Skip to content
Riyazee-001


باب 14

ریاضیاتی استدلال

(MATHEMATICAL REASONING)

یہ سمجھناکہ کچھ اشیاء ریاضیاتی استدلال سے مبرّاہیں اور ان پر ان کا استعمال نہیں کیا جا سکتا   اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمیں ان کے بارے میں بہت قلیل اور متذبذب معلومات ہے ۔ جہاں ریاضیاتی استدلال کیا جاسکتا ہے وہاں کسی دوسرے ذریعہ کا استعمال اتنی بڑی نادانی ہے جس طرح ہاتھ میں چراغ لئے اندھیرے میں کسی شئے کو ٹٹولنا  آرتھین بوٹ   ( ARTHENBOtT )

14.1  تعارف(Introduction)

اس سبق میں ہم ریاضیاتی استدلال کے کچھ بنیادی تصورات پر بات چیت کریں گے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ انسان کی موجودہ صورت حال کا نشونما ہزارہا سال میں چھوٹی قسم (نوع) سے ہوا ہے۔ سب سے اہم اثاثہ جس نے انسان کو دوسری نوع پر برتری حاصل کرائی وہ اس کا تجسس ہے۔ یہ خاصیت کتنے اچھے انداز میں استعمال کی جاسکتی، ہر انسان کے استدلال کرنے کی طاقت پر منحصر ہے۔ اس طاقت کو اس طرح بڑھایا جاسکتا ہے؟ یہاں ہم استدلال کے طریقوں پر بات چیت کریں گے خاص طور پر ریاضی کے حوالے سے۔ریاضیاتی زبان میں توجیہ کی دو قسمیں ہیں استقرائی (Inductive) اور استخراجی (Deductive)۔ ہم پہلے ہی ریاضیاتی استقراء کو مدِنظر رکھتے ہوئے استقرائی وجوہات پر بحث و مباحثہ (بات چیت) کرچکے ہیں۔ اس سبق میں ہم کچھ بنیادی استخراجی وجوہات پر بات چیت کریں گے۔

Pic-125

جورج بولے

(1815-1864)

14.2  بیانات  (Statement)

ریاضیاتی استدلال میں جو ابتدائی اکائی شامل ہے وہ ریاضیاتی بیان ہے۔

 آئیے ہمیں دو جملوں سے شروع کرنا چاہیے۔

2003 میں ہندوستان کی صدرجمہوریہ ایک عورت تھی۔

ایک ہاتھی کا وزن ایک انسان سے زیادہ ہوتا ہے۔

جب ہم ان جملوں کو پڑھتے ہیں، ہم ایک دم یہ فیصلہ کرلیتے ہیں کہ پہلا جملہ غلط ہے اور دوسرا صحیح ہے۔ ان کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ ریاضی میں اس طرح کے جملوں کو بیانات کہا جاتا ہے۔

دوسری طرف اس جملہ پر غور کرو:

عورتیں مردوں سے زیادہ ذہین ہوتی ہیں۔

کچھ لوگوں کی سوچ میں یہ صحیح ہے جب کہ دوسرے اس کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے ۔ اس جملے کے بارے میں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ ہمیشہ صحیح ہے یا غلط۔ اس کا مطلب ہے یہ جملہ واضح نہیں ہے۔ اس طرح کا جملہ ریاضی میں ایک بیان کے طور پر منظور نہیں کیا جاسکتا۔

ایک جملہ اس وقت ریاضیاتی بیان کے طور پر منظور کیا جاسکتا ہے جب کہ یہ یا تو صحیح ہو یا غلط ہو لیکن دونوں نہیں۔ ہم جب بھی یہاں ایک بیان کا ذکر کرتے ہیں تو یہ ایک ’’ریاضیاتی منظور شدہ‘‘ بیان ہوتاہے۔ جب ہم ریاضی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم اس طرح کے بہت سے جملوں سے روشناس ہوتے ہیں۔ کچھ مثالیں یہ ہیں:

دو اور دو مل کر چار ہوتے ہیں۔

دو مثبت اعداد کا جوڑ مثبت ہے۔

تمام مفرد اعداد طاق اعداد ہیں۔

ان جملوں میں پہلے دو صحیح ہیں اور تیسرا غلط ہے۔ ان جملوں کے دو مطلب نکلتے ہیں۔ اس لیے وہ بیانات ہیں۔ کیا آپ ایک جملے کی ایک مثال سوچ سکتے ہیں جو مبہم یا ذو معنی ہے ؟ جملے پر غور کیجیے۔

x   اور  y   کا حاصل جمع 0 سے بڑا ہے۔

یہاں ہم اس حالت میں نہیں ہیں کے یہ معلوم کرسکیں کہ آیا یہ صحیح ہے یا غلط جب تک ہمیں یہ معلوم نہ ہو کہ x اور y  کیا ہیں۔ مثال کے طور، یہ غلط ہے جہاں x=1۔،y=3 ہو اور صحیح ہے جب x=1۔،y=3 ہے۔ اس لئے یہ جملہ بیان نہیں ہے۔ لیکن بیان:

کن ہی طبعی اعداد x اور y کے لیے، x اور y کا جوڑ 0 سے بڑا ہے ایک بیان ہے۔

اب ذیل جملوں پر غور کیجیے:

کتنا خوبصورت!

دروازہ کھولیے۔

آپ کہاں جارہے ہیں؟

کیا یہ بیانات ہیں؟ نہیں، کیونکہ پہلا ایک استعجاب(حیرت) ، دوسرا ایک حکم ہے اور تیسرا ایک سوال۔ ریاضی کی زبان میں ان میں سے کسی کو بھی بیان نہیں مانا جاسکتا۔ وہ جملے جن میں ’’آج‘‘، ’’کل‘‘ یا ’’بیتا ہوا کل‘‘ ہو اس طرح کے مختلف واقعات شامل ہوں، بیانات نہیں ہیں۔ یہ اس لیے ہے کیونکہ یہاں وقت کے بارے میں حوالہ نہیں دیا گیا۔ مثال کے طور پر، یہ جملہ

کل جمعہ ہے

ایک بیان نہیں ہے۔ جملہ صحیح (درست) ہے جمعرات کے لیے لیکن دوسرے دنوں کے لیے نہیں۔ اسی طرح کی دلیل ان جملوں کے لیے بھی لاگو ہوتی جہاں اسم اشارہ (pronouns) موجود ہو جب تک کہ کسی خاص آدمی کا حوالہ نہ دیا گیا ہو اور بہت سے مختلف مقامات کے لیے، جہاں کہ ’’یہاں‘‘، ’’وہاں‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ مثال کے طور پر جملے

وہ ریاضی سے بی اے ہے

کشمیر یہاں سے بہت دور ہے

بیانات نہیں ہیں

یہاں ایک دوسرا جملہ ہے

ایک مہینے میں 40 دن ہوتے ہیں

کیا آپ اسے ایک بیان کہیں گے؟ یہ بات نوٹ کرلیجیے کہ اوپر جملے میں دکھایا گیا وقفہ ایک ’’متغیروقفہ‘‘ وہ یہ کہ 12 مہینوں میں سے کوئی سا۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ جملہ ہمیشہ غلط ہے (مہینے سے بلا لحاظ) کیونکہ ایک مہنے میں زیادہ سے زیادہ دنوں کی تعداد 31 ہوتی ہے۔ اس لیے یہ جملہ ایک بیان ہے۔ اس طرح ایک جملے جو بیان بناتا ہے وہ یہ حقیقت ہے کہ یا تو جملہ صحیح ہو یا غلط لیکن دونوں نہیں۔

جب بھی ہم بیانات پر کام کرتے ہیں، ہم عام طور پر انہیں چھوٹے حروف r,q,p،۔۔۔ سے ظاہر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم بیان ’’آگ ہمیشہ گرم ہوتی ہے‘‘ کو p سے ظاہر کرتے ہیں۔ اسے اس طرح بھی لکھا جاسکتا ہے۔

p:  آگ ہمیشہ گرم ہوتی ہے

مثال 1 جانچ کیجیے کہ کیا ذیل جملے بیانات ہیں۔ اپنے جواب کی وجہ بیان کیجیے۔

(i)۔   8،  6  سے کم ہے (ii)  ہر سیٹ ایک محدود سیٹ ہے

(iii)  سورج ایک ستارہ ہے (iv)  ریاضی ایک کھیل ہے

(v)   بغیر بادلوں کے بارش نہیں ہوتی (vi)  یہاں سے چنئی کتنی دور ہے

حل  (i)  یہ جملہ غلط ہے کیونکہ 8، 6 سے زیادہ ہے۔ اس لیے یہ ایک بیان ہے۔

(ii)  یہ جملہ بھی غلط ہے کیونکہ کچھ ایسے سیٹ ہیں جو محدود نہیں ہیں۔ اس لیے یہ ایک بیان ہے۔

(iii)  یہ سائنس کے ذریعے ثابت کی گئی حقیقت ہے کہ سورج ایک ستارہ ہے اور اس لئے یہ جملہ ہمیشہ صحیح ہے۔ اس لئے یہ ایک بیان ہے۔

(iv)  یہ جملہ مشروط ہے اس نظریے سے کہ جو لوگ ریاضی کو پسند کرتے ہیں، ان کے لیے یہ تفریح ہوسکتی ہے لیکن دوسرے کے لیے ایسا نہیں ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ جملہ ہمیشہ صحیح نہیں ہے۔ اس لیے یہ بیان نہیں ہے۰

(v)  یہ سائنس کے ذریعہ ثابت کی گئی قدرتی غیرمعمولی حقیقت ہے کہ بارش ہونے سے پہلے یہ بادل بنتا ہے۔ اس لئے یہ جملہ ہمیشہ صحیح ہے۔ اس لیے یہ ایک بیان ہے۔

(vi)  یہ ایک سوال ہے جس میں لفظ ’’یہاں‘‘ بھی موجود ہے۔ اس لیے یہ ایک بیان نہیں ہے۔

اوپر کی مثال یہ دکھاتی ہے کہ ہم جب بھی یہ کہتے ہیں کہ یہ جملہ ایک بیان ہے، ہمیں ہمیشہ یہ کہنا چاہیے کہ ایسا کیوں ہے۔ 

اس کا یہ کیوں اس کے جواب سے زیادہ اہم ہے۔

مشق  14.1

1. نیچے دیے گئے کون سے جملے بیانات ہیں؟ اپنے جواب کی وجوہات بیان کیجیے۔

(i)   ایک مہینے میں 35 دن ہوتے ہیں۔

(ii)  ریاضی مشکل ہے۔

(iii)۔  5 اور 7 کا مجموعہ 10 سے زیادہ ہے۔

(iv)  ایک عدد کا مربع ایک جفت عدد ہے۔

(v)   چار ضلعی کے ضلعے برابر لمبائی رکھتے ہیں۔

(vi)  اس سوال کا جواب دو۔

(vii)۔  (1–) اور 8 کا حاصل ضرب 8 ہے۔

(viii) ایک مثلث کے تمام اندرونی زاویوں کا جوڑ 2 ہے۔

(ix)  آج آندھی بھرا دن ہے۔

(x)   تمام حقیقی اعداد پیچیدہ اعداد ہیں۔

2. تین ایسے جملوں کی مثالیں دیجئے جو بیانات نہ ہوں جوابات کی وجہ بھی دیجیئے۔

14.3  نئے بیانات پرانوں سے  (New Statement from Old)

اب ہم اس طرح کے طریقوں پر غور کریں گے تاکہ ہمارے پاس موجود بیانات سے نئے بیانات بنائے جاسکیں۔ ایک انگریزی ریاضی داں ’’جورج بولے‘‘ (George Boole) نے اپنی کتاب ’’ قوانین تفکرّ‘‘ (The Laws of Thought)  میں 1854 میں ان طریقوں پر بات چیت کی تھی۔ یہاں ہم دو طریقوں پر بات چیت کریں گے۔

اپنے بیانات کے مطالعہ میں پہلے قدم کے طور پر ہم ایک بہت اہم ٹیکنک پر غور کرتے ہیں جس کا استعمال ہم اپنی ریاضیاتی بیانات کو اور گہرائی سے سمجھنے میں کریں گے۔ یہ ٹیکنک نہ صرف یہ معلوم کرتی ہے کہ دئے ہوئے بیان کے کیا معنی ہیں جس کی وجہ سے اسے درست کہا جا سکتا ہے بلکہ یہ بھی کہ اس بیان کے کیا معنی ہوتے کہ اسکو درست نہیں کیا جا سکتا۔

14.3.1  ایک بیان کا نفی  (Negation of a Statement)

کسی بیان سے انکار اس بیان کا نفی کہلاتا ہے۔

ہم ذیل بیان پر غور کرتے ہیں:

p:  نئی دہلی ایک شہر ہے

اس بیان کا منفی ہے

یہ کیس نہیں ہے کہ نئی دہلی ایک شہر ہے

اسے اس طرح بھی لکھا جاسکتا ہے

یہ غلط ہے کہ نئی دہلی ایک شہر ہے

اسے سادہ طور اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے

نئی دہلی ایک شہر نہیں ہے

تعریف 1  اگر p ایک بیان ہے، تب p کا منفی بھی ایک بیان ہے اور اسےP~سے ظاہر کیا جاتا ہے، اور اسے اس طرح پڑھا جاتا ہے ’pنہیں‘

Pic-8 ایک بیان کا منفی بناتے وقت اس طرح کے جزوحملہ ’’یہ کیس نہیں ہے‘‘ یا ’’یہ غلط ہے کہ‘‘ کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

یہاں ایک مثال ہے جو تشریح کرتی ہے کہ کس طرح، بیان کے منفی پر غور کرنے پر ہم اس کو سمجھنے کے لیے اپنی سوچ میں بہتری کرسکتے ہیں۔

p:  جرمنی میں ہر شخص جرمن بولتا ہے۔

اس جملے سے انکار کرنا ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہر کوئی جرمنی میں جرمن نہیں بولتا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی آدمی جرمنی میں جرمن نہیں بولتا۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ کم سے کم ایک آدمی جرمن میں جرمنی نہیں بولتا۔

ہم اور زیادہ مثالوں پر غور کریں گے۔

مثال 2 ذیل بیانات کا منفی لکھئے۔

(i) مستطیل کے دونوں وتروں کی لمبائی برابر ہوتی ہے۔

(ii)   4 ایک ناطق عدد ہے۔

حل  (i)  یہ بیان کہتا ہے کہ ایک مستطیل میں دونوں وتروں کی لمبائی برابر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ کوئی بھی مستطیل لیں، تب دونوں وتروں کی لمبائی برابر ہوگی۔ اس بیان کا منفی ہے۔

یہ غلط ہے کہ مستطیل میں دونوں وتروں کی لمبائی برابر ہے۔

اس کا مطلب ہے بیان

کم سے کم ایک مستطیل ایسا ہے جن کے دونوں وتروں کی لمبائی برابرنہیں ہے۔

(ii)  بیان (ii) کا منفی اس طرح بھی لکھا جاسکتا ہے۔

یہ کیں نہیں ہے کہ 4 ناطق ہے

اسے اس طرح بھی لکھا جاسکتا ہے

4ناطق نہیں ہے۔

مثال 3 ذیل بیانات کا منفی لکھئے اور جانچ کیجیے کہ کیا نتیجتاً بیانات صحیح ہیں،

(i)   آسٹریلیا ایک برِاعظم ہے۔

(ii)  ایسا کوئی چار ضلعی وجود میں نہیں ہے جس کے چاروں ضلع برابر ہوں۔

(iii)  ہر ایک طبعی عدد 0 سے بڑا ہے۔

(iv)  3 اور 4 کا مجموعہ 9 ہے۔

حل  (i)  بیان کا منفی ہے

یہ غلط ہے کہ آسٹریلیا ایک برِاعظم ہے

اسے دوبارہ اس طرح بھی لکھا جاتا ہے

آسٹریلیا ایک برِاعظم نہیں ہے

ہم جانتے ہیں کہ یہ بیان غلط ہے۔

(ii)  بیان کا منفی ہے

یہ کیس نہیں ہے کہ ایک ایسا چار ضلعی موجود نہیں ہے جس کے چاروں ضلعے برابر ہیں۔

اس کا مطلب ذیل بھی ہے:

ایک ایسا چار ضلعی موجود ہے جس کے چاروں ضلعے برابر ہیں۔

یہ بیان درست ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ مربع ایک چار ضلعی ہے جس کے چاروں ضلع برابر ہیں۔

(iii)  بیان کا منفی ہے

یہ غلط ہے کہ ہر ایک طبعی عدد 0 سے بڑا ہے۔

اسے دوبارہ اس طرح لکھا جاسکتا ہے

ایک ایسا طبعی عدد موجود ہے جو 0 سے بڑا نہیں ہے۔

یہ ایک غلط بیان ہے

(iv)  منفی یہ ہے

یہ غلط ہے کہ 3 اور 4 کا مجموعہ 9 ہے

اسے اس طرح بھی لکھا جاسکتا ہے

3 اور 4 کا مجموعہ 9 نہیں ہے

یہ بیان غلط ہے۔

14.3.2 مرکب بیانات  (Compound statements)

بہت سے ریاضیاتی بیانات دو یا زیادہ بیانات کو جوڑنے سے حاصل کیے جاتے ہیں، کچھ جوڑنے والے الفاظ، ’’اور‘‘، ’’یا‘‘ وغیرہ کا استعمال کرکے۔

p:  بلب یا تار باندھنے میں کچھ غلطی ہے۔

یہ بیان ہمیں بتاتا ہے کہ بلب کے ساتھ کچھ غلط ہے یا تار باندھنے میں کچھ غلطی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دیا ہوا بیان حقیقت میں دو چھوٹے بیانات سے مل کر بنا ہے۔

q:  بلب کے ساتھ کچھ غلط ہے

r:  تار باندھنے میں کچھ غلطی ہے۔

 ’یا ‘سے جوڑ کر 

اب مان لیجیے کہ دو بیانات ذیل کی طرح ہیں:

p:  7 منفی عدد ہے

q:  7 مفرد عدد ہے

یہ دونوں بیانات اس طرح جوڑے جاسکتے ہیں ’’اور‘‘

r:  7 منفی اور مفرد عدد دونوں ہے۔

یہ ایک مرکب بیان ہے

یہ ہمیں ذیل تعریف کی طرف لے جاتا ہے:

تعریف 2

  ایک مرکب بیان وہ بیان ہے جو 2 یا اس سے زیادہ بیانات سے مل کر بنا ہے۔ اس کیس میں ہر ایک بیان ایک جزترکیبی بیان کہلاتا ہے۔

ہم ذیل مثالوں پر غور کرتے ہیں۔

مثال 4

ذیل مرکب بیانات کے اجزائے ترکیبی بیانات معلوم کیجیے۔

(i)   آسمان نیلا ہے اور گھاس ہری ہے۔

(ii)  بارش ہو رہی ہے اور ٹھنڈک ہے۔

(iii)  تمام ناطق اعداد حقیقی ہیں اور تمام حقیقی اعداد پیچیدہ اعداد ہیں۔

(iv)  0 ایک مثبت عدد ہے یا ایک منفی عدد ہے۔

حل  ہم ایک کے بعد ایک پر غور کریں گے۔

(i)  جزترکیبی بیانات ہیں

p:  آسمان نیلا ہے۔

q:  گھاس ہری ہے۔

جوڑنے والا لفظ ’’اور‘‘ ہے۔

(ii)  جزترکیبی بیانات ہیں

:p  بارش ہورہی ہے

q:  اب ٹھنڈک ہے۔

(iii)  جزوترکیبی بیانات ہیں

p:  تمام ناطق اعداد حقیقی ہیں

q:  تمام حقیقی اعداد پیچیدہ ہیں

جوڑنے والا لفظ ’’اور‘‘ ہے

(iv)  جزء ترکیبی بیانات ہیں

p:  0 ایک مثبت عدد ہے

q:  0 ایک منفی عدد ہے

جوڑنے والا لفظ ’’یا‘‘ ہے۔

مثال 5 ذیل کے جزء ترکیبی بیانات معلوم کیجیے اور جانچ کیجیے کہ وہ صحیح ہیں یا غلط

(i)  ایک مربع ایک چار ضلعی ہے اور اس کے چاروں ضلعے برابر ہیں۔

(ii)  تمام مفرد اعداد یا تو جفت ہیں یا طاق۔

(iii)  ایک انسان جس نے ریاضی یا کمپیوٹر سائنس لی وہ MCA کرسکتا ہے۔

(iv)  چنڈی گڑھ، ہریانہ اور یوپی کا دارالحکومت ہے۔

(v) 5 ایک ناطق عدد ہے یا ایک غیر ناطق عدد ہے۔

(vi)  24،  2، 4 اور 8 کا ضعف (multiple) ہے۔

حل  (i)   جزء ترکیبی بیانات ہیں

p:  ایک مربع ایک چار ضلعی ہے۔

q:  ایک مربع میں چاروں ضلعے برابر ہوتے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ یہ دونوں بیانات صحیح ہیں۔ یہاں جوڑنے والا لفظ ’’اور‘‘ ہے۔

(ii)  جزء ترکیبی بیانات ہیں۔

p:  تمام مفرد اعداد طاق عدد ہیں۔

q:  تمام مفرد اعداد جفت عدد ہیں۔

یہ دونوں بیانات غلط ہیں اور انہیں جوڑنے والا لفظ ’’یا‘‘ ہے۔

(iii)  جزء ترکیبی بیانات ہیں

p:  ایک انسان جو ریاضی لیتا ہے وہ MCA کرسکتا ہے

q:  ایک انسان جو کمپیوٹرسائنس لیتا ہے وہ MCA کرسکتا ہے۔

یہ دونوں بیانات درست ہیں۔ یہاں جوڑنے والا لفظ ’’یا‘‘ ہے۔

(iv)  جز ء ترکیبی بیانات ہیں۔

p:  چنڈی گڑھ ہریانہ کا دارالحکومت ہے۔

q:  چنڈی گڑھ یوپی کا دارالحکومت ہے۔

پہلا بیان درست ہے لیکن دوسرا غلط ہے۔ یہاں جوڑنے والا لفظ ’’اور‘‘ ہے۔

(v)  جزء ترکیبی بیانات ہیں

p:  5 ایک ناطق عدد ہے

q: 5 ایک غیرناطق عدد ہے۔

پہلا بیان غلط ہے اور دوسرا صحیح ہے۔ یہاں جوڑنے والا لفظ ’’یا‘‘ ہے۔

(vi)  جزء ترکیبی بیانات ہیں

6

 تینوں بیانات درست ہیں۔ یہاں جوڑنے والے لفظ ’’اور‘‘ ہے۔

اس طرح ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ مرکب بیانات حقیقت میں دویا زیادہ بیانات سے مل کر بنتے ہیں جو کہ الفاظ ’’اور‘‘، ’’یا‘‘ وغیرہ سے جڑ کر بنتے ہیں۔ ان الفاظ کا ریاضی میں ایک اہم مطلب ہے۔ ہم اس مسئلہ پر ذیل سیکشن میں بات چیت کریں گے۔

مشق 14.2

1.     ذیل بیانات کے منفی لکھئے:

(i)  چنئی تامل ناڈو کا دارالخلافہ ہے۔

(ii)  5 ایک پیچیدہ عدد نہیں ہے۔

(iii)  تمام مثلث مساوی ضلعی مثلث نہیں ہیں۔

(iv)  عدد 2، 7 سے بڑا ہے۔

(v)  ہر ایک طبعی عدد ایک صحیح عدد ہے۔

2.    کیا بنایات کے ذیل جوڑے ایک دوسرے کے منفی ہیں۔

(i)   عدد x  ایک ناطق عدد نہیں ہے

      عدد x ایک غیرناطق عدد نہیں ہے

(ii)  عدد x ایک ناطق عدد ہے

      عدد x  ایک غیرناطق عدد ہے

3.     ذیل مرکب بیانات کے جزترکیبی بیانات دریافت کیجیے اور جانچ کیجیے کہ آیا وہ صحیح ہیں یا غلط۔

(i)   عدد 3 مفرد ہے یا یہ طاق ہے

(ii)  تمام صحیح اعداد مثبت ہیں یا منفی

(iii)۔  100،  3،  11 اور 5 سے قابل تقسیم ہے۔

14.4  خاص الفاظ /جزوجملہ  (Special Words/Phrases)

کچھ جوڑنے والے الفاظ جو مرکب بیانات میں پائے جاتے ہیں مثال کے طور پر ’’اور‘‘، ’’یا‘‘ وغیرہ وغیرہ عام طور پر ریاضیاتی بیانات میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہیں ہم جوڑنے والا کہتے ہیں۔ جب ہم ان مرکب بیانات کا استعمال کرتے ہیں، ان الفاظ کا کردار سمجھنا ضروری ہے۔ نیچے ہم اس پر بات چیت کریں گے۔

14.4.1  لفظ ’’اور‘‘  (The word "And")

ہمیں ایک مرکب بیان پر غور کرنا چاہیے جس میں ’’اور‘‘ شامل ہو۔

p:  ایک نقطہ ایک پوزیشن حاصل کرتا ہے اور اس کی جگہ معلوم کی جاسکتی ہے۔

دیا ہوا بیان دو جزترکیبی بیانات میں توڑا جاسکتا ہے جیسے

q:  ایک نقطہ ایک پوزیشن حاصل کرتا ہے۔

r:  اس کی جگہ معلوم کی جاسکتی ہے۔

یہاں، ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ دونوں بیانات صحیح ہیں۔

ہمیں ایک دوسرے بیان کو دیکھنا چاہیے۔

p:۔  42،  5، 6 اور 7 سے قابل تقسیم ہے۔

اس بیان میں ذیل جزترکیبی بیانات شامل ہیں

q:۔  42،  5 سے قابل تقسیم ہے

r:۔  42،  6  سے قابل تقسیم ہے

s:۔  42،  7 سے قابل تقسیم ہے

یہاں ہم جانتے ہیں کہ پہلا غلط ہے جب کہ دوسرے دو صحیح ہیں۔

ہمارے پاس جوڑنے والے ’’اور‘‘ کے لیے ذیل اصول موجود ہیں۔


1.   مرکب بیان جس میں ’اور‘ شامل ہے صحیح ہے اگر اس کے تمام جزترکیبی بیانات درست ہیں۔
2.   جزترکیبی بیان جس میں ’اور‘ شامل ہے غلط ہے اگر اس کا کوئی بھی جزترکیبی بیان غلط ہے (اس میں یہ کیس شامل ہے کہ اس کے کچھ جزترکیبی بیانات غلط ہے یا اس کے تمام جزترکیبی بیانات غلط ہے)۔


مثال 6 ذیل مرکب بیانات کے جزترکیبی بیانات لکھیے اور جانچ کیجیے کہ مرکب بیان صحیح ہے یا غلط۔

(i)   ایک خط سیدھا ہے اور دونوں طرف لامحدود طریقے سے بڑھ رہا ہے۔

(ii)۔  0  ہر ایک مثبت صحیح عدد اور منفی صحیح عدد سے کم ہے

(iii)  تمام زندہ اجسام دو ٹانگیں اور دو آنکھیں رکھتے ہیں۔

حل  (i)   جزترکیبی بیانات ہیں۔

p:   ایک خط سیدھا ہے

q:   ایک خط دونوں طرف لامحدود طریقے سے بڑھتا ہے۔

یہ دونوں بیانات درست ہیں، اس لیے مرکب بیان درست ہے۔

(ii)  جزترکیبی بیانات ہیں

p:۔   0  ہر ایک مثبت صحیح عدد سے کم ہے

q:۔   0  ہر ایک منفی صحیح عدد سے کم ہے۔

دوسرا بیان غلط ہے اس لئے مرکب بیان غلط ہے۔

(iii)  دوجزترکیبی بیانات ہیں

p:  تمام زندہ اشیاء کے دو ٹانگیں ہوتی ہیں۔

q:  تمام زندہ اشیاء کے دو آنکھیں ہوتی ہیں۔

یہ دونوں بیانات غلط ہیں۔ اس لئے مرکب بیان غلط ہے۔

اب، ذیل بیان پر غور کیجیے

p:  شراب اور پانی کے آمیزہ کو کیمیاوی طریقوں سے الگ کیا جاسکتا ہے۔

اس جملے پر ’’اور‘‘ کے ساتھ مرکب بیان کے طور پر غور نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہاں لفظ ’’اور‘‘ دو اشیاء کا حوالہ دیتا ہے۔ شراب اور پانی۔

یہ ہمیں ایک ضروری نوٹ کی طرف لے جاتا ہے۔


Pic-8یہ نہیں سوچئے کہ ایک بیان ’’اور‘‘ کے ساتھ ایک مرکب بیان ہے جیسا کہ اوپر مثال میں دکھایا گیا ہے۔ اس لئے لفظ ’’اور‘‘ ایک جوڑنے والے کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا ہے۔


14.4.2   لفظ ’’یا‘‘  (The word "Or")ہم ذیل بیان کو دیکھتے ہیں۔

p:  دو خطوط ایک مستوی میں ایک دوسرے کو ایک نقطے پر کاٹتے ہیں یا وہ متوازی ہیں۔

 ہم جانتے ہیں کہ یہ بیان درست ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر دو خطوط ایک مستوی میں ایک دوسرے کو کاٹتے ہیں، تب وہ متوازی نہیں ہیں۔ اس کے برعکس، اگر دو خطوط متوازی نہیں ہیں، تب وہ ایک دوسرے کو ایک نقطے پر کاٹتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ دونوں حالتوں میں یہ بیان درست ہے۔

’’یا‘‘ کے ساتھ بیان کو سمجھنے کی ترتیب میں ہم پہلے یہ اطلاع دیتے ہیں کہ ’’یا‘‘ انگریزی زبان میں دو طریقوں سے استعمال ہوتا ہے۔ ہمیں پہلے ذیل بیان کو دیکھنا چاہیے۔

p:  ایک ہوٹل میں ایک تھالی کے ساتھ آئس کریم یا پیپسی دستیاب ہے (ملتی ہے)

اس کا مطلب ہے ایک شخص جو تھالی کے ساتھ آئس کریم نہیں چاہتا پیپسی لے سکتا ہے یا اگر پیپسی نہیں چاہتاتو آئیس کریم لے سکتا ہے۔ ایک اشخص پیپسی اور آئس کریم دونوں نہیں لے سکتا۔ اسے غیرشمولی ’’یا‘‘ کہتے ہیں۔

یہاں ایک دوسرا بیان ہے۔

ایک طالب علم جس نے بائیلوجی یا کیمسٹری لے رکھی ہے M.Sc مائیکروبائیولوجی پروگرام  کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ 

یہاں ہمارا مطلب ہے کہ طلبا جنہوں نے بائیلوجی اور کیمسٹری دونوں مضمون لے رکھے ہیں مائیکروبائیلوجی پروگرام کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، اسی طرح وہ طلباء جنہوں نے ان دونوں مضمونوں میں سے ایک لے رکھا ہے۔ اس کیس میں ہم داخلی ’’یا‘‘ کا استعمال کر رہے ہیں۔ ان دونوں طریقوں کے درمیان فرق نوٹ کرنا اہم ہے کیونکہ ہمیں اس کی ضرورت اس وقت ہوتی ہے جب ہم یہ جانچ کرتے ہیں کہ آیا یہ بیان درست ہے یا غلط۔

ہمیں ایک مثال کو دیکھنا چاہیے

مثال 7 ہر ایک ذیل بیانات کے لیے، معلوم کیجیے کہ کیا ایک داخلی ’’یا‘‘ یا غیر شمولی ’’یا‘‘ کا استعمال کیا گیا ہے۔ اپنے جواب کی وجوہات بیان کیجیے۔

(i)  ایک ملک میں داخل ہونے کے لیے آپ کو پاسپورٹ کی ضرورت ہوگی یا ایک ووٹر ریجسٹریشن کارڈ کی۔

(ii)  اسکول بند ہے اگر یہ ایک چھٹی (تعطیل) ہے یا اتوار

(iii)  دو خطوط ایک دوسرے کو ایک نقطے پر کاٹتے ہیں یا متوازی ہیں۔

(iv)  طلباء فرنچ یا سنسکرت تیسری زبان کے طور پر لے سکتے ہیں۔

حل (i)   یہاں ’’یا‘‘ داخلی ہے کیونکہ ایک انسان ایک ملک میں داخلے کے لیے دونوں پاسپورٹ اور ووٹر رجسٹریشن کارڈ رکھ سکتا ہے۔

(ii)  یہاں بھی ’’یا‘‘ داخلی ہے کیونکہ اسکول چھٹی کے دن اور اسی طرح اتوار کے دن بند ہوتا ہے۔

(iii)  یہاں ’’یا‘‘ غیرشمولی ہے کیونکہ دو خطوط کے لیے یہ ممکن نہیں ہے وہ ایک دوسرے کو کاٹیں اور ساتھ ہی متوازی ہوں

(iv)  یہاں بھی ’’یا‘‘ غیرشمولی ہے کیونکہ ایک طلبا دونوں فرنچ اور سنسکرت ایک ساتھ نہیں لے سکتا۔

مرکب بیان کے لیے اصول ’’یا‘‘ کے ساتھ 


1.    ایک مرکب بیان ایک ’’یا‘‘ کے ساتھ صحیح ہے جب کہ ایک جزترکیبی بیان درست ہے یا دونوں جزترکیبی بیانات درست ہیں۔
2.   ایک مرکب  بیان ا یک ’’یا‘‘ کے ساتھ غلط ہے جب دونوں جزء ترکیبی بیانات غلط ہیں۔

مثال کے طور پر ذیل بیان پر غور کیجیے۔

p:  دو خطوط ایک دوسرے کو ایک نقطے پر کاٹتے ہیں یا متوازی ہیں۔

جزء ترکیبی بیانات ہیں

q:  دو خطوط ایک نقطے پر کاٹتے ہیں۔

r:   دو خطوط متوازی ہیں۔

تب، جب q صحیح ہے r غلط ہے اور جب r صحیح ہے q غلط ہے۔ اس لیے، مرکب یبان p صحیح ہے۔

ایک دوسرے بیان پر غور کیجیے۔

p:۔  125،  7 یا 8 کا ضعف ہے۔

اس کے جزترکیبی بیانات ہیں

q:۔  125،  7 کا ضعف ہے

r:۔  125،  8 کا ضعف ہے

دونوں q اور r غلط ہیں۔ اس لیے مرکب یبان p غلط ہے۔

دوبارہ ذیل بیان پر غور کیجیے۔

p:  اسکول بند ہے، اگر وہاں ایک چھٹی ہے یا اتوار ہے۔

جزترکیبی بیانات ہیں

q:  اسکول بند ہے اگر وہاں ایک چھٹی ہے

r:  اسکول بند ہے اگر وہاں اتوار ہے

دونوں q اور r صحیح ہیں، اس لیے مرکب بیان صحیح ہے۔

ایک دوسرے بیان پر غور کیجیے۔

p:  ممبئی کولکاتہ یا کرناٹک کا دارالحکومت ہے۔

جزترکیبی بیانات ہیں

q:  ممبئی کولکاتہ کا دارالحکومت ہے۔

r:  ممبئی کرناٹک کا دارالحکومت ہے۔

یہ دونوں بیانات غلط ہیں۔ اس لیے مرکب بیان غلط ہے۔

ہمیں کچھ مثالوں پر غور کرنا چاہیے

مثال 8 ذیل بیانات میں استعمال کیے گئے ’’یا‘‘ کی قسم کی نشاندہی کیجیے، اور جانچ کیجیے کہ آیا بیانات درست ہیں یا غلط:

(i)   5 ایک ناطق عدد ہے یا غیر ناطق عدد ہے۔

(ii)  ایک عوامی لائبریری میں داخلے کے لیے بچوں کو اسکول سے ایک شناختی کارڈ کی ضرورت یا اسکول کے اختیاری

 لوگوں سے ایک خط کی۔

(iii)  ایک مستطیل ایک چار ضلعی ہے یا پانچ ضلعوں والا کثیر ضلعی۔

حل  (i)  جزء ترکیبی بیانات ہیں

p:   5 ایک ناطق عدد ہے۔

q:  5ایک غیرناطق عدد ہے۔

یہاں ہم جانتے ہیں کہ پہلا بیان غلط ہے اور دوسرا صحیح ہے اور ’’یا‘‘ غیرشمولی ہے۔ اس لیے، مرکب بیان صحیح ہے۔

(ii)   جزء وترکیبی بیانات ہیں۔

p:   ایک عوامی لائبریری میں داخل ہونے کے لیے بچوں کو شناختی کارڈ کی ضرورت ہوگی۔

q:   ایک عوامی لائبریری میں داخل ہونے کے لیے بچوں کو اسکول کے اختیاری لوگوں سے ایک خط کی ضرورت ہوگی۔

بچے لائبریری میں اسی وقت داخل ہوسکتے ہیں اگر ان کے پاس دونوں میں سے کوئی بھی ہے، شناختی کارڈ یا خط، اسی طرح اگر ان کے پاس دونوں ہیں۔ اس لیے یہ داخلی ہے۔ ’’یا‘‘ مرکب بیان بھی صحیح ہے جب بچوں کے پاس دونوں کارڈ اور خط دونوں موجود ہیں۔

(iii)  یہاں ’’یا‘‘ غیرشمولی ہے۔ جب ہم جزء ترکیبی بیانات کو دیکھتے ہیں، ہمیں حاصل ہوتا ہے کہ بیان صحیح ہے۔

14.4.3  مقداریہ  (Quantifiers)

مقداریہ جزوجملہ کی طرح ہے جیسے ’’کچھ وجود میں ہے‘‘ اور ’’سب کے لیے‘‘۔ ایک دوسرا جزوجملہ جو ریاضیاتی بیانات میں نمایاں ہے ’’کچھ وجود میں ہے‘‘۔ مثال کے طور پر بیان پر غور کیجیے۔p:  ایسا مستطیل وجود میں ہے جس کے تمام اضلاع برابر ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ کم سے کم ایک ایسا مستطیل ہے جس کے تمام اضلاع برابر ہیں۔

ایک لفظ جو ’’کچھ وجود میں ہے‘‘ سے قریب سے جڑا ہوا ہے ’’ہر ایک کے لیے‘‘ (یا سب کے لیے) ہے۔ایک بیان پر غور کیجیے۔

p:  ہر ایک مفرد عدد p کے لیے 7 ایک غیرناطق عدد ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ اگر S تمام مفرد اعداد کے سیٹ کو ظاہر کرتا ہے، تب سیٹ S کے تمام اعداد p کے لیے 7 ایک غیرناطق عدد ہے۔

عام طور پر ایک ریاضیاتی بیان جو کہتا ہے کہ ’’ہرایک‘‘ اس کو دوبارہ اس طرح لکھا جاسکتا ہے کہ دیے ہوئے سیٹ S کے تمام اعداد جہاں خاصیت کو استعمال کرسکتے ہیں اس خاصل کو ہر حال میں مطمئن کرلے۔

ہمیں اس کا بھی مشاہدہ کرنا چاہیے کہ خاص طور پر اس بات کا جاننا ضروری ہے کہ دیے ہوئے جملے میں جوڑنے والے لفظ کا کہاں تعارف ہوا ہے۔ مثال کے طور پر ذیل دو جملوں کا موازنہ کیجیے۔

1.   ہر ایک مثبت عدد x کے لیے ایک مثبت عدد y وجود میں ہے تاکہ 8

2.    ایک مثبت عدد y وجود میں ہے تاکہ ہر ایک مثبت عدد x کے لیے ہمارے پاس ہے 8

حالانکہ یہ دونوں بیانات یکساں دکھائی دیتے ہیں، یہ دونوں ایک بات نہیں کہہ رہے ہیں۔ اصلیت میں (1) صحیح ہے اور (2) غلط ہے۔ اس طرح ایک ریاضیاتی ٹکڑے کو لکھنے کی ترتیب میں تاکہ ایک مطلب نکل سکے، تمام علامتوں کا بہت احتیاط سے تعارف کرانا چاہیے اور ہر علامت کا بالکل صحیح جگہ استعمال ہونا چاہیے۔ بہت جلدی نہیں اور بہت دیر سے نہیں۔

الفاظ ’’اور‘‘ اور ’’یا‘‘ کو جوڑنے والا کہا جاتا ہے اور ’’کچھ وجود میں ہے‘‘ اور ’’سب کے لیے‘‘ کو مقداریہ کہا جاتا ہے۔

اس طرح ہم نے دیکھا کہ بہت سے ریاضیاتی بیانات میں کچھ خاص الفاظ ہوتے ہیں اور یہ جاننا خاص ہے کہ ان کے ساتھ کیا معنی جڑا ہوا ہے، خاص طور پر جب ہم مختلف بیانات کی معتبری کی جانچ کرنی ہو۔

مشق 14.3

1.    ذیل ہر ایک مرکب بیانات کے لیے پہلے جوڑنے والے الفاظ کی پہچان کیجیے اور پھر اسے جزترکیبی بیانات میں توڑیے۔

(i)   تمام ناطق اعداد حقیقی ہیں اور تمام اعداد پیچیدہ نہیں ہیں۔

(ii)  ایک صحیح عدد کا مربع مثبت ہے یا منفی ۔

(iii)  ریت سورج کی موجودگی میں جلدی گرم ہوجاتا ہے اور رات میں تیزی سے ٹھنڈا نہیں ہوتا۔

(iv) 9کے جزر ہیں۔

2.    ذیل بیانات میں مقداریہ کی شناخت کیجیے اور بیانات کا منفی لکھئے۔

(i)   ایک نمبر ایسا موجود ہے جو اپنے مربع کے برابر ہیں۔

(ii) ہر ایک حقیقی عدد x کے لیے، 10 سے کم ہے۔

(iii)  ہندوستان میں ہر ایک صوبے کے لیے ایک دارالحکومت موجود ہے۔

3.    جانچ کیجیے کہ کیا بیانات کے جوڑے ایک دوسرے کے منفی ہیں۔ اپنے جواب کی وجہ بیان کیجیے۔

(i)   11 صحیح ہے ہر ایک حقیقی اعداد x اور y کے لیے

(ii)۔   x اور y حقیقی اعداد وجود میں ہیں جن کے لیے 11

4.     دکھائیے کہ کیا ذیل بیانات میں استعمال کیا گیا ’’یا‘‘ غیرشمولی ہے ’’یا‘‘ داخلی۔ اپنے جواب کی وجوہات بیان کیجیے۔

(i)   سورج طلوع ہے یا چاند غروب ہوتا ہے۔

(ii)  ایک ڈرائیونگ لائسنس کی درخواست کے لیے آپ کے پاس ایک راشن کارڈ یا ایک پاسپورٹ ہونا چاہیے۔

(iii)  تمام صحیح اعداد مثبت ہیں یا منفی۔

14.5  مفہوم  (Implications)

اس سیکشن میں ہم ’’اگر تب‘‘، ’’اگر صرف‘‘ اور ’’صرف اور صرف‘‘ کے مفہوم پر بات چیت کریں گے۔ مثال کے طور پر بیان پر غور کیجیے۔

r:   اگر آپ کی پیدائش کسی ملک میں ہے تو آپ اس ملک کے باشندے ہیں۔ 

جب ہم اس بیان کو دیکھتے ہیں، ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ یہ دیے گئے دو بیانات p اور q کے مطابق ہے 

p:  آپ کسی ملک میں پیدا ہوئے ہیں۔

q:  آپ اس ملک کے باشندے ہیں۔

تب جملہ ’’اگر p تو q‘‘ کہتا ہے کہ وقوعہ میں اگر p صحیح ہے، تب q بھی صحیح ہونا چاہیے۔

ایک سب سے اہم حقیقت جملے کے لیے ’’اگر p تب q‘‘ یہ ہے کہ یہ کچھ نہیں کہتا (یا کوئی خواہش نہیں بتاتا)۔ qپر جب کہ p غلط ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کسی ملک میں پیدا نہیں ہوئے، تب آپ q کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اسے دوسرے الفاظ میں اس طرح رکھا جاتا ہے p کا نہ ہونا q کے ہونے پر کوئی اثر نہیں ڈالتا۔

بیان کے لیے ایک اور نقطہ جس کو قلم بند کرنا ضروری ہے ’’اگر p تو q‘‘ یہ ہے کہ بیان کا مطلب نہیں ہے کہ p ہوگا۔

یہاں بیانات سمجھنے کے بہت سے طریقے ہیں ’’اگر p تو q‘‘ ہم ان طریقوں کی ذیل بیانات کے ساتھ تشریح کریں گے۔

r:  اگر ایک عدد 9 کا ضعف ہے، تب یہ 3 کا ضعف ہے۔

مان لیجیے p اور q بیانات کو ظاہر کرتے ہیں۔

p:  ایک عدد 9 کا ضعف ہے۔

q:  ایک عدد 3 کا ضعف ہے۔

تب ، اگر p تو q ذیل ہی جیسا ہے۔

1. p، q کی طرف نشاندہی کرتا ہے کو۱۲ سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ علامت ۱۳ نشاندہی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر ایک عدد 9 کا ضعف ہے کا معنی ہے کہ یہ 3 کا بھی ضعف ہے۔

2. p، q کے لیے حسب ضرورت شرط ہے

اس کا مطلب ہے کہ یہ جاننا کہ ایک عدد 9 کا ضعف ہے کافی ہے اس نتیجے پر پہنچنے کے لیے کہ یہ 3 کا ضعف ہے۔

3. p اگر صرف q

اس کا مطلب ہے کہ ایک عدد اس وقت 9 کا ضعف ہوگا اگر یہ 3 کا ضعف ہے۔

4. q، p کے لیے ضروری شرط ہے

اس کا مطلب ہے کہ جب ایک عدد 9 کا ضعف ہے، یہ لازمی طور پر 3 کا بھی ضعف ہے۔

5. ۱۴ نشاندہی کرتا 15

یہ کہتا ہے کہ اگر ایک نمبر 3 کا ضعف نہیں ہے، تب یہ 9 کا ضعف نہیں ہے۔

14.5.1  مخالف اور برعکس  (Contrapositive and converse)

مخالف اور برعکس کچھ دوسرے بیانات ہیں جو دیے ہوئے بیانات ’’اگر تب‘‘ کے ساتھ بنتے ہیں۔

مثال کے طور پر ہم ذیل ’’اگر تب‘‘ بیان پر غور کرتے ہیں۔

اگر طبعی ماحول بدلتا ہے تب حیاتیاتی ماحول بھی بدلتا ہے ۔

تب اس کا تردیدی بیان ہے۔ 

اگر حیاتیاتی ماحول نہیں بدلتا ہے تب طبعی ماحول بھی نہیں بدلے گا۔

یہ بات ذہن نشین کرلیجیے کہ دونوں بیانات ایک ہی معنی پیش کرتے ہیں۔

مثال 9 ذیل بیانات کے مخالف لکھیے:

(i)   اگر ایک عدد 9 سے تقسیم ہوتا ہے، تب یہ 3 سے بھی تقسیم ہوتا ہے۔

(ii) اگر آپ ہندوستان میں پیدا ہوئے ہیں، تب آپ ہندوستانی شہری ہیں۔

(iii)  اگر ایک مثلث مساوی ضلعی ہے تب یہ مساوی الساقین ہے۔

حل  ان بیانات کے مخالف ہے

(i)   اگر کوئی عدد 3 سے تقسیم نہیں ہوتا ہے، یہ 9 سے بھی تقسیم نہیں ہوگا۔

(ii)  اگر آپ ہندوستان کے شہری نہیں ہیں، تب آپ کی پیدائش ہندوستان میں نہیں ہوئی ہے۔

(iii)  اگر ایک مثلث مساوی الساقین نہیں ہے، تب یہ مساوی اضلعی نہیں ہے۔

اوپر دی ہوئی مثالیں بیان کا مخالف دکھاتی ہیں اگر p ،تو q ہے، اگر 14 تب 15

آگے ہم دوسرے رکن برعکس پر غور کریں گے۔

دیے ہوئے بیان ’’اگر p تو q‘‘ کا برعکس  اگر q تو p ہے۔

مثال کے طور پر دیے ہوئے بیان کا برعکس

p:   اگر ایک عدد 10 سے تقسیم ہوتا ہے تب یہ 5 سے بھی تقسیم ہوتا ہے۔

q:   اگر ایک عدد 5 سے تقسیم ہوتا ہے، تب یہ 10 سے تقسیم ہوتا ہے۔

مثال 10  ذیل بیانات کے برعکس لکھئے

(i)   اگر ایک جفت عدد n ہے تب 16 بھی جفت ہے۔

(ii) اگر آپ کتاب میں موجود تمام مشقیں کرتے ہیں، توآپ کو جماعت میں A گریڈ حاصل ہوتا ہے۔

(iii)  اگر دو صحیح اعدادa اورbاس طرح ہیں کہ 17 ہمیشہ ایک مثبت صحیح عدد ہے۔

حل  ان بیانات کے برعکس ہیں

(i)   اگر ایک عدد 19 جفت ہے، تب n جفت ہے

(ii) اگر آپ جماعت میں A گریڈ حاصل کرتے ہیں، تب آپ نے کتاب کی تمام مشقیں کی ہیں۔

(iii) اگر دو صحیح اعداد a اور b اس طرح ہیں کہa-b ہمیشہ مثبت صحیح عدد ہے، تب18 

ہم کچھ اور مثالوں پر غور کرتے ہیں

مثال 11 ذیل میں ہر ایک مرکب بیانات کے لیے، پہلے نظیری جزترکیبی بیانات کی شناخت کیجیے۔ تب یہ جانچ کیجیے کہ کیا بیانات درست ہیں یا نہیں۔

(i)   اگر ایک مثلث ABC مساوی اضلعی ہے، تب یہ مساوی الساقین ہے۔

(ii)  اگر a اور b صحیح اعداد ہیں، تب ab ایک ناطق عدد ہے۔

حل  (i)  جزوترکیبی بیانات اس سے دیے گئے ہیں

p:  مثلث ABC ایک مساوی اضلعی ہے۔

q:  مثلث ABC ایک مساوی الساقین ہے۔

کیونکہ ایک مساوی اضلعی مثلث، مساوی الساقین ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ دیا ہوا مرکب بیان درست ہے۔

(ii) جزترکیبی بیانات اس سے دیے گئے ہیں

p:۔  a اور b صحیح اعداد ہیں

q:۔  ab  ایک ناطق عدد ہے۔

کیونکہ دو صحیح اعداد کا حاصل ضرب ایک صحیح عدد ہے اور اس لئے ایک ناطق عدد، مرکب بیان درست ہے۔ ’اگر اور صرف اگر‘، علامت 20 سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے ذیل برابر کی شرطیں دیے بیانات p اور q کے لیے۔

(i)۔   p اگر اور صرف اگر q

(ii)۔  q اگر اور صرف اگر p

(iii)۔  p صروری اور مکمل شرط ہے q کے لیے اور اس کے برعکس

(iv)  21

ایک مثال پر غور کیجیے۔

مثال 12 نیچے دو بیانات کے جوڑے دیے گئے ہیں۔ ان دونوں بیانات کو ’’اگر اور صرف اگر‘‘ کا استعمال کرکے جوڑیے۔

(i)۔   p:  اگر ایک مستطیل ایک مربع ہے، تب اس کے تمام اضلاع برابر ہیں

      q:   اگر ایک مستطیل کے چاروں ضلعے برابر ہیں، تب مستطیل مربع ہے

(ii)۔  p:   اگر ایک عدد کے ہندسوں کا جوڑ3 سے تقسیم ہوتا ہے، تب عدد 3 سے تقسیم ہوتا ہے

      q:   اگر ایک عدد 3 سے تقسیم ہوتا ہے، تب اس کے ہندسوں کا جوڑ بھی 3 سے تقسیم ہوتا ہے۔

حل  (i)   ایک مستطیل ایک مربع ہے اگر اور صرف اگر اس کے چاروں ضلعے برابر ہیں۔

(ii) ایک عدد 3 سے تقسیم ہوتا ہے اگر اور صرف اگر اس کے ہندسوں کا جوڑ 3 سے تقسیم ہوتا ہے۔

مشق 14.4

1.    ذیل بیان کو ’’اگر-تب‘‘ کا استعمال کرکے پانچ مختلف طریقوں میں وہی مطلب رکھتے ہوئے دوبارہ لکھئے۔

اگر ایک طبعی عدد طاق ہے، تب اس کا مربع بھی طاق ہے

2.    ذیل بیانات کے مخالف اور برعکس لکھئے

(i)   اگر x ایک مفرد عدد ہے، تب x ایک طاق ہے۔

(ii)  اگر دو خطوط متوامی ہیں، تب وہ ایک ہی مستوی میں نہیں کاٹیں گے۔

(iii)  کوئی شئے ٹھنڈی ہے اس کا مطلب ہے اس کا درجہ حرارت کم ہے۔

(iv)   آپ جیومیٹری کو پوری طرح سے نہیں سمجھتے اگراستخراجی استدلال نہیں جانتے ۔

(v)۔   x ایک جفت عدد ہے نشاندہی کرتا ہے کہ 4xسے تقسیم ہوتا ہے۔

3. ذیل بیانات کو ’’اگر-تب‘‘ کی شکل میں لکھئے۔

(i)   آپ کو ملازمت مل جاتی ہے اس کا مطلب ہے کہ آپ کی دستاویز اچھی ہیں۔

(ii)  کیلے کے پیڑ پوری طرح پھل دار ہوجائیں گے اگر وہ انہیں ایک مہینہ گرمی ملے۔ 

(iii)  ایک چار ضلعی ایک متوازی الاضلاع ہے اگر اس کے وتر ایک دوسرے کی تنصیف کریں۔

(iv)  کلا 22 حاصل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ کتاب کی ساری مشقیں مکمل کریں۔

4 .    (a) اور (b) بیانات دیے گئے ہیں۔ نیچے دیے گئے بیانات کی مخالف یا ایک دوسرے کے برعکس طور پر شناخت کیجیے۔

(a)   اگر آپ دہلی میں رہتے ہیں، تب آپ کے پاس سردی کے کپڑے ہونے چاہیے۔

(i)  اگر آپ کے پاس سردی کے کپڑے نہیں ہیں، تب آپ دہلی میں نہیں رہیں۔

(ii)  اگر آپ کے پاس سردیوں کے کپڑے ہیں، تب آپ دہلی میں رہیں۔

(b)  اگر ایک چار ضلعی ایک متوازی اضلاع ہے، تب اس کے وتر ایک دوسرے کی تنصیف کرتے ہیں۔

(i)   اگر ایک چار ضلعی کے وتر ایک دوسرے کی تنصیف نہیں کرتے ہیں، تب چار ضلعی ایک متوازی اضلاع نہیں ہے۔

(ii)  اگر ایک چار ضلعی کے وتر ایک دوسرے کی تنصیف کرتے ہیں ، تب یہ متوازی اضلاع ہے۔

14.6  معتبری بیانات  (Validating Statements)

اس حصہ میں ہم بات چیت کریں گے جب کہ ایک بیان درست ہے۔ اس سوال کا جواب دینے کے لیے تمام ذیل سوالوں کا جواب دینا ہوگا۔

اس بیان کا کیا مطلب ہے؟ اس کا کیا مطلب ہوگا کہ یہ بیان درست ہے اور جب یہ بیان درست نہیں ہے؟

ان سوالات کے جواب اس بات پر منحصر ہیں کہ کون سے خاص الفاظ اور جزوجملہ ’’اور‘‘، ’’یا‘‘ اور کون سا اشارہ ’’اگر اور صرف اگر‘‘، ’’اگر تب‘‘ اور کون سا مقداریہ ’’ہر ایک کے لیے‘‘، ’’یہ وجود میں ہے‘‘ دیے ہوئے بیان میں ظاہر ہوتا ہے۔

یہاں ہم کچھ طریقوں پر بات چیت کریں گے یہ معلوم کرنے کے لیے جب کہ ایک بیان معتبر ہے۔ ہم کچھ عام اصولوں کی فہرست بنائیں گے یہ جانچ کرنے کے لیے کہ کیا بیان درست ہے یا غلط

اصول 1 اگر p اور q ریاضیاتی بیانات ہیں، تب ترتیب میں یہ دکھانے کے لیے کہ بیان’’p اور q‘‘ صحیح ہے، ذیل اقدام اٹھائے جائیں گے۔

قدم 1 دکھائیے کہ بیان p صحیح ہے۔

قدم 2 دکھائیے کہ بیان q صحیح ہے۔

اصول 2 ’’یا‘‘کے ساتھ بیانات

اگر p اور q ریاضیاتی بیانات ہیں، تب یہ دکھانے کے لیے کہ بیان ’’p یا q‘‘ صحیح ہے، ذیل پر غور کرنا چاہیے۔

کیس 1 یہ مانتے ہوئے کہ p غلط ہے، دکھائیے کہ q صحیح ہو۔

کیس 2 یہ مانتے ہوئے کہ q غلط ہے، دکھائیے کہ p صحیح ہو۔

اصول 3 بیانات ’’اگر-تب‘‘ کے ساتھ

یہ بیان ثابت کرنے کے لیے ’’اگر p تب q‘‘ ہمیں یہ دکھانے کی ضرورت ہے کہ ذیل کیس میں کوئی ایک صحیح ہے۔

کیس 1 یہ مانتے ہوئے کہ p صحیح ہے، ثابت کیجیے کہ q صحیح ہونا چاہیے۔ (سیدھا طریقہ)

کیس 2 یہ مانتے ہوئے کہ q غلط ہے، ثابت کیجیے کہ p صحیح ہونا چاہیے۔ (مخالف طریقہ)

اصول 4 ’’اگر اور صرف اگر‘‘ کے ساتھ بیانات۔

یہ ثابت کرنے کے لیے کہ ’’p اگر اور صرف اگر q‘‘ ہمیں دکھانے کی ضرورت ہے

(i)  اگر p صحیح ہے، تب q صحیح ہے اور (ii) اگر q صحیح ہے، تب p صحیح ہے۔اب ہم کچھ مثالوں پر غور کرتے ہیں۔

مثال 13  جانچ کیجیے کہ کیا ذیل بیان صحیح ہے یا غلط۔

اگرx,y∈Z اس طرح ہیں کہ x اور y طاق عدد ہے، تب xy طاق عدد ہے

حل  مان لیجیے p:x,y∈Z اس طرح ہیں کہ x اور y طاق ہیں

q:xy طاق ہے

دیے ہوئے بیان کی معتبری کی جانچ کرنے کے لیے، ہم اصول 3 کا کیس 1 پر عمل کرتے ہیں۔ وہ یہ ماننا ہوگا کہ اگر p صحیح ہے تو q صحیح ہے۔

p صحیح ہے کا مطلب ہے کہ x اور y طاق صحیح اعداد ہیں۔ تب

x=2m+1 کچھ صحیح عددmکے لیے۔y=2n+1کچھ صحیح عددnکے لیے۔ اس طرح

(xy=(2m+1) (2nm1

=2(mn+m+n)+1

یہ دکھاتا ہے کہxy طاق ہے۔ اس لیے، دیا ہوا بیان صحیح ہے۔

مان لیجیے ہم اس کی جانچ اصول 3 کا کیس 2 استعمال کرکے کرنا چاہتے ہیں، تب یہ ذیل طریقہ کے حساب سے آگے بڑھیں گے۔

ہم یہ مان لیتے ہیں کہ q صحیح نہیں ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں بیان q کے منفی پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یحہے بیان دیتا ہے۔

حاصل ضرب xy مثبت ہے:q~

یہ اس وقت ممکن ہے اگر صرف x جفت ہے یا y۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ p صحیح نہیں ہے۔ اس طرح ہم نے دکھایا ہے کہ q⇒~p~



Pic-8اوپر کی مثال یہ صورت حال بیان کرتی ہے کہp⇒qکو ثابت کرنے کے لیے ،یہ دکھانا کافی ہے کہp⇒~q~ جو کہ بیانp⇒qکا مخالف ہے۔


مثال 14   جانچ کیجئے کہ کیا ذیل بیان صحیح ہے یا غلط اس کا مخالف محیا کرانے کے بعد ۔ اگرx,y∈Zتاکہ  x yطاق ہے  ، تب دونوں  x  اور  y  طاق ہیں۔

حل  ـ ہم بیانات کو ایک نام دیتے ہیں جیسا کہ نیچے دیا گیا ہے۔

xy:pطاق ہے

q: دونوں x اور y طا ق ہیں۔

ہمیں یہ جانچ کرنی ہے کہ کیا بیانp⇒qصحیح ہے یا نہیں اس کے مخالف بیان کی جانچ کرنے سے یعنیp⇒~q~

اب~: یہ غلط ہے کہ دونوں xاور yطاق ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ x(یا y)جفت ہے تبx=2nکچھ صحیح عدد n  کے لیے

اس لیےxy=2nyکچھ صحیح عدد nکے لیے یہ ثابت کرتا ہیت کہ xyمثبت ہے وہ یہ کہp~صحیح ہے اس طرح، ہم نے دکھادیا ہے کہp⇒~q~


اور ا س لیے دیا ہوا بیان صحیح ہے۔

اب کیا ہو گا جب ہم ایک مخالف اور اس کے بر عکس کو ساتھ ملائیں گے؟ آپ، ہم اس پر بات چیت کریں گے۔

ہمیں ذیل بیانات پر غور کرنا چاہیے۔

p:ایک پانی کا برتن آدھا خالی ہے۔

q:ایک پانی کا برتن آدھا بھرا ہوا ہے۔

ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر پہلا بیان ہوا ، تو دوسرا بیان ہوگا اور ساتھ ہی اگر دوسرا بیان ہوگا، تب پہلا بیان ہوگا۔ ہم اس طرح اس حقیقت کو سمجھا سکتے ہیں۔

اگر ایک برتن آدھا خالی ہے، تب یہ آدھا بھرا ہوا ہے۔

اگر ایک برتن آدھا بھرا وہا ہے ، تب یہ آدھا خالی ہے۔

ہم ان دو بیانات کو جوڑتے ہیں اور ذیل حاصل ہے:

ایک برتن آدھا خالی ہے اگر اور صرف اگر آدھا بھرا ہوا ہے۔

اب ہم اسے دوسرے طریقے پر غور کرتے ہیں۔

14.5.1تضاد (الٹ) کے ذریعے (By Contradiction)

یہاں یہ جانچ کرنی ہے کہ کیا بیان pدرست ہے، ہم یہ مانتے ہیں کہ pصحیح نہیں ہے یعنی P~صحیح ہے۔ تب ہم ایک نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ہماری سوچ کے الٹ ہے۔ اس لیے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ pصحیح ہے۔

مثال15  تضاد (الٹ) کے طریقے سے تصدیق کیجئے

p:  38 ایک غیر ناطق عدد ہے۔

حل  اس طریقے میں ہم یہ مانتے ہیں کہ دیا ہوا بیان غلط ہے۔ اس کا مطلب ہم یہ مانتے ہیں کہ38 ایک ناطق عدد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کچھ مثبت صحیح اعداد aاور bموجود ہیں تاکہ39جہاں aاور bمیں کوئی مشترکہ جزوضربی نہیں ہے۔ مساوات کا مربع کرنے پر ہمیں حاصل ہوتا ہے40،  aکو تقسیم کرتا ہے۔ اس لیے ایک صحیح عدد ہے c وجود میں ہے تاکہa=7cتب a2=49c2 اورa2=7b2

اس لیےb,7b2=49c2⇒b2=7c2⇒7 کو تقسیم کرتا ہے۔ لیکن ہم پہلے ہی یہ ثابت کر چکے ہیں کہ 7، aکو تقسیم کرتا ہے۔ اس سے یہ ملتا ہے کہ 7،aاور bکا مشترکہ جزضربی ہے۔ جو ہمارے پہلے ماننے کے برعکس ہے کہ aاورbمیں کوئی مشترکہ جزوضربی نہیں ہے۔ اس سے یہ دکھائی دیتا ہے کہ ہمارا ماننا38ایک ناطق عدد ہے غلط ہے ۔ اس لیے 38ایک غیر ناطق عدد ہے صحیح ہے۔

 آگے، ہم ایک طریقے پر بات چیت کریں گے جس سے ہم ثابت کر سکیں کہ ایک بیان غلط ہے۔اس طریقے میں ایک مثال اس طرح کی شامل ہے جہاں بیان معتبر نہیں ہے۔ اس طرح کی مثال کو جوابی مثال کہا جاتا ہے۔ یہ نام بخود اس بات کی صلاح دیتا ہے کہ یہ مثال دیئے ہوئے بیان کے برعکس ہے۔

مثال15   ایک برعکس مثال دے کر ، ثابت کیجئے کہ ذیل بیان غلط ہے۔ اگرnایک طاق عدد ہے، تب nایک مفرد عدد ہے۔

حل دیا ہوابیان اس شکل کا ہے ’’اگرpتب q‘‘ ہمیں یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ غلط ہے۔ اس عمل کے لیے ہمیں یہ دکھانے کی ضرورت ہے کہ اگر pتبq~اسے ثابت کرنے کے لیے ہم ایک طاق صحیح عدد'n'کو دیکھتے ہیں جو کہ ایک مفرد عدد نہیں ہے۔9اسی طرح کا ایک عدد ہے۔ اس لیے n=9ایک برعکس مثال ہے۔ اس لیے، ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ دیا ہوا بیان غلط ہے۔


Pic-8 ریاضی میں، تردیدی مثالوں کا استعمال بیان کو ناثابت کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔حالانکہ بیان کے مواقف پیدا کی گئی مثالیں بیان کو معتبر حاصل نہیں کرا سکتیں۔


مشق:14.5 

1. دکھایئے کہ بیان 

p: اگر xایک حقیقی عدد ہے تاکہ 43ہے صحیح ہے بذریعہ 

(i) سیدھا طریقے سے (ii) تضاد (پلٹ) کے طریقے سے        (iii)  مخالف کے طریقے سے

2. دکھایئے کہ بیان ’’کہیں بھی حقیقی اعداد aاورbلکھئے44کا مطلب ہے کہ a=b‘‘دی ہوئی ایک پلٹ مثال سے صحیح نہیں ہے۔

3. مخالف طریقے کے ذریعے دکھائیے کہ ذیل بیان درست ہے۔

p: اگر xایک صحیح عدد ہے اور45ایک جفت ، تبxبھی جفت ہے۔

4. ایک مخالف مثال کے ذریعے ، دکھائیے کہ ذیل بیانات صحیح نہیں ہیں۔

(i)  p:اگر ایک مثلث کے تمام زاویے برابر ہیں، تب مثلث ایک منفرجہ زاویہ مثلث ہے۔

(ii)۔  q:  مساوات 46کے جذر 0اور2کے بیچ میں نہیں ہیں۔

5. ذیل میں کون سے بیانات صحیح ہیں اور کون سے غلط ؟ ہر حالت میں ایک معتبر وجہ بتایئے کہ ایسا کیوں ہے؟

(i)۔   p:دائرے کا ہر ایک نصف قطر دائرے کا قوسی وتر ہے۔

(ii)۔  q:  دائرے کا مرکزا دائرے کے ہر قوسی وتر کی تنصیف کرتا ہے۔

(iii)۔  r:  دائرہ، ناقص کا ایک خاص کیس ہے۔

(iv)۔  s: اگرxاورyصحیح اعداد ہیں جبکہ 47

(v)۔  t: 48ایک ناطق عدد ہے۔

متفرق مثالیں

مثال17  جانچ کیجئے کہ کیا مرکب بیان میں استعمال کیا گیا ہے ’’یا‘‘ غیر شمولی ہے یا داخلی؟ مرکب بیانات کے جزو ضربی بیانات کے لیے اور ان کا استعمال یہ جانچ کرنے کے لیے کیجئے کہ کیا مرکب بیان صحیح ہے یا نہیں۔اپنے جواب کی وضاحت کیجئے۔

t: آپ گیلے ہوتے ہیں جب بارش ہوتی ہے یا آپ دریا میں ہوتے ہیں۔

حل   دیئے ہوئے بیان میں ’’یا‘‘ کا استعمال داخلی ہے کیونکہ یہ ممکن ہے کہ جب بارش ہوآپ دریا میں ہوں۔

دیئے ہوئے بیان کے جز ترکیبی بیانات ہیں:

p: آپ گیلے ہوں جب بارش ہو۔

q: آپ گیلے ہوں جب آپ دریا میں ہوں۔

یہاں دونوں جزء ترکیبی بیانات صحیح ہیں اور اس لیے ، مرکب بیان صحیح ہے۔

مثال 18   ذیل بیانات کے منفی لکھئے:

(i)۔  p: اگر ایک حقیقی عدد'x'کے لیےx2<x-

(ii)۔  q:  ایک ناطق عدد xموجودہے تاکہ x2=2-

(iii)۔  r: تمام پر ندوں کے پر ہوتے ہیں۔

(iv)۔  s: بنیادی طورپر تمام طلباء ریاضی پڑھتے ہی۔ 

حل (i)۔  pکا منفی ہے ’’ یہ غلط ہے کہ p ہے‘‘ جس کا مطلب ہے کہ شرطx2<x تمام حقیقی اعداد کے لیے صحیح نہیں ہے۔ اسے اس طرح دکھا یا جائے سکتا ہے۔

P~ :ایک حقیقی عددxموجود ہے تاکہx2<x -

(ii)۔  qایک منفی ہے ’’یہ غلط ہے کہ q‘‘ ، اس طرح P~بیان ہے۔

P~: ایک ایسا ناطق عددxموجود نہیں ہے تاکہ x2<x -

اس بیان کو دوبارہ اس طرح بھی لکھا جا سکتا ہے۔

q~: تما م حقیقی اعداد xکے لیےx2≠2 -

(iii)  بیان کا منفی ہے۔

r~: ایک ایسا پرندہ موجودہے جس کے کوئی پر نہیں ہوتا

(iv)  دیئے ہوئے بیان منفیs~:ہے۔ ایک ایسا طالب علم وجود میں ہے جو بنیادی سطح پر ریاضی نہیں پڑھتا۔

مثال19   لفظ ’’ضروری اور کافی‘‘ کا استعمال کرکے بیان’’ صحیح عددnطاق ہے اگر اور صرف اگر n2طاق ہے‘‘ کو دوبارہ لکھئے۔ ساتھ ہی جانچ کیجئے کہ کیا بیان صحیح ہے۔

حل   ضروری اور کافی شرط کہ صحیح عددnطاق ہو یہ کہn2طاق ہونا لازمی ہے۔ مان لیجئے pاورqبیانات کو ظاہر کرتے ہیں۔

p:صحیح عددnطاق ہے۔

q: 55طا ق ہے۔

’’pاگرq‘‘ کی معتبری کی جانچ کرنے کے لیے ، ہمیں یہ جانچ کرنی ہوگی کہ کیا ’’اگر pتوq‘‘ اور ’’اگرqتوp‘‘ صحیح ہے۔

کیس1 اگرpتبq

 اگرp، تب qبیان ہے۔

اگر صحیح عددnطاق ہے ، تب n2 طاق ہے۔ ہم یہ جانچ کرنی ہے کہ کیا یہ بیان صحیح ہے۔ ہمیں مان لینا چاہیے کہ nطاق ہے۔ تب n=2k+1جہاں kایک صحیح عدد ہے۔ اس طرح

 2(n2=(2k+1

4k2+4k+1=

اس لیے ،n2ایک جفت عدد سے ایک زیادہ ہے اور اس لیے طاق ہے۔

کیس 2 اگر q، تبp

اگرq، تب pایک بیان ہے۔

اگرnایک صحیح عدد ہے اورn2طاق ہے، تب nطاق ہے۔

ہمیں یہ جانچ کرنی ہے کہ کیا یہ بیان درست ہے۔ ہم اس کی جانچ مخالف طریقے سے کرتے ہیں۔اس کا مخالف بیان ہے۔

اگر nایک جفت صحیح عدد ہے، تب n2ایک جفت صحیح عدد ہے۔

nجفت ہونے کا مطلب ہے کہn=2kکسی kکے لیے۔ تبn2=4k2 ، اس لیے ،n2 جفت ہے۔

مثال20  دیئے ہوئے بیانات کی شناخت کے لیے ضروری اور مکمل شرطیں 

t:اگر آپ  80کلومیٹر فی گھنٹے سے زیادہ رفتار سے گاڑی چلاتے ہیں ، تب آپ پر جرمانہ ہوگا۔

 حل   مان لیجئے pاورqبیانات کو ظاہر کرتے ہیں 

p:آپ80 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے زیادہ گاڑی چلاتے ہیں ۔

q:  آپ کو جرمانہ دینا ہوگا۔

نتیجہ یہ ہے کہ اگرp، تب qاشارہ دیتا ہے کہ p،qکے لیے کافی ہے۔اس کا مطلب ہے 80کلو میٹر فی گھنٹے سے زیادہ چلانا جرمانہ دینے کے لیے کافی ہے۔

یہاں ضروری شرط یہ ہے کہ ’’80کلو میٹر فی گھنٹے سے زیادہ چلانا‘‘۔

اسی طرح، اگرp، تب qبھی ظاہر کرتا ہے کہqضروری ہے pکے لیے ۔ وہ یہ

 جب آپ 80کلومیٹر فی گھنٹے سے اوپر چلائیں گے ، لازمی طور پر آپ پر جرمانہ ہوگا۔یہاں ضروری شرط یہ ہے کہ ’’جرمانہ ہونا‘‘

متفرق مشق باب 14 پر مشتمل 

1. ذیل بیانات کے منفی لکھئے:

(i)۔  p: ہر ایک مثبت حقیقی عددxکے لیے، عدد 60بھی مثبت ہے۔

(ii)۔  q: بلی کے ذریعے کیے گئے تمام خراشیں ۔

(iii)۔  r: ہر ایک حقیقی عددxکے لیے 61۔

(iv)۔  s: ایک عدد'x'موجودہے اس طرح کہ 62

2. ہر ایک ذیل بیانات کے لیے بر عکس اور مخالف بتایئے۔

(i)۔  p: ایک مثبت صحیح عدد مفرد ہے اگر اس کا مقسوم علیہ صرف '1'اور اس کے اپنے علاوہ وکوئی نہ ۔ 

(ii)۔  q: جب کبھی بھی گرم دن ہوتا میں سمندر کے کنارے جاتا ہوں۔

(iii)۔  r: اگر باہر گر می ہے، تب آپ کو پیاس محسوس ہوگی۔

3. ہر ایک بیانات کو ’’اگر p، تب qُُ ‘‘ کی شکل میں لکھئے۔

(i)۔  p: پاس ورڈ رکھنا ضروری ہے جب آپ سرور (sever) پر لاگ آن کریں۔

(ii)۔  q: جب کبھی بھی بارش ہوتی ہے، ٹریفک جام ہو جاتا ہے۔

(iii)۔  r: آپ ویب سائٹ (Web site) کا اسی وقت استعمال کرسکتے ہیں اگر آپ اس کے استعمال کرنے کی فیس دیتے ہیں۔

4. ہر ایک ذیل بیانات کو’’pاگراورصرف اگرq‘‘ کی شکل میں دوبارہ لکھئے۔

(i)۔ p: اگر آپ ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں، تب آپ کا دماغ آزاد ہے اور اگر آپ کا دماغ آزاد ہے، تب آپ ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں۔

(ii)۔q: آپ کے لیے 'A'گریڈ حاصل کرنے کے لئے ، یہ ضروری اور کافی ہے کہ آپ اپنا گھر کا کام باقاعدگی سے کریں۔

(iii)۔r:اگر ایک چار ضلعی مساوی الزاویہ ہے، تب یہ ایک مستطیل ہے اور اگر ایک چار ضلعی ایک مستطیل ہے۔تب یہ مساو ی الزاویہ ہے۔

5. نیچے دو بیانات دیئے گئے ہیں۔

p:۔ 25، 5کا ضعف ہے۔

q:۔25،8 کا ضعف ہے۔

ان دونوں بیانات کو ’’اور‘‘ اور ’’یا‘‘ سے جوڑ کر مرکب بیانات کی شکل میں لکھئے ۔ دونوں حالتوں میں مرکب بیان کی معتبری کی جانچ کیجئے۔

6. نیچے دیئے گئے بیانات کی ان کے سامنے دئے گئے طریقے سے معتبری کی جانچ کیجئے۔

(i)۔  p: ایک غیر ناطق عدد اور ایک ناطق عدد کا مجموعہ غیر ناطق ہے (تضادطریقے کے ذریعے) 

(ii)۔  q: اگر nحقیقی عدد ہے x>3کے ساتھ، تبn2>9(تضاد طریقے کے ذریعے)

7. ذیل بیانات کو پانچ مختلف طریقوں سے لکھئے ، وہی مطلب برقرار رکھتے ہوئے 

p: اگر ایک مثلث مساوی الزاویہ ہے، تب یہ ایک منفرجہ زاویہ مثلث ہے۔


(Summary)خلاصہ
۰ ریاضیاتی طور پر منظور شدہ بیان ایک جملہ ہے جو کہ یاتو صحیح ہے یا غلط۔
۰ ارکان کی وضاحت کیجئے۔
ایک بیان pکا منفی :اگرpایک بیان کو ظاہر کرتا ہے، تب pکا منفی p~ سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ 
مرکب بیانات اور ان سے متعلق اجزائے ترکیبی بیانات :
ایک بیان ایک مرکب بیان ہے اگر یہ دویا دوسے زیادہ چھوٹے بیانات سے مل کر بنا ہے۔
چھوٹے بیانات کو مرکب بیان کے اجزائے ترکیبی بیانات کہا جاتا ہے۔
’’اور‘‘ ، ’’یا‘‘ وجود میں ہے‘‘ اور ’’ہرایک کے لیے ‘‘ کا کردار مرکب بیانات بنانا ہے۔
اشاروں کے معنی ،’’اگر‘‘، ’’اگر صرف‘‘،’’اگر اور صرف اگر‘
ایک جملہ اگر p،تب qکے ساتھ ذیل طریقوں سے لکھا جاسکتا ہے۔
pمطلبq
 (p⇒qسے ظاہر کیا جاتاہے۔)
qکے لیےpایک حسب ضرورت کافی شرط ہے۔
pاگر صرف q
 q~ نشاندہی کرتا ہے p⇒~q~ 
ایک بیان  p⇒q کا مخالف بیان p⇒~q~ہے۔ ایک بیان q⇒pکا برعکس  q⇒pہے q⇒pاپنے برعکس کے ساتھ pاگر اور صرف اگر qدیتا ہے۔
۰ ذیل طریقے بیانات کی معتبری کی جانچ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
(i)   سیدھا طریقہ
(ii)  مخالف طریقہ
(iii)  تضاد کا طریقہ
(iv)  پلٹ مثال استعمال کر کے



تاریخ کے اوراق سے

منطق (Logic) پر پہلا مقالہ ارسٹوٹل( Aristotle ۔ 322B.C۔384B.C)نے لکھاتھا کہ یہ اصولوں کا مجموعہ استخراجی استدلال کے لیے تھا جس نے بنیادی طور پر ہر شعبہ کی معلومات کے مطالعہ میں ساتھ دیا۔ بعد میں سترہویں صدی میں جرمنی ریاضی داں جی۔ ڈبلو۔ لیبنیز ) (1646-1716 (G.W. Leibnitz)نے علامتوں کا استعمال کے اس سوچ کو منطق میں استخراجی توجیہ کے عمل کو اور تیز کر دیا ۔ جارج بولے(1815-1864 A.D.)۔ George Boole  انگریزی ریاضی داں اور آگسٹس ڈی ۔ مارگن (1806-1871 A.D.)۔ Augutus De Morganنے انیسویں صدی میں اس کے تصور کو پہچانا، جس نے جدید مضمون ’’علامتی منطق‘‘ کی بنیاد ڈالی۔