Skip to content
nawa e urdu Chapter-3

3

افسانہ



افسانہ اردو ادب کی ایک مشہور صنف ہے۔ تیزی سے بدلتے ہوئے زمانے کا ساتھ دینے اور دماغی طور پر مصروف رہنے والوں کے لیے ’مختصر افسانہ‘ ناول اور داستان سے زیادہ کشش رکھتا ہے۔ مختلف نقّادوں نے افسانے کی مختلف تعریفیں بیان کی ہیں۔ ایک نقاد نے کہا ہے کہ افسانہ ایسی نثری کہانی ہے جو ایک ہی نشست میں پڑھی جاسکے۔ ایک اور نقاد کا کہنا ہے کہ افسانے میں بنیادی چیز وحدتِ تاثّر ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ افسانے کے فن میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ 
ایک اچھا افسانہ اختصار کے ساتھ زندگی کے کسی گوشے کو قاری کے سامنے پیش کرتا ہے۔ مختصر ہونے کی وجہ سے افسانے میں جھول ہونے کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں۔ افسانہ نگار کا مشاہدہ اور انسانی نفسیات کا مطالعہ گہرا ہونا چاہیے۔ کردار ایسے ہوں جو ہماری زندگی اور ہمارے تجربوں سے مطابقت رکھتے ہوں۔
اردو کے افسانہ نگاروں میں پریم چند، علی عباس حسینی، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، راجندر سنگھ بیدی، کرشن چندر، غلام عباس، قرۃ العین حیدر اور انتظار حسین بہت اہم ہیں۔ ان کے بعد نئے افسانہ نگاروں کی ایک بڑی تعداد بھی سامنے آچکی ہے۔

pic 2 chapter 3

رتن سنگھ

(1927)

           رتن سنگھ قصبہ داؤد، ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ایک مقامی اسکول میں میٹرک تک تعلیم پائی۔ تقسیمِ وطن کے بعد ہندوستان منتقل ہوگئے۔ 1962 میں آل انڈیا ریڈیوسے وابستہ ہو گئے۔ اپنی ملازمت کے دوران انھوں نے جالندھر، بھوپال، لکھنؤ، جبل پور اور سری نگر جیسے شہروں میں قیام کیا۔
اسکول کے زمانے ہی سے اردو فکشن کی طرف راغب ہوگئے تھے۔ یہ رغبت بہت جلد افسانہ نگاری میں منتقل ہوگئی۔ ’پہلی آواز‘، ’پنجرے کا آدمی‘، ’کاٹھ کا گھوڑا‘ اور ’پناہ گاہ‘ ان کے افسانوی مجموعے ہیں۔ ان کے دو ناولٹ ’دربدری‘ اور ’اڑن کھٹولہ‘ اور ایک طویل سوانحی نظم ’ہڈ بیتی‘ اردو اور پنجابی میں شایع ہوچکی ہے۔رتن سنگھ نے بڑی تعداد میں منی کہانیاں بھی لکھیں اور کئی پنجابی کہانیوں کا اردو میں ترجمہ بھی کیا ہے۔
رتن سنگھ کا شمار ترقی پسند افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ان کے افسانے مختصر ،سادہ اور موثر ہوتے ہیں۔ان کے افسانوں میں پنجاب کی زندگی اور وہاں کی تہذیب کا عکس نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔
رتن سنگھ کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں کئی ریاستی اور قومی سطح کے انعامات واعزازات سے نوازا گیا ہے۔

ہزاروں سال لمبی رات

      سُننے والے اُس کی بات بڑے انہماک سے سُن رہے تھے۔ حالاں کہ سنانے والا، جو ان کے بیچ بیٹھا ہوا تھا، بالکل اوٹ پٹانگ باتیں کررہا تھا۔ ان میں کہیں تسلسل نہیں تھا۔ بات کرتا کرتا وہ خود بہک جاتا، جیسے راہ چلتا مسافر اپنی راہ سے بھٹک کر کسی غلط راستے پر چلنے لگے۔ ایک بات ادھوری ہی چھوڑ کر وہ کسی دوسری بات کا سرا پکڑ لیتا۔ اس طرح رات بہت دھیرے دھیرے سرک رہی تھی۔
وہ سب کے سب ریلوے اسٹیشن کی طرف جانے والے بازار کی ایک دُکان کے برآمد ے میں آکر رات کاٹنے کے لیے لیٹ گئے تھے۔ تھوڑی دیر بعد جب اُن میں سے سب سے بوڑھے آدمی نے گلا صاف کرتے ہوئے کسی راجہ کی بات شروع کی تو اس برآمدے میں لیٹے ہوئے سب کے سب آدمی ہنکاربھرنے لگے۔
pic 3 chapter 3
’’ہوں، پھر کیا ہوا بابا!‘‘
بس پھر کیا تھا بات چل نکلی۔
’’ایک بادشاہ تھا۔اس کی سات رانیاں تھیں۔ ساتوں رانیوں کے لیے بادشاہ نے الگ الگ محل بنوائے۔ایک لکڑی کا دوسرا اینٹ گارے کا، تیسرا سنگِ مرمر کا، چوتھا تانبے کا، پانچواں چاندی کا، چھٹا سونے کا اور ساتویں میں ہیرے جواہرات جڑے تھے۔‘‘
’’بالکل ٹھیک۔‘‘ کسی نے ہنکاربھری۔
’’اتنی دولت ہونے پر بھی بادشاہ کے یہاں اولاد نہیں تھی۔ اس لیے وہ بہت دُکھی تھا۔ بادشاہ کو آخر کسی نے رائے دی کہ فلاں جنگل میں ایک پیڑ ہے۔ اس پیڑ پر سات پھل لگے ہیں۔ اگر بادشاہ پھلوں کو توڑ کر اپنی رانیوں کو کھلائے تو سب کو اولاد ہوجائے گی لیکن مصیبت یہ تھی کہ اُس پیڑ تک پہنچنا مشکل تھا۔ راستے میں سات دریا پڑتے تھے اور سات دیووں سے مقابلہ کرنا پڑتا تھا اور پیڑ کے گرد سات سانپوں کا زبردست پہرا تھا لیکن بادشاہ بھی اپنی دُھن کا پکّا تھا۔ وہ اپنا لاؤ لشکر لے کر چل پڑا۔‘‘
بات ابھی یہیں تک پہنچی تھی کہ بوڑھے کو کھانسی کا دورہ پڑا۔ جب اُس کی سانس درست ہوئی تو وہ لیٹ گیا اور لیٹ کر اُس نے ایک دوسری بات چلادی۔
بوڑھے نے کہا: ’’بڑی پرانی بات ہے۔ ایک کاری گر نے ایک ایسا ڈنڈا بنایا جس کے اندر ایک آدمی بیٹھ سکتا تھا۔ اس طرح وہ ڈنڈا آدمیوں کی طرح بولتا تھا، چلتا تھا اور کھاتا پیتا تھا۔‘‘
’’ٹھیک ۔ ٹھیک‘‘ ۔سب نے مل کر ہُنکارا!
پھر اچانک یہ ہوا کہ رکشوں اور تانگوں کا ریلا شور مچاتا ہوا سڑک پر سے گزرنے لگا۔ شاید اسٹیشن پر کوئی مسافر گاڑی رکی تھی۔ اس لیے بوڑھا تھوڑی دیر رکا۔ پھر اس نے ایک مچھلی کی بات شروع کردی جو اتنی بڑی تھی کہ اُس کی پیٹھ پر باقاعدہ ایک شہر بسا ہوا تھا جس پر نہ معلوم کتنے ہی مکان بنے ہوئے تھے، کتنے ہی کھیت تھے۔ سمندر میں جس طرف یہ مچھلی جاتی اس طرف یہ بسابسایا شہر چلا جاتا!
’’بالکل ٹھیک‘‘۔ سب نے پھر ہنکاری بھری۔
اس طرح رات نہایت آہستہ آہستہ کِھسک رہی تھی۔ بوڑھا باتیں کیے جارہا تھا اور وہ سب کے سب بڑے غور سے سُن رہے تھے۔ پھر کسی بات کو ادھوری ہی چھوڑ کر بوڑھے نے ایک نئی بات شروع کی!
’’ہزاروں سال پہلے کی بات ہے کہ بادشاہ نے آدھی دنیا فتح کرلی۔‘‘
پھر؟
’’پھر اس خوشی میں بادشاہ نے ایک بہت بڑی دعوت دی۔‘‘
پھر، پھر؟
’’پھر کیا، اتنا کھانا بنایا گیا کہ بادشاہ کے شہر کے سارے مکانوں میں کھانا بناکر رکھا گیا۔
پھر، پھر، پھر؟ سبھی آدمی ایک ساتھ ہنکاری بھر رہے تھے۔
بوڑھے نے کہنا شروع کیا:’’ سب سے پہلے بادشاہ اور اس کے رشتے داروں نے کھانا کھایا۔‘‘
’’ٹھیک۔‘‘
’’پھر بادشاہ کے سینکڑوں امیروں اور وزیروں نے کھانا کھایا۔‘‘
’’ٹھیک۔‘‘
’’اتنے لوگوں کے کھانا کھاتے کھاتے رات ہوگئی۔‘‘
’’ٹھیک۔‘‘
’’اور سب کے بعد رات کے وقت لاکھوں غریب، غربا اور فقیروں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔‘‘
’’بالکل جھوٹ! بالکل جھوٹ۔‘‘
اس برآمدے میں لیٹے ہوئے سبھی آدمی احتجاجاً اُٹھ کھڑے ہوئے۔
اور ان میں سے ایک آدمی بولا:’’ بوڑھے! تجھے جھوٹی باتیں کرتے شرم نہیں آتی۔ اگر ہم نے رات کو پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہوتا تو اس وقت چین کی نیند نہ سوئے ہوتے۔ رات بھر تمھاری یہ بکواس کون سنتا؟‘‘
’’اے بھائی! ناراض کیوں ہوتے ہو؟‘‘
بوڑھے نے کچھ سہمی ہوئی آواز میں کہا:’’ میں بھی تمھاری طرح بھوکا ہوں۔ اگر مجھے بھی نیند آرہی ہوتی تو یہ باتیں کرنے کے لیے جاگتا ہوتا؟ میں بھی تو سوجاتا۔‘‘

                                                                                                                                                                                       (رتن سنگھ)


                                            مشق

  • لفظ ومعنی:
  • انہماک                  :      غور، توجہ
    اوٹ پٹانگ            :      بے تُکی
    تسلسل                   :      سلسلہ وار
    لاؤ لشکر                  :      فوج
    فتح                         :      جیت
    غربا                        :     غریب کی جمع
    احتجاجاً                     :     کسی نا پسندیدہ یا غیر مناسب بات کے خلاف آواز اٹھانا

    • سوالات:

    1.    بوڑھے نے اپنے ساتھیوں کو کو ن کون سے قصّے سنائے؟
    2.    کہانی سناتے سناتے بوڑھا کیوں رک گیا؟
    3.    بادشاہ نے ایک بہت بڑی دعوت کیوں کی؟
    4.    بوڑھے کے سارے ساتھی  اسے جھوٹا کیوں ثابت کررہے تھے؟
    5.   اپنے ساتھیوں کے احتجاج پر بوڑھے نے کیا جواب دیا؟

    • زبان و قواعد:

    (الف)•  ایک بادشاہ تھا اس کی سات رانیاں تھیں ۔ساتوں رانیوں کے لیے بادشاہ نے الگ الگ محل بنوائے ۔ ایک لکڑی کا ،دوسرا اینٹ گارے کا، تیسرا سنگِ مرمر کا، چوتھا تانبے کا،پانچواں چاندی کا،چھٹا سونے کا اور ساتویں میں ہیرے جواہرات جڑے تھے۔

    •    پیڑ پر سات پھل لگے تھے۔اس پیڑ تک پہنچنا مشکل تھا۔ راستے میں سات دریا پڑتے تھے اور سات                 دیووں سے مقابلہ کرنا پڑتا تھا اور پیڑ کے گرد سات سانپوں کا زبردست پہرہ تھا۔
    ان جملوں میں دیکھیے جگہ جگہ ان صفات کا ذکر ہے جن سے اسم کی تعداد ظاہر ہوتی ہے۔ جیسے سات          رانیاں ،ساتوں رانیوں وغیرہ۔
             صفت کی یہ قسم جس میں کسی اسم کی تعداد ظاہر ہو ’’صفتِ عددی‘‘ کہلاتی ہے۔
            جیسے پانچ دن،چند کتابیں،دس گھوڑے،تھوڑے لوگ۔ صفت کی اور بھی قسمیں ہیں۔
    صفتِ نسبتی   :       وہ صفت جس میں کسی اسم سے کوئی نسبت یا تعلق پایا جائے اسے صفتِ نسبتی کہتے ہیں۔
                             جیسے ہند وستانی تہذیب،کشمیری شال،ترکی ٹوپی وغیرہ۔
    صفتِ مقداری :   وہ صفت جو کسی چیز کی مقدار،ناپ یا وزن کو ظاہر کرے اسے صفتِ مقداری کہتے ہیں۔جیسے                             مٹھی بھر چاول، چٹکی بھر نمک،پاؤبھر چینی،دو لیٹرتیل،پانچ میٹر کپڑا۔

    (ب)  نیچے لکھے ہوئے جملوں میں ضمیر متکلّم ،ضمیر حاضر اور ضمیر غائب کی نشاندہی کیجیے۔

    (i)    اس نے مچھلی کی بات شروع کر دی۔وہ اتنی بڑی تھی کہ اس کی پیٹھ پر ایک شہر بسا ہوا تھا۔
    (ii)   میں بھی تمھاری طرح بھوکا ہوں ۔اگر مجھے بھی نیند آرہی ہوتی تو یہ باتیں کرنے کے لیے جاگتا ہوتا؟
    (ج)  نیچے دیے گئے محاوروں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔
     ا وٹ پٹانگ باتیں کرنا،      دُھن کا پکّا ہونا، چین کی نیند سونا، رات  کاٹنا

    (د)  نیچے دیے ہوئے لفظوں کے متضاد لکھیے۔

    باقاعدہ فتح       شروع غریب جھوٹ غلط


    • غور کرنے کی بات:

    دنیا میں اگر کسی کو کوئی دکھ درد نہ ہو اور اسے دو وقت پیٹ بھر کر کھانا مل جائے تو اسے چین کی نیند آجاتی ہے لیکن بھوکے آدمی کو نیند کیسے آسکتی ہے؟

    • عملی کام:

           اپنے اسکول میں منعقد ہونے والی کسی تقریب میں اس افسانے کو ڈرامے کے طور پر اسٹیج پر پیش کیجیے۔