricity)ایک نسبت ہے جو ناقص کے مرکز سے ماسکہ کے فاصلہ اور مرکز سے راس کے فاصلہ کے درمیان ہوتی ہے خروج مرکز کو eسے ظاہر کیا جاتا ہے )یعنی
تب کیونکہ ماسکہ(Focus)مرکزسے Cفاصلے پر ہے ، خروج مرکز کی زبان میں ماسکہ مرکزسے aeفاصلے پر ہے۔
11.5.4ناقص کی معیاری مساواتیں Standard equations of an ellipse
ایک ناقص کی مساوات اس وقت سب سے آسان(سادہ)ہو گی جب ناقص کا مرکز مبدا پر ہو اور ماسکہ (Foci)x-axisاور y-axisپر ہوں۔

اس طرح دو ممکن مقصدی تعین (Oreintations)شکل :11.26میں دکھائے گئے ہیں جس میں ماسکہ x-axisپر ہے ۔
مان لیجئے F¹ور F²ماسکہ ہیں اور Oقطعہ خط F¹F²ا درمیانی نقطہ ہے۔ مان لیجئے Oمبد ا ہے اور خط OسےF²ے گزر نے والا مثبت x-axisہے اورF¹سے گزرنے والا منفیx-axis ہے۔
مان لیجئے خطOسے گزرنے والا عمود x-axisپر y-axisہے۔ مان لیجئےF¹کے مختص (-c,0)اورF²کے مختص (c,0)ہیں (شکل: 11.27)

مان لیجئے ناقص پر ایک نقطہ P۔(x,y)اس طرح ہے کہ نقطہPسے دو ماسکہ (Foci)تک کے فاصلوں کا حاصل جمع '2a' ہے تاکہ دیا ہوا ہے۔
(1)... (1)... PF¹+PF²=2a
فاصلے کا فارمولا استعمال کرنے پر

دونوں طرف کا مربع کرنے پر ہمیں حاصل ہوتا ہے۔
![]()
جو حل کرنے پر دیتاہے۔
![]()
دوبارہ پھر مربع کرنے پر اور آسان کرنے پر ہمیں حاصل ہوتا ہے۔


اس طرح ناقص پر کوئی بھی نقطہ مطمئن کرتا ہے۔

اس کے برعکس (Coversely)مان لیجئے (x,y)Pمساوات (2)کو مطمئن کرتا ہے جس میں
0<c<a
تب۔

اس طرح کوئی بھی نقطہ جو
کو مطمئن کرتا ہے، جیومیٹریائی حالات کو بھی مطمئن کرتا ہے اور اس طرح نقطہ ۔(x,y)۔Pناقص پر واقع ہے۔
اس لیے (2)اور(3)سے ہم نے ثا بت کر دیا ہے کہ ایک ناقص کی مساوات جس کا مرکز مبدا پر اور اکبر محور x-axisکے ساتھ ہے ۔ یہ ہے

بحث ومباحثہ(Discussion)
اوپر حاصل کی گئی ناقص کی مساوات یہ ملتا ہے کہ ناقص پر ہر ایک نقطہ (x,y)Pکے لیے، ہمارے پاس ہے۔

اس لیے، ناقص خطوط
x=a اور x= –a
کے درمیان واقع ہے اور ان کے خطوط کو چھوتا ہے۔
اسی طرح ، ناقص خطوط
x= –a اور x= a
کے درمیان واقع ہے اور ان bکو چھوتا(touch)ہے۔
اسی طرح ، ہم شکل(b)۔11.26میں موجود ناقص کی مساوات نکال سکتے ہیں جو یہ ہے
یہ دونوں مساواتیں ناقصوں (ellipses)کی معیاری (standard)مساواتیں کہلاتی ہیں۔
نوٹ ناقصوں کی معیاری مساواتوں کے مرکز مبد اپر ہیں اور اکبر اور اصغر محور مختص محور پر واقع ہیں حالانکہ ناقصوں کی تعلیم وجانکاری جن میں مرکز مبدا کے علاوہ کہیں اوپر نقطہ پر واقع ہواورکسی بھی خط پر مرکز سے گزرتا ہوا جیسا کہ اکبر اور اصغر محور،مرکز سے ہو کر گزرر ہے ہیں اور اکبر محور پر عمود ہے ہماری پڑھائی سے اس کا تعلق نہیں ہے اور ہماری پڑھائی سے باہر ہے۔
ناقص کی معیاری مساواتوں سے (شکل: 11.26)، ہمارے پاس ذیل مشاہدے (observation)ہیں:
1. ناقص دونوں مختص محور کے حوالے سے متشاکل ہے کیونکہ اگر (x,y)ناقص پر ایک نقطہ ہے، تب (-x,y)اور(x,-y) بھی ناقص پر نقاط ہیں۔
2 . ماسکہ (Foci)ہمیشہ اکبر محور پر موجود ہوتاہے۔ تشاکل کے محوروں پر مقطوعہ (Intercepts)معلوم کرنے سے اکبر محور معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح اکبر محور X-axisکے ساتھ اکبرx2ضریب کا نسب نماں (denominator)بڑا ہے اور یہ Y-axisکے ساتھ اگرy2کا ضریب کا نسب نماں بڑا ہے۔
11.5.5لیٹس ریکٹم Latus rectum
تعریف 6 ایک ناقص کا لیٹس ریکٹم ایک قطعہ ہے جو اکبر محور پر عمود ہے اور کسی بھی ما سکہ (Foci)کے گزر تا ہے اور جس آخری نقطے ناقص پر واقع ہیں۔
ناقص کے لیٹس ریکٹم کی لمبائی دریافت کرنا


مان لیجیے AF2کی لمبائی
ہے
تب A کے مختص (
c) ہیں یعنی(a,e,I)
کیونکہ A ناقص
پر واقع ہے، ہمارے پاس ہے

کیونکہ ناقص متشاکل ہے y-axis کے حوالے سے (حقیقت میں یہ دونوں مختص محور کے حوالے سے متشاکل ہے)،AF2=F2B اور اس طرح ریکٹم کی لمبائی
ہے۔
مثال 9 ماسکہ (Foci) کے مختص (co-ordinates) معلوم کیجیے، راس (vertices) اکبر محور کی لمبائی اصغر محور کی لمبائی، ناقص کا خروج مرکز (eccentricity) اور لیٹس ریکٹم جس کی مساوات ہے،
حل کیونکہ
کا نسب نماں
کے نسب نماں سے بڑا ہے، اکبر محور x-axis کے ساتھ ہے۔ دی ہوئی مساوات کا
کے ساتھ مقابلہ کرنے پر ہمیں حاصل ہوتا ہے۔

اس لیے ماسکہ (Foci) کے مختص (–4,0) اور (4,0) ہیں۔ راس (–5,0) اور (5,0) ہیں۔ اکبر محور کی لمبائی 10 اکائیاں ہیں، اصغر محور 2b کی لمبائی 6 اکائیاں اور خروج مرکز
ہے اور لیٹس ریکٹم
کے برا ہے۔
مثال10 ناقص9x2+4y2=36 کے ماسکہ (Foci) کے مختص ، راس، اکبر اور اصغر محور کی لمبائی اور خروج مرکز (eccentricity) معلوم کیجیے۔
حل ناقص کی دی ہوئی مساوات اس طرح معیاری شکل میں لکھی جاسکتی ہے۔

کیونکہ
کے نسب نماں
کے نسب نماں سے بڑا ہے، اکبر محور y-axis کے ساتھ ہے۔ دی ہوئی مساوات کا معیاری مساوات کے ساتھ مقابلہ کرنے پر

اس طرح ماسکہ
ہیں۔ راس (0,3) اور (0,–3) ہیں۔ اکبر محور کی لمبائی 6 اکائی، اصغر محور کی لمبائی 4 اکائی اور ناقص کا خروج مرکز
ہے۔
مثال 11 ناقص کی مساوات معلوم کیجیے جس کے راس (vertices)
ہیں اورماسکہ (Foci)
ہیں۔
حل کیونکہ راس x-axis پر ہیں۔ مساوات
شکل کی ہوگئی، جہاں a نصف اکبر محور ہے۔
دیا ہوا ہے
اس لیے مساواتc2=a2-b2
سے ہمیں حاصل ہوتا ہے
25=169–b2,i.e,b=12
اس لیے ناقص کی مساوات
ہے
مثال12 ناقص کی مساوات معلوم کیجیے، جس کے اکبر محور کی لمبائی 20 ہے اور ماسکہ
ہے۔
حل کیونکہ ماسکہ y-axis پر ہے، اکبر محور y-axis کے ساتھ ہے۔ اس لیے ناقص کی مساوات
ہے۔
دیا ہوا ہے
اور رشتہc2=b2,–b2دیتا ہے
52=102–b2,i.e.,b2=5
اس لیے ناقص کی مساوات ہے 
مثال 13 ناقص کی مساوات معلوم کییے جس کا اکبر محور x-axis کے ساتھ ہے اور نقاط (4,3) اور (1,4–) سے ہوکر گزر رہا ہے۔
حل ناقص کی معیاری شکل
ہے۔ کیونکہ نقاط (4,3) اور (1,4–) ناقص پر واقع ہیں۔ ہمارے پاس ہے

مساوات (1) اور (2) کو حل کرنے پر ہمیں حاصل ہوا ہے،
اس طرح مطلوبہ مساوات

مشق 11.3
1 تا 9 ہر ایک مشق میں، ماسکہ کے مختص معلوم کیجیے۔ راس، اکبر محور کی لمبائی، اصغر محور کی لمبائی، خروج مرکز اور ناقص کے لیٹس ریکٹم کی لمبائی معلوم کیجیے۔

10 تا 20 ذیل مشقوں میں ناقص کی مساوات معلوم کیجیے جو ذیل شرائط کو مطمئن کرتے ہیں:

13. اکبر محور کے آخری سرے (Ends)
، اصغر محور کے آخری سرے ![]()
14. اکبر محور کے آخری سرے
، اصغر محور کے آخری سرے![]()
15. اکبر محور کی لمبائی 26 ہے،ماسکہ![]()
16. اصغر محور کی لمبائی 16 ہے، ماسکہ ![]()
17 . ماسکہ![]()
18 . c=4,b=3، مرکز مبدا پر ہے؛ ماسکہ x-axis پر ہے
19. مرکز (0,0) پر ہے، اکبر محور y-axis پر ہے اور نقاط (3,2) اور (1,6) سے ہوکر گزررہا ہے۔
20. اکبر محور x-axis پر ہے اور نقاط (4,3) اور (6,2) سے ہوکر گزر رہا ہے۔
11.6 زائد Hyperbola
تعریف7 ایک ہائپربولا (زائد)کسی مستوی میں تمام نقاط کا سیٹ ہے۔ جن کا مستوی میں دو ساکن نقاط کے فاصلوں کا فرق ایک مستقل ہے۔
لفظ ’فرق‘ جو تعریف میں استعمال کیا گیا ہے کا مطلب یہ دور والے نقطے اور قریب والے نقطے کے فاصلوں کا فرق۔ دو ساکن نقاط زائد کے ماسکے(Foci) کہلاتے ہیں۔ ماسکوں کو ملانے والا قطعہ خط کا درمیانی نقطہ زائد کا مرکز کہلاتا ہے۔ ماسکوں سے گزرنے والا خط عرضی محور (transverse axis) کہلاتا ہے اور مرکز سے گزرنے والا خط عرضی محور پر عمود زوجی محور (conjugate axis) کہلاتا ہے۔ وہ نقاط جن پر زائد عرضی محور کو کاٹتا ہے زائد کے راس کہلاتے ہیں۔ (شکل 11.29)

ہم دو ماسکوں کے درمیانی فاصلہ کو 2c سے ظاہر کرتے ہیں، دو راسوں کے درمیانی فاصلہ (عرضی محور کی لمبائی) کو 2a سے اور ہم مقدار b اس طرح بیان کرتے ہیں
![]()
ساتھ 2b زوجی محور کی لمبائی ہے۔ (شکل 11.30)

مستقلP¹F²-P¹F²کو دریافت کرنا
نقطہ P کو A اور B پر لینے پر جیسا شکل 11.30 میں دکھایا گیا ہے، ہمارے پاس ہے
BF¹-BF²-=AF²-AF¹(زائد کی تعریف سے)
BA+AF¹=AB² =AB+BF²-AF¹
یعنی AF¹=BF²
تاکہ BF¹-BF²=BA+AF¹-BF²=BA=2a
11.6.1 خروج مرکز Eccentricity
تعریف8 ناقص کی طرح نسبت
زائد کا خروج مرکز کہلاتا ہے۔ کیونکہ
خروج مرکز کبھی بھی 1 سے کم نہیں ہوگا۔ خروج مرکز کی شکل میں ماسکہ کا مرکز سے فاصلہ ae ہوگا۔
11.6.2 زائد کی معیاری مساوات Standard equation of Hyperbola
زائد کی مساوات سب سے آسان ہے اگر زائد کا مرکز مبدا پر ہو اور ماسکہ x-axis اور y-axis پر ہوں۔ اس طرح کے دو مقصدی تعین (orientation) شکل 11.31 میں دیے گئے ہیں۔

ہم زائد کی مساوات نکالیں گے جو شکل 11.31(a) میں دیا گیا ہے اور جس کا ماسکہ x-axis پر واقع ہے۔
مان لیجیےF¹ اورF² دو ماسکے ہیں اور قطعہ خطF¹F² کا 'O' درمیانی نقطہ ہے۔ مان لیجیے O مبدا ہے اور خط O اور F² سے گزرنے والا مثبت x-axis ہے اور F¹سے گزرنے والا منفی x-axis ہے۔ خط O سے گزرنے والا جو x-axis پر عمود ہے y-axis ہے۔ مان لیجیے F¹ کے مختص (c,0-) ہیں اورF²کے مختص (c,0) ہیں۔ (شکل11.32)

مان لیجیے (y,x)۔P زائد پر کوئی بھی نقطہ ہے تاکہ نقطہ P سے سب سے دور والے نقطے اور سب سے قریب والے نقطے کے فاصلے کا فرق 2a ہے۔ اس لیے دیا ہوا ہے PF¹ – PF² = 2α
فاصلے کا فارمولا استعمال کرنے پر ہمارے پاس ہے

دونوں طرف کا مربع کرنے پر ہمیں حاصل ہوتا ہے
![]()
اور آسان کرنے پر، ہمیں حاصل ہوتا ہے
![]()
دوبارہ مربع کرنے پر اور آسان کرنے پر ہمیں حاصل ہوتا ہے

اس طرح زائد پر کوئی بھی نقطہ مساوات
کو مطمئن کرتا ہے۔
اس کے برعکس مان لیجیے (y,x)۔P اوپر دی ہوئی مساوات کو مطمئن کرتا ہے بشرط
0<a<c
تب۔

زائد میں c<a؛ اور کیونکہ نقط P خط
کے دائیں طرف ہے۔ اس لیے

اس حال میںPF²–PF¹=2a۔ اس طرح کوئی بھی نقطہ جو
کو مطمئن کرتا ہے زائد پر واقع ہے۔
اس لیے ہم نے زائد کی مساوات کو ثابت کردیا ہے جس میں مبدا (0,0) اور عرضی محور x-axis کے ساتھ ہو یہ ہے

نوٹ ایک زائد جس میںa=b ہو مساوی زائد (equilateral hyperbola) کہلاتا ہے۔
بحث ومباحثہ(Discussion)
زائد کی مساوات سے ہم نے حاصل کیا ہے، جو بتاتا ہے کہ زائد پر نقطے (x,y)۔Pکے لیے ہمارے پاس ہے۔

یعنی
اس لیے منحنی کا کوئی بھی حصہ خطوط
x= –aاورx= +a
(کے درمیان موجود نہیں ہے (اس کا مطلب حقیقت میں زوجی محور پر کوئی کاٹ نہیں
اسی طرح، ہم شکل (b)۔11.31میں موجود زائد کی مساوات نکال سکتے ہیں جو ہے
یہ دونوں مساوات زائدوں کی معیار ی مساوات کہلاتی ہیں۔
زائدوں کی مساوتوں میں غرضی اور زوجی محور ہوتے ہیں کیونکہ مختص محور اور مرکز ہوا پر ہوتا ۔ حالانکہ کچھ اس طرح کے زائد بھی ہیں جن میں دو عمودی خطوط عرضی اور زوجی محور ہوتے ہیں، لیکن اس طرح کی تعلیم آگے جماعتوں میں آئے گی۔زائدوں کی معیاری مساواتوں سے (شکل 11.29)ہمارے پاس ذیل مشاہدہ موجود ہیں۔
1 . زائد متشاکل ہے دونوں محوروں کی مناسبت سے کیونکہ اگر (x,y)زائد پر ایک نقطہ ہے، تب (x,y)اور (-x,-y)بھی زائد پر نقاط ہوں گے۔
2. ماسکہ ہمیشہ عرضی محور پر ہوتے ہیں۔ یہ ایک مثبت رکن ہے جس کا نسب نماں عرضی محور دیتا ہے مثال کے طور پر
کے ساتھ عرضی محور، '6'رکھتا ہے، جب کہ
کے ساتھ عرضی محور رکھتا ہے جس کی لمبائی 10ہے۔
11.6.3لیٹس ریکٹم Latus rectum
تعریف 9 زائد کی لیٹس ریکٹم ایک قطعہ خط ہے جو عرضی محور پر عمود ہے کسی پر ما سکہ سے گزرتا ہوا اور جس کے آخری نقاط زائد پر واقع ہیں۔
ناقص کی طرح ہی، زائد کی لیٹس ریکٹم کی لمبائی دکھانا آسان ہے جو
ہے
مثال 14 ذیل زائدوں کی ماسکہ اور راسوں کی مختص معلوم کیجئے، خروج مرکز ، لیٹس ریکٹم کی لمبائی
![]()
حل (i)
مساوات کا معیاری مساوات،
سے موازنہ کرنے پر یہاں a=3،
ہے۔
اس لیے ماسکہ کے مختص
ہیں اور راس کے
ساتھ ہی خروج مرکز
۔ لیٹس ریکٹم

(ii) مساوات کو دونوں طرف 16سے تقسیم کرنے پر ہمیں حاصل ہوتا ہے۔
مساوات کو معیاری مساوات
کے ساتھ موازنہ کرنے پر ہمیں حاصل ہوتا ہے ۔
![]()
اس لیے ماسکہ کے مختص
ہیں اور راس کے
ہیں۔
خروج مرکز
مثال15 زائد کی مساوات معلوم کرو جس کا ماسکہ
اور راس
ہیں۔
حل کیونکہ ماسکہ y-axisپر ہے۔ زائد کی مساوات
کی شکل کی ہوگی۔ کیونکہ راس
ہیں ، 
ساتھ ، کیونکہ ماسکہ ![]()
اس لیے ، زائد کی مساوات ہے۔

مثال16 اس زائد کی مساوات معلوم کیجئے جہاں ماسکہ(12±,0)ہیں اور لیٹس ریکٹم کی لمبائی 36ہے۔
حل کیونکہ ماسکہ(12±,0)ہیں۔ اس سے نکلتا ہےc=12
لیٹس ریکٹم کی لمبائی ![]()
اس لیے دیتا ہے c2=a2+b2
144=a2+18a
یعنی a2+18a-144=0
منفیa=-24,6اس لئے
کیونکہ 'a'منفی نہیں ہو سکتا ، ہم لیتے ہیں a=6اور اس طرح b2=108اس لیے زائد کی مطلوبہ مساوات ہے۔

مشق 11.4
1تا 6مشقوں میں زائد کے ماسکہ اور راس کے مختص معلوم کیجئے اور زائد کے خروج مرکز اور لیٹس ریکٹم کی لمبائی معلوم کیجئے۔

7تا 15مشقوں میں زائد کی مساواتیں معلوم کیجئے جو دی ہوئی شرائط کو مطمئن کریں ۔
7.راس (2,0±) ، ماسکہ (3,0±)
8.راس (5±,0) ، ماسکہ (8±,0)
9.راس (3±,0) ، ماسکہ (5±,0)
10 ماسکہ (5,0±)غرضی محور کی لمبائی 8 ہے
11 ماسکہ ، (5,13±)زوجی محور کی لمبائی 24 ہے
12 ماسکہ ،
لیٹس ریکٹم کی لمبائی 8 ہے
13 ماسکہ (4,0±)لیٹس ریکٹم کی لمبائی 12ہے
14ماسکہ![]()
15ماسکہ،
(2,3) سے ہو کر گزر رہا ہے ۔
متفرق مثالیں
مثال17 ایک مکافی شکل کے آئینہ کا ماسکہ جیسا کہ شکل 11.33میں دکھا یا گیا ہے راس سے 5سم کی دوری پر ہے۔ اگر آئینہ 45سم گہرا ہے، فاصلہ ABدریافت کیجئے۔
حل کیونکہ ماسکہ سے راس تک کا فاصلہ 15سم ہے۔ ہمارے پاس ہےa=5۔ اگر مبدا کو راس پر لے لیا جائے اور آئینہ کا محور مثبت x-axisکے ساتھ واقع ہو، تب مکافی حصہ کی مساوات ہے۔
y2=4(5)x=20x
یہ نوٹ کر لیجئے x=45
اس لئے900=y2
اس طرحy=±30
اس لئے AB=2y=2x30=60cm

مثال18 ایک شہتیر (beam)کے دوسرے پر 12میٹر کے فاصلے سے روکا گیا ہے۔ کیونکہ وزن مرکز پر متعین ہوتا ہے اس لیے 3سم کا جھکاؤ مرکز پر آگیا ہے اور شہتیر کی شکل نے مکافی کی شکل اختیاری کر لی ہے۔ مرکز سے کتنی دور 1سم کا جھکاؤ ہوگا۔
حل مان لیجئے راس سب سے نیچے کے حصے پر ہے اور محور راسی ہے ۔ مان لیجئے مختص محور شکل 11.34کے طریقہ سے خیال گیا ہے۔

مکافی مساوات
کی شکل کی ہو گئی کیونکہ یہ
سے ہو کر گزر رہا ہے ، ہمارے پاس ہے ۔


مثال19 ایک روڈ ABجس کی لمبائی 15سم ہے دو مختص محور کے درمیان اس طرح رکھی ہوئی ہے کہ سرا A x-axisپر ہے اور سرا B۔، y-axisپر ہے۔ ایک نقطہ (x,y)۔Pروڈ پر اس طرح لیا گیا ہے تاکہ AP=6دکھا یئے کہ Pکا طریق (Locus)ایک ناقص ہے۔

حل مان لیجئے رو ڈ،OX،ABکے ساتھ θزاویہ بنا رہی ہے جیسا کہ شکل 11.36میں دکھا یا گیا ہے اور نقطہ (x,y)۔Pاس پر واقع ہے۔
تاکہ سمAP=6
کیونکہ سم AB=15ہے اس لیے ہمارے پاس ہے۔
سم BP=9
نقطہ Pسے y-axisاور x-axisپر بالترتیب PQاور PRعمود کھینچئے۔

اس طرح P کا طریق (Locus) ایک ناقص ہے ۔
سبق 11 پر مبنی متفرق مشقیں
1. اگر ایک مکانی ریفلیکٹر کا قطرہ 20 سم ہے اور اسکی گہرائی 5سم ،اس کا ماسکہ معلوم کیجئے ۔
2. ایک محراب مکافی شکل میں ہے اور اس کا محور راسی ہے ۔ محراب کی اونچائی10 میٹر ہے اور اس کے اساس (base) کی چوڑائی 5 میٹر ہے ۔ یہ مکافی کے راسس سے’2 ٗ میٹر پر کتنا چوڑا ہوگا۔
3. ایک وزن سے لٹکے ہوئے پل کا کیبل مکافی کی شکل میں ہے۔ سڑک کا راستہ جو کہ چپٹا (horizontal) ہے اور 100 میٹر لمبا ہے کیبل سے راسی تاروں کے ذریعہ جڑا ہوا ہے، سب سے بڑے تار کی لمبائی 30 میٹر ہے اور سب سے چھوٹا 6 میٹر کا ہے ۔ اس مدد گار تارکی لمبائی معلوم کیجئے جو کہ راستے سے جڑا ہوا ہے اور درمیان سے 18 میٹر کے فاصلہ پر ہے۔
4. ایک محراب نصف ناقص کی شکل میں ہے ۔ یہ مرکز پر 8 میٹر چوڑی اور 2 میٹر اونچی ہے۔ اس محراب کی لمبائی معلوم کیجئے جو ایک سرے سے 1.5 میٹر کی دوری پر ہے ۔
5. ایک روڈ جسکی لمبائی 12 سم ہے اس طرح حرکت کر رہی ہے کہ اسکے سرے ہمیشہ مختص محور کو چھو رہے ہیں۔ اس روڈ پر ایک نقطہ P کے طریق (locus) کی مساوات معلوم کیجئے ٗ جو کہ اس سرے سے 3 سم کی دورہ پر ہے جو کہ x-axis کے ساتھ (تعلق) ملا ہوا ہے۔
6. اس مثلث کا رقبہ معلوم کیجئے جو مکافیx2=12yے راس اور اس کے لیٹس ریکٹم کے سروں کو جوڑنے سے بنتا ہے
7. ایک آدمی جو ریس کو رس میں دوڑ رہا ہے یہ نوٹ کرتا ہے کہ دوفلیگ پوسٹ کے فاصلوں کا جوڑا اس سے ہمیشہ 10 میٹر ہے اور دوفلیگ پوسٹ کے درمیان فاصلہ 8 میٹر ہے اس آدمی کے ذریعہ طے کی گئی پوسٹوں کی مساوات معلوم کیجئے۔
8. ایک مساوی الضلعی مثلث ایک مکافیy2=4ax کے اندر بنا ہوا ہے جہاں ایک راس مکافی کے راس پر ہے ۔ مثلث کے ضلع کی لمبائی معلوم کیجئے۔
Summary خلاصہ
. مکافی کا لیٹس ریکٹم ایک قطعہ خط ہے جو مکانی کے محور پر عمود ہے ٗ جو ماسکہ سے ہوکر گزر رہا ہے اور جس کے آخری نقطہ مکافی پر واقع ہیں۔
. مکانیy2=4axکے لٹس ریکٹم کی لمبائی 4aہے ۔
. مستوی میں ایک ناقص ان تمام نقاط کا سیٹ ہیٗ جن کے دو ساکن نقاط سے فاصلوں کا جوڑ مستوی میں ایک مستقل ہے۔
. ایک ناقص کی مساواتیں جسکا ماسکہ(Focus) x-axis پر ہیٗ
ہے ۔
. ایک ناقص کا لیٹس ریکٹم ایک قطعہ خط ہے جو اکبر محور پر محمود ہے کسی بھی ماسکہ سے گزرتاہے اور اس کے سرے ناقص پر ہوتے ہیں
. ناقص
کے لیٹس ریکٹم کی لمبائی
ہے۔
. ایک ناقص کا خروج مرکز وہ نسبت ہے جو ناقص کے مرکز اور ایک ماسکہ (Foci) کے درمیا ن فاصلہ اور ناقص کے ایک راس سے درمیان فاصلہ میں ہوتی ہے۔
. زائد مستوی میں ان تمام نقاط کا سیٹ ہے ٗجن کے اسی مستوی میں دو ساکن مقطوں کے فاصلوں کا فرق ایک مستقل ہوتا ہے ۔
. اس زائد کی مساوات جسکا ماسکہ x-محور پر ہے :
. زائد کی لیٹس ریکٹم ایک قطع خط ہے جو عرضی محور عمور ہے کسی بھی ماسکہ (Foci) سے گزرتی ہوئی اور جسکے آخری نقاط زائد پر واقع ہوں۔
. زائد :
. زائد کی خروج مرکز وہ نسبت ہے جو زائد کے مرکز سے فاصلوں اور ایک ماسکہ (Foci) اور زائد کے ایک راس کے درمیان ہے۔
تاریخ کے اوراق سے ( Historical Note)
جیومیٹری ریاضی کی سب سے قدیم شاخوں میں سے ہے۔یونانی جیومیٹری دانوں نے اکثر منحنیوں (Curves)کے خواص معلوم کئے جو نظریاتی اور عملی اہمیت کے حامل ہیں ۔تقریباً300B.C.میں اقلیدس(EUCLID)نے جیومیٹری پر ایک مقالہ لکھا۔وہ پہلا شخص تھا جس جیومیٹریائی شکلوں کو ترتیب دیا جنکا انحصار چند بدیہات (Axioms)پرتھا جنہیں جسمانی ترجیحات کی وجہ سے تجویز کیا گیا تھا ۔جیومیٹری ابتدا ہی سے ہندوستانیوں اوریونانیوں کے زیر مطالعہ رہی ہے مگر انہوں نے خاص طور سے الجبراکا استعمال نہیں کیا۔اس مضمون کو ترکیبی رسائی اقلیدس اور سلباسوترا وغیرہ نے بخشی اور یہ سلسلہ 1300سال
تک جاری رہا۔200B.C.میں (Appolonius)نے The Conicنام کی ایک کتاب لکھی جو تمام مخروطی تراشوں (Conic section) کے بارے میں تھی جس میں بہت اہم ایجادات تھیں جس سے صدیوں تک سبقت حاصل نہ ہو سکی۔
جدید تجزیاتی جیومیٹری (Analytic Geometry)رین ڈی کارتیز (Ren Descartes 1596-1650 (A.D. کے نام پر کارتیزی جیومیٹری کہلاتی ہے ۔جس کی ایک 1637 Ralevant Bookمیں شائع ہوئی جس کا نام La Geometricتھا ۔مگر بنیادی اصول اور تجزیاتی ضوابط پہلے ہی پیری ڈی فرمٹ (Pierre De Fermat (1601-1665 نے دریافت کر لئے تھے مگر بدقسمتی سے اس مضمون پر اس کا مقالہ جو مستوی اور جامد لوکائی کے تعارف کے نام سے تھااس کی موت کے بعد1679میں شائع ہوا۔اس لئے ڈی کارتیز ہی تنہا تجزیاتی جیومیٹری کے موجد تسلیم کئے گئے۔
Isaaq Barrowکارتیزی ضوابط کے استعمال کونظر انداز کرتے رہے مگر نیوٹن نے منحنیوں کی مساوات معلوم کرنے کے لئے (Method of undetermined coefficent)کا طریقہ استعمال کیا ۔اس نے کئی طرح کے مختص (Coordinates)استعمال کئے جن میں Polarاور Bipolarشامل ہیں ۔Leibnitzنے "Ordinlae"abscissa"اور "Co-ordinale"اصطلاحات کا استعمال کیا L'Hospitalنے تقریباً 1700میں تجزیاتی جیومیٹری پر ایک اہم Text Book لکھی۔
Clairautنے سب سے پہلے 1729 میںDistance Formulaپیش کیا حالانکہ یہ بہت دھندلی شکل میں تھا۔اس نے خط کی Intercept Formبھی پیش کیCramerنے 1750میں رسمی طور پر مختص محاور کا استعمال کیا اور دائرے کی مساوات اس طرح پیش کی
اس نے اپنے دور میں تجزیاتی جیومیٹری کی بہترین تشریح پیش کی۔Mongeنے 1781میں خط کی مساوات جدید نقطہ سلوپ کی شکل میں اس طرح دی
دو خطوط کی عمودیت (Perpendicularity)کی شرط اس طرح دی
۔
(1765-1843A.D.)S.F.Lacrioxنے بہت سی کتابیں لکھیں لیکن تجزیاتی جیومیٹری میںاس کا کام بہت منتشر حالات میں پایا گیا۔اس نے خط کی دو نقطوں والی مساوات اس طرح دی ،
اورنقطہ
سے خط
کا عمودی فاصلہ اس طرح دیا 
دو خطوط کے درمیا ن زاویہ اس طرح دیا
یہ بات قابل حیرت ہے کہ تجزیاتی جیومیٹری کی ایجاد کے 150سال کے انتظار کے بعد اتنے اہم نتائج حاصل ہوئے۔C.Lameنام کے ایک سول انجینیر نے1818میں دو لوسائی E=o۔(Loci)اور
کے تقاطع سے گذرنے والی منحنی (curve)کی مساوات
دی۔
ریاضی اور سائنس میں بہت سی اہم ایجادات مخروطی تراشوں سے منسلک ہوتی رہی ہیں۔یونانی ریاضی داں ارشمیدش خصوصاًاور اپولونیس نے مخروطی تراشوں کا ان کے حسن کی وجہ سے مطالعہ کیا۔یہ منحنیا ں بیرونی خلاء کی تحقیق اور جوہری اجزاء کی کھوج لئے بہت اہم اوزار ہیں۔