4
کرشنا سوبتی
(1925)
کرشنا سوبتی گجرات (موجودہ مغربی پنجاب، پاکستان)میں پیدا ہوئیں۔وہ ہندی ادب کی ایک مشہور مضفہ ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ کم لکھنا ہی معیار کی علامت ہے۔ یہی سبب ہے کہ ان کی تحریریں دلچسپ اور معیاری ہوتی ہیں۔انھوں نے کئی ایسے کردار تخلیق کیے ہیں جو ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
جن ادیبوں نے ہندو پاک کی تہذیبی زندگی کو موضوع بنایا ہے ان میں کرشنا سوبتی کا نام قابلِ ذکر ہے۔
’زندگی نامہ‘، ’دل و دانش‘، ’اے لڑکے‘، ’سمیے سرگرم‘، ’ڈار سے بچھڑی‘، ’بادلوں کے گھیرے‘، ’سُورج مُکھی اندھیرے کے‘ اور ’ہم حشمت‘ ان کی اہم کتابیں ہیں۔کرشناسوبتی کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ’ساہتیہ اکادمی اعزاز‘ ہندی اکادمی کا ’شلاکا سمان اور دیگر قومی انعامات دیے جا چکے ہیں۔
میاں نصیرالدّین
صاحبو! اس روز ہم مٹیا محل کی طرف سے نہ گزرتے تو سیاست، ادب اور فن کے ہزارہا مسیحاؤں کے دھوم دھڑکے میں نان بائیوں کے مسیحا میاں نصیرالدین کو کیسے پہچانتے؟ اور کیسے اٹھاتے لطف ان کی مسیحائی کے انداز کا؟
ہوا یہ کہ ہم ایک دوپہر جامع مسجد سے لگے ہوئے محلّے مٹیا محل کے گڑھیّے محلّے کی طرف نکل گئے۔ ایک نہایت معمولی اندھیری سی دوکان پر پٹاپٹ آٹے کا ڈھیر گندھتے دیکھ کر ٹھٹکے۔ سوچا، سوئیوں کی تیاری ہوگی۔ مگر پوچھنے پر معلوم ہوا خاندانی نان بائی میاں نصیرالدین کی دوکان پہ کھڑے ہیں۔ میاں مشہور ہیں، چھپن قسم کی روٹیاں بنانے کے لیے۔
ہمیں گاہک سمجھ کر میاں نے نظر اٹھائی… ’’فرمائیے!‘‘
جھجک کر کہا … ’’آپ سے کچھ سوال پوچھنے تھے۔ آپ کو وقت ہو تو … ‘‘
میاں نصیرالدین نے پنج ہزاری انداز میں سر ہلایا…’’نکال لیں گے تھوڑا وقت۔ مگر یہ تو کہیے کہ آپ کو پوچھنا کیا ہے؟‘‘
پھر گھوٗر کر دیکھا اور بولے … ’’میاں! کہیں اخبار نویس تو نہیں ہو؟ یہ تو کھوجیوں کی خرافات ہے۔ ہم تو اخبار بنانے والے اور اخبار پڑھنے والے، دونوں کو ہی نکمّا سمجھتے ہیں۔ ہاں! کام کاجی آدمی کو اس سے کیا غرض؟ خیر! آپ نے یہاں تک آنے کی زحمت اٹھائی ہی ہے تو پوچھیے، کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟‘‘
’’پوچھنا یہ تھا کہ قسم قسم کی روٹیاں پکانے کا علم آپ نے کہاں سے حاصل کیا؟‘‘
میاں نصیرالدین نے آنکھوں کے ڈھیلے ہم پر جمادیے۔ پھر تریر کر بولے۔ ’’کیا مطلب؟ بھلا بتائیے صاحب، نان بائی علم حاصل کرنے کے لیے کہیں اور جائے گا؟ کیا نگینہ ساز کے پاس؟کیا آئینہ ساز کے پاس؟ کیا میناساز کے پاس؟ کیا فرمایا صاحب؟ یہ تو ہمارا خاندانی پیشہ ٹھہرا۔ ہاں علم کی بات پوچھیے تو جو کچھ بھی سیکھا اپنے والد استاد سے ہی۔ مطلب یہ کہ ہم گھر سے نہیں نکلے کہ کوئی پیشہ اختیار کریں گے۔ جو باپ دادا کا ہنرتھا وہی ان سے پایا اور والد مرحوم کے اُٹھ جانے پر آبیٹھے۔ اُنھیں کے ٹھِیے پر!‘‘
’’آپ کے والد؟‘‘
میاں نصیرالدین کی آنکھیں پل بھر کے لیے کسی بھٹّی میں گُم ہوگئیں۔ لگا گہری سوچ میں ہیں۔ پھر سر ہلایا … ’’کیا آنکھوں کے سامنے چہرہ زندہ ہوگیا! ہاں! ہمارے والد صاحب مشہور تھے میاں برکت شاہی نان بائی گڑھیّا والے کے نام سے۔ اور ان کے والد یعنی کہ ہمارے دادا صاحب تھے اعلیٰ نان بائی میاں کلّن!‘‘
’’آپ کو ان دونوں میں سے کسی کی کوئی نصیحت یاد ہے؟‘‘
’’نصیحت کا ہے کی میاں! کام، کرنے سے آتا ہے، نصیحتوں سے نہیں، ہاں!‘‘
’’بجا فرمایا ہے۔ مگر یہ تو بتائیے کہ جب آپ (ہم نے بھٹّی کی طرف اشارہ کیا) اس کام پر لگے تووالد صاحب نے کچھ نہ کچھ ہدایت تو دی ہوگی!‘‘
نصیرالدین صاحب نے جلدی جلدی دو تین کش کھینچے۔ پھر گلا صاف کیا اور بڑے انداز سے بولے… ’’اگر آپ کو کچھ کہلوانا ہی ہے تو بتائے دیتے ہیں ۔آپ جانیں، جب بچّہ استاد کے یہاں پڑھنے بیٹھتا ہے تو استاد کہتا ہے … ’’کہہ الف!‘‘
بچّہ کہتا ہے … ’’الف‘‘
استاد کہتا ہے … ’’کہہ ب‘‘
بچّہ کہتا ہے … ’’ب‘‘
’’کہہ جیم!‘‘
بچّہ کہتا ہے … ’’جیم‘‘
’’اس دوران استاد زور کا ایک ہاتھ سر پر رکھتا ہے اور شاگرد چپ چاپ سہہ جاتا ہے۔ سمجھے صاحب! ایک تو پڑھائی اس طرح ہوتی ہے۔ اور دوسری … ‘‘ بات بیچ میں چھوڑ کر سامنے سے گزرنے والے میر صاحب کو آواز دے ڈالی … ’’کہو بھائی میر صاحب! صبح نہ آنا ہوا۔ مگر کیوں؟‘‘
میر صاحب نے سر ہلایا … ’’میاں! ابھی لوٹ کر آتے ہیں تو بتائیں گے۔‘‘
’’آپ دوسری پڑھائی کے بارے میں کچھ کہہ رہے تھے نہ؟‘‘
اس بار میاں نصیرالدین نے یوں سر ہلایا جیسے سقراط ہوں … ہاں! ایک دوسری پڑھائی بھی ہوتی ہے۔ سنیے!, اگر بچّے کو بھیجا مدرسے تو بچّہ …
نہ کچّی میں بیٹھا
نہ پکّی میں بیٹھا
نہ دوسری میں ۔
اور جو جا بیٹھا تیسری میں۔ ہم یہ پوچھیں گے کہ ان تین جماعتوں کا کیا ہوا؟ کیا ہوا ان تین کلاسوں کا؟‘‘
اپنا خیال تھا کہ میاں نصیرالدین نانبائی اپنی بات کا نچوڑ بھی نکالیں گے مگر وہ ہم ہی پر نشانہ سادھتے رہے۔ ’’آپ ہی بتائیے … ان دو تین جماعتوں کا ہوا کیا؟‘‘
’’یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے۔‘‘
اس بار شاہی نان بائی میاں کلّن کے پوتے اپنے بچے کُچھے دانتوں سے کھلکھلا کر ہنس دیے۔
’’مطلب میرا کیا صاف نہ تھا۔ لو صاحبو! ابھی صاف ہوا جاتا ہے۔ ذرا سی دیر کو مان لیجیے…
ہم برتن دھونا نہ سیکھتے
ہم بھٹّی بنانا نہ سیکھتے
بھٹّی کو آنچ دینا نہ سیکھتے
تو کیا ہم سیدھے سیدھے نانبائی کا ہنر سیکھ جاتے؟‘‘
میاں نصیرالدین نے ہماری طرف کچھ اس طرح دیکھا کہ جیسے اُنھیں ہم سے جواب طلب کرنا ہو۔ پھر بڑے ہی منجھے ہوئے انداز میں کہا … کہنے کا مطلب صاحب یہ ہے کہ تعلیم کی تعلیم بھی بڑی چیز ہوتی ہے!‘‘
سر ہلایا… ’’ہے صاحب! مانا۔‘‘
میاں نصیرالدین جوش میں آگئے۔ ’’ہم نے نہ لگایا ہوتا خوانچہ تو آج کیا یہاں بیٹھے ہوتے؟‘‘
میاں کو خوانچے والے دنوں میں بھٹکتے دیکھ کر ہم نے بات کا رخ موڑا … ’’آپ نے خاندانی نان بائی ہونے کا ذکر کیا۔ کیا یہاں اور بھی نان بائی ہیں؟‘‘
میاں نے گھور کر ہماری طرف دیکھا… ’’بہتیرے ہیں۔ مگر خاندانی نہیں۔ سنیے۔ دماغ میں چکّر کاٹ گئی ہے ایک بات۔ ہمارے بزرگوں سے بادشاہ سلامت نے یوں کہا … میاں نان بائی! کوئی نئی چیز کھلا سکتے ہو؟‘‘
’’حکم دیجیے، جہاں پناہ!‘‘
بادشاہ سلامت نے فرمایا …’’ کوئی ایسی چیز بناؤ جو نہ آگ سے پکے، نہ پانی سے بنے۔‘‘
’’کیا ان سے بنی ایسی چیز؟‘‘
’’کیوں نہ بنتی صاحب۔ بنی اور بادشاہ سلامت نے خوب کھائی۔ اور خوب سراہی!‘‘
ایسا لگا کہ ہمارا آنا کچھ رنگ لایا چاہتا ہے۔ بے صبری سے پوچھا… ’’وہ پکوان کیا تھا … کوئی خاص چیز رہی ہوگی!‘‘
میاں کچھ دیر سوچ میں کھوئے رہے۔ سوچا پکوان پر روشنی ڈالنے والے ہیں۔ مگر نصیرالدین صاحب اچانک بڑی رکھائی سے بولے… ’’ہم نہ بتاویں گے۔ بس آپ اتّا سمجھ لیجیے کہ ایک کہاوت ہے نا کہ خاندانی نان بائی کنوئیں میں بھی روٹی پکا سکتا ہے۔ کہاوت جب بھی گڑھی گئی ہو۔ ہمارے بزرگوں کے کرتب پر ہی پوری اترتی ہے۔‘‘
مزہ لینے کے لیے ٹوکا ’’کہاوت یہ سچّی بھی ہے کہ…؟‘‘
میاں نے اترا کر کہا … ’’اور کیا جھوٹی ہے؟ آپ ہی بتائیے روٹی پکانے میں جھوٗٹ کا کیا کام؟ جھوٗٹ سے روٹی پکے گی! کیا پکتی دیکھی ہے کبھی۔ روٹی جناب پکتی ہے آنچ سے،سمجھے!‘‘
سر ہلانا پڑا… ’’درست فرماتے ہیں۔‘‘
اس دوران میں میاں نے کسی اور کو پُکار لیا… ’’میاں رحمت! اس وقت کدھر کو؟ ارے وہ لونڈیا نہ آئی رومالی لینے ۔ شام کو منگوا لیجو!‘‘
’’میاں، ایک بات اور آپ کو بتانے کی زحمت اٹھانی پڑے گی۔‘‘
میاں نے ایک اور بیڑی سلگالی تھی، سو ذرا چُستی آگئی تھی۔ بولے ’’پوچھیے۔ ارے بات ہی تو پوچھیے گا۔ جان تھوڑی لے لیں گے! اس میں بھی اب کیا دیر! ستّر کے ہوچکے۔‘‘ پھر جیسے اپنے آپ سے کہہ رہے ہوں… ’’والد مرحوم نے تو کوچ کیا اسّی پر۔ مگر کیا پتا، اتنی مہلت ہمیں بھی ملے نہ ملے۔‘‘
اس مضمون پر ہم سے کچھ کہتے نہ بن آیا تو کہا: ’’ابھی یہی جاننا تھا کہ آپ کے بزرگوں نے شاہی باورچی خانے میں تو کام کیا ہی ہوگا؟‘‘میاں نے بے رُخی سے ٹوکا… ’’وہ بات تو پہلے ہوچکی نا!‘‘
’’ہوتو چکی صاحب، مگر جاننا یہ تھا کہ دلّی کے کس بادشاہ کے یہاں آپ کے بزرگ کام کیا کرتے تھے؟‘‘
’’اجی صاحب! کیوں بال کی کھال نکالنے پر تلے ہیں؟ کہہ دیا نا کہ بادشاہ کے یہاں کام کرتے تھے۔ بس یہ کافی نہیں؟‘‘
ہم کھسیانی ہنسی ہنس دیے۔ ہے تو کافی، مگر نام لیتے تواُسے وقت سے ملا لیتے!‘‘
’’وقت سے ملالیتے، خوب! مگر کسے ملاتے جناب آپ وقت سے؟‘‘
میاں ہنس پڑے جیسے ہمارا مذاق اڑارہے ہوں۔
’’وقت کو وقت سے کس نے ملایا ہے آج تک! خیر! پوچھیے کس کا نام جاننا چاہتے ہیں؟ دلّی کے بادشاہ کا ہی نا؟ ان کا نام کون نہیں جانتا۔ جہاں پناہ بادشاہ سلامت ہی نا!‘‘
’’کون سے؟بادشاہ بہادر شاہ ظفر کہ …‘‘
میاں نے زچ ہو کر کہا … پھر الٹ پلٹ کر وہی بات۔ لکھ لیجیے بس یہی نام۔ آپ کو کون سا خط رقعہ بادشاہ کے نام بھیجنا ہے کہ ڈاک خانے والوں کے لیے صحیح نام پتا ضروری ہے!‘‘
ہم کو اپنی طرف گھوٗرتے دیکھا تو سر ہلا کر اپنے کاریگر سے بولے ارے او ببّن میاں! بھٹّی سُلگا دو تو کام سے نپٹیں!‘‘
’’یہ ببّن میاں کون ہیں صاحب؟‘‘
میاں نے رکھائی سے جیسے بھانک ہی کاٹ دی ہو۔ ’’اپنے کاریگر اور کون؟‘‘
من میں آیا کہ پوچھ لیں ’’آپ کے بیٹے بیٹیاں ہیں؟‘‘
لیکن میاں نصیر الدین کے چہرے پر کسی دبے ہوئے اندھڑ کے آثار دیکھ کر یہ مضمون نہ چھیڑنے کا فیصلہ کیا۔اتنا ہی کہا… ’’یہ کاریگر لوگ آپ کی شاگردی کرتے ہیں؟‘‘
’’خالی شاگرد ہی نہیں صاحب! گِن کے مزدوری دیتا ہوں۔دو روپے من آٹے کی مزدوری۔ چار روپے من میدے کی مزدوری۔ ہاں!‘‘
’’زیادہ تر بھٹّی پر کون سی روٹیاں پکا کرتی ہیں؟‘‘
میاں کو اب تک اس مضمون سے کوئی دل چسپی باقی نہ رہی تھی،پھر بھی ہم سے چھٹکارا پانے کے لیے بولے… ’’باقر خانی، شیرمال، تافتان، بیسنی، خمیری، رومالی، گاؤ دیدہ، گاؤزبان، تُنکی۔‘‘
پھر تیوری چڑھا کر ہمیں گھوٗرتے ہوئے بولے … ’’تُنکی پاپڑ سے زیادہ مہین ہوتی ہے۔ مہین۔ ہاں! کسی دن کھلائیں گے آپ کو۔‘‘
یکایک میاں کی آنکھوں کے سامنے کچھ کوندھ گیا۔ ایک لمبی سانس بھری اور کسی گم شدہ یاد کو تازہ کرتے ہوئے بولے … ’’اٹھ گئے وہ زمانے۔ اور گئے وہ قدردان جو پکانے کھانے کی قدر کرنا جانتے تھے۔ میاں اب رکھا کیا ہے… نکالی تندور سے … نگلی اور ہضم!‘‘
(کرشنا سوبتی)
(ہندی سے ترجمہ)
مشق
- لفظ ومعنی:
مسیحا : دوبارہ زندگی دینے والا،مراد بھلائی چاہنے والا
نان بائی : روٹی بنا نے والا
پنج ہزاری انداز : شاہانہ انداز
خرافات : بے کار باتیں
جوہری : ہیرے موتی کا پارکھ
مینا کار : نقش ونگار بنانے والا
ٹھِیا : کام کرنے کی جگہ
بہتیرے : بہت سے
بال کی کھال نکالنا(محاورہ) : بات سے بات پیدا کرنا،بلاوجہ بحث کرنا
کھسّیانی ہنسی : شرمندگی کی ہنسی
زچ ہوکر : جھلّا کر
- سوالات:
1. میاں نصیرالدین کس لیے مشہور تھے؟
2. روٹی پکانے کا ہنر میاں نصیرالدین نے کہاں سے سیکھا؟
3. میاں نصیرالدین کے بزرگوں نے کس بادشاہ کے یہاں کام کیا تھا؟
4. میاں نصیر الدین کتنے قسم کی روٹیاں بنانے میں ماہر تھے؟
5. کسی ہنر کو سیکھنے کے بارے میں میاں نصیرالدین نے کیا باتیں بتائیں؟
6. میاں نصیرالدین کے بزرگوں سے بادشاہ نے کیا پکانے کی فرمائش کی؟
- زبان و قواعد:
(الف) نیچے لکھے ہوئے جملوں کا مفہوم واضح کیجیے:
1. ’’کام، کرنے سے آتا ہے نصیحتوں سے نہیں۔‘‘
2. ’’تعلیم کی تعلیم بھی بڑی چیز ہوتی ہے۔‘‘
3. ’’خاندانی نان بائی کنویں میں بھی روٹی پکاسکتا ہے۔‘‘
(ب) نیچے دیے ہوئے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے:
نشانہ سادھنا رنگ لانا بال کی کھال نکالنا تیوری چڑھانا
- غور کرنے کی بات:
ہمارے ملک کے بہت سے علاقے اپنے کھانوں کے لیے مشہور ہیں۔ جیسے جنوبی ہند میں اڈلی ڈوسا، گجرات کا کھمن چوڑا، پنجاب کی کھیر،اور دہلی کی نہاری وغیرہ۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ یہ کھانے اب ملک میں ہر جگہ شوق سے کھائے جاتے ہیں۔ اس بات سے ہمیں ثبوت ملتا ہے کہ ہمارے تہذیبی اختلاف میں بھی وحدت پائی جاتی ہے۔
- عملی کام:
نیچے دی ہوئی غیر درسی عبارت کو غور سے پڑھیے اور اس سے متعلق سوالات کے جواب تحریر کیجیے۔
’’اگر آپ نے یہاں ہر حال میں خوش رہنے کا ہنر سیکھ لیا ہے تو یقین کیجیے کہ زندگی کا سب سے بڑا کام سیکھ لیا ۔اب اس کے بعد اس سوال کی گنجائش ہی نہیں رہی کہ آپ نے اور کیا کیا سیکھا۔خود بھی خوش رہیے او ر دوسروں سے بھی کہتے رہیے کہ اپنے چہروں کو غمگین نہ بنائیں۔ فرانسیسی اہلِ قلم کی ایک بات مجھے بہت پسند آئی:
خوش رہنا محض ایک طبعی احتیاج ہی نہیں ہے بلکہ ایک اخلاقی ذمہ اری ہے۔ ہماری زندگی ایک آئینہ خانہ ہے۔ یہاں ہر چہرے کا عکس بیک وقت سیکڑوں آئینوں میں پڑنے لگتا ہے۔اگر ایک چہرے پر غبار آ جائے گا تو سیکڑوں چہرے غبار آلود ہو جائیں گے۔ہماری کوئی خوشی بھی ہمیں خوش نہیں رکھ سکے گی۔ ہمارے چاروں طرف غم ناک چہرے اکٹھّے ہو جائیں گے ۔ہم خود خوش رہ کر دوسروں کو خوش کرتے ہیں اور دوسروں کو خوش دیکھ کر خود خوش ہونے لگتے ہیں۔‘‘
1. مصنّف کے نزدیک زندگی کا سب سے بڑا کام کیا ہے؟
2. مصنف نے فرانسیسی اہلِ قلم کی کیا بات نقل کی ہے؟
3. ہماری زندگی ایک آئینہ خانہ ہے۔ اس سے مصنف کی کیا مراد ہے؟
4. ایک چہرے پر غبار آنے سے سیکڑوں چہرے کیسے غبار آلود ہو جائیں گے؟