Skip to content
nawa e urdu Chapter-1

2

انشائیہ


لفظ انشا اردو میں کئی طرح سے استعمال ہوتا ہے۔ انشائیہ بھی اسی لفظ سے بناہے۔
ابتدا میں مضمون نگاری اور انشائیہ نگاری میں زیادہ فرق نہیں تھا مگر رفتہ رفتہ ان میں فرق پیدا ہوتا گیا، یہاں تک کہ انشائیہ ایک علاحدہ صنف قرارپائی۔ انشائیہ نگار اپنے مخصوص ذاتی مشاہدات اور تاثرات کو بے باکی اور بے تکلفی سے بیان کرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انشائیہ میں سنجیدہ اور غیر سنجیدہ موضوعات سے متعلق خیال کے تمام مرحلے خوش طبعی کے ساتھ طے کیے جاتے ہیں۔ یہ بات میں بات پیدا کرنے کا فن ہے۔ انشائیہ نگار مفہوم سے خالی گفتگو میں بھی معنی پیدا کردیتا ہے لیکن کبھی کبھی اس کے برعکس بھی ہوتا ہے۔ اختصار اس کی پہچان ہے۔ اس میں مزاح یا ٹھٹھول کی جگہ ہلکی پھلکی زیرِ لب ہنسی پنہاں ہوتی ہے۔ خیال آفرینی اس کی ایک اہم خوبی ہے۔
اردو میں انشائیے کی ابتدا سر سید احمد کے رسالے ’’تہذیب الاخلاق‘‘ سے ہوتی ہے۔ مولوی نذیر احمد اور ذکاء اللہ کے بعد ’’اودھ پنچ‘‘ اور ’’مخزن‘‘ نے اسے فروغ دیا۔ میر ناصر علی، سجاد حیدر یلدرم، سلطان حیدر جوش، سجاد انصاری، نیاز فتح پوری، مہدی افادی، فرحت اللہ بیگ، قاضی عبدالغفّار، پطرس بخاری، سید محفوظ علی بدایونی، خواجہ حسن نظامی، رشید احمد صدیقی اور مشتاق احمد یوسفی نے اس صنف کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
pic 3 chapter 2

 رشید احمد صدیقی

 (1896 — 1977)

رشید احمد صدیقی جون پور کے رہنے والے تھے۔انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم۔اے کیا اور اسی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں  تدریس سے وابستہ ہو گئے۔
رشید احمد صدیقی کا شمار اردو کے مقبول ومعروف انشاپر دازوں میں ہوتا ہے۔وہ ایک صاحب طرز نثر نگار تھے۔انھوں نے خالص مزاح کی ایک قابل قدر مثال قایم کی ہے۔انھیں بات سے بات نکالنے کا غیر معمولی ہنر آتا ہے۔طنز اُن کے مضامین میں آٹے میں نمک کی حیثیت رکھتا ہے۔رشید صاحب نے کئی قابل ذکر شخصیتوں پر خاکے بھی لکھے تھے۔ ان خاکوں کی سب سے بڑی خوبی ان کی شگفتہ بیانی ہے۔’ہم نفسانِ رفتہ‘ ان کے خاکوں کا مجموعہ ہے۔ ’مضامینِ رشید،’گنج ہائے گراں مایہ‘، ’خنداں‘ وغیرہ ان کے مضامین کے مجموعے ہیں۔

مسجد کا قیدی

بچّو! بہت دن کی بات ہے۔ جب میں تم سے بھی چھوٹا تھا۔ شاید تمھارے چھوٹے بھائی کے برابر۔ میرا خیال ہے کہ میں نے شرارت کبھی نہیں کی لیکن تم سے کیا چھپانا۔بے وقوفیاں البتہ ایسی کی ہیں کہ اور تو اور تم بھی میری بے وقوفی پر ہنس پڑوگے اور ہنس نہ سکو تو سمجھ لینا کہ بوڑھا ہونے پر بھی میں بے وقوف ہی رہا جو تعجّب کی بات نہیں ہے یا پھر تم بچّے سے زیادہ بوڑھے ہو جو افسوس کی بات ہے۔ کیا ہنسنے کے لیے تم مجھ سے بھی بڑے بے وقوف کے منتظر ہو؟ ہنسنے کے لیے کسی بے وقوف کا انتظار کرنا بھی ہنسی کی بات ہے۔
pic 4 chapter 2
بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کبھی کسی پر نہیں ہنستے۔ یہ ایسے بد قسمت ہیں کہ اتفاق سے یہ ہنس پڑیں تو دوسرے ان پر ہنسنے لگتے ہیں۔ کچھ لوگ ہنسی میں ان کو فلسفی کہتے ہیں لیکن مجھے اِن باتوں سے کیا مطلب کہ کون فلسفی ہے۔ مجھے تو صرف اتنا معلوم ہے کہ بچّے فلسفی نہیں ہوتے۔ میں بے وقوف ہوں اسی لیے عقل مندی سیکھنے کے لیے لوگ میرے پاس آتے ہیں۔
بچو! تم بڑے ہوگے تو تم کو ایسے بہت سے عقل مند ملیں گے جنھوں نے بے وقوفوں سے بے وقوفی سیکھی ہے۔
میں نے شرارت کبھی نہ کی، اس لیے ماں باپ کے ہاتھ کبھی پٹا نہیں۔ لیکن بے وقوفی کے سلسلے میں مجھے بعض ایسی سزائیں بُھگتنی پڑیں کہ تم سن کر ہنس پڑوگے۔ میں جہاں رہتا تھا اس کے قریب ہی ایک ٹوٹی مسجد تھی جس میں بہت سے چمگادڑ تپسّیا میں الٹے لٹکے رہتے تھے۔ کچھ بے ٹونٹی کے لوٹے جہاں تہاں رکوع اور سجود میں نظر آتے تھے۔ کسی زمانے میں مسجد کے گرد احاطہ بھی تھا جس کی دیواریں گر چکی تھیں۔ لیکن سامنے کا دروازہ قائم تھا جس میں کواڑ اور کنڈی بھی تھی۔ گھر کا ایک ملازم تھا ’فضلو‘ نہایت دُبلا پتلا، اس کے ہاتھ ایسی لکڑی سے بنے معلوم ہوتے تھے جس پر سے سوکھی چھال علاحدہ نہ کی گئی ہو۔ خاموش، جھکا ہوا، بالکل اسی ٹوٹی مسجد کی مانند۔ کبھی کبھی میں اسے پسند بھی کرتا تھا لیکن آگے چل کر تمھیں معلوم ہوگا کہ میں اس سے کیوں بیزار ہوگیا۔
والدہ کی تاکید تھی، بڑے بھائی کا نام نہ لیا کرو۔ اس زمانے میں اپنے سے بڑے بھائی کا نام لینا اور رشتے یا تعظیم کا کوئی لفظ شامل نہ کرنا بد تمیزی خیال کیا جاتا تھا۔ بڑے بھائی کا پیار کا نام ’صمنا‘ تھا۔ اکثر غصّے میں ان کو صمنا کہہ دیتا۔ اس کی شکایت ہوتی تو ماں باپ مجھے سمجھاتے اور بُرا بھلا کہتے۔ چنانچہ معلوم نہیں کیوں اور کیسے میں یہ سمجھنے لگا کہ صمنا نام نہیں بلکہ کوئی گالی یا بدتمیزی ہے۔
ایک دن بھائی صاحب کی شکایت کرنے ماں کے پاس پہنچا، بے وقوف ہونے کے علاوہ میں کمزور اور مریض بھی تھا۔ اس لیے ہر شکایت روکر پیش کرتا۔ یہی نہیں بلکہ روتا زیادہ اور شکایت کم کرتا۔ والدین سمجھنے لگے کہ جب تک میں رونے کا کورس پورا ختم نہ کرلوں گا مطلب کی بات زبان پر نہ آنے دوں گا۔ اس لیے میرے رونے کی طرف توجہ نہ کرتے۔ اس سلوک سے ظاہر ہے کہ مجھے اور زیادہ رونا پڑتا۔ رونے میں میرا کچھ بگڑتا نہ تھا اور ظاہر ہے کہ اس طرح رونے سے میں کسی اور کا بھی کچھ نہ بگاڑ سکتا تھا۔ اس لیے میرے رونے کی مدّت ہمیشہ بڑھتی رہی لیکن جلدہی مجھ پر یہ بھید کُھلا اور آنکھیں کھلیں (میں آنکھیں بند کرکے روتا تھا) کہ اس طرح روتے رہنے میں اتنی دیر لگ جاتی ہے کہ شکایت کرنا ہی بھول جاتا ہوں۔ اس طرح نہ جانے کتنی میری معصوم شکایتوں کا خون ہوتا رہا اور مجھے کانوں کا ن خبر نہ ہوئی۔ باوجود اس کے کہ میں کافی اونچے سُروں میں روتا تھا۔
آخرمیں مجھے کچھ ایسا معلوم ہونے لگا تھا کہ میرے رونے کا تال سُر ٹھیک نہ تھا اس لیے کہ میرے رونے پر لوگ ہمدردی کرنے کے بجائے ہنسنے لگتے تھے اور پیٹھ پیچھے ہنستے تو ایسا کچھ بُرا بھی نہ تھا۔ رونا تو اس کا تھا کہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہنستے۔ اسی لیے میں نے خاص طور پر آنکھیں بند کر کے رونا شروع کردیا تھا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تال سُر سے رونا بہتر ہے۔ میں تو صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کسی کے رونے پر ہنسنا اچھّی بات نہیں اور کسی کے ہنسنے پر رونا تو اور زیادہ ہنسی کی بات ہے۔ لیکن میں بے وقوف ہوں۔ میری اپنی ذمہّ داریاں کم ہیں کہ میں دوسروں کے رونے ہنسنے پر دیر تک سوچوں اور سوچنے سے یوں بھی بے وقوف ہمیشہ خسارے میں رہتا ہے۔
والد صاحب کے پاس شکایت لے کر پہنچنے کا قصّہ یہ ہے کہ میں نے بھائی صاحب کی کتاب پھاڑ ڈالی ہوگی۔ گو اس وقت تک مجھے کاپی کتاب سے کوئی سرو کار نہ تھا۔ یہ بات کسی اور کے سمجھ میں آتی ہو یا نہیں۔ میری سمجھ میں خوب آتی ہے کہ کتاب پھاڑنے کا بدلہ کتاب پھاڑنے سے ہی لیا جاسکتا تھا۔ میں اگر معصوم ذہن پر زور ڈالتا تو یہ بھی ممکن تھا کہ بھائی صاحب کی کتاب نہ ملتی تو میں کسی اور کی کتاب پھاڑ ڈالتا۔
جب تک میں روتا رہا والدہ خاموش رہیں۔ میں یہ سمجھا کہ میرے رونے کا اثر ہورہا ہے اس لیے میں نے اس سلسلے کو جاری رکھا۔ نتیجہ وہی ہوا جو میں بتا چکا ہوں یعنی رونے کا کورس ختم ہوگیا اور میں وہ بات بھول گیا جس کے لیے رونا شروع کیا تھا والدہ نے پوچھا:
’’کیا بات تھی؟‘‘ تو بجائے بات یاد آنے کے مجھے رونا یاد آگیا لیکن یہ دیکھ کر کہ وہ پھر دوسری طرف متوجّہ ہوگئیں۔ میں نے چیخ کر کہا کہ بھائی صاحب نے مجھے گالی دی ہے۔ والدہ کو گالی سے بڑی نفرت تھی۔ اکثر کہا کرتیں کہ گالی سے بہتر مارپیٹ ہے۔ والدہ کا یہ کہنا مجھے یاد تھا۔ ایک دفعہ میں نے اس پر عمل بھی کیا لیکن جلد ہی معلوم ہوگیا کہ مارپیٹ یک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ ہوتی ہے اور جہاں اس طرح کا دوطرفہ کاروبار ہو وہاں مجھ جیسا بے وقوف (جس کا ذہن ایک طرفہ ہوتا ہے) ہمیشہ گھاٹے میں رہے گا۔ بھوت اور بے وقوف دونوں کے بزرگوں نے مار پیٹ سے بچنے کی بڑی قیمتی وصیتیں چھوڑی ہیں۔
بھائی صاحب بُلائے گئے اور ان سے جواب طلب کیا گیا۔ الزام سُن کر وہ ہکّا بکّا رہ گئے پھر بولے ’’اِنھیں سے پوچھیے میں نے کب کون سی گالی دی ہے۔‘‘ میں نے ایک نعرہ لگا کر کہا۔محسوس ہورہاہے۔ لیکن یہ دیکھ خود ہکّا بکّا رہ گیا کہ سارے گھر والوں نے میرے نعرے سے کہیں بلند قہقہہ لگایا۔ اس کے بعد بھائی صاحب نے میرے خلاف اپنی کتاب پھاڑ ڈالنے کا جو الزام لگایا اس پر مجھے سزا دی گئی۔ فضلو بلایا گیا اور ہدایت کی گئی کہ مجھے لے جاکر ٹوٹی ہوئی مسجد میں بند کردیا جائے۔ جہاں مجھے سیار کھاجائے گا۔ وہ مجھے پیٹھ پر لاد کر مسجد میں لایا اور اندر ڈھکیل کر صدر دروازے کی کنڈی باہر سے چڑھا دی۔ میں دیر تک روتا، شور مچاتا رہا اور دروازے کو دھکّے دیتا رہا۔ اس میں شک نہیں کہ آس پاس کی دیواریں گری ہوئی تھیں اور میں کسی بھی طرف سے باہر نکل سکتا تھا لیکن میرے ذہن میں یہ بات کس طرح آسکتی تھی اور آتی بھی تو میں اسے مان کیوں لیتا کہ جس دروازے سے مجھے مسجد میں داخل کیا گیا نکلنے کے لیے میں اس کے بجائے کوئی اور دروازہ کھولتا۔ میں بتا چکا ہوں کہ میرا ذہن یک طرفہ تھا۔ قاعدہ کی بات یہ ہے۔ اور بے وقوف سے زیادہ قاعدے کا پابند کون ہوسکتا ہے؟ جس راستے سے داخل ہوں، اسی راستے سے نکلیں۔ اگر وہ راستہ بند ہے تو قصور اس راستے کا ہے۔ اُسے کھُلنا چاہیے اور میں یہی کوشش بھی کررہا تھا۔
کچھ جوان، بوڑھے اس طرف سے گذرے اور انھوں نے مجھے بتایا کہ ہر طرف سے دیواریں گری ہوئی ہیں۔ جدھر سے چاہوں نکل جاؤں لیکن میری لڑائی تو دروازے سے تھی۔ میں ان سے صلح کی بات کیسے کرتا اور کیوں کرتا؟ تھوڑی دیر بعد میری ہی عمر کا ایک لڑکا بھی آیا اس نے وہی بات بتائی جو اوروں نے بتائی تھی۔ اس کی عمر اور گستاخی دیکھ کر میں نے اس پر ایک ڈھیلا پھینکا جس کا اس نے قہقہے سے جواب دیا۔ میں آپے سے باہر ہوگیا۔ ساتھ ہی ساتھ لڑکے سے نبٹنے کے لیے مسجد سے بھی باہر ہوگیا۔ لیکن لڑکا بھاگ گیا اور میں پھر مسجد کے اندر دروازے سے جالگا۔
کافی دیر بعد فضلو نے دروازہ کھولا اور میں باہر گیا اور پیدل واپس آگیا اور فضلو کے کہنے پر بھی نہ تو اس کی گود میں گیا اور نہ اس کی انگلی پکڑی۔
میں اپنی ہر بے وقوفی پر مسجد میں قید کیا جاتا۔ سیار کبھی نظر نہ آیا۔ البتہ مجھے فضلو سے نفرت ہوگئی اور اس پر خدا کا شکر کیا کرتا کہ اس نے میرے لیے مسجد کو سیار بنادیا تھا، فضلو کو نہیں۔ میں اس کی بھی دُعا مانگا کرتا تھا کہ خدا وہ دن نہ لائے جب میں فضلو کو اپنی پیٹھ پر بٹھا کر مسجد میں قید کرآؤں۔ جب تک میں مسجد میں قید رہا۔ میرے دل میں اس کتاب کے بارے میں طرح طرح کے خیالات پیدا ہوتے رہے۔ مثلاً یہ کہ میں نے کتاب ضرور پھاڑ دی لیکن وہ پھٹی کیوںَ اور پھٹ بھی گئی تو جُڑ کیوں نہ گئی۔ پھٹ جانے سے اس کا کیا فائدہ ہوا اور جُڑ جاتی تو اس کا کیا بگڑ جاتا۔ یہ سارے لوگ میرے پیچھے تو ڈنڈا لیے پھرتے ہیں اور ایک آدھ مار بھی دیتے ہیں لیکن کتاب کو کچھ نہیں کہتے۔
مجھے مٹّی اور فضلو کو چغلی کھانے کا بڑا شوق تھا۔ مٹّی کھانے میں بڑا مزا آتا تھا یہ مزہ فضلو کے چغلی کھانے سے کرکرا ہوجاتا تھا۔ کبھی کبھی مٹّی بھی کرکری ہوتی ہے۔ مٹی کھانے پر والد صاحب نے ایک دن میرے دونوں کان پکڑ کر مجھے اتنا اونچا کردیا جتنا میں اب ہوں۔ میرے لیے یہ تجربہ بالکل نیا تھا اور تکلیف دہ بھی۔ خاص طور پر ایسی حالت میں جب کہ مٹّی منہ میں ہو، زبان باہر ہو۔ والدہ نے دوڑ کر مجھے زمین پر آنے سے پہلے ہی سنبھال لیا۔ میں نے اس وقت خیال کیا کہ جب اپنا کان دوسرے کے ہاتھ میں ہو اور پاؤں ہوا میں تو ماں کی گود سب سے اچھّی چیز ہوتی ہے۔
اب میں نے فضلو سے بدلہ لینے کی ٹھانی۔ میں جانتا تھا کہ کتنا ہی چُھپ کر کوئی بات کیوں نہ کروں فضلو کو ضرور خبر ہوجائے گی۔ عجب طرح کی فکر تھی۔ فضلو کا ڈر۔ بدلہ لینے کی دُھن۔ مٹّی کھانے کی چاٹ۔ یہ تین بلائیں ایک طرف اور دوسری طرف ایک میں بے وقوف۔ میں سوچتا رہا۔
مٹّی کھالینے کے بعد ڈر پیدا ہوا، ڈر سے بزدلی۔ فضلو سورہا تھا، پگڑی سرہانے رکھی تھی۔ میں نے چُپکے سے جاکر اس کی پگڑی سے اپنا منھ صاف کیا۔ مٹّی کے دھبّے دیکھ کر جی خوش ہوگیا کہ فضلو سے بدلہ لے لیا۔ کچھ دیر ٹھہر کر دل ہی دل میں خوش ہوا لیکن جلد ہی کچھ ایسا معلوم ہونے لگا جیسے یہ دھبّے عجیب عجیب طرح منھ بنا کر فضلو سے شکایت کررہے ہوں۔ میں وہاں سے بھاگا گھر میں سب سورہے تھے۔ ماں کی چارپائی پر لیٹ گیا اور آنکھیں بند کرلیں لیکن فضلو کی پگڑی کے دھبّے ناچتے تھرکتے قلابازیاں کھاتے آنکھیں بند کرنے پر بھی دکھائی دینے لگتے۔ بچّو! تم کو نہیں معلوم جس چیز کو دیکھنا نہ چاہو اور وہ آنکھ بند کرنے پر بھی دکھائی دے تو طبیعت کیسی پریشان ہوتی ہے۔
گھبرا کر میں نے اپنے ہاتھ پاؤں، چہرے سب کو سمیٹ کر ماں کے سینے سے لگادیا اور سوگیا۔ ڈر اور تکلیف میں ماں سے چمٹ کر سونا بھی کیسی نعمت ہے۔ ماں کا سہارا نصیب ہو تو دنیا کے تمام فضلوؤں اور اِن کی پگڑی کے داغ دھبّوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔
سوکر اُٹھا تو سوچ میں ڈوب گیا کہ فضلو کی پگڑی کے داغ دھبّے کا واقعہ میرے جاگتے میں ہوا تھا یا سونے میں۔ لیکن مجھ سے رہا نہ گیا۔ میں نے والدہ سے کہا: امّاں! فضلو کو گھر سے نکال دیجیے۔ انھوں نے وجہ پوچھی تو میں نے کہا کہ بات یہ ہے کہ فضلو مٹّی کھاتا ہے اور پگڑی سے منہ پونچھتا ہے۔ مٹّی کھانے سے اُس کا منہ میلا اور بدبو دار ہوگیا ہے۔ دیکھیے میرا منہ کتنا صاف ہے۔ میں نے یہ فقرہ بے وقوفی سے کہہ دیا اور کہا ہی نہیں بلکہ منہ کھول دیا۔ اب تم جانتے ہو بے سوچے سمجھےمنہ کھولنا بے وقوفی ہے۔ ماں نے دیکھا مٹی کھانے سے زبان، دانت، ہونٹ سارے میلے ہورہے ہیں۔ 
اتنے میں فضلو نے دروازے پر سے آواز دی۔ ’’بی بی دیکھیے پگڑی کا ستیا ناس ہوگیا۔‘‘ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ کوئی نئی بات نہ تھی۔ میں تھا، فضلو کی پیٹھ تھی اور مسجد کا سفر۔

                                                                                                                                                                                   (رشید احمد صدیقی)



مشق

  • لفظ ومعنی:

تپسّیا                      :          ریاضت، محنت
سجود                     :         سجدہ کی جمع
تعظیم                   :          ادب احترام
گھاٹا                     :         نقصان
نعمت                   :          اچھّی چیز
صدر دروازہ          :          بڑا پھاٹک
گستاخی                 :         بے ادبی، احترام میں کمی
فلسفی                   :           گہری سوچ میں رہنے والا عالم
خسارہ                   :           نقصان
سروکار                 :          واسطہ،تعلق
وصیت                 :          مرنے سے پہلے کی گئی ہدایت
ہکّا بکاّ رہ جانا         :         حیران ہو جانا
نعرہ                     :          چیخ کر کچھ کہنا، بولنا
قلابازی                :           اُچھل کود

  • سوالات:
  • 1.    مصنف رو رو کر والدین سے کیوں شکایت کرتا تھا؟
    2.  رشید احمدصدیقی کو بچپن میں کن کن غلطیوں یا شرارتوں پر مسجد میں قید کیے جانے کی سزا ملی؟    
    3.    مصنّف کو فضلو سے نفرت کیوں ہوگئی تھی؟
    4.   سبق کے آخر میں مصنف نے اپنی کس بے وقوفی کا ذکر کیا ہے؟

  • زبان و قواعد:
  • (الف) نیچے لکھے ہوئے محاوروں کے معنی بتائیے اور انھیں جملوں میں استعمال کیجیے:


    کانوں کان خبر نہ ہونا تال سُر ٹھیک نہ ہونا منہ کھولنا چغلی کھانا
    آپے سے باہر ہونا ہکّا بکاّرہ جانا

    (ب) جب میں تم سے بھی چھوٹا تھا،شاید تمھارے چھوٹے بھائی کے برابر میں نے شرارت کبھی نہیں کی۔
    انھوں نے وجہ پوچھی تو میں نے کہا ، ’’ مٹّی کھانے سے اس کا منہ میلا اور بدبودار ہو گیا ہے۔دیکھیے میرا منہ کتنا صاف ہے۔
    ان جملوں میں میں، تم،تمھارے،انھوں نے ،اس کا ،میرا،ایسے لفظ ہیں جو اسم کی جگہ استعمال ہوتے ہیں۔ انھیں ’’ضمیر‘‘ کہتے ہیں۔ضمیر کی تین شکلیں ہیں:
    (1)    ضمیر متکلّم  :  متکلّم کے معنی ہیں بات کرنے والا۔بات کرنے والا اپنے لیے جو لفظ استعمال کرتا ہے اسے              ضمیر متکلّم کہتے ہیں۔
              جیسے : میں،میرا،مجھے،مجھ کو،ہم،ہمارا،ہمیں،ہم کو
    (2)     ضمیر حاضر  :  بات کرنے والا اپنے مخاطب (سامنے موجود شخص)کے لیے جو لفظ استعمال کرتا ہے اسے               ’’ضمیر حاضر‘‘ کہتے ہیں۔
                جیسے : تو، تیرا،تجھے،تجھ کو،تم، تمھارا،تمھیں،تم کو، آپ،آپ کو
    (3)     ضمیر غائب :  بات کرنے والا غیر موجود شخص کے لیے جو لفظ استعمال کرتا ہے،اسے ’’ضمیرغائب‘‘ کہتے                ہیں۔    
              جیسے : وہ اس کا،اُسے،اس کو،ان کا ،انھیں،ان کو

  • غور کرنے کی بات:
  •          اس انشائیے میں مصّنف نے بچپن کی شرارتوں اور معصومانہ سوچ کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ پڑھنےوالوں کو بے اختیار ہنسی آجاتی ہے۔

  • عملی کام:
  •            اپنے بچپن کے کچھ واقعات لکھیے۔