Skip to content
nawa e urdu Chapter-1

حصّۂ نثر

  مختصر مضمون

اردو میں مختصر مضمون نگاری کا آغاز سر سیّد سے ہوتا ہے۔ انھوں نے اس صنف کو سماجی اصلاح کے ایک وسیلے کے طورپر استعمال کیا۔ اس کے بعد مضمون نگاری بھی ایک صنف کی حیثیت سے رائج ہوگئی۔ سماجی موضوعات کے علاوہ علمی، ادبی، فلسفیانہ، سائنسی،سوانحی اور دیگر موضوعات پر بھی مضامین لکھے گئے ہیں۔ حالیؔ،شبلیؔ، محمد حسین آزادؔ، نذیر احمد، میرناصر علی، نیازفتحپوری،  رشید احمد صدیقی، مرزافرحت اللہ بیگ، ابوالکلام آزاد، خواجہ غلام السیّدین وغیرہ اردو کے اہم مضمون نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔

مختصر مضمون کی ایک شکل انشائیہ کہلاتی ہے۔ انشائیہ اور مضمون میں کوئی خاص فرق نہیں۔ لیکن عام طور پر انشائیہ میں مزاح اور طنزیا خوش مزاجی کا رنگ ہوتا ہے اور انشائیہ نگار اکثر باتیں اپنے حوالے سے یا اکثر اپنے ہی بارے میں بیان کرتا ہے۔

 خواجہ معین الدّین چشتیؒ

ہندوستان ایک عظیم ملک ہے۔اس کی گنگاجمنی تہذیب کودنیامیں قدرکی نگاہ سے دیکھاجاتاہے۔ ہرمذہب کے ماننے والے یہاں صدیوں سے مِل جُل کررہتے آئے ہیں۔ مذہب،تہذیب اور زبان کے فرق کے باوجود سبھی لوگ ہندوستانی ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ ہر زمانے میں یہاں ایسے بزرگ، صوفی،سنت اور رشی مُنی پیدا ہوئے ہیں جنھوں نے انسانوں کو بھائی چارے، محبّت اور امن کا پیغام دیا ہے۔ ایسی ہی نیک اور بزرگ ہستیوں میں ایک نام حضرت خواجہ معین الدّین چشتیؒ کا بھی ہے۔ وہ ایران کے ایک شہر سنجر میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ نوبرس کی عمر میں قرآن کریم حفظ کیا۔ وہ اپنے والد محترم کے ہمراہ سنجر سے ہجرت کرکے خراسان آگئے جہاں اچانک ان کے والد کا انتقال ہوگیا اور کچھ دن بعد ہی والدہ محترمہ بھی وفات پاگئیں۔
 خواجہ صاحب نے مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے دوٗردراز کے سفرکیے۔ عالموں اور بزرگوں سے فیض حاصل کیا۔ تیس سال تک علم حاصل کرنے میں مصروف رہے اور شہر شہرگھومتے ہوئے وہ شہر ہرون پہنچے یہاں ان کی ملاقات حضرت خواجہ عثمانؒ سے ہوئی۔ معین الدین چشتیؒ نے انھیں اپنا پیرومرشد بنالیا۔ تقریباً بیس برس اپنے پیرومرشد کی خدمت رہے۔ رخصت کے وقت مرشد نے انھیں نصیحت کی ’’سرمایہ داروں سے تعلق نہ رکھنا اور ہمیشہ آبادی سے دور قیام کرنا‘‘۔ خواجہ صاحب نے آخری سانس تک اس نصیحت پر عمل کیا اور وہ پیر مرشد سے رخصت ہوکر مکّہ مکرّمہ اور مدینہ منوّرہ تشریف لے گئے۔ مدینہ شریف میں انھیں بشارت ہوئی کہ ’’ہندوستان جاکردین کی تبلیغ کرو اور بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہ دکھاؤ۔‘‘ یہ حکم ملتے ہی وہ بغداد، ہمدان، اصفہان، ہرات، سبز وار اور ملتان ہوتے ہوئے لاہور پہنچے۔ وہاں کچھ دن حضرت خواجہ داتا گنج بخشؒ کے مزار پر قیام کے بعد دہلی آگئے اور یہاں رہ کر اپنے کردار وعمل سے لوگوں کو متاثر کرنے لگے۔ اس کے بعد جب اجمیر پہنچے تو اُن کی نیکی اور بزرگی کا چرچا دوردورتک پھیل گیا۔ انھوں نے بھٹکے ہوئے لوگوں کو حق وانصاف،برابری، انسانیت اور محبت کا درس دیا۔ ان کی تعلیمات نے دکھی انسانوں کے دلوںکو موہ لیا۔ وہ بیماروں کے مسیحا اور غریبوں کے سچے ہمدرد تھے۔ جو کچھ ان کے پاس آتا وہ اُسے غریبوں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کردیتے تھے۔ اسی مناسبت سے انھیں ’’غریب نواز‘‘ کہا جانے لگا۔
خواجہ صاحب کا قول تھا کہ-
’’مصیبت کے مارے دکھی انسانوں سے ہمدردی کرنا اور ان کے غم میں شریک ہونا، ہزاروں عبادت سے بڑھ کرعبادت ہے۔ جو شخص بھوکے کو کھانا کھلائے،پیاسے کو پانی بلائے اور ننگے کو کپڑا پہنائے خدااُسے دوست رکھتا ہے۔ اپنے کسی بھائی کو بے عزّت کرنا یا حقیر سمجھنا سب سے بڑا گناہ ہے۔‘‘
ان کی تعلیمات سے متاثّر ہوکر بابا گرونانگ نے کہاتھا کہ ’’ نجات حاصل کرنے کے لیے ہر فرد کو ان کی تعلیمات کے بغور مطالعے اور عمل کی ضرورت ہے۔‘‘ مہاتما گاندھی نے 1933ء میں خواجہ صاحب کی درگاہ اجمیر میں حاضری دی اور کہا، ’’یہاں آکر میری روح کو بڑا چین ملا ہے، افسوس کہ ہم خواجہ صاحب کی زندگی کو آدرش نہیں بناتے‘‘۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے خواجہ کے دربار میں حاضری دے کر کہا تھا، ’’ ایسے ہی مقدّس مقامات سے ہندومسلم اتّجاد کا عملی درس حاصل کیا جاسکتا ہے۔‘‘
خواجہ صاحب نے انسانیت، محبّت اور اخلاق کا جو چراغ جلایا تھا وہ آج بھی روشن ہے۔ ان کی تعلیمات آج بھی قابلِ تقلید ہیں۔ ان سے متاثر ہونے اور عقیدت رکھنے والوں میں ہرفرقے اور مذہب کے لوگ شامل ہیں۔ ان کا عُرس اجمیر میں ہر سال منایا جاتا ہے جس میں ہندوستان اور دوسرے ملکوں کے لوگ لاکھوں کی تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔
(ادارہ)

مشق

  • لفظ ومعنی:

عظیم                        :          بڑا
رشی مُنی                  :          سادھو سنت
صوفی                       :         نیک، پارسا
علوم                        :         علم کی جمع
پیرومرشد                 :        استاد، بزرگ
بشارت                     :          غیبی ہدایت
تبلیغ                         :        دین کی باتیں لوگوں تک پہنچا نے کا کام
موہ لینا                    :         لُبھا نا، متوجہ کرنا
آدرش                      :        مثالی نمونہ
مسیحا                         :       حضرت عیسٰیؑ کا لقب جو مُردوں کو زندہ یا بیماروں کو اچھّا کردیتے تھے۔
تقلید                        :        نقل، پیروی
نجات                       :        چُھٹکارا
عرس                       :      صوفیوں کے مزارات پر ادا کی جانے والی سالانہ رسمیں

  • سوالات:

1.   خواجہ غریب نواز کہاں پیدا ہوئے؟
2.   خواجہ صاحب کے پیرومرشد کون تھے اور کہاں کے رہنے والے تھے؟
3.   خواجہ صاحب کو ’’غریب نواز‘‘ کیوں کہا جاتا ہے؟
4.   خواجہ صاحب کو کیا بشارت ہوئی تھی؟
5.   خواجہ صاحب کی تعلیمات کیا ہیں؟
6.   گرونانک نے خواجہ صاحب کے بارے میں کیا کہا ہے؟

  • زبان و قواعد:

حق وانصاف پیرومرشد

ان لفظوں میں واؤ ’و ‘ کا استعمال دولفظوںکو جوڑنے کے لیے کیا گیا ہے اسے ’واوِعطف‘ کہتے ہیں۔ اس واؤ ’و ‘ کے معنی ہیں ’اور‘ یہ واوِعطف دومفرد کلموں کو آپس میں جوڑنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
آپ بھی اس طرح کی تین مثالیں پیش کیجیے۔
نیچے لکھے ہوئے جملے میں اسم خاص کی نشاند ہی کیجیے:
’’یہ حکم ملتے ہی وہ بغداد،ہمدان،اصفہان،ہرات،سبزوار اور ملتان ہوتے ہوئے لاہور پہنچے۔‘‘

  • غور کرنے کی بات:
  • گنگا اور جمنا ہندؤں کے دومقدس دریاؤں کے نام ہیں۔ گنگا جمنی تہذیب سے مراد مسلمانوں اور ہندؤں کا ان دریاؤں کی طرح مل کر رہنا ہے۔
    ٭   خواجہ صاحب کی درگاہ پر ہندومسلمان سکھ اور عیسائی سبھی جاتے ہیں۔ یہاں کسی قسم کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ اس لیے اس درگاہ کو ہم گنگا جمنی تہذیب کی ایک اہم علامت قراردے سکتے ہیں۔

  • عملی کام:
  •              ہندوستان کے دوسرے اہم صوفیوں کے بارے میں معلومات جمع کیجیے۔